#_سانول_موڑ_مہار#_ماریہ_اشرف#_قسط_نمبر_2#_پارٹ_2"فاطمہ.... ایسا کیسے ہو سکتا ہے. تمہارا دماغ تو درست ہے. ہوش میں تو ہو.""فی الحال تو میں شاک میں ہوں" وہ دونوں ایک جگہ سے دوسری جگہ مسلسل چلتے پھرتے باتیں کر رہے تھے."ایسے کیسے ہو سکتا ہے. گھنٹوں پہلے کے وہ سب گھر سےنکلے ہوئے ہیں ابھی تک ہاسپٹل نہیں پہنچے. اب تم مجھے ڈرا رہے ہو." گل جان آخر میں تھک ہار کر تھکے قدموں سے بیٹھ گئیں."تم ایک کام کرو پھر سے فون کر کے پوچھو" گل جان کسیخوف کے عالم میں تھیں. "ایک تو شہر کے حالات ٹھیک نہیں اوپر سے فاطمہ بھی انہیں کے ساتھ ہے. کچھ بھی ہوسکتا ہے""گل جان گل جان وہ ہاسپٹل ہے. ٹیلی فون ایکسچینج نہیں جہاں بار بار فون کرکے پوچھتے پھریں" خاورگردیزی صوفے کو ٹھوکر لگاتے ہوئے کہہ رہے تھے. ایک ہی وقت میں باپ بھائی بیوی بھابھی سب ایک ساتھ منظر سے غائب ہو جائیں تو اچھا خاصا بندہ خدشات کے مارے پاگل ہو جاتا ہے. یہی حال اسوقت خاور گردیزی کا تھا."سیما یا جان محمد میں سے کسی کو فون کر کے دیکھو" گل جان بوکھلائی ہوئی تھیں."میں یہاں......" خاور نے غصے سے اپنا کان سے لگا فون آگے کیا. پھر ماں کی پریشانی بھانپتے ہوئے "کچھ نہیں" کہہ کر دوبارہ جان محمد، ابی جان، شاہ زین، زینب کا نمبر ٹرائی کرنے لگے. اسی اثناء میں نائل گردیزی اپنے چہرے پر مسکراہٹ لیے بجلی کی رفتار سے گل جان کے کمرے میں داخل ہونے لگا کہ اندر سے آتی آوازوں پر ٹھٹھک گیا."کوئی بھی نہیں فون اٹھا رہا" خاور گردیزی مختلف سوچوں کے انتشار میں گھرے ہوئے تھے. "انہیں کس نے کہا تھا کہ ہاسپٹل جانے کی بجائے درگاہ پہنچ جائیں""اللہ خیر کرے سب خیریت سے ہی ہوں. فاطمہ کو کچھ نہ ہو گیا ہو" وہ دونوں بس ایک ہی بات سوچ رہے تھے."چاچی تو میرے لیے پری لینے گئی تھیں. لیکن یہ سب کہاں چلے گئے. اب میرے لیے پری نہیں آئے گی." فاطمہ کے نام پر نائل کو اس سے جڑی زندگی کی بھی پروا ہونے لگی."چاچی کو کچھ ہو گیا تو میری پری کون لائے گا" دروازے کے ہینڈل کو زور سے پکڑ کر وہ یوں کھڑا تھا جیسے اپنی آنکھوں سے نکلنے والی چنگاریوں سے ہر چیز جلا ڈالے گا."آپ مانیں یا نہ مانیں یہ لوگ ابھی تک وہیں ہونگے. اور ہاسپٹل کاعملہ ادھر الرٹ بیٹھا ہے. بار بار انہی کے فون آرہے ہیں. اب آپ ہی بتائیں کہ میں کیا کروں" خاور جب کسی کو فون کر رہے ہوتے دوسری لائن پر کوئی نہ کوئی کال کرنے لگ جاتا."اب میں کیا کہہ سکتی ہوں تمہارے ابی جان کو صحت مند بچے کی کتنی خواہش تھی" گل جان نے حسرت سے کہا"اب آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ صحت مند بچے کیلیے وہ سب کے سب کہیں ساحل سمندر ہی نہ بیٹھے ہوں کہ ایک چکر ادھر کابھی لگا آئیں" خاور گردیزی گل جان کی بات سن کر اشتعال میںآگئے. " "دعا کریں فاطمہ اور اسکی ننھی پری ٹھیک ہوں. کتنا کہا تھا زینب نے ابی جان سےکہ رسک نہ لیں مگر انہوں نے ہر معاملے میں اپنی مرضی چلانی ہوتی ہے" ایک تو فون نہیں مل رہا تھا اوپر سے گل جان دل دہلا دینے والی باتیں کر رہی تھیں. درگاہ کے آس پاس تو کوئی دواخانہ تک نہیں تھا ہاسپٹل کہاں ہوتا. خاور کا یہی باتیں سوچ سوچ کر دماغ پھٹا جا رہا تھا."