Thursday, August 2, 2018

یہ جنون منزل عشق کا ہے قسط 13


http://novelskhazana.blogspot.com/



قسط_13از فرحت نشاط مصطفےایلاف کا حلق خشک ہوگیا تھااس کی زندگی کا یہ پہلو تو آج تک کوئی نہیں جانتا تھاکسی کو اس بھید سے آشنائی ہی نہ تھیتو اب یہ کیا ہوا تھا ??معلوم بھی ہوا تو کسے?کم از کم وہ اذلان کے سامنے تو اپنا یہ راز نہیں کھولنا چاہتی تھیکیا سوچے گا اذلان ??ایک اور بیوقوفیایک اور حماقتانہیں ہی کیوں پتہ چلا ?ایلاف نے دھڑکتے دل کے ساتھ اذلان کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھا تھااور کچھ کھوجنا چاہاتضحیک کا احساسبدگمانی کے رنگجیسے جیسے اذلان شاہ پڑھتا جا رہا تھا اس کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا" یہ آپ نے لکھا ہے ایلاف ?" اذلان نے تائید چاہیایلاف کی رائئٹینگ وہ دیکھ ہی چکا تھا سو انکاری ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا" انجام جو بھی ہو" ایلاف نے سوچا اور مرے مرے انداز میں سر ہلا دیا"آئی کانٹ بلیو دس....آپ اور یہ سب کب سے کر رہی ہیں یہ" اذلان شاہ شاکڈ ہو کے بولا" میٹرک کے بعد سے " ایلاف نے ہلکی آواز میں کہا" اب یہ میرا مذاق اڑائیں گے .." ایلاف نے سوچا" واقعی ایلاف آپ واقعی بہت بڑے بڑے کام کرتی ہیں ....ماں گئے ہم" اذلان شاہ نے کہاایلاف نے اپنا سر جھکا لیا" مذاق اڑا رہے ہیں میرا....آپ کو برا لگا ہے تو صاف کہیں"" ارے بالکل بھی نہیں ...یقین نہیں آرہا کہ یہ آرٹیکل انٹر کی ایک اسٹوڈنٹ نے لکھا ہے ...کیا آبزرویشن ہے ایلاف ...یو ڈو آ گریٹ جاب ...دس ٹاپک مسٹ بی انکلوڈڈ ان ہائی پروفائل بزنس میگزین....کیا عنوان ہے...Embedding agriculture in to the aggregate Economy " اذلان کے لہجے میں کیا نہیں تھاستائشتعریفمرعوبیتوہ سب کچھ جو ایلاف سننا چاہتی تھی"آپ سیریس ہیں ?....میرا دل رکھنے کو تو نہیں کہہ رہے" ایلاف کو یقین ہی نہ آیاابھی کچھ دیر پہلے تو کتنے کیڑے نکال رہے تھے اور اب اکنامکس پہ لکھا گیا اس کے فیچر پہ تعریفوں کے پل باندھدئیے تھے" اف کورس آئم سیریس. ..اکونومی اور زراعت کو آپ نے بہت اچھے سے ریلیٹ کیا ہے ...پاکستان کی اکانومی یو نو زراعت پہ ہی ڈپینڈ کرتی ہے ....آپ نے اس آرٹیکل کو دیا کیوں نہیں اب تک پریس کیلئے اور کس پیپر میں دیتیں ہیں آپ" اذلان نے اس کا حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ پوچھا بھی ہے"واقعی تھینک یو...." کہنے کے ساتھ ایلاف نے اسے میگزین کا نام بتایا" انہوں اس ٹاپ کلاس مضمون کیلئے تو ہائی کلاس میگزین ہونا چاہئے....ہم کچھ کرتے ہیں اس کا" اذلان نے کہا ." اب ایسا بھی کچھ نہیں ہے اتنا خاص...میری پہنچ تک جو پیپر تھا میں بھیج دیتی تھی" ایلاف نے اسے کہا" یہ اب میرا مسئلہ ہے اور مادام آپ ایک اکاؤنٹیٹ اور ایک زمیندار سے بات کر رہیں ہیں جس کے پاس باقاعدہ زراعت کی بھی ڈگری ہے" اذلان نے اسے بتایا"لیں زراعت کو بھی نہیں بخشا "" اور کتنی ڈگریز ہیں"" فی الحال تو یہی ہیں...