یہ_جنون_منزلِ_عشق_ہےقسط
_10از فرحت نشاط مصطفے"
اذلان شاہ تم ہمیشہ سے ہی ایسے ہو یا میرے ساتھ ہی ایسا کرتے ہو.....اچانک سے وار کرتے ہو کہ میں کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہتی کہ تم واقعی اتنے ہی اچھے ہو یا پھر یہ کوئی نیا ڈھونگ ہے اپنے شملے کی حفاظت کیلئے تم نے پینترابدلہ ہے.....کیا ہو تم?کون ہو تم?کیا ہے تمہارا اصل چہرہ ?ابھی کل تک تم جو ایک ملازمہ کے سامنے اقرار کرنے سے ہچکچا رہے تھے آج اپنی ماں کو میرے مقابل لے آئے ہوکونسا انداز ہے تمہارا یہ?"" کونسی مثال دوںہر ستم بے مثال کرتے ہو" ایلاف شاہ بی بی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی" اسلام علیکم" ایلاف کے حواس قابو میں ہوئے تو اس نے سلام کیاوہ کم از کم اذلان کی ماں کے سامنے کچھ الٹا سیدھا نہیں کرنا چاہتی تھی"وعلیکم اسلام ....ٹھیک ہو بیٹی" شاہ بی بی اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں" ٹھیک ہوں " ایلاف دھیمے سروں میں بولیں"بھئی ہم تم سے فورا ملنا چاہتے تھے مگر حالات کچھ ایسے تھے کہ صبر کرنا پڑا" شاہ بی بی نے کہا" آپ خود کیوں آگئیں مجھے بلا لیتیں....مجھے پتہ ہوتا کہ آپ آرہی ہیں تو باہر ہی ہوتی اس وقت" ایلاف نے ان کی نرم روئی کا جواب بھی نرم روئی سے دیا" اذلان شاہ تمہاری ماں کے سامنے ہی میں اپنا مقدمہ رکھوں گی....دیکھتی ہوں کہ کیسے آپ اب اپنے لاڈلے بھانجے کی پردہ پوشی فرماتے ہیں" ایلاف کو تو جیسے اندھیرے میں امید کی کرن دکھی تھی اس کی کچلی ہوئی انا کی تسکین کا کوئی تو راستہ نکلا,اتنے دن سے سوچے جانے والے منصوبوں کو کوئی عملکا دھاگہ تو ملا" یہ یقینا تمہاری نیک تربیت بول رہی ہے بیٹا ......مگر پتا ہے ایلاف ....میدان جنگ میں سپاہیوں کی عیادت اور ان کے زخموں پہ مرہم طبیب آ کے خود رکھتا ہے تاکہ ان کا حوصلہ بڑھے انہیں بھی اندازہ ہو کہ ان کی بھی کسی کو چاہ ہے ....کسی کو پرواہ ہے...کسی کے خیال کا احساس بڑا غنیمت ہوتا ہے بچے" وہ ایلاف کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہیں تھیںبل واسطہ اسے بتا رہیں تھیں کہوہ تنہا نہیںاس کے گرد کوئی درد گر ہےاس کا بھی کوئی ہمدرد ہےشاہ بی بی کی جوہر شناس نظروں نے ایلاف کے ہیرے جیسے وجود کو پرکھ لیا تھاایک تراش کی ضرورت ہےاوریہ لڑکی صورت اور سیرت میں با کمال ہوگیجس کی ہم سفری پہ اذلان شاہ کو ناز ہوگاشاہ بی بی نے سوچا تھا" امیراں کھانا لگا چکی ہوگی ....ہم گاؤں والے بہت جلدی کھاناکھا لیتے ہیں اور آج تو ویسے بھی سفر تھا.....تم ہمارا ساتھ دوگی بچے?" شاہ بی بی مبہم لہجے میں بولیں" توبہ ان ماں بیٹے کو کتنا شوق ہے مجھے کھانا کھلانے کا بیٹا ہے تو وہ سر پہ سوار رہتا ہے یہ کھاؤ وہ پئیو....