مما، ابی جان، پاپا، گل جان سب نے مل کر نائل گردیزی کو دھوکہ دیا جھوٹ بولا.یہ لوگ میرے لیے کوئی پری لینے نہیں گئے. یہ آپ لوگوں نے اچھا نہیں کیا" نائل انہیں قدموں پر واپس لوٹ گیا تھا............................................."ہم آپ سے کیا پوچھ رہے ہیں جلال صاحب اور یہ صاحب کیا کہہرہے ہیں" ڈاکٹر شاہ زین کی بات سن کر حیرانی سے بولا"آپ نے ہم سے ایک کو بچانے کی بات نہیں کی کیا" زینب کو نیا سیاپہ پڑ جانے کا ڈر تھا."جی بچے کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے. مگر پیشنٹ کی اپنی حالت بہت نازک ہے" ڈاکٹر نے بے بسی سے کہا"ڈاکٹر زینب آپ بھی ایک ڈاکٹر ہیں. سمجھ سکتی ہیں کہ نیولی بارن بےبیز کیلیے ایک الگ سیٹ اپ ہوتا ہے. کنٹرولڈ انوائرمنٹ، انکیوبیٹرز یہ سب کچھ یہاں کہاں ملے گا. وہ بھی تب جب آپ لوگوں کے علم میں تھا کہ پیشنٹ بمشکل سروائیو کرے گا" ڈاکٹر ہر کسی کو جھٹکے دے رہا تھا. آخری بات پر شاہ زین نے زینب اور زینب نے جلال گردیزی کو دیکھا. اس سے پہلے کہ سب کٹہرے میں کھڑے ہوتے اندر سے ایک نرس نما آپا باہر آئیں."ڈاکٹر صاحب کیوں ٹائم ویسٹ کرتا ہے. جلدی اندر چلو" اس کے لہجے میں پریشانی ان سب نے محسوس کی."ہاں مارتھا چلو ہم بھی آرہے ہیں" ڈاکٹر سر جھٹک کر اندر چلے گئے."بھابھی یہ کیا کہہ رہے ہیں. فاطمہ.... بھابھی پلیز فاطمہ کو بچا لیں. پلیز" شاہ زین نے ملتجی نظروں سے زینب کو دیکھتے ہوئے کہا."میں ....میں جا رہی ہوں" زینب یکدم ہوش میں آئی."ابی جان خاور کو فون کریں اور ان سے کہیں کہ ہاسپٹل سے ایک ایمبولینس یہاں بھجوائیں. اگر بلڈ کی ضرورت پڑ گئی تو ہم یہاں ارینج نہیں کر پائیں گے. بلڈ بھی ایویں نہیں لگ جاتا. کراس میچنگ کرنی پڑتی ہے" زینب گردیزی جلال گردیزی کو کہہ رہی تھیں. شاہ زین کو اس وقت وہ سب انتہائی سفاک لگ رہے تھے. بھلا اسے کیا پتہ ڈاکٹر بندے کا کوئی کتنا ہی سگا کیوں نہ مر جائے افسوس کرنے سے پہلے انکا یہ سوال ہوتا ہے کوئی سانس نہیں لے رہے. کوئی موومنٹ نہیں ہے. شاہ زین انہیں وہیں چھوڑ کر آگے چلا گیا. سیما اور جان محمد نے ایک دوسرے کو دیکھ کر نظریں نیچے کر لیں.................................."سکینہ آپا یہ کون اس وقت باہر بال کو زور زور سے دیوار پر مار رہا ہے" حدید اپنے کمرے سے باہر آیا اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سکینہ آپا سے پوچھنے لگا."وہ بابا. نائل بابا ہیں. غصے سے گیند مار رہے ہیں" سکینہ آپا نےبےچارگی سے کہا جیسے وہ بھی حدید سے پہلے نائل سے اپنا سر کھپا کر آئی ہوں."اب بگ بی کو کیا ہوا ہے" حدید نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب وہیں ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا."سکینہ آپا کچھ کر رہی تھیں" حدید نے سکینہ سے پوچھا"نہیں بابا. آپ بتاو" سکینہ آپا کی ایک عمر انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی. دوسرا وہ صرف سپروائز کرتی تھیں."آپ تھوڑی دیر کیلیے میرے کمرے میں چلی جائیں. سائر اور رائد سو رہے ہیں تو کہیں بیڈ سے گر نہ جائیں یا اٹھ کر ڈریں نہ. میں ذرا آپکے نائل بابا کو دیکھ کر آیا" حدید نے انہیں ایسے سمجھایا جیسے کسی خاص مشن پر جا رہا ہو..............................."پتر تیرا زمین وچ کی گواچ گیا اے جیڑا تاریاں وچ لب ریا ایں" شاہ زین اپنی گاڑی سے ٹیک لگا کر بیٹھا آسمان کی طرف اتنے انہماک سے دیکھ رہا تھا کہ اسے اپنے برابر کسی کے بیٹھنےکا بھی پتہ نہ چلا. آواز پر اس نے پلٹ کر اپنے دائیں طرف دیکھا. سبز کپڑے پہنے گلے میں مفلر لپیٹے لمبے بالوں والا ایک شخص اپنی گود میں چھڑی رکھتا شاہ زین سے پوچھ رہا تھا."میں سمجھا نہیں آپ کی بات" شاہ زین نے انہیں ایک نظر دیکھ کر اپنا سابقہ شغل پھر سے جاری رکھا. یہاں پر اسے اب تک کتنے ہی ایسے لوگ ٹکر چکے تھے."لگتا ہے بڑی گہری چوٹ لگی ہے تجھے اس لیے عام باتیں تیری سمجھ میں نہیں آ رہیں. چل تیری زبان میں سمجھا دیتا ہوں. انسان تاروں کی طرف تبھی جھانکتا ہے جب اسکا زمین میں کچھ کھو جائے. تیرا کیا کھو گیا ہے""میرا..... سب کچھ..... بیوی میری مرنے کے قریب ہے. بچہ شاید میں کھو ہی چکا ہوں" شاہ زین نے بھرائی ہوئی آواز سے کہا"نہ پتر. ناامیدی گناہ ہے. ہو سکتا ہے رب نے کچھ زبردست تیرے لیے سوچا ہو. تجھے کیا چاہیئے. اپنے دل کی بات بتا""بیوی... مجھے میری بیوی سے بہت محبت ہے. وہ جیسے جیسے مجھ سے دور ہو رہی ہے میرے سانس بھی مجھ سے دور ہوتے محسوس ہو رہے ہیں""دیکھ لے فیصلہ تیرے پر چھوڑا ہے""بیوی"چل جیسے تیری مرضی. میں تیرے لیے دعا کروں گا تو کسی ایک پھل کو زندگی بھر نہ کھانے کی قسم کھا" گہرے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس آدمی نے شاہ زین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا"پھل. کونسا پھل. کسی بھی پھل پر قسم کھا لوں پھل تو پھر بھی کھایا جائے گا" شاہ زین کو یہ سب ڈھونگ لگ رہا تھا. اسلیے مسکرا کر بولا"ایسا کر تو اک کا پھل نہ کھانے کی قسم کھا" سبز رنگ میںملبوس شخص شاہ زین کے پیچھے ہی پڑ گیا"ٹھیک ہے کھائی قسم اب کیا" شاہ زین نے اکتاہٹ سے کہا."ٹھیک ہے تو پھر اپنی آنکھیں بند کر" اس شخص نے شاہ زین کی آنکھوں کے آگے اپنا ہاتھ رکھ دیا."انسان بڑا ہی بے صبرا واقع ہوا ہے. اپنے نفس کا غلام. اپنے دل کیبات سننے والا. نفس ہمیشہ غلط راہ پر ہی لے کر جاتا ہے اگر یہ میٹھا مانگے تو اسے نمکین چیز دو اور اگر نمکین چیز مانگے تو میٹھا دو. جب تجھ سے کہا گیا تھا. تجھے اختیار دیا گیا تھا کہ تو اپنی مرضی بتا تو تو نے دونوں کا نام کیوں نہیں لیا. صرف بیوی کو ہی کیوں چنا. خدا نے تیرے لیے کچھ اور ہی سوچا تھا مگر تو نے اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر آئی رحمت کو ٹھکرایا ہے. اب جا تیری بیوی تیرا انتظار کر رہی ہے." وہ شخص اپنا ہاتھ اسکی آنکھوں سے ہٹاتا کہہ کر اٹھنے لگا. شاہزین سن بیٹھا رہا. جب تک اسکی سمجھ میں اس شخص کی کہی باتیں آئیں تب تک وہ شخص نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا. شاہ زین ہوش میں آتا فوراََ وہاں سے بھاگا تھا....................................."