Thursday, August 2, 2018

یہ جنون منز ل عشق کا ہے 12

http://novelskhazana.blogspot.com/



#یہ_جنون_منزل_عشق_ہےقسط_12از فرحت نشاط مصطفےصبح کے اجالوں کا ہلکا ہلکا دھندلکا آہستہ روی سے پھیلنے لگا تھا موذن کی آواز نیند میں غافل لوگوں لو فلاح کی طرف پکار رہی تھی فجر کا نور پھیل رہا تھا جسے حاصل کرنے کو لوگ آہستہ روی سے اٹھ رہے تھےاسی احساس کے زیر اثر ایلاف کی آنکھ بھی کھل چکی تھی آج کتنے دنوں بعد وہ پرسکون نیند سوئی تھیمندی مندی آنکھوں سے اس نے سوچا ایک نرم گرم سا احساس اسے محسوس ہورہا تھاکیا تھا وہ?اس نے سوچاپھر جھٹ سے پوری آنکھیں کھولیںاس پہ کمبل پوری طرح سے پھیلا ہوا تھاایلاف کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ رات کو کمبل لئے بنا ہی سوئی تھی صرف چادر لپیٹ کےتو یہ کمبلیقینا اذلان شاہ نے ہی اس پہ ڈالا تھاوہ بھلے سے منہ سے کچھ نہیں بولتا تھامگر اس کے ہر عمل سے احساس ہوتا تھاپرواہ کافکر کاتوجہ کاایلاف کہ لبوں پہ بہت جاندار مسکراہٹ ابھری" آپ واقعی میری زندگی میں انعام کی طرح ہیں اذلان شاہ ....بس مجھے ہی سمجھنے میں دیر لگی " ایلاف نے کمبل کی نرماہٹ محسوس کرتے ہوئے سوچا پھر نماز کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیاذلان شاہ کمرے میں نہیں تھا یقینا وہ نماز کی ادائیگی کیلئے جاچکا تھاایلاف نے نماز ادا کی پھر تلاوت بھی کرلی کرنے کو فی الحال کچھ نہ تھا اس نے کمبل تہہ کر کے جگہ پہ رکھا پھر اذلان کا کمبل بھی تہہ کر دیا تھا اور کاؤچ پہ بیٹھ کے بال سلجھانے لگی تھی اس نے آج سنہرے اور گلابی امتزاج کا خوبصورت سا فراک پہن رکھا تھا کہنے کو آج اس کی نئی زندگی کا پہلا دن تھا مگر فی الحال ایلاف کو یہ دن عام دنوں کی مانند لگ رہا تھابال سلجھ گئے تو اس نے انہیں بنا کے ٹھیک سے دوپٹہ اڑ لیا پھر سبز آنکھوں میں کاجل کی دھار بھی لگا دی تھی سبز کانچ سیاہی سے اور بھی چمک اٹھے تھےایلاف کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی اور باہر کا نظارہ کرنے لگی گاؤں کی صبح کا منظر بڑا پرسکون تھااسی پل دروازہ کھلا تھاایلاف نے پلٹ کے دیکھا اذلان شاہ کمرے میں داخل ہورہا تھا" صبح بخیر" اذلان نے کہا"آپ کو بھی" ایلاف نے دھیرے سے کہا" ایلاف ...یہ لیجئے" اذلان نے اس کی طرف ایک مخملی کیس بڑھایا تھا" یہ کیا ہے" ایلاف نے پوچھا"یہ بھی رسم کا ایک حصہ ہے ہم کسی کے سامنے اپنی سبکی نہیں چاہتے" اذلان نے کہاظاہر ہے سب اس سے پوچھتے کہ اذلان نے اسے منہ دکھائی میں کیا دیاانکے لئے یہ رشتہ فی الحال تکلفات کے پردے میں اور کاغذی سطح تک محدود تھا مگر دنیا والوں کیلئے ان دونوں کا رشتہ وہی روایتی تھیایلاف نے ہاتھ بڑھا کے کیس لیا کھول کے دیکھا تو اس میںخوبصورت چمکتی ہوئی نوز پن تھیایلاف ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی" کیا بات ہے آپ کو پسند نہیں آیا" اذلان نے اس کے تاثرات دیکھے"وہ بات نہیں ہے پسند ہے مجھے" کہہ کے ایلاف نے کیس دراز میں رکھنے کیلئے کھولا" یہ کیس میں رکھنے کیلئے نہیں ہیں اسے پہن لیں " اذلان نے کہا" بنین بھابھی آئیں گی تو ان سے کہوں گی وہ پہنا دیں گی مجھ سے اس کا لاک نہیں بند ہوگا صحیح سے ....