3_سانول_موڑ_مہار#_ماریہ_اشرف#_قسط_نمبر_
"اب بس بھی کرو بابا. تمہارے گلے میں کونسا اسپیکر سیٹ ہے جو اتنا اونچا اونچا تم دھاڑتا ہے" مارتھا بچی کو لیے تیز قدموں سے واپس جا رہی تھی اور اپنی ساری فرسٹیشن اس بچیپر نکال رہی تھی. بچی بھی مارتھا کے دیکھنے پر چپ ہو جاتی. لیکن جیسے ہی مارتھا کا دھیان سڑک کی طرف ہوتا بچی کا رونا شروع ہوجاتا."دیکھو بےبی تمہارا ماں باپ ایک اتھارٹی لیٹر ہاسپٹل کے عملے کو تھما کر خود تو چلتا بنا. اب اگر تم ان کے ساتھ ہوتا تو ہم سب ٹھیک ہوتے. مگر اس میں انکا بھی قصور نہیں یہاں کون ایسے بچوں کو لیکر جاتا ہے. سب ہاسپٹل والوں کو ہی دیکھنا پڑتا ہے" بچی نے رو رو کر مارتھا کی مت مار دی تھی."بےبی اگر رونا ہی تھا تو انکے سامنے روتا. سب تیرے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا مگر تب تو تم نے آنکھ تک نہ کھولی. اب تم خاموش نہیں ہوتا. دیکھ بابا ہم اگر تیری طرف ہی دیکھتا رہا تو بار بار ٹھوکر کھا کر گر ہی جائے گا. میں تو خود تیرے سے جان چھڑانا چاہتا ہے. اس عمر میں خود کوسنبھالے گا یا تیری ذمہ داری اٹھائے گا""گاڈ پلیز وہاں کوئی تو موجود ہو. ہم اس بچی کو اپنے ساتھ لیکر کہیں نہیں جائے گا" مارتھا بھاگم بھاگ اسے واپس لائی تو وہاں صرف الو ہی بول رہے تھے."او گاڈ یہ کیا ہو گیا. ابھی تھوڑی دیر تک تو یہاں پر سب موجود تھے" مارتھا کی جان خشک تھی."اب ہم تم کو کہاں چھوڑے گا. انتظار کرنے کا بھی فائدہ نہیں کوئی تم کو لینے نہیں آنے والا. ہم لیکر نہیں جانے والا. یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے. ہم اپنے کام سے غداری نہیں کرے گا"" مارتھا سر پکڑ کر رہ گئی."ایسا کرتا ہے ہم تم کو ادھر ہی کہیں پر چھوڑ جاتا ہے. اتنے بے اولاد لوگ یہاں سے گزرتے ہیں کوئی نہ کوئی تو تم کو اپنے ساتھ لے ہی جائے گا" مارتھا نے اپنا منہ لپیٹا اور بچی کو وہیں سڑک کے سائیڈ پر چھوڑ کر لوگوں کی نظروں سے بچتی بچاتی اپنے راستے نکل گئی........................"آرام سے آرام سے اور آہستہ آہستہ اسٹیچر کو اندر لے کر چلو" زینب مسلسل چلاتے ہوئے کہہ رہی تھی. انکے پیچھے خاور، شاہ زین اور جلال گردیزی بھی بھاگے بھاگے آ رہے تھے. زینبکی بات سن کر شاہ زین یکدم آگے بڑھ آیا اور وارڈ کے سامنے اس نے زینب کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا. جلال گردیزی اور خاور چونک کر شاہ زین کو دیکھنے لگے."پلیز بھابھی آپ اندر نہیں جائیں گی" شاہ زین نے سرخ آنکھوں سے زینب کو دیکھتے ہوئے کہا"لیکن زین وہاں فاطمہ کو میری ضرورت ہو سکتی ہے" زینب نے شاہ زین کو غصے سے کہا"ہاں ضرورت بھابھی ضرورت تھی ہمیں آپکی مگر آپ نے اورابی جان نے ایک بار بھی ہمیں بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ فاطمہ کے کیس میں کتنی کامپلیکیشنز ہیں" شاہ زین نے آخر کٹہرے میں ان دونوں کو کھڑا کر ہی لیا."فاطمہ صرف تمہاری بیوی نہیں ہے. میری بھی کچھ لگتی ہے" زینب کا شاہ زین کی بات سن کر دماغ گھوم گیا."