Friday, July 27, 2018

تم میری ہو بس قسط 3

http://novelskhazana.blogspot.com/



تم_میری_ہو_بس#رضیہ_احمد#Episode_3#raziaahmadگل : کیا ہے ؟ ؟شہزاد : چُپ کر کے بیٹھو یہاں ! یہ تمھارے موڈ کو کیا ہوا ہے ؟ ؟گل : مار کھاؤگے تُم مجھ سے ابشہزاد : میں نے کیا کیا ہے ؟گل : موڈ تو تمہارا کل سے میرے ساتھ خراب ہے اور میں ظاہر بھی نہ کروں کیا ؟شہزاد : اچھا . . . آئی ایم سوری . . میں جانتا ہوں کے میں کل سے تمھارے ساتھ بہت غصے سے پیش آرہا ہوں لیکن میں کیا کروں ’ ؟گل : چلُو پر پانی ڈوب مروشہزاد : ہاہاہا . . اکیلے نہیں مرنے والا . . تمہیں ساتھ لیکر مرونگاگل : میرے خدایاشہزاد : گل مجھے تُم سے اک بات کرنی ہےگل : مجھے نہیں کرنی میں جارہی ہوںشہزاد : سنو تُو کچھ پوچھنا ہے تُم سےگل : جلدی کرو میرے پاس ٹائم نہیں ہےشہزاد : اچھا ؟ آج میرے لیے ٹائم نہیں ہے تمھارے پاس . . بہت نہ انصافی ہے دیکھو میں تمہاری ہر بات سنتا ہوں میری بھی سن لو میرا بھی کچھ حق بنتا ہے کے نہیں ؟ ؟گل : اچھا جناب بولیں . . . شہزاد : وہ لڑکا کون تھا ؟گل : کون ؟ شہزاد : وہیگل : کون وہی ؟شہزاد : وہی جو اُس دن مر کھارہا تھاگل : پتہ نہیں ھوگا کوئیشہزاد : انعم بتا رہی تھی کے تمہاری اُس کے ساتھ کوئی ٹکر ہوئی تھیگل : کیا مطلب ؟ ؟ ! ! کیسی ٹکرشہزاد : یہ تو تم ہی بتا سکتی ہوگل : ارے ہاں انعم مجھے اُس دن بہت تنگ کر رہی تھی تمہاری وجہ سے مجھے لیٹ ہونا پڑا اور ہم لوگ لائبریری کی طرف جارہے تھے وہ بھی اندھوں کی طرح وہاں سے آرہا تھا تو ہوگئی ٹکر کتابیں گر پڑی … بسشہزاد : بس ؟گل : ہاں بسشہزاد : اس نے تمہیں کچھ کہا تو نہیںگل : نہیں . . . سوری کہ رہا تھا پِھر ہم وہاں سے چلے گئےشہزاد : ہمممگل : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اب میں نے بتا دیا نا تمہیں اب تُم بتاؤ تمہیں کس بات پر غصہ تھاشہزاد : مجھے لگا کے شایدگل : شاید کیا ؟شہزاد : وہ انعم کچھ عجیب سی باتیں کر رہی تھی کے تم نے اسکی طرف دیکھا نہیں تم نے اسے پہچانا نہیںگل : وہ تو بکتی رہتی ہے بھلا مجھے کیا ضرورت ہے کسی کی طرف مفت میں دیکھنے کی جو بھی ہے بھارھ میں جائے. تُم کیوں اتناسوچ رہے ہو ؟شہزاد : گل . . . پلیز انعم اور میرے علاوہ کسی اور سے بات نہ کیا کرو یونیورسٹی میںگل : آئی نو . . . اور میں کرتی بھیشہزاد : میں نہیں چاہتا تمہیں کوئی بھی کسی قسِم کا نقصان پہنچھاے بہت برے لوگ ہے باہرگل : جانتی ہوںشہزاد : اچھا سنو . اب اگر وہ لڑکا تمھارے سامنے آئے تو تُماسے اگنور کردیناگل : جی اچھاشہزاد : اور ہاں صرف انعم کے ساتھ رہا کرو . اسے میں اپنی بہن مانتا ہوں اور وہ میری کبھی کوئی بات نہیں ٹالتیگل : اچھا . . . اور کوئی حکم ؟