Friday, July 27, 2018

سا نول مو ڑ مہار قسط 2پارٹ 1

http://novelskhazana.blogspot.com/





#_سانول_موڑ_مہار#
_ماریہ_اشرف#_
1قسط_نمبر_2#پارٹ_
میں نے خاور کو باہر کس لیے بھیجا تھا اور وہ باہر کن چکروں میں پڑ گیا ہے" گل جان نے گرد آلود ہواوں کے چلتے ہی خاور گردیزی کو باہر سے ساری چیزیں اٹھوانے کو کہا تھا اور خاور گردیزی سب ملازمین کو کام سمجھا کر بچوں کے ساتھ سہانے موسم میں انجوائے کرنے لگ گئے تھے."نجانے ان بچوں کو کب عقل آئے گی" گل جان عصر کی نماز پڑھ کر باہر آئیں تو سب بچے خاور سمیت آندھی طوفان کی فکر کیے بغیر کھیل کود میں مصروف تھے. "اور خاور کو تو دیکھو کیسے چھلانگیں مار رہا ہے. تفریح کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا. بچوں کے ساتھ بالکل بچہ ہی بن جاتا ہے" گل جان اپنے تسبیح کرتے ہاتھ کو روک کر مسلسل باہر دیکھ کر کڑھ رہی تھیں."بڑی سیٹھانی رہنے بھی دیں. صاحب کتنے خوش لگ رہے ہیں"سکینہ آپا نے انہیں چائے کا کپ تھماتے ہوئے کہا "خدا نظر بد سے بچائے. انکی خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے" سکینہآپا ان کی کافی پرانی خادمہ تھیں اسلیے بے دھڑک اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں."سکینہ تم تو چپ ہی رہو. زیادہ ان کی طرفداری کرنے کی ضرورتنہیں" گل جان نے مصنوعی خفگی سے کہا"اوہو بڑی سیٹھانی. ایک تو آپ بڑی جلدی برا مان جاتی ہیں. وہ خاور صاحب نے نئے بچے کا کمرہ سیٹ کروانے کیلیے کچھ لوگوں کو بلایا ہے. اس لیے بچوں کو لے کر وہ باہر ہی رک گئے ہیں تاکہ کوئی بچہ انہیں تنگ نہ کرے" سکینہ نے انہیں تفصیل سے بتایا"چلو اچھا ہے یہ کام بھی ہو جائے نہیں تو تم لوگوں کے ابی جان نے خفا ہی ہونا تھا" سب گھر والے ابی جان سے زرا دبے ہی رہتے تھے."بڑی سیٹھانی ہسپتال کتنے بجے آنے کا کہا تھا ڈاکٹروں نے" سکینہ نے گل جان سے ہاسپٹل کی اپائنٹمنٹ کا پوچھا."تم لوگوں کے ابی جان کا کہنا ہے کہ ایک بار وہ درگاہ سے ہو آئیں پھر وہیں سے فاطمہ کو لے کر ہاسپٹل چلے جائیں گے" فاطمہ کا شرمایا شرمایا چہرہ یاد کرکے گل جان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی."جی بڑی سیٹھانی اب تک تو سب پہنچ گئے ہوں گے. خدا اچھا وقت لائے. سب کچھ اچھے سے ہو جائے" سکینہ بھیدعائیں دینے لگی."سیٹھانی میں ذرا کچن میں جا کر دیکھتی ہوں" سکینہ نے اٹھتے ہوئے کہا "پھر بچے کھیل کود کر آئیں گے تو کچھ نہ کچھ کھانے کو مانگیں گے"سکینہ کے جانے کے بعد گل جان باہر ان سب کو کھیلتا دیکھنے لگیں. جو کرکٹ چھوڑ کر اب فٹ بال کی جان کو آگئے تھے.................................................وہاں فاطمہ اور شاہ زین بھی کالی گھٹاوں میں ایک کونے میں لگے بیٹھے تھے. فاطمہ نے ڈر کے مارے شاہ زین کا ہاتھ تھام رکھا تھا. ابی جان اور زینب بھابھی بھی تیزی سے نیچے انہی کی طرف آرہے تھے."مجھے ان ہواوں کے شور سے ڈر لگ رہا ہے" فاطمہ نے شاہ زین سے کہا"ایسا بھی اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے" شاہ زین نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا"ایسی آوازیں تو ہمارے بچے بھی نکال لیتے ہیں" شاہ زین فاطمہ کو کئی باتیں یاد دلا کر اسکا دھیان بٹا رہا تھا کہ یکدم انکے عقب سے آواز آئی."