http://novelskhazana.blogspot.com/
episode 1
خدا کی لاٹھی بے آوازہے
از شگفتہ نواز
اٹھ کے کچھ کام کر لو آج تمہاری امی بھی گھر پر نہیں ہےروبینہ دادا ابو آ کر اسے کہہ رہے تھے جو ٹی وی میں مگن بیٹھی تھیتو پھر میں کیا تمہاری نوکرانی ہوں جو تمہیں پکا کے کھلاؤں روبینہ نے بتتمیزی کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے جواب دیا اور واپس سے ٹی وی میں مگن ہو گئیدلاور صاحب سر نیچے کیے کچن میں چلے گے کیوں کے انھیں پتا تھا اب یہ کام انہوں نے خود کرنا ہے روبینہ کی تو تربیت ہی ایسی ہوئی تھی کے کے اس کی ماں نے کبھی اسے کام کانہیں کہا تھا تو اب وہ بھلا کیسے کام کو ہاتھ لگاتیدلاور صاحب نے اپنے کمزور ہاتھو ں سے آٹا نکالا اور پاس پڑے گھڑے سے پانی نکالنے لگے جب روبینہ کا آرڈر آ گیا تھاپانی پلاؤ مجھے بابابابا وہی سے اس کے لیے پانی لے گے پھر آ کر آٹا گھوندنے لگےمجال ہے جو روبینہ کو شرم آ جاتی کے اٹھ کر کام کر لیتی سارا کام بابا نے خود کیا اور پھر اس کے سامنے کھانا بھی پیش کیا اور پھر برتن بھی انھیں خود ہی دھونے تھےروبینہ ایک بہت ہی بگڑی ہوئی اور انتہا کی گھٹیا لڑکی تھی 8کلاس میں پڑھتی تھی لیکن آتا جاتا کچھ نہیں تھا پر ماں نے پھر بھی اسے شہر پڑھنے کے لیے بھیج دینا ہوتا تھا پر اسے تو پڑھائی میں کوئی دل چسپی ہی نہیں تھی اسکا تو پسندیدہ مشغلہ بس لڑکوں کو تاڑنا اور انھیں اپنی ادائیں دیکھانی ہوتی تھی کسی پے بھی الزام لگانا تو اس کا بایاں ہاتھ کا کھیل تھا ان کی مالی حالت بلکل ٹھیک نہیں تھی ٹوٹا پھوٹا گھر وہ بھی گند سے بھرا ہوا نا کوئی تہذیب نا کوئی طریقہ بس اسکول جاؤ اور آ کر لمبی تان کے سو جاؤ یا پھر ٹی وی دیکھ لو یا پھر چوری کا رکھا ہوا سیل نکال کر اپنے بوائے فرینڈز سے باتیں کرتا رہنا آس پاس والے لوگ دیکھ کر تھوکتے تھے اس پر لیکن وہ تو خود کو کوئی پری سمجھتی تھی کے مجھ جیسی خوبصورت لڑکی تو اس پورے گاوں میں نہیں ہو گی البتہ اتنی اٹرکشن بھینہیں رکھتی تھی ہاں آنکھ ناک پیارا تھا لیکن موٹی تھی اس وجہ سے کوئی خاص پیاری نہیں لگتی تھی اس کی ماں نے اس کو بے جا لاڈ میں رکھا ہوا تھا کبھی بھی اس سے کوئی کام نہیں کروایا تھا نا اسے کوئی کام سکھایا تھا کیوں کے خود بھی وہ بس باتیں ہی کر سکتی تھی اور اور ایسا میٹھا بولتی کے اگلا بندہ دو منٹ میں پاگل بن جاتا تھا اس کے ہاتھوں سےآخر کو اس کا کام بھی تو لوگوں کو بے وقوف بنانا خود کو عقل کل سمجھنا اور باقی سب کو کچھ نا سمجھنا یہی وجہ تھی کے روبینہ بھی خود کو کوئی چیز سمجھتی تھیآج اس کی امی کسی کام سے باہر گئی ہوئی تھی تو کھانا اس کے دادا ابو نے بنایا اسے اتنی عقل نہیں آئ کے چلو زیادہ نہیں تو کچھ تو مدد کر دے چلو برتن ہی دھو دے پر وہ تو اپنی ضد میں رہی......................................