http://novelskhazana.blogspot.com/
قسط_15از فرحت نشاط مصطفے
میں ایک نازک لڑکی سہیپر کیا تم نے سیپ میں موتی دیکھا ہےوہ بھی نازک ہوتا ہےمگر اس پہ ایک خول ہوتا ہےجو اس کا اصل چھپاتا ہےاور وہی دکھاتا ہے جو اسے نظر آتا ہےمجھ پہ بھی خول چڑھ چکا ہےمحبت کا ....نگہبانی کا....نگرانی کاایلاف اس وقت لاہور کے مشہور ترین اسپتال کی بلڈنگ میں داخل ہورہی تھیرسیپشن سے اس نے اپنے مریض.....اس لفظ پہ ہی ایلاف ہل گئی تھی ....پوچھا تھامگر یہ تو آغاز امتحان تھاچھوٹے مگر مضبوط قدم اٹھاتی وہ اس وقت ICU کے سامنے کھڑی تھی داد شاہ اسے دیکھ کے حیران ہوا تھاکہاں فون پہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی اور کہاں اب وہ اسپتال پہنچ چکی تھی" داد شاہ مجھے اذلان کے ڈاکٹر سے ملنا ہے...کس ڈاکٹر نے انہیں اٹینڈ کیا ہے?" ایلاف کے لہجے میں کوئی کمزوری نہ تھی" آئیں میں آپ کو لے چلتا ہوں"ایلاف نے چاہا کہ پہلے وہ اذلان کو دیکھ لے مگر پھر سر جھٹک کے آگے بڑھ گئی تھی"ہم پیر اذلان شاہ کی بیوی ہیں....ہمیں ان کی کنڈیشن معلوم کرنی ہے " ایلاف ڈاکٹر کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولییہ ڈاکٹر انجم علوی تھے اس اسپتال کے سینئر موسٹ ڈاکٹر"اذلان شاہ کے سر پہ ذیادہ چوٹیں لگیں ہیں ...اس لئے وہ کومے میں ہیں" ڈاکٹر صاحب نے تمہید باندھی تھی"ہم یہ جانتے ہیں آپ بتائیں ریکوری میں کتنا وقت لگے گا....وہ کب ہوش میں آئیں گے?"ڈاکٹر انجم کیلئے یہ سوال روایتی تھا ...دن میں کتنی بار انہیں اس سوال کا جواب دینا پڑتا تھا"کچھ معلوم نہیں....گوڈ نوز بیٹر ....یہ ان کی ول پاور پہ بھی ڈیپینڈ کرتا ہے ...ہوسکتا ہے وہ کل ہوش میں آجائیں ....یہ بھی کہکچھ دن..کچھ ہفتوں .. یا کچھ مہینوں بعد...اور خدا نہ کرے کہ ہوسکتا ہے کہ کبھی..." ابھی بات ادھوری ہی تھی کہ ایلاف نے انہیں ٹوک دیا تھا" انہیں ہوش میں آنا پڑے گا ...آج نہیں تو کل ...کل نہیں تو پرسوں...انہیں لوٹنا ہوگا اس اندھیرے سے ....وہ روشنی کے مسافرہیں...ان کا اختتام یہ نہیں ہوسکتا ....اس لئے دوبارہ آپ یہ بات نہیں کریں گے " ایلاف کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی کانپا تھاڈاکٹر انجم نے چشمے کے اوٹ سے اس لڑکی کو دیکھا ...انہیں دن میں روز جذباتی باتیں سننے کو ملتیں تھیں مگر یہ لڑکی...انہوں نے اس لڑکی کو غور سے دیکھا تھانقاب سے جھانکتی اس کی سبز آنکھوں میں سرد مہری تھیلہجے میں بیگانگی تھیمگر اس شخص کیلئےپروا ہی پروا تھیفکر ہی فکر تھییہ کچھ انوکھا تھایہ جذبات نہیںیقین بول رہا تھااعتبار بول رہا تھامان بول رہا تھااور بھلا جذباتی لوگ اتنے مضبوط ہوتے ہیں بھلااس کی سبز آنکھوں میں لالی اس. بات کی گواہ ہے کہ یہ جذباتی کیفیت سے گزر چکی ہے اور اب حقیقت کہ فیز میں داخل ہوچکی ہے" ہوں" ڈاکٹر انجم نے اس پہ ہی اکتفا کیا تھا" ان کی ڈیلی پروگریس ہمیں چاہئے ...اینڈ ون تھنگ مور ڈاکٹر صاحب ...کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیۓ....اسے ہمبل ریکویسٹ سمجھیں یا آرڈر ...." ایلاف اٹھتے ہوئے بولی" کوما ایک طویل بیماری کا نام ہے ....ایک طویل نیند جو کبھی بھی ختم ہوسکتی ہے ...ہم اس کا آغاز تو جان سکتے ہیں مگر انجام نہیں " ڈاکٹر انجام نے اسے تفصیل بتائی تھی" آپ کی میڈیکل سائنس...معجزوں کو نہیں مانتی مگر ہم مانتے ہیں...اذلان شاہ بہت جلد صحت یاب ہوجائیں گے " ایلاف نے بات ختمکردی تھی" اذیت راس ہے سائیںجی بھر کے ستایا جائے"وہ اس وقت اذلان شاہ کے پٹیوں میں جکڑے وجود کے پاس کھڑیتھی" یہ کیا کیا ...پیر سائیں...ناراض تو ہمیں ہونا تھا ....روٹھنے کا حق ہمارا تھا ...منانا تو آپ کو تھا ....لیکن ہر بار کی طرحاس بار بھی آپ آگے نکلے....خود سے بھی روٹھ گئے....ہماری طرف تو دیکھنے کے تو آپ ویسے بھی روادار نہیں تھے " ایلاف اذلان شاہ کے پاس کھڑی اس سے مخاطب تھییہ جانتے ہوئے بھیکہ وہ اس کا شکوہ سن نہیں سکتااس کے آنسو دیکھ نہیں سکتااس کا دکھ محسوس نہیں کرسکتامگر ایلاف بھی کیا کرتیاسے عادت ہوگئی تھیاپنا دکھ اس سے ہی کہنے کیاپنے آنسو اسے دکھانے کیاپنے دکھ اسے محسوس کرانے کیایلاف نے اس کی چادر سے اپنے آنسو رگڑ ڈالے تھےوہی ہمیشہ والی عادت" ہم صبح آئیں گے ....روز آئیں گے ...تب تک آئیں گے ..جب تک آپ مان نہ جائیں " ایلاف نے اذلان کے کان پاس سرگوشی کی تھیاور باہر آگئی تھی______________________________" داد شاہ " ایلاف نے اسے پکار لیا تھا" تمہارے علاوہ سائیں کس پہ آنکھ بند کر کے اعتبار کرتے ہیں " ایلاف کا سوال اس کیلئے حیران کن تھا" یہ سجاول خان" انگلی سے اس نے ایک تنومند بندے کی طرف اشارہ کیا" سجاول خان ...تین دن آپ اور تین دن داد شاہ جاگیر میں رہیں گے اور اسپتال میں ...وہاں کے ہر لمحے کی خبر چاہئیے اور جو یہاں ہوگا ....وہ ہمیں یہاں کے جو بھی مسئلے ہیں ہمیں ان کی اطلاعہونی چاہئیے ...سجاول خان روانہ ہوجائیں آپ" ایلاف نے اپنی ذمہ داری آج سے ہی نبھانی شروع کردی تھی"جی بہتر" سجاول خان سلام کرتا ہوا جا چکا تھا" داد شاہ.....وہ گاڑی کہاں ہے?" ایلاف نے اب اسے مخاطب کیا تھا" بی بی سائیں وہ تو ابھی پولیس کسٹڈی میں ہے .....مگر آپ کیوں پوچھ رہیں ہیں ?" داد شاہ نے حیرت سے پوچھا تھا" ہمیں اس گاڑی کی فرانزک رپورٹ چاہیئے....ہمیں اس حادثے کی وجہ جاننی ہے وہ گاڑی دو دن پہلے جاگیر سے آئی تھی ... ہم اس معاملے کو یونہی جانے نہیں دے سکتے" ایلاف کا دماغ اس بات پہ بھی الجھا ہوا تھا" اور یہ ڈرائیور کہاں تھا جب اذلان نکلے تھے گھر سے گاڑی لے کے" ایلاف نے یہ بھی پوچھا تھا" اسے پیر سائیں نے خود ہی روکا تھا وہ وہیں دفتر میں ہی تھا" داد شاہ کو آج ایلاف پہ بہت حیرت ہو رہی تھی" وہ کسی ماہر تفتیشی افسر کی طرح ایک ایک نکتہ کو کرید رہی تھی" تم فرانزک ٹیم کیلئے جلد از جلد کہو اور اس کی رپورٹ بنواؤ...پیر سائیں کا موبائل ہمیں دو اور ہمارا نمبر اپنے پاس رکھو....ہم اب صبح آئیں گے" ایلاف نے اس سے اذلان شاہ کا موبائل مانگ لیا تھااس کا دماغ بہت کچھ ایک ساتھ سوچ رہا تھا اور سن سا ہو رہا تھا ...گھر لوٹی تو امیراں اسی کی ہی منتظر تھی" اماں سائیں سو گئیں کیا?" ایلاف نے اماں کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا تھا" وہ جی بلڈ پریشر کی دوا کھا کے سو گئیں ہیں ....ان کا بھی برا حال ہے.. آپ کھانا کھا لیں...تھک گئیں ہیں" امیراں ہمدردی سے بولی"اتنی نازک سی تو ہیں بی بی "ایلاف نے منع کرنا چاہا پھر خاموشی سے سر ہلادیا" اتنے محاذوں پہ لڑنا ہے کچھ تو توانائی ملے" دل نہیں کر رہا تھا مگر دل کی سنے کونمعدے کو کھانا چاہئیےاور دماغ کو توانائی چاہئیےوہ چپ چاپ میز پہ آ کے بیٹھ گئی تھیامیراں نے شام میں کچھ نہیں بنایا تھا ...ظاہر ہے دوپہر کا بھی کسی نے نہیں کھایا تھاایلاف نے کھانا دیکھااس کے ہاتھ کی پکی ہوئی مچھلیاور پلاؤیہ اہتمام جس کیلئے تھااس نے تو نگاہ بھر کے بھی نہیں دیکھا تھااورنگاہیں پھیر لیں تھیںایلاف کا دل ہی خراب ہوگیا تھااس سے کھایا ہی نہیں گیا"مجھے دودھ دے دو امیراں .....اٹھا لو یہ " ایلاف اٹھ گئی تھی"اس کھانے کے نصیب میں ہی نہیں کسی کے منہ لگنا" امیراں کابھی موڈ خراب ہوگیا تھا"ایلاف جائے نماز بچھا کے کھڑی ہوگئی تھیوہ اندر سے ٹوٹ رہی تھیآنسو ابلنے کو بیتاب تھےاس کے دل پہ برچھیاں چل رہیں تھیںاس کا سائبان خطرے کے طوفان کی زد میں آکے اکھڑ رہا تھالیکنوہ اب آنسو کسی کے سامنے نہ بہانے کا تہیہ کر چکی تھیسوائےاس ایک ذات کےجو دلوں کی حالت جانتا ہےوہ روتے ہوؤں کا سب سے بڑا غمگسار ہےہمدرد ہےاس نے سات سمندر پیدا کئے ہیں مگرمحبت وہ صرف ایک اشک سے کرتاجو اس کے سجدے میں بہائے جائیںایلاف کا یقین بھی وہی تھااور بھروسہ بھیاور جن کی طاقت رب کا یقین ہووہ کبھی مار نہیں کھاتےہمت نہیں ہارتے_____________________________ایلاف کے شب و روز نہایت مصروف ہوچلے تھےصبح وہ حسب معمول شاہ بی بی کے ساتھ اسپتال جاتی تھیپھر داد شاہ کی رہنمائی میں آفساس کے بعد اسے لینگویج سینٹر جانا ہوتا تھاشام میں ایک بار پھر اسپتال کا چکر لگانے کے بعد وہ گھر آئے مہمانوں سے بھی نپٹتی تھیوہ کسی کو تاثر نہیں دینا چاہتی تھیکہ وہ کچھ برا یا غلط سوچیںمگر سوچنے والے تو سوچ لیتے ہیںچاہے ہم دودھ کے ہی کیوں نہ دھلے ہوںاس دن بھی خاندان کی کچھ بزرگ خواتین کے ساتھ تانیہ شاہ بھی شہر آئی تھی ساتھ میں اس کی ماں بھی تھیںکمال شاہ اور احمد شاہ بھی چکر لگاتے رہتے تھےبنین شاہ ...شاہ بی بی کی وجہ سے رکی ہوئی تھیمگر فون وہ روز کرتی تھی" ہائے آپ لوگوں نے دیکھا کہ کتنی کوئی سبز قدم نکلی...پیر سائیں کی بیوی...ارے دن رات جیٹھ جی کا پیر گاڑی میں ہوتا تھا کبھی انہیں کھرونچ نہ آئی اور اب دیکھیں کیسے ہٹا کٹابندہ موت کے منہ میں پہنچ گیا...نری نحوست " تانیہ کی زبان فراٹے سے شاہ بی بی کی غیر موجودگی میں ایلاف کی شان میں قصیدہ گھڑ رہی تھیجو اندر آتی ایلاف اور شاہ بی بی نے بہ خوبی سنا تھا" اوہ دیودانی جی ...آپ کیوں خفا ہوتیں ہیں....کسی زمانے میں آپ کو بھی یہ لقب مل چکا ہے نا تو اب آپ ہم پہ بھی اس کا لیبل لگائیں گی " ایلاف کا لہجہ بہت سرد تھابالکل ٹھنڈا برف جیسا" کیا مطلب ....بہو " وہ خاتون شاید اس قصے سے بے خبر تھیں" آپ کو نہیں پتہ...تانیہ کی شادی کے دوسرے دن ہی احمد شاہ کو گولی لگی تھی اور ان کی حالت بہت سیریس تھی ...وہ تو اوپر والے نے کرم کیا....تو اس حساب سے تو تانیہ شاہ آپ ہی ہوئیں اس سبز قدم کی داغ بیل ڈالنے والی" ایلاف پتھر پھوڑ رہی تھی" مجھ پہ بات کرنا اتنا آسان نہیں تانیہ شاہ " ایلاف کو یہ قصہ بنین نے ہی سنایا تھا گو کہ اس کا مقصد ایلاف کو حوصلہ دینا تھا مگر یہ بات آج ایلاف کے بہت کام آئی تھیاہانت سے تانیہ کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا" اسے کس نے بتایا " اس سے پنگا لینا ہمیشہ مہنگا پڑتا تھا" ہیں تانیہ...تم نے بتایا ہی نہیں کبھی" وہ خاتون واقعی بے خبر تھیں"امیراں مہمانوں کا دھیان رکھنا ....خاص طور سے ہماری دیورانی کا " ایلاف کہہ کے اٹھ چکی تھیشاہ بی بی نے آج واپس جانا تھابقول ایلاف کے" اماں سائیں...وہاں آپ کی ذیادہ ضرورت ہے ...آپ دعا وہاں بیٹھ کے بھی کرسکتی ہیں...ہم ابھی اس میدان میں نئے ہیں ...ہمیں آسرا تو دیں وہاں کے حالات کچھ تو بہتر ہوں گے " ایلاف کو سجاول خان سے ڈیلی رپورٹ ملتی تھیکچھ اڑتی اڑتی خبریں اس نے سنیں تھیںوہ شاہ بی بی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے مناسب لفظوں میں انہیں جانے کو کہا تھا جاگیرایلاف کو اسپتال سے دیر ہورہی تھی اس لئے وہ نکل گئی تھی جلدی سے باہر کو______________________________" بڑے امتحانوں میں ڈال دیا ہے اذلان شاہ آپ نے ہمیں....ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی....آپ جلدی سے ٹھیک ہوجائیں " ایلاف کو عادت سی ہوچلی تھیوہ اسپتال آ کے گھنٹوں کے حساب سے اذلان شاہ سے بے تکانباتیں کرتی" کبھی تو وہ کوئی اظہار کرے گا "ڈاکٹرز کہتے تھے کہ ہماری باتیں اگر کومے میں موجود شخص کو سنائیں دے رہیں ہیں تو وہ لازمی رسپانس کرتا ہےآنسوؤں کی صورت ہی سہیاور ایلاف اس سے اس لئے ہی باتیں کرتی تھیمگر وہ یہ کبھی نہیں چاہتی کہ اگر یہ پہاڑ جیسا شخص اگر بے بس ہوا ہےتو وہ ضروری نہیں رو کے اظہار کرےکہ وہ ایلاف کو سن رہا ہےاذلان شاہ کو مہینہ ہوچلا تھااس کے زخم بھر رہے تھےمگر اس کے کومے کا تسلسل بر قرار تھاایلاف اس کے سرہانے بیٹھ کے تلاوت کرتی تھیپھر اس سے باتیں کرتیکتابیں یوں پڑھ کے سناتی تھی جیسے وہ سن رہا ہوآج حسب معمول تلاوت ختم ہونے کے بعد اس نے اذلان شاہ پہ پڑھ کے پھونک ماری تھی"اللّه آپ کو صحت دے " ہمیشہ والی دعا اس نے آج بھی مانگی تھیپھر نیل کٹر لے کے وہ اذلان کے پاس کرسی کھینچ کے بیٹھ گئی تھی اور نرمی سے اس کے ناخن کاٹنے لگی تھی"ایک بات کہوں آپ سے " ایلاف نے جیسے اجازت چاہی اور تھوڑیدیر کیلئے چپ ہو گئیپھر کچھ دیر بعد بولی جیسے اجازت مل گئی ہوسنو اے ہم نشین میرےراز دار میرےتم لاکھ روٹھ جاؤہم سے ہار جاؤ گےہم تم کو منا ہی لیں گےاپنا اور تمہارا ساتھ نبھا ہی لیں گےکہہ کے اس نے اذلان کا چہرہ کھوجا کوئی تو احساس ہوگامگر نہیں وہاں وہی سمنرروں کی گہرائی میں موجودجامد سکوت تھابرف جیسا سرد احساساس نے آج بھی اسے نہیں سنا تھا______________________________ایلاف گھر لوٹی تو خاموشی نے اس کا استقبال کیا تھا" سب چلے گئے" ایلاف نے اپنے انتظار میں جاگتی امیراں سے پوچھاآج وہ اذلان شاہ کے شیلٹر ہوم بھی گئی تھی جہاں بے آسرا عورتوں کو پناہ دی جاتی تھی اس لئے اسے دیر ہوگئی تھی" جی سب چلے گئے وہ تانیہ بی بی کا موڈ بھی بہت خراب تھا شاہ بی بی نے انہیں بہت ڈانٹا تھا " امیراں نے اسے بتایا تھا" علاج ہے اس کا " ایلاف نے ذیادہ تبصرہ نہ کیا تھااور دو دن بعد جب وہ اذلان شاہ کے پاس بیٹھی اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کر رہی تھی جب داد شاہ دروازے پہ دستک دے کے اندر آیا تھا" کیا بات ہے داد شاہ"" بی بی سائیں....سجاول خان کا فون آیا ہے " داد شاہ نے جو خبراسے دی تھی ایلاف کا دماغ گھوم گیا تھا" تو تانیہ شاہ تم نے اپنا رنگ دکھا ہی دیا اور احمد شاہ تم واقعی جورو کے غلام نکلے....پیروں کے خاندان میں کیا کر رہے ہو "ایلاف اٹھ چکی تھی" ہمارے ساتھ آؤ داد شاہ" ایلاف ایک نتیجہ پہ پہنچ چکی تھیداد شاہ اس کی شکل دیکھ کے رہ گیا تھا______________________________اور بہت دور کہیں سات سمندد پار ایک پیغام پہنچا تھااور اس کے بعد ایک فون بھی______________________________" احمد" تانیہ نے اپنے بیٹے کو تھپکتے ہوئے شوہر کو مخاطب کیا ." ہوں" احمد نے آنکھیں موندیں ہی کہا تھا ." کیا فائدہ اتنی محنت کا ...وہ اذلان شاہ اسپتال میں زندہ لاش بن کے لیٹے ہیں ...اور کمال شاہ کو کمشنری سے ہی فرصت نہیں.. سارا کام آپ کرتے ہیں اور مزے وہ دونوں کرتے ہیں" تانیہ اس سے ہمدردی جتاتے ہوئے بول رہی تھیاور اس نے اپنا پہلا پتہ بھی کھیلا تھا"کیا کریں حالات ایسے ہیں....کرنا ہی پڑے گا" احمد شاہ تھکی تھکی آواز میں بولا تھا" آپ کچھ نہ کریں بس بیٹھ کے سڑتے رہیں ....اور ادھر وہ اذلان شاہ کی نام نہاد بیوی سب لے کے چلتی بنے گی ہر چیز کی اسے خبر ہے...مخبر لگا رکھے ہیں.. آئے دن داد شاہ اور سجاول خان یہاں نظر آتے ہیں...وہ باہر کی عورت سب پہ سانپ بن کےبیٹھ گئی ہے" تانیہ کو آگ لگی ہوئی تھی ایلاف کے مالکانہ انداز دیکھ کے" تم سے کس نے کہا یہ سب" احمد شاہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا" اندھی نہیں ہوں سب خبر رکھتی ہوں آخر کو مجھے آپ کا احساس کرنا ہے...کچھ کریں احمد " تانیہ آگ لگا چکی تھی اب ہوا دے رہی تھی" کیا کریں...."" اذلان شاہ کی زندگی کا کچھ پتہ نہیں ہے....اور تائی اماں بیٹے کی محبت میں پاگل ...حالانکہ انہیں فیصلہ کرنا چاہئیے اس گدی کا ...جاگیر کے بھی سو مسئلے ہیں جنہیں حل کرنا ہے ... آخر کب تک پیر اذلان شاہ کے ہوش میں آنے کاانتظار کریں وہ ساری زندگی ہوش میں نہ آیا تو....سب بیٹھیں رہیں گے" تانیہ شاہ اپنی بھڑاس نکال رہی تھی" گدی کا فیصلہ تمہیں معلوم ہے رواج کے مطابق ہم چھوٹوں میں سے گدی پہ کوئی نہیں بیٹھ سکتا ...اور سفیان کی ہم میں سے کسی کو خبر نہیں نہ اذلان شاہ نے اسے خبر بھی نہیں کی ہے ہمارے رواجوں کی" احمد شاہ نے اپنی الجھن بیان کیاسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ تانیہ کے نزدیک کون گدی کا اہل ہے اب"پیر خرم شاہ ہے نا ....گھر کے بچوں میں بڑا ....خیر سے جوان ہورہا ہے" تانیہ نے بلی تھیلے سے نکال ہی دی تھی" کیا...تم گدی کا رخ چھوٹی حویلی کی طرف کرنا چاہتی ہو ایسا کبھی ہوا ہے" احمد شاہ کچھ خفا ہوا تھا"آپ ٹھنڈے دل سے سوچیں اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے ... آخر کوہماری بیٹی نے کل اس گھر ہی جانا ہے تو اس کا مطلب ہے گدیادھر جائے اس کا مطلب ہے وہ ہمارے گھر ہی آئے گی " تانیہ شاہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے معنی خیز لہجے میں بولی تھیاس کی بیٹی پیر خرم شاہ کی منگ تھی" ہوں... " احمد شاہ کا انداز پرسوچ تھا" ہوں تم نے باہر کی عورت ہمارے سر پہ بٹھا کے اچھا نہیں کیا . اذلان شاہ.. جب تم ہوش میں آؤگے تو کیا ..سماں ہوگا...جس گدی پہ تم اتنا اکڑتے تھے وہ ہی نہیں رہے گی تو کونپوچھے گا تمہیں?....اور کیا کر پائے گی تمہاری بیوی" تانیہ نے کڑوے دماغ سے سوچا تھااوراذلان شاہ کی بیویان کا کیا حال کرنے والی تھیتانیہ شاہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی______________________________" ہم اذلان شاہ کی بیوی ....ایلاف اذلان شاہ ......پیر سفیان شاہ کی سر پرست ...کائنڈلی انہیں وطن واپس بھیجا جائے " ایلاف گزارش نہیں حکم دے رہی تھیجسے ماننا ہی تھا اسکول کی انتظامیہ نے" دیکھتی ہوں تانیہ شاہ تمہیں اچھی طرح...گدی پہ بیٹھنا تو دور ....اس کا نام بھی بھول جاؤ گی "ہم نے اذلان شاہ کینگہبانی کی قسم کھائی ہےہم ان کی گدی کے رکھوالے ہیںہمیں معمولی سمجھ کے تم نے بہت بڑی غلطی کی ہےایلاف کا دماغ تیزی سے بہتسے حساب کتاب اکٹھے کر رہا تھا_____________________________جاری ہے
Showing posts with label Farhat Nishat Mustafa. Show all posts
Showing posts with label Farhat Nishat Mustafa. Show all posts
Thursday, August 2, 2018
یہ جنون منز ل عشق ہے قسط 14
http://novelskhazana.blogspot.com/
