http://novelskhazana.blogspot.com/
میرا یہ افسانہ پبلش ہو چکا ہے
دکھوں کا حاصل
قسط نمبر 1
روبینہ رضا
پنجاب کے بعض دیہاتوں میں شادی سے چند دن پہلے ہی یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ دولہے کو برادری کے لوگ باری باری شام کے وقت ہر روز رُسا (ناراض) کر کے لے جاتے ہیں اور پھر اس کے گھر والے تمام برادری کے ساتھ اور گاؤں والوں کے ساتھ
بینڈ باجے بجاتے ہوئے دولہے کو منانے جاتے ہیں اور میزبان خاندان چائے اور مٹھائی کے ساتھ آنے والوں کی خاطر مدارت کرتاہے پھر خوب ڈھولک پر گیت گانے کے ساتھ ساتھ لڈی وغیرہ بھی ڈالی جاتی ہے
یوں شادی میں دو لہے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔آج کی دولہا رسائی کی رسم میں منیبہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ مدعو تھی اب سب لوگ دولہے کو منانے جا رہے تھے۔سب کے چہروں پر خوشی رقصاں تھی منیبہ بھی بہت خوش تھی ۔پھر جانے کون سی کسک اس کے دل میں پیدا ہوئی کہ جس نے اس کے کِھلتے ہوئے چہرے کے تمام رنگ چھین لیے اور وہ چھوئی موئی کی طرح یکسر مرجھا سی گئی۔وہ حسرت بھرے اندازمیں دولہے کے ماں باپ کو دیکھ رہی تھی ۔دولہے کا باپ دولہے کی ماں پر نوٹ وار رہا تھا اور دولہے کی ماں --------- محفل کی جان بنی ہوئی تھی منیبہ نے ایک سرد آہ بھری اور ایک نگاہ اپنے تینوں بچوں بلخصوص اپنے ڈھائی سال کے اکلوتے بیٹے علی پر ڈالتے ہوئے دل ہی دل میں اللہ تعالٰی سے دعا مانگی ۔
یااللہ ۔یہ خوشیوں بھرا وقت میرے نصیب میں بھی لکھ دے۔---------مگر اگلے ہی لمحے وہ سوچنے پر مجبور ہو گئی اور خود سے دکھ بھرے لہجے میں مخاطب ہوئی
ارے منیبہ۔ کیوں خوابوں کے جال بنتی ہے ؟
------نہ کر ایسا--------ورنہ ------- جاتے ہوئے بڑی تکلیف ہو گی --------- مت بھول ۔کہ تیری اوقات کیا ہے----------ارے تُو تو مہلک بیماری کی ذد میں ہے اور دوائیوں کے بل بوتے پر زندگی کی سانسیں چل رہی ہیں خوشیوں کی اس محفل میں منیبہ کے آنسو آنکھوں کے کٹوروں میں بھر گئے جہنیں منیبہ نے بڑی نفاست سے صاف کر دیا۔اور کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا۔
مگر پھر زیرِ لب بڑ بڑائی
"وہ بڑا رحیم و کریم ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے"
ماما ۔ماماجی.4 سالہ ہانیہ نے بڑے پیار سے منیبہ کا بازو پکڑ کر ہلاتے ہوئے پکارا۔منیبہ دھیرے سے بولی
جی -----جی بیٹا؟
ماما آپ پریسان تیوں ہیں؟ ہانیہ نے معصومیت سے اپنی گول گول آنکھیں مٹکاتے ہوئے اپنی توتلی زبان میں پوچھا۔ گویا وہ اپنی ماں کے دکھ کو اس کے چہرے پہ محسوس کر چکی تھی ۔بچے ماں کی بے وقت تکلیف کی وجہ سے بہت احساس ہو چکے تھے اسی لیے ماں کے کرب کو فوراً بھانپ لیتے تھے۔
منیبہ نے مسکرا کر ہانیہ کو دیکھا ۔پیار کیا اور سینے سے لگا کر بولی
نہیں ماما کی جان ۔میں تو بہت خوش ہوں ۔ہانیہ بھی خوش ہو گئی
--------***-------***-------***
منیبہ نے ایک بار پھر نمبر ملایا مگر حسبِ معمول دوسری طرف سے نمبر مصروف کر دیا گیااس نے موبائل ٹھوڑی کے ساتھ لگایا اور سوچنے لگی کہ آخر بات کیا ہے؟پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے وقار مصروف ہو اسی وجہ سے نمبر بزی کر دیتا ہو آدھ گھنٹہ کے بعد دوبارہ کوشش کروں گی۔ اتنی دیر میں ہو سکتا ہے کہ وقار خود ہی کال کر لے۔یہ سوچ کر منیبہ مطمن ہو کر کام میں مصروف ہو گئی۔ایک گھنٹے بعد دوبارہ خیال آیا تو شرمین نے ایک بار پھر نمبر ملایا۔ وقار نے کال اٹینڈ نہ کی ۔منیبہ کو یاد آیا کہ وقار کے چچا زاد بھائی شاہد کے نمبر سے کال کرتی ہوں جب شاہد کے نمبر سے کال کی تو وقار نے کال اٹھا لیاور انتہائی متانت و سنجیدگی سے بولا
اسلام و علیکم
منیبہ سلام کا جواب دینے کی بجائے (کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ سلامتی وہ شاہد پر بھیج رہا تھا) فوراً بولی ۔وقار کیا بات ہے؟ آپ میرے نمبر سے کال یس کیوں نہیں کر رہے ہیں؟
وقار نے منیبہ کی آواز سنتے ہی کال کاٹ دی۔منیبہ نے دوبارہ نمبر ملایا تو نمبر بند جا رہا تھا
منیبہ کو سب سے زیادہ اذیت تب ہوتی تھی جب کوئی اچانک رابطہ ختم کر دے یا بات کرنا بند کر دے ۔ منیبہ ابھی بھی بہت ہی بے چین مضطرب اور پریشان تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔منیبہ نے میسج کیا ۔
کیا بات ہے وقار۔اگر کوئی ناراضگی ہے تو اظہار کرو ۔یوں خاموش رہ کر اپنا اور میرا خون جلانے سے کیا فائدہ؟
مگر کوئی رسپونس نہ ملا۔
گھنٹے بعد منیبہ نے دوبارہ نمبر ملایا ۔منیبہ چاہتی تو اس کو چھوڑ دیتی پھر جب اس کا جی چاہتا کال کر لیتا مگر وہ وقار سے محبت کرتی تھی وہ اس کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اسی لیے بار بار کال کر رہی تھی ۔آخر کر اس کی محنت سفل ہوئی اور وقار نے فون اٹھا لیا ۔مگر غصے سے چلایا۔
" میں یہاں ملازمت کرتا ہوں میں صبح سے ابھی تک گاڑی ڈرائیو کر رہا ہوں تم لوگ مجھے آرام سے نوکری کرنے دو گے یا نہیں "
منیبہ کو دھچکا سا لگا مگر خود کو سنبھالتے ہوئے بڑے اطمینان سے بولی-------------
دکھوں کا حاصل
قسط نمبر 2
از روبینہ رضا
وقار۔ گھر میں بھی سو قسم کے مسائل ہوتے ہیں مگر میں آپ کو اس لیے نہیں بتاتی کہ آپ پریشان نہ ہوں اور اپنے طور پر خود ہی ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش رتی رہتی ہوں۔ اگر آپ وہاں بھوکے پیاسے کام میں مصروف ہیں تو میں بھی گھر کی ذمہ داریاں پوری کرتی ہوں یہ ہمارا فرض ہے کسی پر احسان نہیں ۔منیبہ نے اطمینان سے جواب دیا
وقار ۔اونہہ مثلاً کون سے مسائل ؟
مثلاً دو دن سے علی کو بخار تھا اور میری اپنی طبیعت بھی--------
بس بس طبیعت خراب تھی تبھی ولیمہ کھانے گئی تھی کل رات کو ۔
منیبہ تھوڑا خاموش رہنے کے بعد بولی ۔شادی کل ہے اور رخصتگی اس سے اگلے دن ۔ تھوڑی دیر دونوں طرف خاموشی رہی اس کے بعد منیبہ نے کال کاٹ دی ۔مگر وقار کی باتیں ہتھوڑے کی طرح منیبہ کے دماغ پر برسنے لگیں۔
--------***--------***--------***
زینب بولی ۔یاسر کیوں کال کی ہے
یاسر ۔وہ مجھے منیبہ آپی سے بات کرنی ہے ان کا فون بند ہے تو سوچا تمہیں بولوں بات کروا دو ۔
زینب ۔ اس وقت شام کو وہ ٹھنڈ کی وجہ سےکمرے میں چلی جاتی ہیں اور پھر باہر نہیں نکلتیں ۔اور ان کے کمرے میں سگنل نہیں ہوتے ۔
یاسر ۔تم ان سے کہو تو ۔مجھے آج انہیں پمپ کرنا ہے ۔میں نے آج ان کا اور وقار کا جھگڑا کروانا ہے انہیں بتانا ہے کہ میں نے آج وقار کو کسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ گاڑی میں جاتے ہوئے دیکھا ہے
زینب بولی ۔چھوڑو یاسر منیبہ بھابھی کبھی یقین نہیں کریں گیں ۔
یاسر بولا تم جاؤ تو ۔
چارو ناچار زینب کو جانا پڑا ۔یاسر نے مرچ مثالہ لگا کے بتانا شروع کیا۔منیبہ اس کی بے تکی باتیں سن کر تنگ آکر بولی ۔دیکھو یاسر ان باتوں کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔وقار ڈرائیور ہیں اور جن کے ساتھ وہ کام کرتے ہیں ان کی بہو بیٹیوں کو آگے پیچھے لے کر جانا ان کا کام ہے۔میں سردی کی وجہ سے زیادہ دیر باہر کھڑی نہیں رہ سکتی۔
نہیں منیبہ باجی وہ ڈیٹ پہ تھا آپ میری بات سمجھیں میں جھوٹ نہیں بول رہا ۔یاسر بولا
دیکھو مجھے اس سے کوئی پریشانی نہیں جب وہ لوٹ کر آتا ہے تو میرے ہی پاس آتا ہے۔باقی میں تمہاری اوٹ پٹانگ حرکتوں سے باخوبی واقف ہوں ۔تم نے اگر جھگڑا بنوانا ہی ہے تو ایسا ہی ایک فون وقار کو کرو کہ آج میں نے منیبہ باجی کو بازار میں یا ہوٹل میں کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے ۔پھر دیکھنا فوری نتیجہ ملے گا بغیر تصدیق کے تینوں وہیں سے نہ دیں تو بولنا ۔یہ سوچے بغیر کہ میں جگر کے کینسر میں مبتلا ہوں ۔اور جس کو جان کے لالے پڑے ہوں اس کے لیے یہ سب بے معنی ہوتا ہے
یاسر حیرت اور شرمندگی کی ملی جلی کیفیت میں بولا تینوں کیا------- ؟
پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولا ۔طلاقیں---------؟
--------ہاں ۔اور منیبہ نے فون کاٹ دیا۔
منیبہ کو جگر کا کینسر تھا ابتدائی سٹیج پر ہی تشخیص ہو گئی تھی ۔ایک آپریشن ہو چکا تھا مگر منیبہ زندہ دلی سے جینا چاہتی تھی اسی لیے وہ زیادہ اس بارے میں دھیان نہ دیتی اور خود کو مصروف رکھتی ۔اسی وجہ سے ابھی تک اس کی خوبصورتی مانند نہیں پڑی تھی اور نہ ہی بیماری نے اس پر اپنی پر چھائی ڈالی تھی
اگر چہ مبینہ ٹھیک ہو چکی تھی مگر زندگی خوشی اور بے خوفی سے جینے کی بجائے ہر وقت موت کا خوف طاری رہتا تھا ۔کئی راتیں جاگ کر گزار دیتی کیونکہ اس کا ذہن اچانک موت کے لیے تیار نہ ہو رہا تھا ۔ایسے میں اگر وقار کی طرف سے پریشانی ملتی تو وہ اور زیادہ پریشان ہو جاتی تھی ۔مگر وقارکو تو منیبہ کے رنگ روپ کو لے کر اپنے شک کے علاوہ کسی چیز کی پرواہ ہی کب تھی ڈاکٹر بھی تو یہی بتا چکے تھے کہ اگر آپ خوش رہیں گی تو جہاں چند ماہ جینا ہے وہاں سالوں جی سکیں گی یہی وجہ تھی کہ اندر کے دکھ تو اگر چہ موجود تھے مگر وہ اپنے آپ کو ہنستے مسکراتے اورخوبصورت چہرے کو میک اپ سے مزین رکھتی صاف ستھر ے لباس میں ملبوس رہتی اِسطرح اُسے دیکھ کر اُ س کے چہرے اور جسامت سے اُ س کی بیماری کا تاثر کبھی نہ جھلک سکا۔ وہ خاموشی سے مرنا چاہتی تھی کیونکہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اگر کوئی بیمار ہو کر چارپائی لگ جائے تو کہا جاتا ہے اللہ کی طرف سے پڑی ہوئی ہے اب دیکھنا کیسے کُڑ کُڑ کر مرے گا اسی جہاں میں دے کر جائے گا اور منیبہ اپنے بارے میں یہ سب کچھ نہیں سننا چاہتی تھی ۔
ایسا کہنے والوں کو جب خود کو مصیبت آ گھیرتی ہے تو کہتے ہیں یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کیونکہ وہ تو ہمیشہ ہی اپنے پیاروں کو آزماتا ہے کبھی دے کر کبھی لے کر ۔
ہم نے بس اپنی مرضی اور اپنے مطلب کا اسلام بنا لیا ہے۔اپنے مطلب کے معنی نکال لیے ہیں۔
منیبہ دل کو بہلانا چاہتی تھی خوب گھومنا چاہتی تھی اپنے بچوں اور اپنے شوہر کے ساتھ ہر محفل میں جانا چاہتی تھی وہ اپنے بچے کچھے وقت کے ایک ایک لمحے کو یادگار بنانا چاہتی تھی مگر وقار اب بھی یہی چاہتا تھا کہ اس کے سوا منیبہ کو کوئی نہ دیکھے وہ اب بھی منیبہ کے رنگ و روپ میں کھویا رہتا تھا۔اسے کبھی بھی منیبہ کی بیماری ۔بدحالی اور حالت ِ زار پر ترس نہ آتا تھا وقار کو کبھی خیال نہ آیا کہ منیبہ اپنی زندگی جینا چاہتی ہے اپنے بچوں کو بڑھتے دیکھنا چاہتی ہے بچوں کی خوشیاں دیکھنا چاہتی ہے۔ اور میں اس کو جینے میں اسکی مدد کر سکتا ہوں منیبہ اکثر سوچتی تو غمزدہ ہو جاتی ۔کیا وقار میرے مرنے کے بعد دوسری شادی کر لے گاکیا میرے بچوں کا نصیب بھی میرے جیسا ہو گا کیا انہیں بھی سوتیلی ماں کے ظلم و ستم برداشت کرنے پڑیں گے۔نہیں ---------نہیں ------منیبہ تڑپ کر رہ جاتی۔
نہ خدایا نہ -----اے بزرگ و بالا تر تجھے واسطہ ہے تیری خدائی کا میرے بچوں کو ان کی ماں کے لیے کبھی نہ ترسانا۔۔جیسے کہ میں اور میرے بہن بھائی ترسے ۔انہیں سوتیلی ماں کے ظلم وستم سے بچانا ۔وہ اپنی دعا میںاپنے بچوں کو بھی شامل کر لیتی وہ بھی ہاتھ اٹھا لیتے۔منیبہ رو رو کر بولتی رہتی ۔یا اللہ میرے معصوم بچوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کی لاج رکھ لینا جو گناہوں سے پاک بہت ہی معصوم ہیں۔یا اللہ مجھے میری زندگی میرے لیے نہیں چاہیے بس میرے بچوں کی ماں لوٹا دے۔
مگر اب بیماری اور وقار کے شکی مزاج کو ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو رہا تھا ۔اسی لیے پریشانی میں اس نے دوائی لینی چھوڑ دی جس کی وجہ سے منیبہ کی طبعت بہت خراب ہو گئی ۔ اتوار کا دن تھا منیبہ نے ناشتے کے بعد واشنگ مشین لگا لی پھر برتن دھوئے اس کے بعد دن کا کھانا بنا یا۔مسلسل کام کرنے کی وجہ سے منیبہ کا جسم کانپنے لگا اور سانس اکھڑنے لگا
منیبہ دکھ اور غم کی کیفیت سے دو چار تقریباً گرنے ہی والی تھی کہ اچانک کسی کام کے سلسلے میں زینب کچن میں داخل ہوئی لڑھکھڑاتی ہوئی منیبہ کو سہارا دے کر اندر بیڈ پر لٹایا۔لحاف اوڑھا کر ہیٹر آن کیا اور وقار کو فون کر کے منیبہ کی طبیعت سے آگاہ کیا۔ وقار ایک دم پریشان ہو کر بولا اچھا میری بات کرواؤ منیبہ سے اس نے دوائی کیوں نہیں لی ۔زینب بولی ۔بھائی ابھی وہ آپ سے بات کرنے کی کنڈیشن میں نہیں ہیں ۔ وقار جانتا تھا کہ یہ منیبہ کا ردِ عمل ہے اس نے لازمی دوائی چھوڑ دی ہو گی ۔وقار نے ادھر فون بند کیا اور اپنی امی کو کال کی کہ جا کر منیبہ سے بولیں وہ دوائی لے ۔امی نے آکر منیبہ کی منت کی کہ وہ بہت پریشان ہے اٹھو اور دوائی لے لو ۔منیبہ نے ساس کو ٹالنے کے لیے کہ دیا میں نے دوائی لے لی ہے ۔تھوڑی دیر گزری تو وقار کی بڑی بہن آ گئی اور بولی مجھے وقار نے فون کیا ہے کہ ابھی منیبہ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو دوائی ہے کہ نہیں اگر نہیں ہے تو مجھے بتائے میں لے کر آؤں۔
سعدیہ باجی دوائی ہے میرے پاس۔
اچھا دکھاؤ کہاں ہے منیبہ نے کافی ٹالنے کی کوشش کی مگر سعدیہ آپی نے لپک کر دوائیاں اٹھا کر دیکھیں تو وہ تقریباً خالی تھیں۔ سعدیہ بولی ۔دیکھو منیبہ تمہاری حالت ایسی نہیں ہے کہ تم ضد بازی کرو ۔کسی کا کیا جانا ہے نقصان تو تمہارا ہی ہو گا سعدیہ نے جو بھی کہا منیبہ کو تیکھا ہی لگا دل میں سوچنے لگی بہن تو اسی کی ہے نا ۔بات تو ساری معلوم ہو گی پھر بھی بجائے اِس کے کہ اُس کو سمجھائے کہ یہ بلا وجہ کے شکوک و شبہات چھوڑ دو ۔ اب اس کی حالت ہے کہ وہ تمہاری ایسی اوٹ پٹانگ باتیں برداشت کرے ۔اونہہ۔
سعدیہ کے جانے کے بعد منیبہ کی بڑی بہن صنوبر کا فون آ گیا ۔ منیبہ نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے دھیرے سے بولی
اسلامُ علیکم ۔
صنوبر باجی نے جواب دیا وعلیکم سلام ۔کیسی ہو ؟
ٹھیک ہوں منیبہ ہر بات کی پردہ داری کرتے ہوئے بولی
تھوڑی دیر دونوں طرف خاموشی رہی شاید صنوبر باجی سمجھ نہ پا رہی تھیں کہ بات کہاں سے اور کیسے شروع کریں ۔لیکن منیبہ سمجھ رہی تھی کہ وقار نے ہی امی اور سعدیہ باجی کے بعد اب صنوبر باجی کو کال کی ہو گی کہ اس کو سمجھائیں کہ دوائی لے لے۔
صنوبر بولی ۔منیبہ ۔وقار کی کال کیوں نہیں اٹھا رہی اور اس سے بات کیوں نہیں کرتی ۔
آپ کو کس نے بتایا اور جس نے بھی بتایا کیا اس نے وجہ نہیں بتائی؟ منیبہ نے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال ہی کر ڈالا ۔
صنوبر بولی بتایا ہے ۔اسے اپنی غلطی کا احساس ہے اب معاف کر دو وہ بہت پریشان ہے تمہاری طبیعت کے حوالے سے اور بچوں کے حوالے سے بھی ۔دیکھو منیبہ خود کو اور اپنے بچوں کو سزا مت دو ۔
اسے یہ سمجھنا ہو گا کہ اگر وہ مجھے خوش نہیں رکھ سکتا تو دکھ بھی مت دے ۔میری جو زندگی ہے میں کھل کے جینا چاہتی ہوں اور وہ کیا کر رہا ہے رسمِ رسائی مِیں مَیں اسکے تمام بہن بھائیوں کے ساتھ گئی تو اسے گھٹیا طریقے سے بات کرنے کی کیا ضرورت تھی میں اگر اکیلی جاتی تو بھی غصہ کرتا .
