Showing posts with label Esha gill. Show all posts
Showing posts with label Esha gill. Show all posts

Thursday, December 27, 2018

ڈھل چکی شب ہجر قسط 2

http://novelskhazana.blogspot.com/
"ڈھل چکی شب ہجر""ایشاءگل"

isha  gill is very telanted and uniqe style writer.she write many famous novels.
People like her style of writting.

.Download link dhal chuki shab e hijr

Wednesday, December 26, 2018

ڈھل چکی شب ہجر م قسط 1

http://novelskhazana.blogspot.com/



ڈھل چکی ہے شب ہجر قسط 1 download link



isha  gill is very telanted and uniqe style writer.she write many famous novels.
People like her style of writting.

Thursday, December 6, 2018

Ye us ky till ka nishan epuaod 5.6

http://novelskhazana.blogspot.com


Pdf download link click here

Ye us ky till ka nishan episod 2.3.4

http://novelskhazana.blogspot.com/

Ye us ky till ka nishan episod 2

http://novelskhazana.blogspot.com/

for free download click here



یہ اس کے تل کا نشان  ایک اچھو تی کہا نی ہے
 امید ہے پڑ ھنے والے تمام قا رئین اسکو 
پسند کر یں گے۔
ایشا گل صا حبہ کی تحر یر ہمیشہ
 اچھو تی اور عنوان دلچسپ ہو تا ہے






Tuesday, December 4, 2018

یہ اس کے تل کا نشان قسط 1



www.novelskhazana.com







گال پہ تل ایک اچھو تی کہا نی ہے
 امید ہے پڑ ھنے والے تمام قا رئین اسکو 
پسند کر یں گے۔
ایشا گل صا حبہ کی تحر یر ہمیشہ
 اچھو تی اور عنوان دلچسپ ہو تا ہے۔

Sunday, December 2, 2018

راہ محبت آخری قسط

http://novelskhazana.blogspot.com/


Last episode**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 12**


وہ جانتی تھی کہ اس وقت معیز گھر پے ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوا معیز گھر پر تھا اور اسے لان میں ہی کرسی پر بیٹھا مل گیا ناہید نے اس کی طرف آتے ہوئے کہا۔ہائے ڈیر کزن کیسے ہو۔۔(بلکل اسی انداز سے جیسے معیز کہا کرتا تھا) تم یہاں۔۔۔مجھے تو لگا تھا کہ اب کبھی تم اس گھر میں قدم ہی نہیں رکھو گی۔معیز نے حیران ہوتے ہوئے اس پر طنز کیا۔ناہید کے بڑھتے قدم وہیں رک گئے پھر پھر وہ جلد ہی خود کو سنبھالتی ہوئی بولی۔کیوں تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔۔کیوں کہ بہت برا جو لگتا ہوں میں تمہیں۔۔معیز نے پھر طنز کیا۔ناہید نے اسے غور سے دیکھا بڑھی شیو آنکھوں کے نیچے ہلکے (رت جگے کی نشانی ) سرخ آنکھیں بکھرے سے بال اوربکھرا سا حلیہ۔معیزیہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی۔ناہید کو اسکی یہ حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ارے واہ تمہیں میری فکر کب سے ہونے لگی۔۔۔(اف پھر سے طنز ) مجھے تمہاری فکر پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے اور یہ کیا تم مجھ پر طنز پے طنز کئے جا رہے ہو نارمل انسانوں کی طرح بات کیوں نہیں کرتے۔مس ناہید آپ نارمل رہنے دیں گیں تو نارمل انسانوں کی طرح بات کروں گا ناں پہلے خود ہی ایسی حالت کرتی ہو اور پھر پوچھتی ہو کہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی اور اوپر سے یہ بھی کہ کیا مزاج ہیں میرے۔۔۔واہ کیا انداز ہے تمہارا مجھے پسند آیا۔معیز نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔معیز کے اس لہجے سے ناہید کو اپنے دل میں سوئیاں پیوست ہوتی محسوس ہوئیں۔معیز پلیز ایسے بات مت کرو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ناہید نے تڑپ کر کہا۔تو اور کیسی باتیں کروں کچھ کہنے لائک چھوڑا ہے تم نے مجھے اور کیوں آئی ہو تم یہاں کیا میری بے بسی کا تماشا دیکھنے آئی ہو۔معیز تو جیسے پھٹ پڑا۔ناہید ایک دم ڈر کر پیچھے ہٹی کیوں کہ معیز اب اس کے قریبہی کھڑا تھا اور تقریباً کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔معیز پلیز مجھے ایسے مت دیکھو مجھے تمہاری ایسی نظروںکی عادت نہیں ہے میں برداشت نہیں کر پاؤں گی ان نظروں کو۔ناہید پھوٹ پھوٹ کر رو دی تو معیز ایک دم سے ڈھیلا پر گیا۔یہ تو طے تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو معیز اس کے آنسو کبھیبرداشت نہیں کر سکتا تھا۔ناہید کے بہتے آنسو اسے اپنی سب سے بڑی کمزوری محسوس ہوئے۔آج ناہید اسے حیران کر رہی تھی مگر وہ اپنے غصے اور ناراضگی میں اسکی تبدیلی پر غور ہی نا کر سکا۔ٹھہر ٹھہر کر ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس نے ناہید کے چہرے سے اس کے ہاتھ دونوں ہاتھ ہٹائے جن کی وجہ سے وہ اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے تھی۔اب یہ رونا دھونا کس لئے۔معیز نے ابھی بھی سخت مگر دھیمے لہجے میں پوچھا۔وہ اس لئے کہ مجھ پر ظاہر ہو چکا ہے کہ میں تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی اور آج میں تمہاری ناراضگی ہی دور کرنے آئی ہوں۔ناہید نے رونے کے دوران کہا۔اور تمہیں لگتا ہے کہ میں اپنی یہ ناراضگی ختم کر دوں گا معیز نے عجیب نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جیسے یہ سب باتیں اسے مذاق اور جھوٹ لگ رہی ہوں۔ہاں مجھے یقین ہے اس بات کا کہ تم مجھ سے اپنی ہر ناراضگی دور کر دو گے جب تمہیں یہ معلوم ہوگا کہ۔۔۔۔ناہید بولتے ہوئے رکی جیسے سانس لے رہی ہو۔۔۔کیا معلوم ہوگا مجھے۔۔۔معیز نے پوچھا۔۔۔یہی کہ۔۔۔۔کہ میں تمہیں پرپوز کرنے والی ہوں۔ناہید نے آنکھوں میں شرارت لئے کہا تو معیز کو جھٹکا سا لگا۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا یا سنبھلتا ناہید اسے دوسرا جھٹکا دینے کی خاطر پرپوز کرنے کے سے انداز میں گھاس پر بیٹھی اور اونچی آواز میں بولی۔میں ناہید امان تمہیں پرپوز کرتی ہوں کیا تم مجھ سے شادی کرو گے معیز۔۔۔۔۔مجھ سے نا سہی اپنی ڈیر کزن سے ہی سہی۔۔۔ناہید نے شوخ لہجے مگر امید بھری نظروں سے معیز کو دیکھتے ہوئے کہا تو معیز دھیرے دھیرے اس کے سامنے گھاس پر اسی کے انداز میں بیٹھ گیا اور اسکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر اسے لبوں سے لگا لیا۔ناہید کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ پھیل گئی اور ساتھ ہی خوشی سے آنکھوں سے آنسو پھر بہہ نکلے۔کیا یہ سب حقیقت ہے ناہید کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا۔مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ کوئی خواب ہو اور جبمیں آنکھیں کھولوں تو تمہیں ہمیشہ کی طرح وہی کھڑکی کے ساتھ اداس سا کھڑے پاؤں۔نہیں معیز یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے ایک خوشگوار حقیقت اور اب تم مجھے کسی کھڑکی پر اداس نہیں بلکہ مسکراتا ہوا پاؤں گے مگر ایک صورت میں۔۔۔معیز نے سوالیہ نظروں سے ناہید کی طرف دیکھا۔اگر تم یہاں چلاتے ہوئے بولو گے کہ تم مجھ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہو بلکل اسی طرح جس طرح میں زور سے بولی تھی۔فرق صرف یہ ہے کہ میں نے سوال کیا تھا اور تمہیں جواب دینا ہے۔اچھا ایسا ہے تو سنو میں یعنی معیز روحیل مس ناہید امان سے شادی کے لئے کسی صورت راضی نہیں ہوں کیوں کہ مس ناہید نامی خونخوار ڈائن جو شادی کے بعد میرا خون ہی پی لے گی اور میں یقیناً ایک زندہ لاش بن جاؤں گا۔نا بابا نا تم سے شادی۔۔۔یا اللّه میری توبہ۔۔۔معیز نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے با آواز بلند اسے تنگ کرنے کی خاطر کہا تو ناہید نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے ٹیبل پر پری اخبار اٹھائی اور اسکا رول بنا کر اسے مارنے کو اس کے پیچھے دوڑی۔معیز بھاگتا ہوا ایک دم سے رکا تو سامنے سے آتی ناہید کا سر اس کے سینے سے ٹکرایا۔ارے سوری۔۔معیز نے اسے بازوؤں سے تھامتے ہوئے کرسی پر بٹھایا اورٹکٹکی باندھے اسے دیکھے گیا۔ناہید ایک دم سنجیدہ ہوئی اور بولی۔معیز میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں تم نے مجھ سے پوچھا تھا ناں کہ کیا میرے انکار کی وجہ کوئی اور۔۔۔۔۔۔پلیز ناہید جو گزر گیا وہ گزر گیا میں نہیں جانتا کہ وہ کیا وجہ تھی جس کی بنا پر تم نے انکار کیا میرے لئے تو بس اب یہی کافی ہے کہ تم اقرار کر چکی ہو۔اب تمہارے انکار کی وجہ سے مجھے کوئی غرض نہیں کیوں کہ اتنا تو جانتا ہی ہوں کہ ضرور کوئی بہت بڑی اور تکلیف دہ وجہ ہی ہوگی اسی لئے میں اسے تمہیں دوہرانے نہیں دینا چاہتا۔معیز تم کتنے اچھے ہو۔۔۔بے اختیار ناہید کے منہ سے نکلا۔ہاں ظاہر ہے اچھا ہوں تب ہیتو تم میرے پیچھے آئی ہو۔معیز نے آنکھ دباتے ہوئے کہا۔ناہید اب کی بار اس سے لڑنے کی بجاۓ بس چپ چاپ اسے دیکھے گئی اور دل ہی دل میں شکر کرنے لگی کہ اسے اسکا پرانا معیز واپس مل گیا۔۔**********************امی حضور ارے امی حضور۔۔۔ناہید آتے ہی سمینہ کو پکڑے گول گول گھمانے لگی۔ارے ارے ناہید کیا کر رہی ہو رکو بس کرو۔انہیں تو چکر سے آنے لگے۔امی حضور آج میں بہت خوش ہوں۔( ناہید کو لگ رہا تھا آج اس کے دل سے جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہو )کیا بات ہے ہمیں بھی تو بتاؤ کہ اتنی خوشی کس لئے۔فریحہ پلیٹ میں سیب کاٹ کے لائی اور پوچھنے لگی۔فری امی حضور اور بابا جان وہ اصل میں خالہ کہہ رہی تھیں کہ وہ کل آئیں گیں۔اچھا تو اس میں اتنا خوش ہونے والی کونسی بات ہے تمہاری خالہ کونسا کل پہلی بار آئیں گیں۔سمینہ نے کہا۔امی حضور او میری امی حضور پہلی نہیں بلکہ دوسری بار مگر اس بار وہ خوشی خوشی آئیں گیں اور خوشی خوشی جائیں گیں۔ناہید نے انکا گال چوما فری کے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ سے سیب کی ایک کاش اٹھائی اور بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی۔سمینہ نے نا سمجھی سے امان کی طرف دیکھا جو با مشکل اپنی مسکراہٹ چھپا رہے تھے۔ارے امی آپ ابھی بھی نہیں سمجھیں ناہید آپ کو سگنل دے کرگئی ہے کہ وہ معیز سے شادی کے لئے تیار ہے۔کیا سچ میں۔۔۔فریحہ نے بتایا تو سمینہ بے حد خوشی اور بے یقینی سےبولیں۔اور پھر دوبارہ امان کی طرف دیکھا جو ابھی بھی مسکرا رہے تھے۔سنا آپ نے ارے ناہید نے ہاں کر دی۔جی جی بیگم صاحبہ سن چکا ہوں میں۔ایک منٹ امان یہ آپ کی مسکراہٹ مجھے یہ شک کرنے پر کیوںمجبور کر رہی ہے کہ آپ اس بات سے پہلے ہی واقف تھے کہ ناہید مان چکی ہے۔سمینہ نے انہیں گھوری ڈالتے ہوئے کہا تو وہ گھبرا سے گئے۔ارے بیگم صاحبہ ایسے تو مت دیکھیں ایسے تو مجھے لگ رہا ہے جیسے میں نے کوئی بہت بڑا جرم کر دیا ہو۔امی جان صرف بابا کو ہی نہیں مجھے بھی معلوم تھا۔فریحہ نے سیب کھاتے ہوئے مزے سے کہا۔اب سمینہ ہی نہیں بلکہ امان بھی حیران ہوئے۔فریحہ نے امان کی حیرانگی دیکھی تو بولی۔اتنا بھی حیران مت ہوں بابا جب ناہید آپ کو خالہ کے گھر جا کر اپنی باتوں کی تلافی کا بول رہی تھی تو میں بھی پیچھے کھڑی سن رہی تھی۔فریحہ یہ بتا کر ہنسنے لگی تو امان بھی ہنس دیے۔جبکہ سمینہ حنا کو فون کرنے چلی گئیں۔۔**********************آج رات سب کے لئے خوشیوں کی رات تھی ریان کو جب معلوم ہوا کہ ناہید معیز کی ناراضگی ختم کر آئی ہے اسے اپنے اقرارکا بتا کر اس کی ہر پریشانی دکھ اور تکلیف دور کر آئی ہے تو اس نے اسی خوشی میں سب کو ڈنر پر لے جانے کی آفر کی۔سمینہ اور امان نے تو سہولت سے منع کر دیا۔کیوں کہ انہیں حنا کی طرف جا کر حنا اور روحیل سے شادی کےبارے میں کچھ باتیں کرنی تھیں۔ناہید چونکہ خوش تھی اور پر سکوں بھی اس لئے وہ جی بھر کے اپنی پسند کی تمام ڈشز انجوئے کرنا چاہتی تھی اور ان ڈشز کی ٹاپ لسٹ میں بریانی تھی۔ریان ان دونوں کے ساتھ ساتھ زبردستی معیز کو بھی گھر سے پکڑے فائیو سٹار لے آیا۔ناہید نے سب سے پہلے بریانی پر حملہ کیا۔فریحہ نے چکن کرائی کا آرڈر دیا ریان بھی اسی کے ساتھ تھا جبکہ معیز نے سمال پیزا کا آرڈر دیا۔آخر میں سب نے آئس کریم کھائی سواۓ فریحہ کے کیوں کہ اسے آئس کریم بلکل پسند نا تھی اس لئے اس نے کافی کا آرڈر دے دیا۔کافی دیر باتیں شاتیں کرتے گپیں لگانے کے بعد وہ رات قریب ایک بجے کے گھر آئے ریان نے ان تینوں کو ڈراپ کیا۔فریحہ کہتی رہی کہ وہ آج ادھر ہی رک جاۓ مگر وہ یہ کہتے ہوئے کہ صبح آفس جانے پہلے اور پھر آنے کے بعد بھی چکر لگاۓ گا خود گھر چلا گیا۔۔**************************ناہید۔۔۔۔۔یشل نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے پکارا۔کون ہے۔۔۔اف ناہید اب تم میری آواز بھی بھول گئی۔یشل نے ہاتھ واپس کھینچتے ہوئے روٹھتے ہوئے کہا۔ارے ارے سوری یار میں اصل میں کسی سوچ میں گم تھی اس لئے آواز پر دھیان نہیں دے سکی۔ناہید نے اسکا پھولا ہوا منہ دیکھتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر جلدی سے معافی مانگی۔اچھا کیا سوچ رہی تھی یشل فوراً پہلے جیسی ہو گئی۔کچھ خاص نہیں پہلے تم یہ بتاؤ کہ کیسے آنا ہوا۔وہ اصل میں میں تمہیں کچھ بتانے آئی تھی ناہید۔یشل نے جوس کا گلاس جو کہ ناہید پی رہی تھی سائیڈ ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے کہا۔مجھے بھی تمہیں کچھ بتانا تھا یشل۔اچھا پہلے تم بتاؤ یشل نے کہا۔ارے نہیں تم بتاؤ۔ناہید نے پہلے اسے موقع دیا۔ہاں تو بات یہ ہے ناہید کہ۔۔۔۔کہ مجھے کہنا تم سے نہیں میرا مطلب بتانا تمہیں یہ تھا کہ۔۔۔۔میں کسی کو۔۔۔۔اوفو یشل تم تو سارا دن لگاؤ گی ایسا کرو پہلے میری ہی سن لو۔ناہید نے اسے ٹوکا۔یشل میری منگنی ہو رہی ہے۔۔۔کیا سچ میں یشل ایک دم چیخی۔کس سے ہو رہی ہے کون ہے وہ بد نصیب میرا مطلب ہے کہ خوش نصیب۔۔۔وہ خوش نصیب کوئی اور نہیں بلکہ معیز ہی ہے۔جوس پیتی یشل کو ایک دم سے اچھوکا لگا۔کتنی ہی دیر تو وہ کچھ بول ہی نا پائی۔تم ایسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے مجھے کیا دیکھ رہی ہو تمہیں خوشی نہیں ہوئی کیا اتنی حیران کیوں ہو۔نہیں وہ میں خوش ہوں بلکہ بہت خوش ہوں بس حیران تھی کہتم نے تو انکار۔۔۔۔۔میں پاگل تھی یشل جو میں نے ایسا کیا اپنی خوشیوں کو خود ہی خود سے دور کیا۔مگر اب مجھے سمجھ آگئی ہے یا یوں سمجھ لو کہ عقل ٹھکانے آگئی ہے۔ناہید نے اسے پھر سے ٹوک دیا۔ایک منٹ رکو میں آئی۔ناہید بھاگتی ہوئی گئی اور بھاگتی ہوئی آئی ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔اس نے ایک گلاب جامن نکالا اور پورے کا پورا یشل کے منہ میں ٹھونس دیا لو منہ میٹھا کرو۔یشل نے با مشکل اسے کھایا اور پھر منہ صاف کرنے کے بہانے ٹشو لینے اٹھی اور اسی سے آنکھوں میں آئی نمی صاف کر کے واپس آبیٹھی۔اب تم بتاؤ کیا کہہ رہی تھی تم۔یشل اب خود کو نارمل کر چکی تھی۔میں یہ کہہ رہی تھی کہ میرا ایک اور رشتہ آیا ہوا ہے فیملی بہت اچھی ہے سوچ رہی ہوں کہ کیوں ناں تمہارے ساتھ ہی رخصتی کروا لوں۔یشل نے کہا اور پھر ناہید کے ساتھ خود بھی ہنسنے (رونے) لگی۔یشل شکر کرنے لگی۔شکر تھا دل کی بات دل میں ہی رہ گئی مشکل سے ہی تو سب ٹھیک ہوا تھا اور وہ اسے دوبارہ خراب کرنے جا رہی تھی۔۔*************************یشل نے گھر آتے ہی سب سے پہلے ماما پاپا کو اس رشتے کے لئے ہاں کہہ دی جس کے لئے وہ کتنے دنوں سے انہیں انتظار کرواۓ ہوئے تھی۔اس کے بعد اس نے جی بھر کر معیز کی تصویر دیکھنے کے بعد اسے ڈیلیٹ کر دیا۔یہ کہتے ہوئے کہ اس شخص کو دیکھنے کا اب مجھے کوئی حق نہیں اس شخص پر اب صرف اور صرف ناہید کا ہی حق ہے۔۔***************************بہت اچھی لگ رہی ہو۔ریان نے بلیو ساری میں ملبوس فریحہ کی تعریف کی جو واقعی میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔یہ ساری اس نے خاص ناہید کی منگنی کے لئے بنوا کر رکھی تھی۔آپ بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں۔فریحہ مسکرائی۔آج رات گیارہ بجے کی ریان کی فلائٹ تھی کچھ ہی دیر میں اسے نکل جانا تھا اور اپنا سفر شروع کر دینا تھا۔فری سے باتیں کرتے ریان کی نظر آنکھوں میں ہلکی سی نمی لئے یشل پر پری تو اس کے دل میں ہوک سی اٹھی۔وہ ساتھ بیٹھے معیز اور ناہید کو دیکھ رہی تھی۔وہ اس بات سے انجان نہیں تھا کہ اسکی بہن دل ہی دل میں معیز کو چاہتی ہے۔شک تو اسے تب ہی ہوگیا تھا جب یشل نے اپنے موبائل میں سیو معیز کی تصویر اسے دکھائی تھی۔اگر وہ ناہید سے غلطی سے سینڈ ہوئی تھی تو یشل اسے ڈیلیٹ بھی تو کر سکتی تھی مگر نہیں وہ گھنٹوں موبائل کو ہاتھ میں تکتی رہتی ریان کو دیکھے بغیر بھی معلوم ہوجاتا کہ وہ کیا دیکھ رہی ہے۔اور پھر بغیر کوئی وجہ بتاۓ رشتوں سے انکار۔کوئی کچھ سمجھتا یا نا سمجھتا مگر وہ سب سمجھتا تھا مگر وہ کیا کرتا اس کا بات کا اسے دکھ تھا کہ وہ اپنی بہن کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔وہ معیز کو یشل کا نہیں بنا سکتا تھا کیوں کہ معیز یشل کا تھا ہی نہیں۔وہ یشل کو معیز کا نہیں بنا سکتا تھا کیوں کہ یشل معیز کی تھی ہی نہیں اسکی تو صرف ناہید تھی۔۔۔ریان نے یشل کی طرف سے چہرہ موڑ لیا اور ٹھنڈی آہ بھر کہ رہ گیا۔۔**********************ناہید سی گرین اور گرے کلر کی بھاری کام دار پیروں تک آتی فراک پہنے سادگی سے تیار ہوئی بلیک تھری پیس میں ملبوس معیز کے ساتھ بیٹھی بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔( شہزادی ناہید اور شہزادہ معیز )سب ہی ان کی جوڑی کی تعریف کر رہے تھے۔بہت خوبصورت لگ رہی ہو ڈیر کزن۔۔۔معیز نے اسکے مزید نکھرے ہوئے حسن کی تعریف کی۔تم بھی بہت ت ت ت اچھےےےےے نا سہی مگر صرف اچھے ضرور لگ رہے ہو۔بدلے میں ناہید نے بھی اس کی تعریف کی جو کہ تعریف کمکنجوسی زیادہ تھی۔منگنی جو کہ بچپن میں ہو ہی چکی تھی مگر یہ معیز کی ضد تھی کہ بچپن کی منگنی بھی کوئی منگنی ہوتی ہے دوبارہ سے سارے انتظامات کروا لئے۔شادی کچھ مہینے بعد تھی۔حنا انگوٹھی کی ڈبیہ لئے معیز کے پاس بیٹھیں تو اس نے جلدی سے پوچھا۔ماما انگوٹھی آپ پہنائیں گیں کیا۔ہاں بیٹا میں ہی تو پہناؤں گی۔حنا کے جواب پر معیز کا منہ اتر گیا۔ارے بیٹا مذاق کر رہی تھی میں تم ہی پہناؤ گے بلکہ لو پکڑو اور جلدی سے پہنا دو اس سے پہلے کہ لڑکی کا پھر سے ارادہ بدل جاۓ۔آخری جملہ حنا نے بہت آہستگی سے اسے ڈرانے کی خاطر بولا جیسے وہ دونوں ہی سن سکے۔ناہید تو مسکرا دی جبکہ معیز نے واقعی میں یہ ڈر لئے جلدیسے ناہید کا سفید و ملائم ہاتھ پکڑا اور انگوٹھی اس کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں اتار دی۔اب باری ناہید کی تھی۔ناہید معیز کو انگوٹھی پہنانے لگی تو اس نے ہاتھ کو کبھی کھولنا اور کبھی بند کرنا شروع کر دیا ناہید کو انگوٹھی پہنانے میں مشکل ہو رہی تھی۔اس نے نظر بچا کر معیز کی کمر پر ایک زور کی چٹکی کاٹی تو وہ سی کرتا ہوا بولا اف ظالم لڑکی کیا کر رہی ہو۔ہاتھ سیدھا رکھو ورنہ ایک اور کاٹوں گی اور یقین کرو وہ اس سے بھی زور (زہریلی ) کی ہوگی۔معیز نے اسکی دھمکی میں آتے ہوئے فوراً سے پہلے ہاتھ سیدھا کیا تو ناہید نے بڑے آرام سے اسے انگوٹھی پہنا دی۔اور اس کے بعد دونوں نے بغیر ہاتھ اٹھاۓ دل ہی دل میں ایک دوسرے کے اچھے ساتھ کی ڈھیروں دعائیں کیں۔۔********************ارے واہ یہ پین کتنا خوبصورت ہے ناں اسے تو میں ہی رکھوںگا۔معیز نے اس کے کمرے میں پرے مگ سے ریڈ کور کا پین جو بظاہر کانچ کا معلوم ہوتا تھا اٹھایا اور بولا۔اس سے تو میں اپنے نکاح نامے پے سگنیچر کروں گا۔معیز نے اس پیارے سے پین کو چوما اور ساتھ ہی ناہید کے گال کو بھی ہلکے سے چھوتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔تم کیا جانو معیز یہ پین میرے پاس اسی لئے تو واپس آیا تھا کہ اس کا استعمال تمہارے ہاتھوں ہی ہونا تھا کیوں کہ اس کے اصل حق دار تم ہی تو ہو۔۔۔ناہید نے سیڑھیاں اترتے معیز کو نظروں میں بھرتے ہوئے سوچا اور مسکرا دی۔زندگی کتنی حسین ہے یہ آج اسے پتا چلا تھا کیوں کہ اسکی زندگی کا حسین ساتھی زندگی کے ہر سفر میں اب ہر قدم پر اس کے ساتھ چلنے والا تھا اس راہ پے چلنے والا تھاجیسے راہ محبت کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔*********************ختم شد۔۔۔