#یہ_جنون_منزلِ_عشق_ہےقسط_14از فرحت نشاط مصطفےایلاف کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھااس سوال پہکیا کہا آپ نے?" ایلاف کو یقین ہی نہیں آیا تھااذلان شاہ کانوں کا اتنا کچا بھی ہو سکتا ہے" ہم نے پوچھا ...سلمان کون ہے ...ایلاف بی بی?" اذلان شاہ نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا تھا"جس سے آپ نے سنا ہے اسی سے پوچھ لیتے نا آپ تو میرے پاس نہ آنا پڑتا آپ کو " ایلاف چٹخ کے بولی" آپ کو کیا لگتا ہے ہم نے پوچھا نہیں ہوگا ....ہم آپ سے صرف تصدیق چاہتے ہیں تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی رہے....ایلافبی بی " اذلان شاہ کا انداز بے حد بے لچک تھا" شک کر رہے ہیں آپ مجھ پہ" ایلاف نے صدمہ سے پوچھا" شک ....ہمارے اور آپ کے بیچ ابھی تو اعتبار کا پل بننا شروع ہوا تھا مگر آپ کی اصلیت نے سب پاش پاش کر دیا " اذلان شاہکو بھی کچھ صدمہ نہ تھا" ایک شوہر اور ایک مرد کیلئے اس سے بڑھ کر شرمندگی کا مقام اور کیا ہوگا جب کوئی اس سے آ کے کہے ....کہ اس کی بیوی اسسے خوش نہیں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اسے آزادی چاہئے تاکہ وہ اپنی پسند سے زندگی گزار سکے .....ہم نے آپ سے کہا تھا ایلاف بیگم ....کہ نہیں رہنا چاہتی تو نہ رہیں مگر اب اس مقام پہ جب آپ کو دنیا اذلان شاہ کی بیوی کے نام سے جانتی ہے تو آپ اب اپنے راستے الگ کرنا چاہتی ہیں....اور پیغام بھی بھیجا تو اپنے دعویدار کے ہاتھوں " اذلان شاہ پھٹ پڑا تھااور ایلاف ....اس کا بھی دماغ گھوم گیا تھااس کی پرانی زندگی کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی یہحوالہ قبر تک اس کے ساتھ جائے گا ...ان پرانی گلیوں سے ہمیشہاسے ذلت کے ٹوکرے ملتے تھے اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا....انہی گلیوں کے ایک رہنے والے نے ایک مکین نے ایک بار پھر اس کیلئے ذلت کی سوغات بھیجی تھیجو ایلاف کی چار ماہ کی ریاضت کو بیکار کر گئی تھی"ان گلیوں سے مجھے ہمیشہ رسوائیاں ملیں ہیں اور اب بھی....میں نے آپ سے کہا تھا میں وہاں دوبارہ نہیں جانا چاہتی .. مگر آپ کے کہنے پہ گئی تھی میں وہاں ....وہیں رابعہ باجی کے گھر بھی چلی گئی تھی مجھے پتہ ہوتا کہ ان کے گھر جانا میری زندگی میں ایک بار پھر زہر گھول دے گا تو میں کبھی نہیں جاتی...اذلان شاہ آج ایک بات کلئیر کر لیتے ہیں .. میں روز روز آپ کو صفائیاں نہیں دے سکتی...ایک سلمان تھا...ایک ثاقب بھی تھا....اور بھی پتہ نہیں کتنے ہوں گے.." ایلاف غصے سے بولتے بولتے ہانپ گئی تھی" وہ سلمان رابعہ باجی کا دیور ہے اس دن جب میں ان کے گھر تھی تو میں نے ان سے ہی بات کی تھی ...اس نے ہماری باتیں سنیں ہیں وہ بھی ادھوری اور اپنے مطلب کا نتیجہ نکال لیا ....کھٹکے کی آواز پہ باجی اندر گئیں تھیں ...اور میں بیوقوف سمجھی وہ بلی ہے مگر وہ تو سلمان نام کا ناگ نکلاجو میری زندگی مین زہر گھولنے آیا ہے...ایک بات کان کھول کےسن لیں آپ ...میرا ان غیرت سے عاری مردوں سے کوئی تعلق نہیں...اس رات وہ سب وہاں تھے میری ہم سفری کے خواہ...ان میں سے ایک بھی آگے نہ بڑھا تھا ...صرف آپ تھے ..آپ اذلان شاہ جنہوں نے مجھے اپنے نام کی چادر دی ....اور آج کیا آپ اسے میرے سر سے اتارنا چاہتے ہیں...آپ کو ہوا کیا....کیا کوئی بھی آپ کے پاس آ کے کہے گا کہ وہ آپ کی بیوی سے محبت کا دعویدار ہے ...برائے مہربانی پیر صاحب آپ اسے چھوڑ دیں تاکہ میں اسے اپنا سکوں....ہوا کیا ہے آپ کی غیرت کو...آپ نے اس کا منہ کیوں نہیں توڑا" ہم اور اس کا منہ توڑتے...جو اتنے یقین سے وہ ساری سچائیاں اور حقائق بتا رہا تھا جو ہمارے اور آپ کے بیچ میں تھیں....ہمفرشتہ نہیں ہیں ایلاف ...جو ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ ادھوری بات پہ فسانہ ہمیں سنا رہا ہے...ہماری جگہ کوئی بھی ہوتا کیا اس کی غیرت گوارا کرتی کہ اس کی بیوی اپنے دکھ سکھ اپنے شوہر کے بجائے کسی اور سے کر رہی ہے " اذلان نے اس سے الٹا سوال پوچھا تھا"اذلان ایک بات آپ جان لیں آپ سے پہلے میری زندگی میں نہ کوئی آیا ہے نہ آئے گا....میرے پاس آپ کو یقین دلانے کیلئے کوئی گواہی نہیں ہے ....کرنا ہے تو کریں ..نہیں جو مرضی ہے کریں...مگر اب میں اپنے کردار پہ کوئی بات برداشت نہیں کروں گی " ایلاف بپھرا ہوا طوفان بنی ہوئی تھیآگ لگانی ہے ایسے ساتھ کوجہاں ہر وقت صفائیاں دینی پڑیں" اور آپ اگر رابعہ کے گھر گئیں تھیں تو ہم سے پوچھنا تو دور کی بات بتانا بھی گوارا نہیں کیا?" اذلان کو اس سارے فساد کی جڑ ایلاف کا رابعہ کے گھر جانا لگ رہا تھا" کیا ...اب میں سانس بھی آپ سے پوچھ کے لوں....کیا میرا اپنے اوپر کوئی حق نہیں..." ایلاف کو لگا آج سے اس کے سانس لینے پہ بھی پابندی ہوگی" فضول بات مت کریں....اگر مرد کو خدا نے عورت کا کفیل بنایا ہے تو کسی وجہ سے ہی بنایا ...آپ ہم سے پوچھ لیتیں یا بتا دیتیں ہمارے علم میں تو ہوتا پھر یہ سارا گھڑاک کھڑا ہی نہ ہوتا " اذلان شاہ کو وہی قصور وار لگی تھی" آپ نی غلطی کو قدرت کے فیصلوں میں نہ لپیٹیں...پیر صاحب....اگر اتنا ہی مانتے ہیں تو جانتے ہیں کہ تہمت کی سزا کیا ہوتی ہے جا کے پکڑیں اس رزیل انسان کو جس نے مجھ پہ تہمت لگائی ہے...میں پاکباز ہونے کا دعوی نہیں کرتی مگر میرے کردار میں کوئی کھوٹ نہیں ہے...میں چار ماہ سے آپ کے گھر میں ہوں آج تک آپ کے بغیر گھر سے نہیں نکلی....صرف ایک بار آپ کے ڈرائیور کے ساتھ اور آپ کی محافظوں کے ساتھ گئی تھی ...اتنا تو آپ جان گئے ہوں گے " ایلاف کا بس نہ چلتا تھا وہ اذلان شاہ کو کیسے بتائے"ایلاف پھر بھی آپ کو بتانا چاہئے تھے ...اپنے رشتے کے کچے پن سے ہم دونوں ہی واقف ہیں"" مجھے آپ سے کچھ نہیں کہنا اور جو آپ کا دل کرے کریں..." ایلاف کو غصہ ہی آگیا تھا اذلان کی ایک ہی بات کی رٹ سن کے" ہم جانتے ہیں آپ کو برا لگا ہے مگر ہم بھی کیا کرتے ہمارے نام کی بے قدری ہو اسے بے مول کیا جائے ...ہم سے برداشت نہیں ہوتا ...آئم سوری ...آئندہ آپ جہاں بھی جائیں ..ہمیں علم ہونا چاہئے ہم مزید کوئی اسکینڈل افورڈ نہیں کرسکتے وہ بھی اس موڑ پہ جب سارے خاندان کو پتہ چل چکا ہے ....ہم آپ کو زندہ دفن تو کرسکتے ہیں مگر آپ کو آزاد نہیں کرسکتے" وہ وہی اب پرانا اذلان لگا تھا ایلاف کوسرد مہراناپرستاپنے سے ہزاروں میل کے فاصلے پہابھی تو کچھ برف پگھلنی شروع ہوئی تھیابھی تو کچھ اعتبار کے رنگ چڑھنے شروع ہوئے تھےایسا کیوں ہوتا تھاجب بھی ان دنوں کے درمیان اعتبار کا رشتہ بننے لگتاشک کا ناگ پھر سے انہیں ڈس لیتاایلاف کو اپنی زندگی میں شک کا سانپ ....سانپ سیڑھی والے کھیل میں موجود اس سانپ کی طرح لگا تھا جو جیت کے قریب کھلاڑی کو بار بار اٹھا کے نیچے پٹخ دیتا تھااذلان شاہ جا چکا تھا ...ایلاف نے مزید بنا کچھ کہےلب بھینچ لئے تھے"اس کے ہر سانس کی اطلاع بھی اب اذلان کو دینی ہوگی" ایلاف کی بدگمانی پھر سر چڑھ چکی تھیمیں اگر ہوں اس کی پناہمیرا دل تو قید نہیں رہامیرے ہر نفس پہ ہے حق میرامیں کہاں جاؤں جئیوں کس طرحنہ مدوا ہے کوئی پیاس کانہ سکون پاتا دماغ ہےجو نہ دھل سکےجو نہ مٹ سکے میری زندگی میں وہ داغ ہے______________________________" پیر سائیں ....کھانا لگا دیا ہے آجائیں " امیراں نے اذلان کو آندھی طوفان کی طرح باہر جاتے دیکھا تو فورا اس کے پاس آئیاذلان بنا رکے آگے بڑھ چکا تھا" انہیں کیا ہوا ہے" امیراں نے حیرت سے سوچا"بی بی صاحب کھانا کھائے بغیر چلے گئے .. واپس آئیں گےآپ کیلئے لگاؤں کھانا..." امیراں ایلاف کے پاس آ گئی تھی"کھانا نہیں زہر لا دو مجھے....اور اپنے پیر سائیں سے ہی جا کے پوچھنا....خدائیفوجدار ہیں نا خدانخواستہ ....جو ان کا دل کرتاہے کرتے ہیں ...جب دل کیا زمین سے اٹھا کے پہلو میں بٹھا لیا ....جب دل کیا...پھر سے پاتال کی پستیوں میں دھکیل دیا " ایلاف نے آدھی بات امیراں سے کی اور آدھی بات سوچی تھیاپنے سوگ میں اس نے اذلان کا سوری سنا ہی نہ تھا" ہیں...." امیراں کو وہ پاگل لگی تھیابھی تو ٹھیک تھیں یہ" جاؤ یہاں سے." ایلاف کا دماغ اس وقت تپتی ہوئی بھٹی بنا ہواتھاامیراں نے کھسکنے میں ہی عافیت جانی______________________________" داد شاہ اسے ڈھونڈو وہ ہمیں ہر قیمت پہ چاہئیے ....وہ اسی شہر میں ہی ہے ...یہ کام جتنا جلدی ہو اچھا ہے" اذلان شاہ ڈرائیو کرتے ہوئے داد شاہ سے مخاطب تھاداد شاہ اس کا صحیح معنوں میںوفادار تھافون بند کرنے کے بعد اذلان لب بھینچ کے سامنے ونڈ اسکرین کے پار دیکھنے لگا" آپ نے اچھا نہیں کیا....آپ کو اس کا منہ توڑ دینا چاہئے تھا"ایلاف کی باتیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں تھیںکشادہ پیشانی پہ سلوٹیں پڑنی لگیں تھیں" تہمت لگانے کی سزا تو آپ جانتے ہیں نا.....میں پاکباز ہونے کی دعویدار نہیں مگر میرا کردار مضبوط ہے...آپ اتنا تو یقین رکھتے... میرے پاس اپنی گواہی دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے" ایلاف کا حسرت بھرا لہجہ اس کی سماعتوں میں زندہ تھاآج پہلی بار اذلان شاہ کو اپنے عمل پہ پشیمانی ہوئی تھیوہ لڑکی اس کی بیوی تھیچار ماہ سے اس کی عزت تھیاذلان شاہ کی ذہن کی دہلیز سے وہ بہت سے ان کہے ....لمحے چپکے سے اندر آئے تھےوہ ایلاف کا ولیمہ کی رات اسے نتھ اتارنے کو کہناوہ فجر کے پرنور لمحوں میں اذلان کا ایلاف کو نوز پن پہناناجو اس کی ناک میں بہت شان سے چمکتی تھیجو گواہ تھیاس لمحے ان کے دل کی دھڑکنوں کیوہ ایلاف کا اس بھیگی رات میں ڈر کے اسے روکنااس کی پروا کرناوہ ایلاف کا پاکیزہ لمسپرنور سا قرباس کی دھڑکنوں کا شورپھر اذلان شاہ تم نے کیوں اتنی جلدی کیاذلان نے اذیت سے آنکھیں بند کرلیں تھیںندامت کا شدید احساس اس پہ حاوی ہوا تھااورتقدیر کا فیصلہ کیا تھاجھٹکا تو لگتا ہےجب بندہ حد توڑےسزا تو ملتی ہےجبخطا کی جائےاذلان نے گاڑی کنٹرول کرنی چاہیمگر ہر بارہم طاقتور نہیں رہتےہماری نہیں چلتیتقدیر کا فیصلہایک زوردار تصادم تھاگاڑی ایک جھٹکے سے ٹکرائی تھی______________________________انہیں لگتا ہے وہ اگر نہیں ہوں گے تو ایلاف کچھ کر نہیں سکتی....نہیں چاہئے مجھے ایسے سہارے جن کی قیمت مجھے اپنی عزت نفس کی صورت میں ادا کرنی پڑے .....اللّه کی دنیا بہت بڑی ہے" کہیں بھی چلی جاؤں گی مگر یہاں رہ کر اپنی مزید توہین نہیں کراؤں گی " ایلاف سوچ چکی تھیاس گھر میں اس کا کچھ بھی نہیں تھا" جب دینے والا ہی اپنا نہیں....تواس کی دی ہوئی چیزیں لے کے میںکیا کروں" ایلاف الماری کھولے کھڑی اپنی ضرورت کی چیزوں کودیکھ کے بولیاور الماری کے پٹ بند کرنے لگی تھیتبھی اس کی نظر سامنے کہ شیلف پہ رکھی اذلان شاہ کی چادر پہ پڑی تھییہ وہی چادر تھی جو اذلان نے اسے اپنا نام دینے سے پہلے دی تھیجب پوری دنیا نے اس کے سر سے چادر چھینی تھیتب وہی تھاجس نے اسے مان دیا تھااپنا نام دیا تھا" بس اعتبار نہ دے سکے ....اور نہ کرسکے" ایلاف اس کی چادر پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچنے لگی تھیدرمیاں تیرے میرے جب سے لوگ آنے لگےمیں اس کے بعد سے تنہا ہوں اور بے آس ہے تونہ جانے کس احساس کے زیر اثر اس نے وہ چادر اٹھا لی تھی اورالماری بند کردی تھیاس گھر میں میرا واحد اثاثہ یہی ہے" بند ہونٹوں پہ میرے ریت جمی جاتی ہےتو میرے پاس ہے پھر بھی میری پیاس ہے تو"کہنے کو ہمارا رشتہ دنیا کا سب سے نزدیک ترین اور مضبوط رشتہ مگر بے اعتباری اور لوگ ہمیشہ آڑے آجاتی ہے...سو کیا فائدہ ایسے رشتے کا اذلان شاہ جس میں اعتبار ہی نہ ہو"ایلاف سوچتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیچادر اس کے ہاتھ میں تھیاس نے اذلان کو یہ چادر کبھی واپس نہیں کی تھینہ اس نے کبھی پلٹ کے پوچھا تھاایلاف نے جانے کیلئے قدم اٹھا لئے تھےجب اس کا موبائل بجا تھاجو اذلان نے ہی اسے لے کے دیا تھانمبر اجنبی نہیں تھامگر نمبر والا اجنبیوں سے بڑھ کے تھاایلاف نے فون نہ اٹھانا چاہامگر پھر" کچھ تو زادہ راہ ہو آگے کیلئے"کا سوچ کے اس نے فون اٹھا لیا تھا" نہیں.....یہ کیسے ہوسکتا ہے" ایلاف کے وجود سے جان ہی نکل گئی تھی" میں نے یہ تو نہیں چاہا تھا " ایلاف کا دماغ سن ہوچکا تھادوسری طرف داد شاہ تھا" بی بی آپ جلدی آئیں ہاسپٹل....وہاں جاگیر میں سب کو خبر ہوچکی ہے....آپ کی ضرورت ہے یہاں....پیر سائیں آپریشن تھیٹرمیں ہیں....شاہ بی بی روانہ ہوچکیں ہیں یا آپ ان کے ساتھ آئیں گی" داد شاہ اسے اذلان شاہ کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع دیتے ہوئے بولا تھاایلاف نے کچھ کہنا چاہا مگر زبان نے ساتھ ہی نہ دیا تھاابھی کچھ گھنٹوں پہلے ہی تو اس نے ہی اذلان شاہ سے کہاتھا" تہمت لگانے کی سزا ملتی ہے تو ...."" کیا اذلان شاہ اسی کے لپیٹے میں آگیا ہے ....نہیں ایسا نہیں ہوسکتا" ایلاف نے نفی میں سر ہلایا تھاکچھ دیر پہلے کی ساری کیفیت اسے بھول چکی تھیامیراں کو بھی پتہ چل چکا تھا وہ بھاگ کے ایلاف کے کمرے میں آئی تھی....جو نیم جان سی اذلان کی چادر سینے سے لگائے زمین پہ بیٹھی تھی...اس کے ہاتھ پاؤں برف ہو رہے تھے" بی بی ہمت کرو اٹھو ....ایسا نہ کرو ...ڈاکٹر کو بلاؤں" امیراں اسے اٹھاتے ہوئے بول رہی تھی" ڈاکٹر کو نہیں امیراں....یہ جو درد ہے ...یہ جو کم بختی ہے....اسے کوئی دنیا والا نہیں مٹا سکتا...میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ وہ اپنے سے دور ہزاروں نوری کے فاصلے پہ کھڑا شخص مجھے اپنی انا کے باوجود اتنا عزیز ہوگیا ہے کہ ....اس کے حادثے کی خبر نے میرے وجود سے جان ہی نکال دی ہے " ایلاف نے اذیت سے سوچا تھا" تو واقعی منحوس ہے ایلاف ....ماں باپ کے بعد اب شوہر کو بھی موت کے منہ میں پہنچا دیا ...مجھے رشتے راس نہیں آتے میں اکیلی ہی صحیح ہوں"ابھی تو اس رشتے کی نرماہٹ محسوس ہونے لگی تھی اسےوہ اذلان شاہ کا اپنائیت بھرا لمسہولے سے نوز پن پہناتے ہوئے دھیرے سے.....شرارت سے اس کی ناک دبا دیناوہ اس کی فکر اور پروا کے عملی مظاہرے ....وہ اس کا اپنی چادر کا حصار اسے دینااسے کمبل اڑھا کے موسم کی شدت سے بچاناایلاف کو ابھی تو محبت کی جان کاری ملنے لگی تھیمگر اس کی یہ سیاہ بختی ہمیشہ آڑے آتی تھی" محبت ہو بھی جائے تومیرا یہ بخت ایسا ہےجہاں پر ہاتھ رکھ دوںوہاں پر درد بڑھ جائےمحبت سرد پڑ جائے"______________________________اس منحوس دوپہر کی تاریک شام ہوچکی تھیشدت گریہ سے ایلاف کی سبز آنکھوں میں جیسے لہو ٹھر گیا تھاایلاف کا دل اور زبان محو مناجات تھاوہ اپنے کمرے میں ہی تھیوہ اسپتال جانا چاہتی تھی مگر اسے شاہ بی بی کا انتظار تھاتاکہ کچھ تو ہمت ملےکیسے دیکھوں گی اس شخص کوجو اتنا توانا اور مضبوط ہےلہو میں ڈوبا ہواپٹیوں میں جکڑا ہوااور اگر جو کوئی بری خبر ہوئیاس کے بخت کی سیاہی اذلان شاہ کو کھا گئی تو????ایلاف کا دل بند ہونے لگتا تھااسے کسی پل قرار نہ تھاشاہ بی بی تو پھر ماں تھیں وہ پہلے اسپتال گئیں تھیںپھر گھر آئیں تھیںشاہ بی بی کی آمد کا سن کے ایلاف پاگلوں کی طرح اپنے کمرے سے دوڑی تھی" اماں سائیں.... اذلان شاہ ٹھیک تو ہیں نا.....اماں سائیں ہمیں معاف کردیں ہماری سیاہ بختی آپ کے بیٹے کو نگل گئی ..." ایلافان کے گلے لگ کے بولی تھیشاہ بی بی نے اسے لپٹا لیا تھا اور خاموشی سے اسے سہلانے لگیں تھیںایلاف کو قرار کہاں تھا" اماں سائیں ....چلیں اسپتال چلتے ہیں..."" ہم اسپتال سے ہی آرہے ہیں ...ایلاف" شاہ بی بی ضبط کی کڑی منزلوں پہ تھیںان کا اپنا دل پھٹ رہا تھا" اماں .. شاہ ٹھیک تو ہیں نا ....پلیز بولیں...آپ بولتی کیوں نہیں ہیں"??ایلاف چیخ پڑی تھییہ بولتی کیوں نہیں"ایلاف ہوش کرو ....اذلان شاہ ٹھیک ہے مگر"شاہ بی بی چپ ہوگئیںان کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا" کیا مگر....بولیں اماں" ایلاف کو لگی اس کے دماغ کی نس پھٹ جائے گی" وہ کومے میں چلا گیا ....اس کے سر کی چوٹیں بہت خطرناک تھیں اس کے اعصاب متاثر ہوئے ہیں" شاہ بی بی نے قیامت ڈھا ہی دی تھیایلاف پاس پڑے صوفے پہ ڈھے سی گئی تھی" میرا کوئی نہیں رہتا اماں سائیں ....خدا میری اتنی آزمائشیں کیوں لیتا ہے... اذلان کو بھی دور کردیا مجھ سے میں اب کیا کروں" ایلاف کی آواز کہیں دور سے آئی تھی" ایلاف حوصلہ کرو میری بچی ....تم بھی ہمت ہار گئیں تو کیا ہوگا ہمارا بیٹا زندہ لاش بن گیا ہوا کیا تھا ....اس نے کبھی اتنی ریش ڈرائیونگ نہیں کی...اس سے آج تک ایک معمولی خرابی نہیں ہوئی تو یہ اتنا بڑا حادثہ ....وہ گھر سے نکلا تھا...بتاؤ ایلاف کیا ہوا تھا ...." شاہ بی بی نے پوچھ لیا تھا"میں کیسے ہمت کروں اماں ....میری ہمت تو آپ کا بیٹا تھا....میں تو بہت کمزور ہوں ....گھر میں کچھ نہیں ہوا تھا" ایلاف مر کے بھی نہیں بتانا چاہتی تھی کسی کواور اس بات کے بعد تو بالکل نہیںاپنے مسئلے اپنے تک ہی رکھنے چاہئیں ...ایلاف کو سبق مل چکا تھانہ وہ رابعہ باجی سے کہتی یہ سب اور نہ وہ سب ہوتا" اماں سائیں ہماری وجہ سے ہوا ہے یہ سب ....ہمیں رشتے راس نہیں آتے" ایلاف کا سویا ہوا احساس کمتری جاگ چکا تھا" ایلاف.....ایسی باتیں مت کرو....تم مسلمان ہو کے ایسی فضول سوچ رکھتی ہو ...پریشانی میں ہی مسلمان کی آزمائش ہوتی ہے اور تم اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے کیا کر رہی ہو....مسلمان مصیبت میں کبھی نہیں گھبراتا ....خدا کی رضا میں راضی رہو ایلاف ....اس کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے " شاہ بی بی کو اس کی مایوسی پسند نہیں آئی تھیدل تو ان کا بھی رو رہا تھاآنکھیں ان کی بھی نم تھیںمگر انہیں ہمت کرنی تھیان کا سرمایہ حیات داؤ پہ لگ چکا تھا" میں کیا کروں....جس کے پاس جاؤں وہی دور ہوجاتا ہے " ایلاف بولی" ایلاف ایک بات کہیں آپ سے .....رونا دھونا بند کریں...بہت ہوچکا ہے...آپ ایک عام آدمی کی بیوی نہیں ہیں...پیر اذلان شاہ کیبیوی ہیں. ایکا اچھی بیوی کون ہوتی ہے ایلاف?" شاہ بی بج نےاس سے وہ سوال پوچھا تھا جس کا جواب اسے معلوم ہی نہ تھا"ہم بتائیں....ایک اچھی بیوی اور بلند عورت وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں....ان کے دل کو دھکا سا لگا تھا....اس کی عزت اور مال کی حفاظت کرتی ہے ...وہ روتی نہیں.. خیانت نہیں کرتی....حفاظت کرتی ہے....کیونکہ خدا اور اس کے رسول کو یہی محبوب ہے....تو بتاؤ ایلاف تم کیا کروگی....بنوگیاچھی بیوی...نگہبان پیر اذلان کی گدی کی" شاہ بی بی نے اس سے پوچھا تھا" میں... اور گدی کی نگہبان...مطلب???" ایلاف نے وضاحت چاہی تھی" جاگیر کے دشمن اب وار کریں گے میدان صاف دیکھ کے کیوں کہ میرا جرنیل بچہ میدان میں نہیں بستر پہ ہے وہ ہماری کمزوری سےفائدہ اٹھائیں گے ....ان کا لحاظ ختم ہوجائے گا" شاہ بی بی کو مستقبل صاف نظر آرہا تھا" مگر کیوں ابھی کمال شاہ اوراحمد شاہ ہیں..." ایلاف نے کہا" پیر اذلان گدی کا وارث ہے وہ بڑا ہے اور پھر اس کی اولاد کمالاور احمد ساتھ تو دے سکتے ہیں مگر گدی پہ نہیں بیٹھ سکتے....کمال بیچارہ تو ویسے بھی سرکاری نوکری کرتا ہے .. کمشنری نے اسے گھما رکھا ہے...اور احمد شاہ وہ تانیہ شاہ کے کنٹرول میں ہے اور تانیہ پوری کوشش کرے گی گدی کا رخ پیر خرم شاہ کی طرف کرنے کی ....کیونکہ وہ گھر کے بچوں میں سب سے بڑا ہے اور اس صورت میں جبکہ سفیان شاہ کو اذلان شاہ نے سب سے دور کر رکھا ہے وہ اور اہل ہوجائے گا " شاہ بی بی نے اس مستقبل کا نقشہ کھینچ کے دکھا دیا تھا" وہ اہل نہیں ہے" ایلاف کے زخم پیر خرم شاہ کے نام پہ پھر ہرے ہوگئے تھے" یہ میں اور تم ....اورتیسرا وہ جو بستر مرگ پہ ہےجانتا ہے اور کوئی نہیں....کوئی یقین نہیں کرے گا....بولو ایلاف اتنے محاذوں پہ اذلان شاہ اکیلا لڑتا تھا....تم کر پاؤ گی ...بتاؤ گی دنیا کو کہ وہ اکیلا نہیں ...اس کی بیوی ہے" شاہ بی بی نے اس سے سوال کیا تھا" ہاں اماں سائیں....ہم بنیں گے ان کے محافظ... ایک بار انہوں نے ہمیں نامراد نہیں رکھا تھا . تو ہم کیسے انہیں بے اماں کریں... ہم بنیں گے ان کی گدی کے رکھوالے ...ان کی جگہ ان کی ہے یا پیر سفیان شاہ کی " ایلاف نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہاایک بار پوری دینا نے اسے چھوڑ دیا تھاتباذلان شاہ نے اسے اپنایااب پوری دنیا اذلان شاہ کو چھوڑنے چلی تھیتوایلاف نے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا" ایلاف یہ راہ آسان نہیں"" تر نوالہ ہم بھی نہیں" ایلاف کا لہجہ ہی بدل چکا تھا" چھلنی ہوجاؤگی "" ترکش میں تیر ہمارے بھی بہت ہیں" ایلاف اٹل ہوچکی تھی" بہت سنگ بار یہ راستہ"" پتھر تو ہمارا وجود بھی ہوچلا ہے" ایلاف کے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی" لوگ طعنے دیں گے"" پروا نہیں....زہر ہم میں بھی بہت ہے اور شہد بازاروں میں بہت ....ہم آزمائشوں کی بھٹی میں کیمیا گر بن چکے ہیں....شہد اور زہر ملا کے استعمال کرنے کا فن ہمیں ان ہی لوگوں نےسکھایا ہے " ایلاف اٹھتے ہوئے بولی.اور کچھ دیر بعد وہ اذلان شاہ کی ہی چادر پہنے کریم اسکارف سے حجاب کئے اسپتال جانے کو تیار ہوچکی تھی"ہم چلیں تمہارے ساتھ" شاہ بی بی نے پوچھا" نہیں اماں آپ آرام کریں....اپنی بقا کی جنگ اب میں خود لڑوں گی...آپ بس دعا کریں...جب اکیلا ہی چلنا ہے تو پھر عارضی سہاروں کا کیا کریں گے ...." ایلاف نے چادر اچھی طرح لپیٹ لی تھی" دنیا ادھر سے ادھر ہوجاؤ....اذلان شاہ ...ایلاف اذلان شاہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گی .." ایلاف نے خود سے عہد کرلیا تھاوہ پہاڑوں کی بیٹی تھی نسلااس کا باپ پہاڑوں کا رکھوالا تھاوہ زرینہ جیسی جی دار عورت کی بیٹی تھیجس نے اپنی بقا کی جنگ خود لڑی تھیتوایلاف نے بھی ثابت کرنا تھاکہ جی دار وہ بھی ہےعورت مضبوط ہوجائے تو اس کا حوصلہ ہمالیہ سے بھی بلند اورسمندروں سے بھی گہرا ہوتا ہے______________________________جاری ہے
یہ جنون منزل عشق کا ہے قسط 13
http://novelskhazana.blogspot.com/