شہزاد : بس اتنا ہی ابھی جاؤ اسٹڈی کے لیے ورنہ اماں تمہیں پِھر کسی کام پر لگا دینگیگل : اوکےکیا گل اتنی بیوقوف ہے کے شہزاد کے دِل کی بات نہ سمجھ پائی . یا پِھر جان بوج کے ایسا کر رہی تھی ؟خیر . . . فل حال تو شہزاد تسلّی میں تھا کے گل ایسا کچھ نہیں کریگی جسے اسے تکلیف ہو . بیسٹ فرینڈ کے ساتھ ساتھ اسکی محبت بھی تو تھی . لیکن شہزاد بھی یہ بات کرنے سے کتراتا تھا . بس کچھ ہی دن رہ گئے تھے جیسے ہی ایگزامس پاس کرے گا وہ گل کو اپنے ساتھلے جاےگا . کچھ دنبَعْد ایگزامس شروع ہوچوکے تھے . سب اسٹوڈنٹ ہمیشہ کی طرح پڑھائی میں بے حد مصروف تھے . گل کی تیاری فل تھی اور شہزاد کی تیاری میں بھی دم تھا . جیسے ہی ایگزامس ختم ہوئے تو سب لوگ ہولیڈیز منانے چلے گئے . گل کی ہولیڈیز اکثر گھر کے کامو ںمیںنکل جاتے . لیکن اِس بار چچا نے بھی ٹھان لی تھی کے گل کو گھر کا کوئی کام نہیں کرنے دینگے اسلئے گل کو اسکی خالہ کے ہاںبھیجھ یا . شہزاد اور اسکے ابّا کو بھی سکون تھا . ویسے تو چچی ایک نمبر کیکام چور تھی اسلئے ہر کام گل سے کرواتی تھی لیکن چچا بھی اپنے وعدے اور ارادے کے پکے تھے . اِس بادتو چچی ہی گھر کا کام کریں گی . گل کو اپنےخالہ کے گھر جا کر بہت سکون ملتا . خالہ کا گھر بہت بڑا تھا . خالہ کے گھر سے خوبصورت وادیو کا دیدار کرنے کو ملتا .خالہ کے گھر کے باغ اتنا پیارا تھا کے گل ہر وقت ان میں سمائی رہتی .خالہ کے دو بچے تھے اک بیٹی اور اک بیٹا . بیٹے کا نکاح ہو چکا تھا اور بیٹی کی منگنی ہونے والی تھی . اسکی ہم عمر تھی اسلئے جب بھی وہ ملتے ڈھیساری باتیں کرتے . ابھی کچھ ہی دنوں تک خالہ کی بیٹی کی منگنی ہونے والی تھی اسلئے گھر میں سب تیاریوں میں مصروف تھے . آج خلہ جان گل کو اپنے ساتھ بازار لیکر گئی اور گل نے بڑا ہر پیارا قسِم کا سوٹ پسند کیا جو وہ اپنی کزن کی منگنی پر پہنے والی تھی . بالکل گل کی پسند کا . ریڈ . . گل کو ریڈ کلر بہت پسند تھا . بڑی ہی خوشی سے اس نے وہ سوٹ سیلیکٹ کیا اور منگنی والے دن سب سے زیادہ خوبصورت تو وہی لگ رہی تھی . سب اسکی بہت تعریف کر رہے تھے . گل بھی بے حد خوش تھی .خالہ شگن کی تھالی اوپر اپنے کمرے میں بھول آئی جس میں منگنی کی رنگز بھی تھی . گل بھاگتی ہوئی اوپر گئی اور تھالی لیکر آئیلیکن وہ اتنی خوشی میں اور جلدی میں آئی کے اسکا پاؤں پھسل گیا . . . . شکر ہے ! اسے کسی نے بچا لیا . تھالی بھی بچ گیی. . . گل کی آنکھیں بند تھی اور وہ جس نےاسے بچایا تھا وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا . جیسے ہی گل نے آنکھیں کھولی تو اس نے اسے پہچان لیا . یہ تو وہی لڑکا ہے کتابوں والا . . وہگھبرا کر کر اٹھی اور تھالی لیکر خالہ کی طرف گئی . منگنی کی رسم پوری ہونے کے بَعْد سب نے اک دوسرے کو مبارک دی . لیکن احسن کا دھیان کہہی اور ہی تھا . پوری محفل میں اک گل ہی اسکی نظاروں کے سامنے آراہی تھی . لال