 |
| تم میری ہو بس |
#تم_میری_ھو_بس#رضیہ_احمد#
Episode_1
بچپن میں ہی گل کے ماں باپ چل بسے . مجبوراً اسے اب اپنے چچا کے گھر رہنا پڑا . 8 سال کی تھی جب اس کے اماں ابّا کار ایکسڈینٹ میں فوت ہوگئے . چچا کے دو بچے تھے . لڑکا اس وقت 10 سال کا تھا جس کا نام شہزاد تھا . لڑکی بَعْد میں آئی اور اس کا نام سب نے پیار سے گڑیا رکھا . تھی بھی گڑیا جیسی . چچی جو گل سے بے حد نفرت کرتی تھی . کہیں وہ اسے بیٹھی کو کھیلتی ہوئی دیکھلے تو انکی آنکھوں میں خون گھول جاتا . بار بار اپنے شوھر کے پاس جا کر گل کی شکایت لگاتی رہتی تھی . گل یہ سب دیکھتی اور بے حد اداس ہوجاتی .اسے اپنے اماں ابّا بہت یاد آتے اور وہ چھت کے اک کونے میں جا کر چُپ جاتی اور خوب روتی . اس چھت کے کون کے بارے میں صرف شہزاد کو ہی معلوم تھا . وہ اسکا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا دوست بھی تھا . لیکن اک اچھا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اِس دوستی کو محبت میں بَدَل بیٹھا . وہ گل کو اداس نہیں دیکھ سکتا تھا . اکثر جب چچی گل کوڈانٹ دیتی تو شہزاد گھر میں شور ماچاتا لیکن چچی اسکی پروہ نہ کرتے ہوئے گل کو پِھر بھی ڈانٹ کے رکھ دیتی . کبھی کبھی گل پر ہاتھ اتھا کر چچی یہ ثابت کرتی کے وہ اِس گھرکی بیٹی نہیں بلکے نوکرانی ہے . چچا یہ سب دیکھتے رہتے اور روز اپنے بیگم سے شکایت کرتے کے یہ اسکے بڑے بھائی کی نشانی ہے . چچی بہت خود غرض قسِم کی عورت تھی . وہ اپنی حرکتوں سے بعض نہ آتی . بچپن کی محبت جوانی میں بدل گیی. گل کو اِس بات کی ذرا بھی خبر نہ تھی لیکن شہزاد ہروقت اسکامحافظ بنا رہتا . گل کی قسمت میں تعلیم حاصل کرنا تھی . اسے چچا نے کھلی چھٹی دے رکھی تھی کے جتنا چاھے وہ مرضی پرہ لے . لیکن جیسے وہ گھرپوحونچتی تو چچی جان بوج کر اس کے لیے گھر کا ڈھیر سارے کام چور دیتی اور چلی اپنی جاتی سہیلوں کے گھر . سارا دن گل کبھی کپڑے دھوتی کبھی پوچھا مارتی کبھی گڑیا کو پڑہاتی کبھی کچھ تو کبھی کچھ . شہزاد اپنی اماں کی غیر موجودگی میں اس کے گھر کے کاموں میں ہاتھ ؓبٹا تا. اسے ذرا بھی پسند نہ تھا کے گل اکیلی کام کرتی پھری . آخر وہ اِس گھر کی نوکر نہیں بلکے شہزاد کی دِل کی رانی تھی ! لیکن اِس دِل کی رانی کا دِل جیتنے کے لیے راجہ کو کچھ تو جتن کرنے ہی پڑتے . گل اسے منعکرتی رہتی لیکن وہ تھا اپنی مرضی کا ملک . چچا دونوں کو ا س طرح ساتھ دیکھتے تو بہت خوش ہوتے لیکن چچا اِس بات سے بھی واقف تھے کے شہزاد گل کو بچپن سے ہی اپنا دِل دےبیٹھا ہے . اکثر وہ سوچتے کے کیوں نا شہزاد اور گل کی شادی کروادی جائے . لیکن جب چچا کو اپنی بیگم کا خیا ل آتا تو ان کے رونٹے کھڑے ہوجاتے اسلئے وہ فی الحال تو اِس بات سےپرہیز کی کرتےیونیورسٹی میں گل کی ایک ہی دوست تھی جسکا نام انعم تھا . کافی خوش اخلاق با ادب اور تمیز دار لڑکی تھی . جیسے ہی یونیورسٹی میں داخل ہوتی گل کے چند گھنٹے سکون کی سانس میں گزرتے . لیکن جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلتی چچی کا خیال آتے ہی اسکے سانسیں رکنے لگتیانعم : تم اپنی چچی سے اتنا ڈرتی کیوں ہو ؟گل : کیا کروں . . . وہ بہت ناراض ہوتی ہے مجھ سے اور میں انکی ناراضگی سے بچنے کے حزار تریکی ڈھوندتی رہتی ہوں لیکن کوئی فائدہ نہیںانعم : تم لاکھ کوشش کرلو ، تمہاری چچی تم سے کبھی خوشنہیں ھوگیماں نہیں وہ تمہاری جو تمہاری ہر غلط معاف کردےگل : اماں میرے ساتھ ایسی کبھی نہیں تھیشہزاد : گرلز کیا ہو رہا ہے ؟انعم : ہاے برو . . . کچھ نہیں تمہاری اماں کی چغلیاں کر رہے تھےگل : چُپ کروشہزاد :حاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحا . . . مجھے بھی اپنے کلبمیں جوائن کرلو پلیزانعم : یور موسٹ ویلکم ھاھاھاھاھاھاھاھگل : بس بھی کروانعم : تم کیوں اتنا ڈرتی ہو ؟شہزاد : اسکو سمجھاؤ یار میں خود اماں کی ان عادتوں وسے تنگ ہوں یہ بھی ہر وقت مجھے چُپ کراتی رہتی ہےانعم : پاگل ہے یہ اسے شکر کرنا چاہئے کے اس گھر میں تمھارے جیسا اچھا دوست ملا ہے اسے ورنہ تو . . . اُفگل : شہزاد ! ! میں نے کتنی بار تمہیں کہا ہے اپنی اماں کے بار ے میں ایسا نہ بولا کرو تم بعض ہی نہیں آتے .شہزاد : ہم تو بعض آنے والو میں سے نہیں ہے کیوں انعم ؟ !انعم : کریکٹ . . اچھا گائیز تم لوگوں کی ایگزامس کی تیاری کیسی جارہی ہے ؟شہزاد : میری ٹھیک جارہی ہے گھر آتے ساتھ ہی اماں مجھے میرے روم میں قید کردیتی ہیں اور کہتی ہے صبح تک باہر نا نکلنا. میں ان کو دیکھانے کے لیے فیس کی بُک پڑتا رہتا ہوں حاحاحاحاحاحاحاحاحاحاحاانعم : حاحاحاحاحاحاا یار بڑی ہمت ہے . . . میری دادی میرے سر پر کھڑی رہتی ہے اپنی کیوٹ سی چپل لے کے کے لڑکی میرے اللہ اللہ ہونے سے پہلے پڑلو کچھ بن جاو اور پِھر بات آجاتی ہے شادی پر . . اُفگل : شہزاد گھر چلیں ؟ چچیی انتضار کر راہی ہونگیشہزاد : ہاں چالو او کے انعم سی یو کل ٹاٹا بائےانعم : بائےگل کا موڈ شہزاد کی اِس قسِم کی باتیں سن کر اکثر اوف ہوجاتا . وہ ماں کی اہمیت کو خوب سمجھتی تھی اسلئے وہ شہزاد کوہر وقت روکتی رہتی کے اپنی اماں کےبارے میں ایسا نہ بولا کرے . لیکن شہزاد کو صرف گل کی خوشی چاہئے تھیگل : کتنی باربولا ہے مت کہا کرو ایسا تم کب سونوگے کسی کی باتشہزاد : گل ! ! میں نے بھی تمہیں کتنی بار کہا ہے کے مجھے نہیں پسند جب اماں تمہاری پیچھے ہاتھ دھو كےپڑ جاتی ہے .گل : وہ جو بھی کرے تم ایسا مت کیا کروشہزاد : اچھا تمہاری بات تو میں مانلوں میری کب مانوگی ؟گل : کونسی بات ؟شہزاد : یہی کے تم اماں کی پروہ نہ کیا کروگل : مجھے اِس بارے میں کوئی بات نہیں کرنیشہزاد : ٹھیک ہے مت کرو . . . لیکن میری سوچ نہیں بَدَل سکتی تمگھر پوحونچتے ہی گل کی چچی اس پرچڑ دھوری . چوٹی بیٹھ کر میتھ کا ہوم ورک کر رہی تھی . گل کا رنگ کبھی آئے تو کبھی جائے . شہزاد حسب عادت اپنی اماں سے بحث کرنے پر مصروف ہو گیا . اتنے دیر میں چچا آئے تو وہ بھی اپنے لاڈلے بیٹے کے ساتھ شامل ہوگئےچچا : بس کردو سكینہ ! ! بچی ہے وہ ! ! کچھ دن اسے آرام کرنے دو بچو کے امتحان ہورہے ہیں .چچی : ہمارے بچوں کے امتحان ہے اس کے تو نہیں ہیں اور آپ بھی نا آپ تو جانتے ہیں کے میرے گھوتھنوں میں کتنا دَرْد رہتا ہے اور گڑیا ابھی بہت چوٹی ہے . کیا آپ چاھتے کے میں اپنی بچی سے کامکرواوں؟ ؟ ؟ ؟ یہاں رہنا ہے تو کچھ کرنا پڑے گا ورنہ جائے اپنا بوریا بستر لیکرشہزاد : پِھر تو میں جاؤنگا اماںچچی : لو سنو ! ! ! یہ دیکھ رہے ہیں آپ ؟ ؟ ؟ کیا ہو رہا اِس گھر میں ! ! ! میری تو کوئی اہمیت ہی نہیں . ) گل کو مخاطب کرتے ہوئے ( لڑکی ! ! کیا کھلا کر لائی ہو میرے بیٹے کو ؟گل : کک . . . کک … . کوو . . چھ نہیں چچیچچی کا ہاتھ پِھر گل پر اٹھنے ہی والا تھا کے چچا نے چچی کا ہاتھ روکلیاچچا : بس ! ! گل تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو تم آک کھر کا کام نہیں کروگی . تم 3نو اپنی امتحان کی تیاری کرو بسشہزاد اور گل اپنے کمرے میں چلے گئے . شہزاد نے اپنی کتابیں بستر پر پھینکی اور خد بھی بستر پر گر پڑا . شہزاد کا غصہ بہت برا تھا اور گل کے مامعلے میں تو . . . گل اپنے کمرے میں گئی اور جا کر پُھٹ پُھٹ کر رونے لگی . اس وقت اسےاپنی اماں کی بہت یاد آئی . اماں کا پیار سے گل کو سُلانا ، اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانا ، اس کے کپڑے بَنانا ، بالکل شیزادی کی طرح رکھنا . ابّا کا گل کے ساتھ کھیلنا ، اسکی من پسند کھلونے لا کر دینا . لیکن یہ سب تو اک خواب تھا جو چوٹی سی عمر میں ہی ٹوٹ گیا . چچا اپنی بیگم کی حرکتوں سے کافی پریشان رہتے تھے اور اکثر بیگم کو کہا کرتے کے ایسا نہ کیا کرے . لیکن نہ جانے وہ کس مٹی کی بنی ہوئی تھی . انہیں اپنی خودغرضی سے فرصت ہوتی تو گھر کا ماحول ٹھیک رہتا . کچھ دیر بَعْد چچی اپنے بیٹے کے کمرے میں كھانا لے کر گئی . دیکھا تو شہزاد کی آنکھ لگ چکی تھی. چچی نے بڑے پیار سے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہاچچی : ڈر لگتا ہے مجھے تیرے لیے کہیں تو اس چڑیل کی جال میں نہ پھنس جائے . تو میرا بیٹا ہےشہزاد : سن لیا ہے میں نےچچی : كھانا ٹھنڈا ہوجائیں گے کھا لیناشہزاد : گل کو دیا ؟چچی : وہ خود لےلے ہاتھ تو نہیں ٹوٹے ہوئے اس کےیہ کہہ کر چچی وہاں سے چلی گئی . تھوڑی دیر بَعْد چچی اپنی کسی سہیلی کے گھر چلی گئی . جیسے ہی چچی گھر سی باہر گئی شہزاد اپنا كھانا لیکر بھاگھتا ہوا گل کے کمرے کی طرف گیاشہزاد : گل ؟ ! ! ، . . . اوپن دیڈو ور یارگل : یار پلیز مجھے اکیلا چوردوشہزاد : گل پلیزگل نے دروازہ کھولا . رَو رَو کر اسکی آنکھیں سوج گئی تھی. شہزاد کو اسکی حالت دیکھ کر غصہ اور ترس بھی آرہا تھا. گل یہ سوچ کر رَو رہی تھی کے کاش اسےکےماں باپ آج زندہ ہوتےشہزاد : رونا بند کرو اور میری بات دھیان سے سنو .