نہیں یار آج تو میں تم سے نہیں مل سکتی اسکول جانا ہے مما چھٹی نہیں کرنے دے رہی زرتاشہ نبیل سے کال پے بات کر رہیتھییار مجھے نہیں پتا کچھ بھی کرو مجھے بس آ کر ملو نبیل بھی ضد لگا کر بیٹھ گیا تھااچھا کیسے ملوں اگر مما چھٹی نا کرنے دے گی تو کیسے کروںچھٹی زرتاشہ اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیمجھے نہیں پتا اگر تم مجھے ملنے نہیں آئ آج تو سمجھو میرا اور تمھرا سب رشتہ ختم نبیل نے اسے دھمکی دے دی تھی اور اب زرتاشہ کو ہر حال میں کوئی نا کوئی بہانہ بنا کر اس سے ملنے جانا تھازرتاشہ کیا کر رہی ہو ابھی تک ادھر چلو نکلو اب اسکول کے لیے ہانیہ بیگم اسے کمرے میں بلانے آ گئی تھی جب وہ خود آفس کے لیے نکل رہی تھی ابھی تک زرتاشہ کو روم میں بغیر یونی فارم کے دیکھا تو بولنے لگیمما آج میری طبیت نہیں ٹھیک پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے زرتاشہ نے جان بوجھ کر بہانہ بناتے ہوئے پیٹ پے ہاتھ رکھ لیا تھااہ ایک دم سے کیا ہو گیا ہے تمہیں ہانیہ بیگم اس کے پاس آ گئیتھی اسے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھا دیا تھامما پتا نہیں کیا ہو گیا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا زرتاشہ معصوم بنے کہہ رہی تھیاچھا تم آرام کر لو ہانیہ بیگم نے تو گویا اس کے دل کی بات کر دی تھیجی مما میں آج چھٹی کر لیتی ہوں زرتاشہ نے فورن سے کہاہاں ٹھیک ہے میں پھر جا رہی ہوں آفس پہلے بہت دیر ہو گئی ہے تم ملازمہ سے کہہ کر میڈیسن منگوالینا اور آرام کرنا ہانیہ بیگم اسے نصیحت کرتی نکل گئی تھیاب مسلہ ملازمہ کا رہ گیا تھا اس نے بھی ابھی آنا تھااللّه کرے آج تو ملازمہ چھٹی کر لے زرتاشہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی پر ہر دعا بھی پوری نہیں ہوتی ملازمہ پہنچ چکی تھی اور اپنی روٹین کا کام کرنے لگی تھیآج کپڑے نہیں دھوو تم صبح اکھٹے دھو لینا زرتاشہ اسے کہہرہی تھی جب وہ جھاڑو پوچا اور برتن دھو چکی تھی تو کپڑے اٹھا رہی تھی جب اسے حکم مل گیا کے صبح دھو لینا ملازمہ چپ کر کے سائیڈ پر ہو گئی اور پھر کچھ دیر میں ہی گھر سے نکل گئی کیوں کے اسے دوسروں گھروں کے کام بھی کرنے تھےزرتاشہ اب بلکل آزاد تھی نبیل کو وہ کال کر چکی تھی وہ گاڑی لے کر آ چکا تھا ٹھوڑی دور کھڑا ہو چکا تھا وہ زرتاشہ نے اپنا عبایا لے لیا تھا اور گھر سے نکل کر اس کی گاڑی تک پہنچ چکی تھی اب سارا دن اسے نبیل کے ساتھ انجوائے کرنا تھا وہ خو شی خو شی نبیل کے گلے لگ گئی تھی اور نبیل بھی بہت خوش تھا کے وہ اب اس سے ملنے آ گئی تھیزرتاشہ سلیم اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی جس کو سلیم اور ہانیہ نے اپنے لاڈ پیار سے بگاڑ دیا تھا اس کی ہر خوائش پوری کی دونوں نے لیکن اسے پھر بھی اپنے ماں باپ کی قدر نہیں تھی اورجب بھی موقع ملتا اپنے ماں باپ کی عزت کو تار تار کر دیتی اور بہانہ بنا کر چھٹی کار لیتی اور پھر نکل جاتی اپنے عاشقوں کے ساتھ کیوں کے ہانیہ بیگم تو آفس چلی جاتی تھی اور سلیم صاحب بھی اپنے چھوٹے سے کارو بار کو سیٹ کرنے کی کوشش کی بھاگ دوڑ میں زیادہ تر گھرسے باہر ہی رهتے تھے اس بات سے انجان کے جس کی خاطر کما رہے ہیں وہ ان کی عزت کی دھجیاں اڑا تی پھر رہی ہےزرتاشہ جسے پیار سے سلیم صاحب تاشہ کہہ کر پکارتے تھےشکل و صورت میں بہت پیاری تھی کوئی بھی ایک آنکھ دیکھ لیتا تو نظر نہیں ہتا پاتا اور وہ لوگوں کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر انھیں اپنا دیوانہ بنا لیتی تھی اور پھر انکے پیسوں پر عیش کرتی تھی اس کا بس ایک