Thursday, August 2, 2018

یہ جنون منز ل عشق ہے قسط 15

http://novelskhazana.blogspot.com/




قسط_15از فرحت نشاط مصطفے

میں ایک نازک لڑکی سہیپر کیا تم نے سیپ میں موتی دیکھا ہےوہ بھی نازک ہوتا ہےمگر اس پہ ایک خول ہوتا ہےجو اس کا اصل چھپاتا ہےاور وہی دکھاتا ہے جو اسے نظر آتا ہےمجھ پہ بھی خول چڑھ چکا ہےمحبت کا ....نگہبانی کا....نگرانی کاایلاف اس وقت لاہور کے مشہور ترین اسپتال کی بلڈنگ میں داخل ہورہی تھیرسیپشن سے اس نے اپنے مریض.....اس لفظ پہ ہی ایلاف ہل گئی تھی ....پوچھا تھامگر یہ تو آغاز امتحان تھاچھوٹے مگر مضبوط قدم اٹھاتی وہ اس وقت ICU کے سامنے کھڑی تھی داد شاہ اسے دیکھ کے حیران ہوا تھاکہاں فون پہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی اور کہاں اب وہ اسپتال پہنچ چکی تھی" داد شاہ مجھے اذلان کے ڈاکٹر سے ملنا ہے...کس ڈاکٹر نے انہیں اٹینڈ کیا ہے?" ایلاف کے لہجے میں کوئی کمزوری نہ تھی" آئیں میں آپ کو لے چلتا ہوں"ایلاف نے چاہا کہ پہلے وہ اذلان کو دیکھ لے مگر پھر سر جھٹک کے آگے بڑھ گئی تھی"ہم پیر اذلان شاہ کی بیوی ہیں....ہمیں ان کی کنڈیشن معلوم کرنی ہے " ایلاف ڈاکٹر کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولییہ ڈاکٹر انجم علوی تھے اس اسپتال کے سینئر موسٹ ڈاکٹر"اذلان شاہ کے سر پہ ذیادہ چوٹیں لگیں ہیں ...اس لئے وہ کومے میں ہیں" ڈاکٹر صاحب نے تمہید باندھی تھی"ہم یہ جانتے ہیں آپ بتائیں ریکوری میں کتنا وقت لگے گا....وہ کب ہوش میں آئیں گے?"ڈاکٹر انجم کیلئے یہ سوال روایتی تھا ...دن میں کتنی بار انہیں اس سوال کا جواب دینا پڑتا تھا"کچھ معلوم نہیں....گوڈ نوز بیٹر ....یہ ان کی ول پاور پہ بھی ڈیپینڈ کرتا ہے ...ہوسکتا ہے وہ کل ہوش میں آجائیں ....یہ بھی کہکچھ دن..کچھ ہفتوں .. یا کچھ مہینوں بعد...اور خدا نہ کرے کہ ہوسکتا ہے کہ کبھی..." ابھی بات ادھوری ہی تھی کہ ایلاف نے انہیں ٹوک دیا تھا" انہیں ہوش میں آنا پڑے گا ...آج نہیں تو کل ...کل نہیں تو پرسوں...انہیں لوٹنا ہوگا اس اندھیرے سے ....وہ روشنی کے مسافرہیں...ان کا اختتام یہ نہیں ہوسکتا ....اس لئے دوبارہ آپ یہ بات نہیں کریں گے " ایلاف کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی کانپا تھاڈاکٹر انجم نے چشمے کے اوٹ سے اس لڑکی کو دیکھا ...انہیں دن میں روز جذباتی باتیں سننے کو ملتیں تھیں مگر یہ لڑکی...انہوں نے اس لڑکی کو غور سے دیکھا تھانقاب سے جھانکتی اس کی سبز آنکھوں میں سرد مہری تھیلہجے میں بیگانگی تھیمگر اس شخص کیلئےپروا ہی پروا تھیفکر ہی فکر تھییہ کچھ انوکھا تھایہ جذبات نہیںیقین بول رہا تھااعتبار بول رہا تھامان بول رہا تھااور بھلا جذباتی لوگ اتنے مضبوط ہوتے ہیں بھلااس کی سبز آنکھوں میں لالی اس. بات کی گواہ ہے کہ یہ جذباتی کیفیت سے گزر چکی ہے اور اب حقیقت کہ فیز میں داخل ہوچکی ہے" ہوں" ڈاکٹر انجم نے اس پہ ہی اکتفا کیا تھا" ان کی ڈیلی پروگریس ہمیں چاہئے ...