گر گیا تو" ایلاف نے وجہ بتائی" ادھر دیجئے" اذلان نے مٹھی کھولیایلاف نے حیرانگی سے اس کی طرف کیس بڑھایا" ادھر آئیں" اذلان نے پاس آنے کو کہا" سیدھی کھڑی ہوں ....ہلیں مت" اذلان نے ہدایت دیکیس کھول کے نوز پن نکالیایلاف کی ناک کو ہلکے سے پکڑ کے احتیاط سے نوزپن سوراخ میں اتاریایلاف سی کر کے رہ گئی ابھی تو نئی نئی ناک چھیدی تھی سو درد کا احساس ہوتا تھاایلاف کی آنکھوں میں آنسو کی لکیر سی چمکیاذلان نے اس کا چہرہ دیکھاجو اس سمے میں بہت پاس تھاصبح کے اجالوں سے جھانکتا وہ اجلا صبیح چہرہ نہ جانے کیوں اذلان کو اپنا اپنا سا لگاسبز کانچوں کی جھلملاہٹ میں اذلان کو کچھ ڈوبتا ہوا محسوس ہوایہ ان کے رشتے کا اعجاز تھاجو بولتا نہیںمگراپنا احساسدھیرے دھیرے دلاتا ہےمحسوس کراتا ہےاپنی اہمیت منوا کے چھوڑتا ہےنکاح کے بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہےوہی طاقت اب محسوس ہورہی تھیمقناطیس کی طرح"آپ تو چھوٹے کام کرتی نہیں سو ہم نے سوچا ہم ہی کردیں" اذلان نے اسے کل کی بات کا حوالہ دیا" یہ کوئی اور اچھی سی بات نہیں کرسکتے " ایلاف نے سوچتےہوئے اذلان کی شہد رنگ آنکھوں میں جھانکا" کوئی میٹھی سی سرگوشی "" آپ ابھی مجھ سے واقف نہیں ہیں...میں واقعی بہت بڑے بڑے کام کرتی ہوں" ایلاف نے کہا" ہاں واقعی ...جیسے ایک لفظ سے مکمل داستان بنانا ...آدھی بات سن کے پورا سچ گھڑنا ....واقعی آپ ہی کرسکتی ہیں ...آئی ایم ایمپریسڈ" اذلان نے توصیفی لہجے میں اس کی پچھلی باتیں یاد دلائیںایلاف پہ گھڑوں پانی پھر گیا"میں مانتی ہوں مجھ سے بیوقوفیاں ہوئیں ہیں مگر آپ مجھے موقعدینے کا وعدہ کر چکے ہیں" ایلاف نے یاد دلایا"چلیں آپ کی بیوقوفیاں تو دیکھ لیں اب آپ کی عقلمندیوں کی داستان بھی سن لیں گے" اذلان نے اسے چڑاتے ہوئے کہااتنی آسانی سے تو وہ بھی بخشنے والا نہیں تھا" آپ کیا لڑنے کے موڈ میں ہیں"ایلاف نے کہا"اوہوں قطعا نہیں" اذلان نے کہا" تو پھر ...." ایلاف نے وضاحت چاہی"ہر بات کی ہر لفظ کی وضاحت نہیں چاہتے ایلاف بی بی ورنہ جان مشکل میں پڑی جاتی ہے" اذلان نے کہاایلاف اس کی شکل دیکھ کے رہ گئیاذلان کا کام ہوچکا تھا اس نے ایلاف کی ناک ہولے سے دبا کے چھوڑ دی تھیایلاف اسے گھور کے پیچھے ہوئیاذلان مسکرا کے آگے بڑھ گیا______________________________دن کچھ اور چڑھا تو بنین شاہ اور کچھ اور لڑکیاں اس کے کمرے میں آکے ایلاف کو لے گئیں تھیںناشتہ سب نے ہال کمرے میں کیا تھا ناشتے کے بعد ایلاف شاہ بی بی کے پاس