اور اب انکی والدہ ....کیا کھلا کھلا کے ماریں گے" ایلاف نے جل کے سوچاوہ کھانے پینے کی چور لڑکی اچھا بھلا اذلان کی غیر موجودگی میں اپنی مرضی سے دل کیا تو کھا لیتی چڑیا جتنا اور ابدوبارہ سے وہی ناٹک شروع تھا"آپ آئیں...." انہیں کہوں کیا ایلاف نے انہیں کہتے ہوئے سوچا"سب ہمیں شاہ بی بی کہتے ہیں لیکن اذلان ہمیں اماں سائیں کہتے ہیں ہمیں اچھا لگے گا اگر تم بھی ہمیں یہی کہو" شاہ بی بی نے جیسے اس کی سوچ پڑھ لی تھیظاہر ہے وہ یہاں آئیں ہی ایلاف پہ ریسرچ کرنے تھیں سو ایلاف انکی ایکسرہ کرتی نگاہوں کی ذد میں تھیایلاف نے کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے لائٹ آف کی اور پھر دروازہ دھیرے سے بند کر دیا" آئیں ....اماں چلتے ہیں" ایلاف نے ان کی بات مان لی تھیایلاف شاہ بی بی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگیاس کی چال میں الہڑ پن نہیں تھا نہ ہی وہ گنواروں کی طرح تیز تیز قدم اٹھاتی تھی اس کی چال میں توازن تھا وقار تھاشاہ بی بی کو اب تک صورت حال ٹھیک ہی لگ رہی تھی انہیں لگ رہا تھا اذلان اور ایلاف کا ایک حادثہ میں آمنے سامنے ہونابے مقصد نہیںکچھ تو چاہتی ہے قدرتکچھ تو ہے تقدیر کے اسراراور ایلاف سوچ رہی تھی کہ " اذلان شاہ جیسے تم میٹھی چھری بنے ہو تو زہر اب میں بھی نہیں اگلوں گی میں بھی اب جیسے کو تیسے والا حساب کروں گی ....ابھی تو دیکھتے ہیں تمہاری ماں بھی تمہاری شراکت دار ہے یا ان سے بھی تم نے چھپا رکھے ہیں اپنے لاڈلے کے کرتوت" ایلاف کو جب سے پتہ چلا تھا کہ خرم شاہ اس کا لاڈلہ بھانجا ہے تب سے وہ اسے اور قصوروار لگنے لگا تھااور اذلان شاہ ابھی ایلاف کی اتنی فرمانبردای دیکھ لیتا تو حیران ہی رہ جاتا ہر بات پہ بحث کرنے والی اس وقت کتنی فرمانبردار بنی ہوئی تھی______________________________وہ دونوں ڈائینگ ٹیبل پہ پہنچیں تو امیراں کھانا لگا چکی تھی" اذلان کہاں ہے امیراں" شاہ بی بی نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئےپوچھا" وہ جی ان کا کوئی ضروری فون تھا وہی سنتے سنتے کمرے میں چلے گئے تھے کہہ رہے تھے آپ آجائیں تو بلا لوں انہیں" امیراں نے ان کی طرف سالن کا ڈونگہ بڑھاتے ہوئے کہا" ہاں بلا لو ....