#یہ_جنون_منزلِ_عشق_ہےقسط_14از فرحت نشاط مصطفےایلاف کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھااس سوال پہکیا کہا آپ نے?" ایلاف کو یقین ہی نہیں آیا تھااذلان شاہ کانوں کا اتنا کچا بھی ہو سکتا ہے" ہم نے پوچھا ...سلمان کون ہے ...ایلاف بی بی?" اذلان شاہ نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا تھا"جس سے آپ نے سنا ہے اسی سے پوچھ لیتے نا آپ تو میرے پاس نہ آنا پڑتا آپ کو " ایلاف چٹخ کے بولی" آپ کو کیا لگتا ہے ہم نے پوچھا نہیں ہوگا ....ہم آپ سے صرف تصدیق چاہتے ہیں تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی رہے....ایلافبی بی " اذلان شاہ کا انداز بے حد بے لچک تھا" شک کر رہے ہیں آپ مجھ پہ" ایلاف نے صدمہ سے پوچھا" شک ....ہمارے اور آپ کے بیچ ابھی تو اعتبار کا پل بننا شروع ہوا تھا مگر آپ کی اصلیت نے سب پاش پاش کر دیا " اذلان شاہکو بھی کچھ صدمہ نہ تھا" ایک شوہر اور ایک مرد کیلئے اس سے بڑھ کر شرمندگی کا مقام اور کیا ہوگا جب کوئی اس سے آ کے کہے ....کہ اس کی بیوی اسسے خوش نہیں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اسے آزادی چاہئے تاکہ وہ اپنی پسند سے زندگی گزار سکے .....ہم نے آپ سے کہا تھا ایلاف بیگم ....کہ نہیں رہنا چاہتی تو نہ رہیں مگر اب اس مقام پہ جب آپ کو دنیا اذلان شاہ کی بیوی کے نام سے جانتی ہے تو آپ اب اپنے راستے الگ کرنا چاہتی ہیں....اور پیغام بھی بھیجا تو اپنے دعویدار کے ہاتھوں " اذلان شاہ پھٹ پڑا تھااور ایلاف ....اس کا بھی دماغ گھوم گیا تھااس کی پرانی زندگی کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی یہحوالہ قبر تک اس کے ساتھ جائے گا ...ان پرانی گلیوں سے ہمیشہاسے ذلت کے ٹوکرے ملتے تھے اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا....انہی گلیوں کے ایک رہنے والے نے ایک مکین نے ایک بار پھر اس کیلئے ذلت کی سوغات بھیجی تھیجو ایلاف کی چار ماہ کی ریاضت کو بیکار کر گئی تھی"ان گلیوں سے مجھے ہمیشہ رسوائیاں ملیں ہیں اور اب بھی....میں نے آپ سے کہا تھا میں وہاں دوبارہ نہیں جانا چاہتی .. مگر آپ کے کہنے پہ گئی تھی میں وہاں ....وہیں رابعہ باجی کے گھر بھی چلی گئی تھی مجھے پتہ ہوتا کہ ان کے گھر جانا میری زندگی میں ایک بار پھر زہر گھول دے گا تو میں کبھی نہیں جاتی...اذلان شاہ آج ایک بات کلئیر کر لیتے ہیں .. میں روز روز آپ کو صفائیاں نہیں دے سکتی...ایک سلمان تھا...ایک ثاقب بھی تھا....اور بھی پتہ نہیں کتنے ہوں گے.." ایلاف غصے سے بولتے بولتے ہانپ گئی تھی" وہ سلمان رابعہ باجی کا دیور ہے اس دن جب میں ان کے گھر تھی تو میں نے ان سے ہی بات کی تھی ...