اینڈ ون تھنگ مور ڈاکٹر صاحب ...کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیۓ....اسے ہمبل ریکویسٹ سمجھیں یا آرڈر ...." ایلاف اٹھتے ہوئے بولی" کوما ایک طویل بیماری کا نام ہے ....ایک طویل نیند جو کبھی بھی ختم ہوسکتی ہے ...ہم اس کا آغاز تو جان سکتے ہیں مگر انجام نہیں " ڈاکٹر انجام نے اسے تفصیل بتائی تھی" آپ کی میڈیکل سائنس...معجزوں کو نہیں مانتی مگر ہم مانتے ہیں...اذلان شاہ بہت جلد صحت یاب ہوجائیں گے " ایلاف نے بات ختمکردی تھی" اذیت راس ہے سائیںجی بھر کے ستایا جائے"وہ اس وقت اذلان شاہ کے پٹیوں میں جکڑے وجود کے پاس کھڑیتھی" یہ کیا کیا ...پیر سائیں...ناراض تو ہمیں ہونا تھا ....روٹھنے کا حق ہمارا تھا ...منانا تو آپ کو تھا ....لیکن ہر بار کی طرحاس بار بھی آپ آگے نکلے....خود سے بھی روٹھ گئے....ہماری طرف تو دیکھنے کے تو آپ ویسے بھی روادار نہیں تھے " ایلاف اذلان شاہ کے پاس کھڑی اس سے مخاطب تھییہ جانتے ہوئے بھیکہ وہ اس کا شکوہ سن نہیں سکتااس کے آنسو دیکھ نہیں سکتااس کا دکھ محسوس نہیں کرسکتامگر ایلاف بھی کیا کرتیاسے عادت ہوگئی تھیاپنا دکھ اس سے ہی کہنے کیاپنے آنسو اسے دکھانے کیاپنے دکھ اسے محسوس کرانے کیایلاف نے اس کی چادر سے اپنے آنسو رگڑ ڈالے تھےوہی ہمیشہ والی عادت" ہم صبح آئیں گے ....روز آئیں گے ...تب تک آئیں گے ..جب تک آپ مان نہ جائیں " ایلاف نے اذلان کے کان پاس سرگوشی کی تھیاور باہر آگئی تھی______________________________" داد شاہ " ایلاف نے اسے پکار لیا تھا" تمہارے علاوہ سائیں کس پہ آنکھ بند کر کے اعتبار کرتے ہیں " ایلاف کا سوال اس کیلئے حیران کن تھا" یہ سجاول خان" انگلی سے اس نے ایک تنومند بندے کی طرف اشارہ کیا" سجاول خان ...تین دن آپ اور تین دن داد شاہ جاگیر میں رہیں گے اور اسپتال میں ...وہاں کے ہر لمحے کی خبر چاہئیے اور جو یہاں ہوگا ....وہ ہمیں یہاں کے جو بھی مسئلے ہیں ہمیں ان کی اطلاعہونی چاہئیے ...سجاول خان روانہ ہوجائیں آپ" ایلاف نے اپنی ذمہ داری آج سے ہی نبھانی شروع کردی تھی"جی بہتر" سجاول خان سلام کرتا ہوا جا چکا تھا" داد شاہ.....وہ گاڑی کہاں ہے?" ایلاف نے اب اسے مخاطب کیا تھا" بی بی سائیں وہ تو ابھی پولیس کسٹڈی میں ہے .....مگر آپ کیوں پوچھ رہیں ہیں ?" داد شاہ نے حیرت سے پوچھا تھا" ہمیں اس گاڑی کی فرانزک رپورٹ چاہیئے....ہمیں اس حادثے کی وجہ جاننی ہے وہ گاڑی دو دن پہلے جاگیر سے آئی تھی ... ہم اس معاملے کو یونہی جانے نہیں دے سکتے" ایلاف کا دماغ اس بات پہ بھی الجھا ہوا تھا" اور یہ ڈرائیور کہاں تھا جب اذلان نکلے تھے گھر سے گاڑی لے کے" ایلاف نے یہ بھی پوچھا تھا" اسے پیر سائیں نے خود ہی روکا تھا وہ وہیں دفتر میں ہی تھا" داد شاہ کو آج ایلاف پہ بہت حیرت ہو رہی تھی" وہ کسی ماہر تفتیشی افسر کی طرح ایک ایک نکتہ کو کرید رہی تھی" تم فرانزک ٹیم کیلئے جلد از جلد کہو اور اس کی رپورٹ بنواؤ...