اس طرح رونےکچھ نہیں ھوگا تم مت کرو کام اماں کا تو بولتی رہتی ہے اس طرح تو تمہیں مار ڈالینگی وہگل : اگر میں نے انکا کام نہ کیا تو میری زندگی کے دن کم پڑ جاینگےشہزاد :نہیں پڑتے ! ! ! پاگل ہو تم . . . دیکھو میں اور ابّا تمھارے لیے اسٹینڈ تو لیتے ہے نا تو تم سکون کا سانس لیا کروگل : شہزاد امی بہت یاد آراہی ہیںشہزاد اسے اپنے گلے سے لگا لیتا ہےشہزاد : اچھا ایومشنل اتتیاچار کرنابند کرو كھانا کھا لوگل : مجھے بھوک نہیں ہےشہزاد : تم جانتی ہو نا کے میں نے تمھارےبغیر كھانا نہیں کھاتا ابھی چلو اچھے بچو ںطرح كھاناکھا لو. . . ورنہ میں بھی نہیں کھاونگا اور بھوکھا ہی مرنا پڑے گا اور میں خالی پیٹ مرنا نہیں چاہتاگل : شہزاد ! ! کیا تمشہزاد : چلو منہ کھولو . . . گڈ گرل چلو بہت بھوک لگی ہے بھوک کے مارے جان جارہی ہے لیٹ ’ س ایٹ سمتھنگ اور ہاں آج ہم پڑھائی ساتھ میں کرینگے . تمہیں اماں کی ڈانٹ سے جان چھوٹ جاییگی ناگل : اتنا کام پڑا ہے میں آج شاید تمھارے ساتھ بیٹھ کے پڑھ نا سکوشہزاد : کام ہوتے رہینگے ! تم نے سنا نہیں ابّا نے کیا کہا ؟ ہم3نو کو پڑھائی کا آرڈر دیکی گئے ہیں . . . اسلئے بی گڈ گرلاور آج تم آرام کروكھانا کھانے کے بَعْد 3نو چھت پر بیٹھے اپنی کتابوں میں کھو چکے تھے . چچا جان اپنے دفتر کے کام میں مصروف تھے . انکا اک دفتر باہر اور اک دفتر گھر میں ہوتا تھا . چچی کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا . گل کی نظر جب گھڑی پرگئی تو اس كے تو ہوش ہی اڑ گئے . شہزاد نے اسکی گھبراہٹ نوٹ کرتے ہوئے اسے غصے سے دیکھنا شروع کر دیاشہزاد : گل ! ! بار بار کلاک کی طرف کیوں دیکھ رہی ہو ؟گل : چچی آنے والی ہونگیشہزاد : تو ؟گڑیا : تو کیا ؟ ؟ باجی کو ڈر لگراہا ہے . بہت سارا کام بھی پڑا ہوا ہے باجی کے لیےگل : میں جارہی ہوںبائے شہزاد : میں بھی آرہا ہوںگل کے لاکھ منع کرنے کے باوجود شہزاد نے اس کے ساتھ سارے کام کروائے بس چچی کے آنے میں تھوڑی ہی دیر رہ گئیتھی کے دونوں کچن میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے . گڑیا بھاگتی ہوئی کچن میں آئی اور چچی کی آنے کی اطلاع تھوک دی . شہزادبڑ بڑاتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا اور گل بھی چائے کے کپ دھو کر اپنے روم میں چُپ گئی . ساری رات گل پڑھائیمیں مگن رہی لیکن آج رات شہزاد کا دِل پڑھائی میں تو جیسے لگنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا .اسے بار بار گل کا خیال آتارہا . بس اک بات اس نے تھان ہی لی تھی کے امتحان پاس کر کے کینیڈا چلا جائیگا اور گل کو بھی اپنے ساتھ لے جایگا . . . بیاہ کر ! اِس بات کی خبر گھر میں کسی کو نہ تھی. گڑیا سو گئی تھی . چچا کتاب پرہ رہے تھے اور چچی اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی . اُدھر شہزاد بہت بیچین تھا . یہ سوچ رہا تھا کے کل ابّا سے گل کے بارے میں بات کیسے کرے گا . صبح ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا شہزادابّا کو آنکھوں آنکھوں میں کچھ اشارے سےدی رہا تھا . گل ناشتہ دینے میں ورڈ ریکارڑ قایم کرنے پر تلی ہوئی تھی . کبھی چائے لا کبھی پراٹھا کبھی ٹوسٹ کبھی انڈا کبھی سالن . . . گڑیا کی وین آئی اور وہ اسکول کا بستا اٹھا کر نکل گئی . چچا کو اپنے لاڈلی بھتیجی پر بہت تر س آیا اور کہنے لگےگل : بیٹا تم بھی آکے ناشتہ کرلو تم دونوں نے یونیورسٹی بھی جانا ہے دیر ہو جائے گیگل : بس چچا جان میں یہ چائے بنالوں پِھر آتی ہوںچچی : جلدی ہاتھ چلاؤ آج میں نے فریحہ کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے اسکی بیٹی کی مہندی ہے کہ رہی تھی میرے ساتھ چلوگل چائے کا آخری کپ رکھ کر بیٹھ گئی ناشتہ کرنے . جب اسکینظر گھڑی پر گئی تو بریڈ کا پیس منہ کے سامنے ہی رک گیاشہزاد : کیا ہوا ؟ ناشتہ کروگل : کمال کرتے ہو ، تم آرام سے بیٹھے ہو . . . ٹایم دیکھوشہزاد : کیا ہوا ہے ٹایم کوگل : دیر ہوگئی پہلے کلاس لگنے والی ہے جلدی چلوچچا : ناشتہ تو کرلو بیٹاگل : نہیں ! ! میرا خیال ہے کے اب ہمیں چلنا چاہئےشہزاد : میں نہیں جا رہا آج یونیورسٹیگل : کیا ؟ ؟ ؟ . . . مذاق بند کرو بہت ضروری کلاس ہے میری امتحان بھی ہیں پلیز یارشہزاد : ابّا میں آج یونیورسٹی نہیں جا رہاچچا : تمہاری مرضی بیٹاگل : چچا پلیز آپ مجھےلی جاییں ناچچا : پہلے ناشتہ پِھر یونیورسٹیگل : ٹایم نہیں ہے میں کینٹین سے کچھ کھالونگی پلیزچچی : ہاں باپ کا مال سمجھ کر رکھا ہوا ہے نا ! ! کینٹین سے کھالونگی . . . اندر سے ڈبہ لاؤ اور اپنا ناشتہ پیک کروچچا : سكینہ ! ! ! تم جانتی ہو کے تم بچی کو کیا بول رہی ہو ؟ یہ بھائی صاحب کی دین یہ گھر اور جو تم اتنے عیش کرتی پھرتی ہو گل کا بھی پورا حق ہے اِس پر . تمہاری نوکر نہیں ہے وہگل : چچا پلیز چھوڑے نا میں نے اپنا ناشتہ پیک کر لیا ہے پلیز اب تو چلےچچا : ہاں چلو بیٹاچچی کا غصہ ناک پر ہی بیٹھا رہ گیا اور گل اپنے چچا کی گاڑی میں بیٹھ کر یونیورسٹی بھی پوحونچ گئی . چچا نے گل سے کہا کے چھٹی کے وقتنہیں اے پائینگے اسلئے وہ شہزاد کوبیجھ دینگے . گل بھاگتی ہوئی کلاس روم کی طرف گئی تو میڈم پہلے سے ہی کسی بات پر آگ بگولہ ہوچکی تھی . گل کو لیٹ آتے ہوئے دیکھا تو سارا غصہ گل پر نکال دیا . انعم نے اشارہ کیا . . . گل خاموشی سے اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی . بیل باجی تو دونوں لائبریری کی طرف روانہ ہوگئی . وہاں جانے تک گل کی دیر سے آنے کی وجہ ڈسکس ہورہی تھی . چرچے میں اتنی مصروف تھی کے کب او کہاں کسی اسٹوڈنٹ کے ساتھ گل کی بڑی بری ٹکر ہوئی کے اسکی کتابیں بھی گر پڑی . جیسے ہی وہ دونوںکتابیں اٹھانے کے لیے جھکے دونوں کے سر ٹکرائے . . ووکچ ! ! ! . . ہائو فیلمی