اس نے ہماری باتیں سنیں ہیں وہ بھی ادھوری اور اپنے مطلب کا نتیجہ نکال لیا ....کھٹکے کی آواز پہ باجی اندر گئیں تھیں ...اور میں بیوقوف سمجھی وہ بلی ہے مگر وہ تو سلمان نام کا ناگ نکلاجو میری زندگی مین زہر گھولنے آیا ہے...ایک بات کان کھول کےسن لیں آپ ...میرا ان غیرت سے عاری مردوں سے کوئی تعلق نہیں...اس رات وہ سب وہاں تھے میری ہم سفری کے خواہ...ان میں سے ایک بھی آگے نہ بڑھا تھا ...صرف آپ تھے ..آپ اذلان شاہ جنہوں نے مجھے اپنے نام کی چادر دی ....اور آج کیا آپ اسے میرے سر سے اتارنا چاہتے ہیں...آپ کو ہوا کیا....کیا کوئی بھی آپ کے پاس آ کے کہے گا کہ وہ آپ کی بیوی سے محبت کا دعویدار ہے ...برائے مہربانی پیر صاحب آپ اسے چھوڑ دیں تاکہ میں اسے اپنا سکوں....ہوا کیا ہے آپ کی غیرت کو...آپ نے اس کا منہ کیوں نہیں توڑا" ہم اور اس کا منہ توڑتے...جو اتنے یقین سے وہ ساری سچائیاں اور حقائق بتا رہا تھا جو ہمارے اور آپ کے بیچ میں تھیں....ہمفرشتہ نہیں ہیں ایلاف ...جو ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ ادھوری بات پہ فسانہ ہمیں سنا رہا ہے...ہماری جگہ کوئی بھی ہوتا کیا اس کی غیرت گوارا کرتی کہ اس کی بیوی اپنے دکھ سکھ اپنے شوہر کے بجائے کسی اور سے کر رہی ہے " اذلان نے اس سے الٹا سوال پوچھا تھا"اذلان ایک بات آپ جان لیں آپ سے پہلے میری زندگی میں نہ کوئی آیا ہے نہ آئے گا....میرے پاس آپ کو یقین دلانے کیلئے کوئی گواہی نہیں ہے ....کرنا ہے تو کریں ..نہیں جو مرضی ہے کریں...مگر اب میں اپنے کردار پہ کوئی بات برداشت نہیں کروں گی " ایلاف بپھرا ہوا طوفان بنی ہوئی تھیآگ لگانی ہے ایسے ساتھ کوجہاں ہر وقت صفائیاں دینی پڑیں" اور آپ اگر رابعہ کے گھر گئیں تھیں تو ہم سے پوچھنا تو دور کی بات بتانا بھی گوارا نہیں کیا?" اذلان کو اس سارے فساد کی جڑ ایلاف کا رابعہ کے گھر جانا لگ رہا تھا" کیا ...اب میں سانس بھی آپ سے پوچھ کے لوں....کیا میرا اپنے اوپر کوئی حق نہیں..." ایلاف کو لگا آج سے اس کے سانس لینے پہ بھی پابندی ہوگی" فضول بات مت کریں....اگر مرد کو خدا نے عورت کا کفیل بنایا ہے تو کسی وجہ سے ہی بنایا ...آپ ہم سے پوچھ لیتیں یا بتا دیتیں ہمارے علم میں تو ہوتا پھر یہ سارا گھڑاک کھڑا ہی نہ ہوتا " اذلان شاہ کو وہی قصور وار لگی تھی" آپ نی غلطی کو قدرت کے فیصلوں میں نہ لپیٹیں...پیر صاحب....اگر اتنا ہی مانتے ہیں تو جانتے ہیں کہ تہمت کی سزا کیا ہوتی ہے جا کے پکڑیں اس رزیل انسان کو جس نے مجھ پہ تہمت لگائی ہے...میں پاکباز ہونے کا دعوی نہیں کرتی مگر میرے کردار میں کوئی کھوٹ نہیں ہے...میں چار ماہ سے آپ کے گھر میں ہوں آج تک آپ کے بغیر گھر سے نہیں نکلی....