صنوبر بولی ۔بیوقوف ہے دفع کرو ۔ عقل ہوتی تو ایسا کیوں کرتا۔
تو اب اسے کیا تکلیف ہے میں جیوں یا مروں۔
دیکھو منیبہ ۔تم اگر یہ کہو نا کہ تم اس کو بدل سکتی ہو وہ جو ہے وہی رہے گا خوا مخواہ خود کو تکلیف مت دو ۔
سکھ میں تو وہ بھی نہیں ہے تبھی تو ہر کسی کو کالز کر رہا ہے اسے بدلنا پڑے گا ورنہ میری موت کے بعد تو ضرور ہی بدل جائے گا ۔اچھا موجاں کرو دونوں۔جیسا وہ ویسی تم ۔کرو خود کشی ۔
جاری ہے
دکھوں کا حاصل
قسط نمبر 3
از روبینہ رضا
وقار کی بے چینی کا اندازہ مبینہ اچھی طرح لگا چکی تھی ۔صنوبر باجی وقار کا آخری حربہ تھا جو وہ آزما چکا تھا ۔جب اس کی بے چینی حد سے بڑھی تو اس نے اپنے صاحب سے بات کی۔سر میری بیوی سخت بیمار ہے اور بچے بہت چھوٹے ہیں اس کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے اور سب بہت پریشان ہیں اُس کی دوائی ادھر سے ہی لے کر جاتا ہوں
جمشید صاحب بولے تو آپ کو چھٹی چاہیے تم تو جانتے ہو یہاں بھی تمہارے بغیر کام نہیں چلتا۔
لہذا دو دن کافی ہیں؟
"جی سر مہربانی آپ کی -------"
وقار وہاں سے فوراً نکل آیا کیونکہ اسے گھر آنے سے پہلے ڈاکٹر سے منیبہ کی دوائی بھی لینی تھی
-------**--------***--------***
دروازے پر دستک ہوئی ہانیہ نے دروازہ کھولا ۔وقار نے اسے پیار کیا اور پھر منیبہ کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔وہاں تانیہ اور علی بھی موجود تھے ان کو پیار کیا اور بیگ سے برفی اور چاکلیٹ نکال کر بچوں کو دئیے ۔پھر منیبہ کی طرف بڑھا وہ آنکھیں موندیں وقار کے آنے سے بے خبری کا اظہار کرتے ہوئے بدستور لیٹی رہی ۔وقار نےاپنے دائیں ہاتھ کی پشت منیبہ کے ماتھے پر رکھ دی ۔منیبہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وقار نے منیبہ کے گال کھینچے۔
منیبہ دل میں تو بہت خوش ہوئی اور شرمائی مگر اپنی شرماہٹ اور خوشی کو اپنے چہرے سے عیاں نہ ہونے دیا۔وقار ہوٹل سے کھانا لے کر آیا تھا ۔نکالا اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ کھانا کھلایا ۔جبکہ منیبہ کو گرم دودھ کے ساتھ ڈبل روٹی کا پیس تھمایا۔ کھانا کھانے کے بعد منیبہ کو دوائی سمجھائی۔
منیبہ کی طبیعت اب گزشتہ دن سے قدر ے بہتر ہو چکی تھی مگر وقار کو آزمانے یا پھر شاید سزا کے طور پر بولی کہ آپ علیحدہ بیڈ پر سو جائیں میں تو اب علی کو بھی پاس نہیں سلاتی ۔لہذا مجھے ڈسٹرب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
وقار بولا تم پریشان مت ہو میں علیحدہ سو جاتا ہوں ۔وہ دوسرے بیڈ پر خاموشی سے لیٹ گیا یوں لگتا تھا کہ اسے تو منیبہ کا خوشی اور سکھ عزیز ہے ۔
منیبہ نے کہ تو دیا مگر اسے بھی کب نیند آنے والی تھی وقار کے بغیر ۔جب وہ نہیں ہوتا تھا تب تو اور بات تھی مگر جب اتنا پاس ہو کر بھی دور ہو تو ایسے میں نیند کا بھاگ جانا ایک فطری عمل تھا ۔وہ سوچ رہی تھی ابھی وقار آ جائے گا مجھے بلائے گا مگر جب وہ ایک گھنٹے تک ہلا جلا نہ ۔منیبہ کو خیال آیا یہ نہ ہو کہ وقار تو آرام سے سو جائے اور مجھے رات بھر اکیلے جاگنا پڑے ۔منیبہ بیڈ پر بیٹھ گئی بچے سو چکے تھے ۔اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے اپنے لیے گلاس میں پانی ڈال کر پینے لگی ۔اسی دوران اس نے کن اکھیوں سے وقار کو دیکھا تو وہ ابھی بھی بٹر بٹر آنکھیں کھولے دیھ رہا تھا۔ منیبہ کو تسلی ہو گئی کہ نیند تو وقار کو بھی نہیں آرہی ۔خود ہی آئے گا لہذا دوبارہ لحاف میں گھس گئی ۔وہ اپنی بیماری کے ہاتھوں بہت خوفزدہ تھی ۔ورنہ ابھی شادی کو سال ہی کتنے ہوئے تھے ۔جوانی میں بیماری نے گھیر لیا ورنہ جذبات تو اپنی جگہ جواں ہی تھے وہ مرنا نہیں ۔جینا چاہتی تھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک بھر پور زندگی ۔ وہ لحاف کے اندر منہ دے کر یہی سب کچھ سوچ رہی تھی ۔وہ سوچ رہی تھی کہ آخر مجھے نیند کیوں نہیں آرہی ۔میں تو وقار سے سخت غصہ تھی اور ناراض تھی تو اب وہ غصہ کافور کیوں ہو گیا اور میرے دل میں اس کو دیکھتے ہی محبت کے جذبات کیوں گھر کر رہے ہیں ۔
مجھے تو بیڈ پر لیٹتے ہی نیند آجاتی تھی مگر آج ڈیڑھ گھنٹہ ہونے کو ہے ۔
منیبہ نےآہستہ سا لحاف اٹھا کر گھڑی کی طرف دیکھا تو گیارہ بج رہے تھے ۔ پھر آہستہ سا اٹھ کر وقار کی طرف دیکھا تو وہ دوسری طرف کروٹ لے کر سو رہا تھا ۔منیبہ سمجھی کہ شاید وقار سو چکا ہے اسی لیے مدھم سی آواز میں پکارا۔----------- وقار-----
تو فوراً جواب آیا ۔ہوں
سو گئے ہو کیا--------؟
نہیں تو۔وقار نے اٹھتے ہوئے کہا
منیبہ شرماتے ہوئے بولی ۔مجھے نیند نہیں آرہی حالانکہ میں تو بستر میں لیٹتے ہی سو جاتی تھی
وقار سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی بولا تو پھر -------کیونکہ وہ منیبہ کے منہ سے سننا چاہتا تھا
وہ آپ میرے پاس بیڈ پر آ جاؤ ۔باتیں کرتے ہیں نیند تو ویسے بھی نہیں آرہی ۔مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آئے گی ۔جب میں سو جاؤں تو پھر آپ اپنے بیڈ پر چلے جانا۔
وقار فوراً جمپ لگا کر منیبہ کے پاس پہنچ گیا انھے کو کیا چاہیں دو آنکھیں ۔
تھوڑی دیر تک بات چیت کی کہ منیبہ کو نیند آنے لگی ۔اس ے سونے کے بعد وقار کو تو ابھی بھی نیند نہیں آرہی تھی ۔وقار کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ایک فائیل پر پڑی۔وقار اٹھ کر بیٹھ گیا ۔اور فائیل اٹھا کر اسے کھول کر دیکھا تو پہلے صحفے پر لکھا تھا ۔
"ڈھول کی دھمک ۔شہنائیوں کی گونج ۔بارود کی بو۔مسلسل فائرنگ ۔کہیں لڑکیوں کے کھلکھلاتے ہوئے قہقہے ۔تو کہیں بارود کی دیواریں ہلا دینے والی آواز پر شیر خوار بچوں کی چیخ و پکار ۔رنگ برنگی روشنیاں ۔میوزک کی گونج ۔ڈانس مقابلے ۔کیا کچھ نہ تھا ۔ہر طرف مستی ہی مستی چھائی ہوئی تھی ۔ کہ منیبہ کی نظر دولہے کی ماں پر پڑی۔ کس شانِ بے نیازی سے چلتی تھی ۔آخر دولہے کی ماں تھی ۔منیبہ نے اپنے بچے کو حسرت سے دیکھتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا مانگی ۔
یا اللہ ۔یہ خوشیوں بھرا وقت میرے نصیب میں بھی لکھ دے ۔مگر اگلے ہی لمحے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ۔اور خود سے مخاطب ہوئی ۔ارے منیبہ ۔کیوں خوابوں کے محل بناتی ہے -----؟ نہ کر ایسا -----ورنہ جاتے وقت بہت تکلیف ہو گی------مت بھول کہ تو ایک مہلک بیماری کی زد میں ہے -----اور دوائیوں کے بل بوتے پر زندگی گزار رہی ہو ۔"
منیبہ کی عادت تھی کہ وہ اکثر اپنے دل کی باتوں کو کہانی کی صورت میں کاغذ پر بکھیر دیتی تھی اور پھر چھپا دیتی تھی ۔یہ بات وقار کو معلوم تھی کیونکہ منیبہ اکثر تحریریں وقار کو پڑھواتی بھی تھی مگر اکثر چھپا بھی دیتی تھی آج چونکہ وقار بتائے بغیر اچانک آ گیا تو فائیل ٹیبل پر ہی رہ گئی اور اسے وہاں سے ہٹانا بھول گئی۔
وقار کے ہاتھ کانپنے لگے۔آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو لڑھکے جن کو اس نے اپنے ہاتھوں کے پوروں سے صاف کر دیا ۔ اس عہد کے ساتھ کہ میں آئندہ منیبہ کو کبھی تنگ نہیں کروں گا۔پھر فون پر منیبہ سے کہی گئی تمام باتیں وقار کو یاد آنیں لگیں ۔کہ اس نے منیبہ کے بار ے میں کس قدر غلط سوچا ۔
میں تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ منیبہ تیارہو کر گئی ہو گی وہاں کافی مرد ہوں گے ۔زمانہ اس قدر خراب ہے مگر منیبہ کے جذبات کے بارے میں تو سوچا ہی نہیں کہ اسے تو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں .یہ تو ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ مرد صرف اپنے زاویوں سے عورت کو دیکھتا ہے کہ اسےمیرے سوا کوئی اور نہ دیکھے ۔مگر اس کے دکھ اور کرب کو نہیں دیکھ پاتا۔لعنت ہے مجھ پر جو اپنی بیوی پر شک کیا ۔
جاری ہے
دکھوں کا حاصل
قسط نمبر 4
از روبینہ رضا
وقار نے فائیل بند کی اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔وقار منیبہ کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا ۔پھر بڑے پیار سے اس کے چہرے پر بکھری زلفوں کو پیچھے ہٹانے لگا تا کہ چہرے کو پوری طرح دیکھ سکے مبینہ کا چہرہ جمیل کے بہت قریب تھا اتنا قریب کہ اس کے سانسوں کی حدت سے منیبہ کی آنکھ کھل گئی اور وہ نیم وا اکھیوں سے وقار کو تکنے لگی ۔دونوں ایک دوسرے کی سانسوں کی تپش
اور دھڑکنوں کو واضح سن سکتے تھا ۔وقار بہت پیار سے منیبہ کے چہرے کو سہلاتے ہوئے بولا ۔منیبہ ۔ایک بات پوچھوں اتنی بڑی بیماری کے باوجود تم چہرے سے بلکل بیمار نہیں لگتی ہو اور بہت خوبصورت ہو ۔کہ میں تمہارے حسن میں یوں دیوانہ ہو جاتا ہوں کہ نجانے کیوں میں ایسا سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ تمہیں میرے علاوہ کوئی نہ دیکھے۔مجھے معاف کر دو ۔ جو میں نے تم سے شادی والے گھر جانے پر غصہ کیا
منیبہ جمیل کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولی ۔وقار ۔میں اس بات سے بہت خوفزدہ رہتی ہوں کہ میری بیماری کا عکس میرے چہرے پر کبھی نہ جھلملائے ۔اسی لیے میں استغفار کے ساتھ ساتھ یا نورُ کا ورد کرتی رہتی ہوں ۔اور میں یہ چاہتی ہوں کہ میری جو زندگی رہ گئی ہے اسے میں آرام اور سکون سے جیوں۔کچھ اپنی مرضی سے زندگی کو جیوں ۔مرنے سے پہلے کچھ کرنا چاہتی ہوں اور اس کے لیے آپ کی رضامندی اور آزادی کی ضرورت ہے ۔
وقار نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا ۔ بلکہ بولا میں تمہیں ایک نمبر دیتا ہوں تم ایک دفعہ ان سے بات کر لو میں جانتا ہوں تمہیں لکھنے کا شوق ہے ۔یہ نمبر ایک ایسی خاتون کا ہے جو ایک مشہور ماہنامے کی مینجنگ ایڈیٹر ہیں ۔منیبہ مسکرا کر وقار کے گلے لگ گئی۔
اگلی صبح دونوں پیار کے چشمے سے سر شار ہو کر بہت ہی اجلے اجلے ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھے نہ صرف ناشتہ کر رہے تھے ۔بلکہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ جیسے یہ زندگی کی نئی صبح ہو اور آج کے بعد کوئی دکھ ان کی زندگیوں کو نہیں چھو سکے گا منیبہ کا لہجہ جو بیماری کی وجہ سے چڑ چڑا اور کرخت ہو چکا تھا اب اس کے لہجے میں اظہارِ تشکر کے طور پر بہت ہی نرمی اور اپنائیت کا جذبہ موجزن تھا ۔
--------****--------****--------****
سات آٹھ دنوں کے دکھ ۔تکلیف اور کرب سے سے نکل کر منیبہ کے لیے آج کا دن کتنا خوشگوار تھا ۔منیبہ دل ہی دل میں بہت مسرور تھی اور خود پر فخر محسوس کر رہی تھی کہ کوئی ہے جو اس سے بے حد و بے حساب پیار کرتا ہے اس کا خیال رکھتا ہے ۔ وہ دن بھر ہواؤں میں اڑتی رہی ۔عورت ایسی ہی ہوتی ہے وہ اپنے زخم بہت جلد بھول جاتی ہے بس مرد پیار کے دو بول ۔بول کر رستے ہوئے زخموں پرذرا سی مرہم رکھ دے تو فوراً زخم بھرنے لگتے ہیں ۔اللہ تعالی نے عورت کے اندر بہت برداشت رکھی ہے ۔منیبہ بھول گئی کہ وہ زخم وہ تکلیف وہ کرب ان کا سبب بھی تو وقار ہی تھا ۔مگر وہ عورت جو اپنے شوہر کے ساتھ مرتے دم یعنی آخری سانس تک رہنا چاہتی ہو اس کا کردار یوں ہی ہوتا ہے ۔