تیرا ڈرنا بنتا ہے لڑکی. مادی چیزوں کی فکر کرنا چھوڑ دے. حقیقی چیزوں کی فکر کر. اگر ہو سکے تو وقت کو تھام لے. جسے تو جنم دینے جا رہی ہے اسکی حفاظت کرنا یا اسے خدا کے حفظ و امان میں دے دینا. اس کی شرارتوں اور مسکراہٹ سے تو کئی گھر آباد ہونے ہیں ابھی. اپنے ہر معاملے کو اپنے رب پر چھوڑ دے. وقت بہت بڑا منصف ہے" جب تک وہ دونوں پیچھے مڑے کوئی اپنی بات ختم کرکے گویا غائب ہی ہو گیا تھا. اردگردکسی بندے کی ذات موجود نہیں تھی صرف وہ دونوں ہی زینوں پر بیٹھے تھے. اتنے میں فاطمہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی."زین میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی. آوچ زین" فاطمہ نے یکدم درد کی شدت سے دہرے ہوتے شاہ زین کی پوری ہستی ہلا دی. اتنے میں یکدم ہی سارا گردوغبار کا طوفان تھم گیا. شاہ زین کبھی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا کبھی ادھر ادھر کسی ذی نفس کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا. شاہ زین فاطمہ کو دیوار کے سہارے بٹھا کر کسی کو ڈھونڈنے کیلیے بھاگا. مگر دور دور تک کسی کا نام و نشان نہ تھا. دور وہ فاطمہ کی وجہ سے نہیں جانا چاہتا تھا. اسکے زہن میں اس وقت صرف فاطمہ ہی سوار تھی. . اتنے میں ابی جان اور بھابھی کو نیچے آتا دیکھ کر شاہ زین کی جان میں جان آئی. اس سے پہلے کے وہ ان دونوں کو کچھ بھی بتاتا وہ دونوں ہی چیخ پڑے "فاطمہ" شاہ زین گردیزی نے پیچھے مڑ کر فاطمہ کی طرف دیکھا. تکلیف اور درد کی شدت کے باعث وہ بے ہوش ہو چکی تھیں. ابی جان، زینب بھابھی اور شاہ زین گردیزی کی جان پر بن گئی. وہ تینوں انہیں ہوش میں لانے کیلیے آوازیں دینے لگے. سیما بھاگ کر پانی کی بوتل لائی. پانی کے چھینٹے مارنے پر بھی فاطمہ کو ہوش نہیں آیا تھا. آس پاس سے گزرتی کئی عورتیں ان کے گرد جمع ہو گئیں تھیں. ہر کسی کے پاس ایک الگ ہی مشورہ تھا. زینب ڈاکٹر ہوکر ہاتھ پیر پھلائے ہوئے تھی."بی بی کچھ دن پہلے یہاں بستی میں ایک کیمپ لگا تھا جہاں بستی کی ساری عورتیں علاج کرانے گئیں تھیں. تو بھی اپنی بچی کو وہیں لے جا" ایک عورت نے ڈھنگ کا مشورہ دیا."ٹھیک ہے شاہ زین فاطمہ کو اٹھاو. ہم وہیں چلتے ہیں" جلال گردیزی نے زینب کی مشکل آسان کردی.کیمپ میں کم از کم ڈاکٹر تو موجود ہونگے جن کی مدد زینب لے سکتی تھی. منٹ کی تاخیر کیے بغیر شاہ زین فاطمہ کو اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگا.زینب گردیزی اور جلال گردیزی بھی شاہ زین کے پیچھے بھاگے. زینب گردیزی تو شاہ زین کی ہی گاڑی میں بیٹھ گئیں. دوسری گاڑی میں سیما کے ساتھ اس عورت کو بٹھایا جس نے مشورہ دیا تھا. سارے مہنگے ہاسپٹل، وی آئی پی ٹریٹمنٹ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا تھا. سب کے سب ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے تھے. جلال گردیزی کو آخری دروازہ بند ہونے کا سب سے زیادہ خدشہ تھا. کئی دنوں کا لگا کیمپ جسکا مطلب تھا کئی... دنوں....کا....لگا.....کیمپ..... جو کسی بھی لمحے کسی بھی گھڑی ختم کیا جا سکتا تھا. ان سب حالات کیلیے ان میں سے کوئی بھی زہنی طور پر تیار نہیں تھا. اور جو ہونے والا تھا وہ انکے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ تھا.........................................."