Thursday, November 8, 2018

بارشوں سے دو ستی قسط 1

http://novelskhazana.blogspot.com/


دکھوں کا حاصل کسی وجہ سے روک دی ہے اس کو دوبارہ شروع کروں گی (بارشوں سے دوستی) کے ختم ہونے پر اسے دوبارہ شروع کروں گی ۔سوری
بارشوں سے دوستی
روبینہ رضا
قسط نمبر 1
وہ جو ہمیشہ تیز ہواؤں۔ اڑتے گرتے پتوں۔ ہوا کے تھپیڑوں سے ۔کالی گھٹاؤں سے۔بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج سے ہمیشہ خوفزدہ رہتی تھی نجانے آج کیا ہوا کہ جیسے ہی برسات کی ہوائیں چلیں اسنے اپنے وجود میں ایک دل لبھا دینے والی سر سراہٹ محسوس کی۔ اس نے سر سبز لان میں اپنے سامنے میز پر چائے کا کپ رکھ کر سر اٹھا کر آسمان کی طرف نگاہ دوڑائی پھر آنکھیں بند کر کے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کو اپنے چہرے پر یوں محسوس کیا جیسے وہ اس جھونکے کی ساری ٹھنڈک اور تازگی اپنے اندر سمو لینا چاہتی ہو۔
پھر آنکھیں کھول کر ایک خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ اپنا موبائل میز پر سے اٹھایا اور بیگ میں رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ٹائٹ پینٹ کے اوپر ٹائٹ پنک شرٹ کو نفاست کے ساتھ نیچے کی طرف کھینچااورکی چین انگلی میں گھماتی ہوئی بیگ خوبصورتی سے کندھے پر لٹکائے کار کے پاس جا کھڑی ہوئی۔چند لمحوں کے توقف کے بعد اس نے دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ کر کار سٹارٹ کی اور چوکیدار کے گیٹ کھولتے ہی باہر نکل گئی
-------***-------***-------***
سفید کاٹن کا سوٹ پہنے فائل ہاتھ میں تھامے عیان انٹرویو کے لیے جا رہا تھا کہ اچانک پاس سے ایک تیز رفتار گاڑی پانی سے بھرے گڑھے میں سے کیچڑ اڑاتی دور نکل گئی
عیان نے سخت غصے کے عالم میں ایک نگاہ خود پر ڈالی اور پھر اس گاڑی والے کوکوسنے لگا۔وہ انٹرویو کے بارے میں سوچ کر مزید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہو گیا ۔اس نے جھٹ سے کلائی موڑ کر وقت دیکھا انٹرویو میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا وہ ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ اب کیا کرے کا کہ گاڑی ریورس ہو کر اس کے سامنے آ رکی۔کھڑکی کا شیشہ آہستگی سے نیچےکی طرف سرک رہا تھا۔گاڑی میں اونچی آوازمیں بجتے ہوئے میوزک کو کومل نے آف کیا اور دھیمے لہجے میں شرمندہ ہوتے ہوئے بولی
"آئی ایم سوری "
عیان غصے سے بھڑکتے ہوئے طنزیہ اندازمیں بولا۔ واٹ۔سوری؟ محترمہ میں جاب کے لیے انٹر ویو دینے جا رہا تھا۔میری حالت جو آپ کی مہربانی سے ہو چکی ہے آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے کوئی جاب دے گا مجھے تو کوئی اندر بھی نہیں گھسنے دے گا۔
کومل جو کہ عیان کے کیچڑ سے آلودہ چہرے کے پیچھے اس کی خوبصورتی اور مردانہ وجاہت کو پہچان چکی تھی اور دل ہی دل میں اس کی شخصیت سے متاثر ہو رہی تھی ۔آہستگی سے بولی ۔"ہاں ۔کیوں نہیں۔"
عیان کومل کی بات کو نہ سمجھتے ہوئے حیرت سے سوالیہ انداز میں بولا ۔
"کیا؟ہاں کیوں نہیں"
کومل ہڑ بڑا کر بولی ۔" کچھ نہیں میرا مطلب ہے ۔کہ آپ کا گھر یہاں سے کتنا دور ہے اور انٹرویو میں کتنا وقت باقی ہے ۔
وہ بولا ۔ایک گھنٹہ باقی ہے اور گھر تھوڑے ہی فاصلے پر ہے
آپ فکر مت کریں اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں۔
کومل نے جواب دیا اور دوسری طرف کا فرنٹ گیٹ کھول کر گاڑی سٹارٹ کر دی
بادل اس قدر جھک چکے تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہا تھا عیان ابھی سوچ بچار میں ہی کھڑا تھا کہ زور دار بجلی چمکی اور اسے کومل کی خوفزدہ سی چیخ سنائی دی بیٹھیے بھی۔عیان فوراً بیٹھ گیا ۔اور عیان کی رہنمائی میں کومل گاڑی کو چلاتی رہی ۔موسلا دھار بارش شروع ہو چکی تھی ساتھ ساتھ دھند بھی بہت گہری ہو گئی ۔تبھی عیان نے گاڑی روکنے کو بولا ۔شاید اس کا گھر آ چکا تھا مگر تیز بارش کی وجہ سے گاڑی سے نیچے اترنے میں کافی دقت یا جھجھک کا سامنا تھا ۔تھوڑے توقف کے بعد عیان بولا نجانے یہ بارش کب رکے ۔لگتا ہے ساون کو بھی آج کے آج ہی سارا برسنا ہے ۔کومل بولی میں یہاں گاڑی میں آپ کا انتظار کرتی ہوں اور آپ چینج کر کے آ جاؤ ۔ مگر وہ کافی خوفزدہ دکھائی دے رہی تھی کیونکہ اسے تیز بارش اور کالے بادلوں سے بہت ڈر لگتا تھا ۔
عیان بولا ۔آپ بھی میرے ساتھ اندر چلیں یہاں اکیلی کیسے رہیں گی ۔ویسے بھی موسم بہت طوفانی ہو رہا ہے نا۔
کومل نے نظر بھر کر عیان کے چہرے کو دیکھا جہاں سادگی اور پاکیزگی تھی۔اتنی معصومیت سے کی گئی۔درخواست کو کومل رد نہ کر سکی۔

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/