صرف ایک بار آپ کے ڈرائیور کے ساتھ اور آپ کی محافظوں کے ساتھ گئی تھی ...اتنا تو آپ جان گئے ہوں گے " ایلاف کا بس نہ چلتا تھا وہ اذلان شاہ کو کیسے بتائے"ایلاف پھر بھی آپ کو بتانا چاہئے تھے ...اپنے رشتے کے کچے پن سے ہم دونوں ہی واقف ہیں"" مجھے آپ سے کچھ نہیں کہنا اور جو آپ کا دل کرے کریں..." ایلاف کو غصہ ہی آگیا تھا اذلان کی ایک ہی بات کی رٹ سن کے" ہم جانتے ہیں آپ کو برا لگا ہے مگر ہم بھی کیا کرتے ہمارے نام کی بے قدری ہو اسے بے مول کیا جائے ...ہم سے برداشت نہیں ہوتا ...آئم سوری ...آئندہ آپ جہاں بھی جائیں ..ہمیں علم ہونا چاہئے ہم مزید کوئی اسکینڈل افورڈ نہیں کرسکتے وہ بھی اس موڑ پہ جب سارے خاندان کو پتہ چل چکا ہے ....ہم آپ کو زندہ دفن تو کرسکتے ہیں مگر آپ کو آزاد نہیں کرسکتے" وہ وہی اب پرانا اذلان لگا تھا ایلاف کوسرد مہراناپرستاپنے سے ہزاروں میل کے فاصلے پہابھی تو کچھ برف پگھلنی شروع ہوئی تھیابھی تو کچھ اعتبار کے رنگ چڑھنے شروع ہوئے تھےایسا کیوں ہوتا تھاجب بھی ان دنوں کے درمیان اعتبار کا رشتہ بننے لگتاشک کا ناگ پھر سے انہیں ڈس لیتاایلاف کو اپنی زندگی میں شک کا سانپ ....سانپ سیڑھی والے کھیل میں موجود اس سانپ کی طرح لگا تھا جو جیت کے قریب کھلاڑی کو بار بار اٹھا کے نیچے پٹخ دیتا تھااذلان شاہ جا چکا تھا ...ایلاف نے مزید بنا کچھ کہےلب بھینچ لئے تھے"اس کے ہر سانس کی اطلاع بھی اب اذلان کو دینی ہوگی" ایلاف کی بدگمانی پھر سر چڑھ چکی تھیمیں اگر ہوں اس کی پناہمیرا دل تو قید نہیں رہامیرے ہر نفس پہ ہے حق میرامیں کہاں جاؤں جئیوں کس طرحنہ مدوا ہے کوئی پیاس کانہ سکون پاتا دماغ ہےجو نہ دھل سکےجو نہ مٹ سکے میری زندگی میں وہ داغ ہے______________________________" پیر سائیں ....کھانا لگا دیا ہے آجائیں " امیراں نے اذلان کو آندھی طوفان کی طرح باہر جاتے دیکھا تو فورا اس کے پاس آئیاذلان بنا رکے آگے بڑھ چکا تھا" انہیں کیا ہوا ہے" امیراں نے حیرت سے سوچا"بی بی صاحب کھانا کھائے بغیر چلے گئے .. واپس آئیں گےآپ کیلئے لگاؤں کھانا..." امیراں ایلاف کے پاس آ گئی تھی"کھانا نہیں زہر لا دو مجھے....اور اپنے پیر سائیں سے ہی جا کے پوچھنا....خدائیفوجدار ہیں نا خدانخواستہ ....جو ان کا دل کرتاہے کرتے ہیں ...جب دل کیا زمین سے اٹھا کے پہلو میں بٹھا لیا ....جب دل کیا...پھر سے پاتال کی پستیوں میں دھکیل دیا " ایلاف نے آدھی بات امیراں سے کی اور آدھی بات سوچی تھیاپنے سوگ میں اس نے اذلان کا سوری سنا ہی نہ تھا" ہیں...." امیراں کو وہ پاگل لگی تھیابھی تو ٹھیک تھیں یہ" جاؤ یہاں سے." ایلاف کا دماغ اس وقت تپتی ہوئی بھٹی بنا ہواتھاامیراں نے کھسکنے میں ہی عافیت جانی______________________________" داد شاہ اسے ڈھونڈو وہ ہمیں ہر قیمت پہ چاہئیے ....