رشتہ جتایا نہیں جاتا نبھایا جاتا ہے پھر وہ کوئی رشتہ ہی کیوںنہ ہو" شاہ زین نے جلے کٹے لہجے میں کہا"آپ صرف ابی جان کی بہو بن گئیں لیکن ایک جیٹھانی نہیں بن سکیں. آپ دونوں کم از کم مجھے تو آگاہ کر دیتے. وہاں بھی ڈاکٹر یہی کہہ رہے تھے کہ آپ کو پتہ تھا کہ یہ صورتحال پیدا ہو سکتی ہے. ہے نا" شاہ زین نے ان دونوں پر بگڑتے ہوئے کہا"زین تمہارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے کس قسم کی باتیں کر رہے ہو. یہی دیکھ لو کس سے اور کہاں پر بیٹھ کر تمہیں اعتراضات یاد آ رہے ہیں" خاور گردیزی اپنی آنکھوں سے گلاسز اتار کر انہیں اپنی شرٹ میں اڑاتے ہوئے بولے."بھائی میرے لیے ایک دھچکا کافی ہے جس نے مجھے میری حدود سے باہر نکال دیا ہے. آپ پلیز اپنی بیوی اور والد کو لیکر یہاں سے چلے جائیں. اور واپس مت آئیے گا. آپ کے ہونے نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا" شاہ زین نے بھائی کو بھی بیچ میں رگڑ دیا. قدرے ناراضی سے سب کو دیکھتا زین وارڈ کے اندر چلا گیا. پیچھے وہ تینوں گلٹی فیل کرتے انہی قدموں سے واپس لوٹنے لگے جن قدموں سے وہ ہاسپٹل آئے تھے.................................."کچھ تو شرم کرو تمہیں ہماری برسوں پرانی دوستی کا بھی خیال نہ آیا""کروڑوں کا ہیر پھیر کرتے ذرا خدا کا خوف نہ آیا""اور کچھ نہیں تو اپنی بہن کی زندگی کا ہی ایک بار سوچ لیتے""جسے برباد کیا وہ تمہاری بہن کا سہاگ تھا"" آفرین ہے تم پر بہت اچھی مثال لوگوں کیلیے قائم کی ہے. آئیندہ سے کبھی کوئی اپنے رشتہ داروں سے یا جاننے والوں سےپارٹنرشپ نہیں کرے گا""تمہاری خاموشی اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ تم نے ہی ہمیں قرضوں میں ڈبو دیا ہے""کیا آپ کو کچھ نہیں کہنا""نہیں....مجھے صرف اپنی بہن سے ایک بات پوچھنی ہے کیا اسے بھی مجھ پر یقین نہیں""ٹھیک ہے بلاو اسکی بہن کو. آج آخری بار یہ اپنی بہن کو بھی دیکھ لے""بھائی یہ آپ نے بالکل بھی اچھا نہیں کیا. اجاڑنے کو آپ کو یہی گھر ملا تھا""چلے جائیں آپ یہاں سے""سن لیا نکل جاو یہاں سے. آئی سے گیٹ آوٹ""جان محمد جان محمد اس شخص کو دھکے مار کر اس گھر سے نکال دو""اگر یہ شخص دوبارہ یہاں نظر آیا تو یہ کسی کیلیے بھی اچھا نہیں ہوگا""بھائی چلیں جائیں آپ یہاں سے. آج سے میرا کوئی بھائی نہیں ہے. بھائی...... بھائی""فاطمہ ہوش میں آو. یہاں کوئی نہیں ہے" شاہ زین نے فاطمہ کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا"زین میری بچی..." فاطمہ روتے ہوئے شاہ زین سے پوچھنے لگی. مگر شاہ زین کی نہ میں ہلتی گردن دیکھ کر وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی."وہ چلی گئی....وہ چلی گئی زین" فاطمہ کی چیخوں نے پورا وارڈ ہلا کر رکھ دیا...................................."