Sunday, November 25, 2018

راہ محبت قسط11

http://novelskhazana.blogspot.com/

Second last epi**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 11**کیا حال بنا لیا ہے آپ نے اپنا دیکھیں تو کتنی طبیعت خراب کر لی ہے اپنی۔۔۔کوئی پرواہ نہیں ہے آپ کو اپنی بہت ہی لاپرواہ ہیں آپ اپنے معاملے میں آخر کبھی تو اپنے بارے میں سوچ لیا کریں۔جب تم ہو میرا خیال رکھنے میرے بارے میں فکر کرنے کے لئے تو پھر مجھے اپنے بارے میں سوچنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ریان نے مسلسل فکرمند ہو کر بولتی فریحہ کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا۔میں تو ہوں ہی آپ کی فکر کرنے کے لئے اور ہمیشہ کرتی رہوں گی۔اب آپ یہ دوائی کھائیں ماما بتا رہی تھیں کہ آپ دوائی لینے کے معاملے میں بہت ہی لاپرواہ ہیں جان چھڑاتے ہیں اس سے۔تو اور کیا کروں ہر سال ایسے ہی بیمار پر جاتا ہوں میں تو تنگ آگیا ہوں ان دوائیوں سے۔ریان نے دوائی کو دیکھ کر آہ بھرتے ہوئے کہا۔مجبوری میں ہی سہی مگر لینی تو پڑے گی ہی آپ کو۔فریحہ نے اسے پانی کا گلاس پکڑایا اور دوائی دی جسے ریان نے بری سی شکل بناتے ہوئے کھا لیا۔فریحہ اس پریشانی میں بھی ہنسنے لگی۔کیا ہوا اب ہنس کیوں رہی ہو۔ہنسو نہیں تو اور کیا کروں کیسے بچوں کی طرح ناک چڑھا کر منہ بناتے ہوئے دوائی کھارہے تھے آپ۔ہاں تو ایسے ہی تو کھاتے ہیں دوائی کوئی پاگلہی ہوگا جو بڑے مزے آرام سے اور شوق سے دوائی کھاتا ہوگا۔ریان نے اسکی ہنسی دیکھتے ہوئے کہا۔ہوتے ہیں کچھ ایسے پاگل بھی۔جیسے کہ ناہید ایسے شوق اور مزے سے نا سہی مگر وہ دوائی بڑے آرام سے کھا لیتی ہے کہتی ہے کہ دوائی ہے کوئی زہر نہیں جو لوگ ایسے ایسے منہ بناتے ہیں جیسے خون پینے کو کہہ دیا ہو۔فریحہ بتا کر پھر سے ہنسنے لگی۔جبکہ ریان نے ناہید کے ذکر سے کچھ بے چین سا ہو کر پہلوبدلہ۔فری اگر تم برا نا مانو تو کوئی اور بات کریں مطلب تمہاری تو ہر بات پے ناہید کا ذکر نکل آتا ہے میری طبعیت ٹھیک نہیں مجھے تم اچھی اچھی باتیں بتاؤ بس۔۔۔۔کیوں ریان آپ کو میرا ناہید کا ذکر کرنا اچھا نہیں لگتا کیا۔نہیں ایسی بات نہیں ہے اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو سوری یار۔ارے نہیں ریان میں نے تو بس ایسے ہی پوچھ لیا ورنہ میں بھلا کیوں ایسا سوچنے لگی۔فریحہ جلدی سے بولی۔اچھا چلیں آپ ہی بتائیں کیا باتیں کروں۔ریان اس سے پوچھنے لگا ہی تھا کہ اور بتاؤ کیسے گزرے یہدو دن کیا کیا ان دنوں میں مگر یہ سوچ کر چپ ہی رہ گیا کہ پھر سے اسکی ہر بات میں ناہید کا ذکر شروع ہو جاۓ گا تو بولا۔کچھ بھی سنا دو ویسے بھی تم تو بہت اچھا بولتی ہو یاد ہے شادی کے اولین دنوں میں تم رات دیر تک میرے کتنے کان کھاتی تھی اور میں چپ کر کے تمہاری ایک ایک بات سنا کرتا تھا تم بغیر یہ سوچے کے میرے بیچارے کانوں کا کیا حال ہورہا ہوگا بس اپنی ہی بولے جاتی۔۔۔ریان نے کچھ اس انداز سے اسے یاد کروایا کہ وہ ہنسنے لگی تو اسے ہنستا دیکھ ریان بھی مسکرا دیا۔وہ بھول چکا تھا کہ کچھ دیر پہلے جب وہ کمرے میں اکیلا تھا تو اسکا سر درد سے کیا حال ہو رہا تھا اب وہ ہر بیماری سے بے نیاز ہر بار کی طرح چپ چاپ بس فریحہ کی باتیں سن رہا تھا اور شکر کہ ان باتوں میں بس فریحہ اور ریان ہی تھی ناہید کہیں دور دور تک بھی نہیں تھی۔۔***********************صحیح کہتے ہیں کہ انسان جس چیز کو ٹھکراتا ہے پھر واپس اسی کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے تو ناہید بی بی تم بھی لگ گئی ناں معیز کے پیچھے پہلے خود اسکو دور کیا اور اب خود ہی اس کے پاس آنے کی دعائیں کیوں کرنے لگی۔آخر اسکی محبت کی قدر ہو ہو گئی تمہیں اسکی محبت نے اثرچھوڑ ہی دیا تمہارے دل پر یا پھر اسکی اس قدر دوریوں نے تم پر وضع کیا کہ تمہیں اس کے ساتھ کی کتنی ضرورت ہے۔ہاں معیز میں کوئی کمی نہیں ہے ہاں وہ بہت ہی اچھا ہے ہاں مجھ سے پیار بھی بہت کرتا ہے ہاں وہ اب تک میری راہ دیکھتا ہے ہاں اسے ابھی بھی میری پرواہ ہے اور ہاں۔۔۔۔۔اور ہاں مجھے بھی اس سے محبت ہے۔۔۔۔مگر یہ محبت دوستی کی حد تک تھی یا واقعی میں اسکی دعا اتنی جلدی قبول ہو گئی تھی یہ اسے معلوم نہیں تھا۔۔***********************ایک تو طبعیت اتنی خراب ہے اوپر سے آپ پھر آفس کا کام لے کر بیٹھ گئے۔بس ہر وقت کام کی ہی فکر لگی رہتی ہے آپ کو اپنی ذرا بھی فکر نہیں۔فریحہ نے ریان کو لیپ ٹاپ کے ساتھ بزی دیکھ کر کمرے میں آتے ہی بولنا شروع کر دیا۔ریان اسکی طرف دیکھے بغیر مسکرایا تو وہ تپ کے بولی۔ادھر مجھے آپ کی صحت کی فکر کھاۓ جا رہی ہے اور آپ ہیں کہ مزے سے مسکرا رہے ہیں۔ادھر لائیں یہ لیپ ٹاپ کوئی کام نہیں کر رہے آپ دوائی کھائیں اور آرام کریں۔فریحہ نے بڑبڑ کرتے ہوئے ریان کی گود سے لیپ ٹاپ اٹھایا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔وہ پھر سے مسکرا دیا۔فریحہ کا اسکے لئے اتنا فکر مند ہونا ریان کتنا اچھا لگ رہا تھا۔اب مسکراتے ہی رہیں گے یا دوائی بھی کھائیں گے۔فریحہ نے ٹیبلٹ ریان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔اگر فریحہ اسکو ٹائم سے دوائی نا دے تو وہ تو کبھی خود سے دوائی کو ہاتھ بھی نا لگاۓ ہاتھ لگانا تو دور کی بات نظر اٹھا کے بھی نا دیکھے۔ریان نے چپ چاپ دوائی کھائی اور پر سکون ہو کر آنکھیں بند کئے لیٹ گیا۔۔*********************ناہید دیکھو کس کا فون آرہا ہے۔سمینہ نے فون کی آواز پے لاؤنج میں ہی بیٹھی ناہید کو کہا وہ خود کچن میں تھیں۔ہیلو کون۔۔۔؟۔۔۔۔۔کونہے۔۔۔۔ارے بولو بھی۔۔۔مگر آگے سے مسلسل خاموشی۔۔۔اف بولو بھی کون ہو۔۔ناہید نے تنگ آکر کہا۔خالو امان کو فون دو۔۔۔دوسری طرف سے آواز آئی۔بے اختیار ناہید کے منہ سے نکلا۔۔۔"معیز تم"معیز نے لینڈ لائن پر کال کی تھی۔تم نے شائد سنا نہیں خالو کو فون دینا پسند کرو گی۔معیز کیسے ہو تم۔۔ناہید نے اب کی بار بھی اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئےپوچھا۔یعنی تو تم نہیں دوگی۔۔۔ٹھیک ہے خدا حافظ۔۔۔معیز نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔ناہید بے بسی سے رسیور کو دیکھنے لگی۔امان نماز پڑھ کر واپس آئے تو انہیں معیز کے فون کی اطلاع دے کر وہ اپنے کمرے میں آگئی۔تو اب میں تمہارے لئے اتنی غیر اہم ہو گئی معیز میری آواز بھی اب تمہیں کھٹکنے لگی۔اف ناہید بی بی جب خود ہی دعا کی تھی کہ جتنے دکھ تم نے معیز کو دیے بدلے میں تمہیں بھی اتنے ہی دکھ ملیں اور ابجب مل رہے ہیں تو شکوہ کیسا۔۔***********************ریان کی طبعیت اب کافی بہتر تھی ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ اس نے فریحہ سے کہا۔فری میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ دن اپنے گھر رہ آؤ۔کیوں ریان خیریت یوں اچانک آپ نے یہ بات کہہ دی ابھی ہفتہپہلے ہی تو آئی ہوں۔میں جانتا ہوں مگر میری بیماری کا سن کر تم ایک دن مزید رہنے کی بجاۓ واپس آگئی تھی اور ویسے بھی آفس کے کچھ کام کے سلسلے میں پرسو دبئی جا رہا ہوں وہاں کچھ دنکا سٹے ہے۔اچھا آپ دبئی جا رہے ہیں۔فریحہ دھیرے سے بولی۔ریان کے دور جانے کا سن کر وہ بجھ سی گئی۔ارے بابا میں کون سا وہاں رہنے جا رہا ہوں واپس آجاؤں گا کچھ دنوں کے بعد اور ہاں کال کرتا رہوں گا۔ریان نے اسکی اداس صورت دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بولی۔پکا روز کال کریں گے ناں۔ہاں مائے ڈیر سویٹ وائف۔۔۔ریان نے اس کی تھوری چھوٹے ہوئے کہا۔اچھا چلیں ٹھیک ہے میں چلی جاؤ گی مگر کب جانا ہے۔۔۔۔آج اور ابھی۔۔۔کیا ابھی۔۔۔؟؟فریحہ ریان کی بات پر کچھ حیران ہوئی۔مگر جانا تو آپ کو پرسو ہے پھر میں آج ہی کیوں چلی جاؤ۔ریان اب اسے کیا بتاتا کہ وہ آج ہی ناہید سے بات کرنا چاہتا ہے۔ویسے ہی دل چاہ رہا ہے ناہید کے ہاتھ کا بنا لنچ کرنے کو تمہیں چھوڑنے جاؤ گا لنچ کرو گا پھر ایک دوست کی طرف جانا ہے وہاں سے ہو کر واپس آؤں گا کچھ دیر بیٹھوں گا اور پھر رات میں واپس۔۔۔۔آج پہلی دفعہ ریان نے خود سے فریحہ کے سامنے ناہید کا ذکر کیا تھا۔اچھا جی بیٹھنے بیٹھائے آپ نے سارے دن کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ کر لیا بہت خوب۔فریحہ کی بات پر ریان ہنس پڑا۔فریحہ اٹھ گئی اور فون کر کے ناہید کو اپنے آنے کی اطلاع دینے لگی اور ساتھ ہی لنچ اپنے ہاتھوں سے بنانے کا آرڈر بھی۔۔************************لنچ کرنے کے بعد ناہید سب کو باتیں کرتا چھوڑ خود لان میں آگئی۔ریان واقعی میں بدل چکا تھا بلکہ بہت بدل چکا تھا۔مگر اس کے بدلاؤ کو دیکھ کر اس دفعہ ناہید کو دکھ نہیں ہوانا ہی برا لگا۔بلکہ اسے فریحہ کے چہرے پر ریان کی وجہ سے آئی رونق دیکھ کر اچھا لگتا تھا۔اس نے یہ کبھی نہیں چاہا تھا کہ فریحہ شادی کے بعد ناخوش رہے ہاں وہ پہلے نا خوش تھی مگر اب تو خوش تھی اور یہی خوشی ناہید کو سکون دے رہی تھی یہ جان کر بھی کہ یہ سب ریان کی وجہ سے ہے۔وہ گم سم سی پلانٹس کے پاس کھڑی پتے توڑ رہی تھی جبریان نے اسے بلایا۔"ناہید"۔۔ناہید نے مڑ کر حیران ہوتے ہوئے ریان کو دیکھا۔کتنا عرصہ (نو مہینے ) ہوگیا تھا ناہید کو یہ پکار سنے۔ریان کے منہ سے اپنا نام سن کر ناہید کے دل میں ایک دم سےکچھ ہوا۔ناہید مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ناہید نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔تم نے معیز کے رشتے سے انکار کیوں کیا ناہید تم جانتی ہو کہ تم نے انکار کر کہ بہت بڑی غلطی کی ہے۔ریان کی یہ بات سن کر ناہید کو نجانے کیوں غصہ آگیا۔دیکھیے آپ کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط۔(ہونہہ جس کی وجہ سے انکار کیا اب وہی پوچھ رہا ہے کہ کیوں انکار کیا ) ریان نے جیسے اس کی سوچیں پڑھ لی اس لئے بولا۔میں جانتا ہوں کہ تم کیا سوچ رہی ہو یہی نا کہ تم نے میری وجہ سے انکار کیا اور میں ہی تم سے انکار کی وجہ پوچھ رہا ہوں۔مگر ناہید انکار کرنے سے پہلے یہ تو سوچ لیتی کہ اب میں تمہارا کبھی نہیں ہو سکتا تو لا حاصل کی تمنا کر کے کیا فائدہ۔محبت فائدے اور نقصان کا نہیں سوچتی مسٹر ریان۔۔ناہید ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔ہاں مگر محبت کسی کی محبت کا تو سوچتی ہی ہے ناں۔ریان کی اس بات پر ناہید لاجواب ہی ہوگئی۔میں جانتا ہوں کہ معیز تمہیں بہت چاہتا ہے۔تم جانتی ہو کہ معیز میرا دوست ہے اکثر اس سے ملاقات ہو جاتی تھی ہماری دوستی حیدر (میرا دوست ) کے زریعے ہوئی مگر کچھ عرصے سے میری ملاقات اس سے ہو نہیں پائی۔اتنی ملاقاتوں میں مجھے اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ وہ اپنی منگیتر سے بہت محبت کرتا ہے۔کیوں کہ وہ اول تو تمہارا ذکر خود سے نہیں کرتا تھا مگر جب بھی کرتا اس کے لہجے میں محبت سمٹ آتی۔اس کی آنکھوں میں اس لڑکی کے لئے (جو کہ تم ہو ) محبت کی چمک پیدا ہو جاتی۔جب بھی تمہاری کال آتی بھاگتا ہوا تمہیں لینے چلا جاتا ایسے جیسے کب سے تمہاری کال کے انتظار میں ہی بیٹھا ہو۔اور اس کی اس جلدبازی پر میں اور حیدر ہنسنے لگ جاتے۔میرےکہنے پر یشل نے مجھے معیز کی تصویر دکھائی تو مجھے تو تب معلوم ہوا کہ یہ تو وہی معیز ہے جو ہمارا دوست ہے اور جس کی منگیتر کوئی اور نہیں بلکہ تم ہی ہو۔یقین مانو تب مجھے بہت سکون ہوا کہ تمہارا منگیتر یہ معیز ہے کیوں کہ میں اسکی آنکھوں میں تمہارے لئے سچی محبت دیکھ چکا تھا اور جان چکا تھا کہ وہ تمہیں ہمیشہ بہتخوش رکھے گا شائد مجھ سے بھی کہیں زیادہ۔ناہید کے لئے یہ حیرت انگیز انکشاف تھا کہ معیز تو ریان کا دوست ہے۔فریحہ نے مجھے بتایا کہ معیز تمہیں پرپوز کرنے کے لئے صرف صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا اور جب وہ صحیح وقت آیا تو تم نے اسے ٹھکرا دیا۔سچ بولوں تو یہ جان کر مجھے بہت دکھ ہوا میں نے یہ تو سوچ رکھا تھا کہ میں تم سے بات کروں گا تمہیں سمجھاؤں گا مگر جب تم نے معیز کے لئے انکار کر دیا تو یہ جان کر میں نے تم سے بات کرنے کا اور بھی پکا ارادہ کر لیا۔دیکھو ناہید ہم دونوں اب کبھی ایک نہیں ہو سکتے ہمارا ملنا لکھا ہی نہیں تھا کیوں کہ ہم ایک دوسرے کے لئے کبھی بنے ہی نہیں تھے۔فریحہ میرے لئے ہر لحاظ سے بہترین لائف پارٹنر ہے شائد اسی لئے اسے میری زندگی میں شامل کیا گیا۔اور دیکھو میں نے جلد ہی اس بہترین لائف پارٹنر کی قدر جان لی۔اور اب میں مطمئن ہوں۔بہتر ہے کہ تم بھی ایک ایسے انسان کی جو کہ ابھی بھی تم سے محبت کرتا ہے اور شائد ہمیشہ ہی کرتا رہے گا اسکی قدر جان لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات مان لو ناہید معیز کا ہاتھ تھام لو یا اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھا کر پہل کر لو یہ نا ہو کہ تم دیر کر دو اور تم سے پہلے کوئی اور اسکا ہاتھ تھام چکا ہو اور اگر ایسا ہوا ناں ناہید تو مجھے بہت دکھ کے ساتھ کہنا پر رہا ہے کہ تم اسے ہمیشہ کے لئے کھو دو گی۔اور میں تمہیں خالی ہاتھ نہیں دیکھنا چاہتا۔اپنے ان ہاتھوں کو معیز کی محبت سے بھر لو ساری خوشیاںتمہاری جھولی میں سمٹ جائیں گیں اس بات کی میں تمہیں گرنٹی دیتا ہوں۔بولو ناہید محبت کی راہ میں قدم بڑھاؤ گی ناں راہ محبت کا انتخاب کرو گی ناں۔ریان نے بہت مان سے اس سے پوچھا جیسے اسے یقین ہو کہ وہ اسکی بات سے انکار نہیں کرے گی۔ناہید تو بس آنکھوں میں آنسو لئے یک ٹک اسے دیکھے گئی۔خیر تمہاری ایک امانت تھی میرے پاس۔ناہید نے اب کی بار چونک کر اسے دیکھا۔ریان نے پاکٹ سے پین نکالا اور ناہید کی طرف بڑھایا۔دیکھ لو محترمہ تسلی کر لو ذرا بھی استعمال نہیں کیا۔ریان کی اس بات پر نا چاہتے ہوئے بھی ناہید ہنس دی۔اس نے پین تھاما اور آنسو صاف کرتی ہوئی بولی۔آپ مجھے خالہ کی طرف چھوڑ دیں گے کیا۔۔۔۔ہاں کیا کہا۔۔۔؟؟ریان کو اس کے الفاظ پے یقین نا آیا۔میں نے کہا آپ مجھے خالہ کی طرف چھوڑ رہے ہیں ابھی کہ ابھی۔ناہید کے پہلے جملے میں انداز گزارش اور دوسرے جملے میں حکمانہ انداز تھا۔مجھے خوشی ہے کہ تم نے میری بات مانی اور صحیح انتخاب کیا۔چلو چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔میں بس ابھی آئی ناہید پین کرسی پر رکھتی اندر کی طرف جانے لگی جب لان میں آتے امان کو دیکھ کر رک گئی اور بولی۔بابا میں ان کے ساتھ خالہ کی طرف جا رہی ہوں۔ناہید نے بابا کے سامنے ریان کا نام نہیں لیا۔امان صاحب ایک دم حیران ہوئے اور پوچھ بیٹھے۔خیریت بیٹا آج کہاں سے یاد آگیا ادھر جانا۔ارے بابا آپ پریشان کیوں ہو گئے میں لڑنے نہیں جا رہی بلکہ اپنی ان باتوں کی تلافی کرنے جا رہی ہوں جن کی وجہ سے معیز اور باقی سب کا دل ٹوٹا۔اس سے پہلے امان اس کی بات کا مطلب سمجھتے وہ انہیں سوچتا چھوڑ ریان کے ساتھ چلی آئی۔جبکہ امان جاتی ہوئی ناہید کی بات کا مطلب سمجھ کر مسکرادیے۔ویسے ایک بات تو بتاؤ ناہید تمہاری خالہ کا گھر کوئی دور تھوڑی نا ہے بلکل ساتھ ہے پھر تم نے مجھے تمہیں یہاں چھوڑنے کو کیوں کہاں۔ریان اس بات پر الجھا تھا۔آپ ابھی بھی نہیں سمجھے ریان۔۔۔؟؟"نہیں"ریان نے اس کی بات پر نہیں میں سر ہلا دیا۔میں چاہتی ہوں کہ مجھے میرے صحیح انتخاب کے پاس آپ ہی لے کر جائیں آپ ہی مجھے اس دروازے تک چھوڑیں جس کے اندر وہ شخص بیٹھا ہے جو میری راہ تک رہا ہے۔ناہید کی بات سن کر ریان مسکرا دیا اور اسے معیز کے گیٹ تک چھوڑ کے خود گاڑی میں بیٹھ کر اپنے دوست کی طرف چلا گیا۔۔**********************Next on tuesday...