اور کیا اب آپ نے سمری نہیں لکھنی...چلیں شاباش لکھنا شروع کریں" اذلان نے اسے حکم دیااذلان نے بک اٹھائی اور بولنا شروع کیاایلاف رجسٹر پہ دوبارہ جھک گئی تھی اذلان شاہ بہت روانی سے بول رہا تھا مگر قلم بار بار رک رہا تھاایک تو اذلان کا انگریزوں کی طرح کا ایکسنٹ ....وہ انگریزی بالکل اہل زبان کی طرح بول رہا تھا...اوپر سے کھڑکی سے آتی سرد ہوا ....پتہ نہیں انہیں کونسی گرمی چڑھی ہوئی ہے....اوپر سے منہ میں کیا پتھر رکھ کے بول رہے ہیں" ایلاف نے سوچا" کیا بات ہے " اذلان نے چوتھی مرتبہ اسے پین روکتے دیکھ کے پوچھا" آہستہ آہستہ بولیں....آپ کا ایکسینٹ ہی سمجھ نہیں آرہا ...اوپر سے یہ ٹھنڈ" ایلاف نے آدھا جملہ منہ میں ہی رکھا" پیپرز کے بعد آپ لینگویج کورس کریں گی ..." اذلان نے نیا آڈر پاس کیااور پھر آہستہ سے بولنے لگاایلاف شکر ادا کر کے دوبارہ لکھنے لگیباہر آج بادل بھی شرارت پہ آمادہ تھےہوا کی رتھ پہ سوار وہ راوی کنارے اڑے چلے آئےاور دیکھتے ہی دیکھتے خشک زمین پہ برسنے لگےاوربادلوں کی فطرت ہےکہ برسنے سے پہلے گرجتے ضرور ہیںاور کوئی کتنے بھی جتن کر لےفطرت بدلتی نہیںباہر کے موسم سے بے نیاز اپنے حال میں لکھتی ایلاف کے کانوںمیں بادلوں کے گرجنے کی آواز کیا پڑیروانی سے چلتا اس کا ہاتھ بہک گیاپورے صفحہ پہ انک پھیل گئی تھیبارش... ایلاف کی چھٹی حس نے اسے اشارہ دیا" توبہ ...یہ بارش کہیں اور کیوں نہیں برستی...رات میں برسنا ضروری ہے"ایلاف نے کانوں کے گرد مضبوطی سے چادر لپیٹیبادل گرجنے کے ساتھ ساتھ بجلی بھی چمکنی شروع ہوگئی تھی" اوہ ...بارش شروع ہوگئی ہے یہ کھڑکی بند کرنی پڑے گی " اذلان اٹھتے ہوئے بولاایلاف نے اسے روکنا چاہا ....کہ بارش ہورہی ہے کھڑکی کے پاس نہ جائیں...مگر وہ تو اذلان تھا ...اسے بارشیں تو نہیں ڈراتیں تھیںاذلان نے جونہی کھڑکی کی طرف ہاتھ بڑھا کے اسے بند کرنا چاہا ....اسی پل بجلی اتنی شدت سے چمکی تھی اور بادل گرجے تھے کہ بجلی کی چمک کا عکس اذلان کے پورے وجود پہ پڑاایلاف جو اسے ہی دیکھ رہی تھینہ جانے اسے کیا ہوا تھانہ جانے اپنے خوف کے زیر اثریااذلان کی پروا کا اثر تھا"کیا کر رہے ہیں آپ....نظر نہیں آرہا موسم کتنا خراب ہے ...پھر بھی کھڑکی کے پاس چلے آئے ...آئرن مین نہیں ہیں آپ...ابھی ہوجاتا کچھ تو..." ایلاف نے جھٹکے سے اذلان کا ہاتھ پکڑکے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی" ابھی یہ بجلی کچھ کر جاتی تو......." ایلاف اس سے آگے سوچنا بھی نہیں چاہتی تھیاس کا تو خون خشک ہوگیا تھا وہ اذلان کو کیا روکتی الٹا اذلان نے خوف سے کانپتی اس لڑکی کو سنبھالا تھااتنی پرواکیا واقعی اسے میری فکر ہے ?