Saturday, August 11, 2018

کٹھن راہیں قسط 2

کٹھن راہیں

 مرکزی کردارکاشان۔ سویرا

۔ازروبینہ رضا قسط نمبر 2

ویسےتو کاشان پر نجمہ خالہ کے گھر آنے جانے پر کوئی پابندینہ تھی بلکہ وہ تو اکثر دونوں کو بیٹھنے کا موقع دیتی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ دونوں ایک دوسرے کے مزاج کوجان لیں کیونکہ وہ دونوں کی شادی کروانا چاہتی تھیںمگر یوں اس طرح اچانک سویرا کے کمرے میں کاشان کو دیکھ کر سخت برہم ہونے کا بھر پور امکان تھا۔ دونوں کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے.کاشان جلدی سے دروازے کے پیچھے پردے کی اوٹ میں ہو گیانجمہ بیگم اندر آئیں اور بولیںارے سویرا تو ابھی تک نہا رہی ہے بھلا کوئی اتنی دیر لگاتا ہے کیا؟سویرا تھوڑی دیر تک تو بول ہی نہ پائی آواز حلق میں ہی دب گئی مگر پھر ہمت کر کے بولی بس امی نہا چکی ۔آرہی ہوںجلدی نیچے آؤ۔ اور کچن میں میری مدد کرو۔کہتے ہوئے نجمہ بیگم چلی گئیں۔سویرا شاکنگ پنک کلر کے ڈریس میں جب باتھ روم سے باہر نکلی تو خود بھی شبنم سے دھلے گلاب کے پھول کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔اس نے کمرے کا جائزہ لیا وہ یہ سوچ کر اور بھی گلابی ہو رہی تھی کہ کاشان نے اس کو کس روپ میں دیکھ لیا ہے کہ اچانک اس کی نظر دروازے کے پیچھےہلتے ہوئے پردے پر پڑی جس کے نیچے کاشان کے پاؤں جوتوں سمیت دکھائی دے رہے تھے۔اس نے آگے بڑھ کر پردہ ہٹایا تو کاشان نے جھٹ سے اس کی نازک کلائی مضبوطی سے پکڑ لی۔اور ٹکر ٹکر اس کو دیکھنے لگا سویرا بھی اس کے سحر میں جکڑی چلی جا رہی تھی کہ نجمہ بیگم کی آوازنے ایسا جادو کیا کہ جھٹ پٹ بازو چھوڑ کر دوبارہ پردے کی اوٹ میں ہو لیا۔مگر اس دفعہ آواز نیچے کی منزلسے ہی دی گئی تھی سویرا بلند آواز میں بولی امی کنگھی کر کے آتی ہوں ۔اور پردہ ہٹا کر کاشان کو تنبہیہ کرتے ہوئے بولی میں کچن میں جا کر امی کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتی ہوں تم فوراً نکلنے کی کوشش کرو۔اور جلدی جلدی برش کر کے دوپٹہ سر پر لیتی نکل گئی------*****-------*****شرمین اور اس کی بہن صدیقہ احسن اور اسکا بھائی ریحان۔اسی طرح طرح کھٹ مکھٹ میں رات دن گزرتے رہے شرمین چارو نچار گزارہ کرتی رہی کہ بیٹیوں کی عزت اسی میں ہے کہ وہ شادی کے بعد جو ان کا نصیب ہو اسی میں سمجھوتا کر کے جیناسیکھ لیں۔کہ دو سال کے بعد اللہ تعالی نے اسے ایک اور خوبصورت بیٹی سے نوازا۔بچی آپریشن سے پیدا ہوئی اسی غرض سے شرمین کی چھوٹی بہن صدیقہ کچھ دنوں کے لیے اس کی اور بچی کی دیکھ بھالکے لیے آئی۔احسن اور شرمین نے فیصلہ کیا کہ صدیقہ دو تین ماہ تک ادھر ہی رہے گی۔انہی دنوں شرمین کا چھوٹا دیور بھتیجی کی پیدائش پر گھرآیا تو ساتھ بھتیجیوں کے لیے کھلونے بھی لے کر آیا۔