ہی خواب تھا کے کوئی بہت امیر لڑکا اس کے جال میں پھنس جائے اور وہ اس سے شادی کر کے اس مڈل کلاس ماحول سے کہی دور بھاگجائے اسی لیے وہ صرف امیر لڑکوں کو ہی گھاس ڈالتی تھی جن کے پاس گاڑی اور بنک بیلنس کافی ہو اور پھر ایک وقت میں ایک ہی سے بات نہیں کرتی تھی پتا نہیں کتنے اس کے آس پاس پھرتے تھے ہر لڑکا اس کو کوئی نا کوئی گفت لے کر دیتا تھا اور وہ ہانیہ بیگم سے کہہ دیتی کے میری فرنڈ دیتی ہے مجھے وہ بہت امیر ہے ہانیہ بیگم بیٹی کی محبت کے سامنے چپ کر جاتی تھی ورنہ اتنی نادان تو وہ بھی نہیں تھی............................................ارے اٹھ بھی جا اب ماہ گل دن کتنا چڑھ گیا ہے اٹھ میں کچن میں جا رہی ہوں جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آ جا تمھارے ابو آنے والےہیں ناشتہ کرنے انھیں آ کر ناشتہ کروانا حسنہ بیگم ماہ گل کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی جس کا 9 بجے بھی اٹھنےکا کوئی موڈ نہیں بن رہا تھاامی بس دو منٹ اور ماہ گل نے کہہ کر کروٹ بدل لیدو منٹ سے کیا ہو جائے گا مجھے یہ بتاؤ تم ایک تو میں اس لڑکی کی بہت زیادہ سونے کی عادت سے پرشان ہوں حسنہ بیگم اونچا اونچا بولتی ادھر سے کچن کی طرف چلی گئی اور ماہگل کی نیند اب اڑ چکی تھی ویسے بھی ابو آنے والے تھے اور ابو آ کر اس کی اچھی خاصی خاطر مدارت کر دیں گے یہی سوچ کے وہ آنکھیں ملتی اٹھ کھڑی ہوئی ویسے تو وہ پانچ وقت کی نماز کی عادی تھی اور صبح نماز پڑھنے کے بعد کالج چلی جاتی تھی اس لیے زیادہ نہیں سو پاتی تھی لیکن آج کل چھٹیاں تھی تو وہ سونے کے شوق کو خوب دل لگی سے پورا کر رہی تھی لیکن ظفر صاحب کے واک سے واپسی سے پہلے ہی اٹھ جاتی تھی کیوں کے ظفر صاحب بہت ہی سخت طبیت کے باپ ثابت ہوئے تھے ان کا کہنا تھا کے اولاد کو کھلاؤ سونا جیسا اور دیکھو شیر کی نظر سے اس لیےماہ گل کو جتنا لاڈ انہوں نے دیا تھا اس کے ساتھ ساتھ اس کیتربیت بھی بہت سخت کی تھی نا صرف اسے نماز روزے کاپابند بنایا بلکے گھر کے سارے کام بھی اسے آتے تھے اسکول کے زمانے میں ایک لڑکے سے اسے تھوڑی بہت دلچسپی تھی تو اس سے فون پر رابطہ کرنے لگی کچھ دنوں میں ہی ظفر صاحب نےاس کی چوری پکڑ لی اور اس کی خوب پھینٹی لگائی اس کے بعد ماہ گل کو عقل آ گئی تھی اور ویسے بھی وہ عمر کچی عمر تھی کچھ بھی غلطی ہو سکتی تھی لیکن بر وقت ظفر صاحب نے اسے سنمبھال لیا تھا اور پھر نظر تو سخت رکھتے تھے اس پر لیکن اسے پڑھانا بھی ضروری تھی ورنہ کل کو کوئی رشتہ بھی نہیں ملنا تھا اچھا اس لیے دل پے پتھر رکھ کر اسے اسکول کے بعد کالج میں بھی بھیج رہے تھے لیکن دل کو دھچکا ہر وقت لگا رہتاتھا کے کچھ غلط نا کر بیٹھے ماہ گللیکن ماہ گل کو بھی اب عقل آ چکی تھی کے اس کے باپ کی بہت عزت ہے اس معاشرے میں تو یہ عزت اب اس کے ہاتھ میں ہی ہے اس لیے اس نے دوبارہ ایسی غلطی کرنے سے توبہ کر لی تھی اور اپنی ساری توجہ اپنی تعلیم پر کر لی تھی یہی وجہ تھی کے وہ اپنے علاقے کی ٹوپر لڑکی مانی جاتی تھی اور ہر کوئی اس کو پہچانتا تھا کے یہ ماہ گل ہے ہمارے علاقے کیٹوپر وہ اسی پے خو ش تھی کے خدا نے اسے بہت عزت دی تھی لیکن کبھی کبھی پچھلی باتیں زندگی کو ضرور خراب کر دیتی ہوتی ہیں کچھ غلطیا ں ساری زندگی انسان کا پیچھانہیں چھوڑتی یہی حال ماہ گل کے ساتھ بھی تھا اس کے حاسد اسے اس