Wednesday, November 21, 2018

راہ محبت قسط10

http://novelskhazana.blogspot.com/


**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 10*


*یشل کے لئے یہ دوسرا رشتہ آیا ہوا تھا جسے بھی اس نے پہلے رشتے کی طرح منع کر دیا۔گھر والوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر وہ بغیر وجہ کہ رشتوں سے انکار کیوں کر رہی ہے جبکہ اچھے خاصے رشتے تھے اسے تو اپنی خوش نصیبی سمجھ کر ہاں دینی چاہیے تھے مگر ہائے رے یہ دل۔۔۔۔۔۔۔جب سے اسکو معلوم ہوا کہ ناہید معیز کے رشتے سے صاف صافلفظوں میں انکار کر چکی ہے اسکا دل ہی نہیں مان رہا تھا کسیاور سے شادی کے لئے وہ پھر اسی راہ پے چلنے لگی تھی جس پر سے وہ یہ معلوم ہوتے کہ معیز ناہید کا ہے واپس مڑ گئی تھی۔شمسہ اور شعیب نے تو پہلے نرمی اور پھر سختی سے اس سے بات کی مگر ریان نے یہ کہتے ہوئے کہ جب یشل کو پسند نہیں تو آپ لوگ اسے فورس نا کریں بات ہی ختم کر دی۔یشل بھی یہ بات جانتی تھی کہ جب تک بھائی اس کے ساتھ ہیں اسے زبردستی کسی بندھن میں نہیں باندھا جا سکتا۔معیز کا نمبر تھا یشل کے پاس۔۔۔) کیسے آیا یہ بتانا ضروری ہے کیا(یشل نے کچھ دن پہلے ہمت کر کے اسے کال کی اور پھر مسلسل کالز۔۔پہلے تو معیز اسے رونگ نمبر سمجھ کر اگنور کر گیا مگر پھر یہ سوچ کر کہ شائد کسی جاننے والے کی کال ہو تنگ آکر اٹھا ہی لیا۔یشل نے ڈرتے ڈرتے اپنا تعارف کروایا)میں یشل ( تو معیز نے )اچھا تو پھر ( کہتے ہوئے پوچھا کوئی کام۔وہ میں۔۔۔وہ مجھے۔۔۔یشل سے کوئی بات نہیں بن رہیتھی۔دیکھئے اگر آپ نے مجھ سے ناہید کے بارے میں بات کرنے کے لئے فون کیا ہے تو سوری مجھے اس کے بارے میں کچھ نہیں سننا اور نا ہی میرے پاس اتنا وقت ہے۔) معیز کو لگا تھا کہ ناہید کی دوست اسے اور کس لئے فون کرے گی ناہید کے متعلق ہی کوئی بات کرنی ہوگی (۔۔۔ارے نہیں مجھے اس کے بارے میں۔۔۔۔یشل جلدی سے بولی مگر فون بند کیا جا چکا تھا یشل کی بات ادھوری ہی رہ گئی۔اس کے بعد سے یشل کی ہمت ہی نہیں ہوئی معیز کو فون کرنے کی۔۔**************************اور واقعی میں اس کے بعد نا ہی معیز کا کوئی میسج آیا اور نا ہی کوئی فون۔لاشعوری طور پر ناہید اسکے میسجز اور کال کا انتظار ہی کرتی رہی۔شائد اسے انکی عادت ہو چکی تھی۔مگر نا تو معیز آیا نا ہی کوئی میسج۔۔۔۔بس اتنی ہی تھی تمہاری محبت میری چند باتوں کی وجہ سے تممجھ سے اتنا روٹھ گئے کہ بھول ہی گئے مجھے۔بے اختیار ناہید کے منہ سے نکلا تو وہ حیران ہوگئی۔یہ وہ کیا سوچ رہی تھی اور کیوں۔اس نے خود ہی تو ایسا چاہا تھا کہ معیز اس سے دور ہو جاۓ اوراب جب ایسا ہو رہا تھا تو پھر کیوں اسے یہ سب چبھ رہا تھا۔کیوں اسکا بری طرح نظر انداز کرنا اسے بے چین کر رہا تھا۔ناہید معیز کی طرف جانا بھی چاہتی تھی مگر چاہ کر بھی نہیں جا سکتی تھی۔کیوں کہ جب اسکی طرف سے پھر بھی انکار ہی تھا تو اسے ڈر تا کہ کہیں پھر وہ کوئی بات کر کے معیز کا دل نا توڑ دے۔کچھ دیر کے لئے سب بھول بھال کر اس نے معیز کو کال کی اور پھر مزید کالز کیں مگر معیز یا تو رسیو نا کرتا یا تو کال کاٹ دیتا۔بلا شبہ وہ بہت ہی ناراض تھا اور اسکا بات کا اندازہ ناہید کو ہو گیا تھا۔معیز آج سے پہلے کبھی اس سے اس طرح ناراض نہیں ہوا تھا بلکہ سرے سے ہی کبھی ناراض نہیں ہوا تھا۔لیکن اب ناراض ہونا بنتا تھا کیوں کہ بات کوئی چھوٹی نہیں تھی بات محبت کی تھی جو کہ بہت بڑی تھی۔۔***********************معیز بیٹا رات کا ایک بج رہا ہے اور تم ابھی تک جاگ رہے ہو۔حنا جو کچن سے پانی کا جگ بھرنے آئی تھیں اس کے کمرےکی لائٹ چلتی دیکھ جگ وہیں کچن میں رکھ کر اس کے کمرے میں آگیں۔معیز موبائل ہاتھ میں لئے کہیں گم تھا وہ مسلسل آتی ناہید کی کالز کو نظر انداز کر رہا تھا۔وہ ماما آج دوپہر میں سو گیا تھا شائد اس لئے نیند نہیں آرہی۔آج سنڈے تھا تو معیز سارا دن اپنے کمرے میں ہی بند رہا کسی کو کیا معلوم کہ وہ سو رہا تھا یا کسی کی یاد میں جاگ رہا تھا۔اچھا لیکن پھر بھی لائٹ بند کر کے لیٹو تو سہی کیا پتا نیند آہی جاۓ۔حنا اسے مشورہ دے کر چلی گئیں جانتی تھیں کہ ناہید کے انکار سے اس پر کیا بیتی ہے معیز کی ناہید کے لئے پسندیدگی سے سب ہی واقف تھے۔مگر ناہید کے انکار کے بعد حنا اور روحیل نے نا ہی ناہید سے کوئی سوال کیا اور نا ہی معیز سے کچھ کہا۔نا ہی سمینہ اور امان نے ناہید کے اس کے بعد ترلے کئے۔ہاں دکھ تو بہت ہی ہوا تھا دونوں فمیلز کو کیوں کہ بچپن کا رشتہ جو تھا جو کہ بہت مان اور چاہت سے جوڑا گیا تھا مگر ناہید نے ایک ہی جھٹکے سے اسے توڑ دیا۔فون پھر سے بج اٹھا اب کی بار معیز نے فون اٹھا لیا مگر بولا کچھ نہیں۔معیز میں کب سے تمہیں کالز پے کالز کئے جا رہی ہوں تم رسیوکیوں نہیں کر رہے کیا اتنا ہی ناراض ہو مجھ سے۔ناہید کو ناراضگی والی بات کرنی تو نہیں چاہیے تھی مگر پھر بھی کر دی۔کیوں جب تم میری کالز رسیو نہیں کرتی تھی تب میں نے تم سے کوئی شکوہ کیا نہیں ناں۔۔۔تو پھر تمہارا بھی کوئی حق نہیں بنتا مجھ سے یہ سوال کرنے کا۔معیز نے لفظوں کو چبا کر کہا۔۔۔۔"معیز"ناہید بس معیز کا نام ہی لے سکی دکھ سے مزید اس سے کچھ بولا ہی نا گیا۔رات بہت ہو گئی ہے مجھے نیند آرہی ہے بہتر ہے تم بھی مجھے دوبارہ کال کرنے کی بجاۓ سو جاؤ یا ایسا کرو میرا نمبر اپنے سیل فون سے ڈیلیٹ ہی کر دو تم بھی سکون میں رہو گیاور میں بھی۔۔۔۔۔۔دوبارہ مجھے کال ہی نہیں کر سکو گی میرا نمبر زبانی یاد ہی نہیں ہوگا یقیناً نہیں ہوگا ظاہر ہے یاد رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔معیز نے اتنی لمبی بات کی اور اس اتنی لمبی بات سے نکلتی ہر بات میں طنز ہی طنز تھے۔۔۔۔ناہید موبائل ہاتھ میں لئے ٹپ ٹپ آنسو بہا رہی تھی کیوں کہمعیز کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا۔))میں جانتی ہوں نیند کا تو بس بہانہ ہی ہے اگر تمہیں اتنی ہی نیند آئی ہے تو روز رات دو دو بجے تک جاگتے کیوں رہتے ہو کیوں دو دو بجے تک تمہارے کمرے کی لائٹ آن رہتی ہے۔معیز میں تو بس دوبارہ تم سے اپنی دوستی قائم کرنا چاہتی ہوں جو کہ دوستی کم دشمنی زیادہ تھی وہ بھی میری طرف سے مگر جو بھی تھا ہم خوش تو تھے((۔ناہید سامنے دیکھتی ہوئی ایسے بول رہی تھی جیسے معیز اسکے سامنے ہی بیٹھا ہو۔۔************************فریحہ تین دن کے لئے گھر رہنے آئی تھی۔سمینہ نے ہی اسے بلایا تھا کہ وہ آکر یہ بات ناہید کو ذرا سمجھائے کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی وہ اپنا فیصلہ واپس لے لے اور ہاں کر دے اس کی ایک ہاں سے کتنے لوگوں کی خوشیاں جڑی ہیں اسکا اسے کوئی احساس ہی نہیں۔فریحہ نے بھی اسے پہلی اور آخری بار سمجھانے کا فیصلہ کیا۔فریحہ نے اس سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو وہ پہلے چپ رہی پھر دوبارہ پوچھنے پر بولی کوئی وجہ نہیں۔فریحہ نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کسی اور کو چاہتی ہے تو بتا دے وہ امی اور بابا سے بات کرے گی جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہوگا میں اس کے لئے انھیں مناؤں گی تو ناہید ٹک ٹک اسےدیکھے گئی۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ کیا کہہ رہی تھی یعنی جس کی اس سے شادی ہو چکی ہے اسی کے لئے وہ ایسا بول رہی ہے ظاہر ہے فری کو کیا پتا کہ وہ کون ہے اگر پتا ہوتا تو بھول کر بھی ایسی بات منہ سے نا نکالتی۔نہیں فری میں کسی کو پسند نہیں کرتی۔تو پھر معیز کے لئے ہاں کیوں نہیں کہہ دیتی۔فریحہ اس کے انکار کی وجہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیوں کہ وہ کوئی وجہ بتا ہی نہیں رہی تھی بس ایک ہی بات کہے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔فری مجھے شادی نہیں کرنی میرا معیز کے لئے تو کیا کسی کےلئے بھی دل نہیں مانتا اس لئے پلیز تم مجھ سے یہ پوچھ تاچھ بند کرو۔فریحہ ایک ٹھنڈی سانس خارج کر کے رہ گئی بچپن سے لے کر اب تک اس نے کونسا فریحہ کی کوئی بات آرام سے مانی تھی جو اب مان جاتی۔مگر پھر بھی وہ جاتے جاتے اتنا ضرور بولی۔ناہید وہ شخص جو بچپن سے صرف تمہیں ہی چاہتا آیا ہے جس نے بس تمہیں ہی اپنے دل و دماغ میں بسائے رکھا تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف دیکھنا تو دور کی بات کسی کا تصور بھی اپنے ذہن میں آنے نہیں دیا تو کیا ایسے بے پناہ محبت کرنے والے انسان کو ٹھکرا کر تمہیں ذرا بھی دکھ نہیں ہوا۔۔۔)تمہیں کیا بتاؤں فری کہ کتنا کو دکھ ملا ہے اتنا کہ اب سہا نہیں جاتا میرا دل چاہتا ہے کہ اسکا ہر دکھ اور ہر غم دور کر دوں مگر میں کیا کروں میرا دل ہی نہیں مانتا معیز کے لئے حالانکہ میں سوچتی تھی کہ وہ لڑکی کتنی خوش قسمت ہوگی جو معیز کی بیوی بنے گی وہ اسے کبھی بھی بور نہیں ہونے دے گا کبھی بھی رلائے گا نہیں بہت احساس کرنے والا انسان ہے کبھی بھی اسکا دل نہیں توڑے گا مگر نجانے کیوں وہ خوش قسمت لڑکی میں کیوں نہیں بننا چاہتی(۔۔۔۔۔فریحہ نے دکھ سے ناہید کی طرف دیکھا جو اپنے ناخنوں کی نوک سے بیڈشیٹ کو کتر رہی تھی اور پھر باہر چلی گئی۔۔**************************کہتے ہیں ناں کہ کسی کے اچھے ساتھ کی عادت ہو جاۓ تو پھر اکیلے رہنا مشکل لگنے لگ جاتا ہے۔اور ایسی ہی مشکل ریان کے لئے پیدا ہو گئی تھی ابھی تو اس نے فریحہ کو ٹھیک سے جاننا شروع کیا تھا اس کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا تھا اور ساتھ ہی وہ اپنے میکے چلی گئی۔دن کے سارے وقت تو وہ آفس میں ہوتا رات کو کھانا کھا کے کچھ وقت سب کے ساتھ بیٹھتا اور پھر اپنے کمرے میں سونےکے لئے آجاتا اور یہی وقت گزارنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔اس نے فری کو کال کرنی چاہی مگر پھر رک گیا ظاہر ہے آج پہلی بات خود سے فون کرنے جا رہا تھا تو سوچنا تو بنتا تھا ناں۔اور پھر یہ سوچتے ہوئے کہ کیا ہوا میری بیوی ہی ہے اور اب جب ساری زندگی خوش اسلوبی سے ساتھ نبھانے کا وعدہ )خود سے ہی ( کیا ہے تو پھر کال کرنے میں سوچنا کیسا۔پہلی ہی بیل پے کال رسیو ہو گئی۔۔ہیلو کون۔۔۔ریان کے ہاتھوں کی گرفت موبائل پر ڈیھلی پر گئی۔وہ ناہید تھی۔۔ہاں یقیناً وہ ناہید ہی تھی۔فری سے بات کرنی تھی کہاں ہے وہ۔۔۔۔ریان نے اپنے لہجے کو ذرا سخت کرتے ہوئے کہا۔ناہید جو بغیر نام دیکھے فون اٹھاۓ کھڑی تھی ایک دم سے فون کان سے پیچھے کیا اور نام دیکھ کر خود پر ہی غصہکرنے لگی کہ بغیر دیکھے ہی فون اٹھا لیا۔فریحہ نے ریان کا نمبر رونی کے نام سے سیو کیا تھا۔اوہ تو یعنی فری اسکو پیار سے رونی کہتی ہے۔ناہید کو یاد آیا کہ جب اسکی ریان سے پہلی بار بات ہوئی تھی تو اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ میں ریان ہوں پیار سے مجھے رونی کہتے ہیں۔۔۔ناہید کس کی کال ہے۔ناہید جو موبائل ہاتھ میں لئے کھڑی تھی فریحہ کی آواز پر چونکی اور بغیر کوئی جواب دیے موبائل اسے تھما کر خود بیڈ پر لیٹ گئی اور سوتی بنی۔اس لئے کہ فریحہ اسے سوتا سمجھ کر ڈسٹرب کرنے کی بجاۓ اپنے کمرے میں جا کر بات کر لے مگر وہ وہیں بیٹھ گئی اور ہنس ہنس کر ریان سے باتیں کرنے لگی۔ریان کا ویسے تو ناہید کی آواز سن کے دل پھر سے ڈگمگا گیا تھا مگر پھر اسے فریحہ کی اپنے لئے محبت اور خود سے کیا گیا اسکا اپنا ہی وعدہ یاد آیا تو وہ ناہید کی اپنے کانوں میں گھونجتی آواز کو جھتکتا ہوا خوش گوار موڈ میں فریحہ سے باتیں کرنے لگا۔جب آدھا گھنٹہ گزر گیا اور تب بھی ریان نے فون بند نا کیا تو ناہید کو ایک دم سے غصہ آگیا آخر کیوں وہ فریحہ سے اتنی لمبی بات کر رہا ہے اور وہ بھی ہنستے ہوئے۔وہ ایک دم چلائی فری پلیز اپنا موبائل اور اپنی آواز لئے یہاں سے چلی جاؤ میری نیند خراب ہو رہی ہے )وہ نیند جسکا اسکی آنکھوں میں کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا (کیا ہوگیا ہے ناہید اچھا سوری میں جا رہی ہوں تم سو جاؤ آرام سے۔فریحہ جلدی سے اٹھی اور کمرے سے نکل گئی اور اپنے کمرے میں جانے کی بجاۓ ساتھ والے لائبریری روم میں چلی آئی۔فون کے پار جاتی ناہید کی آواز ریان نے بھی سنی اور وہ سمجھگیا کہ اس نے ایسا کیوں کہا۔وہ ابھی تک اس کا خیال ذہن سے نہیں نکال پائی تھی ابھی تک اسے بھلا نہیں پائی تھی اور وہ ناہید کو اس کوشش میں کامیاب کرنے کے لئے ایک دفعہ اس سے مل کر اسے سمجھانا چاہتا تھا۔تو تم مجھے بھول گئے ریان اتنی جلدی۔۔۔ناہید غصے میں آپ سے تم پر آگئی۔کیسے سب کچھ بھلا کہ فری سے باتیں کر رہے ہو ایک گھنٹہ ہونے کو تھا اور ابھی بھی اسے ساتھ والے روم سے فری کی آوازیں آ رہی تھیں اور نجانے کب تک آتی رہنی تھی۔ٹھیک ہے مسٹر ریان شعیب اگر تمہیں میرا اب خیال نہیں رہا مجھ سے محبت نہیں رہی تو مجھے بھی اب تمہاری کوئی پرواہ نہیں تمہارا کوئی خیال نہیں۔میں آج سے اپنے دل و دماغ سے تمہاری سوچوں خیالوں اور تمہاری یادوں کو آزاد کرتی ہوں۔جب تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہو تو پھر میں کیوں۔ہاں اتنا آگے نہیں بڑھ سکتی کہ شادی کا سوچ لوں مگر اب اتنا اختیار حاصل کرو گی کہ تمہیں جلد ہی بھلا سکوں۔فری نے اور نجانے کتنی دیر باتیں کرنی تھیں ناہید نے اسکی آوازکو خود تک پہنچنے سے روکنے کے لئے اٹھ کر اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور ٹیرس پر چلی آئی۔نظریں گھما کر معیز کے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھا جو آج روشنی سے بے نیاز تھا)لائٹ بند کی جا چکی تھی یا آج چلی ہی نہیں تھی (۔معیز کے کمرے میں چھائی تاریکی کو دیکھ کر ناہید کو یہی سوچ آئی کہ جس طرح آج اس نے ریان کو بھلانے کا فیصلہ کر لیا تھا اسی طرح شائد آج معیز نے بھی ناہید کو بھلانے کافیصلہ کر لیا تھا۔اور یہ سوچ آتے ہی ناہید کو اپنا آپ خالی سا محسوس ہوا اگر معیز نے بھی اسے بھلا دیا تو۔۔۔۔۔نہیں معیز مجھے نہیں بھول سکتا وہ ریان کے جیسا نہیں ہے وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔مگر کیا فائدہ ایسی محبت کا جو حاصل ہی نا ہو سکے۔ناہید نے سوچا مگر معیز کی لا حاصل محبت کے بارے میں سوچتےہوئے اس کے دونوں ہاتھ خودبخود اٹھ گئے اور اس کے دل سے دعانکلی۔یا اللّه مجھے وہ راستہ دکھا جو میرے لئے بہتر ہے مجھے صحیح انتخاب کی سمجھ بوجھ دے دے۔اگر معیز ہی میرا نصیب ہے اگر وہی میرا صحیح انتخاب ہوگا تو میرے دل سے ریان کی محبت نکال دے۔۔۔میرا دل معیز کے لئے ویسی ہی محبت سے بھر دے جیسی وہ مجھسے کرتا ہے۔مجھے بھی اتنا ہی دکھ دے جتنا میں نے اسے دیا ہے۔مجھے بھی اتنا ہی لاپرواہ کر دے جتنا ریان ہے۔مجھے بھی اسی راہ پر چلا دے جس راہ پر معیز میرا منتظر ہے بلکل اسی طرح جس طرح تو نے ریان کو اس راہ پر چلایا جس راہ پر فریحہ اس کی منتظر تھی۔تو نے فریحہ کا انتظار ختم کروا دیا بلکل اسی طرح معیز کا انتظار بھی ختم کروا دے میرے دل میں معیز کے لئے خالص چاہت پیدا کر دے۔آسمان کی طرف دیکھتے دعا کے لئے اٹھائے ہاتھ اور آنسو بہاتی اس لڑکی کو دیکھ کر معیز مجسمہ سا بن گیا۔وہ کھڑکی کے پردے آگے کرنے آیا تھا اور اب واپس جانے کے لئے ہل نہیں پا رہا تھا آخر کیوں۔شائد اس لئے کہ آج بھی اسکی ویسی ہی حالت تھی جیسی فریحہ کی شادی میں آخری ٹیبل پر بیٹھی اس پری کو دیکھ کر ہوئی تھی۔وہ پری دعا مانگ کر آنسو پونچھتے ہوئے واپس کمرے میں جا چکی تھی مگر وہ مجنوں سا دیوانہ سا لڑکا ابھیبھی اس پری کے سحر میں مبتلا تھا۔مگر جلد ہی اس پری کا سحر ٹوٹ گیا اور اس لڑکے کو اس پری کی وہ باتیں یاد آگیں جن کی وجہ سے وہ آج اس سے دور تھا۔۔*************************ناہید نیند میں ہی تھی جب اسے معیز کی آواز سنائی دی اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور اٹھ بیٹھی۔لاؤنج سے آوازیں آرہی تھیں یہ آوازیں معیز حنا فری اور سمینہ کی تھیں۔۔۔معیز معیز معیز۔۔۔ناہید کے دماغ میں بس معیز کے نام کی ہی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔تو وہ آہی گیا وہ میرے لئے آہی گیا۔ناہید نجانے کیوں خوش ہوتی ہوئی اٹھی اپنے گندے کپڑوں پر ایک نظر ڈال کر وارڈ روب سے نئے کپڑے نکال کر واش روم چلی گئی۔اس دن کے بعد معیز نے اپنا یہاں آنا جانا بند کر لیا تھا اور اس دن کو آج ڈیڑھ مہینہ ہو چکا تھا۔ناہید گیلے بالوں میں کنگی کر کے اور ہلکا سا پرفیوم کا چھڑکاؤ خود پر کرتی تیزی سے سیڑھیاں اترتی لاؤنج میں آگئی۔مگر یہ کیا معیز تو لاؤنج میں تھا ہی نہیں۔۔۔کیا معیز آیا تھا یا یہ اسکا وہم تھا جو اسے معیز کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔اس نے دل سے پوچھا مگر دل نے کہا یہ اسکا وہم نہیں تھامعیز واقعی میں آیا تھا مگر تم نے آنے میں دیر کر دی۔اور اس بات کی تصدیق حنا نے بھی کر دی۔اس لڑکے کو کہا تھا کہ ناشتہ کر کے جاؤ مگر ایسے ہی چلا گیااور یہ دیکھو اپنی گھڑی یہیں بھول گیا۔ارے ناہید تم آج اتنی جلدی اٹھ گئی ناشتہ لگاؤں تمہارے لئے۔فری نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔معیز فری سے ملنے آیا تھا اور وہ بھی صبح صبح کیوں کہ اس وقت ناہید سوئی ہوتی تھی۔ناہید سوچنے لگی شائد اسے معلوم پر گیا تھا کہ میں آرہی ہوں اس لئے میرے نیچے آنے سے پہلے ہی چلا گیا۔جو بھی تھا بہرحال ناہید کو برا لگا تھا۔نہیں فری میں ابھی ناشتہ نہیں کروں گی۔ناہید کچن کے باہر فریحہ کے پاس کھڑی تھی جبکہ حنا لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی تھیں اور ناہید کی طرف انکی پشت تھی وہ اسکی موجودگی سے لا علم تھیں اس لئے ناہید آف موڈ لئے ان سے ملے بغیر ہی واپس کمرے میں آگئی۔ویسے بھی انکار کے بعد سے وہ انکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اور حنا بھی اگر اس سے ملتیں تو ان کے ملنے میں وہ گرم جوشی نہیں ہوتی تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ناہید جو ڈیڑھ مہینے پہلے یہ اندازہ لگاۓ بیٹھی تھی کہ وہ چاہے کچھ بھی کر لے چاہے کچھ بھی کہہ لے معیز اس سے دور نہیں جا سکتا تھا مگر آج اس کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوچکا تھا کیوں کہ معیز اس سے دور جا چکا تھا۔۔************************جیسا کہ بتایا تھا کہ بدلتے موسم ریان کی طبعیت پر برے اثرات چھوڑتے تھے بدلہ موسم اپنا کام کر چکا تھا۔ریان کی شدید طبعیت خراب ہو چکی تھی اور زکام کی وجہ سے چھینک چھینک کر اسکا برا حال ہو رہا تھا اور چھینکنے کی وجہ سے سر درد۔۔۔اور بخار الگ سے۔۔۔۔بیڈ پر کمبل لئے لیٹا وہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ فریحہ کو فونکر کے بلا لے اور اسکی موجودگی سے اسے ذرا راحت ہو۔مگر اسکو گئے ابھی دو دن ہوئے تھے اسے کل واپس آنا تھااور وہ چاہتا تھا کہ وہ آرام سے رہے۔ریان نے تو یہ کام نا کیا مگر یشل نے اس کے اور شمسہ کے منع کرنے کی باوجود بھی فریحہ کو فون کر کے ریان کی طبعیت خرابی کی اطلاع دے دی۔شمسہ نے تو اسے سر پر ایک تھپڑ رسید کیا جبکہ ریان دل ہی دلمیں مسکرایا۔فریحہ ریان کی ناساز طبعیت کا سن کر معیز کو کال کر کے اسکے ساتھ گھر واپس آگئی۔معیز اسے چھوڑ کر واپس آفس چلا گیا۔