اسے محسوس ہونے لگا ہے میرا وجود اور اس کی اہمیتاذلان شاہ ایک خوشگوار سی کیفیت میں تھاایلاف نے اس کی چادر کا کونہ اتنی زور سے بھینچا ہوا تھا کہ اس کی مٹھیاں لال ہونے لگی تھیںاذلان نے اس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر اس کا توازن برابر کیااب وہ اس کے پاس تھیروبرو تھی" ایلاف ...یہ بجلی سے بھلا کیا ہوتا ہے ...واقعی ہم آئر ن میں نہیں مگر ہم اذلان شاہ ہیں ....اور یہ آپ کو کیا بارش سے ڈر لگتا ہے کیا?...کچھ نہیں ہوتا ایلاف بی بریو" اذلان نے اس کی ہمت بڑھاتے ہوئے ہولے سے اس کا چہرہ تھپتھپایاوہ جوآنکھیں بند کئے کھڑی تھی اذلان کی بات پہ اس نے آنکھیں کھولیں تھیں ....سبز کانچ میں آنسوؤں کی جھلملاہٹ تھی ....وہ کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح سہمی ہوئیںتھیںاذلان ان آنکھوں کو دیکھتے ہوئے نہایت مختلف کیفیت کا شکارہوا تھایہ وجود بہت خاموشی سے اپنی اہمیت منوا رہا تھااور ایلاف ....اذلان کے وجود پہ چھائی خوشبو اس کی سانسوں میںتحلیل ہونے لگی تھیبھیگی سی اک راتلے آئی کیا ساتھیہ دھڑکنے جو ہمیں کہنےلگیں ہیںخاموشی کے درمیاں کب چاہئے تھی باتیہ دھڑکنیں جو ہمیں کہنے لگیں ہیںنہ کہو .. نہ سنوخاموشی گفتگو ہونے لگی ہےزندگی خواب میں گم ہونے لگی ہےوہ دو دل آج ایک دوسرے کی دھڑکن سن رہے تھےان کے بیچ خاموشی بے حد معنی خیز تھیتیری خوشبو پروئی سانسوں میںدھڑکن کا جو تو ورد ہوابنا خواب تو جاگے آنکھ میںمیری روح کو تونے جو چھواکچھ یاد ہی نہیں اب توجانے کون ہے تو میرا سبآج کی رات اذلان شاہ اور ایلاف کیلئے اپنے جلو میں لے کے بہت کچھ لے کے نکلی تھیبہت انوکھے سے رنگ جو روح پہ ہی چڑھتے ہیںجن کا رنگ نہایت پکا ہوتا ہےیہ روح سے روح کا احساس جڑ رہا تھاجو ہر رشتے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہےکسی رشتے کی مضبوطی جاننی ہے تو اسے روح کی گہرائی سے محسوس کرواترنے دو اسے روح کے اندرجسموں کے تعلق پھر بے معنی ہوجاتے ہیں"ایلاف کچھ نہیں ہوا آئی ایم اوکے ....آپ کا کئیرنگ کا انداذ مجھےپسند آیا ...بٹ ناؤ نارمل ہوجائیں ...پھر بعد میں شکوہ نہ کیجئے گا آپ کو ہوش میں لانے کیلئے کیا کچھ اور ٹرائی کریں" اذلان شاہ نہ جانے کتنی دیر بعد سہی نارمل ہوا تھاایلاف اس کے لہجے پہ یوں چونکی جیسے ابھی ہوش میں آئی ہواسے نہیں پتہ تھا وہ اتنی جذباتی کیوں ہوئی وہ تو ایک پریکٹیکل سوچ رکھنے والی لڑکی تھی مگر اس شخص کے سامنے وہ ہمیشہ کمزور ہوجاتی تھیجس کونے سے اس نے اذلان کی چادر پکڑ رکھی تھی اسی سرے کو اس نے منہ پہ رکھ کے رونا شروع کردیا تھا" مجھے بارش کبھی اچھی نہیں لگی ....یہ چمکتی بجلی....گرجتے بادل ....برستی بارش.....مجھے ہمیشہ ڈراتے ہیں...میں بہت اکیلی ہوتی ہوں ہر بارش میں ...کوئی نہیں ہوتا مجھے یہ بتانے والا کہ یہ بارش صرف پانی ہے .. .میرے لئے یہ صرف خوف کا سمندر ہے جس میں ....