وہ اسی شہر میں ہی ہے ...یہ کام جتنا جلدی ہو اچھا ہے" اذلان شاہ ڈرائیو کرتے ہوئے داد شاہ سے مخاطب تھاداد شاہ اس کا صحیح معنوں میںوفادار تھافون بند کرنے کے بعد اذلان لب بھینچ کے سامنے ونڈ اسکرین کے پار دیکھنے لگا" آپ نے اچھا نہیں کیا....آپ کو اس کا منہ توڑ دینا چاہئے تھا"ایلاف کی باتیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں تھیںکشادہ پیشانی پہ سلوٹیں پڑنی لگیں تھیں" تہمت لگانے کی سزا تو آپ جانتے ہیں نا.....میں پاکباز ہونے کی دعویدار نہیں مگر میرا کردار مضبوط ہے...آپ اتنا تو یقین رکھتے... میرے پاس اپنی گواہی دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے" ایلاف کا حسرت بھرا لہجہ اس کی سماعتوں میں زندہ تھاآج پہلی بار اذلان شاہ کو اپنے عمل پہ پشیمانی ہوئی تھیوہ لڑکی اس کی بیوی تھیچار ماہ سے اس کی عزت تھیاذلان شاہ کی ذہن کی دہلیز سے وہ بہت سے ان کہے ....لمحے چپکے سے اندر آئے تھےوہ ایلاف کا ولیمہ کی رات اسے نتھ اتارنے کو کہناوہ فجر کے پرنور لمحوں میں اذلان کا ایلاف کو نوز پن پہناناجو اس کی ناک میں بہت شان سے چمکتی تھیجو گواہ تھیاس لمحے ان کے دل کی دھڑکنوں کیوہ ایلاف کا اس بھیگی رات میں ڈر کے اسے روکنااس کی پروا کرناوہ ایلاف کا پاکیزہ لمسپرنور سا قرباس کی دھڑکنوں کا شورپھر اذلان شاہ تم نے کیوں اتنی جلدی کیاذلان نے اذیت سے آنکھیں بند کرلیں تھیںندامت کا شدید احساس اس پہ حاوی ہوا تھااورتقدیر کا فیصلہ کیا تھاجھٹکا تو لگتا ہےجب بندہ حد توڑےسزا تو ملتی ہےجبخطا کی جائےاذلان نے گاڑی کنٹرول کرنی چاہیمگر ہر بارہم طاقتور نہیں رہتےہماری نہیں چلتیتقدیر کا فیصلہایک زوردار تصادم تھاگاڑی ایک جھٹکے سے ٹکرائی تھی______________________________انہیں لگتا ہے وہ اگر نہیں ہوں گے تو ایلاف کچھ کر نہیں سکتی....نہیں چاہئے مجھے ایسے سہارے جن کی قیمت مجھے اپنی عزت نفس کی صورت میں ادا کرنی پڑے .....اللّه کی دنیا بہت بڑی ہے" کہیں بھی چلی جاؤں گی مگر یہاں رہ کر اپنی مزید توہین نہیں کراؤں گی " ایلاف سوچ چکی تھیاس گھر میں اس کا کچھ بھی نہیں تھا" جب دینے والا ہی اپنا نہیں....تواس کی دی ہوئی چیزیں لے کے میںکیا کروں" ایلاف الماری کھولے کھڑی اپنی ضرورت کی چیزوں کودیکھ کے بولیاور الماری کے پٹ بند کرنے لگی تھیتبھی اس کی نظر سامنے کہ شیلف پہ رکھی اذلان شاہ کی چادر پہ پڑی تھییہ وہی چادر تھی جو اذلان نے اسے اپنا نام دینے سے پہلے دی تھیجب پوری دنیا نے اس کے سر سے چادر چھینی تھیتب وہی تھاجس نے اسے مان دیا تھااپنا نام دیا تھا" بس اعتبار نہ دے سکے ....