بیٹھ گئی تھیایلاف کے چہرے پہ انہوں نے کچھ کھوجا" ایلاف خوش ہو"" جی" ایلاف نے دھیرے سے سر ہلایا" اذلان کا رویہ ٹھیک تھا?"" جی ......" ایلاف نے انہیں صبح کا واقعہ بتایا تھاشاہ بی بی کو تسلی سی ہوئیمہمانوں کے سامنے ایلاف کی اتنی پریڈ ہوتی تھی کی رات تک ایلاف کے جوڑ جوڑ ہل جاتے تھے اور وہ بے سدھ سی سوجاتی تھیاذلان شاہ سے اس کا سامنا پھر ہوا ہی نہیں ہوا تھاوہ کب آتا کب جاتا پتہ ہی نہیں چلتا تھاآج بڑے دنوں بعد مہمانوں کا رش کم ہوا تو بنین ایلاف کو لے کے پچھلے صحن میں آگئی تانیہ شاہ چھوٹی حویلی میں تھی" کیا کرتیں تھیں شادی سے پہلے ایلاف تم ?" بنین شاہ نے پوچھا"پڑھتی تھی" ایلاف کو بہت کچھ یاد آیا تھااس کے اونچے خوابآدرشخیالوہ اس کے ڈگری ہولڈر ہونے کے خواب" تھیں سے کیا مطلب ....اب نہیں پڑھو گی کیا " بنین شاہ نے پوچھا" پتہ نہیں ....اب تو زندگی کا دائرہ ہی بدل گیا ہے ....اب کیسے پڑھ سکتی ہوں ...اس اونچی حویلی میں کیسے ??" ایلاف آزردگی سے بولی" اونچی حویلی سے تمہاری کیا مراد ہے ایلاف ....تمہیں شاید لگ رہا ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کو تعلیم نہیں دی جاتی ....ارے ایک زمانے میں ہوتا تھا یہ اب نہیں ہوتا ...میں نے خود پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز شادی کے بعد کیا ہے کمال کی حمایت پہ" بنین نے اسے بتایا"مجھے شاید اجازت نہ ملے" ایلاف نے کہا" کیوں بھئی ....ایلاف اذلان تو خود تعلیم کا سب سے بڑا حامیہے اس کی کوششوں سے ہی جاگیر میں لڑکیوں کیلئے ہائی اسکول بنا ہے تو وہ اپنی بیوی کو کیسے روک سکتا ہے .....تم پڑھنا چاہتی ہو تو اذلان یقینا تمہارا ساتھ دے گا" بنین شاہ پریقین تھیایلاف کو لگا اسے کچھ کرنے کو مل گیا ہے یہاں حویلی میں تو پھر وقت گزر جاتا تھا ظاہر ہے وہاں شہر میں وہ وقت کیسے گزارتی تھیاور پھر اذلان شاہ جیسے ویلا ایجوکیٹیڈ کے ساتھ وہ صرف گیارہوں پاس لڑکی ....نہیں ایلاف بی بی موقع سے فائدہ اٹھاؤ تم ایک معمولی انسان کی نہیں پیر اذلان شاہ کی بیوی ہوایلاف نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھے گیاسی عزم کے ساتھ وہ شہر لوٹ آئی تھی اذلان شاہ اسے گھرچھوڑ کے دوسرے شہر جا چکا تھا" اس آدمی کے پاؤں میں چکر ہے ....کتنا گھومتا ہے" ایلاف نے جل کے سوچاپھر خود ہی بولی" صبر کر ایلاف جلد بازی میں پہلے بھی کام بگاڑا تھا تم نے اب انتظار کرو آجائیں گے اذلان شاہ اور ابھی تو میرے پاس نہ کتابیں ہیں نا ڈاکومنٹس وہ بھی تو لانے ہیں" ایلاف نے سوچاایک بار پھر اسے ان گلیوں میں جانا تھا ...وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر مجبوری تھی اس کی اب تک کی محنت وہاں تھی______________________________"بی بی جی سائیں آگئے ہیں " امیراں نے کہاایلاف فورا کھڑی ہوگئی تھی آج چار دن بعد وہ لوٹا تھا اور ان چار دنوں میں ایلاف ماسیوں والے حلیے سے بھی برے حلیے میںگھوم رہی تھیملگجا لباسبکھرے بال" میں کپڑے بدل کے جاؤں کہاںبال بناؤں کس کیلئےوہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیااب باہر جاؤں کس کیلئے"کی عملی تفسیر بنی ہوئی تھیمگر اب وہ شخص لوٹ آیا تھاسو ایلاف کو بھی اپنا حلیہ درست کرنا تھا" میرا سامان کہاں ہیں " ایلاف نے الماری خالی دیکھ کے امیراں سےپوچھا" وہ تو جی پیر سائیں کے کمرے میں رکھ دیا تھا میں نے سارا سامان آپکا" امیراں کے انکشاف پہ ایلاف کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا" تم سے کس نے کہا تھا بیوقوف عورت میرا کمرہ یہ ہے تو ساماں وہاں کیا کر رہا ہے" ایلاف دانت کچکچا کے بولی" لو جی میاں بیوی کے کمرے الگ کب سے ہوگئے اب تو خیر سے ولیمہ بھی ہوگیا ہے" امیراں نے اس کے ہاتھوں پہ مہندی کے مٹے مٹے نقش دیکھتے ہوئے حیرانگی سے کہا" اف خدایا ....تم اپنا دماغ ذیادہ نہیں چلایا کرو" ایلاف نے کہااب وہ اس کے کمرے میں جائے وہ بھی اس حلیے میں"اب کیا کروں میں" ایلاف نےپوچھا" بی بی صاحب اسٹڈی میں ہیں آپ چلی جائیں ان کے کمرے میں" امیراں نے بتایا تو ایلاف کی جان میں جان آئی" میرے ساتھ آؤ اور سارا سامان واپس لاؤ" ایلاف کہہ کے باہر نکل گئی" یہ بی بی اتنی انوکھی کیوں ہے" امیراں نے سوچا اور اس کے پیچھے چل دیوہاں حویلی میں رہنا تو مجبوری تھی مگر یہاں اس طرح ایلاف اذلان کے کمرے میں رہ کراسے یہ احساس نہیں دلانا چاہتی تھی کہ وہ اس پہ حاوی ہو رہی ہےاذلان نے اسے موقع دیا تھا تو وہ حد میں رہ کے ہی اپنے حق کو حاصل کرنا چاہتی تھیاسے پھر سے بدگمان نہیں کرنا چاہتی تھینہا کے اپنا حلیہ درست کر کے ایلاف اسٹڈی کی طرف چلی گئی تھی اذلان ابھی وہیں تھاامیراں نے اس کی رہنمائی کی تھی اسٹڈی تکایلاف نے اندر آکے سلام کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھااذلان شاہ جو آرام کرسی پہ نیم دراز تھا ہاتھ میں سگار تھا جس سے وہ وقفے وقفے سے کش لے رہا تھا اسٹڈی میں اطالوی موسیقی پھیلی ہوئی تھیبڑا خوابناک سا ماحول تھااذلان نے ایلاف کو دیکھ کر ہاتھ میں موجود سگار ایش ٹرے میں رگڑ دیا تھاوہی نو اسموکنگ لیڈیز کی موجودگی میں ....والے اصول پہ عمل کرتے ہوئےایلاف ہلکا سا مسکرائی"آپ سے بات کرنی تھی ایک" ایلاف نےتمہید باندھی" جی کہئے..." اذلان ہم تن گوش ہوا" میرے پیپرز ہونے والے ہیں" ایلاف نے یوں کہا جیسے موسم کا حال سنا رہی ہو"تو?" اذلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا" میں پڑھنا چاہتی ہوں"" ضرور ..مجھے خوشی ہوگی ...کوئی تو ڈھنگ کا کام کریں گی" اذلان نے رک رک کے کہاایلاف نے اس کا طنز ہضم کرلیا" ایک مسئلہ ہے..میرے سارے ڈاکومنٹس اور کتابیں وہاں ہیں" ایلاف نے وہاں پہ زور دیا" اوہ تو یہ بات ہے" اذلان نے سوچا" کتابوں کا تو مسئلہ نہیں وہ یہاں بھی مل جائیں گی ....