میں ہمیشہ ڈوب جاتی ہوں"ایلاف کو آج اس کے کندھے پہ سر رکھ کے رونے کا جو موقع ملاتو اپنا سارا دکھ کہہ دیا تھا"ایلاف ....پلیز آپ اب اکیلی نہیں ہیں.. ہم ہیں آپ کے ساتھ ...تو فکر کیسی ...بس چپ ہوجائیں اب" اذلان نے اسے چپ کراتے ہوئےاس کے آنسو پونچھے تھےاندر ہی اندر کہیں کچھ چبھا بھی تھاجو اتنا اکیلا ہو اس کے ڈر بے حد معمولی سہی مگر اسے ڈراتے بہت ہیںایلاف جب جی بھر کے رو چکی تو آنسوؤں سے بھرا منہ اذلان کی چادر سے ہی صاف کرلیا" مجھے لگ رہا ہے ایلاف آپ کا دل آگیا ہے میری چادر پہ پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہیں ہیں....ایسا کر لیں آپ رکھ لیں" اذلان نے نرمی سے اس کا موڈ بدلنے کی خاطر طنز کیاایلاف کو بات سمجھ میں آئی تو اسے احساس ہوا وہ کس کے روبرو ہےاتنی نزدیکیاںتو خواب میں بھی نہ سوچیں تھیں .احساس ہونے پہ وہ ایک دم پیچھے ہوئی تھی" میں جاؤں اب....ٹھیک ہوں میں" ایلاف نے پلکیں جھکا کے کہاوہ اب اس شخص کے سامنے مزید اگر کھڑی ہوئی تو اور کتنی حماقتیں کرے گی" میرے خیال سے آپ کا جانا ہی بہتر ہے اب ... ورنہ شاید آج ہم وقت مٹھی میں ہی قید کرلیں گے" اذلان کے لہجے میں آنچ سی تھیایلاف سے کھڑا رہنا دوبھر ہوگیا تھاوہ بنا کچھ مزید کہے پلٹ گئی تھی______________________________امیراں کیلئے ایلاف اگر عجوبہ تھی تو اب اذلان بھی اسے کسیاور سیارے کی مخلوق لگنے لگا تھاایلاف کیلئے اس نے صبح میں ایک فیمیل ٹیوٹر کا ارینج کر دیا تھا اور جب بھی وہ گھر پہ ہوتا ایلاف کی شامت بلائے رکھتا تھااس دن کے بعد سے ایلاف اور محتاط ہوگئی تھیڈکشنری سے چن چن کے نت نئے الفاظ نکال کر اپنے ہر ٹاپک پہ ڈالتی تھی یوںکہ اذلان خون کے گھونٹ بھر کے رہ جاتا تھا" خود ہی تو کہتے ہیں کہ ہائی پروفائل vocabulary یوز کرو تو اب"ایلاف کے پاس جواب حاضر تھااذلان اسے گھور کے رہ جاتا تھااور بدلے میں وہ اسے اکاؤنٹنگ کی اتنی بیلنس شیٹس بنواتا تھا کہ ایلاف کا ہاتھ دکھ جاتا تھاایلاف اگر باتوں سے چرخے لگاتی تھی تو اذلان شاہ عمل کا قائل تھااس نے ایلاف کو ہر ٹاپک یوں پڑھایا تھا کہ ایلاف کولگتا اس نے گھول کے پی لیا ہےوہ رات کو دیر تک اس کے ساتھ اسٹڈی میں الجھا رہتا تھاامیراں دونوں کیلئے کافی بنا بنا کے بے حال ہوجاتی تھیوہ جب بھی کافی لے کے آتی تو وہ دو دونوں کسی ٹاپک پہ الجھے ہوتے تھے" یہ کہاں کے میاں بیوی ہیں ....پیار محبت کی باتیں کرنے کے بجائے گٹ پٹ کرتے رہتے ہیں" امیراں کیلئے یہ سب بڑا دلچسپ ہوتا تھا اور انوکھا بھیایلاف کا آرٹیکل ایک بزنس میگزین میں چھپ چکا تھا جسے پسندیدگی کی سند ملی تھی ایڈیٹر نے اسے مزید لکھنے کو کہا تھا مگر فی الحال وہ پیپرز کی وجہ سے مصروف تھی اوروہ آرٹیکل بھی اس نے ماموں کے گھر شادی سے پہلے لکھا تھا ... اذلان کے پوچھنے پہ اس نے بتایا تھااب اس کی تیاری اتنی اچھی گئی تھی کہ اس نے ہر پیپر