پیر سائیں کا موبائل ہمیں دو اور ہمارا نمبر اپنے پاس رکھو....ہم اب صبح آئیں گے" ایلاف نے اس سے اذلان شاہ کا موبائل مانگ لیا تھااس کا دماغ بہت کچھ ایک ساتھ سوچ رہا تھا اور سن سا ہو رہا تھا ...گھر لوٹی تو امیراں اسی کی ہی منتظر تھی" اماں سائیں سو گئیں کیا?" ایلاف نے اماں کی غیر موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا تھا" وہ جی بلڈ پریشر کی دوا کھا کے سو گئیں ہیں ....ان کا بھی برا حال ہے.. آپ کھانا کھا لیں...تھک گئیں ہیں" امیراں ہمدردی سے بولی"اتنی نازک سی تو ہیں بی بی "ایلاف نے منع کرنا چاہا پھر خاموشی سے سر ہلادیا" اتنے محاذوں پہ لڑنا ہے کچھ تو توانائی ملے" دل نہیں کر رہا تھا مگر دل کی سنے کونمعدے کو کھانا چاہئیےاور دماغ کو توانائی چاہئیےوہ چپ چاپ میز پہ آ کے بیٹھ گئی تھیامیراں نے شام میں کچھ نہیں بنایا تھا ...ظاہر ہے دوپہر کا بھی کسی نے نہیں کھایا تھاایلاف نے کھانا دیکھااس کے ہاتھ کی پکی ہوئی مچھلیاور پلاؤیہ اہتمام جس کیلئے تھااس نے تو نگاہ بھر کے بھی نہیں دیکھا تھااورنگاہیں پھیر لیں تھیںایلاف کا دل ہی خراب ہوگیا تھااس سے کھایا ہی نہیں گیا"مجھے دودھ دے دو امیراں .....اٹھا لو یہ " ایلاف اٹھ گئی تھی"اس کھانے کے نصیب میں ہی نہیں کسی کے منہ لگنا" امیراں کابھی موڈ خراب ہوگیا تھا"ایلاف جائے نماز بچھا کے کھڑی ہوگئی تھیوہ اندر سے ٹوٹ رہی تھیآنسو ابلنے کو بیتاب تھےاس کے دل پہ برچھیاں چل رہیں تھیںاس کا سائبان خطرے کے طوفان کی زد میں آکے اکھڑ رہا تھالیکنوہ اب آنسو کسی کے سامنے نہ بہانے کا تہیہ کر چکی تھیسوائےاس ایک ذات کےجو دلوں کی حالت جانتا ہےوہ روتے ہوؤں کا سب سے بڑا غمگسار ہےہمدرد ہےاس نے سات سمندر پیدا کئے ہیں مگرمحبت وہ صرف ایک اشک سے کرتاجو اس کے سجدے میں بہائے جائیںایلاف کا یقین بھی وہی تھااور بھروسہ بھیاور جن کی طاقت رب کا یقین ہووہ کبھی مار نہیں کھاتےہمت نہیں ہارتے_____________________________ایلاف کے شب و روز نہایت مصروف ہوچلے تھےصبح وہ حسب معمول شاہ بی بی کے ساتھ اسپتال جاتی تھیپھر داد شاہ کی رہنمائی میں آفساس کے بعد اسے لینگویج سینٹر جانا ہوتا تھاشام میں ایک بار پھر اسپتال کا چکر لگانے کے بعد وہ گھر آئے مہمانوں سے بھی نپٹتی تھیوہ کسی کو تاثر نہیں دینا چاہتی تھیکہ وہ کچھ برا یا غلط سوچیںمگر سوچنے والے تو سوچ لیتے ہیںچاہے ہم دودھ کے ہی کیوں نہ دھلے ہوںاس دن بھی خاندان کی کچھ بزرگ خواتین کے ساتھ تانیہ شاہ بھی شہر آئی تھی ساتھ میں اس کی ماں بھی تھیںکمال شاہ اور احمد شاہ بھی چکر لگاتے رہتے تھےبنین شاہ ...شاہ بی بی کی وجہ سے رکی ہوئی تھیمگر فون وہ روز کرتی تھی" ہائے آپ لوگوں نے دیکھا کہ کتنی کوئی سبز قدم نکلی...