Friday, July 27, 2018

پاسبان

http://novelskhazana.blogspot.com/

Episode_02By Ayesha




“کہا ں علینہ رہ گئی ہو
 ۔۔۔۔۔کب آوازیں دیے جا رہی ہوں۔۔۔ناصرہ بیگم ایک بارپھر نمودار ہوئیں۔کمرہ خالی تھا ۔۔۔انھوں نے واشروم کا دروازہ بجایا۔۔۔مگر جواب ندارد۔۔۔۔۔پھر ڈریسنگ روم بھی خالی پایا۔۔۔۔پھر بالکونی کی جانب بڑھیں لکین وہاں بھی کسی کو نہ پا کر سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔۔۔"علینہ آخر تم کب سدھرو گی۔۔۔۔ناصرہ بیگم بڑبڑائیکمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ کچھ دیکھ نہ پائی۔۔۔لیکن اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ کمرہ خالی ہے۔۔۔سامان نہ ہونے کے برابر ہے۔۔۔۔۔کیونکہ آواز گونج رہی تھی آنکھیں جب اندھیرے کی عادی ہوئیں تو اسے وہاں تین کرسیاں اورایک ٹیبل نظر آیا۔۔۔۔وہ نیلی جینزاور کالا کرتا پہنے۔۔گلےمیں سکارف لپیٹے کافی آرامدہ دکھ رہی تھی۔۔بھوری آنکھیں مسلسل آس پاس کاجائزہ لے رہی تھیں۔علینہ نے گردن گھما کر ادھرادھر دیکھا۔۔وہاں کوئی آدمی نہیں تھالیکن وہ جانتی تھی کہ یہ اسکی آنکھوں کا دھوکہ ہے جو جان بوجھ کر اسے دیا جا رہا ہے۔۔۔۔وہ آرام سے چلتی میز کے پاس آئی اور پاس یڑی کرسی اٹھا کرپوری قوت سے اسے میز پر دے مارا۔۔۔اسنے دوسری کرسی ساتھ بھی یہی عمل دھرایا۔۔خستہ حال میز لرکھرا کر گر پپڑی۔ علینہ نے اپنی جیب سے لائٹر نکالا مگر اس سے پہلے کے وہ کچھ کرتی لائٹر سے آگ نکلتے ہی یک دم ساریلائٹس آن ہو گئیں اور ایک آواز اسکی سماعت سے۔ ٹکرائیوہمسکرا کر مری اسک کے پیچھے تین مرد کھڑے تھے۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔تو آپ سب بھی یہاں ہیں۔۔مجھے لگا موت مجھے بلا کے غائب ہو گئ۔۔۔۔۔علینہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔موت غائب نہیں ہوتی ۔۔ٹل جاتی ہے۔۔۔۔۔علی نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔یہ اصول تو ماڈرن موت کو سوٹ نہیں کرتا۔۔۔علینہ نے پھر طنز کیا۔آپ ہمیں اکسائیں مت محترمہ آپ اس وقت ہمارے علاقے میں ہیںجہاں آپکو کوئی سیکیورٹی نہیں۔۔۔۔اس بار عمر نے تنبیہ کی۔علینہ۔۔علینہ راؤ نام ہے میرا۔۔۔۔۔علینہ کا لحجہ سپاٹ ہو گیادیکھو بی بی ہمیں ہمارا کام کرنے دو اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔۔۔۔۔اب کی بار بوڑھا علیم الحق بولا جو لاٹھی کے سہارے کھڑاتھا۔اور آپکی بھلائی اسی میں ہے کہ مجھے میرا کام کرنے دیں۔بابا جی۔۔۔۔۔علینہ نے دوبدو جواب دیا۔محترمہ ہمارے کام میں ٹانگ اڑانے کا انجام بہت برا ہو گا۔۔۔کالی شلوار قمیض قمیض میں ملبوس علی نے کڑکتے لحجے میں کہا۔موت کے فرشتے!! انجام سے وہ ڈرتا ہے جو غلط ہو۔۔۔۔۔۔علینہ نے آخری جملہ علیم الحق کی جانب دیکھتے ہوئے ادا کیاعلیم الحق کو اسکے انجام تک پہنچانے والا کوئی نہیں آیا بی بی !! لیکن تم ضرور اپنی موت کی طرف چلی آئی ہو۔۔۔۔علیم الحق غصے سے اپنی لاٹھی پھینکتے ہوئے بولاکوئی اپنے انجام سے نہیں بھاگ سکتا۔۔تم بھی نہیں علیم الحق۔۔۔۔۔۔علینہکے لحجے میں غصہ تھا, جنون تھا۔۔کڑک تھی۔علی نے ساتھ کھڑے عمر پر نظر ڈالی۔۔