قسط_13از فرحت نشاط مصطفےایلاف کا حلق خشک ہوگیا تھااس کی زندگی کا یہ پہلو تو آج تک کوئی نہیں جانتا تھاکسی کو اس بھید سے آشنائی ہی نہ تھیتو اب یہ کیا ہوا تھا ??معلوم بھی ہوا تو کسے?کم از کم وہ اذلان کے سامنے تو اپنا یہ راز نہیں کھولنا چاہتی تھیکیا سوچے گا اذلان ??ایک اور بیوقوفیایک اور حماقتانہیں ہی کیوں پتہ چلا ?ایلاف نے دھڑکتے دل کے ساتھ اذلان کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھا تھااور کچھ کھوجنا چاہاتضحیک کا احساسبدگمانی کے رنگجیسے جیسے اذلان شاہ پڑھتا جا رہا تھا اس کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا" یہ آپ نے لکھا ہے ایلاف ?" اذلان نے تائید چاہیایلاف کی رائئٹینگ وہ دیکھ ہی چکا تھا سو انکاری ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا" انجام جو بھی ہو" ایلاف نے سوچا اور مرے مرے انداز میں سر ہلا دیا"آئی کانٹ بلیو دس....آپ اور یہ سب کب سے کر رہی ہیں یہ" اذلان شاہ شاکڈ ہو کے بولا" میٹرک کے بعد سے " ایلاف نے ہلکی آواز میں کہا" اب یہ میرا مذاق اڑائیں گے .." ایلاف نے سوچا" واقعی ایلاف آپ واقعی بہت بڑے بڑے کام کرتی ہیں ....ماں گئے ہم" اذلان شاہ نے کہاایلاف نے اپنا سر جھکا لیا" مذاق اڑا رہے ہیں میرا....آپ کو برا لگا ہے تو صاف کہیں"" ارے بالکل بھی نہیں ...یقین نہیں آرہا کہ یہ آرٹیکل انٹر کی ایک اسٹوڈنٹ نے لکھا ہے ...کیا آبزرویشن ہے ایلاف ...یو ڈو آ گریٹ جاب ...دس ٹاپک مسٹ بی انکلوڈڈ ان ہائی پروفائل بزنس میگزین....کیا عنوان ہے...Embedding agriculture in to the aggregate Economy " اذلان کے لہجے میں کیا نہیں تھاستائشتعریفمرعوبیتوہ سب کچھ جو ایلاف سننا چاہتی تھی"آپ سیریس ہیں ?....میرا دل رکھنے کو تو نہیں کہہ رہے" ایلاف کو یقین ہی نہ آیاابھی کچھ دیر پہلے تو کتنے کیڑے نکال رہے تھے اور اب اکنامکس پہ لکھا گیا اس کے فیچر پہ تعریفوں کے پل باندھدئیے تھے" اف کورس آئم سیریس. ..اکونومی اور زراعت کو آپ نے بہت اچھے سے ریلیٹ کیا ہے ...پاکستان کی اکانومی یو نو زراعت پہ ہی ڈپینڈ کرتی ہے ....آپ نے اس آرٹیکل کو دیا کیوں نہیں اب تک پریس کیلئے اور کس پیپر میں دیتیں ہیں آپ" اذلان نے اس کا حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ پوچھا بھی ہے"واقعی تھینک یو...." کہنے کے ساتھ ایلاف نے اسے میگزین کا نام بتایا" انہوں اس ٹاپ کلاس مضمون کیلئے تو ہائی کلاس میگزین ہونا چاہئے....ہم کچھ کرتے ہیں اس کا" اذلان نے کہا ." اب ایسا بھی کچھ نہیں ہے اتنا خاص...میری پہنچ تک جو پیپر تھا میں بھیج دیتی تھی" ایلاف نے اسے کہا" یہ اب میرا مسئلہ ہے اور مادام آپ ایک اکاؤنٹیٹ اور ایک زمیندار سے بات کر رہیں ہیں جس کے پاس باقاعدہ زراعت کی بھی ڈگری ہے" اذلان نے اسے بتایا"لیں زراعت کو بھی نہیں بخشا "" اور کتنی ڈگریز ہیں"" فی الحال تو یہی ہیں...اور کیا اب آپ نے سمری نہیں لکھنی...چلیں شاباش لکھنا شروع کریں" اذلان نے اسے حکم دیااذلان نے بک اٹھائی اور بولنا شروع کیاایلاف رجسٹر پہ دوبارہ جھک گئی تھی اذلان شاہ بہت روانی سے بول رہا تھا مگر قلم بار بار رک رہا تھاایک تو اذلان کا انگریزوں کی طرح کا ایکسنٹ ....وہ انگریزی بالکل اہل زبان کی طرح بول رہا تھا...اوپر سے کھڑکی سے آتی سرد ہوا ....پتہ نہیں انہیں کونسی گرمی چڑھی ہوئی ہے....اوپر سے منہ میں کیا پتھر رکھ کے بول رہے ہیں" ایلاف نے سوچا" کیا بات ہے " اذلان نے چوتھی مرتبہ اسے پین روکتے دیکھ کے پوچھا" آہستہ آہستہ بولیں....آپ کا ایکسینٹ ہی سمجھ نہیں آرہا ...اوپر سے یہ ٹھنڈ" ایلاف نے آدھا جملہ منہ میں ہی رکھا" پیپرز کے بعد آپ لینگویج کورس کریں گی ..." اذلان نے نیا آڈر پاس کیااور پھر آہستہ سے بولنے لگاایلاف شکر ادا کر کے دوبارہ لکھنے لگیباہر آج بادل بھی شرارت پہ آمادہ تھےہوا کی رتھ پہ سوار وہ راوی کنارے اڑے چلے آئےاور دیکھتے ہی دیکھتے خشک زمین پہ برسنے لگےاوربادلوں کی فطرت ہےکہ برسنے سے پہلے گرجتے ضرور ہیںاور کوئی کتنے بھی جتن کر لےفطرت بدلتی نہیںباہر کے موسم سے بے نیاز اپنے حال میں لکھتی ایلاف کے کانوںمیں بادلوں کے گرجنے کی آواز کیا پڑیروانی سے چلتا اس کا ہاتھ بہک گیاپورے صفحہ پہ انک پھیل گئی تھیبارش... ایلاف کی چھٹی حس نے اسے اشارہ دیا" توبہ ...یہ بارش کہیں اور کیوں نہیں برستی...رات میں برسنا ضروری ہے"ایلاف نے کانوں کے گرد مضبوطی سے چادر لپیٹیبادل گرجنے کے ساتھ ساتھ بجلی بھی چمکنی شروع ہوگئی تھی" اوہ ...بارش شروع ہوگئی ہے یہ کھڑکی بند کرنی پڑے گی " اذلان اٹھتے ہوئے بولاایلاف نے اسے روکنا چاہا ....کہ بارش ہورہی ہے کھڑکی کے پاس نہ جائیں...مگر وہ تو اذلان تھا ...اسے بارشیں تو نہیں ڈراتیں تھیںاذلان نے جونہی کھڑکی کی طرف ہاتھ بڑھا کے اسے بند کرنا چاہا ....اسی پل بجلی اتنی شدت سے چمکی تھی اور بادل گرجے تھے کہ بجلی کی چمک کا عکس اذلان کے پورے وجود پہ پڑاایلاف جو اسے ہی دیکھ رہی تھینہ جانے اسے کیا ہوا تھانہ جانے اپنے خوف کے زیر اثریااذلان کی پروا کا اثر تھا"کیا کر رہے ہیں آپ....نظر نہیں آرہا موسم کتنا خراب ہے ...پھر بھی کھڑکی کے پاس چلے آئے ...آئرن مین نہیں ہیں آپ...ابھی ہوجاتا کچھ تو..." ایلاف نے جھٹکے سے اذلان کا ہاتھ پکڑکے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی" ابھی یہ بجلی کچھ کر جاتی تو......." ایلاف اس سے آگے سوچنا بھی نہیں چاہتی تھیاس کا تو خون خشک ہوگیا تھا وہ اذلان کو کیا روکتی الٹا اذلان نے خوف سے کانپتی اس لڑکی کو سنبھالا تھااتنی پرواکیا واقعی اسے میری فکر ہے ?اسے محسوس ہونے لگا ہے میرا وجود اور اس کی اہمیتاذلان شاہ ایک خوشگوار سی کیفیت میں تھاایلاف نے اس کی چادر کا کونہ اتنی زور سے بھینچا ہوا تھا کہ اس کی مٹھیاں لال ہونے لگی تھیںاذلان نے اس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر اس کا توازن برابر کیااب وہ اس کے پاس تھیروبرو تھی" ایلاف ...یہ بجلی سے بھلا کیا ہوتا ہے ...واقعی ہم آئر ن میں نہیں مگر ہم اذلان شاہ ہیں ....اور یہ آپ کو کیا بارش سے ڈر لگتا ہے کیا?...کچھ نہیں ہوتا ایلاف بی بریو" اذلان نے اس کی ہمت بڑھاتے ہوئے ہولے سے اس کا چہرہ تھپتھپایاوہ جوآنکھیں بند کئے کھڑی تھی اذلان کی بات پہ اس نے آنکھیں کھولیں تھیں ....سبز کانچ میں آنسوؤں کی جھلملاہٹ تھی ....وہ کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح سہمی ہوئیںتھیںاذلان ان آنکھوں کو دیکھتے ہوئے نہایت مختلف کیفیت کا شکارہوا تھایہ وجود بہت خاموشی سے اپنی اہمیت منوا رہا تھااور ایلاف ....اذلان کے وجود پہ چھائی خوشبو اس کی سانسوں میںتحلیل ہونے لگی تھیبھیگی سی اک راتلے آئی کیا ساتھیہ دھڑکنے جو ہمیں کہنےلگیں ہیںخاموشی کے درمیاں کب چاہئے تھی باتیہ دھڑکنیں جو ہمیں کہنے لگیں ہیںنہ کہو .. نہ سنوخاموشی گفتگو ہونے لگی ہےزندگی خواب میں گم ہونے لگی ہےوہ دو دل آج ایک دوسرے کی دھڑکن سن رہے تھےان کے بیچ خاموشی بے حد معنی خیز تھیتیری خوشبو پروئی سانسوں میںدھڑکن کا جو تو ورد ہوابنا خواب تو جاگے آنکھ میںمیری روح کو تونے جو چھواکچھ یاد ہی نہیں اب توجانے کون ہے تو میرا سبآج کی رات اذلان شاہ اور ایلاف کیلئے اپنے جلو میں لے کے بہت کچھ لے کے نکلی تھیبہت انوکھے سے رنگ جو روح پہ ہی چڑھتے ہیںجن کا رنگ نہایت پکا ہوتا ہےیہ روح سے روح کا احساس جڑ رہا تھاجو ہر رشتے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہےکسی رشتے کی مضبوطی جاننی ہے تو اسے روح کی گہرائی سے محسوس کرواترنے دو اسے روح کے اندرجسموں کے تعلق پھر بے معنی ہوجاتے ہیں"ایلاف کچھ نہیں ہوا آئی ایم اوکے ....آپ کا کئیرنگ کا انداذ مجھےپسند آیا ...بٹ ناؤ نارمل ہوجائیں ...پھر بعد میں شکوہ نہ کیجئے گا آپ کو ہوش میں لانے کیلئے کیا کچھ اور ٹرائی کریں" اذلان شاہ نہ جانے کتنی دیر بعد سہی نارمل ہوا تھاایلاف اس کے لہجے پہ یوں چونکی جیسے ابھی ہوش میں آئی ہواسے نہیں پتہ تھا وہ اتنی جذباتی کیوں ہوئی وہ تو ایک پریکٹیکل سوچ رکھنے والی لڑکی تھی مگر اس شخص کے سامنے وہ ہمیشہ کمزور ہوجاتی تھیجس کونے سے اس نے اذلان کی چادر پکڑ رکھی تھی اسی سرے کو اس نے منہ پہ رکھ کے رونا شروع کردیا تھا" مجھے بارش کبھی اچھی نہیں لگی ....یہ چمکتی بجلی....گرجتے بادل ....برستی بارش.....مجھے ہمیشہ ڈراتے ہیں...میں بہت اکیلی ہوتی ہوں ہر بارش میں ...کوئی نہیں ہوتا مجھے یہ بتانے والا کہ یہ بارش صرف پانی ہے .. .میرے لئے یہ صرف خوف کا سمندر ہے جس میں ....میں ہمیشہ ڈوب جاتی ہوں"ایلاف کو آج اس کے کندھے پہ سر رکھ کے رونے کا جو موقع ملاتو اپنا سارا دکھ کہہ دیا تھا"ایلاف ....پلیز آپ اب اکیلی نہیں ہیں.. ہم ہیں آپ کے ساتھ ...تو فکر کیسی ...بس چپ ہوجائیں اب" اذلان نے اسے چپ کراتے ہوئےاس کے آنسو پونچھے تھےاندر ہی اندر کہیں کچھ چبھا بھی تھاجو اتنا اکیلا ہو اس کے ڈر بے حد معمولی سہی مگر اسے ڈراتے بہت ہیںایلاف جب جی بھر کے رو چکی تو آنسوؤں سے بھرا منہ اذلان کی چادر سے ہی صاف کرلیا" مجھے لگ رہا ہے ایلاف آپ کا دل آگیا ہے میری چادر پہ پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہیں ہیں....ایسا کر لیں آپ رکھ لیں" اذلان نے نرمی سے اس کا موڈ بدلنے کی خاطر طنز کیاایلاف کو بات سمجھ میں آئی تو اسے احساس ہوا وہ کس کے روبرو ہےاتنی نزدیکیاںتو خواب میں بھی نہ سوچیں تھیں .احساس ہونے پہ وہ ایک دم پیچھے ہوئی تھی" میں جاؤں اب....ٹھیک ہوں میں" ایلاف نے پلکیں جھکا کے کہاوہ اب اس شخص کے سامنے مزید اگر کھڑی ہوئی تو اور کتنی حماقتیں کرے گی" میرے خیال سے آپ کا جانا ہی بہتر ہے اب ... ورنہ شاید آج ہم وقت مٹھی میں ہی قید کرلیں گے" اذلان کے لہجے میں آنچ سی تھیایلاف سے کھڑا رہنا دوبھر ہوگیا تھاوہ بنا کچھ مزید کہے پلٹ گئی تھی______________________________امیراں کیلئے ایلاف اگر عجوبہ تھی تو اب اذلان بھی اسے کسیاور سیارے کی مخلوق لگنے لگا تھاایلاف کیلئے اس نے صبح میں ایک فیمیل ٹیوٹر کا ارینج کر دیا تھا اور جب بھی وہ گھر پہ ہوتا ایلاف کی شامت بلائے رکھتا تھااس دن کے بعد سے ایلاف اور محتاط ہوگئی تھیڈکشنری سے چن چن کے نت نئے الفاظ نکال کر اپنے ہر ٹاپک پہ ڈالتی تھی یوںکہ اذلان خون کے گھونٹ بھر کے رہ جاتا تھا" خود ہی تو کہتے ہیں کہ ہائی پروفائل vocabulary یوز کرو تو اب"ایلاف کے پاس جواب حاضر تھااذلان اسے گھور کے رہ جاتا تھااور بدلے میں وہ اسے اکاؤنٹنگ کی اتنی بیلنس شیٹس بنواتا تھا کہ ایلاف کا ہاتھ دکھ جاتا تھاایلاف اگر باتوں سے چرخے لگاتی تھی تو اذلان شاہ عمل کا قائل تھااس نے ایلاف کو ہر ٹاپک یوں پڑھایا تھا کہ ایلاف کولگتا اس نے گھول کے پی لیا ہےوہ رات کو دیر تک اس کے ساتھ اسٹڈی میں الجھا رہتا تھاامیراں دونوں کیلئے کافی بنا بنا کے بے حال ہوجاتی تھیوہ جب بھی کافی لے کے آتی تو وہ دو دونوں کسی ٹاپک پہ الجھے ہوتے تھے" یہ کہاں کے میاں بیوی ہیں ....پیار محبت کی باتیں کرنے کے بجائے گٹ پٹ کرتے رہتے ہیں" امیراں کیلئے یہ سب بڑا دلچسپ ہوتا تھا اور انوکھا بھیایلاف کا آرٹیکل ایک بزنس میگزین میں چھپ چکا تھا جسے پسندیدگی کی سند ملی تھی ایڈیٹر نے اسے مزید لکھنے کو کہا تھا مگر فی الحال وہ پیپرز کی وجہ سے مصروف تھی اوروہ آرٹیکل بھی اس نے ماموں کے گھر شادی سے پہلے لکھا تھا ... اذلان کے پوچھنے پہ اس نے بتایا تھااب اس کی تیاری اتنی اچھی گئی تھی کہ اس نے ہر پیپر بہت آرام سے دیا تھا یہاں تک کہ اکاؤنٹنگ جیسا سڑیل پیپر بھی اس کا اتنا اچھا ہوا تھا کہ ایلاف کو واقعی لگا تھا کہاذلان نے اسے کچھ پڑھایا ہےاور اذلان شاہ وہ کونسا کم تھا اس نے ایلاف سے پورا پیپر گھر پہ دوبارہ کروایا تھا بقول اس کے"اب رزلٹ آنے کا انتظار کون کرے آپ مجھے یہیں کر کے دکھائیں "" دوبارہ..." ایلاف مری مری آواز میں بولی" جی دوبارہ...." اذلان نے ایک ایک لفظ پہ زور دیااور ایلاف کا پیپر چیک کر کے اسے لگا تھا کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوئی تھی" کم از کم اس میں تو آپ کی سپلی نہیں لگے گی" اذلان نے سیدھے لفظوں میں تعریف کرنا تو سیکھا ہی نہ تھا" بہت مہربانی آپ کی.....فکر نہ کریں میرا رزلٹ بہت شاندار آنے والا ہے " ایلاف کو غصہ ہی آگیا تھا" اس آدمی کے نخرے ہی نہیں ختم ہوتے "" آپ نے کچھ کہا " اذلان سن چکا تھا اس لئے تصدیق چاہی تھی" میری کہاں اتنی مجال....." ایلاف صاف مکر گئی تھی" توبہ کتنے تیز کان ہیں" اب کے اس نے صرف سوچا تھا______________________________پیپر ختم ہوا تو ایلاف نے سکون کا سانس لیا تھا کہ اذلان کی استادی سے جان چھوٹی وہ صحیح معنوں میں جان کو آجاتا تھاایلاف ناشتہ کر چکی تو کچھ سوچ کے اذلان کے کمرے کی طرف چلی آئی" بختاں کیا کر رہی ہو"" جی یہ صاحب کے کپڑے ہیں استری کرنے والے اور ان کی الماری بھی درست کرنی ہے موسم بدل رہا ہے تو اس کے حساب سے" بختاں نے آج پہلی بار ایلاف کے مالکانہ انداز دیکھے تھے" تم ایک کام کرو یہ بیڈ شیٹ اور پردے چینج کرلو یہ میں کرلوں گی" ایلاف آگے آ کے الماری کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بولی" آپ " بختاں کو حیرت ہوئی تھیچار مہینے سے اس نے اس گھر میں تنکا نہیں ہلایا تھا اور آج وہ صاحب کے کام کر رہی تھیچار مہینے ہوچکے تھے اس گھر میں اسے" کیوں اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے ....اپنے شوہر کے کام تو بیوی کو خود ہی کرنے چاہئے نا....چلو اب تم اپنا کام کرو" ایلاف نے اسے کہا" اتنے مہینوں سے کیا سو رہیں تھیں یا انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ پیر سائیں ان کے شوہر ہیں ....بے چارے پیر جی" بختاں تو آج امیراں کی اس بات پہ ایمان لے آئی تھی کہ یہ بی بی کسی اور سیارے کی مخلوق ہےورنہ اس سے پہلے وہ ہمیشہ امیراں کو جھڑکتی ہی تھی کہ اسے ہر وقت ان دونوں کی فکر کیوں رہتی کہوہ دونوں اسٹڈی میں ایک ساتھ تو ہوتے ہیںتو ایک کمرے میں کیوں نہیں ہوتےاذلان کی وارڈروب سیٹ کرنے میں اسے ذیادہ وقت نہیں لگا تھا ظاہر ہے اتنے نفیس آدمی کی وارڈ روب بکھری ہوئی تو ہو نہیںسکتی تھیکپڑے استری کر کے اس نے الماری میں ٹانگے اور کچن میں آگئی تھی" امیراں کیا پکا رہی ہو آج"" آج جی مچھلی بنانی ہے ... صاحب نے کہا ہے ان کی فرمائش پہ" امیراں نے کہا" ہٹو آج میں کھانا بناؤں گی " ایلاف نے اس حیران ہی کردیا تھا"آپ کو کھانا بنانا آتا ہے ?" امیراں حیرانی سے بولی" یہ بی بی کھانا اتنی مشکل سے کھاتی ہے تو ...پکانا کیا خاک آتا ہوگا" امیراں آخر کو اذلان کی ملازمہ تھی اسے بھی کوئی خاص امید نہ تھی ایلاف سے" ارے امیراں بی بی ....ایسی مچھلی بناؤں گی کہ تمہارے صاحب گوالمنڈی کی مچھلی بھول جائیں گے " ایلاف جوش سے آستینیں چڑھاتی ہوئی بولی______________________________" ان گاڑیون کی بکنگ جو ہوچکیں ہیں انہیں جلد از جلد ڈلیور کراؤ یوں کلائینٹس کا وقت خراب نہ کرو" اذلان شاہ اس وقت اپنے شو روم میں تھاوہ جب بھی شہر میں ہوتا تھا روز ایک چکر اس جگہ کا لگاتا تھا" میں اب جا رہا ہوں ....جیسا کہا ہے ویسا ہی ہونا چاہئے" منیجر کے ساتھ باہر آتے ہوئے وہ اسے کہہ رہا تھا" مجھے پیر اذلان شاہ سے ملنا ہے " وہ تئیس چوبیس برس کا نوجوان تھا" آپ کی اپائنٹمنٹ ہے" رسیپشنسٹ نے پوچھا تھا" نہیں بٹ یہ ضروری ہے "اذلان شاہ جو باہر جا رہا تھااپنے نام کی پکار پہ وہ رسیپشن کی طرف چلا آیا تھا" فرمائیں ...ہم ہیں پیر اذلان شاہ ...غالبا ہم اس سے پہلے نہیں ملے " اذلان شاہ اس نوارد کو دیکھ کے بولا" جی ...کیا ہم اکیلے میں بات کریں " وہ لڑکا کچھ گھبرایا ہواتھاشاید اذلان کی شان دار شخصیت کا اثر تھا" اوہ آپ میرے منیجر سے بات کرلیں اگر جاب چاہئے ...ہمیں کچھ کام ہے" اذلان کو لگا اسے جاب کی ضرورت ہے"یہ ..... ان کے بارے میں ہے " اس نے جو نام لیا تھا اذلان شاہ کو مڑنا ہی پڑا تھا______________________________امیراں تو ایلاف کی پھرتیاں دیکھ کے حیران تھیمچھلی پہ مصالحہ لگانے کے بعد اس نے پلاؤ بنانا شروع کردیا تھا اس کے بعد سلاد اور رائتہ ایک بہترین لنچ تیار تھاکچن سے فارغ ہونے کے بعد ایلاف اپنے کمرے میں جا چکی تھی فریش ہونے" پیر سائیں .....آج تو ایلاف بی بی نے تو مجھے حیران ہی کردیا ...مینوں پتہ ہی نہ تھا انہیں سب بنانا آتا ہے" امیراں کی گاڑی اذلان کو دیکھتے ساتھ اسٹارٹ ہوئی تھی" کہاں ہے وہ?" اذلان اس کی بات پہ توجہ دئیے بنا بولا" وہ جی اپنے کمرے میں" امیراں کو اذلان کی سرد مہری بہت کھلی تھیاذلان شاہ ایلاف کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا" آپ آج جلدی آگئے" ایلاف جو کچھ لکھ رہی تھی اسے دیکھ کے کھڑی ہوگئی تھیاذلان نے دروازہ بند کردیا تھاایلاف نے اپنی دھن میں دھیان ہی نہیں دیا تھا"اچھا ہوا آپ آگئے ....میں نے نیا آرٹیکل شروع کیا آپ بھی دیکھیں" ایلاف نے اذلان کی طرف پیپر بڑھائےجسے اذلان نے دور جھٹکتے ہوئے ایلاف کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا" یہ سلمان کون ہے ایلاف"اور اذلان شاہ وہ آخری شخص تھا جس سے ایلاف کو اس سوال کی امید نہ تھی______________________________جاری ہے
یہ جنون منز ل عشق کا ہے 12
http://novelskhazana.blogspot.com/
#یہ_جنون_منزل_عشق_ہےقسط_12از فرحت نشاط مصطفےصبح کے اجالوں کا ہلکا ہلکا دھندلکا آہستہ روی سے پھیلنے لگا تھا موذن کی آواز نیند میں غافل لوگوں لو فلاح کی طرف پکار رہی تھی فجر کا نور پھیل رہا تھا جسے حاصل کرنے کو لوگ آہستہ روی سے اٹھ رہے تھےاسی احساس کے زیر اثر ایلاف کی آنکھ بھی کھل چکی تھی آج کتنے دنوں بعد وہ پرسکون نیند سوئی تھیمندی مندی آنکھوں سے اس نے سوچا ایک نرم گرم سا احساس اسے محسوس ہورہا تھاکیا تھا وہ?اس نے سوچاپھر جھٹ سے پوری آنکھیں کھولیںاس پہ کمبل پوری طرح سے پھیلا ہوا تھاایلاف کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ رات کو کمبل لئے بنا ہی سوئی تھی صرف چادر لپیٹ کےتو یہ کمبلیقینا اذلان شاہ نے ہی اس پہ ڈالا تھاوہ بھلے سے منہ سے کچھ نہیں بولتا تھامگر اس کے ہر عمل سے احساس ہوتا تھاپرواہ کافکر کاتوجہ کاایلاف کہ لبوں پہ بہت جاندار مسکراہٹ ابھری" آپ واقعی میری زندگی میں انعام کی طرح ہیں اذلان شاہ ....بس مجھے ہی سمجھنے میں دیر لگی " ایلاف نے کمبل کی نرماہٹ محسوس کرتے ہوئے سوچا پھر نماز کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیاذلان شاہ کمرے میں نہیں تھا یقینا وہ نماز کی ادائیگی کیلئے جاچکا تھاایلاف نے نماز ادا کی پھر تلاوت بھی کرلی کرنے کو فی الحال کچھ نہ تھا اس نے کمبل تہہ کر کے جگہ پہ رکھا پھر اذلان کا کمبل بھی تہہ کر دیا تھا اور کاؤچ پہ بیٹھ کے بال سلجھانے لگی تھی اس نے آج سنہرے اور گلابی امتزاج کا خوبصورت سا فراک پہن رکھا تھا کہنے کو آج اس کی نئی زندگی کا پہلا دن تھا مگر فی الحال ایلاف کو یہ دن عام دنوں کی مانند لگ رہا تھابال سلجھ گئے تو اس نے انہیں بنا کے ٹھیک سے دوپٹہ اڑ لیا پھر سبز آنکھوں میں کاجل کی دھار بھی لگا دی تھی سبز کانچ سیاہی سے اور بھی چمک اٹھے تھےایلاف کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی اور باہر کا نظارہ کرنے لگی گاؤں کی صبح کا منظر بڑا پرسکون تھااسی پل دروازہ کھلا تھاایلاف نے پلٹ کے دیکھا اذلان شاہ کمرے میں داخل ہورہا تھا" صبح بخیر" اذلان نے کہا"آپ کو بھی" ایلاف نے دھیرے سے کہا" ایلاف ...یہ لیجئے" اذلان نے اس کی طرف ایک مخملی کیس بڑھایا تھا" یہ کیا ہے" ایلاف نے پوچھا"یہ بھی رسم کا ایک حصہ ہے ہم کسی کے سامنے اپنی سبکی نہیں چاہتے" اذلان نے کہاظاہر ہے سب اس سے پوچھتے کہ اذلان نے اسے منہ دکھائی میں کیا دیاانکے لئے یہ رشتہ فی الحال تکلفات کے پردے میں اور کاغذی سطح تک محدود تھا مگر دنیا والوں کیلئے ان دونوں کا رشتہ وہی روایتی تھیایلاف نے ہاتھ بڑھا کے کیس لیا کھول کے دیکھا تو اس میںخوبصورت چمکتی ہوئی نوز پن تھیایلاف ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی" کیا بات ہے آپ کو پسند نہیں آیا" اذلان نے اس کے تاثرات دیکھے"وہ بات نہیں ہے پسند ہے مجھے" کہہ کے ایلاف نے کیس دراز میں رکھنے کیلئے کھولا" یہ کیس میں رکھنے کیلئے نہیں ہیں اسے پہن لیں " اذلان نے کہا" بنین بھابھی آئیں گی تو ان سے کہوں گی وہ پہنا دیں گی مجھ سے اس کا لاک نہیں بند ہوگا صحیح سے ....گر گیا تو" ایلاف نے وجہ بتائی" ادھر دیجئے" اذلان نے مٹھی کھولیایلاف نے حیرانگی سے اس کی طرف کیس بڑھایا" ادھر آئیں" اذلان نے پاس آنے کو کہا" سیدھی کھڑی ہوں ....