اصل مسئلہ واقعی ڈاکومنٹس کا ہے ....کچھ سوچتے ہیں اس کا حل" اذلاننے کہاپھر کہا"آپ کب جانا چاہتی ہیں وہاں ....ایسا کریں کل صبح دس بجے تیار رہئے گا آپ کو گاڑی آجائے گی لینے "" میں کبھی وہاں جانا نہیں چاہتی نہ کالج ...." ایلاف نے جملہ ادھورا چھوڑا" کونسا سبجیکٹ ہے آپ کا "" کامرس" یک لفظی جواب حاضر تھا" پھر تو آپکی سپلیاں پکی ہوتی ہوں گی ...کونسی کلاس میں ہیں آپ" اذلان کو اس سے کوئی خاص امید نہ تھی" آپ کیا سمجھتے ہیں مجھے ....فرسٹ ائیر میں اے ون گریڈ تھا میرا اور اب پیپرز میں بھی آپ میرا رزلٹ دیکھ لیجئے گا...ایک دن میں لیڈ کلاس اکنامسٹ ہوں گی پھر آپ کو پتہ چلے گا" ایلاف خفگی سے بولیاذلان شاہ دھیرے سے ہنس دیا ایلاف نے پہلی بار اسے ہنستے ہوئے دیکھا تھاگھمبیر سی دل میں اتر جانے والی ہنسی" امیزنگ...واقعی اگر ٹیچر مجھ جیسا ہوگا تو آپ کے گریڈز واقعی اچھے آئیں گے اب" اذلان شاہ کو پہلی بار ایلاف نے متاثر کیا تھاورنہ اس سے پہلے تو وہ روتی دھوتی رہتی تھی" آپ جیسا مینز آپ کو کامرس کی شد بدھ ہے"ہائے رے ایلاف تیری بدگمانیاں" میم ....آئی ایم سی اے" اذلان شاہ نے بتایا" ارے واہ....پر آپ تو سارا وقت یہاں وہاں گیند کی طرح چکر کھاتے رہتے ہیں مجھے کیسے پڑھائیں گے " ایلاف نے کہا" یہ تو ہے آپ کیلئے ٹیوٹر کا انتظام ہوجائے گا ...لیکن اکاؤنٹس اور انگلش ہم پڑھائیں گے ...دیکھتے ہیں آپ صرف باتیں بناتیںہیں یا کچھ آتا بھی ہے" اذلان نے کہا تو ایلاف بھی جذباتی ہوگئی" یو ڈونٹ وری ....پیر صاحب ہم بھی دیکھتے ہیں آپ کو کیا کیاآتا ہے "ایلاف نے حساب برابر کیا اور وہاں سے چلی آئی______________________________اگلے دن جب ایلاف تیاری میں مصروف تھی جب امیراں نے اسے اطلاع دی کہ گاڑی آگئی ہے" ٹھیک کے پانچ منٹ میں آتی ہوں " ایلاف کہہ کے اپنا جائزہ لیاوہ آج کسی صورت کم نہیں دکھنا چاہتی تھیوہ بتانا چاہتی تھیوہ پہلے والی معمولی ایلاف نہیںاب وہ ایک ذی حیثیت آدمی کی بیویاورعزت دار گھرانے کی بہو تھیوہ اس وقت مہرون رنگ کے گرم سوٹ میں تھی بہترین جوتے کانوں میں ننھے آویزے ,ناک میں چمکتی نوز پن,کلائیوں میں سونے کی نفیس چوڑیاںوہ واقعی اپنے حلیے سے خوشحال گھرانے کی لگ رہی تھیچہرہ نقاب کی اوٹ میں کر کے وہ باہر آگئی گاڑی کھڑی تھیاندر دو عورتیں بھی موجود تھیں مودب سی" فیمیل بارڈی گارڈ....." ایلاف نے سوچااور بیٹھ گئیان عورتوں نے اسے سلام کیا اور چپ چاپ بیٹھ گئیںڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی گاڑی جانے پہچانے راستوں پہ چل کےاس مقام پہ پہنچ چکی تھی جہاں سے ایلاف کو ذلیل و رسوا کیاگیا .جہاں سے ایلاف کی زندگی کا دھارا اذلان شاہ کی طرف موڑا گیا .