بات سے نیچے دیکھانے کی بہت کوشش کرتے رهتے تھے
Episose 2
خدا کی لاٹھی بے آواز ہے
از شگفتہ نواز
ماہ گل دلاور بابا کی پوتی کو ٹیوشن پڑھا دینا وہ میرے پاس آئے تھے ظفر صاحب ماہ گل سے کہہ رہے تھے آج دلاور بابانے ان کو روبینہ کو پڑھانے کی بات کی تھی تو اس لیے وہ اس سے کہہ رہے تھےٹھیک ہے ابو میں پڑھا دوں گی اسے ویسے بھی آج کل چھٹیاں ہیں انھیں کہہ دیجیے گا کے اسے بھیج دیں گے میرے پاس ماہ گل نے اپنے باپ کے حکم کو مانتے ہوئے کہا تھا ورنہ روبینہ اسے کوئی خاص اچھی نہیں لگتی تھی کیوں کے وہ ایک ہی گاوں میں رہتی تھی تو اس کو اس کے کرتوتوں کا بھی پتا تھاٹھیک ہے صبح سے وہ آ جائے کرے گی تمھارے پاس ظفر صاحب کہتے ہوے باہر نکل گے اور وہ اپنے کام میں بزی ہو گئیدوسرے دن روبینہ اپنی ادایئں دیکھاتی ٹپک پڑی تھیدو ادھر بک ماہ گل اس سے بک لے کر اسے پڑھانے لگی تھی لیکن اس کی توجہ تو سٹدی پے بلکل بھی نہیں تھی لیکن ماہ گل نے اسے پڑھا دیا تھا صبح یہ یاد کر کے آنا ہے تم نے ماہ گل نے اسے آرڈر دیتے ہوئے کہاٹھیک ہے باجی اب میں جاؤں روبینہ نے اکتائے ہوئے کہاہاں جاؤ صبح اسی ٹائم پر آ جانا ماہ گل نے اس سے کہا وہ جا چکی تھیدوسرے دن وہ اسی ٹائم ادھر موجود تھی کتنی دیر ہے ابھی تک تمہیں سبق نہیں یاد ہوا ماہ گل تیسری بار پوچھ چکی تھیبس باجی 2 منٹ اور روبینہ پھر سے بک پے نظریں ٹکا کر بیٹھ گئی کتنی دیر وہ ایسے ہی بہانے بناتی رہی پر سبق نہیں سنایا آخر تنگ آ کر ماہ گل نے اسے آگے لیسن دے دیامسلسل 4,5 روز سے یہ سب چل رہا تھا وہی ایک ہی رٹ تھی 2منٹ چار منٹ پر لیسن نہیں سناتی تھی ماہ گل بھی اس سے تنگ آ چکی تھیآج میں تمہاری امی کو بتاؤں گی کے تمہیں کچھ نہیں آتا ماہ گل نے غصے سے کہااچھابتا دو مجھے کوئی ڈر نہیں اس کا روبینہ نے بتتمیزی سے کہاتو کس کا ڈر ہے تمہیں ماہ گل نے تنگ آ کر پوچھامجھے تو کسی کا بھی ڈر نہیں تمہارا ڈر بھی نہیں ہے مجھے پتا ہے تمہارا علی کے ساتھ افیئر تھا روبینہ نے تو جیسے ماہ گل پر بم پھوڑا تھااپنی بکواس بند کرو کب تھا میرا افیئر اس کے ساتھ شرم نہیں آتی یہ جھوٹ بولتے ہوئے ماہ گل غصے اور غم سے چلا رہی تھیہاں ہاں اب زیادہ نہیں بنو تم روبینہ نے ایک شاطر نظر اس پے ڈالیدفع ہو جاؤ ادھر سے تم ماہ گل نے اسے جانے کا کہہ دیا تھاہاں جا رہی ہوں میں ،مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم سے پڑھنے کا خود کو آتا جاتا کچھ نہیں اور مجھے کیا پڑھاو گی روبینہ بیگ اٹھاتی جاتے جاتے کہنے لگیماہ گل تو بس اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی علی کے ساتھ ماہ گل کی ٹھوڑی بہت بات ہوتی تھی پر اس کے ساتھ اسکا کوئی افیئر نہیں تھا لیکن اس نے تو اس کے ساتھ ہی جوڑدیا اسےوہ پرشانی میں وہی بیٹھ گئی کے پتا نہیں اب یہ آگے کیا بکے گیتم اتنی جلدی کیوں آ گئی روبینہ کی ماں پوچھنے لگیبس اسے آتا جاتا کچھ ہے نہیں وہ مجھے کیا پڑھائے گی اور ویسے بھی علی کے ساتھ اس کا چکر تھا یہ بات مجھے پتا چل گئی تو اس لیے مجھے کہتی دفع ہو جاؤ مجھے بھی نہیں