خاور کیا میں کسی کیلیے اس گھر میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی" زینب ہاسپٹل کے بینچ پربیٹھی زاروقطار روئے جا رہی تھی. جلال گردیزی کو انہوں نے واپس گھر بھیج دیا تھا وہدونوں وہیں رک گئے تھے."بتائیں نہ پلیز خاور. کیا میں اتنی سیلفش ہوں کہ اپنے ہاتھوں سے کسی کی جان لے لوں" خاورخود زین کی باتوں سے پریشان تھا اوپر سے زینب رو رو کر الگ اسے ٹینشن دے رہی تھی."نہیں زینب تم نے کچھ نہیں کیا تم کیوں لوگوں کی باتوں کو دل پر لے رہی ہو""وہ کوئی اور نہیں میرے اپنے ہیں خاور کیسے ان کی فکر کرنا چھوڑ دوں" زینب نے بے بسی سے کہا"خاور ہم نے بہت کوشش کی تھی میں نے اور ابی جان نے. سچ میں. میں جھوٹ نہیں بول رہی" زینب یکدم خاور کا بازو پکڑ کر بولی "آپ مجھے بتائیں میں غلط ہوں کیا" خاور نے نہ میں کہتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا."اتنی نفرت، اتنی حقارت میں کیسے ہینڈل کر پاوں گی خاور. آئی ڈونٹ نو واٹ ٹو ڈو. مجھے کوئی نہیں سجھ رہا کوئی بھی نہیں. مجھے کتنی تکلیف ہو رہی ہے میں آپ کو کیسے بتاوں" زینب کا رونا ہی نہیں ختم ہو رہا تھا پتہ نہیں کن کن باتوں کو لیکر بیٹھی ہوئی تھی."آپ بھی مجھے غلط ہی سمجھ رہے ہیں خاور" زینب کو نئی فکر نے آن گھیرا. یکدم خاور کو دیکھتے ہوئے بولی."تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا" خاور نے زینب کے آنسو صافکرتے ہوئے پوچھا"تھک گئی ہوں میں. مجھے سمجھ نہیں آرہا میں ان سب کو کیسے فیس کروں گی. پلیز ہیلپ می خاور" زینب نے خاور کا ہاتھ تھام لیا"کوئی ضرورت نہیں کچھ بھی سمجھنے کی. میں شاہ زین سے بات کروں گا. اوکے. اب بس رونا نہیں" خاور نے زینب کو تسلی دیتے ہوئے کہا. زینب کی اپنی عقل تو مفلوج ہو چکی تھی. امید بھری نظروں سے وہ خاور کو دیکھنے لگی..........................."شاہ زین مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بھائی کی بد دعا لگ گئی ہے" فاطمہ نے خالی گود کو دیکھتے ہوئے شاہ زین سے کہا. شاہ زین نے ناسمجھی سے فاطمہ کو دیکھا."ایسا کچھ نہیں ہے. خوامخواہ کے خدشے ہیں تمہارے" شاہ زین کو اس کے بھائی کا بے وقت کا ذکر زہر لگا تھا."نہیں زین مجھے تو اب یہی لگنے لگ گیا ہے" شاہ زین پہلے ہی گھر والوں پر بھرا بیٹھا تھا اوپر سے بیوی اسکا دماغالٹا رہی تھی. ضبط کے مارے شاہ زین خاموشی سے فاطمہ کی باتیں برداشت کر رہا تھا."آپ کچھ کہتے کیوں نہیں" شہ زین کی خاموشی پر فاطمہ بول پڑی."تمہیں اس وقت اپنا بھائی کیوں یاد آرہا ہے" شاہ زین نے سیدھے ہوتے اس سے پوچھا."نہیں پتہ لیکن...." فاطمہ بولی ہی تھی کہ شاہ زین نے اسکی بات ٹوک دی."اگر نہیں پتہ تو اب اس شخص کا نام مت لینا" شاہ زین نے کوفت سے کہا تو فاطمہ اسکا چہرہ دیکھنے لگی. بات کرنے کو تو کچھ تھا ہی نہیں. دونوں اپنی اپنی سوچوں میں ڈوبے کمرے میں خاموشی سے بیٹھے رہے...........................کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر موجود آڑھی ٹیڑھی فائلوں سے انکا اچھا استقبال ہوا تھا. آخر ایک گہری سانس لیکر وہ کمرے میں داخل ہوئیں. اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بیڈ پر بناتے ہوئے وہ ایک ایک فائل کو سمیٹنے لگیں. فائلز کو ٹھکانے لگا کر وہ پیچھے مڑیں تو انکی اچانک نظر اپنے شریک حیات پر پڑی. بے اختیاری میں ہی وہ انکے قریب چلی آئیں."کوئی اس ہنستے چہرے کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس شخص کی زندگی میں کوئی غم نہیں یہ تو میں اور میرا خدا جانتےہیں کہ اس اسٹون مین میں غم سہنے کی ہمت کتنی ہے""کتنی ہی غیر متوقع چیزیں آپکی زندگی میں رونما ہوئی ہیں. کتنے طریقوں سے آپ کو توڑنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہر بار آپ ہمارے لیے نئے سرے سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں" وہ اپنے اسٹون مین کا ہاتھ تھام کر دوسرے ہاتھ سے انکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں."زندگی نے کتنے ہی امتحان لیے لیکن آپ نے ہر بار ثابت کیا ہے کہ گر کر اٹھنا ہی اصل کامیابی ہے" گزری زندگی کی کئی یادیں انکی آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چل رہی تھیں. اپنے لمس سے وہ اپنے اسٹون مین کی ساری تھکاوٹ اتار لینا چاہتی تھیں. آخر انکا تھاما ہوا ہاتھ دبا کر انہوں نے اپنے لبوں سے لگا لیا. یہیں انکی "بس" ہو گئی تھی.اپنے بالوں میں کسی کے ہاتھوں کی مسلسل گردش سے انکی ساری حساسیات بیدار ہو گئی تھیں. بند آنکھوں میں بھی وہ اس لمس کو اچھی طرح پہچانتے تھے. انکا عکس آنکھوں کے پردے کے پیچھے دیکھ سکتے تھے. اس لمس کو وہ ابھی اور محسوس کرنا چاہتے تھے کہ یکدم انہیں اپنے ہاتھوں پر نمی کا احساس ہوا. بس یہیں اس شخص کی بھیبس ہو گئی تھی. جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول کر اپنا دوسرا ہاتھ انکی گردن کے گرد حمائل کرکے انہیں اپنے قریب کر لیا."کیوں کرتی ہیں اتنا ظلم اپنی ان خوبصورت آنکھوں پر. آپکے ان آنسووں سے گزرا وقت تو پیچھے آنے سے رہا" اسٹون مین نے انکے کان میں سرگوشی کی."میں نے جتنی دعائیں آپکی کامیابی کیلیے کی ہیں اتنی ہی "ان" دھوکے بازوں کیلیے بد دعائیں کی ہیں" رندھی ہوئی آواز میں انہوں نے اپنی بات مکمل کی."دیکھیے بیگم جان اگر وہ لوگ بد دعاوں کے مستحق نہ ہوئے تو وہ آپکی انٹرنیشنل رومنگ پر لگی ساری بد دعائیں ایک ایک کرکے مجھے ہی پڑنی ہیں تو اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ میرے حق میں بس دعا ہی کیا کریں." ان کے اتنی وضاحت سے سمجھانے پر وہ ایک ادا سے اپنے سلکی بال پیچھے کرتے ہوئے بے ساختہ مسکرانے لگیں کہ ان کے ڈمپل نمایاں ہونے لگے."اف اف.... میری ظالم بیوی آپ نے مجھے اپنے ان کِلر ڈمپلز سے مار ڈالا" انکے یکدم چیخنے پر وہ حیرت سے انکی بات سمجھنےکی کوشش کرنے لگیں اور جب سمجھ میں آیا تو بے اختیار ہی مسکراتے ہوئے انکے سینے پر مکے برسانے لگیں. پھر تھکہار کر انہیں دیکھتے ہوئے سر جھٹک کر طمانیت سے وہیں سررکھ کر لیٹ گئیں. اسٹون مین آخر انہیں ماضی سے نکال کر حال میں لے ہی آئے تھے. بچے اور بیوی یہی تو انکا کل سرمایہ تھے اور انکا مستقبل بھی."