جی ابی جان آیا... جی جی ابھی کے ابھی نکل رہا ہوں" خاور گردیزی نے گل جان کو دیکھتے ہوئے جلال گردیزی کی ساری بات سن کر جواب دیا اور فون رکھ دیا."جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا" خاور نے ماں کو گلے لگاتے ہوئےکہا"تقدیر بھی بعض اوقات زندگی کو کس موڑ پر لے آتی ہے. میرا تو یہ سب سن کر دل پھٹا جارہا ہے" گل جان نے روتے ہوئے کہا "نجانے ہمیں کب اس گھر میں رحمت دیکھنا نصیب ہوگا. کوئی دعا کوئی دوا اثر ہی نہیں کر رہی""گل جان فکر نہ کریں. خدا ہماری ضرور سنے گا. ہماری دعائیں ضرور رنگ لائیں گی. آپ کے سارے ارمان پورے ہوں گے" خاور گردیزی انہیں تسلیاں دیتے باہر نکل گئے................................"میرے سارے ارمانوں کو آگ لگ گئی. سارے جذبے سرد پڑ گئے" نائل گردیزی نے بال کو زور سے شاٹ لگاتے ہوئے کہا"بھائی آپ کو پھر سے پری کی یاد ستانے لگ گئی" حدید نے نائل کا مرجھایا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا"تمہیں اس اندھیرے میں کوئی امید کی کرن نظر آرہی ہے. مجھے تو نہیں آرہی" نائل گیند کو پھینک کر حدید کے پاس آکر بیٹھ گیا."بھائی امید پر تو دنیا قائم ہے. آپ اس عمر میں ہی ہار ماننے لگے" حدید نے نائل کو گھور کر کہا"سب نے مجھ سے جھوٹ بولا سب نے" نائل اسے شکایت لگانے لگا"اب آپ سے کس نے جھوٹ بول دیا" حدید سیدھا ہوکر اسے دیکھنے لگا"کوئی پری نہیں آرہی گھر" نائل نے حدید کے پوچھنے پر اسے خاور اور گل جان کی ساری باتیں بتا دیں."بھائی یہ تو انہوں نے بہت غلط کیا ہے. ہمیں پہلے کہتے ہی نہ" حدید کو بھی حیرانی ہوئی. پھر نائل کی خاموشی اسکے غصے کو دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا"بھائی اس میں نئی بات کونسی ہے. نہ ہمارے ابی جان کی کوئی پری تھی نہ پاپا اور تایا جان کی" نائل نے نا سمجھی سے اسے دیکھا"بگ بی..." حدید نے چیئر سے اٹھتے ہوئے نائل کو کہا"ہوں" نائل کو اس سے کچھ اچھا بولنے کی ایک فیصد بھی امید نہیں تھی."ہم کونسا انوکھے ہیں ان سب سے. ہماری بھی کوئی پری نہیں ہے" حدید اسے کہہ کر اندر کو بھاگا. پیچھے پیچھے نائل بھی مسکرا کر اسکی خبر لینے اندر چلا گیا. چاہے کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسکا دھیان کسی اور طرف لگا تھا................................................"ایک بار پھر سے دیکھو شاید یہ سانس لے""آکسیجن ماسک نہیں ایسا کرو اسکا منہ کھول کر سانس دینے کیکوشش کرو""نو سر بچی وی آر سوری. بچی کوئی رسپانس نہیں دے رہی""ڈاکٹر زینب ہم نے آپ کی بھابھی کو آپریٹ کیا تاکہ انکا بےبی اگر زندہ بھی ہوا تو اسے بھی ہم بچا لیں.