رزق کو انتظار نہیں کراتے" شاہ بی بی نے کہااسی پل اذلان شاہ خود چلا آیا تھا سیاہ آرام دہ شلوار قمیض میں شانوں پہ سیاہ شال ہی لپیٹے چہرے پہ وہی اذلی سکون لئے وہان کی طرف آیا تھا " السلام علیکم" ایلاف کو پچھلی بار کا تجربہ یاد تھا اس لئے جھٹ سلامتی بھیجی تھی" وعلیکم سلام" اذلان شاہ نے حیرانی سے جواب دیا" گویا دھیرے دھیرے سہی محترمہ کو عقل آرہی ہے" اذلان شاہ نے بیٹھتے ہوئے سوچاشاہ بی بی کی موجودگی میں وہ سربراہی کرسی پہ تو نہیں بیٹھتا تھا سو وہ ان کے مقابل بیٹھ گیا تھا یوں کہ سامنےہی ایلاف بیٹھی تھیایلاف نے نظریں جھکا لییں" بیٹا یہ ڈش پکڑاؤ اذلان کو" شاہ بی بی نے آرڈر پاس کیاایلاف تو مانو خاک ہی ہوگئی تھی" یہ یہاں مجھ سے اپنے بیٹے کی چاکری کروانے آئی ہیں" ایلاف نے جل کے سوچا اور ڈش اتنے فاصلے سے اذلانو پکڑائی کہ اذلانکو اس کا گریز صاف محسوس ہوا ایک غیر محسوس سی مسکراہٹ اذلان کے لبوں پہ آئی تھیایلاف دوبارہ اپنی پلیٹ پہ یوں جھکی تھی کہ اس سے ذیادہ ضروری کام اور کوئی ہے نہیں" ایلاف گلاس میں پانی نہیں ڈالا آپ نے اذلان کیلئے " شاہ بی بی نے تو آج قسم کھا لی تھی ایلاف کا جی جلانے میں" اس ساتھ کیلئے مجھے آفر کر رہی تھیں " ایلاف نے جگ میں سے پانی اڈیل کے اذلان کے سامنے یوں رکھا جیسے آب حیات ہوساتھ میں اذلان کو گھورا بھیاذلان بنا کوئی ردعمل ظاہر کئے خاموش سا کھانا کھاتا رہا اور ایلاف جل جل کے خاک ہوتی رہی" پہلے ہم نے سوچا تھا کہ آپ کو جاگیر ہی بلوا لیں پھر سوچا کہ ایلاف ابھی نئی ہے بہت سی باتیں ہیں پہلے ہم وہ کہہ سن لیں پھر جاگیر بھی چلیں گے" شاہ بی بی نے یہ بات کیا کی ایلاف کو لگا اس کے جلتے دل پہ پھوار پڑنی شروع ہوگئی ہےیہی ایک کام کی بات کی تھی اتنی دیر میں" جاگیر تو میں ضرور جاؤں گی اصل عدالت تو وہاں لگی گی ....انمعصوموں کو بھی تو پتہ چلیں ان ناخداؤں کے اصل چہرے" ایلاف کے عزائم بے حد خطرناک ہوچلے تھے" ایلاف ہم نماز پڑھ کے فارغ ہوجائیں تو تم ہمارے کمرے میں آجانا ہم امیراں کو بھیجیں گے کچھ باتیں کرنیں ہیں تم سے....ابھی جاگی ہوئی ہو ناں" شاہ بی بی نے بتاتے ہوئے پوچھ لیا" باتیں تو مجھے بھی کرنیں ہیں اماں" ایلاف نے کہا اس کے لہجے میں کچھ تھا کہ اذلان اس کی شکل دیکھنے لگا" نیند تو اب مجھے اس دن آئی گی جس دن حساب پورا ہوگا اس دن میری بلتی روح کو سکون ملے گا " ایلاف نے اذیت سے سوچا" آپ لوگ باتیں کریں ہم اب آرام کریں گے ....امیراں کافی دے جانا ہمیں " اذلان شاہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا نظریں ہنوز ایلاف کا چہرہ کھوج رہی تھیں" ہوں ٹھیک ہے آرام کرو بیٹا....اور ایلاف تم بھی کرلو کچھ جوکرنا ہے تمہیں" شاہ بی بی دونوں کو ایک ساتھ جواب دیتے ہوئےاٹھ گئیں تھیں______________________________کمرے میں آکے ایلاف شاہ بی بی کے رویے پہ غور کرنے لگی تھی اب تک اسے شاہ بی بی سارے قصے سے بے خبر لگ رہیں تھیں ورنہ کون ایسی لڑکی کو اتنی اپنائیت دیتا ہے جس پہ زمانے بھر کا گند اچھالا گیا ہو ....