اور وہ مرد بھی جو اپنے گھر کو توڑنا نہ چاہتے ہوں ان سے بھی اگر غلطی ہو جائے اور بیوی ناراض ہو جائے ۔اور غصے میں آ جائے تو اس کو انا کا مسلہ بنانے کی بجائے اس کو دئیے گئے زخموں پر اپنے پیار کا مرہم رکھتا ہے ۔ہاں البتہ یہ الگ بات ہے کہ چند دنوں بعدغیر ارادی طور پر انہوں نے کرنا پھر بھی وہی ہوتا ہے۔ جس کی معافی مانگ چکے ہوتے ہیں۔
----------*****-------*****--------
شام کو وقار ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ منیبہ بھی سبزی اٹھا کر وہیں آ کر بیٹھ گئی اور ٹی وی دیکھنےکے ساتھ ساتھ سبزی بنا رہی تھی کہ ٹی وی پر گانا لگ گیا
اتنی خوشی ملی ہے آج
لگتا ہے کہ میں ہوا میں ہوں
وقار گانے کے ساتھ منیبہ کو دیکھ کر خوشی سے یوں جھوم رہا تھا کہ منیبہ شرما سی گئی مگر پھر شرارت سےا نجانے میں بولی ۔ارے یہ آپ کس کے لیے جھوم رہے ہو ۔جہاں تک میرا خیال ہے کم از کم میرے لیے تو نہیں ۔ لیکن جب منیبہ نے وقار کو دیکھا تو اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ہوتی ہوئی اس کے دل میں پہنچ گئی ۔جہاں انجانی ہوائیاں چل رہی تھی ۔تبھی منیبہ چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ سجائے وقار کو اپنی نگاہوں کے مظبوط حصار میں جکڑ کر اپنے جواب کا انتظار کرنے لگی ۔
وقار منیبہ کی کیفیت اور موجودہ صورتحال سے غافل اپنے ہی خیالوں میں گم ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔
---------آآ--------ہا--------بس کچھ نہ پوچھو
کل راولپنڈی سے آتے ہوئےجب میں تمہاری دوائی لے کر پلٹا --------تو ------آہ -----ایک بہت ہی خوبصورت چہرے پر نظر پڑی ۔سبحان اللہ۔
منیبہ کے اندر یکدم ٹوٹ پھوٹ ہوئی مگر اس نےمعاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے خود کو بکھرنے سے بچا لیا اور خود کو مضبوط کرتے ہوئے ماحول کو مزید دوستانہ بناتے ہوئے جمیل کے پیچھے کھڑے ہو کر اس کے گلے میں اپنی باہیں ڈالتے ہوئے بڑے پیار سےبولی اچھا ------پھر------پوری تفصیل بتاؤ نا میری جان۔---------؟
دکھوں کا حاصل
قسط نمبر 5
ازروبینہ رضا
اچھا۔------پوری تفصیل بتاؤ نا ۔----کیا ہوا تھا-----اور خود اس لیے وقار کے پیچھے کھڑی تھی تاکہ وقار صرف اس کی مصنوعی ہنسی کی آواز سن سکے ۔اور اسکی آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی اور چہرے کے تاثرات کو نہ دیکھ سکے۔
منیبہ پہلے ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرتی تھی بلکہ اگر کوئی اس کو وقار کے خلاف بڑھاتا یا چڑھاتا تو اسے کہتی کہ وہ میرا ہے باہر جو مرضی کرے مگر جب لوٹے گا تو میرے ہی پاس آئے گا۔مگر اب وہ بیماری کی وجہ سے دن بدن حساس ہوتی جا رہی تھی ۔اور اب ایسی باتوں سے اس کا دل جلنے لگا تھا ۔
اسی لیے وقار بھی اکثر کھل کر بات کر لیتا تھا آج بھی وقار منیبہ کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ پکڑا کر اپنی عشقیہ داستان سنانے لگا۔
کل جب میں تمہاری دوائی لے کر کرسچن کالونی سے نکل رہا تھا تو سڑک کی دوسری طرف میرے ساتھ ساتھ دو خوبصورت لڑکیاں بھی چل رہی تھیں شاید کالج گرلز تھیں اچانک میری نظر ان پر پڑی تو ان میںآسے ایک میری طرف ہی دیکھ رہی تھی اس کے بال کھلے ہوئے تھے اور گورے گورے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ ۔-----ہائے خوب تھاکرشمہ--------
مگر مجھے دیکھتے ہی اس نے نزاکت سے چشمہ آنکھوں سے ہٹا کر بالوں پر رکھ لیا ۔
شرمین بولی ۔اچھا پھر -----؟
پھر میں اڈے کی طرف لے جانے والی ویگن کے پاس پہنچا تو وہی عینک والی لڑکی بھی اسی گاڑی میں سوار ہو گئی ۔ویگن فل بھر چکی تھی میں نے ڈرائیور کو اشارہ کیا کہ مجھے جلد اڈے پہ پہنچنا ہے ورنہ گاڑی نہیں ملے گی تو ڈرائیور نے میری پریشانی کو سمجھتے ہوئے گاڑی روک لی اور مجھے مشورہ دیا ۔ کہ تھوڑا سا ہی فاصلہ ہے تو آپ پھر لیڈیز سیٹ کے سامنے والی چھوٹی سیٹ جو بچوں کو بٹھانے یا سامان رکھنے کے لیے بنی ہوتی ہے اس پر بیٹھ جائیے ۔
منیبہ چونک کر بولی ۔اور تم بیٹھ گئے ۔اس کے سامنے ۔اس کی اور تمہاری ٹانگیں تو ---------
میرا مطلب ہے سیٹوں کے درمیان جگہ اتنی تنگ ہوتی ہے تو بڑے لوگ کس طرح----------ایک دوسرے کے سامنے کیسے ------؟
وقار تھوڑا سا دبکا مگر پھر سنبھل کر بولنے لگا ۔
نہیں نہیں ۔آمنے سامنے نہیں لیڈیز سیٹ پر تین خواتین اور ایک مرد جو ان کے سا تھ تھا وہی میرے سامنے بیٹھا تھا ۔
منیبہ جان گئی کہ وقار نے پانسہ پلٹا ہے پہلے تو کہانی میں کوئی مرد نہ تھا اچانک کہاں سے آ گیا
( اتنی ٹھنڈی آہیں ایسے ہی تو نہیں بھر رہے تھے)منیبہ دل ہی دل میں بڑ بڑائی ۔
پھر کیا ہوا-------- ؟
وقار بولا ۔پھر کنڈیکٹر نے پوچھا کہ بی بی جی آپ کہاں اتریں گی ۔تو وہ میری طرف بغور دیکھتے ہوئے باآواز بلند بولی ۔جیسے مجھے کچھ سمجھانا چاہتی ہو ۔"کھنا پور "
اچھا ۔پھر؟
پھر کنڈیکٹر نے مجھ سے پوچھا تو میں نےبولا
" سواں اڈہ۔"
تو معلوم نہیں اسے کیا ہوا اس نے اپنا ہاتھ ماتھے پر مار کر میری طرف دیکھ کر افسوس کا اظہار کرنے لگی ۔
تمہاری اسی سادگی کی وجہ سے تو میں تم پر بھروسہ کرتی ہوں منیبہ نے دل میں سوچا۔اور پھر وقار کو بتانے لگی
اس کا مطلب تھا کہ تم وہاں ہی اترو جہاں کا نام وہ لے رہی تھی ۔تم بھی وہی نام بولو اسی لیے اس نے باآواز بلند بولا ۔
اب کی بار وقار اپنے سر میں ہاتھ مارکر اپنی بے سمجھی پر افسوس کا اظہار کرنے لگا
جبکہ منیبہ کو وقارکا یہ رویہ بہت تکلیف دے رہا تھا مگر اس نے وقار پر کچھ ظاہر نہ ہونے دیا۔
اچھا پھر -----منیبہ نے بظاہر بھر پور دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا ۔
پھر کیا وہ اتر گئی اور میں نہیں اترا ۔اور اڈے پر آ گیا۔
دکھوں کا حاصل
قسط نمبر 6
از روبینہ رضا
اچھا ------یاد کرو کہ اس نے اترنے سے پہلے کوئی مخصوص اشارہ کیا ہو -----؟ منیبہ نے مزید کریدا
ہاں-----ہاں ------- بلکل ------وقارکچھ سوچتے ہوئے بڑبڑانے لگا۔
مجھے اپنا موبائل دکھا کر کچھ لکھنے کا اشارہ کرتی تھی ۔ معلوم نہیں کیوں؟ وقار حیران ہوتے ہوئے بولا
منیبہ بولی میں بتاؤں ؟ پھر وقار کے بولنے سے پہلے ہی خود ہی بتا دیا
موبائل نمبر مانگ رہی تھی ۔
وقار نے اپنے سر میں یوں زور سے ہاتھ مارا گویا اسے اس لڑکی کی بات نہ سمجھنے پر بہت افسوس ہو رہا ہو ۔ساری داستان سن کر منیبہ جو کہ اندر سے پک کر لاوا بن چکی تھی اور پھٹنے کے بلکل قریب ہی تھی وقار کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھوں کو چھڑاتے ہوئے وقار کے سامنے آ کھڑی ہوئی
وقارجو منیبہ کے جذبات سے ابھی تک بے خبر تھا اور یہ بھی بھول بیٹھا کہ وہ اپنی بیوی سے بات کر رہا ہے اسے یاد تھی تو صرف وہ لڑکی اور ابھی تک اسی کے خیالوں میں گم تھا یکدم روانی میں کہ بیٹھا۔
"کاش -------- کاش کہ آج مجھے اس کا نمبر مجھے مل جاتا تو تمہاری تو آج چھٹی ہی ہو جانی تھی "
اس کو کچھ یاد نہیں تھا کہ منیبہ بیماری کی وجہ سے چڑ چڑی ہو چکی ہے اور ایسی بات تو کوئی صیح سلامت لڑکی بھی برداشت نہیں کر سکتی ۔اور یہ بھی بھول گیا۔کہ ابھی آج ہی تومنیبہ پچھلی غلطی کی وجہ سے پورے دس دن کے بعد اٹھی تھی
منیبہ سوچ رہی تھی کہ کیسے وہ اپنے دو پل کے چکر میں اپنی بیوی ۔اپنی زند گی کی ساتھی ۔اپنے بچوں کی ماں۔ اس کے خوشگوار اور پر سکون لمحوں کی ساتھی۔ سب سے بڑھ کے ایک انسان اور اس کی بیماری کو بھول بیٹھا ۔یہی ہے ایک مرد کی حقیقت ۔ابھی آج سات آٹھ دن کی پرکھ کے بعد ہی مجھے احساس ہوا تھا کہ وقار مجھ سے بہت پیار کرتا ہے اور کس طرح میری ناراضگی پر تڑپتا رہا اور بے چین رہا۔
مگر اب آخری جملے نے جلتی ہوئی آگ پر تیل کا کام کیا ۔اور اب کوئی بھی بات مزید کہنے سننے کی ہمت نہیں تھی منیبہ میں ۔لہذا فوراً سبزی اٹھا کر کچن کی طرف چلی گئی ۔
وقار کی آواز بار بار منیبہ کے کانوں میں گونج کر قہر برسا رہی تھی ۔ہائے -----کاش ۔کاش ------نمبر مل جاتا-------تمہاری تو آج چھٹی ہی ہو جانی تھی -
منیبہ نے اپنی طاقت کو اکھٹا کیا اور وقار کے پاس جا پہنچی اب اس کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ نہ تھی ۔بلکہ کرب اور غصہ تھا۔وہ وقار کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ۔وقار منیبہ کو دیکھ کر مسکرایا ۔منیبہ کو وقار کی مسکراہٹ بہت ہی نحوست زدہ لگ رہی تھی تبھی وہ کرخت آواز میں بولی ۔عورت کو ایک بے جان کھلونا سمجھتے ہو اس کےکوئی جذبات نہیں ہیں جب چاہو گے کھیلا لو گے ۔ہنسا لو گے ۔رولا لو گے پھر ہنسا لو گے ------ہوں -----بولو -----وہ جس کا نمبر نہ ملنے پر تم افسوس کر رہے ہو کیا سمجھتے ہو اسے ۔----ہاں ---------؟
وہ کوئی شریف زادی یا کالج گرل نہیں تھی بلکہ شکاری کتیا تھی جو سڑکوں پر اپنا شکار تاڑ رہی تھی ۔وہ صرف کالج گرل کا روپ دھارے ہوئے تھی تاکہ تم جیسے دل پھینک مردوں کو شکار کر سکے ۔اور سنو مسٹر ۔تم کوئی شہزادہ سلیم تو ہو نہیں جو وہ تم پر دیکھتے ہی فریفتہ ہو گئی مزید برآں اس نے آپ کی عقلِ سلیم کا نظارہ بھی پا ہی لیا ہو گا ۔جو اس کی بے پناہ محنت کے باوجود آپ اس کا ایک اشارہ تک تو سمجھ نہ پائے ۔ اونہہ۔
مگر اب میں کہتی ہوں کہ کاش-----کاش----- تم اس عورت کے ساتھ ایک بار چلے جاتے ۔پھر وہ تمہیں نانی ضرور یاد کرواتی۔تم اپنی مرضی سے اپنی ٹانگوں پر چل کر جاتے تو ضرور مگر وہ تمہیں جہاں لے کر جاتی وہاں اس کے ساتھی پہلے سے ہی موجود ہوتے جو پہلے تمہاری جیبیں صاف کرتے ۔تم بھول گئے ہو کہ مہینے کی شروعات ہے اور ایسے میں تمام ملازمت پیشہ لوگ ابتدائی تاریخوں میں تنخواہیں لے کر گھروں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ اور بعد میں تمہارے احتجاج پر تمہاری وہ حالت کرتے کہ تم گھر تو دور اڈے تک بھی نہ پہنچ پاتے ۔
Showing posts with label Robeena Raza. Show all posts
Showing posts with label Robeena Raza. Show all posts
Sunday, December 2, 2018
Friday, November 9, 2018
Novel barshon sy dosti
ناول روبینہ رضا
http://novelskhazana.blogspot.com
Robeena Raza is a famous writer.she write many novels and afsanas in digests.
/https://drive.google.com/file/d/1wFHrKPG9FwiOgqVwaHREQv4bDzlXCvmX/view?usp=drivesdk
![]() |
| بارشوں کے بعد |
http://novelskhazana.blogspot.com
Robeena Raza is a famous writer.she write many novels and afsanas in digests.