پیر سائیں کی بیوی...ارے دن رات جیٹھ جی کا پیر گاڑی میں ہوتا تھا کبھی انہیں کھرونچ نہ آئی اور اب دیکھیں کیسے ہٹا کٹابندہ موت کے منہ میں پہنچ گیا...نری نحوست " تانیہ کی زبان فراٹے سے شاہ بی بی کی غیر موجودگی میں ایلاف کی شان میں قصیدہ گھڑ رہی تھیجو اندر آتی ایلاف اور شاہ بی بی نے بہ خوبی سنا تھا" اوہ دیودانی جی ...آپ کیوں خفا ہوتیں ہیں....کسی زمانے میں آپ کو بھی یہ لقب مل چکا ہے نا تو اب آپ ہم پہ بھی اس کا لیبل لگائیں گی " ایلاف کا لہجہ بہت سرد تھابالکل ٹھنڈا برف جیسا" کیا مطلب ....بہو " وہ خاتون شاید اس قصے سے بے خبر تھیں" آپ کو نہیں پتہ...تانیہ کی شادی کے دوسرے دن ہی احمد شاہ کو گولی لگی تھی اور ان کی حالت بہت سیریس تھی ...وہ تو اوپر والے نے کرم کیا....تو اس حساب سے تو تانیہ شاہ آپ ہی ہوئیں اس سبز قدم کی داغ بیل ڈالنے والی" ایلاف پتھر پھوڑ رہی تھی" مجھ پہ بات کرنا اتنا آسان نہیں تانیہ شاہ " ایلاف کو یہ قصہ بنین نے ہی سنایا تھا گو کہ اس کا مقصد ایلاف کو حوصلہ دینا تھا مگر یہ بات آج ایلاف کے بہت کام آئی تھیاہانت سے تانیہ کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا" اسے کس نے بتایا " اس سے پنگا لینا ہمیشہ مہنگا پڑتا تھا" ہیں تانیہ...تم نے بتایا ہی نہیں کبھی" وہ خاتون واقعی بے خبر تھیں"امیراں مہمانوں کا دھیان رکھنا ....خاص طور سے ہماری دیورانی کا " ایلاف کہہ کے اٹھ چکی تھیشاہ بی بی نے آج واپس جانا تھابقول ایلاف کے" اماں سائیں...وہاں آپ کی ذیادہ ضرورت ہے ...آپ دعا وہاں بیٹھ کے بھی کرسکتی ہیں...ہم ابھی اس میدان میں نئے ہیں ...ہمیں آسرا تو دیں وہاں کے حالات کچھ تو بہتر ہوں گے " ایلاف کو سجاول خان سے ڈیلی رپورٹ ملتی تھیکچھ اڑتی اڑتی خبریں اس نے سنیں تھیںوہ شاہ بی بی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے مناسب لفظوں میں انہیں جانے کو کہا تھا جاگیرایلاف کو اسپتال سے دیر ہورہی تھی اس لئے وہ نکل گئی تھی جلدی سے باہر کو______________________________" بڑے امتحانوں میں ڈال دیا ہے اذلان شاہ آپ نے ہمیں....ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی....آپ جلدی سے ٹھیک ہوجائیں " ایلاف کو عادت سی ہوچلی تھیوہ اسپتال آ کے گھنٹوں کے حساب سے اذلان شاہ سے بے تکانباتیں کرتی" کبھی تو وہ کوئی اظہار کرے گا "ڈاکٹرز کہتے تھے کہ ہماری باتیں اگر کومے میں موجود شخص کو سنائیں دے رہیں ہیں تو وہ لازمی رسپانس کرتا ہےآنسوؤں کی صورت ہی سہیاور ایلاف اس سے اس لئے ہی باتیں کرتی تھیمگر وہ یہ کبھی نہیں چاہتی کہ اگر یہ پہاڑ جیسا شخص اگر بے بس ہوا ہےتو وہ ضروری نہیں رو کے اظہار کرےکہ وہ ایلاف کو سن رہا ہےاذلان شاہ کو مہینہ ہوچلا تھااس کے زخم بھر رہے تھےمگر اس کے کومے کا تسلسل بر قرار تھاایلاف اس کے سرہانے بیٹھ کے تلاوت کرتی تھیپھر