ہلیں مت" اذلان نے ہدایت دیکیس کھول کے نوز پن نکالیایلاف کی ناک کو ہلکے سے پکڑ کے احتیاط سے نوزپن سوراخ میں اتاریایلاف سی کر کے رہ گئی ابھی تو نئی نئی ناک چھیدی تھی سو درد کا احساس ہوتا تھاایلاف کی آنکھوں میں آنسو کی لکیر سی چمکیاذلان نے اس کا چہرہ دیکھاجو اس سمے میں بہت پاس تھاصبح کے اجالوں سے جھانکتا وہ اجلا صبیح چہرہ نہ جانے کیوں اذلان کو اپنا اپنا سا لگاسبز کانچوں کی جھلملاہٹ میں اذلان کو کچھ ڈوبتا ہوا محسوس ہوایہ ان کے رشتے کا اعجاز تھاجو بولتا نہیںمگراپنا احساسدھیرے دھیرے دلاتا ہےمحسوس کراتا ہےاپنی اہمیت منوا کے چھوڑتا ہےنکاح کے بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہےوہی طاقت اب محسوس ہورہی تھیمقناطیس کی طرح"آپ تو چھوٹے کام کرتی نہیں سو ہم نے سوچا ہم ہی کردیں" اذلان نے اسے کل کی بات کا حوالہ دیا" یہ کوئی اور اچھی سی بات نہیں کرسکتے " ایلاف نے سوچتےہوئے اذلان کی شہد رنگ آنکھوں میں جھانکا" کوئی میٹھی سی سرگوشی "" آپ ابھی مجھ سے واقف نہیں ہیں...میں واقعی بہت بڑے بڑے کام کرتی ہوں" ایلاف نے کہا" ہاں واقعی ...جیسے ایک لفظ سے مکمل داستان بنانا ...آدھی بات سن کے پورا سچ گھڑنا ....واقعی آپ ہی کرسکتی ہیں ...آئی ایم ایمپریسڈ" اذلان نے توصیفی لہجے میں اس کی پچھلی باتیں یاد دلائیںایلاف پہ گھڑوں پانی پھر گیا"میں مانتی ہوں مجھ سے بیوقوفیاں ہوئیں ہیں مگر آپ مجھے موقعدینے کا وعدہ کر چکے ہیں" ایلاف نے یاد دلایا"چلیں آپ کی بیوقوفیاں تو دیکھ لیں اب آپ کی عقلمندیوں کی داستان بھی سن لیں گے" اذلان نے اسے چڑاتے ہوئے کہااتنی آسانی سے تو وہ بھی بخشنے والا نہیں تھا" آپ کیا لڑنے کے موڈ میں ہیں"ایلاف نے کہا"اوہوں قطعا نہیں" اذلان نے کہا" تو پھر ...." ایلاف نے وضاحت چاہی"ہر بات کی ہر لفظ کی وضاحت نہیں چاہتے ایلاف بی بی ورنہ جان مشکل میں پڑی جاتی ہے" اذلان نے کہاایلاف اس کی شکل دیکھ کے رہ گئیاذلان کا کام ہوچکا تھا اس نے ایلاف کی ناک ہولے سے دبا کے چھوڑ دی تھیایلاف اسے گھور کے پیچھے ہوئیاذلان مسکرا کے آگے بڑھ گیا______________________________دن کچھ اور چڑھا تو بنین شاہ اور کچھ اور لڑکیاں اس کے کمرے میں آکے ایلاف کو لے گئیں تھیںناشتہ سب نے ہال کمرے میں کیا تھا ناشتے کے بعد ایلاف شاہ بی بی کے پاس بیٹھ گئی تھیایلاف کے چہرے پہ انہوں نے کچھ کھوجا" ایلاف خوش ہو"" جی" ایلاف نے دھیرے سے سر ہلایا" اذلان کا رویہ ٹھیک تھا?"" جی ......" ایلاف نے انہیں صبح کا واقعہ بتایا تھاشاہ بی بی کو تسلی سی ہوئیمہمانوں کے سامنے ایلاف کی اتنی پریڈ ہوتی تھی کی رات تک ایلاف کے جوڑ جوڑ ہل جاتے تھے اور وہ بے سدھ سی سوجاتی تھیاذلان شاہ سے اس کا سامنا پھر ہوا ہی نہیں ہوا تھاوہ کب آتا کب جاتا پتہ ہی نہیں چلتا تھاآج بڑے دنوں بعد مہمانوں کا رش کم ہوا تو بنین ایلاف کو لے کے پچھلے صحن میں آگئی تانیہ شاہ چھوٹی حویلی میں تھی" کیا کرتیں تھیں شادی سے پہلے ایلاف تم ?" بنین شاہ نے پوچھا"پڑھتی تھی" ایلاف کو بہت کچھ یاد آیا تھااس کے اونچے خوابآدرشخیالوہ اس کے ڈگری ہولڈر ہونے کے خواب" تھیں سے کیا مطلب ....اب نہیں پڑھو گی کیا " بنین شاہ نے پوچھا" پتہ نہیں ....اب تو زندگی کا دائرہ ہی بدل گیا ہے ....اب کیسے پڑھ سکتی ہوں ...اس اونچی حویلی میں کیسے ??" ایلاف آزردگی سے بولی" اونچی حویلی سے تمہاری کیا مراد ہے ایلاف ....تمہیں شاید لگ رہا ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کو تعلیم نہیں دی جاتی ....ارے ایک زمانے میں ہوتا تھا یہ اب نہیں ہوتا ...میں نے خود پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز شادی کے بعد کیا ہے کمال کی حمایت پہ" بنین نے اسے بتایا"مجھے شاید اجازت نہ ملے" ایلاف نے کہا" کیوں بھئی ....ایلاف اذلان تو خود تعلیم کا سب سے بڑا حامیہے اس کی کوششوں سے ہی جاگیر میں لڑکیوں کیلئے ہائی اسکول بنا ہے تو وہ اپنی بیوی کو کیسے روک سکتا ہے .....تم پڑھنا چاہتی ہو تو اذلان یقینا تمہارا ساتھ دے گا" بنین شاہ پریقین تھیایلاف کو لگا اسے کچھ کرنے کو مل گیا ہے یہاں حویلی میں تو پھر وقت گزر جاتا تھا ظاہر ہے وہاں شہر میں وہ وقت کیسے گزارتی تھیاور پھر اذلان شاہ جیسے ویلا ایجوکیٹیڈ کے ساتھ وہ صرف گیارہوں پاس لڑکی ....نہیں ایلاف بی بی موقع سے فائدہ اٹھاؤ تم ایک معمولی انسان کی نہیں پیر اذلان شاہ کی بیوی ہوایلاف نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھے گیاسی عزم کے ساتھ وہ شہر لوٹ آئی تھی اذلان شاہ اسے گھرچھوڑ کے دوسرے شہر جا چکا تھا" اس آدمی کے پاؤں میں چکر ہے ....کتنا گھومتا ہے" ایلاف نے جل کے سوچاپھر خود ہی بولی" صبر کر ایلاف جلد بازی میں پہلے بھی کام بگاڑا تھا تم نے اب انتظار کرو آجائیں گے اذلان شاہ اور ابھی تو میرے پاس نہ کتابیں ہیں نا ڈاکومنٹس وہ بھی تو لانے ہیں" ایلاف نے سوچاایک بار پھر اسے ان گلیوں میں جانا تھا ...وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر مجبوری تھی اس کی اب تک کی محنت وہاں تھی______________________________"بی بی جی سائیں آگئے ہیں " امیراں نے کہاایلاف فورا کھڑی ہوگئی تھی آج چار دن بعد وہ لوٹا تھا اور ان چار دنوں میں ایلاف ماسیوں والے حلیے سے بھی برے حلیے میںگھوم رہی تھیملگجا لباسبکھرے بال" میں کپڑے بدل کے جاؤں کہاںبال بناؤں کس کیلئےوہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیااب باہر جاؤں کس کیلئے"کی عملی تفسیر بنی ہوئی تھیمگر اب وہ شخص لوٹ آیا تھاسو ایلاف کو بھی اپنا حلیہ درست کرنا تھا" میرا سامان کہاں ہیں " ایلاف نے الماری خالی دیکھ کے امیراں سےپوچھا" وہ تو جی پیر سائیں کے کمرے میں رکھ دیا تھا میں نے سارا سامان آپکا" امیراں کے انکشاف پہ ایلاف کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا" تم سے کس نے کہا تھا بیوقوف عورت میرا کمرہ یہ ہے تو ساماں وہاں کیا کر رہا ہے" ایلاف دانت کچکچا کے بولی" لو جی میاں بیوی کے کمرے الگ کب سے ہوگئے اب تو خیر سے ولیمہ بھی ہوگیا ہے" امیراں نے اس کے ہاتھوں پہ مہندی کے مٹے مٹے نقش دیکھتے ہوئے حیرانگی سے کہا" اف خدایا ....تم اپنا دماغ ذیادہ نہیں چلایا کرو" ایلاف نے کہااب وہ اس کے کمرے میں جائے وہ بھی اس حلیے میں"اب کیا کروں میں" ایلاف نےپوچھا" بی بی صاحب اسٹڈی میں ہیں آپ چلی جائیں ان کے کمرے میں" امیراں نے بتایا تو ایلاف کی جان میں جان آئی" میرے ساتھ آؤ اور سارا سامان واپس لاؤ" ایلاف کہہ کے باہر نکل گئی" یہ بی بی اتنی انوکھی کیوں ہے" امیراں نے سوچا اور اس کے پیچھے چل دیوہاں حویلی میں رہنا تو مجبوری تھی مگر یہاں اس طرح ایلاف اذلان کے کمرے میں رہ کراسے یہ احساس نہیں دلانا چاہتی تھی کہ وہ اس پہ حاوی ہو رہی ہےاذلان نے اسے موقع دیا تھا تو وہ حد میں رہ کے ہی اپنے حق کو حاصل کرنا چاہتی تھیاسے پھر سے بدگمان نہیں کرنا چاہتی تھینہا کے اپنا حلیہ درست کر کے ایلاف اسٹڈی کی طرف چلی گئی تھی اذلان ابھی وہیں تھاامیراں نے اس کی رہنمائی کی تھی اسٹڈی تکایلاف نے اندر آکے سلام کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھااذلان شاہ جو آرام کرسی پہ نیم دراز تھا ہاتھ میں سگار تھا جس سے وہ وقفے وقفے سے کش لے رہا تھا اسٹڈی میں اطالوی موسیقی پھیلی ہوئی تھیبڑا خوابناک سا ماحول تھااذلان نے ایلاف کو دیکھ کر ہاتھ میں موجود سگار ایش ٹرے میں رگڑ دیا تھاوہی نو اسموکنگ لیڈیز کی موجودگی میں ....والے اصول پہ عمل کرتے ہوئےایلاف ہلکا سا مسکرائی"آپ سے بات کرنی تھی ایک" ایلاف نےتمہید باندھی" جی کہئے..." اذلان ہم تن گوش ہوا" میرے پیپرز ہونے والے ہیں" ایلاف نے یوں کہا جیسے موسم کا حال سنا رہی ہو"تو?" اذلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا" میں پڑھنا چاہتی ہوں"" ضرور ..مجھے خوشی ہوگی ...کوئی تو ڈھنگ کا کام کریں گی" اذلان نے رک رک کے کہاایلاف نے اس کا طنز ہضم کرلیا" ایک مسئلہ ہے..میرے سارے ڈاکومنٹس اور کتابیں وہاں ہیں" ایلاف نے وہاں پہ زور دیا" اوہ تو یہ بات ہے" اذلان نے سوچا" کتابوں کا تو مسئلہ نہیں وہ یہاں بھی مل جائیں گی ....اصل مسئلہ واقعی ڈاکومنٹس کا ہے ....کچھ سوچتے ہیں اس کا حل" اذلاننے کہاپھر کہا"آپ کب جانا چاہتی ہیں وہاں ....ایسا کریں کل صبح دس بجے تیار رہئے گا آپ کو گاڑی آجائے گی لینے "" میں کبھی وہاں جانا نہیں چاہتی نہ کالج ...." ایلاف نے جملہ ادھورا چھوڑا" کونسا سبجیکٹ ہے آپ کا "" کامرس" یک لفظی جواب حاضر تھا" پھر تو آپکی سپلیاں پکی ہوتی ہوں گی ...کونسی کلاس میں ہیں آپ" اذلان کو اس سے کوئی خاص امید نہ تھی" آپ کیا سمجھتے ہیں مجھے ....فرسٹ ائیر میں اے ون گریڈ تھا میرا اور اب پیپرز میں بھی آپ میرا رزلٹ دیکھ لیجئے گا...ایک دن میں لیڈ کلاس اکنامسٹ ہوں گی پھر آپ کو پتہ چلے گا" ایلاف خفگی سے بولیاذلان شاہ دھیرے سے ہنس دیا ایلاف نے پہلی بار اسے ہنستے ہوئے دیکھا تھاگھمبیر سی دل میں اتر جانے والی ہنسی" امیزنگ...واقعی اگر ٹیچر مجھ جیسا ہوگا تو آپ کے گریڈز واقعی اچھے آئیں گے اب" اذلان شاہ کو پہلی بار ایلاف نے متاثر کیا تھاورنہ اس سے پہلے تو وہ روتی دھوتی رہتی تھی" آپ جیسا مینز آپ کو کامرس کی شد بدھ ہے"ہائے رے ایلاف تیری بدگمانیاں" میم ....آئی ایم سی اے" اذلان شاہ نے بتایا" ارے واہ....پر آپ تو سارا وقت یہاں وہاں گیند کی طرح چکر کھاتے رہتے ہیں مجھے کیسے پڑھائیں گے " ایلاف نے کہا" یہ تو ہے آپ کیلئے ٹیوٹر کا انتظام ہوجائے گا ...لیکن اکاؤنٹس اور انگلش ہم پڑھائیں گے ...دیکھتے ہیں آپ صرف باتیں بناتیںہیں یا کچھ آتا بھی ہے" اذلان نے کہا تو ایلاف بھی جذباتی ہوگئی" یو ڈونٹ وری ....پیر صاحب ہم بھی دیکھتے ہیں آپ کو کیا کیاآتا ہے "ایلاف نے حساب برابر کیا اور وہاں سے چلی آئی______________________________اگلے دن جب ایلاف تیاری میں مصروف تھی جب امیراں نے اسے اطلاع دی کہ گاڑی آگئی ہے" ٹھیک کے پانچ منٹ میں آتی ہوں " ایلاف کہہ کے اپنا جائزہ لیاوہ آج کسی صورت کم نہیں دکھنا چاہتی تھیوہ بتانا چاہتی تھیوہ پہلے والی معمولی ایلاف نہیںاب وہ ایک ذی حیثیت آدمی کی بیویاورعزت دار گھرانے کی بہو تھیوہ اس وقت مہرون رنگ کے گرم سوٹ میں تھی بہترین جوتے کانوں میں ننھے آویزے ,ناک میں چمکتی نوز پن,کلائیوں میں سونے کی نفیس چوڑیاںوہ واقعی اپنے حلیے سے خوشحال گھرانے کی لگ رہی تھیچہرہ نقاب کی اوٹ میں کر کے وہ باہر آگئی گاڑی کھڑی تھیاندر دو عورتیں بھی موجود تھیں مودب سی" فیمیل بارڈی گارڈ....." ایلاف نے سوچااور بیٹھ گئیان عورتوں نے اسے سلام کیا اور چپ چاپ بیٹھ گئیںڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی گاڑی جانے پہچانے راستوں پہ چل کےاس مقام پہ پہنچ چکی تھی جہاں سے ایلاف کو ذلیل و رسوا کیاگیا .جہاں سے ایلاف کی زندگی کا دھارا اذلان شاہ کی طرف موڑا گیا .ایلاف مجبوری میں ہی آئی تھیچپ چاپ قدم اٹھاتے وہ اس دروازے کے سامنے آکھڑی ہوئی تھیجو کبھی اس کا بھی گھر تھادونوں عورتیں اس کے پیچھے اٹین شن کھڑی تھیںپتہ نہیں اذلان نے انہیں کہاں سے برآمد کیا تھاوہاں سے ہر گزرتے فرد کی آنکھ میں حیرت تھییہ بڑی گاڑیاور اس میں آئی یہ کچھ جانی پہچانی سی لڑکیایلاف کے رکنے پہ ایک عورت نے ہاتھ سے دروازہ بجایادروازہ دو تین بار دستک دینے کے بعد ہی کھلاایلاف سمجھ گئی مامی گھر پہ نہیں اپنے کسی دورے پہ ہیںدروازہ راضیہ نے کھولا تھااورایلاف کو دیکھ کے ساکت رہ گئی تھی" تم ....کیا لینے آئی ہو یہاں" راضیہ تنفر سے بولی" فکر مت کرو تمہارا کچھ لینے نہیں آئی اپنا ہی لینے آئی ہوں....اندر آنے کو نہیں کہو گی" ایلاف کمال ضبط سے بولی" کیوں اس پیر کا دل بھر گیا جو لوٹ آئیں"جواب میں پیچھے کھڑیں وہ دونوں محافظ آگے آئیں تھیں" خاموشی سے پیچھے ہوجاؤ ...ہماری بی بی یہاں تھوکنا پسند نہ کریں وہ یہاں اپنا سامان لینے آئیں ہیں ...چپ چاپ راستہ دو ورنہ" اس عورت لے لہجے میں بلا کی کرختگی تھی" تمہاری بی بی کی تو ...اصلیت مجھ سے پوچھو..ایسی آوارہ.." ابھی بات راضیہ کے منہ میں تھیجب اسی عورت نے گھما کے ایک تھپڑ راضیہ کو لگایا تھا اور دھکا دے کے اسے سائیڈ پہ کیا" بی بی آپ جائیں اپنا کام کریں جا کے ....اس کے منہ نہ لگیں یہآپ کو زیب نہیں دیتا"ایلاف کو اب ان عورتوں کا مصرف سمجھ میں آیا تھاایلاف چپ چاپ اندر چلی آئی گھر میں شاید کوئی بھی نہ تھا" چلو یہ بھی اچھا ہوا" ایلاف نے سوچااپنی کتابیں اور ڈاکومنٹس اسے اسی ترتیب سے ملے تھے بس کچھ کتابیں غائب تھیں ایلاف کو دس منٹ لگے تھے سب سمیٹنے میں محافظوں میں سے ایک عورت نے اس سے سارا سامان لے لیا تھاراضیہ اسے خون خوار نظرون سے دیکھ رہی تھی" کیا ٹھاٹ ہیں مہارانی کے" راضیہ کے گال پہ ابھی تک جلن ہورہی تھی اس لئے بمشکل منہ بند کیاایلاف مضبوط قدموں سے چلتی ہوئی آئی تھی" میں نے کبھی تمہارا برا نہیں چاہا تھا ...ہمیشہ تمہیں اپنیبہن سمجھا....مگر تم نے جو کیا وہ کوئی غیر بھی نہیں کرتا ...مگر مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ..کیونکہ ہر مشکلکے ساتھ آسانی ہے میں سمجھ چکی ہوں" ایلاف نے کہا اور عورتوں کو باہر نکلنے کا اشارہ کر کے چلی گئی" ایلاف ...یہ تم ہو نا" اس آواز پہ ایلاف نے پلٹ کے دیکھا تھاوہ رابعہ باجی تھیں اس کی واحد ہمدرد" رابعہ باجی " ایلاف ان سے لپٹ گئیاس کی واحد ہمدرد تھیںجب کسی نے اس کا یقین نہیں کیا تھا تب انہوں نے کیا تھا" آئی ہو اور ملے بغیر جا رہی ہو ہم سے ....واقعی بڑا آدمی بن گئی ہو" رابعہ نے شکوہ کیا" ایسا نہیں ...بس اچھا چلیں میں چلتی ہوں آپ کے ساتھ" ایلاف ان کے ساتھ ہولیاتنے دنوں بعد کسی پرانے شناسا کو دیکھ کے اچھا لگا تھا" تم لوگ یہاں انتظار کرو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں" ایلاف نے کہا اور رابعہ کے ساتھ چل دی تھی" اور سناؤ ایلاف خیر سے خوش ہو ..." رابعہ کے گھر کے چھوٹے سے صحن میں بچھی چارپائی پہ بیٹھ کے انہوں نے پوچھا" ہاں اب میں خوش رہنے لگی ہوں" ایلاف نے اقرار کیا" مطلب" رابعہ نے پوچھاجواب میں ایلاف نے اسے اپنی داستان سنانی شروع کی تھیابھی بات آدھی ہوئی تھی کہ کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی تھی بہت زور سے" میں دیکھتی ہوں" رابعہ اٹھتے ہوئے بولیںاور رابعہ نے آنے میں کافی ٹائم لگایا تھا" کیا ہوگیا تھا ...باجی "" ارے کچھ نہیں ...بلی تھی...ہاں کیا کہہ رہیں تھیں تم " رابعہ نے لہجے کو سرسری بنایا تھا" بس اب مجھے عقل آگئی ہے ...تو سوچا زندگی کو ڈھب سے گزار لیں ..اذلان بہت اچھے انسان ہیں آپ نے سچ کہا تھا" ایلاف نے اقرار کیا" خدا تمہیں خوش رکھے" رابعہ نے دل سے دعا دی" اوہ..وقت کافی ہوگیا ہے میں چلتی ہوں اب " ایلاف نے گھڑی میں وقت دیکھا تو کھڑی ہوگئی تھی" ارے رک جاؤ....میں چائے تو بنا لوں" رابعہ نے کہا" نہیں بہت شکریہ ...بس چلتی ہوں...خدا حافظ" ایلاف اٹھ گئی تھی" خدا حافظ" رابعہ نے اسے رخصت کیاایلاف کا دل ہلکا ہوگیا تھامگر کچھ تو تھاجو اسے اٹک رہا تھاکیا???فی الحال آنکھوں سے اوجھل تھا______________________________" بی بی صاحب جی تساں بلا رہے ہیں ...اسٹڈی میں" امیراں نے کتابوں میں سر دئیے ایلاف کو مخاطب کیاپیپر میں دو ماہ تھے اور ایلاف کو نئے سرے سے ابھی بہت کچھ تیار کرنا تھااس کے کچھ رجسٹر غائب تھےاکنامکس اسے جتنی پسند تھی اکاؤنٹنگ سے اس کی اتنی جان جاتی تھیایلاف نے ان ٹاپکس پہ نشان لگائے جن پہ نئے سرے سے اسے تیاری کرنی تھیامیراں کی بات پہ سر ہلاتے ہوئے وہ جوتے پہن کے اٹھ کھڑی ہوئی تھیآج موسم بہت سرد ہورہا تھاشال اچھی طرح لپیٹ کے وہ اسٹڈی کی طرف چل دی تھیدستک دینے پہ اذلان کی مخصوص گھمبیر آواز میں" کم ان " سنایا دیاایلاف کتابیں لئے آگئی" تو کہاں سے شروع کریں میرے خیال سے انگلش سے کرتے ہیں" اذلان نے کتاب اٹھاتے ہوئے کہاتو ایلاف نے رجسٹر کھول لیااذلان اسے رابرٹ فراسٹ کی پوئم پڑھانے لگاپوئم ختم ہوئی تو اس نے کہا" اس کی سمری بنا کے دکھائیں"ایلاف رجسٹر پہ جھک گئیپندرہ منٹ کے بعد اس نے رجسٹر اذلان کی طرف بڑھایا تھا" یہ لیں"" ہوں ...کوشش کی آپ نے مگر آپ تھوڑی ہائی کلاس vocabulary یوز کریں"" مجھے یہی آتا ہے " ایلاف کو غصہ آگیاوہ تو تعریف سننے کی منتظر تھی اور یہاں تو نکتہ چینی ہی ختم نہیں ہورہی تھیاذلان نے اس کے انداز پہ اسے گھورا" چلیں میں آپ کو سیمپل کے طور پہ آج سمری لکھواتا ہوں " اذلان نے اس کیی طرف رجسٹر بڑھاتے ہوئے کہارجسٹر کچھ آڑا ہوا تو اس میں سے کچھ صفحات گرےاس سے پہلے کہ ایلاف اسے اٹھاتی اذلان اٹھا چکا تھاایلاف کا دل اچھل کے حلق میں آگیا تھا_____________________________جاری ہے
#یہ_جنون_منزل_عشق_ہےقسط_12از فرحت نشاط مصطفےصبح کے اجالوں کا ہلکا ہلکا دھندلکا آہستہ روی سے پھیلنے لگا تھا موذن کی آواز نیند میں غافل لوگوں لو فلاح کی طرف پکار رہی تھی فجر کا نور پھیل رہا تھا جسے حاصل کرنے کو لوگ آہستہ روی سے اٹھ رہے تھےاسی احساس کے زیر اثر ایلاف کی آنکھ بھی کھل چکی تھی آج کتنے دنوں بعد وہ پرسکون نیند سوئی تھیمندی مندی آنکھوں سے اس نے سوچا ایک نرم گرم سا احساس اسے محسوس ہورہا تھاکیا تھا وہ?اس نے سوچاپھر جھٹ سے پوری آنکھیں کھولیںاس پہ کمبل پوری طرح سے پھیلا ہوا تھاایلاف کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ رات کو کمبل لئے بنا ہی سوئی تھی صرف چادر لپیٹ کےتو یہ کمبلیقینا اذلان شاہ نے ہی اس پہ ڈالا تھاوہ بھلے سے منہ سے کچھ نہیں بولتا تھامگر اس کے ہر عمل سے احساس ہوتا تھاپرواہ کافکر کاتوجہ کاایلاف کہ لبوں پہ بہت جاندار مسکراہٹ ابھری" آپ واقعی میری زندگی میں انعام کی طرح ہیں اذلان شاہ ....بس مجھے ہی سمجھنے میں دیر لگی " ایلاف نے کمبل کی نرماہٹ محسوس کرتے ہوئے سوچا پھر نماز کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیاذلان شاہ کمرے میں نہیں تھا یقینا وہ نماز کی ادائیگی کیلئے جاچکا تھاایلاف نے نماز ادا کی پھر تلاوت بھی کرلی کرنے کو فی الحال کچھ نہ تھا اس نے کمبل تہہ کر کے جگہ پہ رکھا پھر اذلان کا کمبل بھی تہہ کر دیا تھا اور کاؤچ پہ بیٹھ کے بال سلجھانے لگی تھی اس نے آج سنہرے اور گلابی امتزاج کا خوبصورت سا فراک پہن رکھا تھا کہنے کو آج اس کی نئی زندگی کا پہلا دن تھا مگر فی الحال ایلاف کو یہ دن عام دنوں کی مانند لگ رہا تھابال سلجھ گئے تو اس نے انہیں بنا کے ٹھیک سے دوپٹہ اڑ لیا پھر سبز آنکھوں میں کاجل کی دھار بھی لگا دی تھی سبز کانچ سیاہی سے اور بھی چمک اٹھے تھےایلاف کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی اور باہر کا نظارہ کرنے لگی گاؤں کی صبح کا منظر بڑا پرسکون تھااسی پل دروازہ کھلا تھاایلاف نے پلٹ کے دیکھا اذلان شاہ کمرے میں داخل ہورہا تھا" صبح بخیر" اذلان نے کہا"آپ کو بھی" ایلاف نے دھیرے سے کہا" ایلاف ...یہ لیجئے" اذلان نے اس کی طرف ایک مخملی کیس بڑھایا تھا" یہ کیا ہے" ایلاف نے پوچھا"یہ بھی رسم کا ایک حصہ ہے ہم کسی کے سامنے اپنی سبکی نہیں چاہتے" اذلان نے کہاظاہر ہے سب اس سے پوچھتے کہ اذلان نے اسے منہ دکھائی میں کیا دیاانکے لئے یہ رشتہ فی الحال تکلفات کے پردے میں اور کاغذی سطح تک محدود تھا مگر دنیا والوں کیلئے ان دونوں کا رشتہ وہی روایتی تھیایلاف نے ہاتھ بڑھا کے کیس لیا کھول کے دیکھا تو اس میںخوبصورت چمکتی ہوئی نوز پن تھیایلاف ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی" کیا بات ہے آپ کو پسند نہیں آیا" اذلان نے اس کے تاثرات دیکھے"وہ بات نہیں ہے پسند ہے مجھے" کہہ کے ایلاف نے کیس دراز میں رکھنے کیلئے کھولا" یہ کیس میں رکھنے کیلئے نہیں ہیں اسے پہن لیں " اذلان نے کہا" بنین بھابھی آئیں گی تو ان سے کہوں گی وہ پہنا دیں گی مجھ سے اس کا لاک نہیں بند ہوگا صحیح سے ....گر گیا تو" ایلاف نے وجہ بتائی" ادھر دیجئے" اذلان نے مٹھی کھولیایلاف نے حیرانگی سے اس کی طرف کیس بڑھایا" ادھر آئیں" اذلان نے پاس آنے کو کہا" سیدھی کھڑی ہوں ....