پڑھنا اب اس کے پاس روبینہ نے جھوٹ موٹ کی کہانی بنا کر سنا دی تھی اور اس کی ماں کو تو اپنی بیٹی کے سوا باقی سب کی بیٹاں غلط ہی لگتی تھی فورن سے کہنے لگی اچھا ہوا جو چھوڑ آئ اس جیسی لڑکی کی صحبت میں بیٹھنا بھی نہیں چائیےارے تمہیں کیا ہوا کیوں اسے منہ پھولا کر بیٹھی ہو زرتاشا نےآتے ہی ماہ گل سے پوچھایار وہ روبینہ نے کہا ہے کے میرا علی کے ساتھ افیئر تھا مجھےبس اس بات کی فکر لگی ہوئی ہے پتا نہیں اب وہ گھر جا کر کیا کہے گی ماہ گل نے اسے ساری بات بتائیاہ وہ روبینہ چھوڑ اسے وہ تو کچھ بھی بکواس کرتی رہتی ہے تو بھی تو کن کن کےمتھے لگتی رہتی ہے یہ دیکھو نبیل نے مجھے کیا گفت دیا ہے زرتاشا نے اسے اپنی واچ دیکھاتے ہوئے کہااچھی ہے واچ ماہ نےاس کو پکڑ کر دیکھتے ہوئے کہااچھا صرف اچھی ہے زرتاشا نے منہ پھولا کر کہانہیں نہیں بہت اچھی ہے ماہ گل نے مسکراتے ہوئے کہازرتاشا اور ماہ گل بچپن کی دوستیں تھی ان کے گھر کافی فاصلے پے تھے لیکن وہ آتی جاتی رہتی تھی ایک دوسرے کے پاس زرتاشا ہر بات ماہ گل سے شیر کرتی تھی اور ماہ گل بھی اس سے کچھ بھی نہیں چھپاتی تھیاچھا یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے کچھ اپنا خیال بھی رکھ لیا کرو زرتاشا نے اس پے نظر ڈالتے ہوئے کہا جو رف سے حلیہ میں بیٹھی ہوئی تھیاب گھر میں کیا خود کو سیٹ کروں کس نے دیکھنا ہے مجھے ماہ گل نے لا پرواہی سے کہا وہ ایسی ہی تھی بلکل لا پرواہ سی کبھی بھی اس نے اپنی ڈریسنگ پر توجہ نہیں دی تھی جو شمپو مل گیا استمال کر لیا جو صابن پڑا ہوا وہی لگا لیا بالوں میں کنگھی بھی ہر روز نہیں کرتی تھی جب کے اس کے برعکس زرتاشا خود کو بہت ہی سنوار کے رکھتی تھی اسے بھی بہت سے ٹپس دیتی رہتی تھی لیکن ماہ نے کبھی کوئی توجہ نہیں دی تھی وہ کہتی تھی جیسی ہوں ویسی ہی رہوں گی اور زرتاشا بھی پھر چپ کر جاتی تھیاچھا کھانا لے آؤں ماہ گل نے کی توجہ خود سے ہٹانے کی خاطر بات بدلیہاں لے آؤ کیا بنا ہے ویسے زرتاشا نے اگلا سوال کیابیگن ماہ گل نے جواب دیااہ شٹ مجھے تو بیگن پسند بھی نہیں پر تمھرے ساتھ یہ بھی کھا لوں گی زرتاشا نے مسکرا کر کہا وہ گھر میں تو چکن کے سوا کچھ بھی نہیں کھاتی تھی لیکن جب بھی ماہ گل کے گھر آتی جو بھی مل جاتا ماہ گل کی محبت میں کھا لیتی تھیکھانا کھانے کے بعد چائے پی کر زرتاشا چلی گئی تھی اور ماہ گل کی توجہ پھر روبینہ کی باتوں کی طرف چلی گئی تھی وہ اس کے ہی اسکول میں پڑھتی تھی اور علی سے بات کرتے ہوئے کبھی اس نے دیکھ لیا ہو گا اس لیے اس پے یہ الزام لگا رہی تھی ماہ گل سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی کے اب کیا ہو گا پر ہونا تو وہی ہوتا ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے .........................................