#تم_میری_ہو_بس#رضیہ_احمد
#Episode_2#raziaahmad
 |
| تم میری ہو بس |
احسن : آئی ایم سو سوری میں نے دیکھا نہیں وه میں اپنے دھیانمیں جا رہا تھا ریلی سوریگل : نہیں اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں ہے مجھے ہی دیکھ کے چلنا چاہئے تھا احسن . آئی ایم سوری پلیزانعم : اٹس او کے . . چلو گلاحسن نے اک پل کے لیے اس لڑکی کی طرف دیکھا لیکن گل نے واپس مڑ کر دیکھنا مناسب نہ سمجھا . جب وه اسےسوری کہرہی تھی تب بھی اس نے اسکی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا . یونیورسٹی ختم ہونے کے بَعْد شہزاد صاحب گیٹ پر کھڑے گل کا انتظار کر رہے تھے . اسے دیکھ کر انعم کی ھنسی چوٹھ گئیانعم : آگیا شہزادہگل : بس بھی کرو صبح سے تنگ کر رہی ہو . . بعض بھی آجاؤانعم : بڑوشہزاد : جی جناب کیسی ہوانعم : میں ٹھیک ہوں . . . کیا ہوا آج ؟ ؟ تُم آئے نہیںشہزاد : بس نہیں آیاگل : چلیں ؟ … او کے انعم ٹیک کیئر اللہحافظانعم : اک تو اس کو ہر وقت جلدی جانے کی پڑی ہوتی ہےشہزاد : لے کر تو میں نے ہی گھر جانا ہے ناانعم : ہاں ھاھاھاھاھاھاھاھاو کے گائیز سی یو اراؤنڈ اللہحافظشہزاد : اللہ حافظ . . . چلے میڈم ؟گل : جلدیگھر کی طرف بائیک موڑنے کی بجاۓ شہزاد نے بائیک گل کے فیورٹ ریسٹورانٹ کی طرف موڑی کیوں کے شہزاد یہ جانتا تھا کے آج گھر میں كھانا نہیں بنا تھا . گڑیا اسکول کے بَعْد اپنی اک سہیلی کے گھر جا کر پڑھائی کرنے والی تھی اور وه كھانا بھی وہی سے کھا کر آئیگی . اماں حسب عادت گھر نہیں ہے اور ابّا آفس میں ہی کچھ نا کچھ منگوالیتے . رہے شہزاد اور گل . گل کو كھانا بنانے کے علاوہ اور بھی بہت سارے کام ہوتے اور شہزاد تب تک کھانے کا انتضار تو کرنے سے رہاگل : کہاں جارہے ہوشہزاد : كھانا کھانےگل : ہاں معلوم ہے لیکن گھر تو دوسری طرف ہے اِس طرف کہاں؟شہزاد : تمہیں کیا لگتا ہے اماں نے بریانی بنای ھوگیگل : تو کیا ہوا كھانا دو منٹ میں تیار ہوجائیےگا گھر چلو خامخوا پیسہ فضول میں خرچ ہوجاۓگاشہزاد : تمھارے دو منٹ میں میری جان نکلا جائے گی میں آل ریڈی ٹیبل ا بُک کروا چکا ہوں آرام سے بیٹھ کر کھائینگے اور پِھر آرام سے گھر جائینگےگل : حد کرتے ہو تُم بھیشہزاد : آئی نوریسٹورانٹ میں بیٹھے دونوں اپنے من پسند ڈش کی پوجا کر رہے تھے . گل ڈر کے مارے جلدی سے کھا گھر جانے کی ضد کرنےلگی جنکہ شہزاد بڑے ہی آرام سے اپنی پلیٹ میں چمچی گھوما رہا تھا اور اسکی باتوں کو سنی ان سنی کر رہا تھا . گل کو جب بھی غصہ آتا ہے تو اسکے چہرے کا رنگ بہت لال ہوجاتا ہے . لیکن جب شہزاد کو غصہ آتا ہے تو اسکا وہی رنگ پیلاپڑ جاتا ہےگل : تُم سنتے کیوں نہیں ہو جلدی کھاؤ میں نے گھر جانا ہے بہت کام ہےشہزاد : جسٹ شٹ اپ ! ! ! چُپ کر کے کھانے دو مجھے صبح ناشتہ بھی اتنا بدھا سا بنا کر دیا تھا شادی کے بَعْد بھی ایسا ہی ناشتہ بنا کر ڈوگی مجھے ؟ ! ! بے شرم کہی کیگل : شادی ؟ . . کس کی شادیشہزاد : تمہاری اور میری ! ! ! اور کس کی ؟یہ سن کر گل کے رونٹے کھڑے ہوگئے شادی اور گل سے ؟ شہزاد کی ؟ واٹ ؟شہزاد : دیکھ گل آج میں ابّا سے بات کرنے والا ہوں کے میری اور تمہاری شادی کرادیں . میں تو ایگزامس پاس کر كے کینیڈا چلا جاؤنگا . . . اور تُم بھی چلوگی میرے ساتھ میں تمہیں یہاں مرنے کے لیے تھوڑی نا چور سکتا ہوںگل : یہ تُم کیاکہ رہے ہوشہزاد : آئی لو یوگل : کیا ؟ ؟شہزاد : میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں پلیز تُم نہ مت کہنا اماں جو کچھ بھی تمھارے ساتھ کرتی ہے مجھے اَچّھا نہیں لگتاگل : تُم مجھے اپنے احسانوں کے نیچے دبانا چاھتے ہو ؟شہزاد کے منہ پر گل نے اتنا زور کا تھاتھپڑ مارا کے اسے مجنوں اس خواب سے باہر نکلنا پڑا . ہیں ؟ یہ خواب تھا ؟شہزاد یہ سب باتیں یونیورسٹی کےگیٹ کے سامنے کھڑے سوچ رہا تھا . اتنے میں گل بھی آگئیگل : ہیلو ؟ ؟شہزاد : آگئی تُم ؟گل : ہاں . . تمہیں کیا ہوا اتنا پسینہ کیوں آیا ہوا ہے تمہیںشہزاد : پسینہ ؟ گرمی ہے . . . اُفگل : بارش کا موسم بن رہا ہے ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے ہے اور تمہیں گرمی لگ رہی ہے . . . ؟ ؟شہزاد : ہاں وہ . . چلوگل : ہاں … چلونہیں نہیں گل سے تَھپَّڑ کھانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا . اور ویسے بھی جس طرح کا سین شہزاد نے سوچ رکھا تھا وه تو تَھپَّڑ کھانے کے بالکل قابل تھا . ابّا سے ہی بات کرنی پڑے گی . گل شاید اتنی جلدی نہ مانے ابّا ہی کچھ کر سکتے ہیں کیوں کے گل ابّا کی کبھی کوئی بات نہیں ٹالتی . خیر دیکھتے ہے آج قسمت کا تارا کس کے حق میں چمکتا ہے . شام کو سب کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے تو اکوسری کے دن کا حالسنا رہے تھے . گڑیا اپنی سہیلیوں کی باتیں کرنے میں مصروف تھی چچا آفس کی باتیں اور چچی فرینڈ کی بیٹی کی مہندی کی باتیں . شہزاد اور گل خاموشی سے كھانا کھا رہے تھے . شہزاد نے گل کو پاؤ ں مارا . . . گل نے بڑی ہیرانگی سے شہزادکی طرف دیکھا . شہزاد نے آنکھ ماری . . گل نے سوالی نظروں سے پوچھا . . . شہزاد نے اماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہاتھوں سے بلا بلا بلا کا اشارہ کیا . گل کی ہنسی نکل گئی . .چچی نے بڑے غسہ سے گل کو دیکھا اور گل کی بتی وہی گل ہوگئی . شہزاد نے ابّا کو دیکھ کربیزارگی کا اشارہ کیا اور ابّا کی بھی ھنسی نکل گئی . سب اپنے کمروں میں چلے گئے گڑیا سونے کی تیاری میں تھی چچی اپنے روم میںبیٹھی اپنا فیورٹ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی اور چچا اپنی گھر کے آفس روم میں لیپ ٹاپ پر بیٹھے کسی پریزنٹیشن پر کام کر رہے تھے . پورے گھر میں صرف برتن دھونے کی آواز آرہے تھی . برتن دھونے کے بَعْد چھائے کی پیشکش کی تیاری کی جارہی تھی . جیسے ہی گل چچا کے کمرے میں داخل ہوئی وہاں شہزاد پہلے سے موجود تھا . گل کو دیکھتے ہی اس کے منہ میں بات رہ گئی جو وه اپنے ابّا سے کرنا والا تھاگل : یہ لے چچا جان ، آپکی چائےشہزاد : اور میری ؟گل : تم نے تو کہا تھا کے تم نے نہیں پینیشہزاد : ہاں . . .کہا تو تھاگل : تو کیا تم نے پینی ہے ؟شہزاد : ہاںگل : ہاں تو لے آتی ہوںجیسے ہی گل باہر گئی شہزاد نے اپنے ابّا سے گل کی بات چیڑیشہزاد : ’ ’ کھانستے ہوۓ’ ’ . . ابّا اک بات کرنی تھی آپ سےچچا / ابّا : ہاں بولو بیٹاشہزاد : میں سوچ رہا تھا ہوں کے ایگزامس پاس کرنے کے بَعْدمیں کینیڈا چلا جاؤں سٹل ہونے کے لیے کیا خیال ہے آپکا ؟ ؟ابّا : خیال تو اَچّھا ہے بیٹا لیکن ایگزامس میں پاس ھونا ضروری ہےشہزاد : جی ابّا . . آپ سے اک بات … پوچنی تھیابّا : ہاں بولوشہزاد : ابّا میں اکیلا نہیں جانا چاہتا اُدھر میں چاہتا کے میں کسی کو ساتھ لیکر جاؤںابّا : ہممم امی کوشہزاد : خدا کا خوف کرے ابّا ! اماں کو لیکر گیا تو … پلیزابّا : ھاھاھاھاھاھاھا اَچّھا تو پِھر گڑیا کولے جاؤ اسکی پڑھائی اچھی ہو جائے گی اُدھرشہزاد : گڑیا . . ابھی بہت چوٹی ہے ایٹلیسٹ میٹرک کرلے پِھر میں اسے بلالونگا اُدھرابّا : میں تو نہیں جا سکتا میں چلا گیا تو بزنس کون سمبھالیگاا؟شہزاد : آپکی بات کون کر رہا ہےگل : چائےگل نے پٹھخ کے کپ اس کے سامنے رکھا ۔ زاہر سی بات ہے پہلے کہتا ہے نہیں پینی اور ابشہزاد : تھینکسگل : ویلکم . . گڈ نائٹابّا : گڈ نائٹ بیٹاابّا : میں گل کےبارے میں سوچ رہا ہوںشہزاد : کیا ابّا ؟ ؟ابّا : کے اسکی بھی رخستی کردوشہزاد : اَچّھا ؟ . . آئی مین کہاں ؟ ؟ابّا : عرفان کو جانتے ہو ؟شہزاد : کون عرفان ؟ابّا : ملک صاحب کا بیٹا جو ابھی دبئی سے واپس آیا . کہ رہا تھاکے وہاں اس نے اپنا اَچّھا کام سنبھال لیا ہے . . میں سوچ رہا ہوں ملک صاحب سے بات کرلو ں.شہزاد : کس لیے ؟ابّا : گل اور عرفان کی شادی کے لیے . لڑکا بہت اَچّھا محنتی ہے اَچّھا کماتا ہے . گل بہت خوش رہیگی اس کے ساتھشہزاد کو اچانک بڑی زور کی کھانسی لگ گئی . فوراً اس نے پانی کے دوگھونت اپنے حلق سے ننگلےشہزاد : اَچّھا . . . اپنے گل سے پوچھا ؟ابّا : نہیں سوچ رہا ہوں کے پوچھ لوں . شادی سے پہلے لڑکی کی مرضی جان لینی جائے تو اَچّھا ہے بیٹا .شہزاد : مجھے نہیں لگتا کے وه عرفان کے لیے ہاں بولے گیابّا : تمہیں کیسے پتہ؎شہزاد : مجھے نہیں پتہ ھوگا تو اور کسی پتہ ھوگاابّا : کیا مطلب ؟شہزاد : آئی مین ابّا ہم دونوں بچپنسے اتنے اچھے دوست ہے مجھے اندازہ ہے بلکہ پورا یقین بھی ہے کے وه نہیں مانیگی . عرفان اس کے ٹائپ کا لڑکا ہے ہی نہیابّا : اچھا ؟شہزاد : ہاں ابّاابّا . تو پِھر تُم بتاؤ اسے کوئی پسند ہے ؟شہزاد : نہیں مجھے نہیں لگتا . لیکن کوئی پسند ہو بھی سکتا ہیابّا : کون ؟