جی گل جان آپ نے بلوایا تھا" خاور گردیزی تولیے سے سر صاف کرتے چند منٹوں میں گل جان کے سامنے تھے. سکینہ اور گل جان کو وہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کے دوران دیکھ چکے تھے. گل جان نے کپ میز پر رکھ کر انہیں ناگواری سے دیکھا"بہت صحیح جا رہے ہو بیٹا. جھومتے ناچتے دنیا کو یقین دلاو کہ باپ اور بیوی گھر نہ ہو تو کیسے جشن منایا جاتا ہے" گل جان نے آتے ہی انہیں اچھا لتاڑا"گل جان کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ" انکا چہرہ نیچے تھا اس لیے گل جان کی مسکراہٹ نہ دیکھ سکے ورنہ فوراََ سمجھ جاتےکہ گل جان ان کا مذاق اڑا رہی تھیں."ہاسپٹل نہیں جانا کیا باقی سب تو پہنچ چکے ہونگے" گل جان نے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا"باہر دیکھیں تو سہی کتنی بارش ہو رہی ہے. اب ایسے میں میںکیسے جاوں" سارا وقت کھیل کود کر انکا اپنا دل آرام کرنے کو چاہرہا تھا."نازک مزاجی میں تو میرے بیٹے نے لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے" گل جان نے انکے عذر سنتے ہوئے کہا " جب گرمی کا موسم ہے تو خوب گرمی ہی پڑے گی. جب سردی ہے تو سردیہوگی. ایسے میں دنیا کام کاج چھوڑ کر تو نہیں بیٹھی رہتی" گل جان نے انکے عذرسنتے ہی کہا."گل جان آپ اور ابی ہمیں کہاں سے اٹھا کر لائے ہیں. بہووں کوابی جان کچھ کہنے نہیں دیتے. پوتے آپ کے لاڈلے ہیں اور بچے کون میں اور شاہ زین" خاور گردیزی نے سارے جہان کی مسکینیت خود پر طاری کرتے ہوئے کہا"آ رہی ہے نہ وہ گھر بھر کی لاڈلی. اسی کی ہمدردیاں لینا" گلجان نے بلا کے سکون سے کہا"حد ہے یار. یعنی کہ ابھی ہمارا کوئی ووٹ نہیں ہے گھر میں" خاور گردیزی نے دکھ سے گل جان کو دیکھتے ہوئے کہا. ان کیمستی دیکھ کر گل جان مسکرانے لگیں."کوئی نہیں چند سال ہی ہیں پھر میں نے بھی اپنی لاڈلی کسی کو نہیں دینی" گل جان کی مسکراہٹ پر خاور گردیزی نے چڑتے ہوئے کہا"دیکھیں گے" گل جان نے ہاتھ سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا"دیکھ لیجیے گا" خاور بھی لاڈ سے کہنے لگا"تم دونوں باپ بیٹے کو اور کوئی بات نہیں آتی کیا. فاطمہ اور شاہ زین کی اولاد نہ رہنے دینا اسے. اپنی اپنی باریاں لگا کر بیٹھ گئے ہو" گل جان انہیں تنبہہ کرتے ہوئے بولیں."اچھا آپ ناراض نہ ہوں میں پتہ کرتا ہوں وہ پہنچ گئے ہوئے تو میں بھی چلا جاوں گا" وہ بھی کھسیا کر کہتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے.................................."میں فکر مند نہیں ہوں مجھے ڈر لگ رہا ہے""تیرا ڈرنا بنتا ہے لڑکی""مادی چیزوں کی فکر کرنا چھوڑ دے. حقیقی چیزوں کی فکر کر""اگر ہو سکے تو وقت کو تھام لے""جسے تو جنم دینے جا رہی ہے اسکی حفاظت کرنا یا اسے خدا کے حفظ و امان میں دے دینا""اس کی شرارتوں اور مسکراہٹ سے تو کئی گھر آباد ہونے ہیں ابھی""اپنے ہر معاملے کو اپنے رب پر چھوڑ دے. وقت بہت بڑا منصف ہے"شاہ زین ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کرتا دوسرے ہاتھ سے ماتھے سے پسینہ صاف کر رہا تھا اسکے زہن میں ساری باتیں گردش کر رہی تھیں اور انہی باتوں کی بدولت گاڑی کی اسپیڈ کبھی کم ہو جاتی کبھی زیادہ. یہ وقت اس کیلیے بڑا کڑا وقت تھا."