مما جلدی لے آیئں ناشتہ مجھے یونی سے دیر ہو رہی ہے اسامہ ٹیبل پے ہاتھ رکھے اپنی مما سے مخاطب تھا آ گیا بس ناشتہخدیجہ بیگم نے اس کے سامنےروٹی اور آملیٹ رکھتے ہوئے کہاتھنکس مما اسامہ کہہ کر ناشتہ کرنے لگا اور ساتھ میں ادھر ادھر کی باتیں بھی کرنے لگا مما پاپا کب تک واپس آیئں گے اسامہ دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا جب اسے کوئی بات یاد آگئی تھی تو ادھر ہی سے پلٹ کر پوچھنے لگاآ جایئں گے ایک دو دن میں خدیجہ نے مسکرا کر جواب دیا لیکن یہ نہیں پوچھا کے اسے اتنی جلدی کیوں ہے کیوں کے وہ جانتی تھی کے کوئی سیکرٹ ہی ہو گا باپ بیٹے کا جو اسے نہیں بتائے گا وہہممم کہتا اسامہ یونی کے لیے نکل گیا تھااسامہ میر ،میر خان کا بیٹا تھا جو کے خود بہت بڑے بزنس میںتھے لیکن اسامہ کو پڑھانے کا بہت شوق تھا اس لیے وہیونی میں لیکچرار تھا اسے آج تک کبھی کوئی لڑکی پسند نہیں آئ تھی کیوں کے اس کے آس پاس لڑکوں منڈلاتی رہتی تھی تو اسے ان میں کوئی خاص بات نہیں نظر آتی تھی لیکن عزت وہ سب کی کرتا تھا لیکن محبت کے لیے اسے کسی خاص کا انتظار تھا اس کا جس کا چہرہ وہ اچانک سے دیکھ چکا تھا پھر پتا نہیں وہ چہرہ کدھر غائب ہو گیا لیکن اس کے دل میں اب بھی اس کی تصویر تھی.......................................کالج کھل گیا تھا ماہ گل نے کالج جانا شروع کر دیا تھا ویسے تو روبینہ اور ماہ گل ایک ہی سٹی میں پڑھتی تھی لیکن کالج اور اسکول کافی فاصلے پر تھا لیکن کبھی کبھی آتے جاتے وہ آپس میں ٹکر ا جاتی آج بھی یہی ہوا تھا ارمان جو مسلسل ماہ گل کا پیچھا کرتا تھا آج واپسی پر جاتے ہوئے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور ٹھیک اسی لمحے روبینہ اور اسکا بھائی وہی سے گزرے تھے روبینہ نے سب کچھ دیکھ لیا تھا ماہ گل کی نظر بھی اس پر پڑ گئی تھی لیکن اس سے پہلے کے وہ ارمان سے اپنا ہاتھ چھڑاتی روبینہ آگے نکل گئی تھی اور اب اس کے گندے ذہن میں گندی ترکیب تیار ہو گئی تھیماہ گل نے ارمان کو دھکا دے دیا تھا اور وہاں سے آگے نکل گئی تھی ارمان نیچے گرگیا تھا دوسرے دن پرنسپل سے شکایت لگوا کر ارمان کو کالج سے نکلوا دیا تھا اس نے لیکنروبینہ نے جو دیکھ لیا تھا اس کی بدنامی کے لیے یہی کافی تھا اب وہ پھر ایک دفعہ سر پکڑ کر بیٹھی تھی
Episode 3
خدا کی لاٹھی بے آواز ہےاز شگفتہ نواز
روبینہ نے گھر آتے ہی کافی مرچ مصالحہ لگا کر سب کو بتایا تھا کے ماہ گل کا ارمان کے ساتھ چکر ہے اب سب کے لیے ماہگل کا کردار مشکوک ہو گیا پر ہر کسی نے تو یقین نہیں کیا جسنے کرنا تھا کر لیا پر ماہ گل سے کسی نے کچھ نہیں کہا البتہ وہ سن چکی تھی کے روبینہ نے آ کر یہ کچھڑی پکائی ہے ایک دفعہ تو دل کیا کے جا کر اس کے گریبان سے پکڑ لے پر پھر صبر کا گھونٹ پی گئی کے اس کا اتنا ہی ظرف ہے اور ویسے بھی اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہے اگر جا کر اس کو کچھ کہوں گی تو ماں بیٹی مجھے ہی شروع ہو جایئں گی اور پھر مزید بدنام کریں گی اس ڈر سے چپ کر گئی اور اپنا فیصلہ خدا پے چھوڑ دیا...............................کس سوچ میں گم بیٹھے ہو اسامہ فرحان اس سے پوچھ رہا تھاسوچ رہا ہوں کے وہ چہرہ کدھر ہے ایک دفعہ میرے سامنے آ جائے بس اسامہ نے جوش سے کہاہاں ایک دفعہ سامنے آ بھی جائے تو کیا ہو جائے گا فرحان نےاس کا مذاق اڑانے کے انداز میں کہا جو مسلسل 6 منتھ سے اسامہ کی یہی حالت دیکھ رہا تھا کے ایک چہرہ وہ ایک چہرہ جانے کدھر گیاتو یار اسے تیری بھابی بناؤں گا اسامہ نے مسکرا کر کہااچھا بھلے وہ کسی اور کی بھابھی بن چکی ہو فرحان نےاس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہنے لگایار ایسا تو نہیں کہہ اسامہ نے اپنے دل پے ہاتھ رکھتے ہوئے کہاہاہاہا یار نہیں رکھ ادھر ہاتھ کچھ نہیں ہوتا وہ میری بھابھی ہی بنے گیامین اسامہ نے سچے دل سے کہا تھا اور اسی لمحے اس کے امین پر قبولیت کی مہر لگ چکی تھی........................................