پری جیسی . گل کی نظر جب احسن پر پری تو اسے بہت غصہآ یا اورساتھ ہی شہزاد کا کہنا اسکے کانوں میں گونجنے لگا کے نیکسٹ ٹائم کتابوں والے لڑکے کو اگنور کرنا ، تواسنے ویسا ہی کیا . گل مٹھائی کی تھالی لیے ہر مہمان کے پاس جارہی تھی اور مٹھائی پیش کر رہی تھی . اچانک وہ لڑکا اُس کے سامنے آیا . گل نے اسکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا . بس جلدی سےاسے مٹھائی دے کر وہ چلتی بنی لیکن وہ لڑکا بہت ہوشیار تھااحسن : گل ؟گل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور سوچ میں پڑ گیی کے آخراِس لڑکے کو گل کا نام کیسے معلوم ہواگل : تُم میرا نام کیسے جانتے ہو ؟احسن : وہ اُس دن جب آپکی میرے ساتھ ٹکر ہوئی تھی تو آپکی دوست نے آپکو اسی نام سے بلایا تھا تو میں نے سمجھا شاید یہی آپکا نام ھوگاگل : انعم کی بچی ! کتنی بارر کہا ہے کے زور سے میرا نام نہ لیاکرے … واپس جا کر خوب خبر لونگی اسکیاحسن : اپنے کچھ کہا ؟گل : نہیں . . . میں چلتی ہوںاحسن : اچھا سنے ! آپکی ایک چیز میرے پاس رہ گئی ہےگل : میری ؟ کونسی ؟احسن : آپکی ڈائریگل : کونسی . . ؟احسن : ریڈ کلر کی تھی وہ شاید غلطی سے میرے پاس آگئیگل کو ایک دم سے یاد کے آگیا اک ڈائری تو تھی جسے وہ کب سے ڈھونڈ رہی تھی لیکن ملی نہیں . اچانک اسے یادآیا کے جب کتابیں گری تھی تو شاید وہ ڈائری بھی احسن کے ہاتھ چلی گئی . بڑے ہی غصے سے گل نے احسان کی طرف دیکھا . اب تو حد ہو ہوگئیگل : چور ! ! تمہیں میری ڈائری چوری کی ؟کہاں ہے میری ڈائری واپس کروں میں نہیں چورونگی تمہیںاحسان : نہیں نہیں میں نے چوری نہیں قسم سے غلطی سے آگئیگل : جان بوجھ کر لڑکی سے ٹکرانا اور پِھر اسکی چیز چوری کرنا اور پِھر کہنا غلطی ہوگئی . . . نکالو میری ڈائریاحسن :. . . کام ڈاؤن ایزی ایزی مجھے نہیں معلوم تھا کے آپ یہاں رہتی ہے ورنہ میں خود آپکو دینےآتا . آئی ایم سوری یونیورسٹی میںدیدونگا وعدہگل : ہممم . . . دے دینا ورنہ بہت برا ھوگااحسن : جی وعدہ . . . ویسی اک بات کہوگل : جیاحسن : آپ شاعری بہت اچھی کرتی ہیںگل : اچھا تو تم نے وہ کھول پر بھی لی . تمہیں پتہ ہے کے کسی لڑکی کی ڈائری پڑنا بیڈ مینرز ہوتا ؟ بڑے بد تمیز ہو تُماحسن : آئی ایم سوری مگر مجھ سے رہا نہیں گیاگل غصے وہاں سے چلی گئی ! ! حد ہوتیہے کسی بات کی بھی . اگر ڈائری ہاتھ لگ ہی گئی تھی فوراً واپس کر دیتا ، اب بتا رہا ہے وہ بھی پڑنے کے بَعْد . خیر . .. واپس مل تو جائے گی . جیسے ہی منگنی کا فنکشن ختم ہوا گل نے انعم کو فون کیا . گھنٹوں بیٹھ کر وہ منگنی کی باتیں کرتے رہے . لیکن اچانک گل انعم کو ڈانٹنے لگیگل : انعم کی بچی مجھے واپس آنے دے میں تجھے نہیں چورونگیانعم : تھم کے رہو گل ! تُم بات کیسے کر رہی ہو مجھ سے ؟ ذرا بتاؤ کیا ہوا ہےگل : میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے کے یونیورسٹی میں میرا نام اتنے زور سے نہ لیا کرو کوئی سن لیگالیکن تُم ہمیشہ اپنی مرضیکرتی ہوانعم : کیا ہوا نام ہی تو لیتی ہوں تمہارا . تُم تو ایسی بول رہی ہو جیسے تمھارے نام کا کسی نے دھارنے سجائے ہوتے ہیںگل : اُف . . یار تمہیں وہ کتابوں والا لڑکا یاد ہےانعم : ہاں کیا ہوا اسےگل : اسے کیا ہونا ہے اچھا بھلا تو ہے . فریحہ کی منگنی میں آیا ہوا تھا . میں تواسے دیکھ کر حیران رہ گئی کے یہ آخر یہاں کرنے کیا آیا ہے . . . مگر جناب بَعْد میں پتہ چلا کے خالو کے کسی دوست کا بیٹا ہےانعم : اوہ اچھا تُم ملی اسےگل : ہاں ملی بھی اور بات بھی کیانعم : اچھا کیا باتیں ہوئی ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلےگل : زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ! اس نے میری ڈائری چوری کی ہےانعم : کونسی ڈائری ؟گل : میری ریڈ والی ڈائریانعم : اچھا جس میں تُم اپنی دِل کی باتیں لکھتی ہو ؟ چلو اچھاہوا تمھارے دِل بات کسی اور کو تو پتہ چلی ورنہ تمکچھ کہتی بھی نہیں .گل : بکواس بند کرو . . . تمہیں پتہ ہے میں کتنی پریشان ہوں اور وہ اتنا با تمیز نکلا کے ابھی تک واپس بھی نہیں دیانعم :حاحاحا . . . . کوئی اندھا ایسی خوبصورت باتوں کا دیدار کر کے واپس کیوں دینے لگاگل : وہ اندھا نہیں ہےانعم : حاحاحاحاحاحاحاحاحا چلو یہ تو اچھی بات ہے . اور کیا بات ہوئی ؟گل : بس میں نے اسے کہہ دیا کے واپس جا کر میری ڈائری دے دے .حد ہوتی ہے کہتا ہے سوری مجھے پتہ نہیں چلا کتابیں دیتے وقت میرے پاس آ گئیانعم : اچھا چلو اِس بہانے تم نے کس سے تو بات کی ہے ورنہتمہیں بلاتے رہو تو تُم تو کسی کو گھاس ہی نہیں ڈالتیگل : مجھے نہیں ڈالنی کسی کو بھی گھاسانعم : اچھا مت ڈالوں تم نے شہزاد کو بتایا ؟گل : نہیں میں نے نہیں بتانا اسے وہ غصہ کر جائیگا پِھر سےانعم : پِھر سے مطلب ؟ ہاں اُس د ن اسے کس بات پر غصہ آیا تھا کچھ پتہ چلاگل : وہ بھی تمہاری مہربانی ہےانعم : میں نے کیا کیا ؟گل : تم نے شہزاد کو بولا تھا کےانعم : میں نے کیا بولا تھاگل : انعمانعم : ہاں یاد آیا کے تمہاری اُس کے ساتھ ٹکر ہوئی تھی اورگل : اور میں نے اسکی طرف دیکھا نہیںانعم : ہاں تو . . . شہزاد کو کہی تُم پر شق تو نہیں ہو گیا ؟گل : جی ہاں ہوا ہے اور بڑا زبردست ہوا ہے . لیکن میں نے مائنڈ نہیں کیا جب سے چچا جان کے گھر پر آئی ہوں اک شہزاد ہی تو میرا محافظ ہےانعم : وہ یہ سوچ رہا تھا کےگل : جو بھی سوچ رہا تھا لیکن تمہیں اسےاس طرح بات نہیں بتانی چاہئے تھی. انعم : وہ بھی نہ کچھ زیادہ نہیں کیئر کرتا تمہاری ؟ آئی مین بچی تو نہیں ہو نا تُمگل : جانتی ہوں لیکن چچا جان کے بہت احسن ہیں مجھ پر اگر وہ نہ ہوتے تو آج میں شاید پتہ نہیں کہاں ہوتیانعم : اور شہزاد … اسکا کوئی احسن نہیں تُم پر ؟