اس سے باتیں کرتیکتابیں یوں پڑھ کے سناتی تھی جیسے وہ سن رہا ہوآج حسب معمول تلاوت ختم ہونے کے بعد اس نے اذلان شاہ پہ پڑھ کے پھونک ماری تھی"اللّه آپ کو صحت دے " ہمیشہ والی دعا اس نے آج بھی مانگی تھیپھر نیل کٹر لے کے وہ اذلان کے پاس کرسی کھینچ کے بیٹھ گئی تھی اور نرمی سے اس کے ناخن کاٹنے لگی تھی"ایک بات کہوں آپ سے " ایلاف نے جیسے اجازت چاہی اور تھوڑیدیر کیلئے چپ ہو گئیپھر کچھ دیر بعد بولی جیسے اجازت مل گئی ہوسنو اے ہم نشین میرےراز دار میرےتم لاکھ روٹھ جاؤہم سے ہار جاؤ گےہم تم کو منا ہی لیں گےاپنا اور تمہارا ساتھ نبھا ہی لیں گےکہہ کے اس نے اذلان کا چہرہ کھوجا کوئی تو احساس ہوگامگر نہیں وہاں وہی سمنرروں کی گہرائی میں موجودجامد سکوت تھابرف جیسا سرد احساساس نے آج بھی اسے نہیں سنا تھا______________________________ایلاف گھر لوٹی تو خاموشی نے اس کا استقبال کیا تھا" سب چلے گئے" ایلاف نے اپنے انتظار میں جاگتی امیراں سے پوچھاآج وہ اذلان شاہ کے شیلٹر ہوم بھی گئی تھی جہاں بے آسرا عورتوں کو پناہ دی جاتی تھی اس لئے اسے دیر ہوگئی تھی" جی سب چلے گئے وہ تانیہ بی بی کا موڈ بھی بہت خراب تھا شاہ بی بی نے انہیں بہت ڈانٹا تھا " امیراں نے اسے بتایا تھا" علاج ہے اس کا " ایلاف نے ذیادہ تبصرہ نہ کیا تھااور دو دن بعد جب وہ اذلان شاہ کے پاس بیٹھی اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کر رہی تھی جب داد شاہ دروازے پہ دستک دے کے اندر آیا تھا" کیا بات ہے داد شاہ"" بی بی سائیں....سجاول خان کا فون آیا ہے " داد شاہ نے جو خبراسے دی تھی ایلاف کا دماغ گھوم گیا تھا" تو تانیہ شاہ تم نے اپنا رنگ دکھا ہی دیا اور احمد شاہ تم واقعی جورو کے غلام نکلے....پیروں کے خاندان میں کیا کر رہے ہو "ایلاف اٹھ چکی تھی" ہمارے ساتھ آؤ داد شاہ" ایلاف ایک نتیجہ پہ پہنچ چکی تھیداد شاہ اس کی شکل دیکھ کے رہ گیا تھا______________________________اور بہت دور کہیں سات سمندد پار ایک پیغام پہنچا تھااور اس کے بعد ایک فون بھی______________________________" احمد" تانیہ نے اپنے بیٹے کو تھپکتے ہوئے شوہر کو مخاطب کیا ." ہوں" احمد نے آنکھیں موندیں ہی کہا تھا ." کیا فائدہ اتنی محنت کا ...وہ اذلان شاہ اسپتال میں زندہ لاش بن کے لیٹے ہیں ...اور کمال شاہ کو کمشنری سے ہی فرصت نہیں.. سارا کام آپ کرتے ہیں اور مزے وہ دونوں کرتے ہیں" تانیہ اس سے ہمدردی جتاتے ہوئے بول رہی تھیاور اس نے اپنا پہلا پتہ بھی کھیلا تھا"کیا کریں حالات ایسے ہیں....کرنا ہی پڑے گا" احمد شاہ تھکی تھکی آواز میں بولا تھا" آپ کچھ نہ کریں بس بیٹھ کے سڑتے رہیں ....اور ادھر وہ اذلان شاہ کی نام نہاد بیوی سب لے کے چلتی بنے گی ہر چیز کی اسے خبر ہے...مخبر لگا رکھے ہیں.. آئے دن داد شاہ اور سجاول خان یہاں نظر آتے ہیں...