شہزاد : میںابّا : ہیں ؟ . . . کیا ؟شہزاد : ہاں ابّا . . . میں گل سے شادی کرنا چاہتا ہوں . آئی لو ہرابّا : ہممم . . . ویسے اک بات کہو مجھے تُم پر پہلے ہی شک تھا کے تُم یہ بار بار گل کے لیے اتنا اسٹینڈ کیوں لیتے ہوشہزاد : ابّا میں اس سے بہت پیار کرتا ہو لیکن اگر میں اسے یہ بولونگا تو وه سمجھے گی کے میں اس پر کوئی احسان کر رہاہوں اور میں نہیں چاہتا کے وه ایسا سوچے کیوں کے ایسا تو ہے بھی نہیں . ابّا کیا آپ گل کو نہیں منا سکتے ؟میں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں پلیز ابّا میرے بات پر غور کرے . آئی لو گلابّا : تمہاری اماں ؟شہزاد : یہی سوچ سوچ کے میرا دماغ خراب ہو رہا ہے . آف کورس وه نہیں مانیگی لیکن اگر میری شادی گل سے نہ ہو ئی تو میں کسی اور سے شادی نہیں کرونگا یہ میرا آخری فیصلہ ہےابّا : دیکھو بتا ، میں تمہاری محبت کی تمھارے جزباتوں کی قدرکرتا ہوں لیکن تمہاری امی کو اِس فیصلے میں شامل کرنا بہت ضروری ہے . اور ویسے بھی میں تو ہمیشہ سے جانتا تھا کے تُم گل کو چاھتے ہو آج تمھارے منہ سے سن کر اَچّھا لگا مجھےشہزاد : ہیں . . . کیا ؟ابّا : ہاں ۔ عرفان کی بات میں نےجان بوجھ کر کی تھی تاکے تمھارے دِل کی بات کا پتہ لگا سکوںشہزاد : ابّا آپ بھی نا بسابّا : پہلے ایگزامس پاس کرلو اس کے بَعْدشہزاد : تھینکس ابّا . . . گڈ نائٹ ابّاابّا : گڈ نائٹخوشی کے مارے شہزاد کو ساری رات نیند ہی نہ آئی لیکن تھوڑی سی شرم بھی آراہی تھی کے ابّا کو کیسے پتہ چلا .ساتھ گھبراہٹ بھی ہورہی تھی کے گل کا کیا ایکشن ہونےوالا ہے اور اماں کے بارے میں سوچنے کو من نہیں کر رہا تھا . پتہ نہیں کب کہی کسی رات کے پہر شہزاد کی آنکھ لگییٔ . اس نے خواب میں گل کو دلہن کے روپ میں دیکھا . وہی جوڑا مہندی اور اسکی مہندی میں شہزاد کا چھپا ہوا نام گل کے ہاتھوں کو سجانے پر مجبور تھی . وہی خوشی سے بھری مسکراہٹ جو اپنے محبوب کو دیکھ کر ہونٹوں کو چنے پر مجبور ہوجاتی ہے . وہ چہرہ جیسا کوئی تازہ گلاب کھلا ہو اور وه بھی سب سے نایاب گلاب . انہی ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھمائے شہزاد اپنی دِل کی بات آنکھوں سے کہنے پر مرجبور تھا . گل کا شرمانا آنکھوں میں اس کی بات کا جواب دینا . . بس کچھ ہی دنتھے ہیں پِھر یہ خواب حقیقت میں بدلنے والا ہے . . . کاش یہ حقیقت میں بھی اتنا ہی خوبصورت ہو .صبح جب ہوئی تو گل غصے سےبےہال تھی . شہزاد صاحب ابھی تک سو رہے تھے. ناشتہ تو کیا نہیں ہوا تھا اور اٹھنے کا نام بھی نہیں لے رہے تھے . بس پِھر گل نے اپنا غصہ شہزاد پر کچھ یوں نکالا کے پوچھو مت ! آئس چالنگج !گل : شہزاد کے بچے ! ! آج تجھے میں نہیں چورونگیشہزاد : اوہ گاڈ مجھے لگا سیلاب آگیا ہےگل : ہاں وه لانا بھی میں نے ہی تھا ! ٹائِم دیکھو تُم ابھی تک سو رہے ہو یونیورسٹی کون لے کے جائیگا مجھے ؟ ؟؟شہزاد : میرا باپ !گل : آج میں نے تمھارے بغیر نہیں جاناشہزاد : میں نے بھی نہیں جاناگل :کہاں ؟شہزاد : میں جا رہا ہوں باتھ روم پہلے نہلا دیا صبح صبح وہ بھی صابن کے بنا تو ابھی سوکھ کرآ جاوں پھر چلتے ہیں. . . یونیورسٹی کی اماں نا ہو توگل : دیکھ آج میں تیرا کیا حشر کرتیشہزاد : ہاں میرا حشر ہی کرتی رہنا تُم . کوئی کام ہے نہیں تمھارے پاس . . . میری شرٹ کدھر گئیگل : شرٹ کہاں ہے . . . کچھ بھی پہن لو لگوگے تُم غریب ہیشہزاد : ہاے . . . محبت میں غریب ہونے کا اپنا ہی مزا ہے . .گل : پکڑ اپنی شرٹ اور دفعہ ہو ! ! جلدی آنامحبت میں غریب . . . پتہ نہیں کونسے گھسے پٹی ناول سےڈایلوگ چوری کرتا ہے شاہ رخ خان کہیں کاشہزد : شاہ رخ خان کو کچھ نہ بولاگل : کیوں جی ؟ شاہ رخ خان : مای نیم اس راہول ! نام تو سنا ہی ھوگاگل : اینڈ مائی نام اِس ماسی مصیبتے ڈنڈے کھائے ہونگے ؟ ؟ ؟شہزاد : حد کرتی ہو لڑکیگل : اَچّھا جی ؟ !شہزاد : آرہا ہوں . . . صبح صبح یار . پتہ نہیں کہا سے یے جاتی ہے خواب میں بھی . سونے نہیں دیتیگل : کچھ کہا تم نے ؟ ؟ ؟ ؟شہزاد : نہیں میری ماں ! کچھ نہیں کہا . . . اَچّھا یہ بتاؤ ناشتے میں کیابنایا ہےگل : جو تُم روز کھاتے ہوشہزاد : اَچّھا او کے چلوگل : لو جی ! . . . اتنی پھرتی کہاں سے آگئی تُم میںشہزاد گنگناتا ہوا ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھا . چچا جان کو یہ سین دیکھ کر بڑا ہی مزا آرہا تھا اور منہ میں مسکرا بھی رہے تھے . گل غصے سے لال پیلی ہورہی تھی ۔. کچھ ہی دیر بَعْد یونیورسٹی جانے کے لیے اسکوٹر تیار ہوا اور گل اپنا تاربوزہ جیسا منہ لیکر شہزاد کے پیچھے بیٹھ گئی . . . شہزاد کی ہنسی رک نہیں رہی تھی اور گل بیزار ہورہی تھیگل : اتنے اونچا گاؤ گے تو کوئی پیسے بھی نہیں دیگا . کتنے بیسورے ہو تُمشہزاد : اَچّھا ؟ تُم جیسے بڑی کوئل ہوگل : کوئل تو نہیں ہوں لیکنشہزاد : لیکن کیا ؟ . . . آج تک تم نے تو مجھے کوئی سونگ نہیں سنایا میں ہی سناتا رہتا ہوں تمہیںگل : مجھے نہیں آتاشہزاد : آتاہے ناگل : کیا ؟شہزاد : وه گانا گاؤ جس میں گھر کے کاموں کا ذکر ہو پیار محبتتمھارے بس کی بات تو ہے نہیںگل : بَکْواس بند کرو تُمشہزاد : ھاھاھاھاھاھاھا . . . . دِل سمبھل جا ذرا پِھر محبت کرنے چلا ہے تو . . . . ھائےیونیورسٹی کے سامنے جب بائیک رکی تو انعم بھاگتی ہوئی گلکے پاس آئیانعم : ارے تُم لوگ اب آئے ہو ڈرامہ تو تُم لوگوں نے دیکھا ہی نہیںگل : کیسا ڈرامہ . . . ؟ ؟ ؟شہزاد : گھر کیا کم ڈرامہ ہوتا ہے جو یہاں پر بھی دیکھنا پڑتا ہےانعم : آؤ تو سہیجیسے ہی وه تینوں گراؤنڈ میں گیے تو دیکھا کے دو لڑکے آپس میں ایک دوسرے کو اتنی بری طرح سے مار رہے تھے کے کچھ لوگون کے الگ کرنے پر بھی الگ نہ ہوئے . پرنسپل کو مجبوراً پولیس بولانی پڑی . معاملا اتنا خراب تھا کیا ؟ جیسے ہی وه لڑکے گل کے پاس سے گزرے انعم سے اسے کونی ماریگل : کیا ہے ؟ ؟انعم : ارے یہ تو وہی ہے کتابوں والاگل : کون کتابوں والا یہاں سب کے ہاتھوں میں کتابیں ہے !انعم : ارے وہی جس کے ساتھ تمہاری ٹَکَّر ہوئی تھیگل : یہ وه ہے . . . ؟انعم : اور نہیں تو کیا . . تمہیں اسکی شکل یاد نہیں ؟گل : میں نے نہیں تھا دیکھا اسےانعم : ہائے کیا بتاوں کتنا ہینڈسم لگ رہا تھا اُس دن . . . پر آج تو کچھ اور ہیگل : بس شروع ہوجاؤ تُم ! چلو کلاس میںشہزاد یہ سب باتیں سن رہا تھا اور اسے آگیا غصہ ! ! ! ! یونیورسٹی ختم ہونے کے بَعْد جب گھر کی طرف روانہ ہوئے تو شہزاد کا موڈ اوف تھا اور گل کابلکل ٹھیک . گل شہزاد کے موڈ کو دیکھ کر تھوڑی پریشان ہوگئی . . . گھرجاتے ہی گل حسب عادت کامو ں میں مصروف ہوگئی اور شہزاد اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گیا . لو کرلو بات ! اک تو شہزاد اتنی محبت کرتا ہے گل سے یوز ہر وقت سنبھال تا رہتا ہے اور گل نے یہ بات بھی نہیں بتائی اسکو ؟ ؟ آج تو وہ بھی بات نہیں کرے گا گل سے . . شام کو ٹیبل پر شہزاد کاغصہ ویسا کا ویسا ہی تھا . گل ا سے دیکھے جارہی تھی اور حیران تھی کے اتنی جلدی تو یہ لڑکا کبھی كھانا نہیں کھاتا آج ورلڈ ریکارڈ بنانے میں مصروف ہے . چچا جان کو چائے دینے کے بَعْد گل شہزاد کے کمرے کی طرف گئیشہزاد : کون ؟گل : میں ہوںاس نے کوئی جواب نا دیاگل : شہزاد ؟ ؟ میں اندر آراہی ہوںشہزاد : مت انا میں اسٹڈی کر رہا ہوںگل : اَچّھا … ساتھ میں کرلے ؟ ؟ مجھے کچھ چیپٹر کی سمجھ نہیں آراہےشہزاد : میرا بھی بہت مشکل ہےگل : چھت پر چلیں ؟شہزاد : نہیں . . . گڈ نائٹلو ! یہ کیا ؟ اب کیوں موڈ خراب ہو گیا اسکا ؟ گل كافی پریشان ہوگئی . پہلے تو کبھی شہزاد نے ایسا نہیں کیا آج کچھ زیادہ ہی موڈ اوف ہو گیا اس کا . اگلے دن صبح وہی ڈرامہ شروع . چچی کا شور مچانا اور گل کا نوکروں کی طرح کام کرنا . لیکن گل کا دھیان اِس بار کام میں نہیں بلکہ شہزاد کی طرف تھا . آج تو شہزاد بھی چُپ ہے . ویسے تو ہر وقت کچھ نا کچھ کہتا رہتا ہے . گل کو یہ دیکھ کر كافی دکھ ہواشہزاد : گڑیا . . . میں جا رہا ہوں باجی کو کہنا باہر آجائے . اَچّھا ابّا اللہ حافظابّا : اللہ حافظ بیٹا . . . ) گل کو مخاطب کرتے ہوئے ( ارے تُم کہاں جارہی ہو تم نے ناشتہ نہیں کیا ویسے بھی ابھی کچھ وقت ہےگل : نہیں چچا جان مجھے بھوک نہیں ہے میں . . . مجھے اب چلنا چاہئےچچا : نہیں بیٹا ناشتے کے بغیر گھرسے نہیں نکلتے . دودھ تو پیلو اک بریڈ لے لو . چلو شاباشگل کو مجبوراً ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھنا پڑا . بڑی ہی مشکلوں سے اس نے بریڈ کا پیس کھایااور دو گھونٹ دودھ کے پئے .راستے میں گل سوچتی رہ گئی کے آج شہزاد کو کیا ہو گیا ہے ، یونیورسٹی پوحونچتے ساتھ ہی شہزاد اپنی بائیک لیکر دوسری طرف چلا گیا اور گل سے بات بھی نہ کیانعم : ہیں ؟ ؟ تُم کیسے آئی ہو ؟گل : جیسے روز آتی ہوںانعم : بڑوکہاں ہے ؟گل : بائیک پارْک کرنے گیا ہےانعم : ارے ! ! تمہیں پتہ ہے کل ان دونوں کی فائٹ کیوں ہوئی تھی . بات پولیس تک چلی گئی ہےگل : اَچّھا ؟انعم : یار جو لڑکا ایکچولی میں مار رہا تھا وه اس لڑکے کا کزن تھا جس کے ساتھ تمہاری ٹَکَّر ہوئی تھی . معاملا بہت خراب ہے . کوئی خاندانی معاملا لگتا ہےگل : تو تُم کیوں اتنی دلچسپی لی رہی ہو اس میں ؟ ہمارے تو رشتےدار نہیں ہے نا وهانعم : ہاں . . برو کدھر ہے ؟شہزاد : گڈ مارننگانعم : گڈ مارننگ . . کیسے ہو ؟