دھوکہ کھانے والوں کو وقت کے ساتھ ساتھ ایک نہ ایک دن سکون مل ہی جاتا ہے لیکن دھوکہ دینے والوں کو کبھی سکوننہیں ملتا" یہی سب سوچتے ہوئے انہوں نے اپنی آنکھیں موند لیں..........................................."او بی بی اپنی بچی کو یہاں چھوڑ کر تم کدھر جاتا ہے" مارتھا دبے پیروں سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ابھی دو قدم بھی نہیں چل پائی تھی کہ بچی نے اتنا رونا مچایا کہ آس پاس سے گزرتے سارے لوگ مارتھا کو پکڑ کر لے آئے."دیکھو یہ ہمارا بے بی نہیں ہے" مارتھا دہائیاں دینے لگی."جھوٹ مت بولو بی بی ہم نے خود تمہیں یہ بچہ یہاں چھوڑ کر بھاگتے دیکھا ہے" وہاں موجود لوگوں میں سے کسی ایک نے کہا"تم ہمارا ٹرسٹ کیوں نہیں کرتا. ہم اس کو نہیں جانتا" مارتھا نے لوگوں کی سنجیدگی اور سرد مہری پر پھنسی آواز سے ساری کہانی سنا ڈالی."یہ جانتی ہو کہ اسکے ماں باپ کہاں رہتے ہیں" ان میں سے کسی ایک نے غصے سے پوچھا. مارتھا نے نہ جاننے کے باوجود ہاں میں سر ہلا دیا اور بچی کو گھورنے لگی."ایک بار میں یہاں سے جان چھڑا کر نکل جاوں اسکے بعد دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے" مارتھا اپنی سوچوں میں بےبی سے مخاطب تھی."گھر کا راستہ معلوم ہے نہ تو اٹھاو اس بچی کو" ایک اور شخص نے سرد مہری سے مارتھا سے کہا. مارتھا سوچوں کےبھنور سے باہر نکل کر بچی کو اٹھا کر جانے لگی کہ اسی شخص نے مارتھا کو بازو سے پکڑ کر روک لیا."کدھر بھاگ رہی ہو ایک بار تم بچی کو یہاں چھوڑ کر بھاگ سکتی ہو تو دوسری بار تو گلا ہی گھونٹ ڈالو گی" وہ شخص غصے کی انتہا پر پہنچا ہوا تھا."یہ بچی مجھے دو" اس نے بچی کو مارتھا کے ہاتھوں سے کھینچ لیا اور پیچھے مڑ کر اپنے ہٹے کٹے گارڈز کو اشارے سے اپنے پاس بلایا."بٹھاو اس عورت کو گاڑی میں. ہم ابھی آ رہے ہیں." مارتھا کی جان نکل گئی. وہ گارڈز اپنے باس کی ہدایت پر مارتھا کو لے کر چلے گئے.بچی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ شخص ہجوم کی طرف متوجہ ہوا. "میرا نام احمد شاہ درانی ہے. درانی گروپ آف انڈسٹریز کا اونر" انہوں نے اپنا کارڈ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے بتانا شروع کیا. پہلے رعب و دبدبہ، پھر غصہ، اسکے بعد گارڈز، پھر بھاری بھرکم نام اور عہدہ، سب رشک سے اس آدمی کو دیکھنے لگے."یہ میرا کارڈ آپ لوگ رکھ سکتے ہیں. میں اپنی ذمہ داری پر اس بچی کو اپنے ساتھ لیکر جا رہا ہوں. اگر یہ عورت جھوٹی نکلی تو یہ بچی میرے گھر پر رہے گی. اس کارڈ پر میرے گھر کا ایڈریس بھی لکھا ہوا ہے. آپ لوگ کبھی بھی آکر دیکھ سکتے ہیں یا پوچھ سکتے ہیں. کسی کو اعتراض نہ ہو تو اب ہمیں اجازت ہے" احمد شاہ درانی نے سب کی طرف دیکھتے ہوئےکہا اور اپنے ساتھ کھڑے آدمی کے ہاتھ میں اپنا کارڈ تھما دیا. سب کی خاموشی پر وہ بچی کے ہمراہ اپنی گاڑی کی طرف چل دیے......................................."