اذلان شاہ یقینا تم نے آدھیکہانی گڑھی ہے پر فکر نہ کرو ....میں ہوں نا پوری گواہی دوںگی ....مکمل حساب دوں گی" ایلاف کی سوچ کے اپنے ہی معیار تھےایسے ہی تو اذلان اس کی عقل پہ ماتم نہیں کرتا تھا" بی بی تساں آجاؤ....وڈی بی بی بلا رہی ہیں" امیراں دروازے سے جھانکتے ہوئے بولی" ہاں آرہی ہوں.....کہاں ہیں وہ" ایلاف نے چپل پہنتے ہوئے پوچھا" وہ جی اپنے کمرے میں " امیراں نے بتایا" اور ان کا کمرہ کہاں ہے" ایلاف نے اکتاہٹ سے پوچھامجال ہے جو یہ عورت ایک بار میں پوری داستان سنائے" آپ میرے ساتھ آؤ میں چھوڑ دیتی ہوں آپ کو" امیراں نے اپنی خدمات پیش کیں" بڑی مہربانی آپکی چلیں" ایلاف نےطنزیہ کہاجتنا وہ جلدی چاہ رہی تھی یہ امیراں خاتون اتنی ہی دیر فرما رہیں تھیںشاہ بی بی کے کمرے کے دروازے پہ دستک دے کے امیراں اسے اندر لے آئی ایلاف اپنے کمرے کے علاوہ آج پہلی بار کسی اور کمرے میں آئیکیا شاندار کمرہ تھا " ایلاف نے سوچا" یہاں آؤ بیٹی ....ہمارے پاس بیٹھو" شاہ بی بی بیڈ پہ کمبل اوڑھے بیٹھیں تھیں اسے بھی پاس بلا لیاشاہ بی بی نے ذیادہ دیر مناسب نہیں سمجھی تھی وہ جس مقصد کیلئے آئیں تھیں وہ انہوں نے ابھی سے شروع کر دیا تھاایلاف ان کے پاس آکے بیٹھی تو شاہ بی بی امیراں سے کہنےلگیں" جاؤ ہم دونوں کیلئے دودھ لے آؤ چائے پئیں گے تو پھر نیند نہین آئی گی دودھ لے آؤ "" یہ واقعی اذلان شاہ تمہاری ماں ہیں....تم انہی پہ پڑے ہو جیسے تم ویسے تمہاری اماں" ایلاف بھی ایمان لے آئی تھیاور یہ تو زمانہ کہتا تھا کہ اذلان شاہ اپنی ماں کا پرتو ہےامیراں آرڈر سن کے جا چکی تھیشاہ بی بی تسبیح سائیڈ پہ رکھ کے اس کی طرف متوجہ ہوئیں اور اس پہ پھونکا" اتنی عزت نہ دیں شاہ بی بی جب آپ کو حقیقت پتہ چلے گی تو آپ کیسے پھر یہ اپنائیت کے جلوے دکھائیں گی" ایلاف پھر ایلاف تھیشاہ بی بی سے ابھی وہ بات کرنے کیلئے لفظ اور ہمت دونوں ڈھونڈ رہی تھی جب ان کا سیل فون بجنا شروع ہوا انہوں نےحیرانگی سے سوچا"اس وقت کون ہے بھئی" سیل فون ہاتھ میں لیا دیکھا تو سیدھی ہو کے بیٹھ گئیںچھوٹی حویلی سے فون تھا ان کی دیورانی کا.....یہ یقینا تانیہ شاہ کی کارستانی تھی اس میں خود تو ہمت تھی نہیں کہ شاہ بی بی سے سن گن لیتی سو اس نے اپنی ماں کو آگے کیا تھاشاہ بی بی جانتیں تھیں کہ اب ان کے ایک دو گھنٹے کہیں نہیں گئے اس لئے کال ریسیو کرنے سے پہلے وہ ایلاف سے مخاطب ہوئیں" ایلاف بچے برا نہیں ماننا چھوٹی حویلی سے فون ہے .....آپ آرامکریں اب ہم صبح بات کریں گے ....