Monday, November 19, 2018

راہ محبت قسط 9

http://novelskhazana.blogspot.com/


*راہ محبت****ایشاءگل****قسط 9**اسلام و علیکم خالہ جان۔۔۔ناہید نے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی باآواز بلند سلام کیا۔پہلے حنا اور پھر روحیل سے ملنے کے بعد وہ دوبارہ حنا کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ناہید بیٹے کہاں گم رہتی ہو ایسا لگتا ہے جیسے تم اپنی خالہ کو بھول ہی گئی ہو۔حنا نے پیار بھرا شکوہ کیا۔نہیں خالہ ایسی بات نہیں ہے بس ویسے ہی گھر سے نکلنے کودل نہیں چاہتا اب۔ارے محترمہ یہ آپ کہہ رہی ہیں جو پہلے گھر ٹک کے نہیں بیٹھ سکتی تھیں اور اب گھر سے نکلتے انہیں ڈر لگتا ہے۔بیرونی دروازے سے معیز نے اندر آتے ہوئے کہا۔)معیز بھلا ناہید سے اتنے دن ناراض رہ سکتا تھا کیا(تمہارے ہوتے میں کیسے بھول سکتی ہوں کہ میری ایک خالہ بھی ہیں۔سب کی موجودگی میں ناہید نے اسے جواب دینا بلکہ تمیز سے جواب دینا ضروری سمجھا۔"کیسی ہو"معیز نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بہت پیار سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ناہید چاہے کچھ بھی کر لیتی چاہے کچھ بھی کہہ لیتی معیزاس سے دور نہیں ہو سکتا تھا اس بات کا ناہید کو آج اندازہ ہوگیا تھا۔ایک پل کے لئے اسکا دل چاہا کہ وہ معیز سے اپنے اس دن کے رویے کی معافی مانگ لے۔۔۔مگر پھر ساتھ ہی اسکا غصہ واپس آگیا اور وہ جواب دینے کی بجاۓ اس سے منہ پھیر گئی۔حنا اور روحیل اس کی طرف متوجہ نہیں تھے۔کیا اب تک منہ بنا کر بیٹھی ہو اس بات پے۔۔۔یار اب بس بھی کر دو یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں جو تم اتنا دل پے لے رہی ہو۔معیز نے اسے منانا چاہا۔تمہارے لئے چھوٹی بات ہوگی مگر میرے لئے نہیں ہے۔ناہید نے شکوہ کیا۔اچھا چلو یہ ہی بتا دو کہ مزید کتنے دن ناراض رہنے کا ارادہ ہے۔معیز نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا۔دنوں کی ناراضگی کی بات کر رہے ہو تم میں تو تمہاری ساری زندگی شکل نا دیکھوں۔)منحوس مارا ( ناہید نے دانت پیستے ہوئے کہا تو معیز ایک دم ہنس پڑا جس پر ناہید کو مزید غصہ آگیا۔منہ بند رکھو اپنا ورنہ۔۔۔۔)منہ توڑ دوں گی تمہارا(۔۔۔ورنہ کیا۔۔۔؟؟معیز نے پوچھا۔اس سے پہلے کہ ناہید ورنہ سے آگے بڑھتی سمینہ بول پڑیں۔ناہید کھانا لگاؤ بیٹا سب ساتھ ہی کھاتے ہیں۔ناہید ایک غضیلی نگاہ معیز پر ڈال کر اٹھ کھڑی ہوئی۔سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔کچھ دیر بعد جب سب چلے گئے تو وہ کچن میں آگئی۔برتن سمینہ دھو چکی تھیں وہ دھلے ہوئے برتن واپس انکی جگہ پر سیٹ کرنے لگی۔حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ اب ناہید کی کاموں سے جان نہیں جاتی تھی بلکہ وہ خود کو زیادہ سے زیادہ کاموں میں الجھائے رکھتی تھی تا کہ ریان کے مسلسل خیالوں کو اپنے ذہن سے جھٹک سکے۔۔*************************فریحہ کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔بخار بخار سا لگ رہا تھا مگر وہ خود کو ہی نظر انداز کرتی روز کے کاموں میں الجھی رہی۔رات کو آفس کا کام کرتے ریان کو کافی دیر ہوگئی بارہ بج چکے تھے اس نے لیپ ٹاپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور لیمپ بند کرتا لیٹ گیا۔فریحہ بار بار کروٹ بدل رہی تھی۔نیند نجانے کیوں آج اسے آنے کو ہی نہیں دے رہی تھی شائد سرمیں درد کی وجہ سے۔فریحہ نے ریان کی طرف کروٹ لی تو اسکا ہاتھ ریان کے بازو پر ٹھہر گیا۔فریحہ اس بات سے بے خبر دوسرے ہاتھ سے آنکھیں بند کئے اپنا سر دبا رہی تھی۔ریان جو بازو آنکھوں پر رکھے لیٹا ہوا تھا فریحہ کا گرم ہاتھ اپنے بازو پے محسوس کرتا چونک کر اٹھ بیٹھا۔ہاتھ بڑھا کر لیمپ آن کیا اور سر دباتی فریحہ کی طرف دیکھا۔ابھی تک اپنے بازو پر رکھا اسکا ہاتھ تھاما اور بولا۔تمہارا ہاتھ تو بہت گرم ہے کہیں بخار تو نہیں۔فریحہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا جو اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھا تھا۔ریان نے اسکے ماتھے کو چھوا تو اسکا شک یقین میں بدل گیا۔اسکو واقعی میں بخار تھا۔سر میں بھی درد ہے کیا۔۔۔؟؟نہیں ریان میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نا ہوں سو جائیں۔فریحہ نے اسکے چہرے پر اپنے لئے فکرمندی دیکھتے ہوئے کہا۔سو جاؤں گا میں پہلے یہ بتاؤ کہ سر میں بھی درد ہے۔۔۔فری نےہاں میں سر ہلا دیا۔ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔۔نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں بس ہلکا سا درد ہے صبح چلیں گے ڈاکٹر کے پاس۔۔۔فریحہ نے ریان کو مزید بولنے سے پہلے ہی روک دیا۔وہ جانتی تھی ریان خود بھی بہت تھکا ہوا ہے نیند سے اسکی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اور وہ رات کے اس وقت اسے کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔ریان نے سر ہلا دیا مگر سر درد کی ٹیبلٹ اسے تھماتے ہوئے بولا اس سے آرام آجاۓ گا کھا لو ورنہ درد سے ساری رات جاگنا پرے گا تمہیں بھی اور مجھے بھی۔فریحہ جو ٹیبلٹ لئے پانی گلاس میں انڈیل رہی تھی ریان کے آخری جملے )مجھے بھی ( پر پانی گلاس کی بجاۓ ٹیبل پر گرا بیٹھی۔وہ ہی نہیں بلکہ ریان خود بھی اپنے آخری جملے پر حیران رہ گیا تھا۔کیا واقعی میں فریحہ کو تکلیف میں دیکھ کر وہ سو نہیں پائے گا۔فریحہ نے ٹیبلٹ لی اور چپ چاپ لیٹ گئی۔بیس منٹ گزرنے کے بعد وہ بولی۔ریان لیمپ آف کر دیں مجھے نیند آرہی ہے۔) نیند سے مراد اب اسکا سر درد قدرے کم ہو چکا تھا اور اب وہ سو سکتا ہے (کچھ فرق پڑا۔ریان نے لیمپ بند کرنے سے پہلے تصدیق کرنا ضروری جانا۔جی اب ٹھیک ہے۔فریحہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو ریان نے لیمپ آف کر دیا اور اسی پوزیشن میں آنکھوں پر بازو رکھے لیٹ گیا۔۔"**********************تمہیں پتا ہے آج تمہاری خالہ کیوں آئی تھیں۔سمینہ نے برتن سیٹ کرتی ناہید کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔مجھ سے ملنے آئی تھیں آپ نے خود ہی تو بتایا تھا۔ناہید نے لا پروائی سے جواب دیتے ہوئے کہا۔ہاں اس لئے بھی آئی تھیں مگر اصل بات کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ وہ معیز کے لئے تمہارا ہاتھ مانگنے آئی تھیں۔)وہ یہ نا کہہ سکیں کہ وہ دوبارہ اور باقاعدہ رشتہ لے کر آئی تھیں کیوں کہ وہ اس بات سے لا علم تھیں کہ ناہید کو معلوم ہو چکا ہے اپنی اور معیز کی بچپن کی نسبت کا ("کیا"ناہید کے ہاتھ سے کانچ کی پلیٹ چھوٹ کر زمین پر جا گری۔ارے دھیان سے ناہید ایک تو تمہارے ہاتھوں سے چیزیں بہت ٹوٹتی ہیں۔)امی آپ کو چیزوں کے ٹوٹنے کی فکر ہے میرے دل کی نہیں جو ٹوٹ چکا ہے۔ (امی میں کوئی کھلونا ہوں کیا کہ جو کوئی مانگنے آئے گا تو آپ اسے تھما دیں گیں۔)ناہید کو لگا تھا کہ اس دن اس کی اتنی باتوں کی وجہ سے معیز کو اس کی ناپسندیدگی کا علم ہو چکا ہوگا اور اس نے ناہید کی طرف سے انکار سمجھ کر خالہ خالو سے بات کر لی ہوگی مگر۔۔۔(ناہید یہ کیسی بات کر رہی ہو تم۔ارے سب کا رشتہ ایسے ہی تو مانگا جاتا ہے۔امی جو بھی ہے مجھے معیز سے شادی نہیں کرنی۔کیا مطلب ہے نہیں کرنی کیا برائی ہے معیز سے اتنا اچھا تو ہے بچپن سے جانتے ہیں ہم اسکو۔سمینہ کو تو تاؤ ہی آگیا۔میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی برائی ہے مگر امی مجھے معیز سے تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنی۔ناہید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے پڑےبرتن اٹھا کر زمین پر پٹک دے۔کیوں نہیں کرنی کیا ساری عمر اسی گھر میں رہنا ہے۔آخر کوئی وجہ تو بتاؤ۔کوئی وجہ نہیں ہے امی۔۔۔جب کوئی وجہ ہی نہیں ہے تو پھر کیوں بے وجہ انکار کر رہی ہو۔سمینہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ وہ کیوں انکار کئے جا رہی ہے۔امی ابھی تو فری کی شادی ہوئی ہے مشکل سے سات مہینے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اب آپ کو میری شادی کی فکر لگ گئی امی میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی۔ناہید نے اپنی طرف سے ایک فضول بے تکا سا بہانہ بنایا۔ارے پاگل ہم کونسا ابھی تمہاری شادی کر رہے ہیں ابھی تو صرف منگنی ہی کریں گے اور ویسے بھی شادی کر کے کونسا تم دور جاؤ گی ساتھ والے گھر ہی تو جانا ہے۔سمینہ کی اس بات پر ناہید اور بھی چڑ گئی اور بولی۔بس امی میں نے کہہ دیا ناں کہ مجھے شادی نہیں کرنی تو مطلب نہیں کرنی پلیز آپ مجھے فورس مت کریں۔یاد ہے جب فریحہ سے میں نے اسکی شادی کی بات کی تو اس نے کیسے چپ چاپ ہمارے فیصلے پر سر جھکا دیا اور ایک تم ہوماں باپ کی خوشیوں کا کوئی احساس ہی نہیں۔) کاش امی اس نے سر نا جھکایا ہوتا کاش وہ آپ کے فیصلے سے خوش نا ہوتی (امی یہ میری ساری زندگی کا معاملہ ہے اور اسکا فیصلہ آپ لوگ میری مرضی کے بغیر نہیں کر سکتے آخر میری خواہش کی بھی تو کوئی ویلیو ہونی چاہیے۔)امی اب آپ کو کیسے بتاؤں کہ میں ریان کو ابھی تک اس رشتے کی حثیت سے قبول نہیں کر پائی (کیا ہے تمہاری خواہش ساری زندگی شادی نا کرنے کی سمینہ اپناسر پکڑتے ہوئے غصے سے بولیں۔۔۔"ہاں"ناہید ایک حرفی جواب دیتی سیڑھیاں چڑھ گئی۔۔۔اور اب یقیناً دو تین دن سے پہلے وہ کسی کو اپنی شکل دکھانےنہیں والی تھی۔۔******************************بھائی آپ آگئے ماما آپ کو بلا رہی ہیں۔یشل نے کمرے کے دروازے سے جھانکتے ہوئے ریان کو شمسہ کا پیغام دیا اور وہیں سے واپس مڑ گئی۔ریان جو ابھی آفس سے آیا تھا اور فریش ہونے کا ارادہ رکھتا تھا اپنا یہ ارادہ ترک کرتے ہوئے شمسہ کے کمرے میں آگیا اور ان کے پاس بیٹھتے اور انکا ہاتھ چومتے ہوئے بولا۔جی ماما آپ نے مجھے یاد فرمایا۔ہاں تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔جی کہیے۔دیکھو بیٹا تم اس شادی سے خوش نہیں تھے یہ ہم سب جانتے ہیں مگر ابھی تک تم نا خوش ہو یہ دیکھ کر ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے۔آخر کیا ایسی کمی ہے فریحہ میں کہ تم ابھی تک ناہید کو بھول نہیں پائے۔کتنے کم وقت میں ہی اس نے سب کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی اور اب تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ شروع سے ہی اس گھر کا فرد تھی۔۔۔۔۔پھر آخر کیا وجہ ہے جو ابھی تک وہ صرف تمہارے ہی دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت اسی کی ہی تھی۔یہ بات تو تم جانتے ہی ہوگے کہ جب تک کوئی چیز پاس ہوتی ہے اسکی قدر نہیں ہوتی اور جیسے ہی وہ چیز ہم سے دور ہو جاتی ہے ہم اسکو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔اور میں نہیں چاہتی کہ ایسی کوئی بھی کوشش تم کرو کیوں کہ میں نہیں چاہتی کہ فریحہ تم سے کبھی دور ہو۔لیکن میری ایک بات ضرور سن لو تم ابھی تو تم اسے خود سےدور رکھتے ہو نا جس دن اس نے خود کو تم سے دور کر لیا ناں تو تم بہت پچھتاؤ گے۔کیوں کہ ایسا تو بلکل نہیں ہے کہ اتنے اچھے انسان کے دور چلے جانے سے تم خوش اور مطمئن ہو جاؤ سکون میں آجاؤ۔بیٹا میرے نزدیک تو میری بہو ایک ہیرا ہے میں اس ہیرے کی قدر کرتی ہوں بہتر ہے کہ تم بھی کرو۔سارے دن سے لے کر رات تک وہ بس کاموں نہیں ہی الجھی رہتی ہیں میں لاکھ منع کر لوں مگر وہ بہت پیار سے میرا ہاتھ چوم کر کہتی ہے کہ آپ نے اس گھر کی ذمہ داری اب مجھے سونپی ہے اور اس ذمہ داری میں میں کوئی بھی کوتاہی نہیں کروں گی کام کرنا مجھے اچھا لگتا ہے اس لئے آپ میری فکر مت کرا کریں۔تمہارا ہر کام وہ کتنی محبت اور فکر مندی سے کرتی ہے کیا یہ دیکھ کر بھی تمہیں خوشی نہیں ہوتی۔اور ایک بات بتاؤ مجھے کہ تم شادی کر کے بیوی لائے ہو یا ملازمہ۔بیٹا اسے کاموں کی ہی نہیں بلکہ محبت کی بھی ضرورت ہے۔ہماری طرف سے محبت تو اسے ملتی ہے مگر جس کی محبت کی اسے اشد ضرورت ہے وہ تو اسے بھلائے بیٹھا ہے۔وہ اپنے منہ سے تو کچھ نہیں کہتی اور نا ہی شائد کبھی کہےگی مگر تمہیں خود احساس ہونا چاہیے اس کے احساسات کا۔جس لڑکی کو ابھی تک تم اپنے دل میں بسائے بیٹھے ہو وہ تمہیں اب نہیں ملے گی یہ تم اچھی طرح جانتے ہو تو پھر کیوں اپنی شادی شدہ زندگی تو اتنا بے مزہ بے کار بنا کر بیٹھے ہو۔کیا یہ خیال تمہارے ذہن میں کبھی نہیں آیا کہ اگر فریحہ کو پتا چلے گا کہ تم کسی لڑکی کو پسند کرتے ہو تو کیا ہوگا۔۔۔۔یقیناً وہ اس بات پر بھی سمجھوتہ کر لے گی لیکن جب اسے یہ پتا چلے گا کہ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ اسکی اپنی ہی بہن ہے تو۔۔۔۔۔تب اسکے دل پر کیا گزرے گی یہ سوچا ہے تم نے۔۔۔۔۔شمسہ کی اس بات پر سر اٹھا کر ریان نے ان کی طرف دیکھا۔واقعی میں اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا۔۔۔۔اس نے انجانے میں فریحہ کو بہت دکھ دیے مگر وہ اتنا بڑا دکھ اسے نہیں دینا چاہتا تھا۔وہ ٹوٹ جاتی اور وہ ایسا بلکل نہیں چاہتا تھا۔اگر نہیں سوچا بیٹا اس بارے میں تو سوچو میں ایک ساس ہو کر اس کی آنکھوں میں پھیلی ویرانی دیکھ کر بہت دکھی ہوتی ہوں تو تم تو پھر بھی اس کے شوہر ہو اور کتنے ظالم ہو جو اس کی آنکھوں کی ویرانی کی وجہ تم ہو۔۔۔۔میرے پاس کرنے کو تو اور بہت سی باتیں ہیں مگر میرا خیال ہے کہ اگر تمہیں سمجھنا ہوا تو تم میری ایک ہی بات سے سمجھ جاؤ گے اور اگر تم نے ساری زندگی نا سمجھی کا ہی سوچ کر رکھا ہے تو میرے ہزاروں الفاظ بھی تم پے بیکار ہیں۔۔۔شمسہ تھکے لہجے میں بولیں۔ریان نے ایک نظر اپنی ماں کے چہرے کی طرف دیکھا جنہوں نے اتنی محبت خوشی اور چاؤ سے اسکی شادی کی تھی بدلے میں اس نے شادی کے بعد انہیں ایک بھی خوشی نا دی۔یہاں سے اٹھنے سے پہلے وہ یہ تو مان چکا تھا کہ اسکی ماں کی کہی باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی غلط نہیں تھی ہر ایک بات میں سچائی تھی۔خاص طور پر وہ بات کہ اگر وہ سمجھنا چاہے تو انکی ایک باتہی کافی ہے اور اگر نا سمجھنا چاہے تو ان کے ہزاروں الفاظ بھی بیکار ہیں۔مگر اب وہ سمجھنے لگا تھا اتنا سچ سننے کے بعد نا سمجھی کا )اس کے نزدیک (سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔*****************************تو تم نے اس رشتے سے انکار کر دیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آخر کیوں۔۔۔۔معیز ایک ہی جھٹکے سے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور چبا چبا کر بولا۔ناہید جو بیڈ شیٹ درست کر رہی تھی اسکی اس بات کو انگور کرتے ہوئے اپنے کام میں ہی لگی رہی۔میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ناہید صاحبہ۔معیز نے کوئی جواب نا پا کر اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے اپنے قریب کیا۔ناہید کے بازو میں درد کی لہر سی اٹھی۔اس نے معیز کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹانے کی کوشش کی مگر اس کی گرفت مظبوط تھی۔مجھے جواب دو ناہید۔معیز نے اس کو آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔ناہید نے چہرہ دوسری طرف کر لیا اور بولی میں تمہارے کسی بھی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔تو بنا لو ناں خود کو پابند کبھی اپنے سوا کسی دوسرے کا بھی احساس کر لیا کرو۔معیز نے اس پر طنز کیا جو سیدھا تیر کی طرح ناہید کے دل میںچبھا۔وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا اسے کہاں کسی کا خیال تھا نافریحہ کا جس کے شوہر کو ابھی تک وہ اپنے دل میں بسائے بیٹھی تھی نا اپنے ماں باپ کا جن کے بچپن سے طے کئے گئے رشتے کو وہ ایک ہی جھٹکے میں توڑ چکی تھی اور نا ہی معیز کا جو اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔اف میں تم کو کیسے بتاؤں معیز کہ میں کیوں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکون گی معیز تمہیں مجھ سے صرف دکھ ہی ملے گا۔ناہید میں یہاں تمہاری خاموشی سننے نہیں آیا وہ وجہ جاننے آیا ہوں جس کی بنا پر تم نے اتنی بے رحمی سے میرا توڑ دیا۔ناہید کو معیز کی اس پر بہت دکھ ہوا مگر پھر اس نے جان بوجھ کر پورا زور لگاتے ہوئے معیز کو خود سے پرے کیا اور خود بیڈ کی دوسری طرف جا کھڑی ہوئی۔میرے پاس تمہارے کسی بھی سوال کا جواب نہیں ہے یہ میں تمہیں پہلے ہی بتا چکی ہوں۔اچھا تو پھر میرے اس سوال کا جواب تو ضرور ہی ہوگا تمہارے پاس۔معیز نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔ناہید نے مڑ کر سوالیہ نظروں سے معیز کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کس سوال کا ؟؟؟تم کسی اور کو پسند کرتی ہو ناں ناہید۔۔۔معیز نے اس کے چہرے کی طرف کھوجتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔وہ چہرہ جس کا رنگ اس سوال پر اڑ چکا تھا۔ہاں ہے جواب۔۔۔ناہید نے فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔۔اور وہ جواب ہے "نہیں"۔۔۔۔نجانے کیوں ناہید کا یہ جواب سن کر معیز کے چہرے پر سکون آٹھہرا۔تو پھر کیوں تم انکار کر رہی ہو ناہید پلیز بتاؤ ناں۔معیز نے ناہید کے پاس آکر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بے حد نرمی سے پوچھا۔ناہید دل ہی دل میں آنسو بہاتی رہی۔معیز پلیز جاؤ یہاں سے میں انکار کر چکی ہوں اور میرا انکار انکار ہی رہے گا اب بس اس سے آگے اور کوئی بات نہیں ہوگی۔ناہید کی آنکھیں بہنے کو بے تاب تھیں اور وہ یہ کام معیز کے سامنے نہیں کرنا چاہتی اس لئے ذرا غصے سے بولی۔تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔معیز بھی واپس اسی موڈ میں آگیا۔"ہاں"ناہید نے مختصر مگر دو ٹوک جواب دیا۔معیز نے اس کے ہاتھ کو زور سے جھٹکا جو وہ تھامے کھڑا تھا اور زور سے کمرے کا دروازہ بند کر کے چلا گیا۔اتنی زور سے کہ ناہید ایک دم کانپ سی گئی۔۔۔۔۔******************معیز چلا گیا مگر ناہید کے لئے ایک آسانی کر گیا کہ وہ جی بھر کر اب روتی رہے۔باہر بارش برس رہی تھی اور اندر بھی بارش برس رہی تھی۔بارش باہر تو آج آئی تھی مگر اندر کی بارش روز ہوا کرتی تھی۔ناہید کھڑکی کے پاس کھڑی برستی بارش کو دیکھنے لگیاور ساتھ ہی بے آواز آنسو بہاتی رہی۔کچھ دیر بعد وہ ٹیرس پر آئی۔معیز کے کمرے کی لائٹ آف تھیکھڑکی بھی بند تھی۔معیز اسے روز اپنی کھڑکی سے دیکھا کرتا تھا روز ٹیرس پر آکر اسے تکتا تھا اور وہ یہ بات جانتی تھی۔آج معیز کا میسج نہیں آیا تھا اور وہ جانتی تھی کہ نا ہی کل پرسو پھر کبھی آئے گا۔۔**********************ارے واہ بارش۔۔۔فریحہ خوش ہوتی ہوئی ٹیرس پر چلی آئی اور بازو پھیلا کر بارش کے قطرے اپنے ہاتھوں پر محسوس کرنے لگی۔کتنی ہی دیر وہاں کھڑی رہی۔اس بات سے انجان کہ کوئی کب سے اس بند آنکھوں سے مسکراتی ہوئی لڑکی کو خود بھی مسکرا کر دیکھ رہا ہے۔وہ چلتا ہوا اس کے قریب آگیا اور اس کے پھیلائے ہوئے دونوں ہاتھوں کے نیچے اپنے ہاتھ رکھ دیے۔فریحہ نے ایک دم آنکھیں کھولیں اور سر گھما کر اپنے پیچھے کھرے انسان کو دیکھا۔اسے ایسا لگا کہ وہ حیرت کے سمندر میں ہی ڈوب گئی ہو۔ریان اس کے اتنی قریب تھا اپنے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ لئے ہوئے تھا اور مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ریان اس کی مسکراہٹ دور کرنے کی خاطر بولا۔تمہیں بارش پسند ہے کیا۔۔۔۔اور پھر اس کا جواب جانے بغیر پھر بول پڑا مجھے بہت پسند ہے۔جب بھی بارش آتی ہے میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ایسے ہی بازو پھیلائے بارش کے قطروں کو اپنی ہتھیلیوں پر محسوس کروں۔ایک سکون سا دل میں اتر جاتا ہے۔تم کہتی ہو کہ میری اور ناہید کی پسند بہت ملتی ہے مگر تم غلط ہو فری پسند اسکی اور میری نہیں بلکہ تمہاری اور میری ملتی ہے۔جیسے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر پانی پینے کی عادت) ساری رات ہی یہی کام (بلکل اندھیرا کر کے سونے کی عادت)ذرا بھی اندھیرا ہو تو نیند نہیں آتی (بدلتے موسم سے ڈرنے کی عادت) طبعیت ناساز ہو جاتی تھی (۔۔۔۔فضول بحث کرنے کی بجاۓ چپ کر جانے کی عادت) بحث سے سخت چڑ(۔۔۔۔بار بار ٹی وی چینل بدل کر ایک ہی پر ٹک جانے کی عادت۔۔۔۔ناشتے میں ڈیلی بوئل ایگ کھانے کی عادت۔۔۔۔کولڈ ڈرنک سے خار کھانے کی عادت۔۔۔۔ہر شام بلا ناغہ چاۓ پینے ) جس کے بغیر دونوں کا گزارا نہیں ( کی عادت۔۔۔ہر بات پے کیڑے نکالنے والے لوگوں سے دور رہنے کی عادت۔۔۔۔بری بات پے فوراً ٹوک دینے کی عادت۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے ریان اور بھی عادتیں گنواتا فریحہ مسکراتے ہوئے بول پری۔ریان مجھے نہیں پتا تھا کہ آج اتنا غور کرتے ہیں ہماری عادتوں پر۔پہلے تو واقعی میں کبھی غور نہیں کیا تھا مگر اب چند دنوں سے عادت پری عادتیں نوٹ کرنے کی۔ریان نے بھی مسکرا کر جواب دیا اور ٹیک لگا کر گرل کے ساتھکھڑا ہوگیا۔فریحہ حیران تھی کہ آج ریان خود سے اس کے ساتھ اتنی باتیں کر رہا ہے اور وہ بھی خوشگوار موڈ میں۔)یا شائد بارش کا اثر تھا جو اس پر خوشگوار اثرات چھوڑ رہی تھی ( فریحہ کو لگا کہ جیسے ریان کو دی مہلت پوری ہونے لگی ہے اسکو دیا وقت ختم ہو رہا ہے۔دوسری طرف ریان کو بھی ایسا ہی لگ رہا تھا۔فریحہ ریان کے چہرے پر کچھ تلاش کر رہی تھی شائد اپنے لئے پسندیدگی کہ ریان نے ایک دم سے چھینک ماری۔۔ایک دو اور پھر تین۔۔۔موسم واقعی میں اپنے اثرات چھوڑ رہا تھا مگر اب کے اثرات کچھخوشگوار نہیں تھے۔شائد بیماری )بخار زکام سر درد ( کی آمد آمد تھی۔۔***************************Next on Wed....