بہت آرام سے دیا تھا یہاں تک کہ اکاؤنٹنگ جیسا سڑیل پیپر بھی اس کا اتنا اچھا ہوا تھا کہ ایلاف کو واقعی لگا تھا کہاذلان نے اسے کچھ پڑھایا ہےاور اذلان شاہ وہ کونسا کم تھا اس نے ایلاف سے پورا پیپر گھر پہ دوبارہ کروایا تھا بقول اس کے"اب رزلٹ آنے کا انتظار کون کرے آپ مجھے یہیں کر کے دکھائیں "" دوبارہ..." ایلاف مری مری آواز میں بولی" جی دوبارہ...." اذلان نے ایک ایک لفظ پہ زور دیااور ایلاف کا پیپر چیک کر کے اسے لگا تھا کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوئی تھی" کم از کم اس میں تو آپ کی سپلی نہیں لگے گی" اذلان نے سیدھے لفظوں میں تعریف کرنا تو سیکھا ہی نہ تھا" بہت مہربانی آپ کی.....فکر نہ کریں میرا رزلٹ بہت شاندار آنے والا ہے " ایلاف کو غصہ ہی آگیا تھا" اس آدمی کے نخرے ہی نہیں ختم ہوتے "" آپ نے کچھ کہا " اذلان سن چکا تھا اس لئے تصدیق چاہی تھی" میری کہاں اتنی مجال....." ایلاف صاف مکر گئی تھی" توبہ کتنے تیز کان ہیں" اب کے اس نے صرف سوچا تھا______________________________پیپر ختم ہوا تو ایلاف نے سکون کا سانس لیا تھا کہ اذلان کی استادی سے جان چھوٹی وہ صحیح معنوں میں جان کو آجاتا تھاایلاف ناشتہ کر چکی تو کچھ سوچ کے اذلان کے کمرے کی طرف چلی آئی" بختاں کیا کر رہی ہو"" جی یہ صاحب کے کپڑے ہیں استری کرنے والے اور ان کی الماری بھی درست کرنی ہے موسم بدل رہا ہے تو اس کے حساب سے" بختاں نے آج پہلی بار ایلاف کے مالکانہ انداز دیکھے تھے" تم ایک کام کرو یہ بیڈ شیٹ اور پردے چینج کرلو یہ میں کرلوں گی" ایلاف آگے آ کے الماری کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بولی" آپ " بختاں کو حیرت ہوئی تھیچار مہینے سے اس نے اس گھر میں تنکا نہیں ہلایا تھا اور آج وہ صاحب کے کام کر رہی تھیچار مہینے ہوچکے تھے اس گھر میں اسے" کیوں اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے ....اپنے شوہر کے کام تو بیوی کو خود ہی کرنے چاہئے نا....چلو اب تم اپنا کام کرو" ایلاف نے اسے کہا" اتنے مہینوں سے کیا سو رہیں تھیں یا انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ پیر سائیں ان کے شوہر ہیں ....بے چارے پیر جی" بختاں تو آج امیراں کی اس بات پہ ایمان لے آئی تھی کہ یہ بی بی کسی اور سیارے کی مخلوق ہےورنہ اس سے پہلے وہ ہمیشہ امیراں کو جھڑکتی ہی تھی کہ اسے ہر وقت ان دونوں کی فکر کیوں رہتی کہوہ دونوں اسٹڈی میں ایک ساتھ تو ہوتے ہیںتو ایک کمرے میں کیوں نہیں ہوتےاذلان کی وارڈروب سیٹ کرنے میں اسے ذیادہ وقت نہیں لگا تھا ظاہر ہے اتنے نفیس آدمی کی وارڈ روب بکھری ہوئی تو ہو نہیںسکتی تھیکپڑے استری کر کے اس نے الماری میں ٹانگے اور کچن میں آگئی تھی" امیراں کیا پکا رہی ہو آج"" آج جی مچھلی بنانی ہے ... صاحب نے کہا ہے ان کی فرمائش پہ" امیراں نے کہا" ہٹو آج میں کھانا بناؤں گی " ایلاف نے اس حیران ہی کردیا تھا"آپ کو کھانا بنانا آتا ہے ?" امیراں حیرانی سے بولی" یہ بی بی کھانا اتنی مشکل سے کھاتی ہے تو ...