Monday, November 12, 2018

راہ محبت قسط 6+5

http://novelskhazana.blogspot.com/



**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 5**یشل کب سے موبائل ہاتھ میں لئے معیز کی تصویر کو تکے جا رہی تھی۔ہمیشہ معیز کی تصویر کو دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر خودبخود ہی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی مگر آج اس کی تصویر کودیکھتے ہوئے یشل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تو بعد کی بات پہلے آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔۔۔وہ جو ناہید کو معیز کے لئے اپنے جذبات بتانے کا ارادہ رکھتی تھی اب یہ غلطی کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔اف یعنی میرے اور بھائی کے نصیب میں ہماری محبتوں کا ملنا لکھا ہی نہیں۔۔۔یا اللّه جب کسی انسان کا ملنا ہمارے نصیب میں ہی نہیں تو پھر ہمارے دل میں اسکی محبت پیدا ہی کیوں کی جاتی ہے۔۔۔کوئی کیا جانے کے محبت کتنی تکلیفوں سے دو چار کرتی ہے۔اس محبت میں انسان بظاہر تو خوش نظر آتا ہے مگر کسی کو کیا معلوم کہ وہ اندر سے کتنا ٹوٹ چکا ہے کتنا بکھر چکا ہے۔مجھے تو اب احساس ہو رہا ہے کہ بھائی کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔۔۔۔کیا گزرتی ہے دل پر جب کسی کی محبت کسی اور کے نصیب میں لکھ دی جاۓ۔۔۔۔یشل نے آنسوں صاف کرتے ہوئے موبائل آف کیا اور واش روں میں جا کر چہرہ دھونے لگی جو کہ آنسوں سے تر ہوتا جا رہا تھا۔۔************************آج فریحہ کی مہندی کی رسم تھی۔گھر کے لان میں تمام انتظار کیا گیا تھا۔بچے جو فریحہ کے پاس پڑھتے تھے وہ بھی اپنی ماؤں سمیت آئے ہوئے تھے۔معیز نے سارے انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔امان صاحب کو ہر قسم کی بھاگ دوڑ اور پریشانی سے دور ہی رکھا۔سب بہت خوش نظر آرہے تھے سواۓ ایک ناہید کے جو کہ پورے گھر میں بھولائی بھولائی سی پھر رہی تھی۔جو خوشی اپنی بہن کی شادی کی اسے ہونی چاہیے تھے وہ اسےمل نا پا رہی تھی۔شادی والا گھر تھا مہمانوں سے بھرا اس لئے کوئی بھی ناہید کی بھولائی صورت اور اسکی مسلسل خاموشی اور رسموں سے دوری محسوس نا کر سکا۔ہاں مگر فریحہ نے اسکی یہ اداسی ضرور نوٹ کی۔اس نے اپنے کمرے کے پاس سے گزرتی ناہید آپ آواز دے کر اپنے پاس بلایا۔ناہید چپ چاپ اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔کیا بات ہے ناہید تم اتنی خاموش کیوں ہو کوئی بات ہے کیا مجھے بتاؤ۔ناہید نے فریحہ کے پوچھنے پر سر اٹھا کر اسےعجیب نظروں سے دیکھا۔آج کل وہ ایسی ہی نظروں سے کتنی ہی دیر تک فریحہ کو دیکھتی رہتی۔شائد یہ کھوجتی رہتی کہ آخر ایسا کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں۔کیا میں اسے بتا دوں کہ میری خاموشی کی کیا وجہ ہے۔کیا میں ایسی ہوں کہ یہ بتا کر اپنی بہن کی خوشیاں چھین لوں یا یہ کہوں کہ میری بہن نے ہی میری خوشیاں چھین لیں۔