Friday, November 16, 2018

راہ محبت قسط8

http://novelskhazana.blogspot.com/


**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 8**ناہید کیا تم اس بات سے واقف ہو کہ۔۔۔۔کہ تم بچپن سے معیز سے منصوب ہو۔۔۔"وہاٹ"یہ کیا کہہ رہی ہو تم۔۔۔۔یہ تم سے کس نے کہا۔۔۔تو کیا تم اس بات سے واقف نہیں۔۔۔یشل نے تسلی کرنی چاہی۔ میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں یہ بکواس تم سے کس نے کی۔یہ بکواس نہیں ہے ناہید۔۔۔اچھا رکو ریلیکس۔۔۔۔میں تمہیں شروع سے سب بتاتی ہوں۔۔۔دیکھو ناہید میرے پیرنٹس نے جان بوجھ کر فری آپی کا رشتہ نہیں مانگا ہاں یہ سچ ہے کہ وہ انھیں پہلے ہی نظر میں بہت پسند آئی تھیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ تمہاری معیز سے نسبت طے ہے یہ جاننے کے بعد ہی انہوں نے فری آپی کا ہاتھ بھائی کے لئے مانگا۔ماما پاپا نے پہلے آپ دونوں کی شادیوں کا ذکر چھیڑا تو آنٹی نے بتایا کہ فری آپی کے لئے تو وہ آج کل رشتے دیکھ رہے ہیں مگر تمہاری طرف سے وہ بے فکر ہیں کہ تمہاری خالہ نے پہلے سے ہی انھیں اپنے معیز کے لئے تمہارا کہہ رکھا ہے۔پھر فری آپی نے بتایا کہ خالہ نے تو بچپن سے ہی تمہیں معیزکے لئے پسند کر لیا تھا اور یہ کہ معیز تمہیں بہت چاہتا ہےمگر تم سے اس بارے میں ذکر کرنے کا اس نے سب کو منع کر دیا۔یہ جاننے کے بعد ماما پاپا نے ایسا کیا جب بھائی کو معلوم ہوا کہ وہ انکا رشتہ تمہاری بجاۓ فری آپی کے لئے مانگ آئے ہیں بلکہ باقاعدہ سب طے کر آئے ہیں تو انہوں نے ماما پاپا سے بہت بحث کی باقاعدہ ضد کی اتنا سمجھانے پر بھی بھائی جب نا سمجھے تو پاپا نے انھیں تمہارے اور معیز کے رشتے کا بتا دیا۔بھائی تو چپ کے چپ ہی رہ گئے۔اب اور بولتے بھی تو کیا۔۔۔۔۔میں تمہیں یہ سب اس لئے بتا رہی ہوں کہ تمہیں اگر میرے ماما پاپا اور بھائی پر کوئی غصہ ہے تو وہ ختم کر دو کیوں کہ اس میں انکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔ناہید تم سن رہی ہو ناں۔یشل نے اس کا بازو ہلاتے ہوئے پوچھا۔مگر ناہید تو جیسے وہاں تھی ہی نہیں۔یشل کے اب مزید اور کچھ بولنے کا فائدہ نا تھا وہ خاموشی سے اس کے پاس سے اٹھی اور باہر نکل گئی۔۔********************ارے کیسے ہیں آپ۔۔۔لاؤنج سے گزرتے معیز پر یشل کی نظر پری تو وہ پوچھے بغیر نا رہ سکی۔)اف یہ پرفیوم کی خوشبو یہ بندہ آخر کون سی خوشبو لگاتا تھا ( معیز نے ایک دم رک کر اسے دیکھا اور پھر پہچاننے کی کوشش کی۔ارے آپ ناہید کی دوست ہیں نا اور فری آپی کی نند صاحبہ۔جی میں وہی ہوں۔اوہ سہی۔۔۔معیز نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور آگے بڑھنے لگا جب وہ دوبارہ بولی۔ویسے میں نے آپ سے آپکا حال پوچھا ہے۔۔۔معیز پلٹا اسکی طرف دیکھا اور بولا بندے کا حال بلکل ٹھیک ہے آپ کیسی ہیں۔اب جواباً اس کا حال پوچھنا تو معیز کا فرض بنتا تھا ناں۔میں بھی بلکل ٹھیک۔۔۔) آپ کو دیکھ کر تو اور بھی ٹھیک ( اب اگر آپ نے میرا حال پوچھ لیا ہو تو میں اپنی ڈیر کزن ) خونخوار ڈائن( کا حال پوچھنے چلا جاؤں۔کتنی محبت سے بولتا تھا نا وہ ڈیر کزن مگر یشل کو نجانے کیوں اسکا اتنے پیار سے یہ بولنا برا لگا۔وہ دھیرے سے سر ہلا گئی تو معیز سیڑھیاں چڑھ گیا۔ویسے یشل چاہتی تھی کہ اس وقت ناہید کا حال نا ہی پوچھا جاۓ تو بہتر ہے۔کیوں کہ اسکا حال اسے دکھ دے رہا تھا۔۔**********************ڈیر کزززز۔۔۔۔۔معیز جو اپنی ہی جون میں چلتا اس کے کمرے میں آیا تھا ناہید کیآنسوؤں سے تر ہوتی صورت دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔ناہید تم رو رہی ہو۔۔۔معیز اس کے پاس چلا آیا۔ناہید نے مگر سر اٹھا کر اسے دیکھا تک نہیں۔ناہید اس طرح کیوں رو رہی ہو ادھر دیکھو میری طرف۔معیز نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنی طرف کیا مگر ناہید تو جیسے کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی اور اس کے دونوں ہاتھ زور سے جھٹکتے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے بے دردی سے پرے دھکا دیا اور چلائی۔چلے جاؤ تم یہاں سے دور ہو جاؤ میری نظروں سے نہیں کرنی مجھے تم سے کوئی بات دھوکہ دیا ہے تم نے مجھے بلکہ شروع سے ہی دیتے آئے ہو۔معیز جو اس کے اتنی زور سے دھکا دینے پر گرتے گرتے بچا تھا اسکے ان الفاظ پر کہ "دھوکہ دیا ہے تم نے مجھے" دھنگ رہ گیا۔یہ تم کیا کہ رہی ہو ناہید کون سا دھوکہ دیا ہے میں نے تمہیںمیں تو تمہیں دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔مگر تم نے سوچا۔۔۔۔تم نے سوچا کہ تم مجھے کبھی یہ نہیںبتاؤ گے کہ تم میرے منگیتر ہو تم بچپن سے یہ بات جانتے ہو اور مجھے چاہتے ہو تم کبھی نہیں بتاؤ گے آخر کیوں۔ناہید چیخ رہی تھی۔۔۔تمہیں یہ کس نے بتایا ناہید۔۔۔معیز حیران ہوا۔۔مجھے جس نے بھی بتایا ہے تمہیں اس سے کیا ۔۔۔ہاں تمہیں کیا اس سے۔۔۔۔بولو کیوں نہیں بتایا۔۔۔بولتے کیوں نہیں۔ناہید نے اس کے کالر کو جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا۔معیز نے دھیرے سی اس کے ہاتھ اپنے کالر سے ہٹائے اور بولا۔اسی لئے نہیں بتانا چاہتا تھا تمہیں۔۔جانتا تھا تم یہ جان کر ایسے ہی ری ایکٹ کرو گی۔یقین کرو ناہید مجھے بھی یہ بات بچپن سے معلوم نہیں تھی مجھے تو یہ تب معلوم ہوا جب میں پندرہ سال کا تھا۔ماما نے تمہیں یہ بات بتانے سے منع کر دیا کہ تم ابھی چھوٹی ہو اس بات سے دور ہی رہو تو اچھا ہے۔جب تم بڑی ہوئی تو ماما نے اس بات کا باقاعدہ اعلان کرنے کا فیصلہ کیا مگر میں نے انھیں یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ میں تمہیں سرپرائز دوں گا میں تمہیں خود بتاؤں گا۔اور میں جانتا تھا کہ یہ جان کر تمہیں جھٹکا ضرور لگے گا مگر تم اس طرح کا ری ایکٹ کرو گی یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔مجھے اس بارے میں بچپن سے نہیں پتا تھا مگر ہاں میں یہ ضرور مانتا ہوں کہ میں تم سے محبت بچپن سے ہی کرتا آیا ہوں اور تاعمر کرتا رہوں گا ناہید۔۔۔پلیز تم اس طرح مت رو ناہید تمہارا رونا مجھے کتنی تکلیف دینا ہے یہ بات۔۔۔۔پلیز معیز اب اور کچھ مت کہنا۔۔۔اگر تمہیں میری ذرا سی بھی پرواہ ہے تو پلیز چلے جاؤ یہاں سے مجھے تم سے اب نا کچھ کہنا ہے اور کچھ سننا ہے۔ناہید نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔مگر میں تمہیں اس حال میں روتا ہوا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔معیز کو اس کے اس طرح رونے سے دکھ رو رہا تھا۔مت کرو میرے حال کی پرواہ چھوڑ دو مجھے میرے اسی حال پر مر نہیں جاؤں گی میں اگر تم چلے جاؤ گے تو۔۔ناہید چلاتی ہوئی واش روم میں گھس گئی اور دروازہ زور سے بندکیا۔معیز کتنی ہی دیر اس کے باہر آنے کا انتظار کرتا رہا مگر وہ واش بیسن کے پاس کھڑی آنسو بہاتی رہی تو معیز نیچے چلا آیا۔معیز بیٹا کیا بات ہے یہ ناہید اتنی زور زور سے کیوں چلا رہی تھی۔خالہ اسکا پتا تو ہے آپ کو غلطی سے اسکا پرفیوم مجھ سے ٹوٹ گیا بس اسی کا غصہ نکال رہی تھی۔معیز نے بر وقت بہانہ بنایا۔پتا نہیں کیا بنے گا اس لڑکی کا ذرا ذرا سی بات پر غصہ کرنے لگ جاتی ہے۔خیر تم یہ بتاؤ کہ کھانا کھاؤ گے۔سمینہ نے کچن کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا۔نہیں خالہ کھانا تو میں کھا کر آیا تھا۔معیز نے دوسرا جھوٹ بولا۔اب کیا بتاتا کہ بھوک تو اس کی اڑ چکی تھی ناہید کی باتیںسن کر۔۔****************************کام کا دباؤ ذرا کم ہوا تھا اس لئے ریان آج آفس جلدی واپس آگیا اس ارادے کے ساتھ کہ کچھ آرام کر لے۔مگر لان میں سب کو بیٹھا دیکھ وہ کمرے میں جانے کی بجاۓ وہی کرسی لے کر بیٹھ گیا۔فریحہ شام کی چاۓ بنا لائی تو سب نے مل کر چاۓ پی۔گرمی کا زور ٹوٹ چکا تھا سردیوں کی آمد آمد تھی۔ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی تھیں۔بارش بھی آنکھ مچولی کھیلنے لگی۔کبھی اچانک سے آتی تو کبھی آتے ہی تھم جاتی۔ریان کو ہمیشہ سے اس موسم سے چڑ رہی تھی کیوں کہ بدلے موسم کی ہوائیں اس پر ہمیشہ سے برے تاثرات چھوڑ جاتی تھیں۔یعنی وہ ضرور بیمار پر جاتا تھا۔جبکہ ناہید کو ایسے موسم کا بے صبری سے انتظار رہتا تھا وہ سردیوں کا بڑی خوشدلی سے ویلکم کرتی تھی۔مگر اب اسے اس موسم سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیوں کہ اس کے دل کا موسم جو ایک ہی جگہ تھم سا گیا تھا۔۔۔ارے اب تم پھر سے کہاں چل دیے۔ریان کو اٹھتا دیکھ شمسہ بولیں۔ماما کہیں نہیں بس یہیں قریب واک پر جا رہا ہوں۔بھائی میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ گھر میں بیٹھ بیٹھ کر تو میں بور ہی ہو گئی چہل قدمی)آوارہ گردی ( کرتے تھوڑی سی تازہ ہوا ہی کھا لوں۔ریان کی بات پر یشل بولی۔اچھا ٹھیک ہے چلو۔ریان نے کہا۔بھابھی آپ بھی چلیں نا۔یشل فریحہ کو اب فری آپی کی بجاۓ بھابھی کہنے لگی تھی۔ارے نہیں۔۔۔۔کوئی انکار نہیں چلیں نا تھوڑی سی آوارہ گردی کر کے آتے ہیں۔یشل نے شوخ لہجے میں آہستہ سے فریحہ کے کان میں کہتے ہوئے آنکھ ماری۔بدتمیز۔۔۔فریحہ نے اسے چٹکی کاٹی۔اچھا چلیں اب آجائیں۔۔۔۔********************ارے بھابھی چلیں آئس کریم کھاتے ہیں۔آئس کریم شاپ دیکھتے ہی یشل کی آنکھیں چمک اٹھیں۔نہیں یشل میں آئس کریم نہیں کھاتی۔فریحہ نے نرمی سے منع کر دیا۔کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ارے کیسی لڑکی ہیں آپ آئس کریم نہیں کھاتیں۔یشل پوری آنکھیں پھیلائے اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی تو فریحہ ہنس دی۔تمہیں پتا ہے ناہید بھی یہی کہتی ہے۔ناہید کے ذکر پر ریان نے فریحہ کو اور یشل نے ریان کو دیکھا۔یشل سوچنے لگی اگر بھابھی کو ذرا بھی اندازہ ہو جاۓ کہ بھائی یشل کے لئے کیا جذبات رکھتے ہیں تو شائد وہ ان کے سامنے اسکا ذکر کرنے سے احتیاط کرنے لگ جائیں۔یشل نے اپنے لئے آئس کریم لی اور سڑک پر ٹہلتی ہوئی کھانے لگی وہ پوری طرح سے آئس کریم کھانے میں مگن تھی اور ساتھ ہی معیز کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی۔اس دن کے بعد سے اسکا معیز سے کوئی سامنا ہی نہیں ہوا تھا اور اس دن کو دو ہفتے سے زیادہ ہو چکے تھے۔حالانکہ وہ دو دفعہ فریحہ کے ساتھ ناہید کی طرف سے ہو کے آئی تھی۔فریحہ اور ریان ساتھ ساتھ چل رہے تھے جبکہ یشل ان سے دور)جان بوجھ کر (۔۔۔۔آپکا پسندیدہ رنگ کونسا ہے۔ان دونوں کے درمیان خاموشی کو توڑنے کے لئے ہر بار کی طرح پہل فریحہ نے کی۔بلیو۔۔۔ارے واہ ناہید کا پسندیدہ رنگ بھی بلیو ہے۔اور آپ کی پسندیدہ ڈش۔۔۔۔۔بریانی۔۔۔زبردست ناہید بھی بریانی کے پیچھے پاگل ہے۔۔۔۔ویسے اسی لئے آپ بریانی اتنے شوق سے کھاتے ہیں میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔اور زندگی کی کوئی ایسی بات جس پر آپ بہت یقین رکھتے ہوں۔۔۔؟؟کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے اگر آپ ممکن بنانا چاہیں تو کچھ بھی نا ممکن نہیں۔۔۔۔۔ڈٹس گریٹ پتا ہے ناہید کا بھی یہی ماننا ہے۔۔۔۔) اف ناہید ناہید ناہید آخر یہ ناہید کا نام لینا بند کیوں نہیں کر دیتی( ویسے آپ کی اور ناہید کی پسند کتنی ملتی ہے ناں۔ریان نے اس بات کا کوئی جواب نا دیا۔) ریان کا ماننا تھا کے ہار نہیں ماننی چاہیے اور کچھ بھی نا ممکن نہیں اگر آپ ممکن بنانے کا پکا ارادہ رکھتے ہوں تو۔۔۔مگر اس کے باوجود وہ ہار مان چکا تھا اپنے ماں باپ کے آگے فریحہ کے لئے ہاں کہہ کہ کیوں کہ وہ ناہید سے اپنا رشتہ ممکننہیں بنانا چاہتا تھا۔۔۔وجہ معیز تھا جو اسے بہت چاہتا تھا( ریان سوچنے لگا ناہید بہت کم فریحہ کا ذکر کرتی تھی اور ایک فریحہ ہے ناہید کا ذکر کر کر کے اس کی زبان ہی نہیں تھکتی۔۔********************اس دن کے بعد سے معیز نے ناہید کی طرف آنا جانا بہت کم کر دیا تھا اپنے پاپا کے ساتھ بزنس میں بہت سیریس ہو گیا تھا۔سیریس تو خیر وہ پہلے بھی تھا مگر اس کی سنجیدگی کچھخطرناک سی لگتی تھی۔چھوٹی موٹی شرارتیں اور نوک جھوک بھی بند کر دی تھیں۔روحیل صاحب کو نہیں معلوم تھا کہ وہ اس قدر سنجیدہ کیوں ہوگیا ہے اگر وہ پوچھتے تو ہنس دیتا اور کہتا کہ آپ خود ہی تو کہتے تھے کہ سنجیدگی اختیار کرو تو اب کر لی۔اس دن کے بعد ایک دو دفعہ ناہید کی طرف چکر لگایا تو تھا مگر وہ بھی ایسے جیسے ویران سے گھر میں آئے اور چپ چاپ واپس چلے گئے۔کیوں کہ ناہید اس سے بات ہی نہیں کرتی تھی لڑتی ہی نہیں تھی اس لئے اسے گھر بلکل خالی خالی سا لگتا تھا۔ناہید سے بات کرنے کی کوشش کی تھی اس نے بدلے میں وہ بھی بات کرتی مگر ایسے جیسے کسی اجنبی سے بات کر رہی ہو۔آخر تنگ آکے معیز یہ کہہ آیا کہ ٹھیک ہے اگر تمہیں میرا اس گھر میں آنا اچھا نہیں لگتا تو میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔مگر رات اپنے کمرے کی کھڑکی سے لان میں بیٹھی ناہید کو گھنٹوں تکتا رہتا۔کبھی جو وہ ٹیرس پر چیئر رکھ کر بیٹھی ہوتی تو تب بھی وہ ایسے ہی کرتا۔دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے لمبی لمبی غزلیں اور اشعار بھیجتا۔جانتا بھی تھا کہ جواب نہیں آئے گا مگر اس نے توجیسے روز یہ کام خود پر فرض کر لیا تھا ہر میسج کے آخر میں لکھا ہوتا۔روٹھے ہو تم۔۔۔تم کو کیسے بناؤں پیا بولو ناں بولو ناں۔۔۔۔؟؟؟مگر پیا آگے سے کبھی بولتا ہی نا تھا۔۔********************آج ناہید کی خالہ یعنی حنا بیگم آئی تھیں ساتھ میں روحیل بھی۔ناہید اپنے کمرے میں تھی جب سمینہ اسے بلانے آئیں۔کچھ ہوش بھی ہے تمہیں سارا دن کمرے میں بند رہتی ہو کونآرہا ہے کون جا رہا ہے کوئی خبر ہی نہیں تمہیں تو۔کیا ہوا امی اب کون آگیا۔ناہید نے گود میں پڑا کشن بیڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔تمہاری خالہ اور خالو آئے ہیں۔ساتھ گھر ہونے کے باوجود تم نے تو کبھی چکر لگانا نہیں ہوتا اس لئے وہ ہی ملنے چلے آئے۔اب آجاؤ نیچے آکے چاۓ کا انتظام کرو میں کچھ گھڑی ان کے پاس بیٹھ جاؤ تمہارے بابا بھی آنے والے ہیں سب کی چاۓ بنالینا۔سمینہ اسے اطلاع دے کر چلی گئیں۔ناہید سیڑھیاں اترتی خود بھی نیچے چلی آئی۔۔********************