ریحان نے نجمہ بیگم کو کھلونے دکھائے تو مندہ سا منہ بناکر بولیں ہاں ٹھیک ہی ہیں ۔کیا ضرورت تھی وہ ابھی کھیلنے لائق تو ہو جائیںامی بھتیجیاں ہیں ہماری ۔ریحان پیار سے بولانجمہ بولی ۔آہ ۔بڑی ہو کر ماں پر ہی جائیں گی ۔کیوں کیا کیا اس نے؟کرنا کیا ہے نواب زادی نے سارا دن بیڈ توڑتی ہے اب خدمت کو بہن آ گئی ہے ۔ہر وقت میرے بیٹے سے لڑتی رہتی ہے اس کی توزندگی حرام کی ہوئی ہے ۔تیری بہن بچاری کام کرواتی ہے مجھے۔ریحان کے تیور بدلنے لگےاسکی تر بیت ہی نجمہ بیگم نے ایسی کی تھی کہ وہ ایک جذباتی آدمی بن گیا تھا اب وہ بات بات پہ مرنے مارنے کو تل جاتا۔بچپن سے ہی ماں نے خوب خوراکیں کھلائیں اور نجمہ بیگم اس کو دادی ۔پھوپھیوں ۔چچا اور خاندان کے دیگر افراد کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی تھیں ۔حتہ کہ بچپن میں پیسے دے کر کہتی تھیں کہ جاؤ باپ کے پیچھے جاسوسی کر کے آؤ کہ وہ کہاں جاتا ہے کیا کرے گا۔اگر چہ ریحان پڑھ لکھ چکا تھا مگر تربیت کا رنگ اس پر ایسا چڑھا کہ اب اترنا مشکل تھا اس کے جذبات اس کا غصہ اس کی سوچ نہ صرف منفی ہو چکے تھے بلکہ اس کے کنٹرول میں بھی نہیں تھے ۔وہ چھوٹی سی بات پر تباہی اٹھا دیتا اور بعد میں اس کو کبھی پچھتانا بھی پڑتا مگر ڈھٹیائی کا مظاہرہ کرتا۔وہ شرمین کے کمرے میں بھتیجیوں سے ملنے آیا تو کمرے میں صدیقہ بھی موجود تھی ۔صدیقہ بہت ہی معصوم اور سگھڑ لڑکی تھی ایف اے کے بعد امی کی بیماری کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔صدیقہ پہلی دفعہ گھر سے نکل کر کہیں آئی تھیجبکہ ریحان بھی خوبصورت شکل و شباہت کا نوجوان تھا بینک میں جاب کرتا تھا۔ریحان اب اکثر بھا بھی کے کمرے میں آنے جانے لگا تھا۔ وہ صدیقہ کو چاہنے لگا اور صدیقہ بھی دل ہی دل میں اس کو پسند کرنے لگیریحان کی ایک ماہ کی چھٹی تھی ایک دن ریحان نےصدیقہ کو گیٹ سے نکلتےہوئے ایک پرچی دکھائی اور پھر اسے زمین پر رکھ کر اس کے اوپر ایک اینٹ رکھی اور خود باہر نکل گیا۔اسکے جانے کے بعد صدیقہ نے وہ پرچی اٹھا کر بغل میں دبائی اور کمرے کا دروازہ بند کر کے پڑھنے لگی ۔اس پرچی میں محبت کا اظہار تھا اور ریحان کا فون نمبر بھی ۔مزید یہ لکھا تھا کہ میں تم سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں۔ کچھ دنوں بعد ہماری پھوپھو کے بیٹے کی شادی ہے فون پاس ہی رکھنا اور میری بتائی ہوئی جگہ پر آ جانا۔یوں شادی کے رش میں کسی کو تمہارے غائب ہونے کی کسی کو خبر بھی نہیں ہو گی۔صدیقہ بھی یہ سب پڑھ کر شرما سی گئی اس نے بھی سپنے بننے شروع کر دیئے کہ چلو دونوں بہنیں ایک ہی گھر میںہوں گی ایک دوسرے کے دکھ درد کی ساتھی ہوں گی


No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/