جائیں آپ محسوس نہ کیجئے گا" شاہ بی بی رسان سے بول رہی تھیں" کوئی بات نہیں شب بخیر" ایلاف نے کہا اور بوجھل قدموں سے باہر نکل آئی" کب تک چین کی نیند سوؤگے اونچی حویلی والوں ایک مظلوم کا انتقام تمہاری حویلی کی بربادی کو پکار رہا ہے" ایلاف نے نہایت ذودورنج ہوتے ہوئے سوچااپنی سوچوں میں گم وہ چل رہی تھی جب جھٹکے سے اسے کسی نے اپنی طرف کھینچا تھاایلاف کے بازو کو شدید جھٹکا لگا اپنے بازو کو سہلاتے ہوئے اس نے نظریں اٹھائیں تو بس حیران ہوکے مجسم ہونے کی باترہ گئی تھی______________________________" کیا طریقہ ہے یہ اس طرح روکتے ہیں کسی کو....حد ہے بھئی" ایلاف پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولیوہ اذلان شاہ تھا ایسی جرات وہی کرسکتا تھا" ایسوں کو ایسے ہی روکا جاتا ہے ....بیٹھ جائیں آرام سے بات کرتے ہیں" اذلان شاہ حسب معمول آگ لگا کے پرسکون تھا" آپ کے ہوتے ہوئے اور آرام ..ہو ہی نہیں سکتا...فرمائیں کیا تکلیف آن پڑی ہے" ایلاف کے تیور نہایت تھیکے تھے" کیا باتیں کرنیں ہیں اماں سے آپ نے" اذلان شاہ تو اس کا بھید پا گیا تھا"کیوں آپ کو کیوں بتاؤں ....آپ اماں تھوڑی ہیں" ایلاف اب بھی کمرے کے بیچ اکڑی کھڑی تھی" میں ان کا بیٹا ہوں ...وہ میری ماں ہیں ایک بات کان کھول کے سن لیں ایلاف بی بی ہماری ماں سے کچھ الٹا سیدھا آپ نے اگرکہا تو آپ کے حق میں اچھا نہیں ہوگا " اذلان نے اسے باور کرا دیا تھا" کیوں پیر سائیں بہت تکلیف ہورہی ہے ایسی ہی تکلیف مجھے بھی ہوتی ہے میری کچلی ہوئی انا کو انصاف چاہئیے....آپ کی ماں کو سننی ہی ہوگی اپنے لاڈلوں کے کرتوتوں کی کہانی" ایلاف چیخییہ شخص مجھے روک نہیں سکتا میں ہر حد پار کر جاؤں گی " ایلاف فیصلہ کرچکی تھی" چلائیں مت ...اونچی آواز ہمیں پسند نہیں...واویلا کرنا آپ عورتوں کی پرانی عادت ہوتی ہے ...آپ کے ساتھ اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا مداواہوچکا ہے مگر آپ کا رونا ختم ہی نہیں ہوتا ایک گھٹیا انسان کے مقابلے میں آپ ایک شریف آدمی کے نکاح میں ہیں پھر بھی آپ کے مزاج نہیں ملتے ....ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ہماری برداشت کا امتحان مزید نہ لیں" اذلان شاہ برہمی سے بولا" شریف اور آپ ....واؤ...ہوتی ہوگی آپ لوگوں کی شرافت بہت ذیادہ....آئی ایکسیپٹ.. پر پتہ ہے کیا رات کی تاریکی میں آپ لوگوں کی شرافت کا چولہ اتر جاتا ہے ...آپ شرافت کا دعوی نہ کریں پیر سائیں ہم گنہگار گواہ ہیں آپ کی حقیقتوں کے .....نکاح کر کے کوئی احسان نہیں کیا ....مت کرتے نکاح ...ہم جاگیر جائیں گے اماں سائیں کے ساتھ وہاں آپ کے پورے خاندان کے سامنے آپ کے بھانجے کی شرافت کی اصلیت دکھائیں گے ....