مرکزی کردارنجمہ خالہ ۔ ریحانکاشان ۔سویرا ۔ شرمین۔احسناز روبینہ رضا
احسن چلا چلا کر شرمین سے کہ رہا تھا کچھ
بھی نہیں ہے کیا ہے بچی کو ؟خواہ مخواہ بچی کا ذہن خراب کر رہی ہو ابھی تو باہر دھوپ میں کھڑی تھی اسی لیے بخار ہو گیا ہے۔جبکہ شرمین اپنی گل رعنا کو بیڈ پر بخار میں بے بس نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی کہ ایک طرف آپ کہ رہے ہیں کہبچی کو کچھ بھی نہیں اور دوسری طرف کہ رہے ہیں دھوپ میں کھڑا رہنے کی وجہ سے بخار ہو گیا ہےاحسنشرمین کی بات کو نظر انداز کر کے کھانا کھانے لگا۔پھر وہ بخار کی عام سی گھر میں موجود دوائیں جو وہ دو دنوں سے دے رہی تھی گل کو پلا کر کچن میں چلی گئی جہاں احسن یوں کھانا کھا رہا تھا جیسے پہلی دفعہ دیکھا ہو۔شرمین ہمت کر کے پیار سے سمجھانے کے انداز میں بولی دیکھو احسن جو بخار دوائی دینے سے بھی نہ اترے اس کے پیچھے کوئی خطرناک وجہ ہوتی ہےاحسن نے کھانا کھاتے ہوئے غصے سے شرمین کو دیکھا اوربولا اچھا لیڈی ڈاکٹر صاحبہ۔مثلاً؟شرمین سنجیدگی سے بولی ۔مثلاً انفیکشن۔اب یہ کیا بلا ہوتی ہے ایک تو پڑھی لکھی بیوی سے شادی کرنا بھی عذاب ہی ہے۔ احسن پھر غصے سے ماتھے پہ بل ڈالتے ہوئے بولاحالانکہ تمہیں شکر ادا کرنا چاہیے۔شرمین کب چپ کرنے والی تھی۔اب تم مجھے کھانا کھانے دو گی یا نہیں۔احسن غصے سے غرایا۔حالانکہ وہ تیسری روٹی کو ہاتھ ڈال چکا تھادیکھو احسن 4 سال کی بچی کو تیسرا دن ہے بخار میں تپتے ہوئے اور تم ہو کہ بات سن ہی نہیں رہے ۔احسن وہاں سے کھانے کے برتن اٹھا کر باہر جا بیٹھا۔شرمین چند لمحوں بعد باہر احسن کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔دیکھو احسن گل کوپیٹ میں دائیں اور بائیں دونوں طرف درد بھی ہوتا ہے اگر ہم اسکا ایک چھوٹا سا ٹیسٹ کروا لیں گےتو تسلی ہو جائے گی وہ ٹیسٹ اتنا مہنگا بھی نہیں ہے مجھے لگتا ہے کہ اس کو گردے کا درد ہےRE Test صرف100 روپےمیں ہوجاتا ہے۔احسن جو تیسری روٹی کے سر چڑھ چکا تھا ہاٹ پاٹ کو زور سے پیچھے دھکیل کر بولا ۔یہ لو خود ہی کھاؤ۔جب بھی کھانے کے لیے بیٹھو یہ وہمی عورت ماتم شروع کر دیتی ہے ۔شرمین نے سوچا یہ میری بچی کا معاملہ ہے میری بچی تکلیف میں ہےاحسن ضدی طبیعت کا تھا بس جو کہ دیا سو کہ دیا اس کو شادی سے پہلے ہی ماں اور باقی رشتہ داروں اور دوستوں نے سمجھا دیا تھا پڑھی لکھی ہے پہلے دن سے دبا کر رکھنا ورنہ سر چڑھ کر ناچے گی۔اور احسن نے شعور کی کمی کی وجہ سے یہ سبق ایسا ازبر کیا کہ اب ہر بات کو انا کا مسلہ بنالیتا نہ تومعاملے کی نزاکت کو دیکھتا اور نہ ہی حالات کی سنگینی کو۔بس اسے یہی لگتا کہ یہ مجھ پر حکم چلا رہی ہے۔شرمین کچھ دیر کے بعد یہ سوچ کر کیا پتہ اب احسن ٹھنڈے دماغ سے سوچ لے ٹی وی لاونج میں چلی گئی مگر جیسے ہی احسن کی نظر شرمین پر پڑی وہ ٹی وی کا ریمورٹ پھینکتا ہوا یہ جا وہ جا۔گھر سے باہر نکل گیا۔شرمین ہمت ہار کر بخار میں بے سدھ بیٹی کے سرہانے بیٹھ کررونے لگی۔شرمین نے گل کو کچھ کھلانے کی غرض سے جگایا تو گل ہلی جلی ہی نہ۔شرمین نے ہاتھ سے سیدھا کرنے کی کوشش کی توگل پھڑکنے لگی۔شرمین تڑپ کر باہر کی طرف بھاگی کہ کسی کو بلا لائے ۔کہ دروازے میں احسن کھڑا سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کےبعد ڈھیٹائی سے بولا ۔صبح ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے۔مگر احسن صبح تک------ بچی کی حالت تو دیکھو.تو کیا اس وقت ڈاکٹر کو ٹائم دے رکھا ہے؟۔یہ کہ کر احسن وہاں سے چلا گیا جیسے تیسے شرمین نے پوری رات گل کو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتے جاگ کر گزار دی اور رو رو کر اللہ تعالی سے بچی کی صحت یابی کی دعائیں کرتی رہی۔ صبح احسن خود ہی بولا بچی کو تیار کرو اور چلو اس کی دوائی لے آئیں۔شرمین نے جلدی سے گل کے کپڑے تبدیل کیے اور خود بھی منہ ہاتھ دھو کر کنگھی کرنے لگی تو احسن بولا۔ویسے تو رونا دھونا ڈالا ہوا تھا اور اب ایسے پف سیٹ کر رہی ہوشرمین غصے سے کنگھی پٹختے ہوئے بولی جن کے ذہنوں میںگند بھرا ہوا ہو انہیں سارا جہاں گنداہی دکھائی دیتا ہے گل کو اٹھایا اور باہر نکل گئی۔-------****--------*****کاشان اور سویراکی ملاقاتو ں کا سلسلہ عروج پر تھا۔دونوں کا گھر چند گز کے فاصلے پر آمنے سامنے تھا۔کاشان اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا ٹک ٹکی باندھے سویرا کے گھر کو تاڑ رہا تھا کچھ دیر بعد اس کے چہرے پر خوش کن مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ تیزی سےالماری کی طرف مڑا اور بلیو کلر کی ہاف بازو ٹائٹ شرٹ پہن اس کی مردانہ وجاہت میںاور بھی نکھار آ گیا اس نے موٹر سائیکل کی چابی اٹھائی اور انگلی میں ڈال کر گھماتا ہو ا کمرے سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ ایک بار پھر پلٹا اور اس کے بعد کولون کی خوشبو نے پورے ماحول کو معطر کر دیا۔ایک بار پھر بالوں میں برش کیا۔اور سیٹی بجاتا انگلی میں موٹر سائیکل کی چابی گھماتا ہوا نیچے آیا۔موٹر سائیکل اسٹارٹ کیا اور چند لمحوں بعد سویرا کے گھر کی ایک طرف جا کر موٹر سائیکل کھڑا کیا اور دروازہ بجایا مگر کسی نےدروازہ نہ کھولا وہ حیران تھاکہ نجمہ خالہ تو جاچکی ہیں پھر یہ سویرا دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔ زرا سا دروازے کو پیچھے کی طرف زور دیا تو دروازہ کھل گیا ۔کاشان دبے پاؤں سویرا کےکمرے میں جا پہنچا ادھر ادھر دیکھا سویرا موجود نہ تھی ۔وہ واپس پلٹنے ہی والا تھا۔کہ واش روم سے شاور کی آوازآئی اس نے پلٹ کر دیکھاتو سویرا واش روم میں تھی اور باہر بیڈ پر اس کے پنک کلر کا خوبصورت ڈریس رکھا تھا۔کاشان کے چہرے پر ایک دفعہ پھر مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ سائیڈ پر رکھےصوفے پر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد سویرا ٹاول لپیٹے باہر نکلی اور بالوں کو زور سے جھٹکا دے کر پیچھے ہٹا کر بیڈ سے کپڑے اٹھا کرپلٹنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر کاشان پر پڑی جو بڑے انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا ۔سویرا گھبرا کر بولی تم ؟اور گھبرا کر واش روم کی طرف بھاگی۔کاشان بھی اسکے پیچھے بھاگا۔مگر سویرا دروازہ بند کرنے میں کامیاب ہو گئی۔اور کاشان دروازہ پیٹتا ہی رہ گیا۔سویرا بولی تم یہاں کیا کرنے آئے ہو اور امی کہاں ہیں؟آپ کا دیدار اوروہ تو بازار جا چکی ہیں تبھی تو میں آیا ہوں انہیںجاتا دیکھ کر۔مگر تم تو امی کے سامنے بھی آ جا سکتے ہو تمہیں انہوں نے منع تھوڑا کیا ہے۔ہاں وہ سب تو ٹھیک ہےمیری اپنی خالہ کا گھر ہے مگر پھرآپ کا دیدارِ خاص کیسے ہوتا؟سویرا بولی اب سیدھی طرح میری بات مانو اور یہاں سے فوراً چلے جاؤ ۔امی آ گئیں تو بہت بے عزتی ہو گی ۔سویرا منت اور دھمکی کی ملی جلی کیفیت میں بولی۔کاشان شرارت سے بولا ارے اب کون کافر جائےگا اور کیسے جائےگا۔ تم بھی عجیب ہو صحرا میں بھٹکتے ہوئے مسافر کودریا کے اتنے پاس لا کر اس کی پیاس کی شدت میں اضافہ کر کےجانے کو بولتی ہو میں اب کہیں نہیں جا رہا کسی وقت تو نکلو گی نا۔سویرا شرم کے مارے لال ہو رہی تھی ۔جیسے ہی کاشان صوفے پر بیٹھنے لگا نجمہ خالہ کی آو

No comments:
Post a Comment