مگر اس میں فری کا تو کوئی قصور نہیں۔بولو نا ناہید کتنے دنوں سے میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہاری دلچسبی ہر چیز سے اٹھ گئی ہے یوں اداس کیوں رہنے لگی ہو فری نے اسے ہلا کر ہوش دلائی۔۔۔۔زیادہ اداسی والی بات نہیں ہے بس یہی کہ تم چلی جاؤ گی تو میں اکیلی ہو جاؤں گی کونسا میری تین چار بہنیں ہیں ایک تم ہی تو ہو مگر تم ہی )میری محبت کو چھین کر جا رہی ہو( جا رہی ہو۔لو یہ بات تھی میں بھی کہوں پتا نہیں کون سی اتنی پریشانی والی بات ہوگئی جو تم کتنے دنوں سے منہ لٹکائے پھر رہی تھی۔ارے میری جھلی میں کونسا کوئی سات سمندر پار جا رہی ہوں یہی قریب تو جا رہی ہوں۔تمہارا جب دل کیا تم ملنے چلی آنا آخر کومیرا سسرال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ تمہاری دوست کا گھر بھی تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں بھی آتی رہا کروں گی جب بھی بریانی کھانے کا دل چاہے مجھے بس ایک کال کر دیا کرنا میں آجاؤں گی اور پھر اپنے ہاتھوں سے اپنی پیاری سی بہن کو پیاری سی بریانی بنا کر کھلایا کروں گی۔۔۔۔۔۔فریحہ نے جان بوجھ کر بریانی کا ذکر کرتے ہوئے اسکا موڈ ٹھیک کرنا چاہا مگر اس بار بریانی کے نام پر اس کے ہونٹوں پر جھوٹی مسکراہٹ بھی نا آ سکی۔وہ اب کیا بتاتی یہ دکھ بریانی سے کئیں گنا بڑا تھا۔۔۔فریحہ مہندی کے جوڑے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ناہید کو یہ تو ماننا پڑا تھا کہ اس پر روپ بہت آیا تھا۔ناہید اپنا ہاتھ جو کہ فریحہ نے پکڑ رکھا تھا بڑی نرمی سے چھڑواتی اس کے پاس سے اٹھ آئی۔۔************************ہائے ڈیر کزن۔۔۔تمہارے پاؤں کا درد کیسا ہے اگر کم ہو چکا ہے تو۔۔۔۔۔اگر تمہیں یاد ہو تو میرے پاؤں کو چوٹ آج سے پچیس دن پہلے لگی تھی۔اس سے پہلے کہ معیز مزید بکواس کرتا )جو کہ وہ پچھلے پچیس دنوں سے کر رہا تھا( ناہید نے اسے اپنی چوٹ کو پرانا کہہ کر چپ کروا دیا۔ویسے میں تمہارے لئے کچھ لایا تھا۔۔۔تم جو بھی لائے ہو مجھے وہ دیکھنے میں کوئی دلچسبی نہیں اب ہٹو میرے راستے سے۔ناہید اس وقت کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی شادی کا یہ ماحول سجا سجایا گھر اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔مگر مجھے تمہیں وہ خاص چیز دکھانے میں کافی انٹرسٹ ہے۔معیز بھی ڈھیٹ تھا۔دیکھو معیز۔۔۔تم دیکھو ناہید۔۔۔معیز نے کمر کے پیچھے کیے ہاتھوں کو اس کے سامنے کیا جس میں سفید اور سرخ گلاب کے بنے گجرے موجود تھے۔ناہید کو گجرے بہت پسند تھے ہر شادی پے وہ معیز سے خاص فرمائش کر کے اپنے لئے سفید اور سرخ گلاب کے گجرے منگوایا کرتی تھی۔مگر آج ان گجروں کو دیکھ کر اسکا دل پھولوں کی ایک ایک پتی کو نوچ لینے کا چاہا۔