اور نہ کرسکے" ایلاف اس کی چادر پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچنے لگی تھیدرمیاں تیرے میرے جب سے لوگ آنے لگےمیں اس کے بعد سے تنہا ہوں اور بے آس ہے تونہ جانے کس احساس کے زیر اثر اس نے وہ چادر اٹھا لی تھی اورالماری بند کردی تھیاس گھر میں میرا واحد اثاثہ یہی ہے" بند ہونٹوں پہ میرے ریت جمی جاتی ہےتو میرے پاس ہے پھر بھی میری پیاس ہے تو"کہنے کو ہمارا رشتہ دنیا کا سب سے نزدیک ترین اور مضبوط رشتہ مگر بے اعتباری اور لوگ ہمیشہ آڑے آجاتی ہے...سو کیا فائدہ ایسے رشتے کا اذلان شاہ جس میں اعتبار ہی نہ ہو"ایلاف سوچتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیچادر اس کے ہاتھ میں تھیاس نے اذلان کو یہ چادر کبھی واپس نہیں کی تھینہ اس نے کبھی پلٹ کے پوچھا تھاایلاف نے جانے کیلئے قدم اٹھا لئے تھےجب اس کا موبائل بجا تھاجو اذلان نے ہی اسے لے کے دیا تھانمبر اجنبی نہیں تھامگر نمبر والا اجنبیوں سے بڑھ کے تھاایلاف نے فون نہ اٹھانا چاہامگر پھر" کچھ تو زادہ راہ ہو آگے کیلئے"کا سوچ کے اس نے فون اٹھا لیا تھا" نہیں.....یہ کیسے ہوسکتا ہے" ایلاف کے وجود سے جان ہی نکل گئی تھی" میں نے یہ تو نہیں چاہا تھا " ایلاف کا دماغ سن ہوچکا تھادوسری طرف داد شاہ تھا" بی بی آپ جلدی آئیں ہاسپٹل....وہاں جاگیر میں سب کو خبر ہوچکی ہے....آپ کی ضرورت ہے یہاں....پیر سائیں آپریشن تھیٹرمیں ہیں....شاہ بی بی روانہ ہوچکیں ہیں یا آپ ان کے ساتھ آئیں گی" داد شاہ اسے اذلان شاہ کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع دیتے ہوئے بولا تھاایلاف نے کچھ کہنا چاہا مگر زبان نے ساتھ ہی نہ دیا تھاابھی کچھ گھنٹوں پہلے ہی تو اس نے ہی اذلان شاہ سے کہاتھا" تہمت لگانے کی سزا ملتی ہے تو ...."" کیا اذلان شاہ اسی کے لپیٹے میں آگیا ہے ....نہیں ایسا نہیں ہوسکتا" ایلاف نے نفی میں سر ہلایا تھاکچھ دیر پہلے کی ساری کیفیت اسے بھول چکی تھیامیراں کو بھی پتہ چل چکا تھا وہ بھاگ کے ایلاف کے کمرے میں آئی تھی....جو نیم جان سی اذلان کی چادر سینے سے لگائے زمین پہ بیٹھی تھی...اس کے ہاتھ پاؤں برف ہو رہے تھے" بی بی ہمت کرو اٹھو ....ایسا نہ کرو ...ڈاکٹر کو بلاؤں" امیراں اسے اٹھاتے ہوئے بول رہی تھی" ڈاکٹر کو نہیں امیراں....یہ جو درد ہے ...یہ جو کم بختی ہے....اسے کوئی دنیا والا نہیں مٹا سکتا...میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ وہ اپنے سے دور ہزاروں نوری کے فاصلے پہ کھڑا شخص مجھے اپنی انا کے باوجود اتنا عزیز ہوگیا ہے کہ ....اس کے حادثے کی خبر نے میرے وجود سے جان ہی نکال دی ہے " ایلاف نے اذیت سے سوچا تھا" تو واقعی منحوس ہے ایلاف ....ماں باپ کے بعد اب شوہر کو بھی موت کے منہ میں پہنچا دیا ...