ایلاف مجبوری میں ہی آئی تھیچپ چاپ قدم اٹھاتے وہ اس دروازے کے سامنے آکھڑی ہوئی تھیجو کبھی اس کا بھی گھر تھادونوں عورتیں اس کے پیچھے اٹین شن کھڑی تھیںپتہ نہیں اذلان نے انہیں کہاں سے برآمد کیا تھاوہاں سے ہر گزرتے فرد کی آنکھ میں حیرت تھییہ بڑی گاڑیاور اس میں آئی یہ کچھ جانی پہچانی سی لڑکیایلاف کے رکنے پہ ایک عورت نے ہاتھ سے دروازہ بجایادروازہ دو تین بار دستک دینے کے بعد ہی کھلاایلاف سمجھ گئی مامی گھر پہ نہیں اپنے کسی دورے پہ ہیںدروازہ راضیہ نے کھولا تھااورایلاف کو دیکھ کے ساکت رہ گئی تھی" تم ....کیا لینے آئی ہو یہاں" راضیہ تنفر سے بولی" فکر مت کرو تمہارا کچھ لینے نہیں آئی اپنا ہی لینے آئی ہوں....اندر آنے کو نہیں کہو گی" ایلاف کمال ضبط سے بولی" کیوں اس پیر کا دل بھر گیا جو لوٹ آئیں"جواب میں پیچھے کھڑیں وہ دونوں محافظ آگے آئیں تھیں" خاموشی سے پیچھے ہوجاؤ ...ہماری بی بی یہاں تھوکنا پسند نہ کریں وہ یہاں اپنا سامان لینے آئیں ہیں ...چپ چاپ راستہ دو ورنہ" اس عورت لے لہجے میں بلا کی کرختگی تھی" تمہاری بی بی کی تو ...اصلیت مجھ سے پوچھو..ایسی آوارہ.." ابھی بات راضیہ کے منہ میں تھیجب اسی عورت نے گھما کے ایک تھپڑ راضیہ کو لگایا تھا اور دھکا دے کے اسے سائیڈ پہ کیا" بی بی آپ جائیں اپنا کام کریں جا کے ....اس کے منہ نہ لگیں یہآپ کو زیب نہیں دیتا"ایلاف کو اب ان عورتوں کا مصرف سمجھ میں آیا تھاایلاف چپ چاپ اندر چلی آئی گھر میں شاید کوئی بھی نہ تھا" چلو یہ بھی اچھا ہوا" ایلاف نے سوچااپنی کتابیں اور ڈاکومنٹس اسے اسی ترتیب سے ملے تھے بس کچھ کتابیں غائب تھیں ایلاف کو دس منٹ لگے تھے سب سمیٹنے میں محافظوں میں سے ایک عورت نے اس سے سارا سامان لے لیا تھاراضیہ اسے خون خوار نظرون سے دیکھ رہی تھی" کیا ٹھاٹ ہیں مہارانی کے" راضیہ کے گال پہ ابھی تک جلن ہورہی تھی اس لئے بمشکل منہ بند کیاایلاف مضبوط قدموں سے چلتی ہوئی آئی تھی" میں نے کبھی تمہارا برا نہیں چاہا تھا ...ہمیشہ تمہیں اپنیبہن سمجھا....مگر تم نے جو کیا وہ کوئی غیر بھی نہیں کرتا ...مگر مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ..کیونکہ ہر مشکلکے ساتھ آسانی ہے میں سمجھ چکی ہوں" ایلاف نے کہا اور عورتوں کو باہر نکلنے کا اشارہ کر کے چلی گئی" ایلاف ...یہ تم ہو نا" اس آواز پہ ایلاف نے پلٹ کے دیکھا تھاوہ رابعہ باجی تھیں اس کی واحد ہمدرد" رابعہ باجی " ایلاف ان سے لپٹ گئیاس کی واحد ہمدرد تھیںجب کسی نے اس کا یقین نہیں کیا تھا تب انہوں نے کیا تھا" آئی ہو اور ملے بغیر جا رہی ہو ہم سے ....واقعی بڑا آدمی بن گئی ہو" رابعہ نے شکوہ کیا" ایسا نہیں ...