پکانا کیا خاک آتا ہوگا" امیراں آخر کو اذلان کی ملازمہ تھی اسے بھی کوئی خاص امید نہ تھی ایلاف سے" ارے امیراں بی بی ....ایسی مچھلی بناؤں گی کہ تمہارے صاحب گوالمنڈی کی مچھلی بھول جائیں گے " ایلاف جوش سے آستینیں چڑھاتی ہوئی بولی______________________________" ان گاڑیون کی بکنگ جو ہوچکیں ہیں انہیں جلد از جلد ڈلیور کراؤ یوں کلائینٹس کا وقت خراب نہ کرو" اذلان شاہ اس وقت اپنے شو روم میں تھاوہ جب بھی شہر میں ہوتا تھا روز ایک چکر اس جگہ کا لگاتا تھا" میں اب جا رہا ہوں ....جیسا کہا ہے ویسا ہی ہونا چاہئے" منیجر کے ساتھ باہر آتے ہوئے وہ اسے کہہ رہا تھا" مجھے پیر اذلان شاہ سے ملنا ہے " وہ تئیس چوبیس برس کا نوجوان تھا" آپ کی اپائنٹمنٹ ہے" رسیپشنسٹ نے پوچھا تھا" نہیں بٹ یہ ضروری ہے "اذلان شاہ جو باہر جا رہا تھااپنے نام کی پکار پہ وہ رسیپشن کی طرف چلا آیا تھا" فرمائیں ...ہم ہیں پیر اذلان شاہ ...غالبا ہم اس سے پہلے نہیں ملے " اذلان شاہ اس نوارد کو دیکھ کے بولا" جی ...کیا ہم اکیلے میں بات کریں " وہ لڑکا کچھ گھبرایا ہواتھاشاید اذلان کی شان دار شخصیت کا اثر تھا" اوہ آپ میرے منیجر سے بات کرلیں اگر جاب چاہئے ...ہمیں کچھ کام ہے" اذلان کو لگا اسے جاب کی ضرورت ہے"یہ ..... ان کے بارے میں ہے " اس نے جو نام لیا تھا اذلان شاہ کو مڑنا ہی پڑا تھا______________________________امیراں تو ایلاف کی پھرتیاں دیکھ کے حیران تھیمچھلی پہ مصالحہ لگانے کے بعد اس نے پلاؤ بنانا شروع کردیا تھا اس کے بعد سلاد اور رائتہ ایک بہترین لنچ تیار تھاکچن سے فارغ ہونے کے بعد ایلاف اپنے کمرے میں جا چکی تھی فریش ہونے" پیر سائیں .....آج تو ایلاف بی بی نے تو مجھے حیران ہی کردیا ...مینوں پتہ ہی نہ تھا انہیں سب بنانا آتا ہے" امیراں کی گاڑی اذلان کو دیکھتے ساتھ اسٹارٹ ہوئی تھی" کہاں ہے وہ?" اذلان اس کی بات پہ توجہ دئیے بنا بولا" وہ جی اپنے کمرے میں" امیراں کو اذلان کی سرد مہری بہت کھلی تھیاذلان شاہ ایلاف کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا" آپ آج جلدی آگئے" ایلاف جو کچھ لکھ رہی تھی اسے دیکھ کے کھڑی ہوگئی تھیاذلان نے دروازہ بند کردیا تھاایلاف نے اپنی دھن میں دھیان ہی نہیں دیا تھا"اچھا ہوا آپ آگئے ....میں نے نیا آرٹیکل شروع کیا آپ بھی دیکھیں" ایلاف نے اذلان کی طرف پیپر بڑھائےجسے اذلان نے دور جھٹکتے ہوئے ایلاف کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا" یہ سلمان کون ہے ایلاف"اور اذلان شاہ وہ آخری شخص تھا جس سے ایلاف کو اس سوال کی امید نہ تھی______________________________جاری ہے

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/