کیسے لگے اچھے ہیں نا میں تو انتظار میں تھا کہ محترمہ کبمیرے پاس آئیں گیں اور کہیں گیں کہ معیز مجھے گجرے لا دو اورمیں کچھ کچھ نخرے دکھانے کے بعد آخر مان کر گجرے لے ہو آؤں گا )کیوں کہ ہر بار ایسا ہی ہوتا تھا (مگر تم اس دفعہ میرے پاس یہ فرمائش لے کر آئی ہی نہیں میںکچھ حیران تو ہوا مگر پھر سوچا کہ خود ہی تمہارے لئے گجرے لے آؤں اور کیوں ناں تمہیں سرپرائز دوں۔معیز نے بولنے کے ساتھ ساتھ دونوں گجرے ناہید کی کلائیوں میں اتار دیے۔معیز کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ناہیدکے ملائم و سفید ہاتھوں کو وہ چوم لے۔ناہید کی کلائیوں میں وہ پھول کانٹوں کی طرح چھبنے لگے وہمعیز کو مسلسل بڑبڑاتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں آگئی۔کمرے میں آتے ہی اس نے وہ گجرے اپنی کلائیوں سے اس طرح نوچ کر نکالے کی اس کی کلائیوں پر اپنے ہی ناخنوں کے نشان سے پر گئے۔۔**********************آج برات تھی۔۔۔فریحہ اور سمینہ کب سے ناہید کو کہہ رہی تھیں کہ وہ بھی پارلر سے تیار ہو جاۓ مگر وہ تھی کہ انکار کئے جا رہی تھی۔مجھے نہیں ہونا تیار کیا میں آپ دونوں کو بغیر میک اپ کے اچھی نہیں لگوں گی۔ارے ایسی بات نہیں ہے بیٹا تمہاری بہن کی شادی ہے تمہیں تو سب سے خوبصورت دکھنا چاہیے ناں بہنوں کی شادیوں پے تو لڑکیاں کیا کچھ نہیں کرتیں اور ایک تم ہو کہ سر جھاڑ منہ پھاڑ ایسے ہی بیٹھی ہوئی ہو۔بس میں نے کہہ دیا تم فری کے ساتھ پارلر جا رہی ہو تو مطلب جا رہی ہو۔سمینہ کا خیال تھا کہ اب تو ناہید کو اٹھنا ہی پرے گا مگر وہ یہ سن کر حیران رہ گئیں کہ اس نے اس دفعہ بھی انکار کر دیا۔آپ جو بھی کہہ لیں امی میں نہیں جا رہی تو مطلب نہیں جا رہی۔وہ بھی انہی کے انداز میں کہتی ہوئی اٹھ گئی۔فریحہ اور سمینہ دونوں حیران تھیں کہ یہ آخر اسے ہوا کیا۔دوسروں کی شادیوں پے تو ناہید کی سج دھج دیکھنے والی ہوتی تھی ہر رسم میں بڑھ چڑھ کر بلکہ کود کود کر حصہ لینا اسکا کام تھا شادیوں کے دوران تو اسکے پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹکتے تھے۔مگر اب کا حال دیکھ کر دونوں ماں بیٹی حیران تھی۔اب چونکے فریحہ کو پارلر کے لئے دیر ہو رہی تھی تو وہ زیادہدیر حیران ہوئے بغیر پارلر چلی گئی۔اور سمینہ ناہید کے کمرے میں کیوں کہ اب انہیں ناہید کو کہہ کہہ کر تھوڑا بہت ہی سہی مگر تیار کروانا تھا۔۔*************************ناہید کونے میں ایک ٹیبل پر بیٹھی آسمان کو تکے جا رہی تھی۔فریحہ کو اسٹیج پر بیٹھا دیا گیا تھا۔مگر ناہید ابھی بھی خیالوں میں گم تھی اور ان سے باہر آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ریڈ اور وائٹ ہلکے کامدار نیٹ کے فراک میں ملبوس نیچرل پنک لپ سٹک کاجل سے بے نیاز سونی سونی آنکھوں اور نازک سیجیولری کے ساتھ وہ کھوئی کھوئی سی پری لگ رہی تھی۔معیز اس پری چہرے کو اپنی آنکھوں اور دل کی گہرائیوں میں اتار لینا چاہتا تھا۔کچھ سوچتے ہوئے وہ اس کے پاس آیا۔