/https://drive.google.com/file/d/1wFHrKPG9FwiOgqVwaHREQv4bDzlXCvmX/view?usp=drivesdk
Thursday, November 8, 2018
بارشوں سے دو ستی قسط 1
http://novelskhazana.blogspot.com/
دکھوں کا حاصل کسی وجہ سے روک دی ہے اس کو دوبارہ شروع کروں گی (بارشوں سے دوستی) کے ختم ہونے پر اسے دوبارہ شروع کروں گی ۔سوری
بارشوں سے دوستی
روبینہ رضا
قسط نمبر 1
روبینہ رضا
قسط نمبر 1
وہ جو ہمیشہ تیز ہواؤں۔ اڑتے گرتے پتوں۔ ہوا کے تھپیڑوں سے ۔کالی گھٹاؤں سے۔بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج سے ہمیشہ خوفزدہ رہتی تھی نجانے آج کیا ہوا کہ جیسے ہی برسات کی ہوائیں چلیں اسنے اپنے وجود میں ایک دل لبھا دینے والی سر سراہٹ محسوس کی۔ اس نے سر سبز لان میں اپنے سامنے میز پر چائے کا کپ رکھ کر سر اٹھا کر آسمان کی طرف نگاہ دوڑائی پھر آنکھیں بند کر کے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کو اپنے چہرے پر یوں محسوس کیا جیسے وہ اس جھونکے کی ساری ٹھنڈک اور تازگی اپنے اندر سمو لینا چاہتی ہو۔
پھر آنکھیں کھول کر ایک خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ اپنا موبائل میز پر سے اٹھایا اور بیگ میں رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ٹائٹ پینٹ کے اوپر ٹائٹ پنک شرٹ کو نفاست کے ساتھ نیچے کی طرف کھینچااورکی چین انگلی میں گھماتی ہوئی بیگ خوبصورتی سے کندھے پر لٹکائے کار کے پاس جا کھڑی ہوئی۔چند لمحوں کے توقف کے بعد اس نے دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ کر کار سٹارٹ کی اور چوکیدار کے گیٹ کھولتے ہی باہر نکل گئی
-------***----- --***-------***
سفید کاٹن کا سوٹ پہنے فائل ہاتھ میں تھامے عیان انٹرویو کے لیے جا رہا تھا کہ اچانک پاس سے ایک تیز رفتار گاڑی پانی سے بھرے گڑھے میں سے کیچڑ اڑاتی دور نکل گئی
عیان نے سخت غصے کے عالم میں ایک نگاہ خود پر ڈالی اور پھر اس گاڑی والے کوکوسنے لگا۔وہ انٹرویو کے بارے میں سوچ کر مزید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہو گیا ۔اس نے جھٹ سے کلائی موڑ کر وقت دیکھا انٹرویو میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا وہ ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ اب کیا کرے کا کہ گاڑی ریورس ہو کر اس کے سامنے آ رکی۔کھڑکی کا شیشہ آہستگی سے نیچےکی طرف سرک رہا تھا۔گاڑی میں اونچی آوازمیں بجتے ہوئے میوزک کو کومل نے آف کیا اور دھیمے لہجے میں شرمندہ ہوتے ہوئے بولی
"آئی ایم سوری "
عیان غصے سے بھڑکتے ہوئے طنزیہ اندازمیں بولا۔ واٹ۔سوری؟ محترمہ میں جاب کے لیے انٹر ویو دینے جا رہا تھا۔میری حالت جو آپ کی مہربانی سے ہو چکی ہے آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے کوئی جاب دے گا مجھے تو کوئی اندر بھی نہیں گھسنے دے گا۔
کومل جو کہ عیان کے کیچڑ سے آلودہ چہرے کے پیچھے اس کی خوبصورتی اور مردانہ وجاہت کو پہچان چکی تھی اور دل ہی دل میں اس کی شخصیت سے متاثر ہو رہی تھی ۔آہستگی سے بولی ۔"ہاں ۔کیوں نہیں۔"
عیان کومل کی بات کو نہ سمجھتے ہوئے حیرت سے سوالیہ انداز میں بولا ۔
"کیا؟ہاں کیوں نہیں"
کومل ہڑ بڑا کر بولی ۔" کچھ نہیں میرا مطلب ہے ۔کہ آپ کا گھر یہاں سے کتنا دور ہے اور انٹرویو میں کتنا وقت باقی ہے ۔
وہ بولا ۔ایک گھنٹہ باقی ہے اور گھر تھوڑے ہی فاصلے پر ہے
آپ فکر مت کریں اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں۔
کومل نے جواب دیا اور دوسری طرف کا فرنٹ گیٹ کھول کر گاڑی سٹارٹ کر دی
بادل اس قدر جھک چکے تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہا تھا عیان ابھی سوچ بچار میں ہی کھڑا تھا کہ زور دار بجلی چمکی اور اسے کومل کی خوفزدہ سی چیخ سنائی دی بیٹھیے بھی۔عیان فوراً بیٹھ گیا ۔اور عیان کی رہنمائی میں کومل گاڑی کو چلاتی رہی ۔موسلا دھار بارش شروع ہو چکی تھی ساتھ ساتھ دھند بھی بہت گہری ہو گئی ۔تبھی عیان نے گاڑی روکنے کو بولا ۔شاید اس کا گھر آ چکا تھا مگر تیز بارش کی وجہ سے گاڑی سے نیچے اترنے میں کافی دقت یا جھجھک کا سامنا تھا ۔تھوڑے توقف کے بعد عیان بولا نجانے یہ بارش کب رکے ۔لگتا ہے ساون کو بھی آج کے آج ہی سارا برسنا ہے ۔کومل بولی میں یہاں گاڑی میں آپ کا انتظار کرتی ہوں اور آپ چینج کر کے آ جاؤ ۔ مگر وہ کافی خوفزدہ دکھائی دے رہی تھی کیونکہ اسے تیز بارش اور کالے بادلوں سے بہت ڈر لگتا تھا ۔
عیان بولا ۔آپ بھی میرے ساتھ اندر چلیں یہاں اکیلی کیسے رہیں گی ۔ویسے بھی موسم بہت طوفانی ہو رہا ہے نا۔
کومل نے نظر بھر کر عیان کے چہرے کو دیکھا جہاں سادگی اور پاکیزگی تھی۔اتنی معصومیت سے کی گئی۔درخواست کو کومل رد نہ کر سکی۔
پھر آنکھیں کھول کر ایک خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ اپنا موبائل میز پر سے اٹھایا اور بیگ میں رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ٹائٹ پینٹ کے اوپر ٹائٹ پنک شرٹ کو نفاست کے ساتھ نیچے کی طرف کھینچااورکی چین انگلی میں گھماتی ہوئی بیگ خوبصورتی سے کندھے پر لٹکائے کار کے پاس جا کھڑی ہوئی۔چند لمحوں کے توقف کے بعد اس نے دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ کر کار سٹارٹ کی اور چوکیدار کے گیٹ کھولتے ہی باہر نکل گئی
-------***-----
سفید کاٹن کا سوٹ پہنے فائل ہاتھ میں تھامے عیان انٹرویو کے لیے جا رہا تھا کہ اچانک پاس سے ایک تیز رفتار گاڑی پانی سے بھرے گڑھے میں سے کیچڑ اڑاتی دور نکل گئی
عیان نے سخت غصے کے عالم میں ایک نگاہ خود پر ڈالی اور پھر اس گاڑی والے کوکوسنے لگا۔وہ انٹرویو کے بارے میں سوچ کر مزید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہو گیا ۔اس نے جھٹ سے کلائی موڑ کر وقت دیکھا انٹرویو میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا وہ ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ اب کیا کرے کا کہ گاڑی ریورس ہو کر اس کے سامنے آ رکی۔کھڑکی کا شیشہ آہستگی سے نیچےکی طرف سرک رہا تھا۔گاڑی میں اونچی آوازمیں بجتے ہوئے میوزک کو کومل نے آف کیا اور دھیمے لہجے میں شرمندہ ہوتے ہوئے بولی
"آئی ایم سوری "
عیان غصے سے بھڑکتے ہوئے طنزیہ اندازمیں بولا۔ واٹ۔سوری؟ محترمہ میں جاب کے لیے انٹر ویو دینے جا رہا تھا۔میری حالت جو آپ کی مہربانی سے ہو چکی ہے آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے کوئی جاب دے گا مجھے تو کوئی اندر بھی نہیں گھسنے دے گا۔
کومل جو کہ عیان کے کیچڑ سے آلودہ چہرے کے پیچھے اس کی خوبصورتی اور مردانہ وجاہت کو پہچان چکی تھی اور دل ہی دل میں اس کی شخصیت سے متاثر ہو رہی تھی ۔آہستگی سے بولی ۔"ہاں ۔کیوں نہیں۔"
عیان کومل کی بات کو نہ سمجھتے ہوئے حیرت سے سوالیہ انداز میں بولا ۔
"کیا؟ہاں کیوں نہیں"
کومل ہڑ بڑا کر بولی ۔" کچھ نہیں میرا مطلب ہے ۔کہ آپ کا گھر یہاں سے کتنا دور ہے اور انٹرویو میں کتنا وقت باقی ہے ۔
وہ بولا ۔ایک گھنٹہ باقی ہے اور گھر تھوڑے ہی فاصلے پر ہے
آپ فکر مت کریں اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں۔
کومل نے جواب دیا اور دوسری طرف کا فرنٹ گیٹ کھول کر گاڑی سٹارٹ کر دی
بادل اس قدر جھک چکے تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہا تھا عیان ابھی سوچ بچار میں ہی کھڑا تھا کہ زور دار بجلی چمکی اور اسے کومل کی خوفزدہ سی چیخ سنائی دی بیٹھیے بھی۔عیان فوراً بیٹھ گیا ۔اور عیان کی رہنمائی میں کومل گاڑی کو چلاتی رہی ۔موسلا دھار بارش شروع ہو چکی تھی ساتھ ساتھ دھند بھی بہت گہری ہو گئی ۔تبھی عیان نے گاڑی روکنے کو بولا ۔شاید اس کا گھر آ چکا تھا مگر تیز بارش کی وجہ سے گاڑی سے نیچے اترنے میں کافی دقت یا جھجھک کا سامنا تھا ۔تھوڑے توقف کے بعد عیان بولا نجانے یہ بارش کب رکے ۔لگتا ہے ساون کو بھی آج کے آج ہی سارا برسنا ہے ۔کومل بولی میں یہاں گاڑی میں آپ کا انتظار کرتی ہوں اور آپ چینج کر کے آ جاؤ ۔ مگر وہ کافی خوفزدہ دکھائی دے رہی تھی کیونکہ اسے تیز بارش اور کالے بادلوں سے بہت ڈر لگتا تھا ۔
عیان بولا ۔آپ بھی میرے ساتھ اندر چلیں یہاں اکیلی کیسے رہیں گی ۔ویسے بھی موسم بہت طوفانی ہو رہا ہے نا۔
کومل نے نظر بھر کر عیان کے چہرے کو دیکھا جہاں سادگی اور پاکیزگی تھی۔اتنی معصومیت سے کی گئی۔درخواست کو کومل رد نہ کر سکی۔
Saturday, August 11, 2018
کٹھن راہیں قسط 2
کٹھن راہیں
مرکزی کردارکاشان۔ سویرا
۔ازروبینہ رضا قسط نمبر 2
ویسےتو کاشان پر نجمہ خالہ کے گھر آنے جانے پر کوئی پابندینہ تھی بلکہ وہ تو اکثر دونوں کو بیٹھنے کا موقع دیتی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ دونوں ایک دوسرے کے مزاج کوجان لیں کیونکہ وہ دونوں کی شادی کروانا چاہتی تھیںمگر یوں اس طرح اچانک سویرا کے کمرے میں کاشان کو دیکھ کر سخت برہم ہونے کا بھر پور امکان تھا۔ دونوں کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے.کاشان جلدی سے دروازے کے پیچھے پردے کی اوٹ میں ہو گیانجمہ بیگم اندر آئیں اور بولیںارے سویرا تو ابھی تک نہا رہی ہے بھلا کوئی اتنی دیر لگاتا ہے کیا؟سویرا تھوڑی دیر تک تو بول ہی نہ پائی آواز حلق میں ہی دب گئی مگر پھر ہمت کر کے بولی بس امی نہا چکی ۔آرہی ہوںجلدی نیچے آؤ۔ اور کچن میں میری مدد کرو۔کہتے ہوئے نجمہ بیگم چلی گئیں۔سویرا شاکنگ پنک کلر کے ڈریس میں جب باتھ روم سے باہر نکلی تو خود بھی شبنم سے دھلے گلاب کے پھول کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔اس نے کمرے کا جائزہ لیا وہ یہ سوچ کر اور بھی گلابی ہو رہی تھی کہ کاشان نے اس کو کس روپ میں دیکھ لیا ہے کہ اچانک اس کی نظر دروازے کے پیچھےہلتے ہوئے پردے پر پڑی جس کے نیچے کاشان کے پاؤں جوتوں سمیت دکھائی دے رہے تھے۔اس نے آگے بڑھ کر پردہ ہٹایا تو کاشان نے جھٹ سے اس کی نازک کلائی مضبوطی سے پکڑ لی۔اور ٹکر ٹکر اس کو دیکھنے لگا سویرا بھی اس کے سحر میں جکڑی چلی جا رہی تھی کہ نجمہ بیگم کی آوازنے ایسا جادو کیا کہ جھٹ پٹ بازو چھوڑ کر دوبارہ پردے کی اوٹ میں ہو لیا۔مگر اس دفعہ آواز نیچے کی منزلسے ہی دی گئی تھی سویرا بلند آواز میں بولی امی کنگھی کر کے آتی ہوں ۔اور پردہ ہٹا کر کاشان کو تنبہیہ کرتے ہوئے بولی میں کچن میں جا کر امی کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتی ہوں تم فوراً نکلنے کی کوشش کرو۔اور جلدی جلدی برش کر کے دوپٹہ سر پر لیتی نکل گئی------*****-------*****شرمین اور اس کی بہن صدیقہ احسن اور اسکا بھائی ریحان۔اسی طرح طرح کھٹ مکھٹ میں رات دن گزرتے رہے شرمین چارو نچار گزارہ کرتی رہی کہ بیٹیوں کی عزت اسی میں ہے کہ وہ شادی کے بعد جو ان کا نصیب ہو اسی میں سمجھوتا کر کے جیناسیکھ لیں۔کہ دو سال کے بعد اللہ تعالی نے اسے ایک اور خوبصورت بیٹی سے نوازا۔بچی آپریشن سے پیدا ہوئی اسی غرض سے شرمین کی چھوٹی بہن صدیقہ کچھ دنوں کے لیے اس کی اور بچی کی دیکھ بھالکے لیے آئی۔احسن اور شرمین نے فیصلہ کیا کہ صدیقہ دو تین ماہ تک ادھر ہی رہے گی۔انہی دنوں شرمین کا چھوٹا دیور بھتیجی کی پیدائش پر گھرآیا تو ساتھ بھتیجیوں کے لیے کھلونے بھی لے کر آیا۔ریحان نے نجمہ بیگم کو کھلونے دکھائے تو مندہ سا منہ بناکر بولیں ہاں ٹھیک ہی ہیں ۔کیا ضرورت تھی وہ ابھی کھیلنے لائق تو ہو جائیںامی بھتیجیاں ہیں ہماری ۔ریحان پیار سے بولانجمہ بولی ۔آہ ۔بڑی ہو کر ماں پر ہی جائیں گی ۔کیوں کیا کیا اس نے؟کرنا کیا ہے نواب زادی نے سارا دن بیڈ توڑتی ہے اب خدمت کو بہن آ گئی ہے ۔ہر وقت میرے بیٹے سے لڑتی رہتی ہے اس کی توزندگی حرام کی ہوئی ہے ۔تیری بہن بچاری کام کرواتی ہے مجھے۔ریحان کے تیور بدلنے لگےاسکی تر بیت ہی نجمہ بیگم نے ایسی کی تھی کہ وہ ایک جذباتی آدمی بن گیا تھا اب وہ بات بات پہ مرنے مارنے کو تل جاتا۔بچپن سے ہی ماں نے خوب خوراکیں کھلائیں اور نجمہ بیگم اس کو دادی ۔پھوپھیوں ۔چچا اور خاندان کے دیگر افراد کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی تھیں ۔حتہ کہ بچپن میں پیسے دے کر کہتی تھیں کہ جاؤ باپ کے پیچھے جاسوسی کر کے آؤ کہ وہ کہاں جاتا ہے کیا کرے گا۔اگر چہ ریحان پڑھ لکھ چکا تھا مگر تربیت کا رنگ اس پر ایسا چڑھا کہ اب اترنا مشکل تھا اس کے جذبات اس کا غصہ اس کی سوچ نہ صرف منفی ہو چکے تھے بلکہ اس کے کنٹرول میں بھی نہیں تھے ۔وہ چھوٹی سی بات پر تباہی اٹھا دیتا اور بعد میں اس کو کبھی پچھتانا بھی پڑتا مگر ڈھٹیائی کا مظاہرہ کرتا۔وہ شرمین کے کمرے میں بھتیجیوں سے ملنے آیا تو کمرے میں صدیقہ بھی موجود تھی ۔صدیقہ بہت ہی معصوم اور سگھڑ لڑکی تھی ایف اے کے بعد امی کی بیماری کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔صدیقہ پہلی دفعہ گھر سے نکل کر کہیں آئی تھیجبکہ ریحان بھی خوبصورت شکل و شباہت کا نوجوان تھا بینک میں جاب کرتا تھا۔ریحان اب اکثر بھا بھی کے کمرے میں آنے جانے لگا تھا۔ وہ صدیقہ کو چاہنے لگا اور صدیقہ بھی دل ہی دل میں اس کو پسند کرنے لگیریحان کی ایک ماہ کی چھٹی تھی ایک دن ریحان نےصدیقہ کو گیٹ سے نکلتےہوئے ایک پرچی دکھائی اور پھر اسے زمین پر رکھ کر اس کے اوپر ایک اینٹ رکھی اور خود باہر نکل گیا۔اسکے جانے کے بعد صدیقہ نے وہ پرچی اٹھا کر بغل میں دبائی اور کمرے کا دروازہ بند کر کے پڑھنے لگی ۔اس پرچی میں محبت کا اظہار تھا اور ریحان کا فون نمبر بھی ۔مزید یہ لکھا تھا کہ میں تم سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں۔ کچھ دنوں بعد ہماری پھوپھو کے بیٹے کی شادی ہے فون پاس ہی رکھنا اور میری بتائی ہوئی جگہ پر آ جانا۔یوں شادی کے رش میں کسی کو تمہارے غائب ہونے کی کسی کو خبر بھی نہیں ہو گی۔صدیقہ بھی یہ سب پڑھ کر شرما سی گئی اس نے بھی سپنے بننے شروع کر دیئے کہ چلو دونوں بہنیں ایک ہی گھر میںہوں گی ایک دوسرے کے دکھ درد کی ساتھی ہوں گی