تب ہوگا مداوا" ایلاف بپھرا ہوا طوفان بنی ہوئی تھی جو سب تہس نہس کردیتا ہے مگر مقابل بھی پیر اذلان شاہ تھا اسے طوفانوں کو روکنا آتا تھا سیلابوں پہ بندھ باندھنے آتے تھے" پھر تو واقعی کوئی فائدہ نہ ہوا آپ سے نکاح کرنے کا ایلافبی بی...ہم تو سمجھے تھے مداوا ہوگیا " اذلان شاہ کا لہجہ عجیب سا تھااس کی انا پہ ذبردست چوٹ لگی تھی مرد سب برداشت کرسکتاہے مگر انا کی مار نہیں اور ایلاف کو تو اپنے مزاج کے خلاف کافی چھوٹ دے چکا تھا" مداوے یوں ہوتے تو کیا بات تھی ...میں آپ کو بتاؤں گی کہ کفارہ کیسے ادا کرتے ہیں ....مداواکیسے ادا کرتے ہیں" ایلاف اذلان شاہ کے انداز پہ اور نڈر ہوگئی تھیاس لئے اپنی بات کہہ کے اس نے کمرے سے نکلنے کیلئے فورا قدم بڑھائے تھےمگر اذلان شاہ کو سمجھنا اتنا آسان ہوتا تو بات ہی کیا تھیایلاف کے مڑتے قدموں کے بریک لگی تھی اذلان شاہ اس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا اور جھٹکے سے اسے پیچھے کر کے دروازہ بند کیا تھا" یہ کیا کر رہے ہیں آپ" ایلاف کی ساری بہادری رخصت ہونے لگیتھی" آپ جاگیر جائیں گی لوگوں کو ہماری اصلیت بتائیں گی ....ہمارے راز کھولیں گی ....آپ تو پہلے بھی فائدے میں رہیں تھیں...اب بھی فائدے میں رہیں گی .....خسارے تو سارے پھر ہمارے حصے میں آئیں گے " اذلان شاہ اس کے شانوں پہ اپنی گرفتکا احساس ڈالتے ہوئے بولا شہد رنگ آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے وہ ایلاف کو بتا رہا تھا اس کے پلانز کے بارے میں* انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے تو پھر شکوہ کیسا شکایت کیسی" ایلاف نے ہمت کرتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولی" تو پھر ہم کیوں خسارے میں رہیں ....ایلاف بی بی ...تاکہ ہمیںبھی نہ شکوہ رہے کہ ہم آپ کے حقوق پورے نہ کرسکے اور نہ آپ کو شکایت" اذلان شاہ کی بات نے ایلاد کو ہلا کے رکھ دیا تھا" کیا کہہ رہے ہیں آپ ....دماغ خراب ہوگیا ہے ....میں جارہی ہوں...آپ ان چیپ حرکتوں سے مجھے نہیں روک سکتے" ایلاف کیجان ہی نکل گئی تھیاذلان شاہ کے انداز اسے بہت کچھ جتا رہے تھے" نہیں ایلاف بی بی ہم نے آج تک کوئی نقصان کا سودا نہیں کیا...ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے تو چلیں آپ کو ثبوت بھیدے دیتے ہیں اور آپ تو ہماری زوجہ ہیں حق رکھتے ہیں آپ پہ....ہمیں کون روکے گا...ایلاف بی بی آج آپ مہر لگواہی لیں اپنے الزامات پہ سچائی کی " اذلان کا گہرا مزید تنگ ہورہا تھا اس کا پرتپش لمس ایلاف کو جھلسا رہا تھا" نہیں ....پلیز..