بس اچھا چلیں میں چلتی ہوں آپ کے ساتھ" ایلاف ان کے ساتھ ہولیاتنے دنوں بعد کسی پرانے شناسا کو دیکھ کے اچھا لگا تھا" تم لوگ یہاں انتظار کرو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں" ایلاف نے کہا اور رابعہ کے ساتھ چل دی تھی" اور سناؤ ایلاف خیر سے خوش ہو ..." رابعہ کے گھر کے چھوٹے سے صحن میں بچھی چارپائی پہ بیٹھ کے انہوں نے پوچھا" ہاں اب میں خوش رہنے لگی ہوں" ایلاف نے اقرار کیا" مطلب" رابعہ نے پوچھاجواب میں ایلاف نے اسے اپنی داستان سنانی شروع کی تھیابھی بات آدھی ہوئی تھی کہ کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی تھی بہت زور سے" میں دیکھتی ہوں" رابعہ اٹھتے ہوئے بولیںاور رابعہ نے آنے میں کافی ٹائم لگایا تھا" کیا ہوگیا تھا ...باجی "" ارے کچھ نہیں ...بلی تھی...ہاں کیا کہہ رہیں تھیں تم " رابعہ نے لہجے کو سرسری بنایا تھا" بس اب مجھے عقل آگئی ہے ...تو سوچا زندگی کو ڈھب سے گزار لیں ..اذلان بہت اچھے انسان ہیں آپ نے سچ کہا تھا" ایلاف نے اقرار کیا" خدا تمہیں خوش رکھے" رابعہ نے دل سے دعا دی" اوہ..وقت کافی ہوگیا ہے میں چلتی ہوں اب " ایلاف نے گھڑی میں وقت دیکھا تو کھڑی ہوگئی تھی" ارے رک جاؤ....میں چائے تو بنا لوں" رابعہ نے کہا" نہیں بہت شکریہ ...بس چلتی ہوں...خدا حافظ" ایلاف اٹھ گئی تھی" خدا حافظ" رابعہ نے اسے رخصت کیاایلاف کا دل ہلکا ہوگیا تھامگر کچھ تو تھاجو اسے اٹک رہا تھاکیا???فی الحال آنکھوں سے اوجھل تھا______________________________" بی بی صاحب جی تساں بلا رہے ہیں ...اسٹڈی میں" امیراں نے کتابوں میں سر دئیے ایلاف کو مخاطب کیاپیپر میں دو ماہ تھے اور ایلاف کو نئے سرے سے ابھی بہت کچھ تیار کرنا تھااس کے کچھ رجسٹر غائب تھےاکنامکس اسے جتنی پسند تھی اکاؤنٹنگ سے اس کی اتنی جان جاتی تھیایلاف نے ان ٹاپکس پہ نشان لگائے جن پہ نئے سرے سے اسے تیاری کرنی تھیامیراں کی بات پہ سر ہلاتے ہوئے وہ جوتے پہن کے اٹھ کھڑی ہوئی تھیآج موسم بہت سرد ہورہا تھاشال اچھی طرح لپیٹ کے وہ اسٹڈی کی طرف چل دی تھیدستک دینے پہ اذلان کی مخصوص گھمبیر آواز میں" کم ان " سنایا دیاایلاف کتابیں لئے آگئی" تو کہاں سے شروع کریں میرے خیال سے انگلش سے کرتے ہیں" اذلان نے کتاب اٹھاتے ہوئے کہاتو ایلاف نے رجسٹر کھول لیااذلان اسے رابرٹ فراسٹ کی پوئم پڑھانے لگاپوئم ختم ہوئی تو اس نے کہا" اس کی سمری بنا کے دکھائیں"ایلاف رجسٹر پہ جھک گئیپندرہ منٹ کے بعد اس نے رجسٹر اذلان کی طرف بڑھایا تھا" یہ لیں"" ہوں ...کوشش کی آپ نے مگر آپ تھوڑی ہائی کلاس vocabulary یوز کریں"" مجھے یہی آتا ہے " ایلاف کو غصہ آگیاوہ تو تعریف سننے کی منتظر تھی اور یہاں تو نکتہ چینی ہی ختم نہیں ہورہی تھیاذلان نے اس کے انداز پہ اسے گھورا" چلیں میں آپ کو سیمپل کے طور پہ آج سمری لکھواتا ہوں " اذلان نے اس کیی طرف رجسٹر بڑھاتے ہوئے کہارجسٹر کچھ آڑا ہوا تو اس میں سے کچھ صفحات گرےاس سے پہلے کہ ایلاف اسے اٹھاتی اذلان اٹھا چکا تھاایلاف کا دل اچھل کے حلق میں آگیا تھا_____________________________جاری ہے

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/