وہ باہر کی عورت سب پہ سانپ بن کےبیٹھ گئی ہے" تانیہ کو آگ لگی ہوئی تھی ایلاف کے مالکانہ انداز دیکھ کے" تم سے کس نے کہا یہ سب" احمد شاہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا" اندھی نہیں ہوں سب خبر رکھتی ہوں آخر کو مجھے آپ کا احساس کرنا ہے...کچھ کریں احمد " تانیہ آگ لگا چکی تھی اب ہوا دے رہی تھی" کیا کریں...."" اذلان شاہ کی زندگی کا کچھ پتہ نہیں ہے....اور تائی اماں بیٹے کی محبت میں پاگل ...حالانکہ انہیں فیصلہ کرنا چاہئیے اس گدی کا ...جاگیر کے بھی سو مسئلے ہیں جنہیں حل کرنا ہے ... آخر کب تک پیر اذلان شاہ کے ہوش میں آنے کاانتظار کریں وہ ساری زندگی ہوش میں نہ آیا تو....سب بیٹھیں رہیں گے" تانیہ شاہ اپنی بھڑاس نکال رہی تھی" گدی کا فیصلہ تمہیں معلوم ہے رواج کے مطابق ہم چھوٹوں میں سے گدی پہ کوئی نہیں بیٹھ سکتا ...اور سفیان کی ہم میں سے کسی کو خبر نہیں نہ اذلان شاہ نے اسے خبر بھی نہیں کی ہے ہمارے رواجوں کی" احمد شاہ نے اپنی الجھن بیان کیاسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ تانیہ کے نزدیک کون گدی کا اہل ہے اب"پیر خرم شاہ ہے نا ....گھر کے بچوں میں بڑا ....خیر سے جوان ہورہا ہے" تانیہ نے بلی تھیلے سے نکال ہی دی تھی" کیا...تم گدی کا رخ چھوٹی حویلی کی طرف کرنا چاہتی ہو ایسا کبھی ہوا ہے" احمد شاہ کچھ خفا ہوا تھا"آپ ٹھنڈے دل سے سوچیں اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے ... آخر کوہماری بیٹی نے کل اس گھر ہی جانا ہے تو اس کا مطلب ہے گدیادھر جائے اس کا مطلب ہے وہ ہمارے گھر ہی آئے گی " تانیہ شاہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے معنی خیز لہجے میں بولی تھیاس کی بیٹی پیر خرم شاہ کی منگ تھی" ہوں... " احمد شاہ کا انداز پرسوچ تھا" ہوں تم نے باہر کی عورت ہمارے سر پہ بٹھا کے اچھا نہیں کیا . اذلان شاہ.. جب تم ہوش میں آؤگے تو کیا ..سماں ہوگا...جس گدی پہ تم اتنا اکڑتے تھے وہ ہی نہیں رہے گی تو کونپوچھے گا تمہیں?....اور کیا کر پائے گی تمہاری بیوی" تانیہ نے کڑوے دماغ سے سوچا تھااوراذلان شاہ کی بیویان کا کیا حال کرنے والی تھیتانیہ شاہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی______________________________" ہم اذلان شاہ کی بیوی ....ایلاف اذلان شاہ ......پیر سفیان شاہ کی سر پرست ...کائنڈلی انہیں وطن واپس بھیجا جائے " ایلاف گزارش نہیں حکم دے رہی تھیجسے ماننا ہی تھا اسکول کی انتظامیہ نے" دیکھتی ہوں تانیہ شاہ تمہیں اچھی طرح...گدی پہ بیٹھنا تو دور ....اس کا نام بھی بھول جاؤ گی "ہم نے اذلان شاہ کینگہبانی کی قسم کھائی ہےہم ان کی گدی کے رکھوالے ہیںہمیں معمولی سمجھ کے تم نے بہت بڑی غلطی کی ہےایلاف کا دماغ تیزی سے بہتسے حساب کتاب اکٹھے کر رہا تھا_____________________________جاری ہے

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/