اس کے کندھے کو ہلکا سا ہلاتے ہوئے اسے پکاڑنے لگا۔"پری"ناہید نے چونک کر اسے دیکھا اور بولی کون پری۔۔۔؟؟تم ناہید۔۔۔۔تمہیں پتا ہے اس وقت تم کسی پری سے کم نہیں لگ رہی۔۔۔۔معیز کی اس بات سے ناہید کے دل میں ہوک سی اٹھی۔)وہ بھی اسے پری ہی کہا کرتا تھا۔۔اور تھا کا مطلب تو آپجانتے ہی ہیں (مگر مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا کہ یہ پری اس طرح اکیلے گم سم سی ہو کر بیٹھی رہے وہاں آگے آؤ سب کے ساتھ بیٹھو۔معیز نے اسے ہاتھ بڑھا کر اٹھانا چاہا تو ناہید ہاتھ پیچھے کر گئی۔معیز تم جاؤ میں آتی ہوں۔ناہید کا موڈ تو بلکل بھی نہیں تھا مگر یہ سوچے ہوئے کہ اس طرح اکیلی بیٹھی وہ خواہ مخواہ ہی لوگوں کی نظروں کامرکز بنے گی معیز کی بات پر حامی بھر لی۔معیز سر ہلاتا ہوا آگے چلا گیا۔۔***********************یشل کب سے ناہید کو ڈھونڈ رہی تھی ایک دو سے پوچھا بھی مگر انہوں نے نفی میں سر ہلا کر اپنی لا علمی کا اظہار کیا۔ناہید تو نا ملی ہاں مگر معیز ضرور مل گیا۔سامنے تیزی سے آتے معیز کے ساتھ وہ ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ارے ارے محترمہ آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔معیز نے رک کر اس سے پوچھا۔جی۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں۔۔آپ غالباً ناہید کی دوست ہیں۔۔جی میں اسی کی دوست ہوں اور۔۔۔۔اور اسے ہی ڈھونڈ رہی ہوں کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں ہے۔معیز کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر نجانے کیوں یشل کی زبان اس کا ساتھ دینے سے انکاری ہو رہی تھی۔جی جی کیوں نہیں یہاں سے سیدھا چلی جائیے گا پھر وہاں سے لفٹ پے آخری ٹیبل پر آپ کو اپکا مطلوبہ انسان مل جاۓ گا۔دھیان سے جائیے گا۔آخر میں معیز شرارت سے کہتا ہوا اس کے پاس سے گزر گیا مگر اس کے کپڑوں سے اٹھتی خوشبو ابھی بھی یشل کے ارد گرد منڈلا رہی تھی۔وائٹ سوٹ پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کئے آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کئے نکھرا نکھرا سا وہ بلاشبہ بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔جب معیز یشل کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو وہ اس کے بتاۓ گئے راستے پر چلتی ہوئی اپنے مطلوبہ انسان تک پہنچ گئی۔۔************************یشل اسے زبردستی اسٹیج پر لے آئی۔ناچار اسے وہاں بیٹھنا ہی پڑا کیوں کہ اسٹیج کے ارد گرد سب ہیموجود تھے اور وہ ان کی موجودگی کو مد نظر رکھتے ہوئے فریحہ کے برابر بیٹھ گئی۔فریحہ کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر ایک لمحے کے لئے ناہید ہر غم بھول گئی بس یاد رہا تو اتنا کہ فریحہ اسکی بہن ہے جوکہ آج دلہن بنی کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی کیا فریحہ آج ہی اتنی حسین لگ رہی ہے یا آج سے پہلے کبھی میں نے اس کے حسن پر غور ہی نہیں کیا۔