شاہ زین ہوش میں آو" زینب گردیزی اس کی بوکھلاہٹ پر غصے سے بولیں"اس اسپیڈ سے گاڑی چلاو گے تو سب کا نقصان کرو گے" زینب گردیزی نے اسپیڈ میٹر پر نظر ڈالتے اس بار نرمی سے کہا"بھابھی سب ٹھیک تو ہو جائے گا نا" شاہ زین تفکرات میںگھرا ہوا تھا"اگر اس عورت کی بات سچی ہوئی اور وہاں مجھے کوئی ڈاکٹر مل گئی تو ضرور سب ٹھیک ہو جائے گا" زینب گردیزی نے اپنی گود میں سر رکھے فاطمہ گردیزی کو دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا"فاطمہ میری جان میں تمہیں اور تمہارے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوں گی" زینب گردیزی نے فاطمہ گردیزی کے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے شاہ زین سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی. پھرایک گہرا سانس لیتے ہوئے اسکا سر چوم لیا."دو ماہ پہلے کتنا کہا تھا ابی جان کو کہ آپریشن کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے. تب تو کتنے اعتراضات اٹھائے تھے انہوں نے. یہ کہاں لکھا ہے کہ صحت مند بچے نو ماہ کے ہی ہو کر پیدا ہوتے ہیں. اب انہی کی بے جا ضد نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے" زینب گردیزی لال بھبھوکا چہرہ لیے تلخی سے سوچنے لگیں. "اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی کچھ ہو گیا تو پھر جو ہوگا وہ کم ہی ہوگا" انہیں اپنے ضدی ہٹ دھرم بیٹے کی بھی فکر تھی جو گھر "اپنی" پری کا انتظار کر رہا تھا. اچانک گاڑی رکنے پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آئیں تھیں. ونڈو سے باہر دیکھا تو انکے پیروں تلے زمین کھسک گئی تھی..........................................."گل جان آپکے گھر کے ملازمین کے نخرے بہت زیادہ ہوتے جا رہے ہیں" نائل مسلسل مدحت گردیزی کے کمرے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ چکر لگا رہا تھا. مدحت گردیزی نے جیسے ہی نماز پڑھ کر سلام پھیرا. نائل نے انکی دعا کرنے کا بھی انتظار نہیں کیا. فٹ سے بول اٹھا. گل جان نے اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا. نائل منہ بناتا گل جان کے پاس ہی بیٹھ گیا."کیا ہو گیا ہے میرے بیٹے کو. اتنا غصہ" گل جان نے پوتے کے ماتھے سے بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا"یہ پوچھیں کیا کچھ رہ گیا ہے ہونے کو. گل جان اتنا غصہ آرہا ہے مجھے" نائل نے مٹھیوں کو بھینچتے ہوئے غصے سے کہا"دل تو کر رہا ہے کہ ایک ایک کو پکڑوں اور گھر سے نکال دوں"اسکے غصے کو دیکھ کر گل جان کو شدت سے احساس ہوا تھاکہ نائل گردیزی نے گھر کے سارے مکینوں کا غصہ وراثت میں پایا تھا."مجھے بتانا پسند کریں گے آپ. آخر ہوا کیا ہے" گل جان نے اسکے ماتھے پر آئی سلوٹوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا. اس سے پہلے کہ نائل کچھ کہتا اتنے کمرے کا دروازہ کھول کر حدید اندر داخل ہوا"میں بتاتا ہوں گل جان" اسنے تابعداری سے گل جان کے دوسری طرف بیٹھتے ہوئے کہا. نائل نے اسے دیکھ کر غصے سے منہ دوسری طرف کر لیا"نائل گردیزی کو ہماری پرنسس کے روم کا کلر بلیو چاہیے تھا.مگر وہاں تایا جان کے بھیجے انٹیریئر ڈیزائینرز نے پنک کلر سے ہر چیز کو سجا دیا ہےاسلیے بگ بی اس وقت کسی نہ کسی کا سر پھاڑنے کو پھر رہے ہیں" حدید نے اپنے سے ایک سال بڑے نائل گردیزی کو چڑاتے ہوئے کہا. حدید کے اتنے آرام سے کہنے پر نائل بری طرح تلملانے لگا"اوہ... تو میری جان اتنی سی بات پر پریشان ہو رہی ہے" گل جان نے مسکرا کر نائل کو اپنے ساتھ لگایا"گل جان آپ بھی اسکے ساتھ شامل ہو گئیں" نائل نے گل جان کو دیکھ کر غصے سے کہا "پچھلے دو گھنٹوں سے اس نے میرا دماغ خراب کر رکھا تھا" نائل نے سرخ چہرے سے کہا"گل جان بگ بی سے کہہ دیں ہر چیز کی زیادتی اچھی نہیں ہوتی. ہمیں جس چیز سے سب سے