یہ آپ کو گھر سے کچھ نہیں ملتا جو ہر وقت ادھر کھانے کے ٹائم پر پہنچ جاتے ہیں ماہ گل نے اسفند یار کو حسنہ بیگم سےپیار لیتے دیکھا تو پوچھنے لگیحسنہ بیگم نے اسے گھوری سے دیکھا ماہ گل ایسے نہیں کہتےکچھ نہیں ہوتا پپھو کہنے دیں اسے حق ہے اس کا اسفند یار نے مسکراتے ہوئے کہااور محترمہ ماہ گل میں ہر روز کھانے کے ٹائم پر نہیں بس آج آیا ہوا جب مجھے ان چلتی ہواؤں نے جا کر پیغام دیا کے آج ماہ گلپکوڑے بنا رہی ہیں تو پہنچ جاؤ اسفند یار نے شوخی سے کہا جو اس کے ہاتھ میں پکوڑے دیکھ چکا تھا پکڑ کر کھانے لگااور ماہ گل اسے خاموشی سے دیکھتی رہی حسنہ بیگم بھی باہر چلی گئیایسے کیا دیکھ رہی ہو نظر لگانے کا ارادہ ہے کی اسفند یار نے آنکھ مارتے ہوئے کہانہیں لگتی نظر تمہیں ماہ گل نے مسکرا کر کہاہیں کیوں نہیں لگتی جب کوئی ایسے پیار سے دیکھے گی تو نظر تو لگنی ہی ہے اسفند اب اس کے قریب آ چکا تھا اور کان میں سرگوشی کرنے لگا ماہ گل شرما سی گئی تھی پھر تھوڑا پیچھے ہٹ گئیاچھا جی اتنے دنوں بعد کیوں آئے ہو ماہ گل اب گلہ کرنے لگی تھیاس لیے کے تم میری روٹیوں پے جو نظر رکھتی ہو تو میں نے سوچا اب نہیں جاؤں گا اس لیے نہیں آیا اسفند نے معصوم بنتے ہوئے کہااچھا اچھا سیریس بتاؤ کے اتنے دن کیوں نہیں آئے ماہ گل نے اسے آنکھیں دیکھائییار بزی تھا اور کوئی وجہ نہیں تھی اسفند نے سچ بتایا تھااچھا ماہ گل اتنا ہی کہہ سکی اسفند بھی جی کہتا ہوا باہر نکل گیا کیوں کے حسنہ بیگم اسے بلانے آ گئی تھی کچھ دیر بعد ہی اسفند چلا گیا تھااسفند یار ماہ گل کے مامو ں کا بیٹا تھا کتنی بار اس نے اشاروںاشاروں میں ہی اسے جتلایا کے وہ اس میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن زبان سے کبھی نہیں کہا ماہ گل کو بھی اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تھی اور ویسے بھی اس کے ابو بھی تو یہی چاہتے تھے کے کسی اچھے پڑھے لکھے لڑکے سے اس کی شادی ہو جائے تو اسفند یار میں بھی کوئی برائی نہیں تھی وہ انجنیئر بن رہا تھا اس کے ساتھ مستقبلکے خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا اس لیے ماہ گل بھی چوری چپکے اس کے خواب دیکھنے لگی تھی....................................................واہ آج تو بہت خوش نظر آ رہی ہو زرتاشا آن پہنچی تھی اور ماہگل کے چہرے کی مسکراہٹ اسے کوئی اور سگنل ہی دے رہی تھیہاں اسفند یار آیا تھا آج ماہ گل اسے خوشی سے بتا رہی تھیاہ واہ کیا کہتا تھا تم نے کیا کہا جلدی بتاؤ ساری بات مجھے زرتاشا بے چین ہو رہی تھی سب کچھ سننے کے لیےکچھ خاص نہیں کہا اس نے لیکن اس کی آنکھیں بہت بول رہی تھی ہمیشہ کی طرح ماہ گل نے کھوئے جانے کے انداز میں کہااہ ہو ایک تو تم بھی نا ماہ گل ساری زندگی بس اس کی آنکھوں میں ہی خود کو ڈھوندتے رہنا زرتاشا نے تنگ آ کر کہااچھا