وہ بھی حیرانگی سے ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔علی کو اپنی جانب دیکھتا پا کر آنکھوں سے چپ رہنے کی تلقین کی۔میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔علیم الحق غصے سے غرایا۔یہ غصہ کسی اور کو دیکھانا—اس وقت اپنی فکر کرو, کیونکہ تمہاری موت آ چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔علینہ نے بے فکری سے کہایک دم علیم الحق کے تاثرات سخت ہو گئے۔میں اپنے سر پر کفن باندھ کر نکلا ہوں لڑکی—تجھ جیسی ناچیز میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی---تجھے بھی مال کے ساتھ سمگل کر دوں گا۔۔پھر کوٹھے پر ںاچنا اچھی خاصی تنخواہ ملےگی۔۔۔اسکی آواز میں کڑک تھی لیکن چہرے پر لالچ رقم تھا۔کونسے کوٹھے پر لے جاؤ گے۔۔۔۔علینہ نے معصومیت سے پوچھا۔اچانک اسکی جیب سے بیپ کی آواز آئی اور ساتھ ہی ایک فاتحانہ مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئ۔بیپ کی آواز پر علی اور عمر نے بیک وقت ایک دوسرے کی جانب دیکھا جیسے یقین چاہ رہے ہوں کہ انھوں نے واقعی کوئی آواز سنی ہے۔علینہ کے جواب پر علیم الحق کو لگا کہ وہ ڈر گئ ہے۔۔۔۔مال میں اضافہ۔۔پیسوں میں اضافہ۔۔لالچی سوچ اسکے دماغ میں آئی۔جہاں کہو گی بھیج دوں گا لڑکی۔۔۔لیکن اگر ہوشیاری کی تو۔۔(ساتھ ہی اس پر بندوق تان دی )توعلیم الحق نے زندہ نہیں بچوگی۔۔سمجھی؟؟۔۔۔۔ اسے تنبیہ کی۔اور اگر میں نہ جانا چاہوں تو؟۔۔۔علینہ نے معصومیت سے کلائی یر بندھی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔علینہ رراؤ۔۔۔۔۔۔اب دیکھ تجھے بھی سمگل کر دوں گا۔۔۔پھر ناچتی رہنا وہاں یر۔۔۔علیم الحق نے اسکے جواب پر علیم الحق نے ہستے ہوے کہا اور بندوق نیچے کر لی۔۔پھر علی سے مخطب ہوا۔۔۔۔لے جاؤ اسے اور بند کر دو تہ خانے میں۔۔۔۔علی اور عمر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور علی ۔۔۔جی بابا۔۔کہتا آگے بڑھ گیا۔۔ابھی وہ علینہ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ علینہ نے بجلی کی سی پھرتی سے اپنی جیب سے بندوق نکالی اور علیم الحق پر تان دی۔۔ارے برھاؤ آپ تو ناراض ہو گئے۔۔۔پوری بات تو سن لیں۔۔۔۔۔علینہ نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوے کہااب مجھے کچھ نہیں سننا علینہ راؤ۔۔۔اور یہ بندوق کسکو دیکھاتی ہے۔۔۔بچپن سے کھیلا ہوں اس سے۔۔۔اب تو تجھے ایسی جگہ پھینکوں گا کہ موت مانگے گی۔۔لیکن تجھے موت بھی نہیں ملے گی۔۔۔سمجھی۔؟؟۔۔۔۔علیم الحق نے اپنی طرف سے اسے دہلانے والا اعلان کیاارے بات تو سنو۔۔کبھی کہتے ہو کہ میری موت تم ہو۔۔۔کبھی کہتے ہو موت مانگوں گی تو موت نہیں ملے گی۔۔۔آخر مسئلہ کیا ہے؟؟۔۔۔۔علینہ نے یرسوچ انداز میں کہا۔۔۔چل لڑکی تیری آخری خواہش بھی پوری کر دیتا ہوں۔۔پہلے بتاتی کہ میرے ہاتھوں سے مرنا چاہتی ہے۔۔تو اب تک مر چکیہوتی۔۔۔علیم الحق نے طنز کیا۔"واقعی" ۔۔۔علینہ نے حیرانی سے کہا۔۔ اوربندوق نیچے کر لی۔۔علیم الحق ایک لمحے ک لیے گڑبڑا گیا۔۔"یہ۔ لڑکی ایسا کیوں کر رہی ہے جبکہ یہ مجھے مارنا چاہتی تھی" علیم الحق کی چھٹی حس نے اسے ہوشیار رہنے کا کہا لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔۔"کوئی آخری خواہش؟" علیم الحق نے مسکرا کر پوچھا"ہاں۔۔۔یوچھو گے نہیں کہ میں یہاں کیوں آئیں ہوں" علینہ نے معصومیت سے کہا۔۔بلاشبہ اسے بتانے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اسے مزید کچھ وقت ضائع کرنا تھا تاکہ اسکا کام ہو سکے۔۔۔"چل بتا کیوں آئی ہے لڑکی۔۔" علیم الحق نے اسکی آخری خواہش پوری کرنا چاہی۔"میں تمہیں یہ بتانے آئی ہوں کہ موت خود چل کر آتی ہے۔۔۔۔اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔۔(دو دفعہ بیپ دوبارہ بجی)۔۔۔۔زمانہ بدل گیا ہے تو کیا ہوا۔۔مزہب وہی ہے۔۔۔۔قانون وہی ہے۔۔۔جو غلط ہے وہ۔۔۔غلط ہے۔۔۔" علینہ نے کہتے ہی ریوالور سمبھالا۔۔اور اگلے ہی لمحے علیم الحق زمین پر ڈھیر تھا۔۔گولی اسکے دماغ کے یار گئی تھی۔۔۔"تم بھول گئے علیم الحق۔۔جس بندوق سے تم کھیلتے ہو۔۔۔میں اسکے استعمال سے واقف ہوں"۔۔۔۔علینہ نے کہتے ہی سائلنسر لگا ریوالور جیب میں ارسا اور اسکی تلاشی لینے لگی۔۔اسکے موبائل کو اپنی حراست میں لیا اور میز کی جانب بڑھی۔۔ایک ہاتھ سے کچی لکڑی کھینچ کر اتاری اور اندر لگا ڈیوائس نکالیا۔۔۔پیچھے مری تو علی اور عمر سنجیدہ کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔۔"ایک ایجنٹ کو سوٹ نہیں کرتا کہ وہ دوسرے ایجنٹ کی جاسوسی کرے۔۔وہ بھی ایک ہی ٹیم کے" علینہ ڈیوائس انکی جانب اچھالتی مخاطب ہوئی۔۔۔۔علی اور عمر اسے پہچان گئے تھے۔۔۔۔علینہ رخ موڑے کال ملانے لگی۔۔۔"آل اوکے سر۔۔۔" دوسری جانب سے شاید کال اٹھا لی گئ تھی۔۔علینہ رکی۔۔اوکے بول کر کال کاٹ دی۔۔۔پھر چلتے ہوئے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔اتنی دیر میں ایک ساٹھ سالہ بوڑھا اندرآیا۔۔۔"السلام علئکم " زاکر صاحب نے اندر آتے ہی سلام کیا۔تینوںنے بیک وقت جواب دیا۔۔"یہعلینہ ہیں ٹائم شارٹ ایج کی وجہ سے مجھے انھیں آپکے پیچھے بھیجنا پڑا" زاکر صاحب نے ان دونوں کی پریشانی دور کی۔"نو پرابلم سر" عمر نے جواب دیا۔"آپ لوگ جائیں یہاں سے۔۔۔۔باقی کا کام میں سنبھال لوں گا۔۔۔۔"زاکر صاحب نے انھیں جانے کا کہا۔۔۔"اوکے سر" تینوں کہ کر باہر نکل آئے۔۔۔۔علینہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہی تھی جب کسی نے اسے آواز دی۔۔وہ پیچھے مری تو علی اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔"آئم سوری۔میں نے آپکو موت کی دھمکی دی۔۔۔" علی نے کہا۔۔"کیا آپ ہر ٹیم ممبرسے معافی مانگتے ہیں جس سے آپ اپنیاصلیت مخفی رکھنی پڑے" علینہ نے کہا"جی نہیں" علی نے نا سمجھی سے کہا۔۔"تو مجھ سے کیوں کہ رہے ہیں" علینہ نے سپاٹ لحجے میں کہا اور۔۔جواب سنے بنا چلی گئی۔۔۔۔علینہ کے جانے کے بعد عمر۔۔علی کے پاس آیا۔۔اوراسکے کان کہ پاس منہ کر کے بولا۔۔"کہا تھا نا زیادہ شوخا نہ ہو"۔۔۔۔علی سامنے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا" سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔۔۔ایک کیس کیا حل کر لیا۔۔ہواؤں میں اڑنے لگی ہے۔۔۔۔"عمر کا ہس ہس کے برا حال تھا۔۔۔اور اسکی ہسی روکنے کے لئے علی کی ایک گھوڑی ہی کافی تھی۔۔۔جاری...


No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/