ہلیں مت" اذلان نے ہدایت دیکیس کھول کے نوز پن نکالیایلاف کی ناک کو ہلکے سے پکڑ کے احتیاط سے نوزپن سوراخ میں اتاریایلاف سی کر کے رہ گئی ابھی تو نئی نئی ناک چھیدی تھی سو درد کا احساس ہوتا تھاایلاف کی آنکھوں میں آنسو کی لکیر سی چمکیاذلان نے اس کا چہرہ دیکھاجو اس سمے میں بہت پاس تھاصبح کے اجالوں سے جھانکتا وہ اجلا صبیح چہرہ نہ جانے کیوں اذلان کو اپنا اپنا سا لگاسبز کانچوں کی جھلملاہٹ میں اذلان کو کچھ ڈوبتا ہوا محسوس ہوایہ ان کے رشتے کا اعجاز تھاجو بولتا نہیںمگراپنا احساسدھیرے دھیرے دلاتا ہےمحسوس کراتا ہےاپنی اہمیت منوا کے چھوڑتا ہےنکاح کے بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہےوہی طاقت اب محسوس ہورہی تھیمقناطیس کی طرح"آپ تو چھوٹے کام کرتی نہیں سو ہم نے سوچا ہم ہی کردیں" اذلان نے اسے کل کی بات کا حوالہ دیا" یہ کوئی اور اچھی سی بات نہیں کرسکتے " ایلاف نے سوچتےہوئے اذلان کی شہد رنگ آنکھوں میں جھانکا" کوئی میٹھی سی سرگوشی "" آپ ابھی مجھ سے واقف نہیں ہیں...میں واقعی بہت بڑے بڑے کام کرتی ہوں" ایلاف نے کہا" ہاں واقعی ...جیسے ایک لفظ سے مکمل داستان بنانا ...آدھی بات سن کے پورا سچ گھڑنا ....واقعی آپ ہی کرسکتی ہیں ...آئی ایم ایمپریسڈ" اذلان نے توصیفی لہجے میں اس کی پچھلی باتیں یاد دلائیںایلاف پہ گھڑوں پانی پھر گیا"میں مانتی ہوں مجھ سے بیوقوفیاں ہوئیں ہیں مگر آپ مجھے موقعدینے کا وعدہ کر چکے ہیں" ایلاف نے یاد دلایا"چلیں آپ کی بیوقوفیاں تو دیکھ لیں اب آپ کی عقلمندیوں کی داستان بھی سن لیں گے" اذلان نے اسے چڑاتے ہوئے کہااتنی آسانی سے تو وہ بھی بخشنے والا نہیں تھا" آپ کیا لڑنے کے موڈ میں ہیں"ایلاف نے کہا"اوہوں قطعا نہیں" اذلان نے کہا" تو پھر ...." ایلاف نے وضاحت چاہی"ہر بات کی ہر لفظ کی وضاحت نہیں چاہتے ایلاف بی بی ورنہ جان مشکل میں پڑی جاتی ہے" اذلان نے کہاایلاف اس کی شکل دیکھ کے رہ گئیاذلان کا کام ہوچکا تھا اس نے ایلاف کی ناک ہولے سے دبا کے چھوڑ دی تھیایلاف اسے گھور کے پیچھے ہوئیاذلان مسکرا کے آگے بڑھ گیا______________________________دن کچھ اور چڑھا تو بنین شاہ اور کچھ اور لڑکیاں اس کے کمرے میں آکے ایلاف کو لے گئیں تھیںناشتہ سب نے ہال کمرے میں کیا تھا ناشتے کے بعد ایلاف شاہ بی بی کے پاس بیٹھ گئی تھیایلاف کے چہرے پہ انہوں نے کچھ کھوجا" ایلاف خوش ہو"" جی" ایلاف نے دھیرے سے سر ہلایا" اذلان کا رویہ ٹھیک تھا?"" جی ......" ایلاف نے انہیں صبح کا واقعہ بتایا تھاشاہ بی بی کو تسلی سی ہوئیمہمانوں کے سامنے ایلاف کی اتنی پریڈ ہوتی تھی کی رات تک ایلاف کے جوڑ جوڑ ہل جاتے تھے اور وہ بے سدھ سی سوجاتی تھیاذلان شاہ سے اس کا سامنا پھر ہوا ہی نہیں ہوا تھاوہ کب آتا کب جاتا پتہ ہی نہیں چلتا تھاآج بڑے دنوں بعد مہمانوں کا رش کم ہوا تو بنین ایلاف کو لے کے پچھلے صحن میں آگئی تانیہ شاہ چھوٹی حویلی میں تھی" کیا کرتیں تھیں شادی سے پہلے ایلاف تم ?" بنین شاہ نے پوچھا"پڑھتی تھی" ایلاف کو بہت کچھ یاد آیا تھااس کے اونچے خوابآدرشخیالوہ اس کے ڈگری ہولڈر ہونے کے خواب" تھیں سے کیا مطلب ....اب نہیں پڑھو گی کیا " بنین شاہ نے پوچھا" پتہ نہیں ....اب تو زندگی کا دائرہ ہی بدل گیا ہے ....اب کیسے پڑھ سکتی ہوں ...اس اونچی حویلی میں کیسے ??" ایلاف آزردگی سے بولی" اونچی حویلی سے تمہاری کیا مراد ہے ایلاف ....تمہیں شاید لگ رہا ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کو تعلیم نہیں دی جاتی ....ارے ایک زمانے میں ہوتا تھا یہ اب نہیں ہوتا ...میں نے خود پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز شادی کے بعد کیا ہے کمال کی حمایت پہ" بنین نے اسے بتایا"مجھے شاید اجازت نہ ملے" ایلاف نے کہا" کیوں بھئی ....ایلاف اذلان تو خود تعلیم کا سب سے بڑا حامیہے اس کی کوششوں سے ہی جاگیر میں لڑکیوں کیلئے ہائی اسکول بنا ہے تو وہ اپنی بیوی کو کیسے روک سکتا ہے .....تم پڑھنا چاہتی ہو تو اذلان یقینا تمہارا ساتھ دے گا" بنین شاہ پریقین تھیایلاف کو لگا اسے کچھ کرنے کو مل گیا ہے یہاں حویلی میں تو پھر وقت گزر جاتا تھا ظاہر ہے وہاں شہر میں وہ وقت کیسے گزارتی تھیاور پھر اذلان شاہ جیسے ویلا ایجوکیٹیڈ کے ساتھ وہ صرف گیارہوں پاس لڑکی ....نہیں ایلاف بی بی موقع سے فائدہ اٹھاؤ تم ایک معمولی انسان کی نہیں پیر اذلان شاہ کی بیوی ہوایلاف نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھے گیاسی عزم کے ساتھ وہ شہر لوٹ آئی تھی اذلان شاہ اسے گھرچھوڑ کے دوسرے شہر جا چکا تھا" اس آدمی کے پاؤں میں چکر ہے ....کتنا گھومتا ہے" ایلاف نے جل کے سوچاپھر خود ہی بولی" صبر کر ایلاف جلد بازی میں پہلے بھی کام بگاڑا تھا تم نے اب انتظار کرو آجائیں گے اذلان شاہ اور ابھی تو میرے پاس نہ کتابیں ہیں نا ڈاکومنٹس وہ بھی تو لانے ہیں" ایلاف نے سوچاایک بار پھر اسے ان گلیوں میں جانا تھا ...وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر مجبوری تھی اس کی اب تک کی محنت وہاں تھی______________________________"بی بی جی سائیں آگئے ہیں " امیراں نے کہاایلاف فورا کھڑی ہوگئی تھی آج چار دن بعد وہ لوٹا تھا اور ان چار دنوں میں ایلاف ماسیوں والے حلیے سے بھی برے حلیے میںگھوم رہی تھیملگجا لباسبکھرے بال" میں کپڑے بدل کے جاؤں کہاںبال بناؤں کس کیلئےوہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیااب باہر جاؤں کس کیلئے"کی عملی تفسیر بنی ہوئی تھیمگر اب وہ شخص لوٹ آیا تھاسو ایلاف کو بھی اپنا حلیہ درست کرنا تھا" میرا سامان کہاں ہیں " ایلاف نے الماری خالی دیکھ کے امیراں سےپوچھا" وہ تو جی پیر سائیں کے کمرے میں رکھ دیا تھا میں نے سارا سامان آپکا" امیراں کے انکشاف پہ ایلاف کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا" تم سے کس نے کہا تھا بیوقوف عورت میرا کمرہ یہ ہے تو ساماں وہاں کیا کر رہا ہے" ایلاف دانت کچکچا کے بولی" لو جی میاں بیوی کے کمرے الگ کب سے ہوگئے اب تو خیر سے ولیمہ بھی ہوگیا ہے" امیراں نے اس کے ہاتھوں پہ مہندی کے مٹے مٹے نقش دیکھتے ہوئے حیرانگی سے کہا" اف خدایا ....تم اپنا دماغ ذیادہ نہیں چلایا کرو" ایلاف نے کہااب وہ اس کے کمرے میں جائے وہ بھی اس حلیے میں"اب کیا کروں میں" ایلاف نےپوچھا" بی بی صاحب اسٹڈی میں ہیں آپ چلی جائیں ان کے کمرے میں" امیراں نے بتایا تو ایلاف کی جان میں جان آئی" میرے ساتھ آؤ اور سارا سامان واپس لاؤ" ایلاف کہہ کے باہر نکل گئی" یہ بی بی اتنی انوکھی کیوں ہے" امیراں نے سوچا اور اس کے پیچھے چل دیوہاں حویلی میں رہنا تو مجبوری تھی مگر یہاں اس طرح ایلاف اذلان کے کمرے میں رہ کراسے یہ احساس نہیں دلانا چاہتی تھی کہ وہ اس پہ حاوی ہو رہی ہےاذلان نے اسے موقع دیا تھا تو وہ حد میں رہ کے ہی اپنے حق کو حاصل کرنا چاہتی تھیاسے پھر سے بدگمان نہیں کرنا چاہتی تھینہا کے اپنا حلیہ درست کر کے ایلاف اسٹڈی کی طرف چلی گئی تھی اذلان ابھی وہیں تھاامیراں نے اس کی رہنمائی کی تھی اسٹڈی تکایلاف نے اندر آکے سلام کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھااذلان شاہ جو آرام کرسی پہ نیم دراز تھا ہاتھ میں سگار تھا جس سے وہ وقفے وقفے سے کش لے رہا تھا اسٹڈی میں اطالوی موسیقی پھیلی ہوئی تھیبڑا خوابناک سا ماحول تھااذلان نے ایلاف کو دیکھ کر ہاتھ میں موجود سگار ایش ٹرے میں رگڑ دیا تھاوہی نو اسموکنگ لیڈیز کی موجودگی میں ....والے اصول پہ عمل کرتے ہوئےایلاف ہلکا سا مسکرائی"آپ سے بات کرنی تھی ایک" ایلاف نےتمہید باندھی" جی کہئے..." اذلان ہم تن گوش ہوا" میرے پیپرز ہونے والے ہیں" ایلاف نے یوں کہا جیسے موسم کا حال سنا رہی ہو"تو?" اذلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا" میں پڑھنا چاہتی ہوں"" ضرور ..مجھے خوشی ہوگی ...کوئی تو ڈھنگ کا کام کریں گی" اذلان نے رک رک کے کہاایلاف نے اس کا طنز ہضم کرلیا" ایک مسئلہ ہے..میرے سارے ڈاکومنٹس اور کتابیں وہاں ہیں" ایلاف نے وہاں پہ زور دیا" اوہ تو یہ بات ہے" اذلان نے سوچا" کتابوں کا تو مسئلہ نہیں وہ یہاں بھی مل جائیں گی ....اصل مسئلہ واقعی ڈاکومنٹس کا ہے ....کچھ سوچتے ہیں اس کا حل" اذلاننے کہاپھر کہا"آپ کب جانا چاہتی ہیں وہاں ....ایسا کریں کل صبح دس بجے تیار رہئے گا آپ کو گاڑی آجائے گی لینے "" میں کبھی وہاں جانا نہیں چاہتی نہ کالج ...." ایلاف نے جملہ ادھورا چھوڑا" کونسا سبجیکٹ ہے آپ کا "" کامرس" یک لفظی جواب حاضر تھا" پھر تو آپکی سپلیاں پکی ہوتی ہوں گی ...کونسی کلاس میں ہیں آپ" اذلان کو اس سے کوئی خاص امید نہ تھی" آپ کیا سمجھتے ہیں مجھے ....فرسٹ ائیر میں اے ون گریڈ تھا میرا اور اب پیپرز میں بھی آپ میرا رزلٹ دیکھ لیجئے گا...ایک دن میں لیڈ کلاس اکنامسٹ ہوں گی پھر آپ کو پتہ چلے گا" ایلاف خفگی سے بولیاذلان شاہ دھیرے سے ہنس دیا ایلاف نے پہلی بار اسے ہنستے ہوئے دیکھا تھاگھمبیر سی دل میں اتر جانے والی ہنسی" امیزنگ...واقعی اگر ٹیچر مجھ جیسا ہوگا تو آپ کے گریڈز واقعی اچھے آئیں گے اب" اذلان شاہ کو پہلی بار ایلاف نے متاثر کیا تھاورنہ اس سے پہلے تو وہ روتی دھوتی رہتی تھی" آپ جیسا مینز آپ کو کامرس کی شد بدھ ہے"ہائے رے ایلاف تیری بدگمانیاں" میم ....آئی ایم سی اے" اذلان شاہ نے بتایا" ارے واہ....پر آپ تو سارا وقت یہاں وہاں گیند کی طرح چکر کھاتے رہتے ہیں مجھے کیسے پڑھائیں گے " ایلاف نے کہا" یہ تو ہے آپ کیلئے ٹیوٹر کا انتظام ہوجائے گا ...لیکن اکاؤنٹس اور انگلش ہم پڑھائیں گے ...دیکھتے ہیں آپ صرف باتیں بناتیںہیں یا کچھ آتا بھی ہے" اذلان نے کہا تو ایلاف بھی جذباتی ہوگئی" یو ڈونٹ وری ....پیر صاحب ہم بھی دیکھتے ہیں آپ کو کیا کیاآتا ہے "ایلاف نے حساب برابر کیا اور وہاں سے چلی آئی______________________________اگلے دن جب ایلاف تیاری میں مصروف تھی جب امیراں نے اسے اطلاع دی کہ گاڑی آگئی ہے" ٹھیک کے پانچ منٹ میں آتی ہوں " ایلاف کہہ کے اپنا جائزہ لیاوہ آج کسی صورت کم نہیں دکھنا چاہتی تھیوہ بتانا چاہتی تھیوہ پہلے والی معمولی ایلاف نہیںاب وہ ایک ذی حیثیت آدمی کی بیویاورعزت دار گھرانے کی بہو تھیوہ اس وقت مہرون رنگ کے گرم سوٹ میں تھی بہترین جوتے کانوں میں ننھے آویزے ,ناک میں چمکتی نوز پن,کلائیوں میں سونے کی نفیس چوڑیاںوہ واقعی اپنے حلیے سے خوشحال گھرانے کی لگ رہی تھیچہرہ نقاب کی اوٹ میں کر کے وہ باہر آگئی گاڑی کھڑی تھیاندر دو عورتیں بھی موجود تھیں مودب سی" فیمیل بارڈی گارڈ....." ایلاف نے سوچااور بیٹھ گئیان عورتوں نے اسے سلام کیا اور چپ چاپ بیٹھ گئیںڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی گاڑی جانے پہچانے راستوں پہ چل کےاس مقام پہ پہنچ چکی تھی جہاں سے ایلاف کو ذلیل و رسوا کیاگیا .جہاں سے ایلاف کی زندگی کا دھارا اذلان شاہ کی طرف موڑا گیا .ایلاف مجبوری میں ہی آئی تھیچپ چاپ قدم اٹھاتے وہ اس دروازے کے سامنے آکھڑی ہوئی تھیجو کبھی اس کا بھی گھر تھادونوں عورتیں اس کے پیچھے اٹین شن کھڑی تھیںپتہ نہیں اذلان نے انہیں کہاں سے برآمد کیا تھاوہاں سے ہر گزرتے فرد کی آنکھ میں حیرت تھییہ بڑی گاڑیاور اس میں آئی یہ کچھ جانی پہچانی سی لڑکیایلاف کے رکنے پہ ایک عورت نے ہاتھ سے دروازہ بجایادروازہ دو تین بار دستک دینے کے بعد ہی کھلاایلاف سمجھ گئی مامی گھر پہ نہیں اپنے کسی دورے پہ ہیںدروازہ راضیہ نے کھولا تھااورایلاف کو دیکھ کے ساکت رہ گئی تھی" تم ....کیا لینے آئی ہو یہاں" راضیہ تنفر سے بولی" فکر مت کرو تمہارا کچھ لینے نہیں آئی اپنا ہی لینے آئی ہوں....اندر آنے کو نہیں کہو گی" ایلاف کمال ضبط سے بولی" کیوں اس پیر کا دل بھر گیا جو لوٹ آئیں"جواب میں پیچھے کھڑیں وہ دونوں محافظ آگے آئیں تھیں" خاموشی سے پیچھے ہوجاؤ ...ہماری بی بی یہاں تھوکنا پسند نہ کریں وہ یہاں اپنا سامان لینے آئیں ہیں ...چپ چاپ راستہ دو ورنہ" اس عورت لے لہجے میں بلا کی کرختگی تھی" تمہاری بی بی کی تو ...اصلیت مجھ سے پوچھو..ایسی آوارہ.." ابھی بات راضیہ کے منہ میں تھیجب اسی عورت نے گھما کے ایک تھپڑ راضیہ کو لگایا تھا اور دھکا دے کے اسے سائیڈ پہ کیا" بی بی آپ جائیں اپنا کام کریں جا کے ....اس کے منہ نہ لگیں یہآپ کو زیب نہیں دیتا"ایلاف کو اب ان عورتوں کا مصرف سمجھ میں آیا تھاایلاف چپ چاپ اندر چلی آئی گھر میں شاید کوئی بھی نہ تھا" چلو یہ بھی اچھا ہوا" ایلاف نے سوچااپنی کتابیں اور ڈاکومنٹس اسے اسی ترتیب سے ملے تھے بس کچھ کتابیں غائب تھیں ایلاف کو دس منٹ لگے تھے سب سمیٹنے میں محافظوں میں سے ایک عورت نے اس سے سارا سامان لے لیا تھاراضیہ اسے خون خوار نظرون سے دیکھ رہی تھی" کیا ٹھاٹ ہیں مہارانی کے" راضیہ کے گال پہ ابھی تک جلن ہورہی تھی اس لئے بمشکل منہ بند کیاایلاف مضبوط قدموں سے چلتی ہوئی آئی تھی" میں نے کبھی تمہارا برا نہیں چاہا تھا ...ہمیشہ تمہیں اپنیبہن سمجھا....مگر تم نے جو کیا وہ کوئی غیر بھی نہیں کرتا ...مگر مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ..کیونکہ ہر مشکلکے ساتھ آسانی ہے میں سمجھ چکی ہوں" ایلاف نے کہا اور عورتوں کو باہر نکلنے کا اشارہ کر کے چلی گئی" ایلاف ...یہ تم ہو نا" اس آواز پہ ایلاف نے پلٹ کے دیکھا تھاوہ رابعہ باجی تھیں اس کی واحد ہمدرد" رابعہ باجی " ایلاف ان سے لپٹ گئیاس کی واحد ہمدرد تھیںجب کسی نے اس کا یقین نہیں کیا تھا تب انہوں نے کیا تھا" آئی ہو اور ملے بغیر جا رہی ہو ہم سے ....واقعی بڑا آدمی بن گئی ہو" رابعہ نے شکوہ کیا" ایسا نہیں ...بس اچھا چلیں میں چلتی ہوں آپ کے ساتھ" ایلاف ان کے ساتھ ہولیاتنے دنوں بعد کسی پرانے شناسا کو دیکھ کے اچھا لگا تھا" تم لوگ یہاں انتظار کرو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں" ایلاف نے کہا اور رابعہ کے ساتھ چل دی تھی" اور سناؤ ایلاف خیر سے خوش ہو ..." رابعہ کے گھر کے چھوٹے سے صحن میں بچھی چارپائی پہ بیٹھ کے انہوں نے پوچھا" ہاں اب میں خوش رہنے لگی ہوں" ایلاف نے اقرار کیا" مطلب" رابعہ نے پوچھاجواب میں ایلاف نے اسے اپنی داستان سنانی شروع کی تھیابھی بات آدھی ہوئی تھی کہ کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی تھی بہت زور سے" میں دیکھتی ہوں" رابعہ اٹھتے ہوئے بولیںاور رابعہ نے آنے میں کافی ٹائم لگایا تھا" کیا ہوگیا تھا ...باجی "" ارے کچھ نہیں ...بلی تھی...ہاں کیا کہہ رہیں تھیں تم " رابعہ نے لہجے کو سرسری بنایا تھا" بس اب مجھے عقل آگئی ہے ...تو سوچا زندگی کو ڈھب سے گزار لیں ..اذلان بہت اچھے انسان ہیں آپ نے سچ کہا تھا" ایلاف نے اقرار کیا" خدا تمہیں خوش رکھے" رابعہ نے دل سے دعا دی" اوہ..وقت کافی ہوگیا ہے میں چلتی ہوں اب " ایلاف نے گھڑی میں وقت دیکھا تو کھڑی ہوگئی تھی" ارے رک جاؤ....میں چائے تو بنا لوں" رابعہ نے کہا" نہیں بہت شکریہ ...بس چلتی ہوں...خدا حافظ" ایلاف اٹھ گئی تھی" خدا حافظ" رابعہ نے اسے رخصت کیاایلاف کا دل ہلکا ہوگیا تھامگر کچھ تو تھاجو اسے اٹک رہا تھاکیا???فی الحال آنکھوں سے اوجھل تھا______________________________" بی بی صاحب جی تساں بلا رہے ہیں ...اسٹڈی میں" امیراں نے کتابوں میں سر دئیے ایلاف کو مخاطب کیاپیپر میں دو ماہ تھے اور ایلاف کو نئے سرے سے ابھی بہت کچھ تیار کرنا تھااس کے کچھ رجسٹر غائب تھےاکنامکس اسے جتنی پسند تھی اکاؤنٹنگ سے اس کی اتنی جان جاتی تھیایلاف نے ان ٹاپکس پہ نشان لگائے جن پہ نئے سرے سے اسے تیاری کرنی تھیامیراں کی بات پہ سر ہلاتے ہوئے وہ جوتے پہن کے اٹھ کھڑی ہوئی تھیآج موسم بہت سرد ہورہا تھاشال اچھی طرح لپیٹ کے وہ اسٹڈی کی طرف چل دی تھیدستک دینے پہ اذلان کی مخصوص گھمبیر آواز میں" کم ان " سنایا دیاایلاف کتابیں لئے آگئی" تو کہاں سے شروع کریں میرے خیال سے انگلش سے کرتے ہیں" اذلان نے کتاب اٹھاتے ہوئے کہاتو ایلاف نے رجسٹر کھول لیااذلان اسے رابرٹ فراسٹ کی پوئم پڑھانے لگاپوئم ختم ہوئی تو اس نے کہا" اس کی سمری بنا کے دکھائیں"ایلاف رجسٹر پہ جھک گئیپندرہ منٹ کے بعد اس نے رجسٹر اذلان کی طرف بڑھایا تھا" یہ لیں"" ہوں ...کوشش کی آپ نے مگر آپ تھوڑی ہائی کلاس vocabulary یوز کریں"" مجھے یہی آتا ہے " ایلاف کو غصہ آگیاوہ تو تعریف سننے کی منتظر تھی اور یہاں تو نکتہ چینی ہی ختم نہیں ہورہی تھیاذلان نے اس کے انداز پہ اسے گھورا" چلیں میں آپ کو سیمپل کے طور پہ آج سمری لکھواتا ہوں " اذلان نے اس کیی طرف رجسٹر بڑھاتے ہوئے کہارجسٹر کچھ آڑا ہوا تو اس میں سے کچھ صفحات گرےاس سے پہلے کہ ایلاف اسے اٹھاتی اذلان اٹھا چکا تھاایلاف کا دل اچھل کے حلق میں آگیا تھا_____________________________جاری ہے
Monday, July 30, 2018
یہ جنون منزل عشق ہے قسط 11
http://novelskhazana.blogspot.com/
#یہ_جنون_منزلِ_عشق_ہے
قسط_11از فرحت نشاط مصطفے
ایلاف مارے صدمے کے کچھ کہہ ہی نہ سکی اسی پل امیراں بولتی ہوئی ان کے پاس آئی تھی" بڑی بی بی ....حویلی سے بنین شاہ بی بی کا فون ہیں ...آپ کو بلاتی ہیں....کچھ کام ہیں"شاہ بی بی کو اس کی مداخلت بے انتہا کھلی تھی" یہ حویلی کے بکھیڑے یہاں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑیں گے ... آتے ہیں ہم بیٹا" کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھ گئیں تھیںوہ دونوں اس وقت لان میں موجود تھیںپیچھے بچی ایلاف سوچ رہی تھی"تبھی تم بھاگ بھاگ کے حویلی جاتے تھے .....تمہاری روح سیراب ہے...اپنی جاگیردار اور خاندانی بیوی کے پاس....اور مجھے تم اپنی ماں نامی لالی پاپ سے بہلا رہے ہو" ایلاف کو پہلے ہی کل رات والے اذلان کے انداز پہ تپ چڑھی تھیاذیت سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھےوہ وہیں لان چئیر پہ بیٹھ کہ اپنا مشغلہ پورا کرنے لگیاذلان شاہ جو باہر جا رہا تھا نظریں یونہی لان کی طرف اٹھیں تو ایلاف کو روتا پایا" اب یہ کس کا سوگ منا رہی ہیں....تھکتی نہیں رو رو کے" کوفت سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے اذلان سوچ رہا تھاخواہ مخواہ میں ابھی کوئی دیکھ لے تو تماشہ لگے گا ملازموںکے سامنے جو پیر اذلان شاہ کو گوارہ بھی نہ تھا"کیا بات ہے کس خوشی میں آنسو بہائے جا رہے ہیں ....سکون نہیں ہے آپ کو" اذلان شاہ بیزاری سے بولا"اپنے نصیبوں پہ رو رہی ہوں...آپ کی ایک نئی خوبی پتہ چلی ہے اس پہ رو رہی ہوں..." ایلاف بھینچی ہوئی آواز میں بولی" ہماری خوبی ....?...دیکھیں صاف لفظوں میں بات کریں ...ہمیں آپ کے ساتھ کسوٹی کسوٹی کھیلنے کا کوئی شوق نہیں" اذلان شاہ کچھ حیرت سے بولایہ لڑکی ہمشہ مغز کی چولیں ہلاتی ہے"کسوٹی کا کھیل تو آپ میرے ساتھ کھیل رہے ہیں...جس میں روز ایک نیا چرخہ...ایک نیا انکشاف ...میں نے سوچ بھی کیسے لیاکہ کوئی چیز مجھے خالص اور صرف اپنی بھی مل سکتی ہے بھلا??? ....ہمیشہ ہی میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ جو بھی مجھے ملتا ہےاس میں پہلے سے ہی کسی اور ذات کی ملکیت کا احساس شامل ہوتا ہے....ٹھیک ہے میں ہوں ہی اسی قابل....بھلا ذلتوں اور رسوائیوں میں ڈوبی لڑکی کو پہلے سے شادی شدہ مرد کا ہی ساتھ مل سکتا ہے....تبھی آپ کو کوئی احساس نہیں...اور مجھے آپ نے سوالیہ نشان کی طرح سب کے سامنے رکھ چھوڑا ہے... کسی کو نہیں بتاتے میرے اور اپنے تعلق کے بارے میں" ایلاف کونسا کم تھی"اوہ ...تو یہ بات تھی ...آپ نے کبھی موقع دیا ہمیں کچھ بتانے کا...ہمیشہ اپنی کم عقلی سے کچھ نہ کچھ الٹا سیدھا کرتی رہتیں ہیں...ہم آپ جیسی کم عقل لڑکی کو کیوں صفائیاں دیں...آپ عورتیں ہوتیں ہی یوں ہے ...آدھی بات سن کے پورے افسانے گھڑنا ...عالیہ شاہ بھی ایسی تھی ....انہوں نے تومر کے پیچھا چھوڑ دیا تھا....آپ کس حساب میں ہماری جان بخشی کریں گی ...نہیں رہنا تو جا سکتی ہیں" اذلان شاہ نے اس کی طبیعت ہی صاف کر دی تھی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا تھایہ لڑکی کسی دن مجھ سے کچھ الٹا کروا کے رہے گیایلاف اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی" تو ان کی بیوی مر چکی ہے....اتنی بیزاری ...اتنا تغافل"شاہ بی بی فوم سن کے لوٹیں تو ایلاف کو اپنی جگہ مجسم پایا تھا" ایلاف....ٹھیک ہو"" جی ....ٹھیک ہی ہوں" ایلاف کا لہجہ خالی خالی سا تھاایک منٹ نہیں لگاتا یہ شخص مجھے اپنی زندگی سے باہر جانے کا آرڈر کرنے میں"لگتا ہے تم ہماری بات سن کے پریشان ہو مگر ہماری بات ابھی آدھی تھی ....