ہاشمانی ہاوس" آگے پیچھے تین گاڑیاں مارتھا کے بتائے ہوئے گھر کے سامنے آکر رکیں. بچی کو تھوڑا سا شہد چٹا کر اسکی بھوک کا علاج کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ آرام سے احمد شاہ درانی کی گود میں سوئی ہوئی تھی."تمہیں پکا یقین ہے کہ یہی گھر ہے" احمد درانی نے بچی کو گاڑی میں ایک گارڈ کے حوالے کرتے ہوئے مارتھا سے پوچھا"ججی سر یہی گھر ہے" مارتھا نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا"چلو اندر چل کر ہی دیکھ لیتے ہیں" مارتھا کو غور سے دیکھتے ہوئے انہوں نے سر جھٹک کر کہا اور سربراہ کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگے......................................"اسلام وعلیکم. گڈ مارننگ ایوری ون" ڈائیننگ ٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے بآواز بلند سب کو سلام کیا"ڈیڈ صبح جلدی اٹھنے سے انسان کی طبیعت کافی اچھی ہوتی ہے. نہیں" اسکے سب سے چھوٹے بیٹے سنعان نے ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا"نہیں میری جان ایسے نہیں کہتے" اپنے بیٹے کی پلیٹ سے نوالہ لیتے ہوئے انہوں نے بیٹے کی بات کی تردید کردی."ایسے کہتے ہیں کہ لیٹ اٹھنے سے انسان کی طبیعت صاف ہوتی ہے" سنعان کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ کہنے لگے. جواب میںایک زبردست قہقہہ پڑا تھا."ویسے آپکی امی جان کو اتنا غصہ کیوں ہے" انہوں نے امی جان پر زور دیتے ہوئے پوچھا"امی جان تو مجھے بالکل مت کہیے گا. ممی بہتر نہیں ہے" امی جان انکی گھر میں چھیڑ تھی. بھڑکنا تو لازمی تھا."اچھا میرے بچوں کی ممی جان کیا ہوا ہے آپکو" انہوں نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اپنی بیوی سے پوچھا"فاطمہ کی آج بیٹی پیدا ہوئی ہے. ایک بار دیکھ ہی آتے. اسکی بچی کا ہماری لڑائی سے کیا تعلق" انہوں نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا"بیگم آپ جانتی ہیں کہ میرے لیے نہ کا مطلب نہ ہی ہوتا ہے تو آپ فضول سی باتیں کیوں کر رہی ہیں" باپ کا پارہ ہائی ہوتا دیکھ کر اسکی بیٹی عدن سامنے آئی اور باپ سے بولی."ڈیڈ باہر کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں" بیوی کی رات والی باتوں کو یاد کرتے وہ سر جھٹک کر باہر جانے لگے کہ پیچھے سے آواز آئی "دھیان سے دروازہ کھولیے گا کہیں آپکی بھانجی ہی نہ آپ سے خود ملنے پہنچ گئی ہو" بیوی کو گھورتے ہوئے وہ باہر نکل گئے.........................................."کبھی کبھی انسان اپنی ساری ترکیبیں لڑا چکا ہوتا ہے. ساری تدابیر ساری طاقت دھری کی دھری رہ جاتی ہے. اس وقت سب کچھ بس خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے. وہ جسے چاہے زندگی دے جسے چاہے موت" آنکھیں بند کیے بیٹھے پیر سائیں کی بات سن کر حجرے میں موجود ہر شخص انکی طرف متوجہ ہوگیا."