وہ فریحہ کو دیکھ ہی رہی تھی کہ دوسری طرف ریان فریحہ کے برابر آبیٹھا۔فریحہ اس کی موجودگی سے کچھ سمٹ سی گئی نظریں اور بھی جھک گئیں۔ناہید کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے تو ریان کی دنیا ہی رک گئی۔پھر اس نے فریحہ کو دیکھا بلاشبہ وہ بھی بہت حسین لگ رہی تھی مگر ریان خود کو یہ سوچنے سے روک نا سکا کہ فریحہ اتنا تیار ہونے کے بعد اتنی حسین لگ رہی ہے جبکہ ناہید اتنی سادگی میں بھی دلہن سے کہیں بڑھ کر تھی )ریان کی نظروں میں (۔ریان کی موجودگی میں ناہید سے وہاں نا بیٹھا گیا اس لئے وہ وہاں سے اٹھ گئی۔ریان کو اسکا اس طرح اٹھ کر جانا برا تو بہت لگا مگر وہ کیا کرتا۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھی ناہید کی طرح اٹھ کر کہیں بھاگ جاۓ مگر وہ کوئی مہمان نہیں تھا وہ دولہا تھااس لئے ناچار اسے وہیں بیٹھنا پڑا۔۔*************************

















**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 6**ناہید فریحہ کی
 رخصتی پر تو بلکل نا روئی مگر اس کے جانے کے بعد کمرے میں آکر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔فریحہ چلی گئی اس کے ساتھ جس کے ساتھ وہ خود جانے کی خواہش رکھتی تھی۔ناہید اس طرح رو رہی تھی کہ اس کے رونے کی آواز سن کر سمینہ اس کے کمرے میں چلی آئیں۔ناہید بیٹا کیا ہوا اتنی بری طرح سے کیوں رو رہی ہو آخر۔۔۔انہوں نے اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا۔امی وہ فریحہ چلی گئی ناں مجھے اسکی یاد۔۔۔۔ناہید اتنا ہی بول سکتی۔یاد تو پھر آتی ہی ہے بہنوں کی مگر تم اتنا اداس مت ہو فریحہ کون سا بیاہ کر کوئی دور گئی ہے آتی جاتی رہا کرے گی۔اب تم اٹھو شاباش منہ دھو اور سونے کی تیاری کرو۔سمینہ نے کہا تو وہ اٹھ کر واش روم چلی گئی گئی۔سمینہ اس کے کمرے کی لائٹ بند کرتیں سیڑھیاں اترنے لگیں۔۔************************فریحہ کب سے ریان کا انتظار کر رہی تھی جو کمرے میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا نجانے کہاں بیٹھا ہوا تھا رات کا ایک بجنے کو تھا ۔فریحہ بہت تھک چکی تھی۔آخر اس انتظار سے تھک ہار کر اٹھی اور واش روم جانے لگی جب دروازے پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی وہ یقیناً ریان تھا۔فریحہ وہیں تھم گئی۔ریان کمرے میں آیا سب سے پہلے سلام لی اور پھر حیران ہوتا ہوا بولا آپ نے ابھی تک کپڑے چینج نہیں کئے۔جبکہ فریحہ اسکی اس بات پر اس سے بھی زیادہ حیران ہوئی۔ظاہر ہے ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اسکا شوہر اسے دلہن کے جوڑے میں جی بھر کر دیکھے مگر ریان نے اسے ایک نظر ہی دیکھا اور پھر بیڈ پر گر گیا۔جی وہ بس چینج کرنے ہی جا رہی تھی۔فریحہ منمنائی۔چینج کرنے کے بعد جب وہ واش روم سے نکلی تو ریان کمرے میںموجود نا تھا۔