مجھے رشتے راس نہیں آتے میں اکیلی ہی صحیح ہوں"ابھی تو اس رشتے کی نرماہٹ محسوس ہونے لگی تھی اسےوہ اذلان شاہ کا اپنائیت بھرا لمسہولے سے نوز پن پہناتے ہوئے دھیرے سے.....شرارت سے اس کی ناک دبا دیناوہ اس کی فکر اور پروا کے عملی مظاہرے ....وہ اس کا اپنی چادر کا حصار اسے دینااسے کمبل اڑھا کے موسم کی شدت سے بچاناایلاف کو ابھی تو محبت کی جان کاری ملنے لگی تھیمگر اس کی یہ سیاہ بختی ہمیشہ آڑے آتی تھی" محبت ہو بھی جائے تومیرا یہ بخت ایسا ہےجہاں پر ہاتھ رکھ دوںوہاں پر درد بڑھ جائےمحبت سرد پڑ جائے"______________________________اس منحوس دوپہر کی تاریک شام ہوچکی تھیشدت گریہ سے ایلاف کی سبز آنکھوں میں جیسے لہو ٹھر گیا تھاایلاف کا دل اور زبان محو مناجات تھاوہ اپنے کمرے میں ہی تھیوہ اسپتال جانا چاہتی تھی مگر اسے شاہ بی بی کا انتظار تھاتاکہ کچھ تو ہمت ملےکیسے دیکھوں گی اس شخص کوجو اتنا توانا اور مضبوط ہےلہو میں ڈوبا ہواپٹیوں میں جکڑا ہوااور اگر جو کوئی بری خبر ہوئیاس کے بخت کی سیاہی اذلان شاہ کو کھا گئی تو????ایلاف کا دل بند ہونے لگتا تھااسے کسی پل قرار نہ تھاشاہ بی بی تو پھر ماں تھیں وہ پہلے اسپتال گئیں تھیںپھر گھر آئیں تھیںشاہ بی بی کی آمد کا سن کے ایلاف پاگلوں کی طرح اپنے کمرے سے دوڑی تھی" اماں سائیں.... اذلان شاہ ٹھیک تو ہیں نا.....اماں سائیں ہمیں معاف کردیں ہماری سیاہ بختی آپ کے بیٹے کو نگل گئی ..." ایلافان کے گلے لگ کے بولی تھیشاہ بی بی نے اسے لپٹا لیا تھا اور خاموشی سے اسے سہلانے لگیں تھیںایلاف کو قرار کہاں تھا" اماں سائیں ....چلیں اسپتال چلتے ہیں..."" ہم اسپتال سے ہی آرہے ہیں ...ایلاف" شاہ بی بی ضبط کی کڑی منزلوں پہ تھیںان کا اپنا دل پھٹ رہا تھا" اماں .. شاہ ٹھیک تو ہیں نا ....پلیز بولیں...آپ بولتی کیوں نہیں ہیں"??ایلاف چیخ پڑی تھییہ بولتی کیوں نہیں"ایلاف ہوش کرو ....اذلان شاہ ٹھیک ہے مگر"شاہ بی بی چپ ہوگئیںان کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا" کیا مگر....بولیں اماں" ایلاف کو لگی اس کے دماغ کی نس پھٹ جائے گی" وہ کومے میں چلا گیا ....اس کے سر کی چوٹیں بہت خطرناک تھیں اس کے اعصاب متاثر ہوئے ہیں" شاہ بی بی نے قیامت ڈھا ہی دی تھیایلاف پاس پڑے صوفے پہ ڈھے سی گئی تھی" میرا کوئی نہیں رہتا اماں سائیں ....خدا میری اتنی آزمائشیں کیوں لیتا ہے... اذلان کو بھی دور کردیا مجھ سے میں اب کیا کروں" ایلاف کی آواز کہیں دور سے آئی تھی" ایلاف حوصلہ کرو میری بچی ....تم بھی ہمت ہار گئیں تو کیا ہوگا ہمارا بیٹا زندہ لاش بن گیا ہوا کیا تھا ....اس نے کبھی اتنی ریش ڈرائیونگ نہیں کی...