زیادہ پیار ہوتا ہے خدا اسی کو ذریعہ بنا کر آزماتا ہے" حدید نے گل جان کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا "جس چیز کے پیچھے جتنا بھاگو وہ ہم سے اتنی ہیدور بھاگتی ہے""حدید اتنے چھوٹے سے ہو اور اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہو" گل جان نے صدقے واری نظروں سے اپنے سمجھدار پوتے کو دیکھتے ہوئے کہا"اتنا بھی چھوٹا نہیں ہوں گل جان" گل جان کی بات سن کر حدید فوراََ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا "پانچویں جماعت کے بورڈ کے پیپر دینے ہیں میں نے" حدید نے ایک ایک لفظ پر زور ڈالتے ہوئے کہا"اور آپ بگ بی سے کیوں نہیں کہتیں اتنے بڑے ہیں اور بچوں جیسی باتیں کر رہے ہیں" حدید نے سنجیدگی سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا. اس وقت نہ تو اسکا لہجہ گستاخانہ تھا نہ ہی مزاج برہم. صرف اسکی آنکھیں خون چھلکانے کی حد تک سرخ تھیں. نائل اور گل جان زیادہ دیر اسکی طرف نہ دیکھ سکے."گل جان میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں" مزید تلخ کلامی سے خود کو روکتے ہوئے حدید منٹ سے پہلے کھڑا ہو گیا اور اسی سنجیدگی سے کہا"پہلے نماز پڑھوں گا. پھر اسکول کا کام بھی مکمل کرنا باقی ہے. مما کے آنے سے پہلے سب کام ختم کر لیتا ہوں. ٹیسٹشروع ہونے والے ہیں نہ تو پلیز کسی کو میرے روم میں مت بھیجیے گا" حدید گل جان کے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوئے بولا"اور گل جان سائر اور رائد بھی میرے کمرے میں ہی ہونگے. آپ پلیز سکینہ آپا سے کہہ دیں کہ ان کیلیے دودھ کا گلاس ادھر ہی لے آئیں" حدید نے نائل کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے گل جان سے کہا اور گل جان سے اجازت لے کر باہر نکل گیا. نائل بھی اٹھنے لگا تو گل جان نے مصالحتی انداز سے اس سے پوچھا "آپ کیلیے بھی کچھ بھجوا دوں بیٹا""گل جان مجھے ضرورت ہوگی تو میں خود ہی منگوا لوں گا" نائل نے بے حد خفگی سے کہا اور اسی خفگی سے منہ بناتا سرجھٹکتا حدید کی پیروی کرتے کمرے سے باہر نکل گیا. پیچھے گل جان کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی تھی. "اسکی پری آئے گی تو خود بخود ہی موڈ ٹھیک ہو جائے گا" گل جان سوچتی ہوئی جائے نماز سے اٹھیں. کون جانے کہ پری آرہی تھی کہ اڑنے کو پر تول رہی تھی................................................"تم نے تو کہا تھا کہ یہاں پر کیمپ لگا ہوا ہے" شاہ زین نے خالی میدان دیکھتے ہوئے غصے سے اس عورت سے پوچھا"صاحب غصہ نہ کرو وہ لوگ اپنا سامان سمیٹ رہے تھے مگر ابھی گئے تو نہیں" عورت نے زینب کو دیکھتے ہوئے کہا جو پریشانی کی حالت میں اپنے ہاتھوں پر گلووز چڑھا رہی تھی. سیما اسکے سرجیکل اسکربس کو بند کر رہی تھی. زینب نے انکی بے تکی لڑائی پر شاہ زین کی طرف مڑتے ہوئے کہا."شاہ زین بعد میں لڑ لینا ابھی جلدی چلو" زینب گردیزی نے شاہ زین سے کہا اور ڈاکٹروں کے گروہ کی طرف بھاگیں. پتہ نہیں جلال گردیزی اب کونسی کہانیاں ڈال رہے تھے."دیکھیے آپ کے پیشنٹ کی حالت نہایت نازک ہے. آپ کیوں خطرہمول رہے ہیں. اب کچھ نہیں ہو سکتا ہمیں ایک کا نام بتائیں. بچہیا لڑکی" ڈاکٹر نے نہایت پروفیشنلزم سے انہیں بتایا. جلال گردیزی کے پسینے چھوٹ گئے. شاہ زین نے کسی کے بولنے سے پہلے گھبراتے ہوئے کہہ دیا "فاطمہ"


No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/