Tuesday, November 13, 2018

راہ محبت قسط7

http://novelskhazana.blogspot.com/
راہ محبت قسط7

**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 7**گاڑی کا ہارن سن کر ناہید کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔تو آگئے یہ۔ناہید بیڈ سے اٹھی اور کھڑکی تک آئی پردہ پیچھے ہٹا کر ان دونوں کو دیکھا۔فریحہ گاڑی سے باہر کھڑی ریان سے کچھ کہہ رہی تھی۔ریان اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔وہ پردہ واپس کھینچتی دوبارہ بیڈ پر آ بیٹھی۔۔*****************گاڑی گیٹ کے سامنے رکی تو فریحہ بے چین ہو کر باہر نکلی آگے بڑھنے ہی والی تھی کہ ریان کو اندر ہی بیٹھا دیکھ کر رک گئی اور بولی۔آپ اندر نہیں آئیں گے کیا۔نہیں تم جاؤ میں تمہیں لینے آجاؤں گا۔ریان نے دوسری طرف منہ کرکے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔پر ریان اس طرح اچھا تو نہیں لگے گا میں پہلی بار آپ کے ساتھ آئی ہوں اور آپ کے بغیر ہی اندر چلی جاؤں۔سب پوچھیں گے آپ کا اور میں نے تو گھر میں بتا بھی دیا ہے کہ ہم آ رہے ہیں اور امی نے تو اچھا خاصا انتظام بھی کر ڈالا ہوگا۔اب کی بار فریحہ ریان کو امید بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ریان مزید کچھ کہے بغیر گاڑی سے اتر آیا۔فریحہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔*********************یشل ناہید سے معیز کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا اسے واقعی میں معلوم نہیں تھا کہ وہ بچپن سے ہی معیز سے منصوب ہے۔یا پھر یہ جانتے ہوئے بھی وہ بھائی سے محبت کر بیٹھی یا یہ کہ وہ معیز اور اپنے رشتے کو کچھ سمجھتی ہی نہیں۔اگر ناہید واقعی میں انجان ہے تو یشل اسے بتانا چاہتی تھی یہ سوچے بغیر کہ اب تک اس کے گھر والوں نے اسے کچھ نہیں بتایا تو وہ کیوں بتاۓ۔وہ اسے یہ بتا کر اسکا غصہ کم کرنا چاہتی تھی جو کہ شائد اسے ابھی بھی ریان اور اس کے والدین پے تھا۔وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ کن حالات میں اس کے والدین نے اسکی بجاۓ فریحہ کا رشتہ ریان کے لئے مانگ لیا۔اور اب وہ کچھ دنوں تک ناہید کی طرف جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔************************ارے ناہید تم ابھی تک یہاں بیٹھی ہوئی ہو بیٹا فری کب کیآچکی ہے اور تمہیں یاد کر رہی ہے نیچے آؤ شاباش۔ناہید جو ٹیرس پر رکھی چیئر پر بیٹھی ہاتھ میں پین لے کر اسے گھماتی خود بھی پتا نہیں کن کن خیالوں میں گھوم رہی تھی ٹھنڈی سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔۔۔اچھا امی آگئی فری مجھے معلوم ہی نہیں ہوا۔لو ٹیرس پر بیٹھی ہو اور کہہ رہی ہو کہ معلوم ہی نہیں ہوا۔اف ناہید نے اس بہانے پر خود کو کوسا نہیں بلکہ ٹیرس پر بیٹھنے پر۔وہ امی یہاں تو میں ابھی آکر بیٹھی ہوں ورنہ سوئی ہوئی تھی آپ چلیں میں بس منہ دھو کر آرہی ہوں۔اچھا ٹھیک ہے جلدی آجانا۔سمینہ جاتے جاتے بھی کہنا نہیں بھولیں۔۔************************ناہید کمرے سے یہ سوچ کر نکلی تھی کہ کاش اسکا ریان سے سامنا نا ہو مگر ہائے ری قسمت آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہی ساتھ والے کمرے سے نکلتے ریان سے اس کی ٹکر ہوئی۔ٹکر بہت زور کی تو نہیں تھی مگر ناہید کا تو دل ہی ہل کے رہ گیا۔اس دوران ناہید کے ہاتھ میں پکڑا پین چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔آپ ٹھیک ہیں ناہید۔ریان نے اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے ) جو کے اسکو بچانے کی خاطر بڑھائے تھے ( پوچھا۔۔۔"آپ"ناہید زیرلب بڑبڑائی۔یعنی اب وہ اس کے لئے اتنی انجان ہو گئی کہ وہ اسے آپ کہنے لگ گیا۔ناہید نے کوئی جواب نا دیا۔ریان نے نیچے پڑا پین اٹھا کر ناہید کی طرف بڑھایا جسے وہ پکڑے بغیر کمرے میں چلی گئی۔ریان نے کچھ سوچتے ہوئے پین اپنی پاکٹ میں رکھ لیا۔۔************************ریان جتنا ناہید سے دور رہنے کی کوشش کرتا اتنا ہی اس سے سامنا ہو جاتا تھا جتنا بھی اس کے ذکر سے بچنے کی کوشش کرتا اتنا ہی اسکا ذکر کیا جاتا۔۔۔وہ اس سے دور رہ کر اسے بھولنا چاہتا تھا مگر اپنی اس کوشش میں وہ کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔)کوئی اسے کیا بتاتا کہ دور رہنے سے محبتیں ختم نہیں ہو جاتیں ہاں بعض دفعہ ان میں کمی ضرور آجاتی ہے ( ابھی بھی ناہید کمرے میں تھی اور وہ واپس کمرے میں جانے کی بجاۓ باہر چلا گیا۔۔۔۔۔******************ناہید کھانا لگاؤ بیٹا کب سے فری آئی ہوئی ہے بھوک لگ رہی ہوگی میری بچی کو۔۔۔جی امی اب تو واقعی میں بہت بھوک لگ رہی ہے۔سمینہ کے کہنے پر فری کی بھوک ایک دم جاگ اٹھی۔جی امی لگاتی ہوں۔ناہید یہ کہہ کر باہر نکل آئی اور کھانا لگانے لگی فریحہ بھی اس کے ساتھ ہی چلی آئی اور اس کی مدد کروانے لگی۔فری بیٹا یہ ریان کہاں چلا گیا اسے بلاؤ۔کھانا شروع کرنے سے پہلے سمینہ نے کہا۔امی مجھے تو وہ کسی ضروری کال کا کہہ کر گئے تھے لانمیں ہونگے میں بلاتی ہوں۔فریحہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ ریان کو لاؤنج میں آتا دیکھ اٹھنے کا ارادہ ترک کر گئی۔ریان فریحہ کے برابر والی چیئر پر بیٹھ گیا کچھ کھانے پینے کا اسکا بلکل بھی موڈ نہیں تھا۔فری تمہیں پتا ہے یہ ڈنر میں نے نہیں ناہید نے تیار کیا ہے ہاں بس کہہ کہہ کر انتظام کروانا پڑا۔کیا سچ میں امی یہ سب ناہید نے بنایا ہے پھر تو میں ہر چیز ٹرائی کروں گی۔فریحہ خوش ہوتی ہوئی بولی اور سوچنے لگی کہ سب سے پہلےکیا کھائے۔ریان بھی یہ سوچ کر کہ ناہید نے اتنی محنت کی ہے )یا اسکا دل رکھنے کے لئے ( چاولوں کی ٹرے پکڑی کچھ چاول پلیٹ میں ڈال لئے اور کھانے لگا۔چاول بہت مزے کے تھے۔ریان کا دل چاہا کہ ناہید کے ہاتھ کے کھانے کی تعریف کرے مگر ہونٹوں پر تو جیسے تالے سے لگ گئے۔) جب وہ اپنی بیوی کے کھانے کی تعریف نہیں کرتا تھا تو اسکی بہن کی تعریف کیسے کرتا (۔۔۔۔**********************جب وہ دونوں چلے گئے تو ناہید نے شکر ادا کیا اور برتن سمیٹنے لگی۔کھانا اس نے براۓ نام ہی کھایا تھا بھوک تو بہت لگ رہی تھی مگر دل نہیں چاہ رہا تھا کھانے کا۔اس نے برتن اٹھاۓ اور پھر دھونے چلی گئی۔۔۔۔ہائے ڈیر کزن کیسی ہو۔۔معیز نے کسی سپر مین کی طرح کچن میں داخل ہوتے ڈیر کزن کی چٹیا کھینچتے ہوئے پوچھا۔تم سے تو بہتر ہی ہوں۔سنو لڑکی آج مجھ پر ایک حیرت انگیز انکشاف ہوا اور وہ انکشاف یہ تھا کہ آج کھانا تم نے بنایا ہے۔۔۔کیا یہ سچ ہے؟؟؟؟معیز نے اسے تنگ کرنے کے خیال سے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ناہید نے کوئی جواب نا دیا اور چپ چاپ برتن دھوتی رہی۔سنو یہ تمہارے نخرے کچھ زیادہ ہی نہیں بڑھ گئے کسی بات کا کوئی جواب ہی نہیں دیتی کیا میں پاگل ہوں جو بولتا جاؤں۔معیز نے مصنوئی غصہ دکھاتے ہوئے کہا۔تمہیں اپنے پاگل ہونے پر کوئی شک ہے کیا تم تو شروع سے ہی پاگل ہو اور اپنے ساتھ رہنے والوں کو بھی پاگل کر دیتے ہو۔اس لئے میں تم سے دور ہی رہنا چاہتی ہوں۔تم جیسے اڈیٹ سے بات کر کے اپنا وقت فضول میں برباد نہیں کرنا چاہتی۔اچھا تو یہ بات ہے تمہاری اس بات کا جواب تو میں بعد میں ہی دوں گا پہلے تم میرے لئے کھانا نکالو میں خالہ کے روم میںہوں۔میں تمہاری ملازم نہیں ہوں۔ناہید نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔حلیہ تو تمہارا بلکل ویسا ہی ہے۔اس وقت تمہیں جو بھی دیکھے گا یہی سمجھے گا۔ہاں البتہ اگر تم جیسی ملازم ہو تو کیا ہی بات ہے۔معیز نے خیالوں میں کھوتے ہوئے کہا۔دفع ہوجاؤ نہیں تو کھانانہیں دوں گی خود ہی لیتے پھرنا۔معیز فوراً سے پہلے وہاں سے دفع ہو گیا۔معیز کو کھانا دینے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ناہید کچھ بدل سی گئی تھی لیکن آخر کیوں۔۔۔؟؟کھانا کھاتا معیز یہ سوچ کر رہ گیا۔۔***********************ریان اپنے کمرے میں آیا تو فریحہ کھڑکیوں کے پردے آگے کر رہی تھی۔انہیں کیوں آگے کر رہی ہو ویسے ہی رہنے دیتی۔ریان فریحہ کو آپ کی بجاۓ تم کہنے لگا تھا۔۔۔کیوں اور کب سے یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔وہ اصل میں صبح دھوپ سیدھا آپ کے چہرے پر پڑتی ہے ناں جس کی وجہ سے آپ کی نیند خراب ہوتی ہے اس لئے ہی پردے آگے کر رہی تھی۔ریان نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا جو اب بیڈ شیٹ ٹھیک کر رہی تھی۔کیوں خیال رکھتی ہے یہ اتنا میرا حالانکہ بہت سی باتوں میں میںاسکا دل توڑ جاتا ہو۔سہی کہا تھا اس نے میں آپ کو کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر موجود تھا کل کے لئے کپڑے پریس کر دیے گئے تھے اس کا لیپ ٹاپ اور آفس کی تمام چیزیں اور بکس اسٹڈی ٹیبل پر سلیقے سے سیٹ کر دی گئی غرض کہ اس کا ہر کام اس کے کہنے سے پہلے پورا ہو چکا ہوتا۔فریحہ اس کے چپ رہنے کے باوجود بھی اکثر رات کو اس سے اتنی باتیں کرتی اور وہ چپ چاپ سر ہلائے جاتا۔تو کیا ہوا اگر وہ بات نہیں کرتا تھا زیادہ بولتا نہیں تھا مگر اس کی سن لیتا تھا اس کے لئے یہی کافی تھا۔پاپا بتا رہے تھے کہ آج کل آفس میں کام بہت ہے آپ تو بہت تھک جاتے ہونگے ناں کیا آپ کے لئے کافی بنا لاؤں۔فریحہ نے دیکھا کے دس بج رہے تھے اور روز کی طرح آج بھی وہ لیٹ ہی آیا تھا۔نہیں رہنے دو میں دودھ ہی پی لوں گا تم بس اسے گرم کر لاؤ ٹھنڈا ہو چکا ہے۔تھک تو وہ واقعی میں چکا تھا۔ریان نے دودھ کا گلاس جو کہ ٹھنڈا ہو چکا تھا اسے تھماتے ہوئے کہا اور خود شاور لینے چلا گیا۔آج وہ آفس کا کوئی کام لے کر بیٹھنے کی بجاۓ بس سونا چاہا تھا۔۔**********************ناہید کے کمرے کا دروازہ بج رہا تھا جسے وہ لاک کئے بیٹھی تھی۔ناہید نے دروازہ کھولا تو سامنے یشل کھڑی تھی۔یشل کو دیکھ کر اسے بے حد خوشی ہوئی۔جب سے اسکول چھوڑا تھا وہ دونوں پہلی بار مل رہی تھیں۔یشل بھی خوش ہوتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی۔یشل نے سوچا تھا کہ وہ کچھ دن تک ناہید کی طرف چکر لگاۓ گی مگر اسے کچھ سے زیادہ ہی دن لگ گئے اور اب وہ مہینے بعد اسکی طرف حاضر تھی۔وہ دونوں بیڈ پر آبیٹھیں۔ناہید کیا بات ہے تم اتنی کمزور کیوں ہو گئی ہو۔رنگ دیکھو اپنا کیسا ہو رہا ہے۔ذرا خیال نہیں رکھتی کیا تم اپنا۔چھوڑو نا تم بھی کن باتوں کو لے کر بیٹھ گئی یہ بتاؤ کہگھر میں سب کیسے ہیں اور ماما بتا رہی تھیں) جنہیں فریحہ نے بتایا تھا ( کہ تمہارا کوئی رشتہ آیا ہوا ہے۔سب ٹھیک ہیں۔۔۔یشل نے اسکے بس ایک ہی سوال کا جواب دیا۔))اور ناہید بھی کوئی پہلے وہی ناہید نہیں تھی جو پیچھے پر جاتی کہ بتاؤ نا کیسے لوگ ہیں لڑکا کیا کرتا ہے تمہیں رشتہ پسند ہے تم جواب کیوں نہیں دے رہی ((ناہید سمجھ گئی کہ وہ بتانا نہیں چاہتی اس لئے دوبارہ چپ ہی رہی۔ناہید میں یہاں تم سے ایک بات کرنے آئی ہوں۔یوں سمجھ لو کہ پوچھنے بھی اور بتانے بھی۔کیا بات ہے یشل بولو۔ناہید یشل کے تاثرات سے کچھ الجھ سی گئی۔

Monday, November 12, 2018

راہ محبت قسط 6+5

http://novelskhazana.blogspot.com/