اس دیکھا ٹیرس کا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ وہیں چلی آئی۔ریان گرل پے دونوں بازؤں کی کہنیاں ٹیکائے آسمان کی طرف دیکھتا کچھ کھوج رہا تھا۔آپ کو نیند نہیں آئی کیا۔۔۔؟؟فریحہ سوچ رہی تھی کیا بات کرے پھر آخر شروعات یہاں سے کی۔ریان نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا بلکل انہی نظروں سے جن نظروں سے آج کل ناہید اسے دیکھا کرتی تھی۔فریحہ نے اس کی نظروں سے گھبرا کا منہ دوسری طرف کر لیا۔کچھ تو عجیب تھا اس کی نظروں میں جیسے کہہ رہا ہو )تم اس کمرے میں کیا کر رہی ("نہیں"ریان نے فریحہ کی بات کا مختصر جواب دیا۔سنیے فریحہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔فریحہ واپس مرنے لگی جب ریان نے اسے یہ کہتے ہوئے روکنا چاہا۔جی کہیے۔دیکھیں فریحہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا اور نا ہی کوئی لمبیچوڑی تقریر کروں گا۔سچ یہ ہے کہ آپ صرف میرے والدین کی پسند ہیں اور اس پسند پرمیں آسانی سے نا سہی مگر راضی ضرور ہوگیا۔میں فلحال آپ کی طرف بڑھنا نہیں چاہتا میں کوئی رانجھا یا مجنوں نہیں ہوں جو آپ سے محبت کا اظہار کرتا رہو وہ محبت جو مجھے فلحال آپسے ہے ہی نہیں۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ابھی نہیں ہے تو کبھی نہیں ہوگی۔ہو سکتا ہے کہ آہستہ آہستہ آپ مجھے اچھی نہیں بلکہ بہتاچھی لگنے لگیں مگر وہ وقت کب آئے گا یہ میں نہیں جانتا۔مجھے آپ سے کچھ وقت کی طلب ہے مجھے امید ہے کہ آپ مجھے نا صرف وقت کی مہلت دیں گیں بلکہ میری باتوں کو سمجھنے کی کوشش بھی کریں گیں۔فریحہ تو بس اس کے ہلتے لبوں کو دیکھتی رہی۔۔۔یہ کیا کہہ رہے تھے وہ کتنا وقت درکار ہوگا انہیں معلوم نہیں مگر فریحہ کو انہیں وقت دینا ہی تھا۔آپ کو جتنا بھی وقت چاہیے آپ لے سکتے ہیں آپ میری طرف سے تسلی رکھیں میں کبھی بھی آپ کو کسی بارے میں بھی شکایات کا موقع نہیں دوں گی۔فریحہ نے زبردستی ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔اب آپ جا سکتی ہیں اور پلیز سو جائیے میرا انتظار مت کیجئے گا میں کچھ دیر اور جاگنا چاہتا ہوں۔)کچھ دیر سے مراد شائد ساری رات(۔جی ٹھیک ہے فریحہ فرمابردار بیوی کی طرح سر ہلاتی سونے چلی گئی۔)یا پھر جاگنے (۔***********************فریحہ صبح اٹھی تو ریان کمرے میں نا تھا واش روم سے پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی۔یعنی وہ شاور لے رہا تھا۔فریحہ بیڈ سے اٹھی ڈریسنگ تک آئی اور بالوں کو کنگی کر کے سمیٹنے لگی۔ریان باہر آ چکا تھا اسے ڈریسنگ ٹیبل کی ضرورت تھی جس پر فلحال فریحہ قبضہ جمائے کھڑی تھی۔ریان نے فریحہ کی طرف دیکھا اور فریحہ نے ریان کی طرف اور پھر وہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھتی ڈریسنگ سے ہٹ گئی اور فریش ہونے کے لئے واش روم چلی گئی۔جب وہ دونوں لاؤنج میں آئے تو فریحہ کی کزنز ناشتہ لے کر آ چکی تھی۔