پوری سن لو آدھی باتیں اور گواہیںاں زندگی کو صرف جہنم بناتیں ہیں" شاہ بی بی اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولیں"اذلان شاہ کا نکاح گیارہ برس کی عمر میں اپنے سے آٹھ سال بڑی عالیہ شاہ سے ہوگیا تھا .. عالیہ گوہر کی نند اور پیر خرم شاہ کی پھپھو بھی ہے. وہ اس دنیا میں اب نہیں اس لئے ہم زیادہ کچھ نہیں کہیں گے مگر جو جاننا ضروری ہے وہ جان لو تم ......" عالیہ شاہ دھیرے دھیرے اذلان شاہ کی پچھلی زندگی سے پردہ اٹھا رہیں تھیںاور ایلاف احساس ندامت کی گہرائیوں میں تھیکتنا غلط سمجھا تھااس نے اپنے محسن کواسے ہی راہزن سمجھتی رہی" ان رسم و رواج کی زنجیروں نے تو تمہیں بھی نہیں چھوڑا تمہیں بھی اپنے جال میں جکڑ لیا ... یہ رسم و رواج صرف قید کرنا تڑپانا جانتے ہیں بنا مرد اور عورت کی تفریق کے ...انہیں صرف قیدی چاہئیے بھلے سے کوئی بھی ہو"ایلاف شاکڈ تھیچٹانوں جیسا مضبوط اور بہتے پانیوں جیسے پرسکون شخص کی پچھلی زندگی میں کتنے طوفان چھپے تھےمگروہ اذلان شاہ تھااس نے کبھی واویلا نہیں کیارونا پیٹنا نہیں مچایا تھااپنے دکھ اپنے اندر ہی رکھے تھےپوری جاگیر کا مالک ہوتے ہوئےوہ اندر سے کتنا تنہا تھاایلاف کو آج پتہ چلا تھاوہ ایک صاف دل کی لڑکی تھی بدگمانی کی عینک اتری تو سارے منظر واضح ہونے لگے تھے" ہمارا بیٹا گو کہ ایک پورا نظام چلاتا ہے...مکمل ذمہ داری سے...مگر اس کی اپنی زندگی کا نظام کوئی نہیں اس نے اپنے آپ کو کاموں میں مصروف کر رکھا ہے....گھر آ کے کرے بھی کیا اور کس کیلئے آئے جب کوئی راہ دیکھنے والا نہ ہو... سفیان کو بھی اس نے ان فرسودہ رسم و رواج سے بچانے کیلئے اپنے سے دور کر رکھا ہے" شاہ بی بی کو اذلان کا اکیلا پن بہت کھلتا تھا" تانیہ شاہ جو احمد شاہ کی بیوی اور عالیہ شاہ کی چھوٹی بہن ہے وہ اور چھوٹی حویلی کے مکین سب چاہتے ہیں کہ اذلان شاہ اور عالیہ شاہ کی بہن نازیہ شاہ سے اس کا عقد ہوجائے .. مگر اذلان دوبارہ ان نفسیاتی اور عقل سے عاری لوگوں میں نہیں پھسنا چاہتا...پہلی بار مجبور تھا " شاہ بی بی اب اسے حویلی کے مکینوں کے بارے میں بتا رہیں تھیں" مجبور تو وہ میری دفعہ بھی تھے " ایلاف نے سوچا" مجھے کونسا اپنی خوشی سے اپنایا ہے""تمہیں یہ سب اس لئے بتایا کہ تم اذلان کی زندگی میں اچانک سی آئی ہو ...پیر خرم شاہ نے اچھا نہیں کیا مگر وہ کیا سمجھتا ہے ...اسے سزا ضرور ملے گی" شاہ بی بی نے بیا انکشاف کیا" تو کیا یہ بے خبر نہیں...انہیں سب معلوم ہے تو پھر رات اذلان شاہ کا وہ رویہ.. وہ شرط " ایلاف جو جھٹکا سا لگا تھاہائے ایلاف تیری زبان تجھے کسی دن مروائے گی" ایلاف آج تم ہم سے وعدہ کرو تم اذلان شاہ کی حقیقی معنوں میں ایک اچھی ہم سفر ثابت ہوگی....شادی ایک بار ہی ہوتی ہے چاہے جیسے بھی حالات ہوں....خاندانی لڑکیاں پھر ساری زندگی اسے نبھاتی ہیں ....تم بھی خاندانی ہو...اعلا نہ سہی مگر ایک شریفگھرانے سے .. تو ہم توقع رکھیں تم سے کچھ? " ظاہر ہے شاہ بی بی اس سے یونہی تو مغز ماری نہیں کر رہیں تھیں" میں" ابھی تو یہ مجھے فیصلہ کرنے کا کہہ کے گئے ہیں اوران کی اماں وہ ساری زندگی ہم دونوں کو ساتھ کرنا چاہتی ہیں" ایلاف نے سوچاپھر اس نے کچھ کہنا تو تھا ہی" آپ کو لگتا ہے میں اس قابل ہوں" ایلاف نے پوچھ ہی لیا" خدا نے جب تم دونوں کا ساتھ لکھ دیا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے قابل ہو ...تم دونوں کو رسمو رواج کی مار پڑی ہے....تم دونوں کا درد ایک ہے...درد سے درد ملےگا....تو ہی مداوا ہوگا " شاہ بی بی نے کہا"میں بھی رہنا چاہتی ہوں پر میں نے بہت بیوقوفیاں کیں ہیں"" تو مداوا کر لو اسے اپنا احساس دلاؤ مگر اس پہ حاوی مت ہو مرد عورت کا ساتھ برداشت کرتا ہے اس کی حاکمیت نہیں " شاہ بی بی نے انصاف پسندی سے کام لیا تھاتبھی ابراہیم کی بیوی شازمہ چلی آئی تھی" کیسی ہیں بھابھی آپ" اس نے کہا تھااور ایلاف بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھیاسے بھی معلوم ہے" ٹھیک .." مرے مرے انداز میں اس نے کہاشازمہ شاہ بی بی کو دیکھ کے سمجھ گئی تھی کہ اذلان نےاس رشتے کو کچھ آگے بڑھایا ہے اس لئے اس نے ایلاف کو اسیرشتے کے حوالے سے پکارا تھا" اوہ...شازمہ بی بی تساں....اتنے دنوں کے بعد اس دن کے بعد آئیں ہی نہیں....پتہ ہے بی بی جی ایلاف بی بی کو ساری شادی کی شاپنگ انہوں نے کرائی ہے" امیراں نے کہا تو ایلاف اس کی شکل دیکھنےلگی تھیکیا یہ بھی جانتی ہےتو خبر کسے نہیں?ایک میں ہی بےخبر ہوں?ایلاف پہ تو آج حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے______________________________ایلاف مداوا کرنا چاہتی تھی مگراذلان نے اسے موقع ہی نہ دیا تھا ابھی وہ گھر میں ٹکتا ہی نہ تھی کبھی کہاں تو کبھی کہاں" اس شخص کے پاؤں میں چکر ہے" ایلاف جل کے سوچتیآج بھی پورے ہفتے بعد چھٹی کے دن وہ ان کے ساتھ ناشتے پہ تھا" بس شاہ سارا کام ختم کرو اور جاگیر چلنے کی تیاری کرو تمہارا ولیمہ کرنا ہے" شاہ بی بی نے دونوں کے سر پہ بم پھوڑا"کس کے ساتھ " اذلان شاہ نے پوچھ لیا تھا" کیا ہوگیا ہے آپ کو....جس سے نکاح کیا ہے اسی سے ولیمہ بھی ہوگا لازمی سی بات ہے" شاہ بی بی کو قطعا اس کا انداز نہ بھایا تھا" پہلے ان سے پوچھ بھی لیں کہ یہ رہنا بھی چاہتی ہیں کہ نہیں .. کیوں اپنا تماشہ بنوائیں گی.....انہیں تو عادت ہے تماشہ کرنے کی" اذلان نے اپنی کھولن ایلاف پہ انڈیلی تھی" لوگ بہت خوش فہمیوں میں ہیں....اماں سائیں.. ہم قیامت تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے لوگ سن لیں " اسے بھی لوگ ایلاف بی بی کہتے تھے" لوگ" آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے" اوہو....کیا ہوگیا ہے آپ دونوں کو....اذلان شاہ ہم اپنے گھر کی خاک اٹھا کے باہر نہیں ڈالتے تو یہ تو پھر آپ کی عزت ہے...آپ نے اسے اپنے نکاح میں لیا ہے تو اب نبھائیں بھی...ہم فیصلہ کرچکے ہیں بس کل نکل چلیں گے ....پیچھے سارے مسئلے بنین کی جان کو لگے ہوں گے " شاہ بی بی اتنے دنوں میں ایلاف کی ٹریننگ کر چکیں تھیںاذلان نے باری باری دونوں کے چہرے دیکھے پھر" جیسا آپ کہیں" کہہ کے اٹھ کھڑا ہواشاہ بی بی جانتیں تھیں کہ اذلان کی شادی کی خبر حویلی میں بھونچال لے آئی گی سو پیشگی کاروائی ضروری تھی" بنین کل خاندان کے سب بڑوں کو کھانے پہ بلا لو رات کو....ایک ضروری بات کرنی ہے ان سے" وہ فون پہ بنین شاہ سے مخاطب تھیںایلاف نے ان کا مصروف انداز دیکھا اور وہ بھی کھڑی ہوگئی تھیاذلان شاہ اپنے کمرے میں تھا ایلاف چاہتی تھی کہ اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ دورے پہ نکلے وہ اس سے بات کر لےایلاف نے دروازے سے جھانک کے دیکھا اذلان شاہ اسٹڈی ٹیبل پہ بیٹھا لیپ ٹاپ اور کاغذوں کے ڈھیر میں الجھا ہوا تھاایلاف نے کچھ دیر اسے دیکھا پھر کچھ سوچ کے کاغذ پہ قلمسے چند لفظ گھسیٹے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کے اذلان کے پاس آ کے اسٹڈی ٹیبل پہ رکھ دیااذلان نے اسے پہلے دیکھا پھر کاغذ کو" جو تم بے عیب چاہو توفرشتوں سے نبھا کر لومیں آدم کی نشانی ہوںمجھے انسان ہی رہنے دو"اشارے سے پوچھا کیا ہےیعنی مخاطب ہونا بھی گوارا نہیںپھر بولی" شاعری ہے" ." وہ تو ہمیں بھی دکھ رہا ہے ...اس کا مطلب" اذلان کو بھی منہ کھولنا پڑا"مطلب غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتیں ہیں....لیکن موقع تو دینے چاہئیے نا اگر کوئی مداوا کرنا چاہے" ایلاف نے ڈھکے چھپ لفظوں میں اقرار کیا تھا اپنی غلطیوں کا" جو بار کریں ان کو موقع نہیں دینا چاہیۓ " وہ بھی انا پرست تھا" آپ ایک موقع دے کے تو دیکھیں" ایلاف کسی صورت اس کا اقرار چاہتی تھی" اور اس سے کیا ہوگا " اذلان نے پوچھا"میرا سر ہوگا... ہمیں کچھ وقت دینا چاہئے اس رشتے کو ....پہلے ہی بہت بے وقوفیاں ہوچکی ہیں مجھ سے" ایلاف نے آخر کار اقرار کر ہی لیا تھا"تو اب یہ عقل کہاں سے آگئی" اذلان شاہ نے پتھر پھوڑے تھےمجال ہے جو یہ آدمی سیدھی بات کرے... انار کلی سے خریدی ہے....ایلاف کوغصہ تو بہت آیامگر ضبط کر گئییہ ادھار پھر سہی"آپ کو خوشی نہیں ہوئی "" خوشی ... چلیں ایلاف بی بی کیا یاد کریں گی دیا آپ کو ایک موقع" اذلان نے اس کی سات پشتوں پہ احسان کرتے ہوئے کہا تھا" تھینک یو" ایلاف اس سے زیادہ برداشت نہیں کرسکتی تھی سو جلدی سے کھسک لی تھی مطلب پورا ہونے کے بعدکیا ہے یہ لڑکی ....عجوبہ" پیچھے اذلان اسے دیکھ کے رہ گیا تھااگلے دن سفر میں وہ تینوں اپنی جگی چپ تھے جب تک جاگیر کی حدود شروع نہیں ہوئی ....شاہ بی بی اسے بتاتیں رہیں...یہ کھیت کس کے ...یہ زمین کس کی...اذلان شاہ ان دونوں سے بےنیاز آگے بیٹھا اپنے موبائل پہ مگن تھاگاڑی شاندار سی حویلی کے سامنے رکی تو شاہ بی بی اسے لے کے اندر چل دیں تھیں اذلان کا رخ دوسری طرف تھا یعنی وہان کے ساتھ اندر نہیں جا رہا تھا" بی بی جی یہ کون ہیں" رجو نے حیرت سے شاہ بی بی کے ساتھ موجود اس خوبصورت سی لڑکی کو دیکھ کر پوچھاسب اسے ہی دیکھ رہے تھے ....ایک دم الرٹ" یہ ایلاف ہے ....اذلان شاہ کی بیوی" شاہ بی بی کی بات پہ جیسے کوئی بھونچال آیا تھا تانیہ شاہ کو" کیا...تائی اماں کسے اٹھا کے لے آئیں ہیں آپ ....آپ ایسا نہیں کر سکتیں" تو نازیہ شاہ کا شک ٹھیک نکلا" منہ سنبھال کے بات کریں تانیہ ....ایلاف کی عزت آپ کے ہم پلہ ہے...بنین اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ ہم اپنے کمرے میں جا رہے ہیں...مہمان آجائیں تو بلا لینا" شاہ بی بی نے تانیہ کو جھاڑنے کے ساتھ بنین کو حکم دیا تھا" آؤ ایلاف" بنین اسے لے کے آگے بڑھ گئی تھی" ہائے کنی سوہنی ہےپیر سائیں کی گھر والی" رجو بولی تو تانیہ شاہ اسے گھور کے رہ گئی تھی" آجاؤ...یہ میرا بیٹا ہے" بنین اسے کمرے میں لا کے بولی" بہت پیارا ہے" ایلاف جھولے پہ جھکتے ہوئے بولی تھیاسے بنین اچھی لگی تھی" تم آرام کرو تھک گئی ہوگی ....سفر سے" بنین نے کہا تو ایلاف نے سر ہلا دیا تھا" کہاں ہے اذلان شاہ کی عیاشی کی سوغات....زرا ہم بھی تو دیکھیں کس نے اس پتھر دل آدمی کا کلیجہ پانی کیا ہے " تانیہ شاہ دروازے پہ کھڑی تنفر سے بول رہی تھی" اوہ دیورانی جی....وہ کیا ہے نا کہ یہ خدا کے فیصلے ہیں تو بھلا آپ کی کیسے چلتی ....میرا اور اذلان شاہ کا ساتھ ازل سے لکھا تھا تو پتھر کو تو پانی ہونا ہی تھا ... پھر بھلا کوئی اور کیسے پیر اذلان کی ہم سفری میں آ سکتا تھا" ایلاف جان گئی تھی کہ تانیہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گیسو اس نے بھی اس کی طبیعت ہری کردی تھیتانیہ بلبلا کے رہ گئی تھی" تم پچھتاؤ گی "" کیوں ....آپ سے تھوڑی شادی ہوئی ہے....کبھی نہیں" ایلاف کی زبان کے جوہر ابھی کوئی دیکھتا تو بے ہوش ہوجاتاتانیہ دھپ دھپ کرتی چلی گئی تھی جان گئی تھی مقابل تر نوالہ نہیں"مان گئے آپ کو ایلاف...اذلان شاہ نے کیا ٹکر کی لڑکی پسند کی ہے .. زبردست" بنین نے تعریفا کہا تو ایلاف شرمندہ سی ہوگئی" یہ زیادہ نہیں ہوگیا" ایلاف نے پوچھا" بالکل نہیں" بنین نے انکار میں سر ہلایاپھر دونوں ہنس پڑیں تھیں_____________________________ہال میں سب بڑوں کی نشست جمی ہوئی تھی" کیوں بھئی . شاہ بی بی سب خیر ہے نا یوں اچانک کیسے اذلان نے نکاح کرلیا" یہ پیر اعظم کی بیوی تھیں جنہیں مرچیں لگی ہوئی تھیں"یہ اسی طرح لکھا تھا قدرت نے....آپ لوگوں کو پہلی فرصت میں اس لئے زحمت دی تاکہ بتا سکیں آپ سب کو "" ارے پر ایسے چھپتے چھپاتے نکاح نہیں ہوتے" خدیجہ شاہ چمک کے بولیں تھیںان کی بیٹی کی جگہ کسی اور نے لے لی تھی"آپ سے کس نے کہا کہ چھپ کے ہوا ہے ...بالکل حلال اور جائز طریقے سے ہوا ہے...ہماری زوجہ ایک شریف گھرانے سے ہیںاور اب وہ ہمارے خاندان کاحصہ ہیں اس لئے زرا محتاط انداز اپنائیں....کیونکہ اب معاملہ ہمارے خاندان کی عزت کا ہے" اذلان شاہ کا انداز اتنا اٹل تھا کہ سب کے سوال منہ میں ہی رہ گئے تھےاذلان نے بات ہی ختم کردی تھی"تو اب کیا سوچا ہے خیر سے ولیمہ کب کرنا ہے.. سنت تو پوری کرنی ہے نا " کمال شاہ نے بات آگے بڑھائی تھی" آج پیر ہے....جمعے کو خیر سے ہم اپنے بچے کی خوشی منائیں گے ...کیوں بھائی جی" شاہ بی بی نے ہیر اعظم شاہ کو مخاطب کیا" جیسا بھابھی چاہیں ....بس بچے خوش رہیں"_____________________________حویلی میں جیسے رنگوں کی برسات اتر آئی تھیکپڑوں کا ڈھیر لگ چکا تھاایک سے ایک بڑھ کے بڑھیا کپڑانفیس زیور جن کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی تھیملازمائیں صفائی میں مگن ہوتیں سارا دن اور شام میں رجو انہیں لے کے بیٹھ جاتی تھی اور خوب ٹپے گاتی تھی" بی بی آئیں ...آپ کو مہندی لگاؤں" آج جمعرات کی رات تھی اور کل ولیمہایلاف نے سوچا تھا کہ وہی روایتی گول ٹکیہ لگائے گیمگر اس نے بھر بھر کے جدید ڈیزائن لگائے تھےظاہر ہے سارا دن رسالوں اور ٹی وی پہ وہ یہی کچھ دیکھتی تھیگاؤں کوئی پسماندہ سی جاگیر نہ تھی یہاں اسکول اور کالج بھی تھے اور لوگ بھی خوشحال تھےایلاف آج باقاعدہ دلہن بنی تھیاس پہ ٹوٹ کے روپ آیا تھاگولڈن ایمرلڈش رنگ کے لہنگے میں ڈھیروں ڈھیر گہنے پہنے.. مہندی کا گہرا رنگ لئے... وہ قوس قزح کے رنگوں کو مات دے رہی تھی" آج تو بھایا گئے کام سے" بنین اس کا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی"اتنے کچے نہیں آپ کے بھایا" ایلاف نے کہا جسے اندر آتی تانیہ نے بھی سن لیا تھا" اوہ پھر کیسے حاصل کروگی انہیں" طنز سے پوچھا تھا"جو پہلے سے حاصل ہو اسے مزید تو نہیں حاصل کیا جا سکتا.. وہ میرے شوہر ہیں نا کہ غلام جو میں ان کے سر پہ سوار رہوں" ایلاف نے کرارا سا جواب دیا تھاشاہ بی بی جو اسی کے پاس آ رہیں تھیں ان کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آگئی ....تانیہ آگے بڑھ گئی تھیاذلان شاہ واقعی عجوبہ لایا تھاایلاف چپ ہوگئی تھی نظریں جھکا لیں تھیں اس پل بہت شدت سے اسے اپنے ماں باپ یاد آئے تھے ...دلہن بھی آج ہی بنی تھی تو کیفیت بھی آج ایسی ہو رہی تھی اوپر سے اذلان کا بھی کچھ پتہ نہ تھا اس دن کے بعد سامنا ہی نہ ہوا تھا رواج کے مطابق پردہ تھا دونوں کا ....جس نے ان کا پردہ رکھ لیا تھا" پریشان ہو" شاہ بی بی نے پوچھا" نہیں بس....." ایلاف نے جملہ ادھورا چھوڑا" ایلاف....ایک بات یاد رکھنا بچے....میاں بیوی میں کوئی رشتہ بھلے سے بعد میں بنے پہلے اعتبار اور خلوص کا ہو ....وہ نا ہوتو پھر سارے رشتے بیکار...اعتبار روح کو روح سے جوڑتا ہے...دل کو دل سے ملاتا ہے " شاہ بی بی دونوں کے مزاج جانتی تھیںاس لئے کہامہمان آنا شروع ہوئے تو سب وہیں مصروف ہوگئے تھے...دلہن بنی ایلاف سب کو پسند آئی تھی ...کہیں دبے دبے سوال بھی تھے اس کی فیملی کو لے کے ...اذلان شاہ سفید شلوارسوٹ میں بلیک واسکٹ پہنے اپنے ازلی سکون کے ساتھ شاندار لگ رہا تھاایلاف کی بیٹھ بیٹھ کے کمر اکڑ چکی تھی گیارہ بجے جان بخشی ہوئی تو بنین اسے کمرے میں چھوڑ گئی تھیایلاف آج پہلی بار اس شاندار سی خوا گاہ میں آئی تھیپھولوں کی بھینی بھینی سی مہک سانسوں میں کھینچ کےاتاری تھی" آپ سے سارے دھاگے اعتبار کے ناطے سے جوڑنے ہیں مجھے....میرے بدگمان...میں نے ہی آپ کو اپنی راہ بھلائی ہے میں ہی آپ کو واپس لاؤں گی " ایلاف نے اذلان شاہ کی تصویر دیکھتے ہوئے خود سے عہد کیا تھاتبھی دروازہ کھل کے بند ہوا تھا اذلان شاہ با وقار قدموں سے چلتا ہوا آرہا تھاایلاف کمرے کے بیچ میں کھڑی تھی حالانکہ بنین اسے بٹھا کے گئی تھی مگر ایلاف کو چین کہاں آتا تھا" کیا ساری رات مراقبے کا موڈ ہے....کھڑی کیوں ہیں... چینج کر کے آرام کریں...ہم بھی تھک چکے ہیں بہت آرام کریں گے" اذلان شاہ نے ایلاف سے کہااس پہ نگاہ غلط بھی نہیں ڈالی تھی جو شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھیایلاف اس کی بیگانگی پہ کٹ کے رہ گئی تھی" تم سونے کی بھی بن جاؤ ناایلاف محبوب....تب بھی اذلان شاہ تمہیں نہیں دیکھے گا...کیوں کہ اس کا معیار کچھ اور ہے.. تم اس کا اعتبار تو جیتو پہلے پھر کسی اور کی توقع رکھنا" ایلاف نے سوچا اور ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آن کھڑی ہوئی تھیاذلان شاہ ڈریسنگ روم میں جا چکا تھا" اف کیا مصیبت ہے یہ ...." ایلاف اتنی دیر سے نتھ سے الجھی ہوئی تھی مگر وہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیابھی کچھ دنوں پہلے ہی تو شاہ بی بی نے اس کی ناک چھیدوائی تھی.....جو اب سرخ ہوچکی تھیاذلان شاہ ڈریسنگ روم سے نکل کر اب سونے کی تیاری کر رہا تھا وہ بیڈ پہ لیٹ چکا تھا" ان سے کہوں ...ان کی وجہ سے تو ہی مصیبت میں پڑی ہوں...یہ بھی تو بھگتیں" ایلاف نے سوچااندر کہیں بی بی کی نصیحت بھی تھا" اسے اپنا احساس دلاؤ"ایویں تو اتنا تیار نہیں ہوئی ....کوئی تو فائدہ ہو" وہ ایلاف تھی ہار ماننا اس نے سیکھا ہی نہ تھا" سنیں" اس نے آنکھیں بند کئے اذلان کو مخاطب کیا"فرمائیے .. اب کیا ہے" اذلان نے پوچھا"یہ نتھ اتار دیں کب سے کوشش کر رہی ہوں اتر ہی نہیں رہی" ایلاف روہانسے لہجے میں بولی"تو ہم کیا سنار ہیں" اذلان نے اس کی سرخ ناک دیکھتے ہوئے پوچھا" میں نے کب کہا " ایلاف نے پوچھا" بڑی مہربانی جو آپ نے آج کچھ نہیں کہا " اذلان نے طنزیہ کہا" آپ نکال رہے ہیں کہ نہیں...میں تنگ آگئی ہوں" ایلاف نے پوچھا تھا تنگ آ کےتوبہ کتنے نخرے ہیں" ادھر آئیں ....یہاں بیٹھیں" اذلان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنے دائیں طرف بیٹھنے کا کہاایلاف شرارہ سنبھالتے ہوئے بیٹھ گئی تھیاذلان نے اس کی ناک ہولے سے پکڑ کے کے نتھ اتارنے کی کوشش کیاس سمے وہ اتنا قریب تھا کہایلاف کواس کی دھڑکنیں بھی سنائیں دیںاس کے پرفیوم کی خوشبو اس کی سانسوں میں اترنے لگی تھی" لیں بس اتنی سی بات تھی " اذلان نے نتھ اتار دی تھی" میں آسان کام نہیں کرتی ....یو نو میں بڑے بڑے کام کرتی ہوں" ایلاف نے اپنے حواس قابو کرتے ہوئے کہا" یہ شخص اگر کبھی مہربان ہوگیا تو ....کیا عالم ہوگا" ایلاف نےسوچا" واقعی میں آپ بہت بڑے بڑے کام کرتیں ہیں یہ تو ہمیں پتہ چل ہی چکا ہے .. یقین ہے" اذلان بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا ." ویسے سنا تھا کہ میک اپ سے لوگ بدل جاتے ہیں ....آج یقین بھی آگیا آپ کو دیکھ کے" اذلان نے لطیف سا طنز کیا.شاید تعریف کرنی چاہی تھی" ارے..." ایلاف کو خوشگوار سی حیرت ہوئی تھی" ایسے یقین اب آپ کو ایلاف روز دلائے گی یو ڈونٹ وری"ایلاف کے اندر جیسے توانائی سی بھر گئی تھیاس کی بات سن کےمطلب وہ انجان نہیںاور مسکراتی ہوئی چینج کرنے چلی گئی تھیاذلان شانے اچکا کے لیٹ گیا تھاایلاف نے تھکن کے باوجود وضو کیا اور نماز ادا کیپھر جائے نماز پہ ہی تکیہ گھسیٹ کے لیٹ گئی تھی.......اور کچھ ہی دیر میں سو چکی تھیرات خاموشی سے گزرنے لگی تھی_____________________________
Friday, July 27, 2018
یہ جنون منزل عشق ہے قسط 10
http://novelskhazana.blogspot.com/
یہ_جنون_منزلِ_عشق_ہےقسط
_10از فرحت نشاط مصطفے"