مرکزی کردارکاشان۔ سویرا
۔ازروبینہ رضا قسط نمبر 2
ویسےتو کاشان پر نجمہ خالہ کے گھر آنے جانے پر کوئی پابندینہ تھی بلکہ وہ تو اکثر دونوں کو بیٹھنے کا موقع دیتی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ دونوں ایک دوسرے کے مزاج کوجان لیں کیونکہ وہ دونوں کی شادی کروانا چاہتی تھیںمگر یوں اس طرح اچانک سویرا کے کمرے میں کاشان کو دیکھ کر سخت برہم ہونے کا بھر پور امکان تھا۔ دونوں کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے.کاشان جلدی سے دروازے کے پیچھے پردے کی اوٹ میں ہو گیانجمہ بیگم اندر آئیں اور بولیںارے سویرا تو ابھی تک نہا رہی ہے بھلا کوئی اتنی دیر لگاتا ہے کیا؟سویرا تھوڑی دیر تک تو بول ہی نہ پائی آواز حلق میں ہی دب گئی مگر پھر ہمت کر کے بولی بس امی نہا چکی ۔آرہی ہوںجلدی نیچے آؤ۔ اور کچن میں میری مدد کرو۔کہتے ہوئے نجمہ بیگم چلی گئیں۔سویرا شاکنگ پنک کلر کے ڈریس میں جب باتھ روم سے باہر نکلی تو خود بھی شبنم سے دھلے گلاب کے پھول کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔اس نے کمرے کا جائزہ لیا وہ یہ سوچ کر اور بھی گلابی ہو رہی تھی کہ کاشان نے اس کو کس روپ میں دیکھ لیا ہے کہ اچانک اس کی نظر دروازے کے پیچھےہلتے ہوئے پردے پر پڑی جس کے نیچے کاشان کے پاؤں جوتوں سمیت دکھائی دے رہے تھے۔اس نے آگے بڑھ کر پردہ ہٹایا تو کاشان نے جھٹ سے اس کی نازک کلائی مضبوطی سے پکڑ لی۔اور ٹکر ٹکر اس کو دیکھنے لگا سویرا بھی اس کے سحر میں جکڑی چلی جا رہی تھی کہ نجمہ بیگم کی آوازنے ایسا جادو کیا کہ جھٹ پٹ بازو چھوڑ کر دوبارہ پردے کی اوٹ میں ہو لیا۔مگر اس دفعہ آواز نیچے کی منزلسے ہی دی گئی تھی سویرا بلند آواز میں بولی امی کنگھی کر کے آتی ہوں ۔اور پردہ ہٹا کر کاشان کو تنبہیہ کرتے ہوئے بولی میں کچن میں جا کر امی کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتی ہوں تم فوراً نکلنے کی کوشش کرو۔اور جلدی جلدی برش کر کے دوپٹہ سر پر لیتی نکل گئی------*****-------*****شرمین اور اس کی بہن صدیقہ احسن اور اسکا بھائی ریحان۔اسی طرح طرح کھٹ مکھٹ میں رات دن گزرتے رہے شرمین چارو نچار گزارہ کرتی رہی کہ بیٹیوں کی عزت اسی میں ہے کہ وہ شادی کے بعد جو ان کا نصیب ہو اسی میں سمجھوتا کر کے جیناسیکھ لیں۔کہ دو سال کے بعد اللہ تعالی نے اسے ایک اور خوبصورت بیٹی سے نوازا۔بچی آپریشن سے پیدا ہوئی اسی غرض سے شرمین کی چھوٹی بہن صدیقہ کچھ دنوں کے لیے اس کی اور بچی کی دیکھ بھالکے لیے آئی۔احسن اور شرمین نے فیصلہ کیا کہ صدیقہ دو تین ماہ تک ادھر ہی رہے گی۔انہی دنوں شرمین کا چھوٹا دیور بھتیجی کی پیدائش پر گھرآیا تو ساتھ بھتیجیوں کے لیے کھلونے بھی لے کر آیا۔ریحان نے نجمہ بیگم کو کھلونے دکھائے تو مندہ سا منہ بناکر بولیں ہاں ٹھیک ہی ہیں ۔کیا ضرورت تھی وہ ابھی کھیلنے لائق تو ہو جائیںامی بھتیجیاں ہیں ہماری ۔ریحان پیار سے بولانجمہ بولی ۔آہ ۔بڑی ہو کر ماں پر ہی جائیں گی ۔کیوں کیا کیا اس نے؟کرنا کیا ہے نواب زادی نے سارا دن بیڈ توڑتی ہے اب خدمت کو بہن آ گئی ہے ۔ہر وقت میرے بیٹے سے لڑتی رہتی ہے اس کی توزندگی حرام کی ہوئی ہے ۔تیری بہن بچاری کام کرواتی ہے مجھے۔ریحان کے تیور بدلنے لگےاسکی تر بیت ہی نجمہ بیگم نے ایسی کی تھی کہ وہ ایک جذباتی آدمی بن گیا تھا اب وہ بات بات پہ مرنے مارنے کو تل جاتا۔بچپن سے ہی ماں نے خوب خوراکیں کھلائیں اور نجمہ بیگم اس کو دادی ۔پھوپھیوں ۔چچا اور خاندان کے دیگر افراد کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی تھیں ۔حتہ کہ بچپن میں پیسے دے کر کہتی تھیں کہ جاؤ باپ کے پیچھے جاسوسی کر کے آؤ کہ وہ کہاں جاتا ہے کیا کرے گا۔اگر چہ ریحان پڑھ لکھ چکا تھا مگر تربیت کا رنگ اس پر ایسا چڑھا کہ اب اترنا مشکل تھا اس کے جذبات اس کا غصہ اس کی سوچ نہ صرف منفی ہو چکے تھے بلکہ اس کے کنٹرول میں بھی نہیں تھے ۔وہ چھوٹی سی بات پر تباہی اٹھا دیتا اور بعد میں اس کو کبھی پچھتانا بھی پڑتا مگر ڈھٹیائی کا مظاہرہ کرتا۔وہ شرمین کے کمرے میں بھتیجیوں سے ملنے آیا تو کمرے میں صدیقہ بھی موجود تھی ۔صدیقہ بہت ہی معصوم اور سگھڑ لڑکی تھی ایف اے کے بعد امی کی بیماری کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔صدیقہ پہلی دفعہ گھر سے نکل کر کہیں آئی تھیجبکہ ریحان بھی خوبصورت شکل و شباہت کا نوجوان تھا بینک میں جاب کرتا تھا۔ریحان اب اکثر بھا بھی کے کمرے میں آنے جانے لگا تھا۔ وہ صدیقہ کو چاہنے لگا اور صدیقہ بھی دل ہی دل میں اس کو پسند کرنے لگیریحان کی ایک ماہ کی چھٹی تھی ایک دن ریحان نےصدیقہ کو گیٹ سے نکلتےہوئے ایک پرچی دکھائی اور پھر اسے زمین پر رکھ کر اس کے اوپر ایک اینٹ رکھی اور خود باہر نکل گیا۔اسکے جانے کے بعد صدیقہ نے وہ پرچی اٹھا کر بغل میں دبائی اور کمرے کا دروازہ بند کر کے پڑھنے لگی ۔اس پرچی میں محبت کا اظہار تھا اور ریحان کا فون نمبر بھی ۔مزید یہ لکھا تھا کہ میں تم سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں۔ کچھ دنوں بعد ہماری پھوپھو کے بیٹے کی شادی ہے فون پاس ہی رکھنا اور میری بتائی ہوئی جگہ پر آ جانا۔یوں شادی کے رش میں کسی کو تمہارے غائب ہونے کی کسی کو خبر بھی نہیں ہو گی۔صدیقہ بھی یہ سب پڑھ کر شرما سی گئی اس نے بھی سپنے بننے شروع کر دیئے کہ چلو دونوں بہنیں ایک ہی گھر میںہوں گی ایک دوسرے کے دکھ درد کی ساتھی ہوں گی
Thursday, August 2, 2018
Monday, July 30, 2018
Sunday, July 22, 2018
Saturday, July 21, 2018
Wednesday, July 18, 2018
Tuesday, July 17, 2018
Sunday, July 15, 2018
mujram kon part2 by famous writer Robeena Raza
It is a best novel on the base of life,s factsMujrim kon
Novel Mujrem kon by Robeena Raza part 1
Click here
Mujrem kon
Robeena shaheen is a famous writer.she wrote many famous novels and afsany.this novel is based on social romantic and ful of fun you people must read it
Mujram kon by Robeena Raza
Wednesday, July 4, 2018
complete novel sham hony tak by robeena shaheen
1قسط
روبینہ رضا
![]() |
| شام ہو نے تک |
کشف اور پھوپھو کے بچے خوب مستی کر رہے تھےسب لوگ چٹائی پر بیٹھ کر بریانی کھا رہے تھے اوراپنی اپنی بریانی کھانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی پلیٹ میں بھی تانکا جھانکی کر رہے تھےعریان ۔شیری اور گڑیا عالیہ کے بچے تھے اور کشف عالیہ کے بھائی کی بہو تھی نعمان کشف کا شوہر کی پھوپھو ہونے کی وجہ سے کشف بھی عالیہ کو پھو پھو کہتی تھی کشف کی شادی کو دو سال ہو گئے تھے ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھی اور اس کا شوہر نعمان شادی کے ایک ماہ بعد ہی باہر چلا گیا تھا۔گھر میں ایک بیمار سسر تھا۔اسی لیے کبھی کبھی دل بہلانے عالیہ پھوپھو کے گھر آ جاتی تھی۔عریان نے کشف کی پلیٹ سے لگ پیس اٹھا لیا ۔تو اس کی دیکھا دیکھی شیری نے گڑیا کی کولڈ ڈرنک پی لی۔جس پر گڑیا نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ اور پلیٹ زمین پر رکھ کر بولی یہ لیں اب خود ہی کھائیں ۔اور جاتے جاتے شیری کی کمر میں ٹانگ ٹھوک دی۔اب شیری اٹھ کر گڑیا کی مرمت کرنے کے لیے جا ہی رہا تھا کہ عالیہ جو کس وقت سے ان ساری حرکتوں کو نوٹ کر رہی تھی پاس پڑی ڈوئی گھما کے لگائی شیری کو ۔اور فوراً بیٹھ جانے کا حکم دیا ۔شیری نے بیٹھ جانے میں ہی غنیمت جانی۔کشف تم یہ نہ سمجھنا کہ تم آئی ہو تو ایسا ہوا ہے یہاں روزانہ یہی حال ہوتا ہے ۔ان کو خوراک نہ ملے نا جب تک ان کی شوخیاں ختم ہی نہیں ہوتیں۔پھر گڑیا کی طرف دیکھ کر بولیں ۔آ اندر تو تیرا بھی بندوبست کرتی ہوں۔کشف بولی نہیں پھوپھو غلطی میری ہی ہے میں گھر میں بہت بور ہوتی ہوں ایک ابو سسر ہی ہوتے ہیں وہ بھی تسبیح پڑتے رہتے ہیں تبھی میں بوریت دور کرنے یہاں آجاتی ہوں ۔ہلہ گلہ کرنے۔اسی وجہ سے بچے بھی فری ہو جاتے ہیں ۔کشف پریشان سی ہو گئی اور برتن سمیٹنے لگی۔مگر عالیہ جانتی تھی کہ کشف کی یہ پریشانی صرف اس وقت تک رہے گی جب تک اس کا بچوں سے آمنا سامنا نہیں ہوتا۔ پھر وہی مستیاں ۔ وہی ہنگامے اور وہی قہقہے ۔-------****--------*****ابھی کشف برتن اٹھا کر کچن کی طرف جانے ہی والی تھی کہ عالیہ کا کزن روحان اندر داخل ہوا۔روحان غیر شادی شدہ تھا اس کی لاہور میں کپڑے کی دکان تھی اس لیے وہ اپنی کزن عالیہکے گھر ہی رہتا تھا۔اس کا اپنا گھر کراچی میں تھا۔ڈائینگ روم کے ساتھ ہی کچن تھا کشف اور بچے اب وہیں ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے اور موبائل پر ایک دوسرے کو مزاحیہ میسج شئیر کر رہے تھے۔ اور ساتھ ساتھ پڑھ کر ہنس ہنس کر انجوائے کر رہے تھے۔روحان خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا جبکہ عالیہ خاموشی سے پاس بیٹھی تھیں۔ کہ ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا۔عالیہ بیگم نے کچن کی طرف دیکھا اور سر پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں ۔ توبہ یہ بچے بھی نا۔اور یہ کشف بھی بچوں کے ساتھ بچی بن جاتی ہے ۔اللہ اپنی اولاد دے تو اسکا بھی جی بہلے ۔روحان نے ایک سرسری نگاہ پہلے عالیہ اور پھر سامنے کچن میں بیٹھی کشف پر ڈالی اور دوبارہ کھانے کی طرف مگن ہو گیا.کیونکہ وہ بھی کھانے کے ساتھ ساتھ موبائل پر لگا ہوا تھا۔عالیہ خجل سی ہو کر بولی ۔توبہ ہے زندگی اجیرن کر دی ہے ان موبائلوں نے۔ جس کو دیکھو منہ کے آگے کتاب کھولے بیٹھا ہے ۔ارد گرد کا تو کوئی ہوش ہی نہیں۔روحان نے کوئی جواب نہ دیا اور اٹھ کر خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔روحان کے جانے کے بعد کشف برتن اٹھانے آئی تو کشف کا موبائل عریان نے اٹھا لیا اور بولا۔دیکھ یار شیری۔ یہ میسج بہت مزاحیہ ہے ماموں روحان کو سینڈ کرتا ہوں۔ بڑا مزہ آئے گا۔اور کشف کو بتائے بغیر اس کے موبائل سے میسج روحان کو فارورڈ کر دیا ۔روحان نے شکار پر جانے کے لیے اپنا مخصوص لباس پہنا اور فوجیوں کی طرح بڑے بڑے بوٹ پہن کر بندوق کندھے کے ساتھ لٹکا کر باہر نکلنے ہی والا تھا کہ میسج کی گھنٹی بجی۔ روحان نے جیب سے موبائل نکال کر دیکھا تو کسی ان ناؤن نمبر سے مزاحیہ میسج تھاعالیہ تو دن بھر کی تھکی تھیں سو گئیں۔بجلی جانے کے باعث کشف اور بچے باہر صحن میں بیٹھے تھے کشف کا موبائل اس کے ہاتھ میں تھا ۔جیسے ہی روحان باہر نکلا ۔عریان بولا روحان ماموں میسج کیسا تھا۔روحان بولا تم نے بھیجا ہے مگر کس کے نمبر سے۔عریان بوکھلا کر بولا کشف باجی نے ۔ کشف نے عریان کو کہنی ماریاور گوشے میں پوچھا کہ میں نے کب؟روحان نےایک نگاہ کشف پر ڈالی اور اگلی بات سنے بغیر نکل گیا۔ مگر چودھویں کے چاند کی دودھیا روشنی میں کشف بھی کسی پری سے کم نہ لگ رہی تھی۔ اور کشف کی ایک جھلک روحان کو متاثر کیے بغیر نہ رہ سکیسوری کشف باجی ۔یہ روحان ماموںبھی نا۔ ہر وقت جلدی میں ہوتے ہیں انہوں نے مجھے بھی جلدی میں بوکھلا دیا ۔میں نے کہنا تھا کہ کشف باجی کے نمبر سے کیا تھا میں نے اور میں نے کہ دیا کشف باجی نےاچھا چلو چھوڑو بہت دیر ہو گئی ہے چلو اب جا کے سو جائیں------