لیکن آئی ایم سو سوری آپکی بھابھی کو ہی ہم بچا سکے ہیں مگر انکا بے بی نہیں. آپ جتنی جلدی ہو سکے اپنی بھابھی کو کسی ہاسپٹل شفٹ کروا لیں." زینب نے دل بڑا کرکے ڈاکٹر کی بات سنی."ایمبولینس آتی ہو گی ہم فاطمہ کو لے کر جا رہے ہیں" زینب افسردگی سے کہتے کمرے سے باہر نکل گئی."ان کے جانے کے بعد ہم بھی نکلتے ہیں. صبح رپورٹ بھی کرنی ہے""ہائے پھر سے وہی روٹین شروع ہو جانی ہے" ڈاکٹر آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ مارتھا انکے پاس آئی."ڈاکٹر صاحب مجھے بھی واپس ہاسپٹل جانا ہے. اس مردہ بچے کا کیا کریں" مارتھا کا تو اب کوئی کام بھی نہیں تھا."ٹھیک ہے تم جاو. اور اس بچے کو دفنا دینا" ڈاکٹر نے جمائی لیتے ہوئے مارتھا سے کہا"پر ڈاکٹر صاحب. وہ آپ لوگ..." مارتھا نے بات کرنا چاہی"نہیں مارتھا جو بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں انکے نماز جنازہ نہیں پڑھائے جاتے. تم جاو جاکر اسے دفنا دینا" ڈاکٹر نے مارتھا سے کہہ کر اپنا سامان پیک کرنا شروع کردیا............................................."بیٹا مجھے پتہ ہے کہ تمہیں بڑی گہری چوٹ لگی ہے. ہم نےتو اپنا سود گنوایا ہے" جلال گردیزی ایمبولنس کو جاتا دیکھ کر ساکن کھڑے شاہ زین کی طرف مڑے اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دینے لگے."مجھے تو صرف چوٹ لگی ہے اصل نقصان تو آپکا ہوا ہے ابی جان. گنتے جائیں آپ نے کیا کیا گنوایا ہے" شاہ زین اپنے کندھے سے انکا ہاتھ ہٹا کر بولا اور جان محمد کو پیچھے دھکیل کر اپنی گاڑی بھگا کر چلا گیا."پلیز ابی جان اسکی باتوں کو دل پر مت لیں. تھوڑا غم میں ہے نہ اسی لیے ایسی باتیں کر رہا ہے" خاور گردیزی نے جلال گردیزی کو ٹھنڈا کرنا چاہا. جواب میں ابی جان صرف سر ہلا کر رہ گئے......................................"موت بھی کتنی بے رحم ہے. آتی تو زندگی میں ایک بار ہی ہے. مگر عمر بھر کا درد دے جاتی ہے" مارتھا کمبل میں بے جان وجود لیے چلی جارہی تھی ساتھ ساتھ سر جھٹک جھٹک کر اپنے خیالات کا اظہار بھی کر رہی تھی."اووو...ایں....ہیں......" مارتھا کی سوچوں پر یکدم بریک لگ گئی. کسی بچے کے رونے کی آواز پر اس نے مڑ کر ادھر ادھر دیکھا. پھر اسنے تھوک نگلتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں پکڑے وجود سے کمبل اٹھایا تو نیلی آنکھوں والا وجود اسے دیکھ کر یکدم خاموش ہو گیا مگر مارتھا کی چیخیں نکل گئیں..................................کبھی کبھی انسان اپنی ساری ترکیبیں لڑا چکا ہوتا ہے. ساری تدابیر ساری طاقت دھری کی دھری رہ جاتی ہے. اس وقت سب کچھ بس خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے. وہ جسے چاہے زندگی دے جسے چاہے موت...................................next episode on Wednesday InshaAllah

No comments:
Post a Comment