گل : وہ تو میرا بیسٹ فرینڈ ہےانعم : مجھے تو کچھ اور ہی لگتا ہےگل : کیا مطلبانعم : مطلب . . ابھی نہیں بتاونگی ذرا واپس آؤ پِھر بتاونگی گل : تُم پہیلیاں بُجھانا بند کروگی . . . ؟انعم : کچھ دن اور تڑپ لو . . اچھا سنو دادی ماں جاگ گئی ہے انہیں پتہچل گیا کے میرے کمرے کی لائٹ آن ہے . میں فون رکھتی ہوںگل : اچھا مجھے میسج کردیناانعم : اللہ حافظگل : اللہ حافظگل انعم کی باتوں کو لیکر اکثر بیزار سی ہوجاتی کے پتہ نہیں کیا عجیب بہکی بہکی باتیں کرتی رہتی ہے . لیکن انعم کےنغیر رہا بھی تو نہیں جاتا . . . گل نے انعم کی بات پر غور کرنا شروع کر دیا . لیکن گل کی سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا تھا. گل روز صبح حسب عادت سب سے پہلے اپنے کمرے کے پردے ہٹاتی اور صبح کی تازہ خوشبو بڑے ہی چاہ سے اپنے اندر سماں لیتی . خالہ کے باغ کے ساتھ تواسے جیسے عشق تھا . لیکن یہ عشق بس کچھ ہی دن زندہ رہتا ہے جیسے ہی واپس جانے کا خیا ل آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے . . . خیر منگنی بہت اچھی تھی کزن کے ساتھ مزہ بھی بہت آیا خالہ نے بہت خیال رکھا لیکن آج کے بَعْد یہ آزادیختم . شام تک شہزاد گل کو لینے آگیا تھا . گل کا دِل نہیں تھا کے وہ وہاں سے جائے لیکن جانا تھا کیوں کے ہولیڈیز ختم ہونے والی تھی اور گل نے اپنا آخری سال بھی پورا کرنا تھا . گاڑی میں بیٹھی باغ کو یاد کر رہی تھی . شہزاد کو گل کی خاموشی بہت بری لگتی تھی اور اسکا موڈ ٹھیک کرنااسے کو بہت اچھی طرح آتا تھاشہزاد : بس ایک ہی کام ہے تمہارا جب بھی وہاں سے آتی ہو منہ لٹکا لیتی ہوں . کبھی میرے ساتھ بھی خوشرہ لیا کروگل : میں خوش ہوںشہزاد : لگتا تو نہیں ہے . . اپنا فیس دیکھو آئینے میں اور مجھے بتاؤ کے کونسی خوشی جھلک رہی ہے تمھارے چہرے سےگل : کچھ نہیں . . . میں ٹھیک ہوںشہزاد : اچھا … گھر جارہے ہیں کچھ تو موڈ ہونا چاہئےگل : شہزاد . . . اک بات کہوںشہزاد : اچھا تو تُم بولتی بھی ہو ؟گل : شہزادشہزاد : ہے ہے . . . بولوگل : میں آج گھر نہیں جانا چاہتیشہزاد : کہاں جانا ہے پِھر ؟ بیچ پر ؟گل : ہاںشہزاد : ٹھیک ہے . . . اور کوئی حکمشام کا وقت تھا اور سورج ڈھل رہا تھا . بیچ پر بیٹھا شہزاد کی نظر گل سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی لیکن گل کی نظریں اور خیال کہی اور ہی تھے .شہزاد : کیا سوچ رہی ہوں ؟گل : کچھ نہیںشہزاد : اچھا منگنی کیسی رہی ؟ ؟ کچھ تو بتاؤ نا یار میں اور ابّا نہیں آ سکےگل : بہت اچھی تھی . . بہت مزہ آیا . فریحہ منگنی کے جوڑےمیں بہت پیاری لگ رہی تھیشہزاد : اور تُم ؟ تُم کیسی لگرہی تھیگل : کارٹونشہزاد :حاحاحاہاحا . . . مذاق چھوڑو ! میں جانتا ہوں کے تُم وہاں سب سے پیاری لگ رہی ھوگی اور مجھے لگتا ہے کے دلہن کو دیکھنے کی بجاے لوگ تمہیں دیکھ رہے ہونگےگل : نہیں ! فریحہ کا دن تھا وہ لوگ مجھے کیوں دیکھیں گے ؟شہزاد : ہاں یہ بھی ہے تُم کارٹون جو ہوئی ہاہاہاگل : اڑاو میرا مذاقشہزاد : لو ! میں تمہارا ساتھ دے رہا ہوں اور تُم کہتی ہو مذاق اُڑاتاہوںگل : تمہیں پتہ ہے وہاں کیا ہوا شہزاد : کیاگل : وہاں . . . یہ ادھر ہے ؟شہزاد : کون ؟گل سامنے دیکھا اور شہزاد نے حیرانگی سے پیچھے مورکار دیکھا . وہی کتابوں والا احسن سامنے سے آرہا تھا . گل اسے دیکھ کر غصے سے لال پیلی ہوگئی . شہزاد اسے دیکھ کر تھوڑا حیران ہو گیا . گل نے وہاں سے چلنے کو بولا اور شہزاد نے چُپ چاپ اسکی بات مانلی . جیسے ہی وہ دونوں کار میں بیٹھے سامنے سے احسن گزر رہا تھا . اسے دیکھ کر شہزاد کو بھی غصہ آنے لگا . یوں ہی اس نے جب گردن گھمای تو دیکھا کے گل غصے سے کانپ رہی تھی . شہزاد کو شق ہو گیا کے ڈال میں کچھ کالا ہے .شہزاد : کیا ہوا ؟گل : کچھ نہیں گھر چلوشہزاد : تُم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہوگل : نہیں نہیں تُم گھر چلوشہزاد : میں تب تک نہیں جاؤنگا جب تک تُم مجھے یہ نہیں بتاوگی کے بات کیا ہےگل نے فر فر شہزاد کوساری بات بتائیشہزاد جوش میں گاڑی سے اترنے لگا تو گل نے اسے روک لیا . شہزاد کے پیار کے ساتھ ساتھ اسکا غصہ بھی بہت تھا . گل نےاسے منع کر دیا . اک ڈائری ہی تو ہے . . . گھر جانے تک شہزاد کا موڈ کافی اوف ہو چکا تھاگل : غصہ چھوڑدو شہزاد ! معمولی سی تو بات ہےشہزاد : تمہیں یہ بات معمولی لگتی ہے لیکن مجھے نہیں لگتی . آج اس نے تمہاری ڈائری ہڑپ لی کل کچھ اور کردے تمھارے ساتھ پِھر کیا کروگی تُمگل : ایسا کچھ نہیں ھوگاشہزاد : تُم ایسے لوگوں کو نہیں جانتی . لڑکیوں کے قریب آنے کے سو طریقے ہوتے ہیں ان کے پاس . بس میں نے فیصلہ کر لیاکے آج کے بعد تُم میرے بغیر کہی نہیں جاوگیگل : ہربات میں تمہاری نہیں چلنے دونگی میں ! ! ! میں بھی سانس لیتی ہوں مجھے بھی حق ہے کسی بات کا .شہزاد : تمہارا حق صرف اور صرف مجھ پر اور اور میرا حق صرف تُم پر ہے یہ بات یاد رکھنا تُمگل : ہاں جانتی ہوں لیکن اتنی چوٹی سی بات کے لیے اتنا غصہ ؟ صحت خراب ہو جائے گی تمہاریشہزاد : اچھا تو تمہیں میری صحت کا بہت خیال رہتا ہےگل : ہاں رہتا ہےشہزاد : کیوں ؟ ؟ میں تمہارا لگتا کیا ہوں ؟گل : میرے بیسٹ فرینڈ ہوشہزاد : بس ؟ صرف بیسٹ فرینڈ ؟گل : ہاں . . . شہزاد : تم نے کبھی یہ سوچا ہے کے تُم میرے لیے کیا ہو ؟گل : فرینڈشہزاد : نہیں . . اسے کئی زیادہ ہوگل : مطلب . . . شہزاد : اب تُم خود ہی سوچوگل : پہیلیاں مت بجھائو صاف اصف بولدوشہزاد : صاف صاف بولدوں ؟گل : ہاںشہزاد : برداشت کرلوگیگل : ہاں . . .شہزاد : آئی لو یو

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/