اذلان شاہ تم ہمیشہ سے ہی ایسے ہو یا میرے ساتھ ہی ایسا کرتے ہو.....اچانک سے وار کرتے ہو کہ میں کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہتی کہ تم واقعی اتنے ہی اچھے ہو یا پھر یہ کوئی نیا ڈھونگ ہے اپنے شملے کی حفاظت کیلئے تم نے پینترابدلہ ہے.....کیا ہو تم?کون ہو تم?کیا ہے تمہارا اصل چہرہ ?ابھی کل تک تم جو ایک ملازمہ کے سامنے اقرار کرنے سے ہچکچا رہے تھے آج اپنی ماں کو میرے مقابل لے آئے ہوکونسا انداز ہے تمہارا یہ?"" کونسی مثال دوںہر ستم بے مثال کرتے ہو" ایلاف شاہ بی بی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی" اسلام علیکم" ایلاف کے حواس قابو میں ہوئے تو اس نے سلام کیاوہ کم از کم اذلان کی ماں کے سامنے کچھ الٹا سیدھا نہیں کرنا چاہتی تھی"وعلیکم اسلام ....ٹھیک ہو بیٹی" شاہ بی بی اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں" ٹھیک ہوں " ایلاف دھیمے سروں میں بولیں"بھئی ہم تم سے فورا ملنا چاہتے تھے مگر حالات کچھ ایسے تھے کہ صبر کرنا پڑا" شاہ بی بی نے کہا" آپ خود کیوں آگئیں مجھے بلا لیتیں....مجھے پتہ ہوتا کہ آپ آرہی ہیں تو باہر ہی ہوتی اس وقت" ایلاف نے ان کی نرم روئی کا جواب بھی نرم روئی سے دیا" اذلان شاہ تمہاری ماں کے سامنے ہی میں اپنا مقدمہ رکھوں گی....دیکھتی ہوں کہ کیسے آپ اب اپنے لاڈلے بھانجے کی پردہ پوشی فرماتے ہیں" ایلاف کو تو جیسے اندھیرے میں امید کی کرن دکھی تھی اس کی کچلی ہوئی انا کی تسکین کا کوئی تو راستہ نکلا,اتنے دن سے سوچے جانے والے منصوبوں کو کوئی عملکا دھاگہ تو ملا" یہ یقینا تمہاری نیک تربیت بول رہی ہے بیٹا ......مگر پتا ہے ایلاف ....میدان جنگ میں سپاہیوں کی عیادت اور ان کے زخموں پہ مرہم طبیب آ کے خود رکھتا ہے تاکہ ان کا حوصلہ بڑھے انہیں بھی اندازہ ہو کہ ان کی بھی کسی کو چاہ ہے ....کسی کو پرواہ ہے...کسی کے خیال کا احساس بڑا غنیمت ہوتا ہے بچے" وہ ایلاف کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہیں تھیںبل واسطہ اسے بتا رہیں تھیں کہوہ تنہا نہیںاس کے گرد کوئی درد گر ہےاس کا بھی کوئی ہمدرد ہےشاہ بی بی کی جوہر شناس نظروں نے ایلاف کے ہیرے جیسے وجود کو پرکھ لیا تھاایک تراش کی ضرورت ہےاوریہ لڑکی صورت اور سیرت میں با کمال ہوگیجس کی ہم سفری پہ اذلان شاہ کو ناز ہوگاشاہ بی بی نے سوچا تھا" امیراں کھانا لگا چکی ہوگی ....ہم گاؤں والے بہت جلدی کھاناکھا لیتے ہیں اور آج تو ویسے بھی سفر تھا.....تم ہمارا ساتھ دوگی بچے?" شاہ بی بی مبہم لہجے میں بولیں" توبہ ان ماں بیٹے کو کتنا شوق ہے مجھے کھانا کھلانے کا بیٹا ہے تو وہ سر پہ سوار رہتا ہے یہ کھاؤ وہ پئیو....اور اب انکی والدہ ....کیا کھلا کھلا کے ماریں گے" ایلاف نے جل کے سوچاوہ کھانے پینے کی چور لڑکی اچھا بھلا اذلان کی غیر موجودگی میں اپنی مرضی سے دل کیا تو کھا لیتی چڑیا جتنا اور ابدوبارہ سے وہی ناٹک شروع تھا"آپ آئیں...." انہیں کہوں کیا ایلاف نے انہیں کہتے ہوئے سوچا"سب ہمیں شاہ بی بی کہتے ہیں لیکن اذلان ہمیں اماں سائیں کہتے ہیں ہمیں اچھا لگے گا اگر تم بھی ہمیں یہی کہو" شاہ بی بی نے جیسے اس کی سوچ پڑھ لی تھیظاہر ہے وہ یہاں آئیں ہی ایلاف پہ ریسرچ کرنے تھیں سو ایلاف انکی ایکسرہ کرتی نگاہوں کی ذد میں تھیایلاف نے کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے لائٹ آف کی اور پھر دروازہ دھیرے سے بند کر دیا" آئیں ....اماں چلتے ہیں" ایلاف نے ان کی بات مان لی تھیایلاف شاہ بی بی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگیاس کی چال میں الہڑ پن نہیں تھا نہ ہی وہ گنواروں کی طرح تیز تیز قدم اٹھاتی تھی اس کی چال میں توازن تھا وقار تھاشاہ بی بی کو اب تک صورت حال ٹھیک ہی لگ رہی تھی انہیں لگ رہا تھا اذلان اور ایلاف کا ایک حادثہ میں آمنے سامنے ہونابے مقصد نہیںکچھ تو چاہتی ہے قدرتکچھ تو ہے تقدیر کے اسراراور ایلاف سوچ رہی تھی کہ " اذلان شاہ جیسے تم میٹھی چھری بنے ہو تو زہر اب میں بھی نہیں اگلوں گی میں بھی اب جیسے کو تیسے والا حساب کروں گی ....ابھی تو دیکھتے ہیں تمہاری ماں بھی تمہاری شراکت دار ہے یا ان سے بھی تم نے چھپا رکھے ہیں اپنے لاڈلے کے کرتوت" ایلاف کو جب سے پتہ چلا تھا کہ خرم شاہ اس کا لاڈلہ بھانجا ہے تب سے وہ اسے اور قصوروار لگنے لگا تھااور اذلان شاہ ابھی ایلاف کی اتنی فرمانبردای دیکھ لیتا تو حیران ہی رہ جاتا ہر بات پہ بحث کرنے والی اس وقت کتنی فرمانبردار بنی ہوئی تھی______________________________وہ دونوں ڈائینگ ٹیبل پہ پہنچیں تو امیراں کھانا لگا چکی تھی" اذلان کہاں ہے امیراں" شاہ بی بی نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئےپوچھا" وہ جی ان کا کوئی ضروری فون تھا وہی سنتے سنتے کمرے میں چلے گئے تھے کہہ رہے تھے آپ آجائیں تو بلا لوں انہیں" امیراں نے ان کی طرف سالن کا ڈونگہ بڑھاتے ہوئے کہا" ہاں بلا لو ....رزق کو انتظار نہیں کراتے" شاہ بی بی نے کہااسی پل اذلان شاہ خود چلا آیا تھا سیاہ آرام دہ شلوار قمیض میں شانوں پہ سیاہ شال ہی لپیٹے چہرے پہ وہی اذلی سکون لئے وہان کی طرف آیا تھا " السلام علیکم" ایلاف کو پچھلی بار کا تجربہ یاد تھا اس لئے جھٹ سلامتی بھیجی تھی" وعلیکم سلام" اذلان شاہ نے حیرانی سے جواب دیا" گویا دھیرے دھیرے سہی محترمہ کو عقل آرہی ہے" اذلان شاہ نے بیٹھتے ہوئے سوچاشاہ بی بی کی موجودگی میں وہ سربراہی کرسی پہ تو نہیں بیٹھتا تھا سو وہ ان کے مقابل بیٹھ گیا تھا یوں کہ سامنےہی ایلاف بیٹھی تھیایلاف نے نظریں جھکا لییں" بیٹا یہ ڈش پکڑاؤ اذلان کو" شاہ بی بی نے آرڈر پاس کیاایلاف تو مانو خاک ہی ہوگئی تھی" یہ یہاں مجھ سے اپنے بیٹے کی چاکری کروانے آئی ہیں" ایلاف نے جل کے سوچا اور ڈش اتنے فاصلے سے اذلانو پکڑائی کہ اذلانکو اس کا گریز صاف محسوس ہوا ایک غیر محسوس سی مسکراہٹ اذلان کے لبوں پہ آئی تھیایلاف دوبارہ اپنی پلیٹ پہ یوں جھکی تھی کہ اس سے ذیادہ ضروری کام اور کوئی ہے نہیں" ایلاف گلاس میں پانی نہیں ڈالا آپ نے اذلان کیلئے " شاہ بی بی نے تو آج قسم کھا لی تھی ایلاف کا جی جلانے میں" اس ساتھ کیلئے مجھے آفر کر رہی تھیں " ایلاف نے جگ میں سے پانی اڈیل کے اذلان کے سامنے یوں رکھا جیسے آب حیات ہوساتھ میں اذلان کو گھورا بھیاذلان بنا کوئی ردعمل ظاہر کئے خاموش سا کھانا کھاتا رہا اور ایلاف جل جل کے خاک ہوتی رہی" پہلے ہم نے سوچا تھا کہ آپ کو جاگیر ہی بلوا لیں پھر سوچا کہ ایلاف ابھی نئی ہے بہت سی باتیں ہیں پہلے ہم وہ کہہ سن لیں پھر جاگیر بھی چلیں گے" شاہ بی بی نے یہ بات کیا کی ایلاف کو لگا اس کے جلتے دل پہ پھوار پڑنی شروع ہوگئی ہےیہی ایک کام کی بات کی تھی اتنی دیر میں" جاگیر تو میں ضرور جاؤں گی اصل عدالت تو وہاں لگی گی ....انمعصوموں کو بھی تو پتہ چلیں ان ناخداؤں کے اصل چہرے" ایلاف کے عزائم بے حد خطرناک ہوچلے تھے" ایلاف ہم نماز پڑھ کے فارغ ہوجائیں تو تم ہمارے کمرے میں آجانا ہم امیراں کو بھیجیں گے کچھ باتیں کرنیں ہیں تم سے....ابھی جاگی ہوئی ہو ناں" شاہ بی بی نے بتاتے ہوئے پوچھ لیا" باتیں تو مجھے بھی کرنیں ہیں اماں" ایلاف نے کہا اس کے لہجے میں کچھ تھا کہ اذلان اس کی شکل دیکھنے لگا" نیند تو اب مجھے اس دن آئی گی جس دن حساب پورا ہوگا اس دن میری بلتی روح کو سکون ملے گا " ایلاف نے اذیت سے سوچا" آپ لوگ باتیں کریں ہم اب آرام کریں گے ....امیراں کافی دے جانا ہمیں " اذلان شاہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا نظریں ہنوز ایلاف کا چہرہ کھوج رہی تھیں" ہوں ٹھیک ہے آرام کرو بیٹا....اور ایلاف تم بھی کرلو کچھ جوکرنا ہے تمہیں" شاہ بی بی دونوں کو ایک ساتھ جواب دیتے ہوئےاٹھ گئیں تھیں______________________________کمرے میں آکے ایلاف شاہ بی بی کے رویے پہ غور کرنے لگی تھی اب تک اسے شاہ بی بی سارے قصے سے بے خبر لگ رہیں تھیں ورنہ کون ایسی لڑکی کو اتنی اپنائیت دیتا ہے جس پہ زمانے بھر کا گند اچھالا گیا ہو ....اذلان شاہ یقینا تم نے آدھیکہانی گڑھی ہے پر فکر نہ کرو ....میں ہوں نا پوری گواہی دوںگی ....مکمل حساب دوں گی" ایلاف کی سوچ کے اپنے ہی معیار تھےایسے ہی تو اذلان اس کی عقل پہ ماتم نہیں کرتا تھا" بی بی تساں آجاؤ....وڈی بی بی بلا رہی ہیں" امیراں دروازے سے جھانکتے ہوئے بولی" ہاں آرہی ہوں.....کہاں ہیں وہ" ایلاف نے چپل پہنتے ہوئے پوچھا" وہ جی اپنے کمرے میں " امیراں نے بتایا" اور ان کا کمرہ کہاں ہے" ایلاف نے اکتاہٹ سے پوچھامجال ہے جو یہ عورت ایک بار میں پوری داستان سنائے" آپ میرے ساتھ آؤ میں چھوڑ دیتی ہوں آپ کو" امیراں نے اپنی خدمات پیش کیں" بڑی مہربانی آپکی چلیں" ایلاف نےطنزیہ کہاجتنا وہ جلدی چاہ رہی تھی یہ امیراں خاتون اتنی ہی دیر فرما رہیں تھیںشاہ بی بی کے کمرے کے دروازے پہ دستک دے کے امیراں اسے اندر لے آئی ایلاف اپنے کمرے کے علاوہ آج پہلی بار کسی اور کمرے میں آئیکیا شاندار کمرہ تھا " ایلاف نے سوچا" یہاں آؤ بیٹی ....ہمارے پاس بیٹھو" شاہ بی بی بیڈ پہ کمبل اوڑھے بیٹھیں تھیں اسے بھی پاس بلا لیاشاہ بی بی نے ذیادہ دیر مناسب نہیں سمجھی تھی وہ جس مقصد کیلئے آئیں تھیں وہ انہوں نے ابھی سے شروع کر دیا تھاایلاف ان کے پاس آکے بیٹھی تو شاہ بی بی امیراں سے کہنےلگیں" جاؤ ہم دونوں کیلئے دودھ لے آؤ چائے پئیں گے تو پھر نیند نہین آئی گی دودھ لے آؤ "" یہ واقعی اذلان شاہ تمہاری ماں ہیں....تم انہی پہ پڑے ہو جیسے تم ویسے تمہاری اماں" ایلاف بھی ایمان لے آئی تھیاور یہ تو زمانہ کہتا تھا کہ اذلان شاہ اپنی ماں کا پرتو ہےامیراں آرڈر سن کے جا چکی تھیشاہ بی بی تسبیح سائیڈ پہ رکھ کے اس کی طرف متوجہ ہوئیں اور اس پہ پھونکا" اتنی عزت نہ دیں شاہ بی بی جب آپ کو حقیقت پتہ چلے گی تو آپ کیسے پھر یہ اپنائیت کے جلوے دکھائیں گی" ایلاف پھر ایلاف تھیشاہ بی بی سے ابھی وہ بات کرنے کیلئے لفظ اور ہمت دونوں ڈھونڈ رہی تھی جب ان کا سیل فون بجنا شروع ہوا انہوں نےحیرانگی سے سوچا"اس وقت کون ہے بھئی" سیل فون ہاتھ میں لیا دیکھا تو سیدھی ہو کے بیٹھ گئیںچھوٹی حویلی سے فون تھا ان کی دیورانی کا.....یہ یقینا تانیہ شاہ کی کارستانی تھی اس میں خود تو ہمت تھی نہیں کہ شاہ بی بی سے سن گن لیتی سو اس نے اپنی ماں کو آگے کیا تھاشاہ بی بی جانتیں تھیں کہ اب ان کے ایک دو گھنٹے کہیں نہیں گئے اس لئے کال ریسیو کرنے سے پہلے وہ ایلاف سے مخاطب ہوئیں" ایلاف بچے برا نہیں ماننا چھوٹی حویلی سے فون ہے .....آپ آرامکریں اب ہم صبح بات کریں گے ....جائیں آپ محسوس نہ کیجئے گا" شاہ بی بی رسان سے بول رہی تھیں" کوئی بات نہیں شب بخیر" ایلاف نے کہا اور بوجھل قدموں سے باہر نکل آئی" کب تک چین کی نیند سوؤگے اونچی حویلی والوں ایک مظلوم کا انتقام تمہاری حویلی کی بربادی کو پکار رہا ہے" ایلاف نے نہایت ذودورنج ہوتے ہوئے سوچااپنی سوچوں میں گم وہ چل رہی تھی جب جھٹکے سے اسے کسی نے اپنی طرف کھینچا تھاایلاف کے بازو کو شدید جھٹکا لگا اپنے بازو کو سہلاتے ہوئے اس نے نظریں اٹھائیں تو بس حیران ہوکے مجسم ہونے کی باترہ گئی تھی______________________________" کیا طریقہ ہے یہ اس طرح روکتے ہیں کسی کو....حد ہے بھئی" ایلاف پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولیوہ اذلان شاہ تھا ایسی جرات وہی کرسکتا تھا" ایسوں کو ایسے ہی روکا جاتا ہے ....بیٹھ جائیں آرام سے بات کرتے ہیں" اذلان شاہ حسب معمول آگ لگا کے پرسکون تھا" آپ کے ہوتے ہوئے اور آرام ..ہو ہی نہیں سکتا...فرمائیں کیا تکلیف آن پڑی ہے" ایلاف کے تیور نہایت تھیکے تھے" کیا باتیں کرنیں ہیں اماں سے آپ نے" اذلان شاہ تو اس کا بھید پا گیا تھا"کیوں آپ کو کیوں بتاؤں ....آپ اماں تھوڑی ہیں" ایلاف اب بھی کمرے کے بیچ اکڑی کھڑی تھی" میں ان کا بیٹا ہوں ...وہ میری ماں ہیں ایک بات کان کھول کے سن لیں ایلاف بی بی ہماری ماں سے کچھ الٹا سیدھا آپ نے اگرکہا تو آپ کے حق میں اچھا نہیں ہوگا " اذلان نے اسے باور کرا دیا تھا" کیوں پیر سائیں بہت تکلیف ہورہی ہے ایسی ہی تکلیف مجھے بھی ہوتی ہے میری کچلی ہوئی انا کو انصاف چاہئیے....آپ کی ماں کو سننی ہی ہوگی اپنے لاڈلوں کے کرتوتوں کی کہانی" ایلاف چیخییہ شخص مجھے روک نہیں سکتا میں ہر حد پار کر جاؤں گی " ایلاف فیصلہ کرچکی تھی" چلائیں مت ...اونچی آواز ہمیں پسند نہیں...واویلا کرنا آپ عورتوں کی پرانی عادت ہوتی ہے ...آپ کے ساتھ اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا مداواہوچکا ہے مگر آپ کا رونا ختم ہی نہیں ہوتا ایک گھٹیا انسان کے مقابلے میں آپ ایک شریف آدمی کے نکاح میں ہیں پھر بھی آپ کے مزاج نہیں ملتے ....ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ہماری برداشت کا امتحان مزید نہ لیں" اذلان شاہ برہمی سے بولا" شریف اور آپ ....واؤ...ہوتی ہوگی آپ لوگوں کی شرافت بہت ذیادہ....آئی ایکسیپٹ.. پر پتہ ہے کیا رات کی تاریکی میں آپ لوگوں کی شرافت کا چولہ اتر جاتا ہے ...آپ شرافت کا دعوی نہ کریں پیر سائیں ہم گنہگار گواہ ہیں آپ کی حقیقتوں کے .....نکاح کر کے کوئی احسان نہیں کیا ....مت کرتے نکاح ...ہم جاگیر جائیں گے اماں سائیں کے ساتھ وہاں آپ کے پورے خاندان کے سامنے آپ کے بھانجے کی شرافت کی اصلیت دکھائیں گے ....تب ہوگا مداوا" ایلاف بپھرا ہوا طوفان بنی ہوئی تھی جو سب تہس نہس کردیتا ہے مگر مقابل بھی پیر اذلان شاہ تھا اسے طوفانوں کو روکنا آتا تھا سیلابوں پہ بندھ باندھنے آتے تھے" پھر تو واقعی کوئی فائدہ نہ ہوا آپ سے نکاح کرنے کا ایلافبی بی...ہم تو سمجھے تھے مداوا ہوگیا " اذلان شاہ کا لہجہ عجیب سا تھااس کی انا پہ ذبردست چوٹ لگی تھی مرد سب برداشت کرسکتاہے مگر انا کی مار نہیں اور ایلاف کو تو اپنے مزاج کے خلاف کافی چھوٹ دے چکا تھا" مداوے یوں ہوتے تو کیا بات تھی ...میں آپ کو بتاؤں گی کہ کفارہ کیسے ادا کرتے ہیں ....مداواکیسے ادا کرتے ہیں" ایلاف اذلان شاہ کے انداز پہ اور نڈر ہوگئی تھیاس لئے اپنی بات کہہ کے اس نے کمرے سے نکلنے کیلئے فورا قدم بڑھائے تھےمگر اذلان شاہ کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو بات ہی کیا تھیایلاف کے مڑتے قدموں کے بریک لگی تھی اذلان شاہ اس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا اور جھٹکے سے اسے پیچھے کر کے دروازہ بند کیا تھا" یہ کیا کر رہے ہیں آپ" ایلاف کی ساری بہادری رخصت ہونے لگیتھی" آپ جاگیر جائیں گی لوگوں کو ہماری اصلیت بتائیں گی ....ہمارے راز کھولیں گی ....آپ تو پہلے بھی فائدے میں رہیں تھیں...اب بھی فائدے میں رہیں گی .....خسارے تو سارے پھر ہمارے حصے میں آئیں گے " اذلان شاہ اس کے شانوں پہ اپنی گرفتکا احساس ڈالتے ہوئے بولا شہد رنگ آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے وہ ایلاف کو بتا رہا تھا اس کے پلانز کے بارے میں* انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے تو پھر شکوہ کیسا شکایت کیسی" ایلاف نے ہمت کرتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولی" تو پھر ہم کیوں خسارے میں رہیں ....ایلاف بی بی ...تاکہ ہمیںبھی نہ شکوہ رہے کہ ہم آپ کے حقوق پورے نہ کرسکے اور نہ آپ کو شکایت" اذلان شاہ کی بات نے ایلاد کو ہلا کے رکھ دیا تھا" کیا کہہ رہے ہیں آپ ....دماغ خراب ہوگیا ہے ....میں جارہی ہوں...آپ ان چیپ حرکتوں سے مجھے نہیں روک سکتے" ایلاف کیجان ہی نکل گئی تھیاذلان شاہ کے انداز اسے بہت کچھ جتا رہے تھے" نہیں ایلاف بی بی ہم نے آج تک کوئی نقصان کا سودا نہیں کیا...ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے تو چلیں آپ کو ثبوت بھیدے دیتے ہیں اور آپ تو ہماری زوجہ ہیں حق رکھتے ہیں آپ پہ....ہمیں کون روکے گا...ایلاف بی بی آج آپ مہر لگواہی لیں اپنے الزامات پہ سچائی کی " اذلان کا گہرا مزید تنگ ہورہا تھا اس کا پرتپش لمس ایلاف کو جھلسا رہا تھا" نہیں ....پلیز..آپ ایسا نہیں کرسکتے" ایلاف کی آنکھوں میں آنسوبھر آئے تھے چہرہ سرخ پڑگیا تھا وہ اس شخص کے سامنے جتنا اکڑتی تھی خدا اسے اتنا ہی جھکاتا تھاظاہر ہے ایلاف کی زبان کا صدقہ تھے یہ سب اور فی الحال ایلافکو یہ سمجھانے والا کوئی نہ تھا." کیوں ہم ہی تو ہیں جو سب کرسکتے ہیں ....نہیں ایلاف ابھی آپہی نے تو کہا تھا....چلیں ایک ڈیل کرتے ہیں" اذلان شاہ آہستہ آہستہ اپنے پتے پھینک رہا تھا" کیا " ایلاف بے تابی سے بولیاسے یہ صورتحال مرنے کے برابر لگ رہی تھی" آپ کی زبان بندی ...آپ اپنی اعلی سوچ اور گواہی اپنے تک محدود رکھیں گی نہ اماں سے نہ جاگیر میں اور کسی سے....بولیں منظور ہے"اذلان شاہ گیند اس کے کورٹ میں ڈال چکا تھااور ایلاف وہ تو اس کی ذہانت پہ حیران ہی رہ گئی تھی عش عش کر اٹھی تھی" یہ جانتا ہے کہ میں اپنی عزت اور انا کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہوں اس لئی یہ سب کیا اس نے.....خدا پوچھے تم سے اذلان شاہ" ایلاف سن سی ہوگئی تھیکیا داؤ کھیلا تھا" نہیں ایسا نہیں ہوسکتا" ایلاف نے آخری کوشش کی" جلدی نہیں ایلاف بی بی پوری رات اپنی ہے آپ آرام سے سوچ لیں ....یہ دروازہ تب ہی کھلے گا جب آپ فیصلہ کریں گی ....اب یہ آپ پہ ہے کہ اپ یہ دروازہ ابھی پار کرنا چاہتیں یا صبح کی روشنی میں" اذلان شاہ نے اس پہ اپنا ارادہ واضح کردیا تھامرد اپنی کرنے پہ آئے تو کون روک سکتا ہےایلاف نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اذلان شاہ کسی رعایت کے موڈ میں نہیں تھا" آپ آل ریڈی میرا بہت امتحان لے چکیں ہیں ....اب مزید کتنا وقت درکار ہے آپ کو" اب وہ جیسے اس کی سانسیں گن رہا تھا" کوئی بات نہیں اذلان شاہ ....کبھی تو میرا وقت بھی آئے گا...اس وقت میں مجبور ہوں تمہاری ہوس اتنی آسانی سے پوری نہیںہونے دوں گی....تشنہ ہی رہوگے تم" ایلاف نے آخر ہارمان لی تھی" ٹھیک ہے اذلان شاہ آپ جیتے میں ہاری ....مگر میری نظروں سے آپ گر گئے ....آپ نے اچھا نہیں کیا" ایلاف نے اپنے آخری تاثرات بیان کرنا ضروری سمجھے"گڈ ...کافی سمجھدار ہوگئیں ہیں آپ ہمارے ساتھ رہ کے....بھیجے میں موجود عقل استعمال کرلیا کریں....یونہی فائدے میں رہیں گی" اب وہ وہی پرانا اذلان شاہ تھا پرسکون سا" آپ کو ضرورت نہیں میری فکر کی " ایلاف جل کے بولیاذلان اب اس سے یوں لاتعلق ہو کے دروازہ کھول کے اپنی اسٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھ چکا تھا جیسے وہاں وہ ہے ہی نہیںاذلان شاہ جانتا تھا کہ ایلاف کو کیسے قابو کرنا ہے اتنے دنوں میںوہ اس کے مزاج سے واقف ہوگیا تھا سو اس نے بنا کسی ذاتی خواہش کہ ایلاف پہ یوں حق جتایا تھا جانتا تھا وہ انا کی ماری ہوئی لڑکی پابند ہوجائے گی ایلاف کی زبان بندی مناسب وقت تک بے حد ضروری تھی ورنہ وہ بیوقوف سب برباد کر دیتی باوجود اس کے اذلان شاہ بی بی کو سب بتا چکا تھا مگر ایلاف تو نہیں جانتی تھی نا اور نہ اذلان اسے بتانا چاہتا تھا______________________________میں راکھ ہوں گیلی لکڑی کیکیوں پھونکوں سے بہکاتے ہوجو سوکھے میری کلائی میںوہ پھول کہاں سے لاتے ہوتو دھوپ کی شال اڑا مجھ کوتب جانوں کہ میں ہاری پیا....میں ہاری پیا" اذلان شاہ تم نے آج جو کیا ہے میں چاہوں بھی تو نہیں بھول سکتی ...بھلا اپنے حق کا کوئی یوں بھی ناجائز استعمال کرتا ہے ....کیوں مجھے بار بار جلتی دھوپ جیسے سائبان ہونے کا احساس دیتے ہو....کیوں مجھ سے میرا حق چھینا تم نے....اب تو میں شکایت بھی نہیں کرسکتیپابند کر دئیے تم نے مجھےاب مجھے کون دوا دے گا میرے درد کیتم نے پھر سے مجھے ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہےایلاف کی ساری رات یونہی گزر گئی تھی صبح ناشتے پہ اس کی سرخ آنکھیں شاہ بی بی نے دیکھیں تو بے چین سی ہوگئیں تھیں" ایلاف کیا بات ہے....آنکھوں میں اتنی سرخی ... جاگتی رہی ہو"ایلاف نے نظریں اٹھا کے دیکھا سامنے ہی اذلان شاہ تھا جسکی آنکھوں میں تنبیہ واضح تھی" بد عہدی کی تو یاد رکھئے گا ....بقول آپ کے ہم تو ہیں ہی موقع کی تلاش میں .....آپ ہماری پہنچ سے باہر نہیں" اذلان شاہنے اسے اچھی طرح باور کرادیا تھا" بس آنکھوں میں کچھ پڑ گیا تھا رات کو" ایلاف دھیرے سےبولی" یہ رات کو آپ کے کمرے سے آرہی تھیں غالبا تبھی کچھ پڑگیا تھا ....ہم نے مدد کی تھی ان کی اب یہ ٹھیک ہیں" اذلان شاہ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا" ایلاف بیگم زرا آپ بھی کچھ مزہ لیں" اذلان شاہ دل میں بولتے ہوئے کھڑا ہوگیا تھا اور پھر چلا گیا تھاشاہ بی بی اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرنے لگیں تھیں ادھر ادھر کی پھر اچانک پوچھنے لگیں" کیا عمر ہے ایلاف تمہاری..." شاہ بی بی نے پوچھا" دو ماہ بعد اٹھارہ سال کی ہوجاؤں گی " ایلاف نے جواب دیا" اوہ ....یعنی تم اذلان سے دس برس چھوٹی ہو ...وہ اٹھائیس کا ہے.....خیر اتنا فرق تو عام ہے تمہارے سسر میں اور مجھ میں چھ سال کا فرق تھا اور عالیہ شاہ اور اذلان شاہ میں آٹھ برس کا پھر بھی دونوں کی شادی ہوگئی ....کھیل نصیب کے" شاہ بی بی نے اذلان شاہ کی زندگی کا پہلا راز کھولا تھااور ایلاف کو جیسے بچھو نے ڈنگ مارا تھا" تو تم پہلے سے ہی شادی شدہ ہو ....تمہاری روح سیراب ہے...تبھی تم نے کسی سے کچھ نہیں کہا" ایلاف ایک اور انکشاف پہ ماتم کدہ تھی جاری ہے...