انسان کو زندگی میں کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک وہ خود ہارنہ مان لے. یہی اسکے بیٹے نے کیا ہے. وقت کو کبھی بھی مٹھی میں قید نہیں کیا جا سکتا گھڑی کی سوئیاں آگے پیچھے کر دینے سے کبھی وقت نہیں بدلتا" سب نظریں نیچےکیے ان کی بات سن رہے تھے. اندازہ سب کو تھا کہ جلال گردیزی کی بات ہو رہی تھی. "جانتے ہو انسان کی سب سے بڑی ہار کیا ہوتی ہے" پیر سائیں کی بات سن کر سب اپنے لبوں پر قفل لیے ان کی طرف دیکھ رہے تھے. جہاں مرید کی عقل ختم ہوتی ہے وہیں سے تو مرشد کی شروعات ہوتی ہے."جب اسے دو اپنوں میں سے کسی ایک کو چننا پڑے" وہ پھر سے گویا ہوئے. "صرف دعائیں کرنے سے ہی کام نہیں بنتے. انسان کو خدا پر کامل یقین بھی رکھنا چائیے. اس نے تو اپنے ہاتھوںسے اپنے گھر آئی رحمت گنوائی ہے" پیر سائیں نے افسوس سے کہا"تو اسکا مطلب ہے کہ جلال گردیزی کی پوتی زندہ ہے" سب لوگ حیرت سے انکی بات سن رہے تھے کہ آخری بات پر چونک پڑے. ان میں سے کسی ایک نے ہمت کرکے پوچھ لیا."بلاشبہ وہ بچی زندہ ہے. محفوظ ہاتھوں میں ہے. وہ بچی تو بخت روشن ہے" پیر سائیں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا. "اسکے بیٹے کو پیغام بھجوایا تھا کہ اپنے ہونے والے بچے کی حفاظت کرنا مگر اس نے صرف اپنی بیوی کو چنا. کبھی کبھی انسان کا اپنا کہا بھی اسکے سامنے آجاتا ہے. اس لڑکے کو تو اختیار دیا تھا. اب یہ بچی انکے سامنے رہے گی مگر وہ اسے پہچان نہیں پائیں گے" پیر سائیں کی باتیں انہیں الجھن میں ڈال رہی تھیں."تو سائیں جب وہ بڑی ہو گی تو وہ اسے کیسے پہچانیں گے. جلال گردیزی اتنا سمجھدار ہے کہ وہ اتنی بڑی بات کا پتہ لگا لے""سمجھدار وہ انسان نہیں جو بڑی بڑی باتوں کا علم رکھے. سمجھدار تو وہ ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو جانے. یہ بچی انکی آنکھوں کے سامنے ہی پلے بڑھے گی" پیر سائیںکو تنگ و تاریک غار میں روشنی کی ایک کرن نظر آ رہی تھی."تو وہ اسے کیسے پہچانیں گے. بعد میں ماننے سے انکار کر دتا تے بچی تے رل جانی اے" وہاں بھانت بھانت کے افراد اپنے اپنے خدشات ظاہر کرنے لگے."وقت بہت بڑا منصف ہے. وہ بچی اپنے آپ کو خود منوائے گی""تو سائیں جیسے موسی فرعون کے گھر پرورش پانے گئے تھے کیا اسی طرح یہ بچی بھی غیروں کے گھر پلے گی" لوگوں کو تو ہول اٹھنے لگ گئے. پیر سائیں کی باتیں سن کر کئی لوگوں کے دلوں پر چھریاں چلی تھیں."موسی تو بادشاہ تھے. بادشاہ نے ایک بادشاہ کے گھر پرورش پائی اور ہم ادنی اور حقیر بندے ہیں کسی فقیر کے گھر جاتے ہی اچھے لگتے ہیں. یہ بچی تو وہاں جائے گی جہاں دلوںکی رونقیں ہونگی. جہاں زندگی کی رونقیں ہونگی. اس بچی کی مسکراہٹ سے تو ابھی کئی گھر آباد ہونے ہیں."وہاں موجود لوگوں نے پیر سائیں کی آنکھوں میں ایک چمک دیکھی اور یہ چمک اس بات کی عکاسی کر رہی تھی کہ بچی رونق میلے میں پہنچ چکی تھی......................................جاری ہے

No comments:
Post a Comment