Friday, July 27, 2018

ناول پا سبان قسط 1


پا سبان

Episode_01By Ayesha
علینہ کہاں ہو بیٹا ۔۔۔۔میں کب سے آواز دیے جا رہی ہوں " وہ کہتے ہوئے اس کے کمرے میں پہنچ گئیں ۔۔۔۔"جیسن رہی ہوں اماں بولیں کیا ہوا ۔۔۔ کونسی ایمرجنسی آ گئ" علینہ جو لیپ ٹاپ پر نظریں جماے بیٹھی تھی ایک نظر ناصرہ بیگم کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔"ارے پگلی کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔مجھے یہ بتا آج مصروف تو نہیں ۔۔۔ آج ارصمہ کی مہندی ہے اور تو بھی ساتھ چلے گی" ناصرہ بیگم اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولیں ۔"ٹھیک ہے " وہ اپنا کام کرتے ہوئے بولی ۔ "تیار رہنا وقت پر۔۔۔اور اچھا سا تیار ہونا " ناصرہ بیگم نے کہا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتے چلی گئیں ۔ان کے جاتے ہی علینہ کی لیپ ٹاپ پر حرکت کرتی انگلیاں تھم گئیں ۔ نظریں اب بھی لیپ ٹاپ کی جگمگاتی سکرین پر جمی تھیں لیکن سوچیں تو کہیں اور ہی تھی ۔۔"پھر سے کوئی رشتہ آیا ہو گا ۔۔۔سوری امی لیکن میں نہیں جا سکتی" علینہ نے تلخی سے سوچا ۔اچانک موبائل پر آنےوالی کال نے اسکا دھیان اپنی جانب کھینچا ۔۔۔اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا ۔۔۔نمبر انجانا تھا۔۔۔اسنے کال اٹھا لی۔۔۔"اسلام علئکم۔۔علینہ راؤ سپیکنگ " اسکا لہجہ سپاٹ تھا۔۔ نظریں لیپ ٹاپ پر جمائے وہ ایک ہاتھ سے موبائل پکڑے دوسرے ہاتھ سے مسلسل ٹائپ کر رہی تھی ۔۔۔دوسری طرف سے جواب نہ پا کر وہ دوبارہ بولی"کون بات کر رہاہے ""دوسری جانب سے گمبھیر آواز ابھی"تمہاری ۔۔۔موتایک لمحے کےلیے علینہ کی لیپ ٹاپ پر چلتی انگلیاں رک گئیں پھر سپاٹ لہجے میں جواب دیا جیسے وہ جانتی ہو کہ دوسری طرف کون ہے۔"خوشی ہوئی جان کر کہ موت آنے سے پہلے فون کرتی ہے"زمانہ بدل گیا ہے میڈیم ۔۔۔۔اب کچھ بھی ممکن ہے " دوسری دوسری طرف سے بھاری مردانہ آواز ابھری ۔"سنا تھا موت بندے کو خود ڈھونڈتی ہے لیکن یہاں تو ماجرا ہی الٹا ہے " علینہ کی آواز میں طنز تھا ۔"زمانہ بدل گیا ہے میڈیم ۔۔۔آپ خود چل کر آئیں گی اپنی موت کی طرف " دوسری طرف سے بھی طنز کیا گیا ۔"کہاں ملنا ہے" علینہ نے سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔"ایڈریس میسج کر رہا ہوں ۔۔۔آٹھ بجے پہنچ جانا " کہتے ہی فون بند کر دیا گیا ۔"ہونہہ " علینہ نے سر جھٹک کر موبائل بیڈ پر پھینکا اور اپنا کام کرنے لگی ۔۔۔**************************"کام ہو گیا باباجی " تیس سالہ مرد اپنے پاس بیٹھے بوڑھے سے مخاطب تھا"بہت خوب " علیم الحق نے خوش ہوتے ہوئے کہا "وہ لڑکی میرا کچھ نہيں بگاڑ سکتی ۔۔۔موقع ہی نہیں دوں گا اسے ۔۔۔مار ڈالوںگا" علیم الحق نے حتمیہ لہجے میں کہا ۔تیس سالہ علی سر ہلا کر رہ گیا ۔۔۔"اور مال کہاں تک پہنچا" علیم الحق پھر بولا ۔۔"تہہ خانہ تک پہنچ گیا ہے "علی نے جواب دیا ۔۔۔"ٹھیک ہے "علیم الحق بولا ۔۔علی نے خاموشی اختیار کی"فکر نہ کرو ۔۔۔تم نے اس لڑکی کو یھسانے میں میری بہت مددکی ہے ۔۔۔۔تم نے اور علی نے ثابت کر دیا کہ تم دونوں مخلص ہو۔۔۔۔اور مجھے ایسے لوگ پسند ہیں ۔۔۔مال کی فراہمی کے بعد میں تم دونوں کو بھاری رقم دوں گا" علیم الحق نے اس کی خاموشی کو پرھتے ہوئے اپنی طرف سے تسلی بخش جواب دیا ۔۔۔"جی باباجی " علی بولا۔۔۔۔****************************"ازمیر یہ کیس میں نے بڑی امید سے تمہیں دیا ہے۔۔۔مجھے امید ہے کہ تم پوری لگن سے کام کرو گے۔۔۔اور مجھے مثبت نتائج ملیں گے " ایک ساٹھ سالہ بوڑھا اٹھائیس سال کے مرد سے مخاطب تھا ۔۔۔"یس سر" ازمیر نے پیشہ وارانہ انداز میں کہا اور فائل پکڑ لی جو زاکر صاحب نے اسکی جانب بڑھائی تھی ۔۔ازمیر نے کافی کا کپ اٹھایا جو ویٹر رکھ دیا گیا تھا ۔۔اور ادھر ادھر دیکھنے لگا کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا سوائے مینیجر کے جو گاہے بگاہے ان کی طرف دیکھ لیتا تھا ۔۔۔"کام کے سلسلے میں ہم یہیں ملیں گے۔۔۔۔رابق صاحب تمہیں کمرہ دیکھا دیں گے ۔۔۔کسی کو شک نہیں ہو گا کہ ہمارا ورکنگ روم یہاں ہے"زاکر صاحب اسے وہاں کے مینیجر اور خفیہ کمرے کے بارے میں بتا رہے تھے ۔۔"اوکے سر" ازمیر نے کہا اور ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔"اس گینگ کا ہیڈ کون ہے سر" ازمیر بولا۔"ایک لڑکی ہے" زاکر صاحب نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔وہ جانتے تھے کہ وہ لڑکیوں سے چڑتا ہے ۔۔۔مگر اب کی بار وہ منع نہیں کرے گا کیونکہ یہی لوگ اس کے ماں باپ کی موت کی وجہ بنے تھے ۔۔۔"لیکن سر۔۔۔۔۔" ازمیر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی زاکر صاحب نے بات کاٹ دی۔۔"اینی پرابلم" زاکر صاحب تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔"نو سر" ازمیر نے ہتھیار ڈال دیے ۔۔"گڈ" زاکر صاحب بولے ۔۔۔۔جاری...

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/