اس سے آج تک ایک معمولی خرابی نہیں ہوئی تو یہ اتنا بڑا حادثہ ....وہ گھر سے نکلا تھا...بتاؤ ایلاف کیا ہوا تھا ...." شاہ بی بی نے پوچھ لیا تھا"میں کیسے ہمت کروں اماں ....میری ہمت تو آپ کا بیٹا تھا....میں تو بہت کمزور ہوں ....گھر میں کچھ نہیں ہوا تھا" ایلاف مر کے بھی نہیں بتانا چاہتی تھی کسی کواور اس بات کے بعد تو بالکل نہیںاپنے مسئلے اپنے تک ہی رکھنے چاہئیں ...ایلاف کو سبق مل چکا تھانہ وہ رابعہ باجی سے کہتی یہ سب اور نہ وہ سب ہوتا" اماں سائیں ہماری وجہ سے ہوا ہے یہ سب ....ہمیں رشتے راس نہیں آتے" ایلاف کا سویا ہوا احساس کمتری جاگ چکا تھا" ایلاف.....ایسی باتیں مت کرو....تم مسلمان ہو کے ایسی فضول سوچ رکھتی ہو ...پریشانی میں ہی مسلمان کی آزمائش ہوتی ہے اور تم اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے کیا کر رہی ہو....مسلمان مصیبت میں کبھی نہیں گھبراتا ....خدا کی رضا میں راضی رہو ایلاف ....اس کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے " شاہ بی بی کو اس کی مایوسی پسند نہیں آئی تھیدل تو ان کا بھی رو رہا تھاآنکھیں ان کی بھی نم تھیںمگر انہیں ہمت کرنی تھیان کا سرمایہ حیات داؤ پہ لگ چکا تھا" میں کیا کروں....جس کے پاس جاؤں وہی دور ہوجاتا ہے " ایلاف بولی" ایلاف ایک بات کہیں آپ سے .....رونا دھونا بند کریں...بہت ہوچکا ہے...آپ ایک عام آدمی کی بیوی نہیں ہیں...پیر اذلان شاہ کیبیوی ہیں. ایکا اچھی بیوی کون ہوتی ہے ایلاف?" شاہ بی بج نےاس سے وہ سوال پوچھا تھا جس کا جواب اسے معلوم ہی نہ تھا"ہم بتائیں....ایک اچھی بیوی اور بلند عورت وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں....ان کے دل کو دھکا سا لگا تھا....اس کی عزت اور مال کی حفاظت کرتی ہے ...وہ روتی نہیں.. خیانت نہیں کرتی....حفاظت کرتی ہے....کیونکہ خدا اور اس کے رسول کو یہی محبوب ہے....تو بتاؤ ایلاف تم کیا کروگی....بنوگیاچھی بیوی...نگہبان پیر اذلان کی گدی کی" شاہ بی بی نے اس سے پوچھا تھا" میں... اور گدی کی نگہبان...مطلب???" ایلاف نے وضاحت چاہی تھی" جاگیر کے دشمن اب وار کریں گے میدان صاف دیکھ کے کیوں کہ میرا جرنیل بچہ میدان میں نہیں بستر پہ ہے وہ ہماری کمزوری سےفائدہ اٹھائیں گے ....ان کا لحاظ ختم ہوجائے گا" شاہ بی بی کو مستقبل صاف نظر آرہا تھا" مگر کیوں ابھی کمال شاہ اوراحمد شاہ ہیں..." ایلاف نے کہا" پیر اذلان گدی کا وارث ہے وہ بڑا ہے اور پھر اس کی اولاد کمالاور احمد ساتھ تو دے سکتے ہیں مگر گدی پہ نہیں بیٹھ سکتے....کمال بیچارہ تو ویسے بھی سرکاری نوکری کرتا ہے .. کمشنری نے اسے گھما رکھا ہے...اور احمد شاہ وہ تانیہ شاہ کے کنٹرول میں ہے اور تانیہ پوری کوشش کرے گی گدی کا رخ پیر خرم شاہ کی طرف کرنے کی ....