شہزاد : ٹھیک ہوں تُم کیسی ہو ؟انعم : میں بھیشہزاد : اَچّھا میں کلاس کی طرف جا رہا ہوںانعم : ارے بات تو سنو ! ! . . گل ! ! اسے کیا ہوا ہے ؟گل : پتہ نہیں یارانعم : پتہ نہیں کا کیا مطلب ہے . . . کچھ تو ہوا ہے تمہی نے کچھ کیا ھوگا اِس کے ساتھگل : ہاں .انعم : کیا ؟گل : اُف چالوانعم : لیکن یہ اتنے غصے میں کیوں ہے ؟ تم سے بہتر یہ بات کون جان سکتا ہے .گل : اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتیانعم : چلو میں پتہ لگاتی ہوں تُم ٹینشن مت لوگل کو لائبریری جانا تھا اور انعم کا باتیں کرنے پر موڈ تھاگل : یار ایگزامس سر پر کھڑے ہیں تمہیں تفریح کی سوجی ہوئی ہےانعم : یار گھر میں بھی دادی اماں کتابیں پکڑا دیتی ہے اور یہاںبھی ! کچھ تو تفریح ہونی چاہئےگل : ایگزامس کے دنوں میں بھی ؟ ؟انعم : تم نے جانا ہے تو جاؤ میں نہیں آج آنے والی تمھارے ساتھگل : ٹھیک ہے … میں جارہی ہوںموقع دیکھتے ہی انعم بھاگتی ہوئی شہزاد کے پاس گئی . لائبریری میں نہ جانے کا تو یہ اک بہانہ تھاانعم : کیا مسئلہ ہے تمہیں ؟ ؟شہزاد : کوئی نہیں . کیا ہوا ؟ ؟انعم : تمہاری گل کے ساتھ کوئی فائٹ ہوئی ہے کیا ؟ ؟ صبح سے اتنے غصے میں ہوشہزاد : نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں . . بس ویسی ہی ایگزامس کی وجہ سےانعم : ایگزامس تو صرف اک بہانہ ہے سب لوگ جانتے ہے کے تُم کبھی گل سے ناراض نہیں رہ سکتے لیکن آج پتہ نہیں سوج کہاں سے نکلاشہزاد : جہاں سے مرضی نکلےانعم : ارے ! ! تو تُم میرے ایسے بھی سیدھےمنہ بات نہیں کروگے ؟ ؟ آخر بہن ہوں تمہاری کچھ تو حق بنتا ہے میراشہزاد : وه لڑکے کون تھےانعم : کونسے شہزاد : ارے وہی جن کو پولیس پکڑ کے لیگیےتھے انعم : ہمارے یونیورسٹی کے ہیں پتہ نہیں کسی خاندانی معاملے پر الجھ پرے اسلئے پولیس انہیں لے گئی . تُم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ ؟شہزاد : ویسی ہی ! یہاں کی بھی تو خبر رکھنی چاہئے . . .انعم : ہممم . . . اَچّھا اب یہ بتاؤ گل سے کیا فائٹ ہوئی تمہاری ؟ ؟شہزاد : کیا تُم ان دونوں کو پرسنلی جانتی ہو ؟انعم : نہیں . . بالکل بھی نہیںانعم بڑی حیران ہوئی . اتنے دیر میں وه کتابوں والا لڑکا ے احسن شہزاد کے پاس سے گزارا . شہزاد نے بھی اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا . انعم کو پِھر بھی شق نہ ہوا کے ماجرہ کیا ہے . شہزاد اسے دیکھتے ساتھ ہی اس کے پیچھے گیا . انعم بھی تجسس سے دیکھنے لگی کے شہزاد کیا کرنےوالا تھا . ہوا تو کچھ خاص نہیں . شہزاد نے جا کر اس سے ہاتھ ملایا کچھ بات کی اور پِھر وه دونوں الگ الگ اپنے اپنے راستوںپر چلے گیے . اتنے میں گل کا توآنا بنتا ہی تھاگل : اُف . . . توبہگل : جو بُک مجھے چاہئے تھی وه مجھے نہیں ملی کچھ اورانتظام کرنا پڑے گاانعم : ہممم . . . ٹائِم کیا ہوا ہے ؟گل : گھر جانے کا ٹائِم ہو گیاانعم : ٹھیک ہے ! اب تو ایگزامس والے دن ہی ملیں گےگل : ہاں اللہ حافظانعم : اللہ حافظگل بڑی آہستگی سے شہزاد کی بائیک کی طرف چلتی گئی . شہزاد کا چہرہ دوسری طرف تھا . گل چُپ كے سے بائیک پر بیٹھ گئی . شہزاد کا دھیان دوسری طرف تھا . گل نےسوچا کے کیوں نا آج بات کی جائے اور آخر پتہ لگایا جائے کے آخر ماجرہ کیا ہے . خیر جب دونوں گھر پوحونچے تو شکر ہے کے چچی گھر پر نہیں تھی . ابّا تو آفس میں تھے اور گڑیا کے آنے کا بھی وقت تھا . گل اپنے کمرے میں جا کر بیٹھ گئی . ابھی اس وقت اسے غصہ آنے لگا . اپنی کتابیں بستر پر پھینکی بیگ سائڈ پر رکھا اور منہ میں پتہ نہیں کیا کیا بڑ بڑانے لگی . حسب عادت وہ کچن کی طرف گئی اور وہاں جا کر کھانے کا انتظام کیا . اتنی دیر میں شہزاد کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا . گل كھانا لیکر آئی اور چُپ چاپ كھانا کھانے لگے .گل کا موڈ بالکل بھی نہیں تھا بات کرنے کو . شہزاد کھانستا ہوا . . . گل کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن گل بڑی تیزی سے كھانا کھانے میں مصروف تھیشہزاد : آرام سے کھاؤ کہیںگل خاموش تھی . . . لگتا ہے گل بہت غصے میں ہے . اور ہو بھی کیوں نا . . . قصور نہ ہونے کے باوجود غصہ ؟ ؟ شہزاد کواندر سے گھبراہٹ ہورہی تھی کے آخر گل اتنی ناراض کیوں ہے ؟ لیکن شہزاد بھی تو بنا وجہ کے ناراض نہیں تھا اس سے . کچھ ہی دیر بَعْد چچی کے گھر میں داخل ہونے کی آواز آئی. گڑیا بھی اسکول سے آچکی تھی . گل سارا کام نپٹا کر اپنے کمرے میں جانے لگی تو شہزاد نے اسکا رستہ روک لیا . زبردستی اسے چھت پر لگایا .***********************************************************************
No comments:
Post a Comment