کشف سونے کا بہانہ کرنے لگی ۔اور کافی دیر تک جب عالیہ کے سونے کا یقین ہو گیا ۔چپکے سے موبائل اٹھایاتو روحان کے چھ سات میسج تھے۔ جہنیں پڑھ کے کشف کے دل کی دھڑکنیں بے تر تیب ہونے لگیں۔رات کا تقریباًایک بج رہا تھا۔اتنی رات کووہ مجھے میسج کیوں کر رہا ہے ۔وہ تو شکار پر ہے۔تو وہاں مجھے میسج کرنے کی اسے فرصت کیسے؟ اور میں اس کے لیے کوئی اہم تو نہیں کہ شکار کے دوران شکار چھوڑ کر ۔دوستوں کے درمیان مجھے میسج کیے جائیں۔ کشف بھی گھنٹہ بھر خود سے ہی ہمکلام رہی۔ اس نے کتنی بار میسج پڑھ لیے۔پھر اس نے بھی کچھ اشعار فارورڈ کر دئیے۔مگر میسج بھیجنے کے بعد وہ بہت پریشان ہوئی۔اور سوچنے لگی ۔یا اللہ ۔یہ میں نے کیا کر دیا۔اگر روحان نے میسج کسی کو دکھ دئیے تو----- اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مو بائل کسی دوست کے ہاتھ میں ہو۔ وہ اس قدر پریشان رہی کہ رات بھر سو نہ سکی۔صبح کی ہلکی ہلکی روشنی کھڑکیوں کے پردوں سے تانک جھانک کرنے لگی۔تب کشف کی آنکھ لگی۔------****--------****-----صبح کے نو بج رہے تھے عالیہ نے ناشتہ بنا لیا ۔عریان ۔شیری اورگڑیا کئی بار کشف کو جگانے آئے مگ جب وہ نہ جاگی تو عریان بولو۔چلو یار ہم ناشتہ کریں۔ کشف باجی تو آج گھوڑے بیچ کر سوئیں ہیں۔اسی اثناء میں روحان کمرے میں داخل ہوا اور عریان کی بات سن کر مسکرادیا ۔عریان حیرانگی سے بولا۔ ماموں آپ؟ آپ یہاں اس روم میں؟روحان بولا ہاں ۔میرے روم میں پانی نہیں آرہاتھا۔اس لیے اس واشروم میں ہاتھ منہ دھونے آیا ہوں۔اچھا ماموں ناشتہ تیار ہے ہم جا رہے ہیں آپ بھی منہ دھو کر کچن میں آجائیں۔روحان بولا ۔اچھاتم لوگ جاؤ میں بھی آتا ہوں۔جیسے ہی کشف کے کانوں میں روحان کی آواز ٹکرائی اس کے دل میں گھنٹیاں سی بجنے لگیں مگر اسنے منہ کمبل سے باہر نہ نکالا۔وہ دل ہی دل میں بولی ۔موقع اچھا ہے کیوں نہ میں روحان کو منع کر دوں ۔کہ میں نے جو میسج کیے ہیں وہ کسی کو نہ دکھائے۔اور نہ ہی کسی سے اس بارے میں بات کرے ۔------****-------***--------***یہ خیال آتے ہی کشف کمبل اتار کر اٹھ بیٹھی اور بالوں کو انگلیوںسے ترتیب دے کر بالوں کو کیچر لگانے لگی۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا۔اس نے ایک نظر روحان کو دیکھا۔نظریں چار ہوتے ہی دونوں نے یکدم نظریں چرا لیں۔پتہ نہیں ایک دوسرےکی نظروں کی تاب نہ لا سکے یا کشف کی شادی شدہ زندگی آڑے آرہی تھی۔ یا روحان کو عالیہ بیگم کا خیالآ گیا کہ انہوں نے مجھ پر اعتبار کر کے اپنےگھر میں رکھاہوا ہے۔روحان کمرے سے باہر جانے ہی والا تھا کہ کشف آہستگی سے بولی ۔روحان بھائی )کشف جب سے بیاہ کے آئی تھی وہ روحان بھائی ہی کہتی تھی( وہ ایک لمحے کے لیے رکا مگر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔کشف بولی کسی سے میسجز کا ذکر نہ کیجیئے گا کیونکہ لوگوں کے سوچنے کا انداز ہمیشہ الٹا ہی ہوتا ہے۔ روحان نے پلٹ کر سرسری نگاہ کشف پر ڈالی اور بولا نہیں ----- نہیں آپ اس کی بلکل فکر نہ کریں اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ کشف شرمندگی اور گھبراہٹ کی مل جلی کیفیت سے دوچار ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگی۔-------****--------***-------**کشف اپنے گھر آ چکی تھی ۔ابو )سسر( خورشید صاحب کو کھانا دینے کے بعد کچن صاف کیا اور بولی ابو کوئی اور کام ہےتو بتائیے۔یا میں اپنے کمرے میں جاؤں۔ابو بولے ۔نہیں بیٹی کوئی کام نہیں تم جاؤ ۔اللہ خوش رکھےکشف کمرے میں آکر فریش ہو کر نائٹ ڈریس میں ملبوس پاؤں پرمساج کرنے لگی۔میسج کی ٹیون بجی ۔کشف نے اگنور کیا۔وہ پچھلے دن کے واقعے کو تقریباً بھول چکی تھی ۔مساج ختم کرنے کے بعد ہلکا ہلکا میوزک آن کر کےوہ پیچھے کشن رکھے ریلیکس پوزیشن میں بیٹھی موبائل چیک کرنے لگی ۔جیسے ہی میسج اوپن
کیا۔یکدم وہ اچھل کر بیٹھ گئی ۔-----
مرد عورت کے متعلق بہت جلد غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہے چاہے وہ اپنی ہو یا پرائی ۔اگر عورت اس کی اپنی بہن بیٹی یا بیوی ہو تو اس غلط فہمی کا شکار رہے گا کہ یہ تیار ہو کر کہاں جا رہی ہے۔وہ فلاں شخص ان دنوں ہمارے گھر کچھ زیادہ ہی آنے جانےلگا ہے۔ نظر رکھنی پڑے گیاور اگر عورت کسی اور کی بہن بیٹی یا بیوی ہو تو پھر بے دھیانی میں کہی گئی بات بھی سیدھی ٹھک جا کے دل پہ لگے گی۔ہو نہ ہو یہ دل ہی دل میں مرتی ہے مجھ پہ۔اسی طرح کی غلط فہمی کا شکار روحان بھی ہو رہا تھا ۔وہ سوچ رہا تھا شاید کشف کے دل میں میرے لیے کچھ ہے ۔ اور مزاحیہ میسج بھیجنے کا مقصد شاید صرف یہ ہو کہ جواب میں۔ میں بھی اس کو میسج بھیجوں اور یوں بات آگے بڑھ سکے۔روحان نے جس جوش وجذبے کے ساتھ شکار کا پروگرام بنایا تھا اب وہ جذبہ مانند پڑھ چکا تھامخالف جنس کی کشش کا جذبہ تمام جذبوں پر حاوی ہوتا ہے اور اس جذبے کی انگاری ہمارے اندر اس وقت سلگنے لگتی ہے جب ہم۔ آپ ہی آپ دل میں کسی کے بارے میں کچھ تصور کر لیتے ہیں چاہے اس میں حقیقت کچھ بھی نہ ہو ۔خود ہی سوال کرتے ہیں اور خود ہی دوسرے فریق کی طرف سے جواب گڑھ لیتے ہیں۔اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ واپس چلا جائے مگر سوچوں کے دھارے میں بہتے بہتے وہ خالد کے دروازے پر پہنچ چکا تھا۔روحان نے نہ چاہتے ہوئے بھی غیر شعوری طور پر بیل بجا دی۔خالد نے دروازہ کھولا تو روحان غصے سے بولا یار تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے جلدی نکل۔خالد بولا ۔ ارے بس پانچ منٹ ۔ میںابھی کپڑے بدل کر آتا ہوں۔جلدی کیسی ہے ۔ابھی تو ساری رات باقی ہے تم اندر آؤ اور دوستوں کے ساتھ بیٹھ کے چائے پیو۔روحان بولا نہیں تم چینج کر کے باقی دوستوں کو لے کر باہر ہی آ جاؤ۔خالد بولا اچھا ٹھیک ہےجیسے تمہاری مرضی۔روحان نے موبائل نکال کر ایک بار پھر کشف کا میسج پڑھا اس میں کچھ بھی خاص نہیں ہے تو مجھے یہ اتنا خاص کیوں لگ رہا ہے مجھے کوئی ان دیکھی طاقت اپنے شکنجے میں کیوں جکڑ رہی ہےروحان سے رہا نہ گیا اور سوچنے لگا کہ ایک میسج کرتا ہوں کم از کم اگر میری غلط فہمی ہے تو دور تو ہو۔روحان نے ڈرتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے ایک میسج بھیج دیا۔------****--------******تمام دوست چاندنی رات میں بندوقییں اٹھائے ہاتھوں میں ٹارچز اٹھائے نہایت چوکنا ہو کر آگے بڑھ رہے تھے۔ان کے ساتھ دو شکاری کتے بھی تھے۔جو شکار کی تلاش میں آگے آگے چل رہے تھے۔خالد نے جیب سے مو بائل نکال کر بےچینی سے دیکھا کہ شاید کوئی جوابی میسج آیا ہو۔ مگر موبائل پر نیو میسج کا کوئی سائن نہ دیکھ کر مایوسی سے موبائل کو دوبارہ جیب میں رکھ لیا۔اتنے میں خالد چوکنا ہو کر بولا ۔روحان فائر کرو۔مگر روحان چونک کر سوالیہ انداز میں بولا ۔"ہوں "اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔تمام دوست اس کو لعنت ملامت کرنے لگے کہ اتنا زبردست شکار ہاتھ آیا تھا جو تمہاری سستی کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔روحان شرمندہ ہو کر خجل سا ہو گیا ۔اور کہنے لگا یار پتہ نہیں مجھے کیاہو گیا ہے۔ مجھے خود نہیں معلوم۔ میں تمہارے ساتھ ہو کر بھی تمہارے ساتھ نہیں ہوں ۔مجھے یہی چھوڑ جاؤ اور تم لوگ جاؤ۔میں یہاں ٹیلے پر بیٹھ کر تمہارا انتظار کرتا ہوں۔کاشف بولا ۔نہیں یار اگر تمہاری طبیعت خراب ہے تو واپس چلتے ہیں۔روحان بولا نہیں ۔میری وجہ سے تم لوگ اپنا پروگرام خراب نہ کرو ۔ میں ویسے بھی چاند کی دودھیا چاندنی کو انجوائے کرنا چاہتا ہوں۔کاشف بولا ۔چلو یار اس کو یہیں رہنے دو۔ ادھر معاملہ چاند کی چودھویں کا ہے۔اور سب دوست قہقہے لگاتے روحان کو وہیں ٹیلے پر چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔روحان نے جیب سے موبائل نکال کر دو تین میسج اور کر دیئے اشعار کی صورت میں جن میں اس نے اپنا حالِ دل بیان کر دیا۔ اور ساتھ ہی ایک مس کال بھی دے دی۔--------*****--------***--------****بچوں کے سو جانے کے بعد کشف جب سونے کے لیے عالیہ کے کمرے میں آئی تو عالیہ بیگم کی آنکھ کھل گئی۔بیڈ کی ایک سائیڈ پر عالیہ بیگم اور دوسری طرف کشف لیٹ کر باتیں کر رہیں تھیں کہ میسج کی ٹیون بجی۔ کشف نے میسج دیکھا تو روحان کا نمبر دیکھ کر حیران رہ گئی۔اور گبھرا کر عالیہ کی طرف دیکھاجو میسج کی ٹیون سن کر کشف کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ عالیہ کی نظرو ں میں موجود سوال کشف پڑھ چکی تھیکہ اتنی رات کو کس کا میسج ہے۔مگر شاید مصلحتاً پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ کہ کہیں کشف برا نہ مان جائے اور کشف نے خود سے بھی کچھ نہ بتایا۔ کشف شرمندہ سی ہو گئی اورموبائل جلدی سے سائلنٹ پر لگا کر بیڈ کی سائیڈ پر الٹا کر کے رکھ دیا۔ تاکہ عالیہ شک نہ کرے۔کشف گبھراہٹ کی وجہ سے کروٹ لے کر لیٹ گئی۔عالیہ اگر کوئی بات کرتی بھی تو کشف صرف ہوں ہاں کرتی۔اور کوئی خاص جواب نہ دیتی ۔عالیہ بولی ۔کشف لگتا ہے تمہیں نیند آ رہی ہے ٹی وی بند کر کے سو جاؤ۔کشف بولی ۔جی پھوپھو ۔اور ٹی وی بند کر کے دوبارہ اسی پوزیشن میں لیٹ گئی
کبھی خاموش بیٹھو گے کبھی کچھ گنگناؤ گے
میں اتنا یاد آؤں گا مجھے جتنا تم بھلاؤ گے
پوچھ بیٹھے گا جب کوئی خاموشی کا سبب تم سے
بہت بتانا چاہو گے مگر بتا نہ پاؤ گے
کبھی دنیا مکمل بن کے آئے گی نگاہوں میں
کبھی میری کمی دنیا کی ہر ایک چیز میں پاؤ گے
جہاں پر بھی رہیں ہم تم محبت پھر محبت ہے
تمہیں ہم یاد آئیں گے ہمیں تم یاد آؤ گے
کشف عجیب دوہراہے پر آ کھڑی ہوئی تھی۔اسے اگر چہ روحان کا یوں بار بار میسج کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا تو پھر وہ اس کو روک کیوں نہیں رہی تھی۔ مطلب کشف کو اگر اچھا نہیں لگ رہا تھا تو برا بھی نہیں لگ رہا تھا۔کشف موبائل ہونٹوں کے ساتھ لگا کر کچھ سوچنے لگی ۔
ہما رے معاشرے میں جب مرد کی شادی ہوتی ہے تووہ ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح آؤٹ آف کنٹرول ہو رہا ہوتا ہے دو ماہ تک تو اس سے اپنا آپ ہی کنٹرول نہیں ہو رہا ہوتا ہے۔تو وہ بیوی کو کنٹرول میں کیا کرے گا ۔میرا اپنا مشہور مقولہ ہے "یا ڈھا چھوڑ یا ڈھے ونج"۔" یعنی یا گر جاؤ یا گرا دو"
اس کا مطلب یہاں گرانا نہیں اصل میں سنبھالنا کے ہیں کنٹرول کرنے کے ہیں۔اگر شادی کے پہلے دو ماہ میں شوہر بیوی کو اپنی محبت کا اسیر بنا لے تو وہ ساری زندگی اس کی غلام۔اس کے علاوہ کسی کے بارے میں نہیں سوچے گی لیکن اگر مرد ایسا کرنے میں ناکام رہے ۔یا نہ کرے یا عورت سمجھ جائے کہ یہ اداکاری کر رہا ہے تو وہ ساری زندگی اس پر اعتبار نہیں کرے گی۔اور اگر مرد سے ذرا سی غلطی کوتاہی ہو گئی تو عورت اس کو کبھی معاف نہیں کرے گی وہ اس کو چھوڑ دے گی۔چھوڑنا دو طرح سے ہو سکتا ہے یا تو مکمل طور پر علیحدگی اختیار کر لےگی یا ساتھ رہتے ہوئے کسی اور کی ہو جائے گی۔
یہی تو نعمان سے نہ ہو سکا۔وہ شادی کے دو ماہ بعد ہی چلا گیا اس نے دو ماہ میں ایک بار بھی کشف کو سجھنے کی کوشش نہ کی ۔ اسے تو بس اتنا خیال تھا کہ اس کی شادی ہو گئی ہے اور اس کے پاس صرف دو ماہ ہیں ۔لہذا بس بیڈ روم میں ہی گزارو۔
سو گیا ۔کھا لیا اور پھر سو گیا۔