کیونکہ وہ گھر کے بچوں میں سب سے بڑا ہے اور اس صورت میں جبکہ سفیان شاہ کو اذلان شاہ نے سب سے دور کر رکھا ہے وہ اور اہل ہوجائے گا " شاہ بی بی نے اس مستقبل کا نقشہ کھینچ کے دکھا دیا تھا" وہ اہل نہیں ہے" ایلاف کے زخم پیر خرم شاہ کے نام پہ پھر ہرے ہوگئے تھے" یہ میں اور تم ....اورتیسرا وہ جو بستر مرگ پہ ہےجانتا ہے اور کوئی نہیں....کوئی یقین نہیں کرے گا....بولو ایلاف اتنے محاذوں پہ اذلان شاہ اکیلا لڑتا تھا....تم کر پاؤ گی ...بتاؤ گی دنیا کو کہ وہ اکیلا نہیں ...اس کی بیوی ہے" شاہ بی بی نے اس سے سوال کیا تھا" ہاں اماں سائیں....ہم بنیں گے ان کے محافظ... ایک بار انہوں نے ہمیں نامراد نہیں رکھا تھا . تو ہم کیسے انہیں بے اماں کریں... ہم بنیں گے ان کی گدی کے رکھوالے ...ان کی جگہ ان کی ہے یا پیر سفیان شاہ کی " ایلاف نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہاایک بار پوری دینا نے اسے چھوڑ دیا تھاتباذلان شاہ نے اسے اپنایااب پوری دنیا اذلان شاہ کو چھوڑنے چلی تھیتوایلاف نے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا" ایلاف یہ راہ آسان نہیں"" تر نوالہ ہم بھی نہیں" ایلاف کا لہجہ ہی بدل چکا تھا" چھلنی ہوجاؤگی "" ترکش میں تیر ہمارے بھی بہت ہیں" ایلاف اٹل ہوچکی تھی" بہت سنگ بار یہ راستہ"" پتھر تو ہمارا وجود بھی ہوچلا ہے" ایلاف کے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی" لوگ طعنے دیں گے"" پروا نہیں....زہر ہم میں بھی بہت ہے اور شہد بازاروں میں بہت ....ہم آزمائشوں کی بھٹی میں کیمیا گر بن چکے ہیں....شہد اور زہر ملا کے استعمال کرنے کا فن ہمیں ان ہی لوگوں نےسکھایا ہے " ایلاف اٹھتے ہوئے بولی.اور کچھ دیر بعد وہ اذلان شاہ کی ہی چادر پہنے کریم اسکارف سے حجاب کئے اسپتال جانے کو تیار ہوچکی تھی"ہم چلیں تمہارے ساتھ" شاہ بی بی نے پوچھا" نہیں اماں آپ آرام کریں....اپنی بقا کی جنگ اب میں خود لڑوں گی...آپ بس دعا کریں...جب اکیلا ہی چلنا ہے تو پھر عارضی سہاروں کا کیا کریں گے ...." ایلاف نے چادر اچھی طرح لپیٹ لی تھی" دنیا ادھر سے ادھر ہوجاؤ....اذلان شاہ ...ایلاف اذلان شاہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گی .." ایلاف نے خود سے عہد کرلیا تھاوہ پہاڑوں کی بیٹی تھی نسلااس کا باپ پہاڑوں کا رکھوالا تھاوہ زرینہ جیسی جی دار عورت کی بیٹی تھیجس نے اپنی بقا کی جنگ خود لڑی تھیتوایلاف نے بھی ثابت کرنا تھاکہ جی دار وہ بھی ہےعورت مضبوط ہوجائے تو اس کا حوصلہ ہمالیہ سے بھی بلند اورسمندروں سے بھی گہرا ہوتا ہے______________________________جاری ہے

No comments:
Post a Comment