مگر ان تمام لڑکیوں میں سے ایک بھی ناہید نہیں تھی۔نجانے کیوں دل ہی دل میں ریان نے اس بات پر شکر کیا۔شائد وہ ناہید کا اب سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔فریحہ ان سب سے ملنے کے بعد کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور ریان کے لئے پلیٹ میں ناشتہ نکال کر اسے دینے لگی۔میں صرف چاۓ اور ٹوسٹ لوں گا اتنا ہیوی ناشتہ )آئلی چیزیں ( مجھ سے نہیں کھایا جاۓ گا۔ریان نے جلدی سے کہا تو فریحہ نے اس کے لئے کپ میں چاۓ اور ٹوسٹ بڑھا دیا۔اور اس کے لئے ڈالا گیا ناشتہ خود کرنے لگی۔۔***********************فریحہ نے بہت جلد سب کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی اور پورے گھر کا نظام سنبھال لیا تھا۔جگہ تو خیر وہ پہلے نظر میں ہی بنا چکی تھی۔یشل اس سے بہت اٹیچڈ ہوگئی تھی۔ناہید نے اسکول چھوڑ دیا تھا یشل اس کے بعد دو دن اسکول گئی مگر اسے ناہید کی بہت بری عادت ہو چکی تھی اس لئے اس نے بھی اسکول چھوڑ دیا۔فریحہ کام کرنے کے دوران اسے اپنے گھر کی باتیں بتاتی اور مزے مزے کے قصے سناتی جنہیں واقعی میں یشل مزے لے لے کر سنتی۔بدلے میں یشل اسے ریان کی باتیں بتاتی جسے فریحہ پورے دل کے ساتھ سنتی اسے ریان کے بارے میں سننا اچھا لگتا تھااس کا دل چاہتا تھا کہ یشل ریان کی باتیں کرتی جاۓ اور وہ سنتی جاۓ۔۔***********************معیز ٹیرس پر کھڑا ہاتھ میں موبائل لئے تصویر )جو کہ اس نے برات کی رات ٹیبل پر بیٹھی ہوئی گم سم سی ناہید کی لی تھی ( دیکھے جا رہا تھا۔وہ لڑکی اس کے موبائل میں ہی نہیں بلکہ اس کے دل میں بھیقید تھی اور وہ اس بات سے انجان تھی کہ وہ کسی کے دل کی قیدی بن چکی ہے۔کیا یار معیز ایسے بس خالی دیکھتا ہی رہے گا دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس پری کی کیوں ناں آواز بھی سن لی جاۓ۔معیز نے خود ہی سے کلام کرتے ہوئے ناہید کو فون ملایا۔جسے اس نے پہلی نا سہی دوسری نا سہی مگر تیسری بیل پر ضرور اٹھا لیا۔ہیلو ناہید کی نیند میں ڈوبی آواز گھونجی۔ناہید فریحہ کی شادی کے بعد سے سلیپنگ پلز لیا کرتی تھی مگر پھر بھی مشکل سے ہی نیند آتی۔آج بھی ناہید سلیپنگ پلز لے کر سوئی تھی مگر اس کے باوجود بھی اس کی نیند ایسی تھی کہ فون کی آواز سے اٹھ بیٹھی۔پری تم سو رہی تھی کیا۔۔۔کون پری۔۔؟؟اس دن کی طرح ناہید آج پھر پوچھ بیٹھی۔تم پری اور کون ویسے اس وقت بھاری آواز نیند سے سوجھی آنکھوں اور بکھرے بالوں کے ساتھ پری تو تم بلکل بھی نہیں لگ رہی ہو گی تو اس لئے سوری ۔۔۔چڑیل تم کیسی ہو۔۔۔معیز ٹیرس کا دروازہ بند کر کے اب بیڈ پر آ بیٹھا تھا۔کس لئے فون کیا تم نے۔۔۔معیز کو ناہید سے اسی سوال کی امید تھی۔۔۔وہ یہ پوچھنے کے لئے کہ تمہارے پیر کا درد اگر۔۔۔۔۔۔بکواس بند کرو معیز اگر تم نے یہی کہنے کے لئے فون کیا ہےتو میں فون رکھ رہی ہوں۔ناہید نے اسے ٹوکا اور دھمکی تھی۔