آپ ایسا نہیں کرسکتے" ایلاف کی آنکھوں میں آنسوبھر آئے تھے چہرہ سرخ پڑگیا تھا وہ اس شخص کے سامنے جتنا اکڑتی تھی خدا اسے اتنا ہی جھکاتا تھاظاہر ہے ایلاف کی زبان کا صدقہ تھے یہ سب اور فی الحال ایلافکو یہ سمجھانے والا کوئی نہ تھا." کیوں ہم ہی تو ہیں جو سب کرسکتے ہیں ....نہیں ایلاف ابھی آپہی نے تو کہا تھا....چلیں ایک ڈیل کرتے ہیں" اذلان شاہ آہستہ آہستہ اپنے پتے پھینک رہا تھا" کیا " ایلاف بے تابی سے بولیاسے یہ صورتحال مرنے کے برابر لگ رہی تھی" آپ کی زبان بندی ...آپ اپنی اعلی سوچ اور گواہی اپنے تک محدود رکھیں گی نہ اماں سے نہ جاگیر میں اور کسی سے....بولیں منظور ہے"اذلان شاہ گیند اس کے کورٹ میں ڈال چکا تھااور ایلاف وہ تو اس کی ذہانت پہ حیران ہی رہ گئی تھی عش عش کر اٹھی تھی" یہ جانتا ہے کہ میں اپنی عزت اور انا کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہوں اس لئی یہ سب کیا اس نے.....خدا پوچھے تم سے اذلان شاہ" ایلاف سن سی ہوگئی تھیکیا داؤ کھیلا تھا" نہیں ایسا نہیں ہوسکتا" ایلاف نے آخری کوشش کی" جلدی نہیں ایلاف بی بی پوری رات اپنی ہے آپ آرام سے سوچ لیں ....یہ دروازہ تب ہی کھلے گا جب آپ فیصلہ کریں گی ....اب یہ آپ پہ ہے کہ اپ یہ دروازہ ابھی پار کرنا چاہتیں یا صبح کی روشنی میں" اذلان شاہ نے اس پہ اپنا ارادہ واضح کردیا تھامرد اپنی کرنے پہ آئے تو کون روک سکتا ہےایلاف نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اذلان شاہ کسی رعایت کے موڈ میں نہیں تھا" آپ آل ریڈی میرا بہت امتحان لے چکیں ہیں ....اب مزید کتنا وقت درکار ہے آپ کو" اب وہ جیسے اس کی سانسیں گن رہا تھا" کوئی بات نہیں اذلان شاہ ....کبھی تو میرا وقت بھی آئے گا...اس وقت میں مجبور ہوں تمہاری ہوس اتنی آسانی سے پوری نہیںہونے دوں گی....تشنہ ہی رہوگے تم" ایلاف نے آخر ہارمان لی تھی" ٹھیک ہے اذلان شاہ آپ جیتے میں ہاری ....مگر میری نظروں سے آپ گر گئے ....آپ نے اچھا نہیں کیا" ایلاف نے اپنے آخری تاثرات بیان کرنا ضروری سمجھے"گڈ ...کافی سمجھدار ہوگئیں ہیں آپ ہمارے ساتھ رہ کے....بھیجے میں موجود عقل استعمال کرلیا کریں....یونہی فائدے میں رہیں گی" اب وہ وہی پرانا اذلان شاہ تھا پرسکون سا" آپ کو ضرورت نہیں میری فکر کی " ایلاف جل کے بولیاذلان اب اس سے یوں لاتعلق ہو کے دروازہ کھول کے اپنی اسٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھ چکا تھا جیسے وہاں وہ ہے ہی نہیںاذلان شاہ جانتا تھا کہ ایلاف کو کیسے قابو کرنا ہے اتنے دنوں میںوہ اس کے مزاج سے واقف ہوگیا تھا سو اس نے بنا کسی ذاتی خواہش کہ ایلاف پہ یوں حق جتایا تھا جانتا تھا وہ انا کی ماری ہوئی لڑکی پابند