**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 5**یشل کب سے موبائل ہاتھ میں لئے معیز کی تصویر کو تکے جا رہی تھی۔ہمیشہ معیز کی تصویر کو دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر خودبخود ہی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی مگر آج اس کی تصویر کودیکھتے ہوئے یشل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تو بعد کی بات پہلے آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔۔۔وہ جو ناہید کو معیز کے لئے اپنے جذبات بتانے کا ارادہ رکھتی تھی اب یہ غلطی کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔اف یعنی میرے اور بھائی کے نصیب میں ہماری محبتوں کا ملنا لکھا ہی نہیں۔۔۔یا اللّه جب کسی انسان کا ملنا ہمارے نصیب میں ہی نہیں تو پھر ہمارے دل میں اسکی محبت پیدا ہی کیوں کی جاتی ہے۔۔۔کوئی کیا جانے کے محبت کتنی تکلیفوں سے دو چار کرتی ہے۔اس محبت میں انسان بظاہر تو خوش نظر آتا ہے مگر کسی کو کیا معلوم کہ وہ اندر سے کتنا ٹوٹ چکا ہے کتنا بکھر چکا ہے۔مجھے تو اب احساس ہو رہا ہے کہ بھائی کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔۔۔۔کیا گزرتی ہے دل پر جب کسی کی محبت کسی اور کے نصیب میں لکھ دی جاۓ۔۔۔۔یشل نے آنسوں صاف کرتے ہوئے موبائل آف کیا اور واش روں میں جا کر چہرہ دھونے لگی جو کہ آنسوں سے تر ہوتا جا رہا تھا۔۔************************آج فریحہ کی مہندی کی رسم تھی۔گھر کے لان میں تمام انتظار کیا گیا تھا۔بچے جو فریحہ کے پاس پڑھتے تھے وہ بھی اپنی ماؤں سمیت آئے ہوئے تھے۔معیز نے سارے انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔امان صاحب کو ہر قسم کی بھاگ دوڑ اور پریشانی سے دور ہی رکھا۔سب بہت خوش نظر آرہے تھے سواۓ ایک ناہید کے جو کہ پورے گھر میں بھولائی بھولائی سی پھر رہی تھی۔جو خوشی اپنی بہن کی شادی کی اسے ہونی چاہیے تھے وہ اسےمل نا پا رہی تھی۔شادی والا گھر تھا مہمانوں سے بھرا اس لئے کوئی بھی ناہید کی بھولائی صورت اور اسکی مسلسل خاموشی اور رسموں سے دوری محسوس نا کر سکا۔ہاں مگر فریحہ نے اسکی یہ اداسی ضرور نوٹ کی۔اس نے اپنے کمرے کے پاس سے گزرتی ناہید آپ آواز دے کر اپنے پاس بلایا۔ناہید چپ چاپ اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔کیا بات ہے ناہید تم اتنی خاموش کیوں ہو کوئی بات ہے کیا مجھے بتاؤ۔ناہید نے فریحہ کے پوچھنے پر سر اٹھا کر اسےعجیب نظروں سے دیکھا۔آج کل وہ ایسی ہی نظروں سے کتنی ہی دیر تک فریحہ کو دیکھتی رہتی۔شائد یہ کھوجتی رہتی کہ آخر ایسا کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں۔کیا میں اسے بتا دوں کہ میری خاموشی کی کیا وجہ ہے۔کیا میں ایسی ہوں کہ یہ بتا کر اپنی بہن کی خوشیاں چھین لوں یا یہ کہوں کہ میری بہن نے ہی میری خوشیاں چھین لیں۔مگر اس میں فری کا تو کوئی قصور نہیں۔بولو نا ناہید کتنے دنوں سے میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہاری دلچسبی ہر چیز سے اٹھ گئی ہے یوں اداس کیوں رہنے لگی ہو فری نے اسے ہلا کر ہوش دلائی۔۔۔۔زیادہ اداسی والی بات نہیں ہے بس یہی کہ تم چلی جاؤ گی تو میں اکیلی ہو جاؤں گی کونسا میری تین چار بہنیں ہیں ایک تم ہی تو ہو مگر تم ہی )میری محبت کو چھین کر جا رہی ہو( جا رہی ہو۔لو یہ بات تھی میں بھی کہوں پتا نہیں کون سی اتنی پریشانی والی بات ہوگئی جو تم کتنے دنوں سے منہ لٹکائے پھر رہی تھی۔ارے میری جھلی میں کونسا کوئی سات سمندر پار جا رہی ہوں یہی قریب تو جا رہی ہوں۔تمہارا جب دل کیا تم ملنے چلی آنا آخر کومیرا سسرال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ تمہاری دوست کا گھر بھی تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں بھی آتی رہا کروں گی جب بھی بریانی کھانے کا دل چاہے مجھے بس ایک کال کر دیا کرنا میں آجاؤں گی اور پھر اپنے ہاتھوں سے اپنی پیاری سی بہن کو پیاری سی بریانی بنا کر کھلایا کروں گی۔۔۔۔۔۔فریحہ نے جان بوجھ کر بریانی کا ذکر کرتے ہوئے اسکا موڈ ٹھیک کرنا چاہا مگر اس بار بریانی کے نام پر اس کے ہونٹوں پر جھوٹی مسکراہٹ بھی نا آ سکی۔وہ اب کیا بتاتی یہ دکھ بریانی سے کئیں گنا بڑا تھا۔۔۔فریحہ مہندی کے جوڑے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ناہید کو یہ تو ماننا پڑا تھا کہ اس پر روپ بہت آیا تھا۔ناہید اپنا ہاتھ جو کہ فریحہ نے پکڑ رکھا تھا بڑی نرمی سے چھڑواتی اس کے پاس سے اٹھ آئی۔۔************************ہائے ڈیر کزن۔۔۔تمہارے پاؤں کا درد کیسا ہے اگر کم ہو چکا ہے تو۔۔۔۔۔اگر تمہیں یاد ہو تو میرے پاؤں کو چوٹ آج سے پچیس دن پہلے لگی تھی۔اس سے پہلے کہ معیز مزید بکواس کرتا )جو کہ وہ پچھلے پچیس دنوں سے کر رہا تھا( ناہید نے اسے اپنی چوٹ کو پرانا کہہ کر چپ کروا دیا۔ویسے میں تمہارے لئے کچھ لایا تھا۔۔۔تم جو بھی لائے ہو مجھے وہ دیکھنے میں کوئی دلچسبی نہیں اب ہٹو میرے راستے سے۔ناہید اس وقت کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی شادی کا یہ ماحول سجا سجایا گھر اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔مگر مجھے تمہیں وہ خاص چیز دکھانے میں کافی انٹرسٹ ہے۔معیز بھی ڈھیٹ تھا۔دیکھو معیز۔۔۔تم دیکھو ناہید۔۔۔معیز نے کمر کے پیچھے کیے ہاتھوں کو اس کے سامنے کیا جس میں سفید اور سرخ گلاب کے بنے گجرے موجود تھے۔ناہید کو گجرے بہت پسند تھے ہر شادی پے وہ معیز سے خاص فرمائش کر کے اپنے لئے سفید اور سرخ گلاب کے گجرے منگوایا کرتی تھی۔مگر آج ان گجروں کو دیکھ کر اسکا دل پھولوں کی ایک ایک پتی کو نوچ لینے کا چاہا۔کیسے لگے اچھے ہیں نا میں تو انتظار میں تھا کہ محترمہ کبمیرے پاس آئیں گیں اور کہیں گیں کہ معیز مجھے گجرے لا دو اورمیں کچھ کچھ نخرے دکھانے کے بعد آخر مان کر گجرے لے ہو آؤں گا )کیوں کہ ہر بار ایسا ہی ہوتا تھا (مگر تم اس دفعہ میرے پاس یہ فرمائش لے کر آئی ہی نہیں میںکچھ حیران تو ہوا مگر پھر سوچا کہ خود ہی تمہارے لئے گجرے لے آؤں اور کیوں ناں تمہیں سرپرائز دوں۔معیز نے بولنے کے ساتھ ساتھ دونوں گجرے ناہید کی کلائیوں میں اتار دیے۔معیز کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ناہیدکے ملائم و سفید ہاتھوں کو وہ چوم لے۔ناہید کی کلائیوں میں وہ پھول کانٹوں کی طرح چھبنے لگے وہمعیز کو مسلسل بڑبڑاتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں آگئی۔کمرے میں آتے ہی اس نے وہ گجرے اپنی کلائیوں سے اس طرح نوچ کر نکالے کی اس کی کلائیوں پر اپنے ہی ناخنوں کے نشان سے پر گئے۔۔**********************آج برات تھی۔۔۔فریحہ اور سمینہ کب سے ناہید کو کہہ رہی تھیں کہ وہ بھی پارلر سے تیار ہو جاۓ مگر وہ تھی کہ انکار کئے جا رہی تھی۔مجھے نہیں ہونا تیار کیا میں آپ دونوں کو بغیر میک اپ کے اچھی نہیں لگوں گی۔ارے ایسی بات نہیں ہے بیٹا تمہاری بہن کی شادی ہے تمہیں تو سب سے خوبصورت دکھنا چاہیے ناں بہنوں کی شادیوں پے تو لڑکیاں کیا کچھ نہیں کرتیں اور ایک تم ہو کہ سر جھاڑ منہ پھاڑ ایسے ہی بیٹھی ہوئی ہو۔بس میں نے کہہ دیا تم فری کے ساتھ پارلر جا رہی ہو تو مطلب جا رہی ہو۔سمینہ کا خیال تھا کہ اب تو ناہید کو اٹھنا ہی پرے گا مگر وہ یہ سن کر حیران رہ گئیں کہ اس نے اس دفعہ بھی انکار کر دیا۔آپ جو بھی کہہ لیں امی میں نہیں جا رہی تو مطلب نہیں جا رہی۔وہ بھی انہی کے انداز میں کہتی ہوئی اٹھ گئی۔فریحہ اور سمینہ دونوں حیران تھیں کہ یہ آخر اسے ہوا کیا۔دوسروں کی شادیوں پے تو ناہید کی سج دھج دیکھنے والی ہوتی تھی ہر رسم میں بڑھ چڑھ کر بلکہ کود کود کر حصہ لینا اسکا کام تھا شادیوں کے دوران تو اسکے پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹکتے تھے۔مگر اب کا حال دیکھ کر دونوں ماں بیٹی حیران تھی۔اب چونکے فریحہ کو پارلر کے لئے دیر ہو رہی تھی تو وہ زیادہدیر حیران ہوئے بغیر پارلر چلی گئی۔اور سمینہ ناہید کے کمرے میں کیوں کہ اب انہیں ناہید کو کہہ کہہ کر تھوڑا بہت ہی سہی مگر تیار کروانا تھا۔۔*************************ناہید کونے میں ایک ٹیبل پر بیٹھی آسمان کو تکے جا رہی تھی۔فریحہ کو اسٹیج پر بیٹھا دیا گیا تھا۔مگر ناہید ابھی بھی خیالوں میں گم تھی اور ان سے باہر آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ریڈ اور وائٹ ہلکے کامدار نیٹ کے فراک میں ملبوس نیچرل پنک لپ سٹک کاجل سے بے نیاز سونی سونی آنکھوں اور نازک سیجیولری کے ساتھ وہ کھوئی کھوئی سی پری لگ رہی تھی۔معیز اس پری چہرے کو اپنی آنکھوں اور دل کی گہرائیوں میں اتار لینا چاہتا تھا۔کچھ سوچتے ہوئے وہ اس کے پاس آیا۔اس کے کندھے کو ہلکا سا ہلاتے ہوئے اسے پکاڑنے لگا۔"پری"ناہید نے چونک کر اسے دیکھا اور بولی کون پری۔۔۔؟؟تم ناہید۔۔۔۔تمہیں پتا ہے اس وقت تم کسی پری سے کم نہیں لگ رہی۔۔۔۔معیز کی اس بات سے ناہید کے دل میں ہوک سی اٹھی۔)وہ بھی اسے پری ہی کہا کرتا تھا۔۔اور تھا کا مطلب تو آپجانتے ہی ہیں (مگر مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا کہ یہ پری اس طرح اکیلے گم سم سی ہو کر بیٹھی رہے وہاں آگے آؤ سب کے ساتھ بیٹھو۔معیز نے اسے ہاتھ بڑھا کر اٹھانا چاہا تو ناہید ہاتھ پیچھے کر گئی۔معیز تم جاؤ میں آتی ہوں۔ناہید کا موڈ تو بلکل بھی نہیں تھا مگر یہ سوچے ہوئے کہ اس طرح اکیلی بیٹھی وہ خواہ مخواہ ہی لوگوں کی نظروں کامرکز بنے گی معیز کی بات پر حامی بھر لی۔معیز سر ہلاتا ہوا آگے چلا گیا۔۔***********************یشل کب سے ناہید کو ڈھونڈ رہی تھی ایک دو سے پوچھا بھی مگر انہوں نے نفی میں سر ہلا کر اپنی لا علمی کا اظہار کیا۔ناہید تو نا ملی ہاں مگر معیز ضرور مل گیا۔سامنے تیزی سے آتے معیز کے ساتھ وہ ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ارے ارے محترمہ آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔معیز نے رک کر اس سے پوچھا۔جی۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں۔۔آپ غالباً ناہید کی دوست ہیں۔۔جی میں اسی کی دوست ہوں اور۔۔۔۔اور اسے ہی ڈھونڈ رہی ہوں کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں ہے۔معیز کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر نجانے کیوں یشل کی زبان اس کا ساتھ دینے سے انکاری ہو رہی تھی۔جی جی کیوں نہیں یہاں سے سیدھا چلی جائیے گا پھر وہاں سے لفٹ پے آخری ٹیبل پر آپ کو اپکا مطلوبہ انسان مل جاۓ گا۔دھیان سے جائیے گا۔آخر میں معیز شرارت سے کہتا ہوا اس کے پاس سے گزر گیا مگر اس کے کپڑوں سے اٹھتی خوشبو ابھی بھی یشل کے ارد گرد منڈلا رہی تھی۔وائٹ سوٹ پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کئے آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کئے نکھرا نکھرا سا وہ بلاشبہ بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔جب معیز یشل کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو وہ اس کے بتاۓ گئے راستے پر چلتی ہوئی اپنے مطلوبہ انسان تک پہنچ گئی۔۔************************یشل اسے زبردستی اسٹیج پر لے آئی۔ناچار اسے وہاں بیٹھنا ہی پڑا کیوں کہ اسٹیج کے ارد گرد سب ہیموجود تھے اور وہ ان کی موجودگی کو مد نظر رکھتے ہوئے فریحہ کے برابر بیٹھ گئی۔فریحہ کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر ایک لمحے کے لئے ناہید ہر غم بھول گئی بس یاد رہا تو اتنا کہ فریحہ اسکی بہن ہے جوکہ آج دلہن بنی کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی کیا فریحہ آج ہی اتنی حسین لگ رہی ہے یا آج سے پہلے کبھی میں نے اس کے حسن پر غور ہی نہیں کیا۔وہ فریحہ کو دیکھ ہی رہی تھی کہ دوسری طرف ریان فریحہ کے برابر آبیٹھا۔فریحہ اس کی موجودگی سے کچھ سمٹ سی گئی نظریں اور بھی جھک گئیں۔ناہید کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے تو ریان کی دنیا ہی رک گئی۔پھر اس نے فریحہ کو دیکھا بلاشبہ وہ بھی بہت حسین لگ رہی تھی مگر ریان خود کو یہ سوچنے سے روک نا سکا کہ فریحہ اتنا تیار ہونے کے بعد اتنی حسین لگ رہی ہے جبکہ ناہید اتنی سادگی میں بھی دلہن سے کہیں بڑھ کر تھی )ریان کی نظروں میں (۔ریان کی موجودگی میں ناہید سے وہاں نا بیٹھا گیا اس لئے وہ وہاں سے اٹھ گئی۔ریان کو اسکا اس طرح اٹھ کر جانا برا تو بہت لگا مگر وہ کیا کرتا۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھی ناہید کی طرح اٹھ کر کہیں بھاگ جاۓ مگر وہ کوئی مہمان نہیں تھا وہ دولہا تھااس لئے ناچار اسے وہیں بیٹھنا پڑا۔۔*************************

