یہ_جنون_منزلِ_عشق_ہےقسط
_10از فرحت نشاط مصطفے"
اذلان شاہ تم ہمیشہ سے ہی ایسے ہو یا میرے ساتھ ہی ایسا کرتے ہو.....اچانک سے وار کرتے ہو کہ میں کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہتی کہ تم واقعی اتنے ہی اچھے ہو یا پھر یہ کوئی نیا ڈھونگ ہے اپنے شملے کی حفاظت کیلئے تم نے پینترابدلہ ہے.....کیا ہو تم?کون ہو تم?کیا ہے تمہارا اصل چہرہ ?ابھی کل تک تم جو ایک ملازمہ کے سامنے اقرار کرنے سے ہچکچا رہے تھے آج اپنی ماں کو میرے مقابل لے آئے ہوکونسا انداز ہے تمہارا یہ?"" کونسی مثال دوںہر ستم بے مثال کرتے ہو" ایلاف شاہ بی بی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی" اسلام علیکم" ایلاف کے حواس قابو میں ہوئے تو اس نے سلام کیاوہ کم از کم اذلان کی ماں کے سامنے کچھ الٹا سیدھا نہیں کرنا چاہتی تھی"وعلیکم اسلام ....ٹھیک ہو بیٹی" شاہ بی بی اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں" ٹھیک ہوں " ایلاف دھیمے سروں میں بولیں"بھئی ہم تم سے فورا ملنا چاہتے تھے مگر حالات کچھ ایسے تھے کہ صبر کرنا پڑا" شاہ بی بی نے کہا" آپ خود کیوں آگئیں مجھے بلا لیتیں....مجھے پتہ ہوتا کہ آپ آرہی ہیں تو باہر ہی ہوتی اس وقت" ایلاف نے ان کی نرم روئی کا جواب بھی نرم روئی سے دیا" اذلان شاہ تمہاری ماں کے سامنے ہی میں اپنا مقدمہ رکھوں گی....دیکھتی ہوں کہ کیسے آپ اب اپنے لاڈلے بھانجے کی پردہ پوشی فرماتے ہیں" ایلاف کو تو جیسے اندھیرے میں امید کی کرن دکھی تھی اس کی کچلی ہوئی انا کی تسکین کا کوئی تو راستہ نکلا,اتنے دن سے سوچے جانے والے منصوبوں کو کوئی عملکا دھاگہ تو ملا" یہ یقینا تمہاری نیک تربیت بول رہی ہے بیٹا ......مگر پتا ہے ایلاف ....میدان جنگ میں سپاہیوں کی عیادت اور ان کے زخموں پہ مرہم طبیب آ کے خود رکھتا ہے تاکہ ان کا حوصلہ بڑھے انہیں بھی اندازہ ہو کہ ان کی بھی کسی کو چاہ ہے ....کسی کو پرواہ ہے...کسی کے خیال کا احساس بڑا غنیمت ہوتا ہے بچے" وہ ایلاف کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہیں تھیںبل واسطہ اسے بتا رہیں تھیں کہوہ تنہا نہیںاس کے گرد کوئی درد گر ہےاس کا بھی کوئی ہمدرد ہےشاہ بی بی کی جوہر شناس نظروں نے ایلاف کے ہیرے جیسے وجود کو پرکھ لیا تھاایک تراش کی ضرورت ہےاوریہ لڑکی صورت اور سیرت میں با کمال ہوگیجس کی ہم سفری پہ اذلان شاہ کو ناز ہوگاشاہ بی بی نے سوچا تھا" امیراں کھانا لگا چکی ہوگی ....ہم گاؤں والے بہت جلدی کھاناکھا لیتے ہیں اور آج تو ویسے بھی سفر تھا.....تم ہمارا ساتھ دوگی بچے?" شاہ بی بی مبہم لہجے میں بولیں" توبہ ان ماں بیٹے کو کتنا شوق ہے مجھے کھانا کھلانے کا بیٹا ہے تو وہ سر پہ سوار رہتا ہے یہ کھاؤ وہ پئیو....اور اب انکی والدہ ....کیا کھلا کھلا کے ماریں گے" ایلاف نے جل کے سوچاوہ کھانے پینے کی چور لڑکی اچھا بھلا اذلان کی غیر موجودگی میں اپنی مرضی سے دل کیا تو کھا لیتی چڑیا جتنا اور ابدوبارہ سے وہی ناٹک شروع تھا"آپ آئیں...." انہیں کہوں کیا ایلاف نے انہیں کہتے ہوئے سوچا"سب ہمیں شاہ بی بی کہتے ہیں لیکن اذلان ہمیں اماں سائیں کہتے ہیں ہمیں اچھا لگے گا اگر تم بھی ہمیں یہی کہو" شاہ بی بی نے جیسے اس کی سوچ پڑھ لی تھیظاہر ہے وہ یہاں آئیں ہی ایلاف پہ ریسرچ کرنے تھیں سو ایلاف انکی ایکسرہ کرتی نگاہوں کی ذد میں تھیایلاف نے کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے لائٹ آف کی اور پھر دروازہ دھیرے سے بند کر دیا" آئیں ....اماں چلتے ہیں" ایلاف نے ان کی بات مان لی تھیایلاف شاہ بی بی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگیاس کی چال میں الہڑ پن نہیں تھا نہ ہی وہ گنواروں کی طرح تیز تیز قدم اٹھاتی تھی اس کی چال میں توازن تھا وقار تھاشاہ بی بی کو اب تک صورت حال ٹھیک ہی لگ رہی تھی انہیں لگ رہا تھا اذلان اور ایلاف کا ایک حادثہ میں آمنے سامنے ہونابے مقصد نہیںکچھ تو چاہتی ہے قدرتکچھ تو ہے تقدیر کے اسراراور ایلاف سوچ رہی تھی کہ " اذلان شاہ جیسے تم میٹھی چھری بنے ہو تو زہر اب میں بھی نہیں اگلوں گی میں بھی اب جیسے کو تیسے والا حساب کروں گی ....ابھی تو دیکھتے ہیں تمہاری ماں بھی تمہاری شراکت دار ہے یا ان سے بھی تم نے چھپا رکھے ہیں اپنے لاڈلے کے کرتوت" ایلاف کو جب سے پتہ چلا تھا کہ خرم شاہ اس کا لاڈلہ بھانجا ہے تب سے وہ اسے اور قصوروار لگنے لگا تھااور اذلان شاہ ابھی ایلاف کی اتنی فرمانبردای دیکھ لیتا تو حیران ہی رہ جاتا ہر بات پہ بحث کرنے والی اس وقت کتنی فرمانبردار بنی ہوئی تھی______________________________وہ دونوں ڈائینگ ٹیبل پہ پہنچیں تو امیراں کھانا لگا چکی تھی" اذلان کہاں ہے امیراں" شاہ بی بی نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئےپوچھا" وہ جی ان کا کوئی ضروری فون تھا وہی سنتے سنتے کمرے میں چلے گئے تھے کہہ رہے تھے آپ آجائیں تو بلا لوں انہیں" امیراں نے ان کی طرف سالن کا ڈونگہ بڑھاتے ہوئے کہا" ہاں بلا لو ....رزق کو انتظار نہیں کراتے" شاہ بی بی نے کہااسی پل اذلان شاہ خود چلا آیا تھا سیاہ آرام دہ شلوار قمیض میں شانوں پہ سیاہ شال ہی لپیٹے چہرے پہ وہی اذلی سکون لئے وہان کی طرف آیا تھا " السلام علیکم" ایلاف کو پچھلی بار کا تجربہ یاد تھا اس لئے جھٹ سلامتی بھیجی تھی" وعلیکم سلام" اذلان شاہ نے حیرانی سے جواب دیا" گویا دھیرے دھیرے سہی محترمہ کو عقل آرہی ہے" اذلان شاہ نے بیٹھتے ہوئے سوچاشاہ بی بی کی موجودگی میں وہ سربراہی کرسی پہ تو نہیں بیٹھتا تھا سو وہ ان کے مقابل بیٹھ گیا تھا یوں کہ سامنےہی ایلاف بیٹھی تھیایلاف نے نظریں جھکا لییں" بیٹا یہ ڈش پکڑاؤ اذلان کو" شاہ بی بی نے آرڈر پاس کیاایلاف تو مانو خاک ہی ہوگئی تھی" یہ یہاں مجھ سے اپنے بیٹے کی چاکری کروانے آئی ہیں" ایلاف نے جل کے سوچا اور ڈش اتنے فاصلے سے اذلانو پکڑائی کہ اذلانکو اس کا گریز صاف محسوس ہوا ایک غیر محسوس سی مسکراہٹ اذلان کے لبوں پہ آئی تھیایلاف دوبارہ اپنی پلیٹ پہ یوں جھکی تھی کہ اس سے ذیادہ ضروری کام اور کوئی ہے نہیں" ایلاف گلاس میں پانی نہیں ڈالا آپ نے اذلان کیلئے " شاہ بی بی نے تو آج قسم کھا لی تھی ایلاف کا جی جلانے میں" اس ساتھ کیلئے مجھے آفر کر رہی تھیں " ایلاف نے جگ میں سے پانی اڈیل کے اذلان کے سامنے یوں رکھا جیسے آب حیات ہوساتھ میں اذلان کو گھورا بھیاذلان بنا کوئی ردعمل ظاہر کئے خاموش سا کھانا کھاتا رہا اور ایلاف جل جل کے خاک ہوتی رہی" پہلے ہم نے سوچا تھا کہ آپ کو جاگیر ہی بلوا لیں پھر سوچا کہ ایلاف ابھی نئی ہے بہت سی باتیں ہیں پہلے ہم وہ کہہ سن لیں پھر جاگیر بھی چلیں گے" شاہ بی بی نے یہ بات کیا کی ایلاف کو لگا اس کے جلتے دل پہ پھوار پڑنی شروع ہوگئی ہےیہی ایک کام کی بات کی تھی اتنی دیر میں" جاگیر تو میں ضرور جاؤں گی اصل عدالت تو وہاں لگی گی ....انمعصوموں کو بھی تو پتہ چلیں ان ناخداؤں کے اصل چہرے" ایلاف کے عزائم بے حد خطرناک ہوچلے تھے" ایلاف ہم نماز پڑھ کے فارغ ہوجائیں تو تم ہمارے کمرے میں آجانا ہم امیراں کو بھیجیں گے کچھ باتیں کرنیں ہیں تم سے....ابھی جاگی ہوئی ہو ناں" شاہ بی بی نے بتاتے ہوئے پوچھ لیا" باتیں تو مجھے بھی کرنیں ہیں اماں" ایلاف نے کہا اس کے لہجے میں کچھ تھا کہ اذلان اس کی شکل دیکھنے لگا" نیند تو اب مجھے اس دن آئی گی جس دن حساب پورا ہوگا اس دن میری بلتی روح کو سکون ملے گا " ایلاف نے اذیت سے سوچا" آپ لوگ باتیں کریں ہم اب آرام کریں گے ....امیراں کافی دے جانا ہمیں " اذلان شاہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا نظریں ہنوز ایلاف کا چہرہ کھوج رہی تھیں" ہوں ٹھیک ہے آرام کرو بیٹا....اور ایلاف تم بھی کرلو کچھ جوکرنا ہے تمہیں" شاہ بی بی دونوں کو ایک ساتھ جواب دیتے ہوئےاٹھ گئیں تھیں______________________________کمرے میں آکے ایلاف شاہ بی بی کے رویے پہ غور کرنے لگی تھی اب تک اسے شاہ بی بی سارے قصے سے بے خبر لگ رہیں تھیں ورنہ کون ایسی لڑکی کو اتنی اپنائیت دیتا ہے جس پہ زمانے بھر کا گند اچھالا گیا ہو ....اذلان شاہ یقینا تم نے آدھیکہانی گڑھی ہے پر فکر نہ کرو ....میں ہوں نا پوری گواہی دوںگی ....مکمل حساب دوں گی" ایلاف کی سوچ کے اپنے ہی معیار تھےایسے ہی تو اذلان اس کی عقل پہ ماتم نہیں کرتا تھا" بی بی تساں آجاؤ....وڈی بی بی بلا رہی ہیں" امیراں دروازے سے جھانکتے ہوئے بولی" ہاں آرہی ہوں.....کہاں ہیں وہ" ایلاف نے چپل پہنتے ہوئے پوچھا" وہ جی اپنے کمرے میں " امیراں نے بتایا" اور ان کا کمرہ کہاں ہے" ایلاف نے اکتاہٹ سے پوچھامجال ہے جو یہ عورت ایک بار میں پوری داستان سنائے" آپ میرے ساتھ آؤ میں چھوڑ دیتی ہوں آپ کو" امیراں نے اپنی خدمات پیش کیں" بڑی مہربانی آپکی چلیں" ایلاف نےطنزیہ کہاجتنا وہ جلدی چاہ رہی تھی یہ امیراں خاتون اتنی ہی دیر فرما رہیں تھیںشاہ بی بی کے کمرے کے دروازے پہ دستک دے کے امیراں اسے اندر لے آئی ایلاف اپنے کمرے کے علاوہ آج پہلی بار کسی اور کمرے میں آئیکیا شاندار کمرہ تھا " ایلاف نے سوچا" یہاں آؤ بیٹی ....ہمارے پاس بیٹھو" شاہ بی بی بیڈ پہ کمبل اوڑھے بیٹھیں تھیں اسے بھی پاس بلا لیاشاہ بی بی نے ذیادہ دیر مناسب نہیں سمجھی تھی وہ جس مقصد کیلئے آئیں تھیں وہ انہوں نے ابھی سے شروع کر دیا تھاایلاف ان کے پاس آکے بیٹھی تو شاہ بی بی امیراں سے کہنےلگیں" جاؤ ہم دونوں کیلئے دودھ لے آؤ چائے پئیں گے تو پھر نیند نہین آئی گی دودھ لے آؤ "" یہ واقعی اذلان شاہ تمہاری ماں ہیں....تم انہی پہ پڑے ہو جیسے تم ویسے تمہاری اماں" ایلاف بھی ایمان لے آئی تھیاور یہ تو زمانہ کہتا تھا کہ اذلان شاہ اپنی ماں کا پرتو ہےامیراں آرڈر سن کے جا چکی تھیشاہ بی بی تسبیح سائیڈ پہ رکھ کے اس کی طرف متوجہ ہوئیں اور اس پہ پھونکا" اتنی عزت نہ دیں شاہ بی بی جب آپ کو حقیقت پتہ چلے گی تو آپ کیسے پھر یہ اپنائیت کے جلوے دکھائیں گی" ایلاف پھر ایلاف تھیشاہ بی بی سے ابھی وہ بات کرنے کیلئے لفظ اور ہمت دونوں ڈھونڈ رہی تھی جب ان کا سیل فون بجنا شروع ہوا انہوں نےحیرانگی سے سوچا"اس وقت کون ہے بھئی" سیل فون ہاتھ میں لیا دیکھا تو سیدھی ہو کے بیٹھ گئیںچھوٹی حویلی سے فون تھا ان کی دیورانی کا.....یہ یقینا تانیہ شاہ کی کارستانی تھی اس میں خود تو ہمت تھی نہیں کہ شاہ بی بی سے سن گن لیتی سو اس نے اپنی ماں کو آگے کیا تھاشاہ بی بی جانتیں تھیں کہ اب ان کے ایک دو گھنٹے کہیں نہیں گئے اس لئے کال ریسیو کرنے سے پہلے وہ ایلاف سے مخاطب ہوئیں" ایلاف بچے برا نہیں ماننا چھوٹی حویلی سے فون ہے .....آپ آرامکریں اب ہم صبح بات کریں گے ....جائیں آپ محسوس نہ کیجئے گا" شاہ بی بی رسان سے بول رہی تھیں" کوئی بات نہیں شب بخیر" ایلاف نے کہا اور بوجھل قدموں سے باہر نکل آئی" کب تک چین کی نیند سوؤگے اونچی حویلی والوں ایک مظلوم کا انتقام تمہاری حویلی کی بربادی کو پکار رہا ہے" ایلاف نے نہایت ذودورنج ہوتے ہوئے سوچااپنی سوچوں میں گم وہ چل رہی تھی جب جھٹکے سے اسے کسی نے اپنی طرف کھینچا تھاایلاف کے بازو کو شدید جھٹکا لگا اپنے بازو کو سہلاتے ہوئے اس نے نظریں اٹھائیں تو بس حیران ہوکے مجسم ہونے کی باترہ گئی تھی______________________________" کیا طریقہ ہے یہ اس طرح روکتے ہیں کسی کو....حد ہے بھئی" ایلاف پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولیوہ اذلان شاہ تھا ایسی جرات وہی کرسکتا تھا" ایسوں کو ایسے ہی روکا جاتا ہے ....بیٹھ جائیں آرام سے بات کرتے ہیں" اذلان شاہ حسب معمول آگ لگا کے پرسکون تھا" آپ کے ہوتے ہوئے اور آرام ..ہو ہی نہیں سکتا...فرمائیں کیا تکلیف آن پڑی ہے" ایلاف کے تیور نہایت تھیکے تھے" کیا باتیں کرنیں ہیں اماں سے آپ نے" اذلان شاہ تو اس کا بھید پا گیا تھا"کیوں آپ کو کیوں بتاؤں ....آپ اماں تھوڑی ہیں" ایلاف اب بھی کمرے کے بیچ اکڑی کھڑی تھی" میں ان کا بیٹا ہوں ...وہ میری ماں ہیں ایک بات کان کھول کے سن لیں ایلاف بی بی ہماری ماں سے کچھ الٹا سیدھا آپ نے اگرکہا تو آپ کے حق میں اچھا نہیں ہوگا " اذلان نے اسے باور کرا دیا تھا" کیوں پیر سائیں بہت تکلیف ہورہی ہے ایسی ہی تکلیف مجھے بھی ہوتی ہے میری کچلی ہوئی انا کو انصاف چاہئیے....آپ کی ماں کو سننی ہی ہوگی اپنے لاڈلوں کے کرتوتوں کی کہانی" ایلاف چیخییہ شخص مجھے روک نہیں سکتا میں ہر حد پار کر جاؤں گی " ایلاف فیصلہ کرچکی تھی" چلائیں مت ...اونچی آواز ہمیں پسند نہیں...واویلا کرنا آپ عورتوں کی پرانی عادت ہوتی ہے ...آپ کے ساتھ اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا مداواہوچکا ہے مگر آپ کا رونا ختم ہی نہیں ہوتا ایک گھٹیا انسان کے مقابلے میں آپ ایک شریف آدمی کے نکاح میں ہیں پھر بھی آپ کے مزاج نہیں ملتے ....ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ہماری برداشت کا امتحان مزید نہ لیں" اذلان شاہ برہمی سے بولا" شریف اور آپ ....واؤ...ہوتی ہوگی آپ لوگوں کی شرافت بہت ذیادہ....آئی ایکسیپٹ.. پر پتہ ہے کیا رات کی تاریکی میں آپ لوگوں کی شرافت کا چولہ اتر جاتا ہے ...آپ شرافت کا دعوی نہ کریں پیر سائیں ہم گنہگار گواہ ہیں آپ کی حقیقتوں کے .....نکاح کر کے کوئی احسان نہیں کیا ....مت کرتے نکاح ...ہم جاگیر جائیں گے اماں سائیں کے ساتھ وہاں آپ کے پورے خاندان کے سامنے آپ کے بھانجے کی شرافت کی اصلیت دکھائیں گے ....تب ہوگا مداوا" ایلاف بپھرا ہوا طوفان بنی ہوئی تھی جو سب تہس نہس کردیتا ہے مگر مقابل بھی پیر اذلان شاہ تھا اسے طوفانوں کو روکنا آتا تھا سیلابوں پہ بندھ باندھنے آتے تھے" پھر تو واقعی کوئی فائدہ نہ ہوا آپ سے نکاح کرنے کا ایلافبی بی...ہم تو سمجھے تھے مداوا ہوگیا " اذلان شاہ کا لہجہ عجیب سا تھااس کی انا پہ ذبردست چوٹ لگی تھی مرد سب برداشت کرسکتاہے مگر انا کی مار نہیں اور ایلاف کو تو اپنے مزاج کے خلاف کافی چھوٹ دے چکا تھا" مداوے یوں ہوتے تو کیا بات تھی ...میں آپ کو بتاؤں گی کہ کفارہ کیسے ادا کرتے ہیں ....مداواکیسے ادا کرتے ہیں" ایلاف اذلان شاہ کے انداز پہ اور نڈر ہوگئی تھیاس لئے اپنی بات کہہ کے اس نے کمرے سے نکلنے کیلئے فورا قدم بڑھائے تھےمگر اذلان شاہ کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو بات ہی کیا تھیایلاف کے مڑتے قدموں کے بریک لگی تھی اذلان شاہ اس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا اور جھٹکے سے اسے پیچھے کر کے دروازہ بند کیا تھا" یہ کیا کر رہے ہیں آپ" ایلاف کی ساری بہادری رخصت ہونے لگیتھی" آپ جاگیر جائیں گی لوگوں کو ہماری اصلیت بتائیں گی ....ہمارے راز کھولیں گی ....آپ تو پہلے بھی فائدے میں رہیں تھیں...اب بھی فائدے میں رہیں گی .....خسارے تو سارے پھر ہمارے حصے میں آئیں گے " اذلان شاہ اس کے شانوں پہ اپنی گرفتکا احساس ڈالتے ہوئے بولا شہد رنگ آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے وہ ایلاف کو بتا رہا تھا اس کے پلانز کے بارے میں* انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے تو پھر شکوہ کیسا شکایت کیسی" ایلاف نے ہمت کرتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولی" تو پھر ہم کیوں خسارے میں رہیں ....ایلاف بی بی ...تاکہ ہمیںبھی نہ شکوہ رہے کہ ہم آپ کے حقوق پورے نہ کرسکے اور نہ آپ کو شکایت" اذلان شاہ کی بات نے ایلاد کو ہلا کے رکھ دیا تھا" کیا کہہ رہے ہیں آپ ....دماغ خراب ہوگیا ہے ....میں جارہی ہوں...آپ ان چیپ حرکتوں سے مجھے نہیں روک سکتے" ایلاف کیجان ہی نکل گئی تھیاذلان شاہ کے انداز اسے بہت کچھ جتا رہے تھے" نہیں ایلاف بی بی ہم نے آج تک کوئی نقصان کا سودا نہیں کیا...ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے تو چلیں آپ کو ثبوت بھیدے دیتے ہیں اور آپ تو ہماری زوجہ ہیں حق رکھتے ہیں آپ پہ....ہمیں کون روکے گا...ایلاف بی بی آج آپ مہر لگواہی لیں اپنے الزامات پہ سچائی کی " اذلان کا گہرا مزید تنگ ہورہا تھا اس کا پرتپش لمس ایلاف کو جھلسا رہا تھا" نہیں ....پلیز..آپ ایسا نہیں کرسکتے" ایلاف کی آنکھوں میں آنسوبھر آئے تھے چہرہ سرخ پڑگیا تھا وہ اس شخص کے سامنے جتنا اکڑتی تھی خدا اسے اتنا ہی جھکاتا تھاظاہر ہے ایلاف کی زبان کا صدقہ تھے یہ سب اور فی الحال ایلافکو یہ سمجھانے والا کوئی نہ تھا." کیوں ہم ہی تو ہیں جو سب کرسکتے ہیں ....نہیں ایلاف ابھی آپہی نے تو کہا تھا....چلیں ایک ڈیل کرتے ہیں" اذلان شاہ آہستہ آہستہ اپنے پتے پھینک رہا تھا" کیا " ایلاف بے تابی سے بولیاسے یہ صورتحال مرنے کے برابر لگ رہی تھی" آپ کی زبان بندی ...آپ اپنی اعلی سوچ اور گواہی اپنے تک محدود رکھیں گی نہ اماں سے نہ جاگیر میں اور کسی سے....بولیں منظور ہے"اذلان شاہ گیند اس کے کورٹ میں ڈال چکا تھااور ایلاف وہ تو اس کی ذہانت پہ حیران ہی رہ گئی تھی عش عش کر اٹھی تھی" یہ جانتا ہے کہ میں اپنی عزت اور انا کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہوں اس لئی یہ سب کیا اس نے.....خدا پوچھے تم سے اذلان شاہ" ایلاف سن سی ہوگئی تھیکیا داؤ کھیلا تھا" نہیں ایسا نہیں ہوسکتا" ایلاف نے آخری کوشش کی" جلدی نہیں ایلاف بی بی پوری رات اپنی ہے آپ آرام سے سوچ لیں ....یہ دروازہ تب ہی کھلے گا جب آپ فیصلہ کریں گی ....اب یہ آپ پہ ہے کہ اپ یہ دروازہ ابھی پار کرنا چاہتیں یا صبح کی روشنی میں" اذلان شاہ نے اس پہ اپنا ارادہ واضح کردیا تھامرد اپنی کرنے پہ آئے تو کون روک سکتا ہےایلاف نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اذلان شاہ کسی رعایت کے موڈ میں نہیں تھا" آپ آل ریڈی میرا بہت امتحان لے چکیں ہیں ....اب مزید کتنا وقت درکار ہے آپ کو" اب وہ جیسے اس کی سانسیں گن رہا تھا" کوئی بات نہیں اذلان شاہ ....کبھی تو میرا وقت بھی آئے گا...اس وقت میں مجبور ہوں تمہاری ہوس اتنی آسانی سے پوری نہیںہونے دوں گی....تشنہ ہی رہوگے تم" ایلاف نے آخر ہارمان لی تھی" ٹھیک ہے اذلان شاہ آپ جیتے میں ہاری ....مگر میری نظروں سے آپ گر گئے ....آپ نے اچھا نہیں کیا" ایلاف نے اپنے آخری تاثرات بیان کرنا ضروری سمجھے"گڈ ...کافی سمجھدار ہوگئیں ہیں آپ ہمارے ساتھ رہ کے....بھیجے میں موجود عقل استعمال کرلیا کریں....یونہی فائدے میں رہیں گی" اب وہ وہی پرانا اذلان شاہ تھا پرسکون سا" آپ کو ضرورت نہیں میری فکر کی " ایلاف جل کے بولیاذلان اب اس سے یوں لاتعلق ہو کے دروازہ کھول کے اپنی اسٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھ چکا تھا جیسے وہاں وہ ہے ہی نہیںاذلان شاہ جانتا تھا کہ ایلاف کو کیسے قابو کرنا ہے اتنے دنوں میںوہ اس کے مزاج سے واقف ہوگیا تھا سو اس نے بنا کسی ذاتی خواہش کہ ایلاف پہ یوں حق جتایا تھا جانتا تھا وہ انا کی ماری ہوئی لڑکی پابند ہوجائے گی ایلاف کی زبان بندی مناسب وقت تک بے حد ضروری تھی ورنہ وہ بیوقوف سب برباد کر دیتی باوجود اس کے اذلان شاہ بی بی کو سب بتا چکا تھا مگر ایلاف تو نہیں جانتی تھی نا اور نہ اذلان اسے بتانا چاہتا تھا______________________________میں راکھ ہوں گیلی لکڑی کیکیوں پھونکوں سے بہکاتے ہوجو سوکھے میری کلائی میںوہ پھول کہاں سے لاتے ہوتو دھوپ کی شال اڑا مجھ کوتب جانوں کہ میں ہاری پیا....میں ہاری پیا" اذلان شاہ تم نے آج جو کیا ہے میں چاہوں بھی تو نہیں بھول سکتی ...بھلا اپنے حق کا کوئی یوں بھی ناجائز استعمال کرتا ہے ....کیوں مجھے بار بار جلتی دھوپ جیسے سائبان ہونے کا احساس دیتے ہو....کیوں مجھ سے میرا حق چھینا تم نے....اب تو میں شکایت بھی نہیں کرسکتیپابند کر دئیے تم نے مجھےاب مجھے کون دوا دے گا میرے درد کیتم نے پھر سے مجھے ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہےایلاف کی ساری رات یونہی گزر گئی تھی صبح ناشتے پہ اس کی سرخ آنکھیں شاہ بی بی نے دیکھیں تو بے چین سی ہوگئیں تھیں" ایلاف کیا بات ہے....آنکھوں میں اتنی سرخی ... جاگتی رہی ہو"ایلاف نے نظریں اٹھا کے دیکھا سامنے ہی اذلان شاہ تھا جسکی آنکھوں میں تنبیہ واضح تھی" بد عہدی کی تو یاد رکھئے گا ....بقول آپ کے ہم تو ہیں ہی موقع کی تلاش میں .....آپ ہماری پہنچ سے باہر نہیں" اذلان شاہنے اسے اچھی طرح باور کرادیا تھا" بس آنکھوں میں کچھ پڑ گیا تھا رات کو" ایلاف دھیرے سےبولی" یہ رات کو آپ کے کمرے سے آرہی تھیں غالبا تبھی کچھ پڑگیا تھا ....ہم نے مدد کی تھی ان کی اب یہ ٹھیک ہیں" اذلان شاہ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا" ایلاف بیگم زرا آپ بھی کچھ مزہ لیں" اذلان شاہ دل میں بولتے ہوئے کھڑا ہوگیا تھا اور پھر چلا گیا تھاشاہ بی بی اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرنے لگیں تھیں ادھر ادھر کی پھر اچانک پوچھنے لگیں" کیا عمر ہے ایلاف تمہاری..." شاہ بی بی نے پوچھا" دو ماہ بعد اٹھارہ سال کی ہوجاؤں گی " ایلاف نے جواب دیا" اوہ ....یعنی تم اذلان سے دس برس چھوٹی ہو ...وہ اٹھائیس کا ہے.....خیر اتنا فرق تو عام ہے تمہارے سسر میں اور مجھ میں چھ سال کا فرق تھا اور عالیہ شاہ اور اذلان شاہ میں آٹھ برس کا پھر بھی دونوں کی شادی ہوگئی ....کھیل نصیب کے" شاہ بی بی نے اذلان شاہ کی زندگی کا پہلا راز کھولا تھااور ایلاف کو جیسے بچھو نے ڈنگ مارا تھا" تو تم پہلے سے ہی شادی شدہ ہو ....تمہاری روح سیراب ہے...تبھی تم نے کسی سے کچھ نہیں کہا" ایلاف ایک اور انکشاف پہ ماتم کدہ تھی جاری ہے...
Subscribe to:
Posts (Atom)
http://novelskhazana.blogspot.com/
-
#یہ_جنون_منزلِ_عشق_ ہےقسط_01از فرحت نشاط مصطفےٰ "ثنا سکندر اٹینشن ہوجاؤ کچھ ہی دیر میں کنوینشن اسٹارٹ ہوجائے گا اور تم ابھی تک نین...
-
http://novelskhazana.blogspot.com/ Rasm e wafa part 1 pdf link رسم وفا از خانزادی ایک بہت عمدہ کو دل کو چھو لینے والا ناول ہے۔ ...