دو ماہ کے بعد دو سال گزر گئے۔خود نعمان وہاں نائٹ کلبوں میں ہر روز نئی گرل کے ساتھ ہوتا تھا ۔کشف نے کئی دفعہ گھر آنے کا بولا۔مگر نعمان کا جواب تھا مجھے اُدھر کا پانی ہی موافق نہیں آتا۔ اسی لیے ڈرتا نہیں آتا اصل کہانی اور تھی جن لتوں کا وہ عادی ہو چکا تھا وہ پاکستان میں تھوڑا مشکل تھا تو ہاضمہ توخراب ہونا ہی تھا۔
اسی لیے تو روحان کے میسج پڑھ کر کشف کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگتیں وہ ایک مسحور کن مسرت سے سرشار ہو جاتی کہ کوئی مجھے بھی چاہنے لگا ہے کوئی تو ہے جو مجھے بھی پیار کرنے لگا ہے۔بے شک چاہے جانے کی خواہش تو ہر انسان مردو زن کے اندر موجود ہوتی ہے۔
کشف روحان کی طرف سے آئے ہوئے ایک ایک شعر کے ہزار ہزار معنی نکالتی۔ پھر دل ہی دل میں مسکرانے لگتی۔
یوں کچھ دنوں تک اشعار کا تبادلہ ہوتا رہا ۔آخر ایک دن روٹین سے ہٹ کر میسج آیا کہ " میرے نمبر پر کال کر کے سمارٹ ٹیون سنیں"
کشف نے نمبر ڈائل کیا دوسری طرف گانا تھا
خواب ہے تو ۔نیند ہوں میں۔دونوں ملیں تو راگ بنے
روزیہی مانگوں دعا۔تیری میری بات بنے ۔بات بنے
میں رنگ شربتوں کا ۔تو میٹھے گھاٹ کا پانی
مجھے خود میں گھول دےتو ۔میرے یار بات بن جانی
کشف کا دل ٹیون کی لے پہ دھڑکنے لگا اور وہ روحان کے پیار کے سحر میں گرفتار ہوتے ہوئے خود سپردگی کی کیفیت میں خود کو محسوس کرنے لگی وہ سب کچھ بھول جانا چاہتی تھی کہ میں کیا ہوں ؟کون ہوں ؟کیا کر رہی ہوں ؟اچھا کر رہی ہوں یا برا۔ سب بھولنے لگا۔
ٹیون بند ہوئی تو ساتھ ہی کال آئی۔
کشف کا دل عجیب کشمکش میں تھا وہ کال تو یس کر بیٹھی مگر بات کرنے کے لیے ہمت جیسے تھی ہی نہیں ۔
کنوارہ مرد ہو اس کو اگر شادی شدہ لڑکی سے عشق کا موقع مل جائے تو پھر اس کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں
دوسر ی طرف سے ہیلو کی آواز آئی۔ کشف جواب میں کچھ نہ بولی ۔دوسری بار زرا زور سے ہیلو کی آواز آئی تو کشف نےبھی دھیمی آواز میں ہیلو بولا۔ روحان بولا۔ کیسی لگی ٹیون ؟
کشف شرما کر بلکل دھیمی آواز میں بولی ۔بہت اچھی ۔
تھوڑی دیر کے لیے دونوں طرف خاموشی رہی پھر روحان بولا۔سارے میسج ڈیلیٹ کر کے سوناپلیز۔
کشف بولی۔جی اچھا اور آپ بھی ڈیلیٹ کرنا۔
روحان بولا۔ آف کورس ۔ڈونٹ وری۔
اوکے دین۔ بائے
کشف تڑپ کر بولی ۔بس------- یہی کہنے کے لیے فون کیا تھا؟
روحان مسکرا کر سب سمجھتے ہوئے بھی انجان بن کر پوچھنے کے انداز میں بولا ۔تو کیا------- اور بھی کچھ کہنا ۔۔تھا
کشف گھبرا گئی اور بولی ۔"نہیں -----کچھ نہیں -----اچھا خدا حافظ۔"
روحان ہنس دیا اور بولا اوکے اب رات بہت ہو گئی ہے کل بیلنس کرا کے آپ کا نمبر فیورٹ کروں گا اور کل کال کروں گا۔
بھلا ہو موبائل کمپنیز والوں کا۔جہنوں نے باتو ں اور ملاقاتوں کے سلسلے عروج پر پہنچا دیئے ہیں اور کوئی ان کے خلاف اقدام کرنے یا احتجاج کرنے والا بھی نہیں۔ بلکہ سب خوش ہیں۔
ہماری دادی کہتی تھیں کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہو گی کہ ہر گھر کی چھت پر شیطان ناچے گا۔ اور وہ شیطان آج ڈش۔ کیبل۔ سگنل بوسٹرز اور موبائل سگنلز ہیں جس کی وجہ سے ہر طرف شیطانوں کا راج ہے۔
ناچ گانا ۔مجرے ۔فلمیں۔ من پسند گندگی دن بدن پھیل رہی ہے اور آج کل شیطان فل ریلیکس موڈ میں رہتا ہے ۔اب اسے اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی ۔
کشف نے اب عالیہ پھوپھو کے گھر جانا بھی کم کر دیا تھا کیونکہ وہاں وہ روحان کا سامنا نہیں کر سکتی تھی ۔بس ابھی تک بات میسجیز اور کال تک ہی محدود تھی ۔مگر روحان کا سامنا کرنے کی سکت کشف میں نہ تھی۔
عالیہ نے گلہ بھی کیا کہ اب تو تم آتی ہی نہیں ہو۔ لیکن کشف نے ابو (سسر) کی صحت کی خرابی کا بہانہ بنا کر عالیہ کو خاموش کروا دیا۔
----------*****---------****
نعمان کو آج تنخواہ ملی تو وہ گھومنے پھرنے کے لیے نکل پڑا۔اس نے بہت اچھا کھانا کھایا۔وہسکی کا جام نوش کیا۔ اور پھر کاونٹر پر موجود آدمی جو اردو بول سکتا تھا بولا نعمان صاحب آپ کمرے میں چلے جایئے آپ کی پسند سے ہم خوب واقف ہیں اور آپ کی پسند کی چیز آپ کے کمرے میں پہنچا دی گئی ہے۔نعمان نے اپنےبلیک ۔گھنگھریالے ۔کندھے تک لمبے بالوں کو اپنے چوڑے شانوں پر جھٹکا دےکر پیچھے کیااور پھر کمرے کی طرف چل دیا۔
نعمان کی یہ روٹین تھی جس پر نہ تو اس کو کوئی شرمندگی تھی نہ پچھتاوا۔وہ کماتا اور اڑاتا ۔
گھر میں ایک بیوی اور ایک بوڑھا باپ تھا جن کو خرچہ بھیج کر وہ ہر ذمہ داری سے آزاد ہو جاتا تھا۔
آنکھوں میں شراب کی مستی لالی کے ڈورے لیے جھلک رہی تھی۔خوبصورت ڈریسنگ۔مردانہ وجاہت۔خوبصورت ڈیل ڈول اور پھر ہر طرح کی بے فکری نے اسے مخمور کر دیا۔
ایسے میں ہوٹل کا خوبصورتی سے مزین کمرہ اور بانہوں میں ہر بار ایک نئی حسینہ۔----- اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ۔------------ وہ زندگی کو جنت نما گردانتا تھا مگر وہ بھول گیا کہ وہ تیزی سے تاریکی کے گڑھوں کی طرف جارہا ہے۔
وہ بھول چکا تھا اللہ جو جسموں جاں اور روح تک پر قابض ہے جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ وہاں امریکہ میں بھی موجود ہے
بس اس خدا نے نعمان کی رسی کو بھی ڈھیل دی ہوئی تھی ۔کہ دیکھو اب یہ کس طرف جاتا ہے ۔اور پھر ایک دن آ جائے گا فیصلے کا۔جس دن وہ رسی کومضبوطی سے کھینچے گا اور نعمان صاحب منہ کے بل جا گریں گے ۔شاید توبہ کا موقع ملےبھی یا نہ ملے۔
وہ رنگ رلیاں مناتا رہا اور پھر اسی حالت میں اس حسینہ کے ساتھ سو گیا جس کی رات بھر کی قیمت وہ ادا کر چکا تھا۔
نعمان نے خواب میں دیکھا کہ کشف اور نعمان کے بیڈ پر سانپ ہے جو کشف کے وجود سے لپٹا ہوا ہے ۔نعمان ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے لپکا۔لیکن سانپ نے کشف کو ڈس لیا۔ اور سانپ بھاگ گیا۔جبکہ کشف تڑپنےلگی اگلے لمحے جب نعمان کی آنکھ ایک خوفناک چیخ کے ساتھ کھلی تو وہ گوری اس کے وجود سے لپٹی ہوئی تھی۔نعمان نے اسےاجلت میں خود سے الگ کیا تو وہ بھی گھبرا گئی۔اور نعمان کا دہشت زدہ چہرہ دیکھ کر گھبرا کر کمرے سے باہر بھاگ نکل گئی۔ دن بھر یہ خواب نعمان کے حواسوں پر سوار رہا مگر نعمان جس لت کا شکار ہو چکا تھا اس سے جان چھڑانا اتنا جلد ممکن نہ تھا ۔اگلی رات جب وہ کسی اور حسینہ کی بانہوں میں تھا تو پھر اس کو اپنے بستر پر سانپ نظر آیا۔ وہ دوبارہ گھبرایا۔
اب یہ خواب نعمان کی زندگی کام
دوسری طرف کشف گھنٹوں روحان سے موبائل پر بات چیت کرتی رہتی . روحان پیار ہی پیار میں فون پرکشف سے چھیڑ چھاڑ کرتا جب کشف چِڑ جاتی تو روحان ہنس کر کہتا میری جان ہلکی پھلکی موسیقی تو چلنی چاہیے نا۔جس پر کشف شرما جاتی۔
روحان نے کشف کو اس قدر اپنے پیار کا یقین دلا دیا اور اپنے اعتماد میں لے لیا۔ کہ وہ اب روحان کو ہی اپنا سب کچھ سمجھنے لگی۔دسمبر کا مہینہ تھا۔سردیوں کی ایک ٹھٹھرتی رات تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں شاں شاں کرتی ہوئی کھڑکیوں سے ٹکرا کر اپنے چلنے کا پتہ دے رہیں تھیں۔گیس ہٹیر بھی کمروں کے درجہ حرارت کو نارمل کرنے کی کوشش میں تھے۔ مگر سردی تھی کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
کشف اور روحان اپنے اپنے کمروں میں لحاف میں گھسے ایک دوسرے پر موبائل پر محو گفتگو تھے۔ وہ موبائل پر بھی اپنے آپ کو ایک دوسرے کے قریب محسوس کر رہے تھے اتنا قریب کہ جیسے وہ ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو بھی سن سکتے ہوں۔مگر جب شدت جذبات میں ان کو احساس ہوتا کہ ہم قریب نہیں ہیں بلکہ دور ہیں تو ان کے جذبات کو یوں ہوا ملتی جیسے بھڑکتی آگ پر مٹی کا تیل کام کرتا ہے اور ایک ایسا آلاؤ بھڑک اٹھتا ہے جسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔اسی سیچویشن میں روحان یک دم بول اٹھا میں آرہا ہوں۔اور کشف یکدم خاموش ہو گئی وہ روک نہ پائی کیونکہ چاہتی وہ بھی یہی تھی مگر لاج آڑے آرہی تھی۔
دو نوں پیار کے چشمے سے مل کر خوب سر شار ہوئے۔ اور ترستی محبت کو قرار آیا۔اب دونوں کا دن رات کے انتظار اور رات ایک دوسرے کے پیار میں کٹنے لگی۔
----------****-----------*****
نعمان نے گاڑی ایک دینی درس گاہ کے سامنے روکی اور جوتے اتار کر اندر داخل ہوا عبدارحمان صاحب بچوں کو درس دے رہے تھے درس سے فارغ ہوئے تو نعمان نے اپنے مسلسل آنے والے خواب سنائے۔ اور یہ بھی بتایا کہ آج رات میں نے خواب میں اپنی بیوی کادوپٹہ جلتا ہوا دیکھا ہے۔ عبدارحمن صاحب ساری بات سن کر بولے بیٹا۔
تمہیں اب اپنے گھر جانا چاہیے اور کثرت سے اسغفار پڑھو ۔بےشک اللہ بہت رحیم وکریم ہے اور مغفرت کا دروازہ آخری سانس تک کھلا رہتا ہے۔ ہم جب گناہ کرتے ہیں تو پھر انجام کو بھول جاتے ہیں اور جب خدا ہماری رسی کو کھینچتا ہے تو
پھر لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
نعمان سب کچھ سمجھ چکا تھا اور شرمندگی سے سر جھکائے وہاں سے باہر نکل آیا۔
نعمان کی زبان پر پورا رستہ اسغفار کا ورد تھا۔گھر پہنچ کر اس نے دو رکعات نماز نفل پڑھی اور اللہ سے دعا مانگی۔یا اللہ میں جس بری لت میں گرفتار ہو چکا ہوں اسے چھوڑنا میرے بس میں نہیں ہے۔یااللہ تو میری مدد فرما۔اور مجھے نیکی کے رستے پر چلنے کی تو فیق دے۔
بے شک اللہ تو سنتے ہی معافی کا اعلان فرما دیتا ہے ۔اور اللہ اسےگناہوں سے بچنےاور نیکی کی طرف مائل ہونے کی توفیق ضرور دیتا ہے جس کو ان کی طلب ہو۔
آخر کار نعمان جو کہ گردن تک گناہوں کی دلدل میں جکڑا ہوا تھا۔اس کا ایمانجیت گیا اور نفس ہار گیا۔نعمان اٹھ کر فون کے پاس جا بیٹھا اور نمبر ملانے لگا۔
--------****-----------*****
کشف اور روحان ساتھ تھے۔کہ فون کی گھنٹی بجی کشف نے گھبرا کر فون سائلنٹ پر لگا دیا۔روحان بولا کس کا فون ہے کشف نے ڈر اور خوف کے باعث گھبرا کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔اور بولی نعمان کا۔ روحان بولا گھبراؤ نہیں میری جان دور کیوں ہوتی ہو ۔تم فون یس کرو کال ہے کوئی کیمرہ نہیں۔
اور یار تم کیوں بھول رہی ہو یہ وہی شخص ہے جس نے تمہیں ایک فالتو چیز سمجھ کر پھینک دیا تھا۔تمہاری قدر نہیں کی تھی۔
روحان کے ان الفاظ نے کشف کو ہمت دی اس نے فون یس کیا۔جبکہ روحان اپنے خاموش پیار سے اسے سلگانے لگا۔
دوسری طرف نعمان جو کشف کی آواز سننے کے لیے بےچین تھا فوراً بولا ہیلو کشف کیسی ہو تم؟
کشف بولی میں ٹھیک ہوں آپ نے اتنی رات کو کال کی خیریت ہے؟
ہاں کشف مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ مجھے معاف کر دو ۔صبح سال کا پہلا دن ہے اور میں اس کل کے نکلتے سورج کے ساتھ ہی ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا ہوں ۔جس میں میرے ساتھ صرف تم ہو گی میری زندگی کی ساتھی۔
میں کل آ رہا ہوں ۔
کشف یک دم خاموش ہو گئی روحان بھی پریشان ہو گیا وہ سب سن رہا تھا۔
نعمان بار بار کشف کو پکار رہا تھا۔روحان نے کشف کو جھنجھوڑا ۔
کشف بولی جی۔-----جی ٹھیک ہے۔
کشف تم سچے دل سے بولو کہ تم نے مجھے معاف کر دیا ہے
جی م-----مم----- میں نے ------آپ کو معاف کیا
کشف نے لڑھکڑاتی آواز کے ساتھ جملہ مکمل کیا۔
نعمان بولا ۔بہت شکریہ کشف آئی لو یو ۔اوکے کشف ۔خدا حافظ
کشف اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی روحان میں تمہارے بغیر نعمان کے واپس آنے پر کشف دو حصوں میں بٹ چکی تھی ۔اس کے اندر ہر وقت ایک جنگ جاری رہتی۔اگچہ آنکھوں اور دماغ نے نعمان کی واپسی کو قبول کر لیا تھا مگر دل تھا کہ مانتا ہی نہ تھا۔دل اور دماغ کی لڑائی میں انسان پاگل ہو جاتا ہے۔
لڑکیوں کو شروع سے ہی تربیت دینی چاہیے کہ وہ دماغ کی مانیں جو لڑکیاں دل کو دماغ پر ترجیح دیتی ہیں وہ منہ کے بل گرتی ہیں۔ جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا چاہیے۔
کشف کا دل بھی دماغ پر حکمرانی کر رہا تھا ۔ اگر نعمان کے ساتھ کھل کر بغاوت کرتی تو معاشرے کی تھو تھو۔دوسرا عالیہ پھوپھو کی زبانی معلوم ہوا کہ روحان کی اگلے مہینے شادی تیار ہے۔
کشف نے لڑکی کے بارے میں چند سوالات کرنے کے بعد پوچھا ۔روحان خوش ہے؟