ارے ارے اچھا سوری اب نہیں کہتا۔۔۔وہ فون میں نے اس لئے کیا تھا کہ پوچھوں کہ تم سو چکی ہو۔۔۔۔معیز ابھی بھی باز نا آیا۔۔۔معیز ۔۔ناہید زور سے چلائی۔۔۔اتنی بھی زور سے نہیں مگر اسکا گلا دکھنے لگا۔۔۔۔ارے یار اچھا پھر سے سوری مجھے یاد آگیا کہ میں نے اصل میں فون کیوں کیا میں نے یہ پوچھنے کے لئے فون کیا تھاکہ اسکول کیسا جا رہا ہے۔۔۔۔معیز سمیت سب کو معلوم تھا کہ ناہید اسکول چھوڑ چکی ہے۔مگر یہ معیز بھی نا۔۔۔۔ہو گئی تمہاری بکواس۔۔۔اب خدا حافظ۔۔اب کی بار ناہید نے غصہ کرنے یا چلانے کی بجاۓ آرام سے مگر دانت پھیستے ہوئے کہا اور فون رکھ دیا۔جبکہ فون رکھنے سے پہلے اسے معیز کا زوردار قہقہ ضرور سنائی دیا تھا۔۔***********************ریان کسی دوست کے ساتھ باہر جا رہا تھا جب شمسہ نے اسےروکا اور بولیں۔میری بات سن کے جاؤ ریان۔جی ماما۔۔۔ریان ان کے پاس بیٹھ گیا۔بیٹا تمہیں کچھ خیال بھی ہے فریحہ کا۔۔۔جی ماما کیوں کیا ہوا۔۔۔؟؟ریان نے گھبراتے ہوئے شمسہ کی طرف دیکھا۔ہوا تو کچھ بیٹا مگر جب سے شادی ہوئی ہے بچی صرف ایک بار ہی اپنے گھر گئی ہے کبھی ملوا ہی لایا کرو اسے۔اسکا بھی دل چاہتا ہوگا اپنے گھر والوں سے ملنے کا۔خود تو جہاں دل چاہتا ہے نکل پڑتے ہو ٹھیک سے اسے وقت بھی نہیں دیتے سارا دن وہ خود کو مصروف رکھے رکھتی ہے۔ابھی بھی دیکھو کہیں نا کہیں جانے کے لئے تیار بیٹھنے ہو۔اسکو بھی کہیں گھما لایا کرو۔۔کہیں اور نا سہی اسکے گھر ہی چکر لگوا لایا کرو۔جی ماما آج لے جاؤں گا ابھی تو میں حیدر کے ساتھ کسی کام سے جا رہا ہوں۔شمسہ خوش ہو گئیں۔ریان اٹھا کچن کے پاس سے گزرتے ہوئے کچن میں مصروف فریحہ کو اس نے رات تیار رہنے کا کہا ) تمہارے گھر جانا ہے ( اور باہر نکل گیا۔فریحہ گھر کا سنتے ہی چہک اٹھی۔شمسہ نے اس کی خوشی دیکھی تو خود بھی مسکرا دیں۔فریحہ نے جلدی سے سارے کام نبٹائے اور کمرے میج چلی گئی کیوں کہ ابھی کپڑے میں نکالنے تھے اور گھر فون کر کے بتانا بھی تو تھا کہ وہ آرہی ہے۔۔*********************ریان گھر آیا تو فریحہ تیار بیٹھی تھی۔پرپل کلر کی کامدار فراک میں نک سک سی تیار ہوئی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ریان کچھ لمحے اسے دیکھے گیا اور سوچنے لگا کہ سامنے بیٹھی خوبصورت لڑکی اس کی بیوی ہے اور یقیناً ناہید ابھی تک اس کے دل میں ڈیرہ جمائے بیٹھی ہے جو وہ اس لڑکی کی تعریف نہیں کر پا رہا۔۔۔۔۔فریحہ جو ریان کے مسلسل دیکھنے کو کچھ اور ہی مطلب دے چکیتھی شرما کر نظریں جھکا گئی۔ریان جانتا تھا کہ وہ کیا سمجھ رہی ہے اس لئے فوراً نظریں پھیر گیا اور بولا۔تم تیار ہو تو چلیں۔جی میں تو کب کی ہی تیار ہوں آپ نے ہی اتنی دیر کر دی۔فریحہ اٹھتے ہوئے بولی۔ہاں وہ بس کچھ کام تھا اس لئے اتنی دیر ہوگئی۔ریان جواب دیتاکمرے سے نکل گیا۔فریحہ بھی اس کے پیچھے چلتی گاڑی میں آ بیٹھی۔

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/