**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 6**ناہید فریحہ کی
 رخصتی پر تو بلکل نا روئی مگر اس کے جانے کے بعد کمرے میں آکر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔فریحہ چلی گئی اس کے ساتھ جس کے ساتھ وہ خود جانے کی خواہش رکھتی تھی۔ناہید اس طرح رو رہی تھی کہ اس کے رونے کی آواز سن کر سمینہ اس کے کمرے میں چلی آئیں۔ناہید بیٹا کیا ہوا اتنی بری طرح سے کیوں رو رہی ہو آخر۔۔۔انہوں نے اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا۔امی وہ فریحہ چلی گئی ناں مجھے اسکی یاد۔۔۔۔ناہید اتنا ہی بول سکتی۔یاد تو پھر آتی ہی ہے بہنوں کی مگر تم اتنا اداس مت ہو فریحہ کون سا بیاہ کر کوئی دور گئی ہے آتی جاتی رہا کرے گی۔اب تم اٹھو شاباش منہ دھو اور سونے کی تیاری کرو۔سمینہ نے کہا تو وہ اٹھ کر واش روم چلی گئی گئی۔سمینہ اس کے کمرے کی لائٹ بند کرتیں سیڑھیاں اترنے لگیں۔۔************************فریحہ کب سے ریان کا انتظار کر رہی تھی جو کمرے میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا نجانے کہاں بیٹھا ہوا تھا رات کا ایک بجنے کو تھا ۔فریحہ بہت تھک چکی تھی۔آخر اس انتظار سے تھک ہار کر اٹھی اور واش روم جانے لگی جب دروازے پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی وہ یقیناً ریان تھا۔فریحہ وہیں تھم گئی۔ریان کمرے میں آیا سب سے پہلے سلام لی اور پھر حیران ہوتا ہوا بولا آپ نے ابھی تک کپڑے چینج نہیں کئے۔جبکہ فریحہ اسکی اس بات پر اس سے بھی زیادہ حیران ہوئی۔ظاہر ہے ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اسکا شوہر اسے دلہن کے جوڑے میں جی بھر کر دیکھے مگر ریان نے اسے ایک نظر ہی دیکھا اور پھر بیڈ پر گر گیا۔جی وہ بس چینج کرنے ہی جا رہی تھی۔فریحہ منمنائی۔چینج کرنے کے بعد جب وہ واش روم سے نکلی تو ریان کمرے میںموجود نا تھا۔اس دیکھا ٹیرس کا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ وہیں چلی آئی۔ریان گرل پے دونوں بازؤں کی کہنیاں ٹیکائے آسمان کی طرف دیکھتا کچھ کھوج رہا تھا۔آپ کو نیند نہیں آئی کیا۔۔۔؟؟فریحہ سوچ رہی تھی کیا بات کرے پھر آخر شروعات یہاں سے کی۔ریان نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا بلکل انہی نظروں سے جن نظروں سے آج کل ناہید اسے دیکھا کرتی تھی۔فریحہ نے اس کی نظروں سے گھبرا کا منہ دوسری طرف کر لیا۔کچھ تو عجیب تھا اس کی نظروں میں جیسے کہہ رہا ہو )تم اس کمرے میں کیا کر رہی ("نہیں"ریان نے فریحہ کی بات کا مختصر جواب دیا۔سنیے فریحہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔فریحہ واپس مرنے لگی جب ریان نے اسے یہ کہتے ہوئے روکنا چاہا۔جی کہیے۔دیکھیں فریحہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا اور نا ہی کوئی لمبیچوڑی تقریر کروں گا۔سچ یہ ہے کہ آپ صرف میرے والدین کی پسند ہیں اور اس پسند پرمیں آسانی سے نا سہی مگر راضی ضرور ہوگیا۔میں فلحال آپ کی طرف بڑھنا نہیں چاہتا میں کوئی رانجھا یا مجنوں نہیں ہوں جو آپ سے محبت کا اظہار کرتا رہو وہ محبت جو مجھے فلحال آپسے ہے ہی نہیں۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ابھی نہیں ہے تو کبھی نہیں ہوگی۔ہو سکتا ہے کہ آہستہ آہستہ آپ مجھے اچھی نہیں بلکہ بہتاچھی لگنے لگیں مگر وہ وقت کب آئے گا یہ میں نہیں جانتا۔مجھے آپ سے کچھ وقت کی طلب ہے مجھے امید ہے کہ آپ مجھے نا صرف وقت کی مہلت دیں گیں بلکہ میری باتوں کو سمجھنے کی کوشش بھی کریں گیں۔فریحہ تو بس اس کے ہلتے لبوں کو دیکھتی رہی۔۔۔یہ کیا کہہ رہے تھے وہ کتنا وقت درکار ہوگا انہیں معلوم نہیں مگر فریحہ کو انہیں وقت دینا ہی تھا۔آپ کو جتنا بھی وقت چاہیے آپ لے سکتے ہیں آپ میری طرف سے تسلی رکھیں میں کبھی بھی آپ کو کسی بارے میں بھی شکایات کا موقع نہیں دوں گی۔فریحہ نے زبردستی ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔اب آپ جا سکتی ہیں اور پلیز سو جائیے میرا انتظار مت کیجئے گا میں کچھ دیر اور جاگنا چاہتا ہوں۔)کچھ دیر سے مراد شائد ساری رات(۔جی ٹھیک ہے فریحہ فرمابردار بیوی کی طرح سر ہلاتی سونے چلی گئی۔)یا پھر جاگنے (۔***********************فریحہ صبح اٹھی تو ریان کمرے میں نا تھا واش روم سے پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی۔یعنی وہ شاور لے رہا تھا۔فریحہ بیڈ سے اٹھی ڈریسنگ تک آئی اور بالوں کو کنگی کر کے سمیٹنے لگی۔ریان باہر آ چکا تھا اسے ڈریسنگ ٹیبل کی ضرورت تھی جس پر فلحال فریحہ قبضہ جمائے کھڑی تھی۔ریان نے فریحہ کی طرف دیکھا اور فریحہ نے ریان کی طرف اور پھر وہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھتی ڈریسنگ سے ہٹ گئی اور فریش ہونے کے لئے واش روم چلی گئی۔جب وہ دونوں لاؤنج میں آئے تو فریحہ کی کزنز ناشتہ لے کر آ چکی تھی۔مگر ان تمام لڑکیوں میں سے ایک بھی ناہید نہیں تھی۔نجانے کیوں دل ہی دل میں ریان نے اس بات پر شکر کیا۔شائد وہ ناہید کا اب سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔فریحہ ان سب سے ملنے کے بعد کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور ریان کے لئے پلیٹ میں ناشتہ نکال کر اسے دینے لگی۔میں صرف چاۓ اور ٹوسٹ لوں گا اتنا ہیوی ناشتہ )آئلی چیزیں ( مجھ سے نہیں کھایا جاۓ گا۔ریان نے جلدی سے کہا تو فریحہ نے اس کے لئے کپ میں چاۓ اور ٹوسٹ بڑھا دیا۔اور اس کے لئے ڈالا گیا ناشتہ خود کرنے لگی۔۔***********************فریحہ نے بہت جلد سب کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی اور پورے گھر کا نظام سنبھال لیا تھا۔جگہ تو خیر وہ پہلے نظر میں ہی بنا چکی تھی۔یشل اس سے بہت اٹیچڈ ہوگئی تھی۔ناہید نے اسکول چھوڑ دیا تھا یشل اس کے بعد دو دن اسکول گئی مگر اسے ناہید کی بہت بری عادت ہو چکی تھی اس لئے اس نے بھی اسکول چھوڑ دیا۔فریحہ کام کرنے کے دوران اسے اپنے گھر کی باتیں بتاتی اور مزے مزے کے قصے سناتی جنہیں واقعی میں یشل مزے لے لے کر سنتی۔بدلے میں یشل اسے ریان کی باتیں بتاتی جسے فریحہ پورے دل کے ساتھ سنتی اسے ریان کے بارے میں سننا اچھا لگتا تھااس کا دل چاہتا تھا کہ یشل ریان کی باتیں کرتی جاۓ اور وہ سنتی جاۓ۔۔***********************معیز ٹیرس پر کھڑا ہاتھ میں موبائل لئے تصویر )جو کہ اس نے برات کی رات ٹیبل پر بیٹھی ہوئی گم سم سی ناہید کی لی تھی ( دیکھے جا رہا تھا۔وہ لڑکی اس کے موبائل میں ہی نہیں بلکہ اس کے دل میں بھیقید تھی اور وہ اس بات سے انجان تھی کہ وہ کسی کے دل کی قیدی بن چکی ہے۔کیا یار معیز ایسے بس خالی دیکھتا ہی رہے گا دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس پری کی کیوں ناں آواز بھی سن لی جاۓ۔معیز نے خود ہی سے کلام کرتے ہوئے ناہید کو فون ملایا۔جسے اس نے پہلی نا سہی دوسری نا سہی مگر تیسری بیل پر ضرور اٹھا لیا۔ہیلو ناہید کی نیند میں ڈوبی آواز گھونجی۔ناہید فریحہ کی شادی کے بعد سے سلیپنگ پلز لیا کرتی تھی مگر پھر بھی مشکل سے ہی نیند آتی۔آج بھی ناہید سلیپنگ پلز لے کر سوئی تھی مگر اس کے باوجود بھی اس کی نیند ایسی تھی کہ فون کی آواز سے اٹھ بیٹھی۔پری تم سو رہی تھی کیا۔۔۔کون پری۔۔؟؟اس دن کی طرح ناہید آج پھر پوچھ بیٹھی۔تم پری اور کون ویسے اس وقت بھاری آواز نیند سے سوجھی آنکھوں اور بکھرے بالوں کے ساتھ پری تو تم بلکل بھی نہیں لگ رہی ہو گی تو اس لئے سوری ۔۔۔چڑیل تم کیسی ہو۔۔۔معیز ٹیرس کا دروازہ بند کر کے اب بیڈ پر آ بیٹھا تھا۔کس لئے فون کیا تم نے۔۔۔معیز کو ناہید سے اسی سوال کی امید تھی۔۔۔وہ یہ پوچھنے کے لئے کہ تمہارے پیر کا درد اگر۔۔۔۔۔۔بکواس بند کرو معیز اگر تم نے یہی کہنے کے لئے فون کیا ہےتو میں فون رکھ رہی ہوں۔ناہید نے اسے ٹوکا اور دھمکی تھی۔ارے ارے اچھا سوری اب نہیں کہتا۔۔۔وہ فون میں نے اس لئے کیا تھا کہ پوچھوں کہ تم سو چکی ہو۔۔۔۔معیز ابھی بھی باز نا آیا۔۔۔معیز ۔۔ناہید زور سے چلائی۔۔۔اتنی بھی زور سے نہیں مگر اسکا گلا دکھنے لگا۔۔۔۔ارے یار اچھا پھر سے سوری مجھے یاد آگیا کہ میں نے اصل میں فون کیوں کیا میں نے یہ پوچھنے کے لئے فون کیا تھاکہ اسکول کیسا جا رہا ہے۔۔۔۔معیز سمیت سب کو معلوم تھا کہ ناہید اسکول چھوڑ چکی ہے۔مگر یہ معیز بھی نا۔۔۔۔ہو گئی تمہاری بکواس۔۔۔اب خدا حافظ۔۔اب کی بار ناہید نے غصہ کرنے یا چلانے کی بجاۓ آرام سے مگر دانت پھیستے ہوئے کہا اور فون رکھ دیا۔جبکہ فون رکھنے سے پہلے اسے معیز کا زوردار قہقہ ضرور سنائی دیا تھا۔۔***********************ریان کسی دوست کے ساتھ باہر جا رہا تھا جب شمسہ نے اسےروکا اور بولیں۔میری بات سن کے جاؤ ریان۔جی ماما۔۔۔ریان ان کے پاس بیٹھ گیا۔بیٹا تمہیں کچھ خیال بھی ہے فریحہ کا۔۔۔جی ماما کیوں کیا ہوا۔۔۔؟؟ریان نے گھبراتے ہوئے شمسہ کی طرف دیکھا۔ہوا تو کچھ بیٹا مگر جب سے شادی ہوئی ہے بچی صرف ایک بار ہی اپنے گھر گئی ہے کبھی ملوا ہی لایا کرو اسے۔اسکا بھی دل چاہتا ہوگا اپنے گھر والوں سے ملنے کا۔خود تو جہاں دل چاہتا ہے نکل پڑتے ہو ٹھیک سے اسے وقت بھی نہیں دیتے سارا دن وہ خود کو مصروف رکھے رکھتی ہے۔ابھی بھی دیکھو کہیں نا کہیں جانے کے لئے تیار بیٹھنے ہو۔اسکو بھی کہیں گھما لایا کرو۔۔کہیں اور نا سہی اسکے گھر ہی چکر لگوا لایا کرو۔جی ماما آج لے جاؤں گا ابھی تو میں حیدر کے ساتھ کسی کام سے جا رہا ہوں۔شمسہ خوش ہو گئیں۔ریان اٹھا کچن کے پاس سے گزرتے ہوئے کچن میں مصروف فریحہ کو اس نے رات تیار رہنے کا کہا ) تمہارے گھر جانا ہے ( اور باہر نکل گیا۔فریحہ گھر کا سنتے ہی چہک اٹھی۔شمسہ نے اس کی خوشی دیکھی تو خود بھی مسکرا دیں۔فریحہ نے جلدی سے سارے کام نبٹائے اور کمرے میج چلی گئی کیوں کہ ابھی کپڑے میں نکالنے تھے اور گھر فون کر کے بتانا بھی تو تھا کہ وہ آرہی ہے۔۔*********************ریان گھر آیا تو فریحہ تیار بیٹھی تھی۔پرپل کلر کی کامدار فراک میں نک سک سی تیار ہوئی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ریان کچھ لمحے اسے دیکھے گیا اور سوچنے لگا کہ سامنے بیٹھی خوبصورت لڑکی اس کی بیوی ہے اور یقیناً ناہید ابھی تک اس کے دل میں ڈیرہ جمائے بیٹھی ہے جو وہ اس لڑکی کی تعریف نہیں کر پا رہا۔۔۔۔۔فریحہ جو ریان کے مسلسل دیکھنے کو کچھ اور ہی مطلب دے چکیتھی شرما کر نظریں جھکا گئی۔ریان جانتا تھا کہ وہ کیا سمجھ رہی ہے اس لئے فوراً نظریں پھیر گیا اور بولا۔تم تیار ہو تو چلیں۔جی میں تو کب کی ہی تیار ہوں آپ نے ہی اتنی دیر کر دی۔فریحہ اٹھتے ہوئے بولی۔ہاں وہ بس کچھ کام تھا اس لئے اتنی دیر ہوگئی۔ریان جواب دیتاکمرے سے نکل گیا۔فریحہ بھی اس کے پیچھے چلتی گاڑی میں آ بیٹھی۔

http://novelskhazana.blogspot.com/