عالیہ بیگم بولیں۔ ہاں بہت خوش ہے شادی کی تیاری زور و شور پر ہے ۔ہونے والی دلہن کی زیادہ تر شوپنگ خود ہی کر رہا ہے۔
یہ سن کر کشف کی رہی سہی ہمت بھی جواب دینے لگی۔وہ نعمان سے بغاوت کر بھی دیتی مگر اب کس کے لیے۔
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کشف نے ایک دن موقع پا کر روحان کو کال ملائی ۔وہ حال احوال پوچھنے لگا ۔مگر کشف کسی بھی بات کا جواب دئیے بغیر فوراً مدعے پر آئی۔اور سوالیہ انداذ میں بولی۔تم شادی کر رہے ہو ؟
روحان بولا ہاں شادی تو کرنی ہی ہے۔مگر دل تو تمہارا ہی ہے نا۔
لیکن روحان میں ---------اور کشف دل برداشتہ ہو کر رونے لگی ۔
ارے رونے کی کیا بات ہے ۔تم بھی تو شادی شدہ تھیں میں نے کبھی اعتراض کیا ؟
کشف کے پاس کوئی جواب نہ تھا دل برداشتہ ہو کر فون بند کر دیا۔
کشف کو اب نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا نہ سونے کا نہ جاگنے کا۔
چند دن ہی آگے سرکے ہوں گے کہ کشف بے ہوش ہو گئی۔ نعمان جلدی سے اسے ہسپتال لے گیا ۔ڈاکٹر نے ابتدائی چیک اپ کے بعد نعمان کو مبارکباد دی کہ ماشااللہ آپ باپ بننے والے ہیں ۔مگر آپ کی وائف بہت کمزور ہے اس کی صحت کا بہت خیال رکھیں۔
یہ سن کر کشف کانپ کر رہ گئی ۔وہ سوچنے لگی ۔یہ بچہ کس کا ہو گا ۔اگر اس بچے کا باپ روحان ہوا تو میں خود کو کیسے معاف کروں گی۔ کیسے نعمان کے گھر اور ہاتھوں میں اسے پلتا ہوا دیکھوں گی ۔کیسے نعمان کو پرائے بچے پر فریفتہ ہوتا ہوا دیکھوں گی۔
دن تو دن راتوں کو بھی کشف بس خالی دیواروں اور چھت کو گھورتی رہتی۔
نعمان اس کا بہت خیال رکھتا ۔مگر وہ دن بدن پیچھے ہی پیچھے ہو رہی تھی۔ صحت کے ساتھ ساتھ کشف کے دماغ پر بھی بہت برا اثر پڑنے لگا تھا۔وہ ہر وقت روحان کے خیالوں میں کھوئی رہتی کبھی اس سے خیالوں ہی خیالوں میں پیار کرتی اور مسکرانے لگتی ۔اور کبھی اس کی بے وفائیوں اور بے اعتنائیوں کو یاد کر کے رونے لگتی اور نفرت کرنے لگتی۔
اب اسے اکثر وہ دکھائی دینے لگتا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہوتا تھا۔
نعمان کشف کی حالت سے بہت پریشان تھا ۔مگر بچے کی پیدائش تک ڈاکٹر نےذہنی علاج کروانے سے منع کر دیا۔
نعمان پانچ وقت کی نمازکے ساتھ ساتھ تہجد ۔نوافل اور قرآن مجید کی تلاوت کا بھی اہتمام کرتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتا تھا جس نے اس کو توبہ کی توفیق دی تھی۔
------------*** ------------*** *
کشف کی طبعیت سخت خراب ہونے لگی اس کے پیٹ میں شدید درد تھا ۔نعمان نے فوراً ہسپتال پہنچایا۔کچھ دیر کے بعد نرس نے خوشخبری سنائی کہ بیٹا پیدا ہوا ہے ۔ اب آپ اپنی بیوی اور بچے کو دیکھ سکتے ہیں۔اور ہاں یہ دوائیاں بھی لے آئیے۔نعمان بھاگ کر خوشی خوشی اندر داخل ہوا اور فرطِ جذبات میں کشف کا ماتھا چوم لیا۔
نعمان نے بچے کو اٹھا کر پیار کیا۔ اور ایک بار پھر مسکرا کر کشف کو دیکھا ۔آج کشف اسے ہوش میں دکھائی دی۔ شاید وہ نعمان کے آنے اور روحان کے جانے کے بعد پہلی اور آخری بار ہوش میں آئی تھی۔اس نے کشف کے ہاتھوں میں بچے کو دیا اور بولا ۔یہ نیچے ہی میڈیکل سٹور ہے میں ابھی دوائیاں لے کر آتی ہوں۔
اس کے جانے کے بعد کشف نےبچے کو غور سے دیکھا۔
بچے ک انگ انگ میں اسے روحان کی جھلک دکھائی دینے لگی ۔اس کے سیاہ بال۔بھوری آنکھیں اس کے ہونٹ ۔رخسار۔ ہاتھ پاؤں سب میں روحان کی جھلک تھی
کشف آپے سے باہر ہونے لگی۔اس کا خود پر اور اپنے حواسوں پر کنٹرول ختم ہونے لگا وہ چیخنے لگی ۔
نہیں --------نہیں نہیں
میں سانپ کے ساتھ کھیلتی رہی ہوں ۔یہ سانپ کا بچہ ہے۔یہ سنپولیا ہے ۔
کشف کا دل بھی دماغ پر حکمرانی کر رہا تھا ۔ اگر نعمان کے ساتھ کھل کر بغاوت کرتی تو معاشرے کی تھو تھو۔دوسرا عالیہ پھوپھو کی زبانی معلوم ہوا کہ روحان کی اگلے مہینے شادی تیار ہے۔
کشف نے لڑکی کے بارے میں چند سوالات کرنے کے بعد پوچھا ۔روحان خوش ہے؟
عالیہ بیگم بولیں۔ ہاں بہت خوش ہے شادی کی تیاری زور و شور پر ہے ۔ہونے والی دلہن کی زیادہ تر شوپنگ خود ہی کر رہا ہے۔
یہ سن کر کشف کی رہی سہی ہمت بھی جواب دینے لگی۔وہ نعمان سے بغاوت کر بھی دیتی مگر اب کس کے لیے۔
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کشف نے ایک دن موقع پا کر روحان کو کال ملائی ۔وہ حال احوال پوچھنے لگا ۔مگر کشف کسی بھی بات کا جواب دئیے بغیر فوراً مدعے پر آئی۔اور سوالیہ انداذ میں بولی۔تم شادی کر رہے ہو ؟
روحان بولا ہاں شادی تو کرنی ہی ہے۔مگر دل تو تمہارا ہی ہے نا۔
لیکن روحان میں ---------اور کشف دل برداشتہ ہو کر رونے لگی ۔
ارے رونے کی کیا بات ہے ۔تم بھی تو شادی شدہ تھیں میں نے کبھی اعتراض کیا ؟
کشف کے پاس کوئی جواب نہ تھا دل برداشتہ ہو کر فون بند کر دیا۔
کشف کو اب نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا نہ سونے کا نہ جاگنے کا۔
چند دن ہی آگے سرکے ہوں گے کہ کشف بے ہوش ہو گئی۔ نعمان جلدی سے اسے ہسپتال لے گیا ۔ڈاکٹر نے ابتدائی چیک اپ کے بعد نعمان کو مبارکباد دی کہ ماشااللہ آپ باپ بننے والے ہیں ۔مگر آپ کی وائف بہت کمزور ہے اس کی صحت کا بہت خیال رکھیں۔
یہ سن کر کشف کانپ کر رہ گئی ۔وہ سوچنے لگی ۔یہ بچہ کس کا ہو گا ۔اگر اس بچے کا باپ روحان ہوا تو میں خود کو کیسے معاف کروں گی۔ کیسے نعمان کے گھر اور ہاتھوں میں اسے پلتا ہوا دیکھوں گی ۔کیسے نعمان کو پرائے بچے پر فریفتہ ہوتا ہوا دیکھوں گی۔
دن تو دن راتوں کو بھی کشف بس خالی دیواروں اور چھت کو گھورتی رہتی۔
نعمان اس کا بہت خیال رکھتا ۔مگر وہ دن بدن پیچھے ہی پیچھے ہو رہی تھی۔ صحت کے ساتھ ساتھ کشف کے دماغ پر بھی بہت برا اثر پڑنے لگا تھا۔وہ ہر وقت روحان کے خیالوں میں کھوئی رہتی کبھی اس سے خیالوں ہی خیالوں میں پیار کرتی اور مسکرانے لگتی ۔اور کبھی اس کی بے وفائیوں اور بے اعتنائیوں کو یاد کر کے رونے لگتی اور نفرت کرنے لگتی۔
اب اسے اکثر وہ دکھائی دینے لگتا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہوتا تھا۔
نعمان کشف کی حالت سے بہت پریشان تھا ۔مگر بچے کی پیدائش تک ڈاکٹر نےذہنی علاج کروانے سے منع کر دیا۔
نعمان پانچ وقت کی نمازکے ساتھ ساتھ تہجد ۔نوافل اور قرآن مجید کی تلاوت کا بھی اہتمام کرتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتا تھا جس نے اس کو توبہ کی توفیق دی تھی۔
------------***
کشف کی طبعیت سخت خراب ہونے لگی اس کے پیٹ میں شدید درد تھا ۔نعمان نے فوراً ہسپتال پہنچایا۔کچھ دیر کے بعد نرس نے خوشخبری سنائی کہ بیٹا پیدا ہوا ہے ۔ اب آپ اپنی بیوی اور بچے کو دیکھ سکتے ہیں۔اور ہاں یہ دوائیاں بھی لے آئیے۔نعمان بھاگ کر خوشی خوشی اندر داخل ہوا اور فرطِ جذبات میں کشف کا ماتھا چوم لیا۔
نعمان نے بچے کو اٹھا کر پیار کیا۔ اور ایک بار پھر مسکرا کر کشف کو دیکھا ۔آج کشف اسے ہوش میں دکھائی دی۔ شاید وہ نعمان کے آنے اور روحان کے جانے کے بعد پہلی اور آخری بار ہوش میں آئی تھی۔اس نے کشف کے ہاتھوں میں بچے کو دیا اور بولا ۔یہ نیچے ہی میڈیکل سٹور ہے میں ابھی دوائیاں لے کر آتی ہوں۔
اس کے جانے کے بعد کشف نےبچے کو غور سے دیکھا۔
بچے ک انگ انگ میں اسے روحان کی جھلک دکھائی دینے لگی ۔اس کے سیاہ بال۔بھوری آنکھیں اس کے ہونٹ ۔رخسار۔ ہاتھ پاؤں سب میں روحان کی جھلک تھی
کشف آپے سے باہر ہونے لگی۔اس کا خود پر اور اپنے حواسوں پر کنٹرول ختم ہونے لگا وہ چیخنے لگی ۔
نہیں --------نہیں نہیں
میں سانپ کے ساتھ کھیلتی رہی ہوں ۔یہ سانپ کا بچہ ہے۔یہ سنپولیا ہے ۔
رہ پاؤں گی۔
وہ مجھے آئی لو یو بول رہا ہے مگر میرا پیار تم ہو ۔تمہارا چند دنوں کا ساتھ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔کشف روحان کے ساتھ لپٹ کر روئے جا رہی تھی اور روحان اس کو دلاسہ دے رہا تھا۔
-----------*****----------
کہ" برائی کا نتیجہ ہمیشہ برا اور اچھائی کا نتیجہ اچھا ہی نکلتا ہے۔یہ قدرت کا قانون ہے جو کبھی نہیں بدلے گا"
الحمداللہ ہم مسلمان ہیں اور آخرت پر ایمان ہمارا عقیدہ ہے یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔اور پھر اچھائی اور برائی کی بنیاد پر جنت یا دوزخ کا فیصلہ۔ تو پھر ہم یہ کیوں سمجھیں " کہ ہم جو بھی کرتے رہیں گے ہمارے ساتھ اچھا ہی ہو گا۔
کیوں؟
یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے میرا پختہ ایمان ہے کہ ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتےہیں جس کے نتیجے میں ہمارے ساتھ برا ہوتا ہے کبھی عذاب کی صورت میں اور کبھی آزمائش کی صورت میں۔
عذاب صرف تب نازل ہوتا ہے جب ہم اپنی خود سری میں حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور واپسی کا بلکل نہیں سوچتے ہیں۔بیشک نعمان توبہ کر چکا تھا اور سچے رستے پر تھا تو اللہ اپنے نیک اور پاک اور مخلص بندے کو ساری زندگی دھوکے میں کیسے رکھتا۔ وہ بیوی دل سے نعمان کی تھی ہی نہیں۔وہ بچہ اس کا تھا ہی نہیں۔جس کے لیے وہ نو ماہ تک کشف کی خدمت خاطر دوائی دارو اور پیدائش تک خجل ہوتا رہا تھا۔کشف نے توبہ نہیں کی تھی اس کے دل میں روحان بستا تھا۔وہ ابھی بھی کسی نہ کسی طرح روحان کی خواہش مند تھی ۔وہ دل اور دماغ کی لڑائی میں دماغی طور پر مفلوج ہو گئی۔یہ تو آپ سب بھی جانتیں ہوں گے کہ جب ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہوتے ہیں
دل کچھ اور کہے اور دماغ کچھ اور بولے تو ہم کس قدر اپسیٹ ہو جاتے ہیں سر میں درد ۔بے چینی ۔گھبراہٹ ۔اور اگر یہ صورتحال شدید نوعیت اختیار کر لے تو شدید ڈیپریشن کی صورت میں دماغی فرق لگ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ہم خود کو یا کسی دوسرے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔دنیا میں خودکشی کے واقعات اسی وجہ سے ہی ہوتے ہیں ورنہ ہوش حواس درست ہونے کی صورت میں کون ہو گا جو زندگی جیسی انمول نعمت کو لٹا دے۔
اسی صورتحال سے کشف دوچار ہو چکی تھی۔
وہ اسی طرح چلاتے ہوئے اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھی ۔اور بچے کی گردن کو دبانے لگی ۔میں مار دوں گی اس کو --------- مجھے ڈس لے گا یہ۔-------- میں مار دوں گی
اسی لمحے نعمان اندر داخل ہوا یہ صورتحال دیکھ کے فوراًکشف کی طرف لپکا اور بچے کو بچانے کی کوشش کرنے لگا
بچہ اب نعمان کے ہاتھوں میں تھا اس کی چھوٹی سی گردن پر کشف کے ہاتھوں کے نشان نمایاں تھے بچہ دم توڑ چکا تھا۔
نعمان کشف کی طرف دیکھ کر چلایا یہ کیا کیا پاگل عورت ۔اپنے ہی بچے کو مار ڈالا۔
یہ میرا بچہ تھا ۔-----------میں
میں سپنی تھی سپنی ۔کھا لیا اپنے بچے کو ۔ہاہاہاہا
بہت علاج کروایا گیا مگر کشف سنبھل نہ سکی ۔ اب وہ عام لوگوں کے ساتھ گھر میں رکھنےکےقابل نہ تھی لہذا کچھ عرصے کے بعد کشف کو دماغی مریضوں کے ہسپتال میں بھیج دیا گیا جہاں وہ ہر وقت اپنے بال نوچتے ہوئے زندگی کے دن پورے کر رہی ہے۔
محبت آج کے دور میں ناپید ہے بس ہوس کا راج ہے خدا کے لیے ہوش سے کام لینا پیاری بچیوں۔ دماغ سے سوچ کر قدم اٹھانا۔
روحان جیسے لوگ ہر جگہ موجود ہیں ۔ دوسروں کی عزتوں سے کھیل کر سائیڈ مار جانا ان کا مشغلہ ہے ۔بیشک خدا نے ایسے لوگوں کی رسی کو ڈھیل دے رکھی ہے مگر وہ بھی اسی جگ پر اپنا انجام دیکھ کر جائیں گے۔
اللہ کا فرمان ہے
ایسے شخص کو اس وقت تک موت نہ آئے گی جب تک وہ اپنی عزت کا جنازہ اٹھتا دیکھ نہ لیں۔
معافی کی صورت میں بھی کچھ نہ کچھ خمیازہ تو بھگتنا ہی پڑتا ہے ۔کشف نعمان کی بے پرواہیوں سے ہی تو غلط رستے پر چلی تھی پھر سنبھل نہ سکی۔کیا ہوا جو نعمان نے خدا سے معافی مانگ لی اور اللہ نے معاف بھی کر دیا ہو گا۔
لیکن کشف کی زندگی تباہ ہو گئی اس کی معافی نہ ہوئی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
http://novelskhazana.blogspot.com/
-
#یہ_جنون_منزلِ_عشق_ ہےقسط_01از فرحت نشاط مصطفےٰ "ثنا سکندر اٹینشن ہوجاؤ کچھ ہی دیر میں کنوینشن اسٹارٹ ہوجائے گا اور تم ابھی تک نین...
-
http://novelskhazana.blogspot.com/ Rasm e wafa part 1 pdf link رسم وفا از خانزادی ایک بہت عمدہ کو دل کو چھو لینے والا ناول ہے۔ ...