ہوجائے گی ایلاف کی زبان بندی مناسب وقت تک بے حد ضروری تھی ورنہ وہ بیوقوف سب برباد کر دیتی باوجود اس کے اذلان شاہ بی بی کو سب بتا چکا تھا مگر ایلاف تو نہیں جانتی تھی نا اور نہ اذلان اسے بتانا چاہتا تھا______________________________میں راکھ ہوں گیلی لکڑی کیکیوں پھونکوں سے بہکاتے ہوجو سوکھے میری کلائی میںوہ پھول کہاں سے لاتے ہوتو دھوپ کی شال اڑا مجھ کوتب جانوں کہ میں ہاری پیا....میں ہاری پیا" اذلان شاہ تم نے آج جو کیا ہے میں چاہوں بھی تو نہیں بھول سکتی ...بھلا اپنے حق کا کوئی یوں بھی ناجائز استعمال کرتا ہے ....کیوں مجھے بار بار جلتی دھوپ جیسے سائبان ہونے کا احساس دیتے ہو....کیوں مجھ سے میرا حق چھینا تم نے....اب تو میں شکایت بھی نہیں کرسکتیپابند کر دئیے تم نے مجھےاب مجھے کون دوا دے گا میرے درد کیتم نے پھر سے مجھے ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہےایلاف کی ساری رات یونہی گزر گئی تھی صبح ناشتے پہ اس کی سرخ آنکھیں شاہ بی بی نے دیکھیں تو بے چین سی ہوگئیں تھیں" ایلاف کیا بات ہے....آنکھوں میں اتنی سرخی ... جاگتی رہی ہو"ایلاف نے نظریں اٹھا کے دیکھا سامنے ہی اذلان شاہ تھا جسکی آنکھوں میں تنبیہ واضح تھی" بد عہدی کی تو یاد رکھئے گا ....بقول آپ کے ہم تو ہیں ہی موقع کی تلاش میں .....آپ ہماری پہنچ سے باہر نہیں" اذلان شاہنے اسے اچھی طرح باور کرادیا تھا" بس آنکھوں میں کچھ پڑ گیا تھا رات کو" ایلاف دھیرے سےبولی" یہ رات کو آپ کے کمرے سے آرہی تھیں غالبا تبھی کچھ پڑگیا تھا ....ہم نے مدد کی تھی ان کی اب یہ ٹھیک ہیں" اذلان شاہ نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا" ایلاف بیگم زرا آپ بھی کچھ مزہ لیں" اذلان شاہ دل میں بولتے ہوئے کھڑا ہوگیا تھا اور پھر چلا گیا تھاشاہ بی بی اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرنے لگیں تھیں ادھر ادھر کی پھر اچانک پوچھنے لگیں" کیا عمر ہے ایلاف تمہاری..." شاہ بی بی نے پوچھا" دو ماہ بعد اٹھارہ سال کی ہوجاؤں گی " ایلاف نے جواب دیا" اوہ ....یعنی تم اذلان سے دس برس چھوٹی ہو ...وہ اٹھائیس کا ہے.....خیر اتنا فرق تو عام ہے تمہارے سسر میں اور مجھ میں چھ سال کا فرق تھا اور عالیہ شاہ اور اذلان شاہ میں آٹھ برس کا پھر بھی دونوں کی شادی ہوگئی ....کھیل نصیب کے" شاہ بی بی نے اذلان شاہ کی زندگی کا پہلا راز کھولا تھااور ایلاف کو جیسے بچھو نے ڈنگ مارا تھا" تو تم پہلے سے ہی شادی شدہ ہو ....تمہاری روح سیراب ہے...تبھی تم نے کسی سے کچھ نہیں کہا" ایلاف ایک اور انکشاف پہ ماتم کدہ تھی جاری ہے...

No comments:
Post a Comment