تو کیا کروں میں ماہ گل اس کی طرف متوجہ ہو کر پوچھنے لگییار پوچھو اس سے کے کیا چاہتا ہے زرتاشا نے اسے مشورہ دیا تھااچھا پوچھ لوں گی تم سناؤ نبیل صاحب کیسے ہیں ماہ نے مسکرا کر پوچھا تھادفع ہو گیا وہ زرتاشا نے لا پرواہی سے کہاارے کدھر دفع ہو گیا ماہ گل حیرانی سے اسے دیکھنے لگییار چھوڑ دیا میں نے اسے اس سے بھی زیادہ امیر ہے حمزہ اور خیال بھی بہت رکھتا ہے میرا زرتاشا اسے پوری تفصیل بتا رہی تھییار تو کسی ایک پر نہیں ٹک سکتی جب بھی آتی ہو تمھرا بوائے فرنڈ بدلا ہوا ہوتا ہے ماہ گل نے اسے غصے سے دیکھتےہوئے پوچھا تھایار یہ بہت ہی اچھا ہے اور اب میں اس کو نہیں چھوڑنے والی اور تم ختم کرو اس لیکچر کو زرتاشا نے اس کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے اسے بہلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہااچھا اچھا ہر بار یہی کہتی ہو ماہ گل اسے آنکھیں دیکھا رہی تھیاچھا نا اب بس کرو زرتاشا اسے بہلا پھسلا رہی تھیآخر دو منٹ بعد ہی ماہ گل کا موڈ صیح ہو گیا تھا......................................................میں تمہیں کب سے کال کر رہی تھی تم اٹینڈ کیوں نہیں کر رہے تھے میری جان روبینہ پیار بھری آواز میں روحان سے پوچھ رہی تھیبس بزی تھا جان من ورنہ میری اتنی مجال کے تم سے بات نا کروں روحان اپنی چکنی چپڑی باتوں سے بہلا رہا تھابس جان میں تو پرشان ہی ہو گئی تھی کے تم کدھر گے تمہیں تو پتا ہے کے I love u میں تمھارے بنا نہیں رہ سکتی روبینہ جذباتی ہو رہی تھینہیں نہیں تم پرشان نہیں ہوا کرو میری جان میں تمہیں چھوڑ کر کہی نہیں جاؤں گااچھا چلو آج کی خبر سن لو وہ ہے نا تمہاری کزن ماہ گل ایک لڑکے کے ساتھ سر بازار گلچھڑے اڑا رہی تھی روبینہ اپنی طرف سے بہت پتے کی بات بتا رہی تھی اور کچھ اس پے اسے شک بھی تھا کے وہ اپنی کزن میں انٹرسٹ رکھتا ہے کیوں کے اکثر اس کی تعریفیں کرتا رہتا تھا روحان کے تن بدن میں آگ لگ چکی تھی وہ ماہ گل کو بہت اچھے سے جانتا تھا وہ ایسی نہیں تھیروبینہ تم اپنی یہ فضول باتیں اپنے پاس رکھو اور پلز میری کزنکا پیچھا چھوڑ دو روحان نے غصے سے کال کاٹ دی تھی اور روبینہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی اور اب ایک نیا الزام اسے ماہ گل پر لگانےکو مل گیا تھا
pisode 4خدا کی لاٹھی بے آواز ہےاز شگفتہ نوازارے اس ماہ گل چول کو تو بندہ قتل ہی کر دے منحوس ماری روبینہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی دوبارہ کال ملانے لگی کتنی دیر وہ کال ملاتی رہی پر روحان نے تنگ آ کر اپنا سیل اوف کر دیااس ماہ گل کو تو میں ایسا سبق سکھاؤں گی کے ساری زندگی یاد رکھے گی روبینہ نے پکا فیصلہ کر لیا تھا دوسرے دن ہر کسی کی زبان پر روحان اور ماہ گل کے افیئر کا چرچا تھایہ کیا ہے روحان ماہ گل اس کے پاس آئ کھڑی تھیکیا ہوا اتنے غصے میں کیوں ہو روحان ناشتہ چھوڑ کر اسے دیکھنے لگاتم نے روبینہ سے کیا کہا ہے کے تم مجھ سے محبت کرتے ہو اور تمھارا اور میرا افیئر ہے ماہ گل غصے سے پوچھ رہی تھی کیوں کے اسے روحان سے یہ امید نہیں تھی وہ ہمیشہ اسے چھوٹا بھائی سمجھتی تھی اسی وجہ سے وہ اپنا ہر چھوٹا موٹا کام اس سے کرواتی تھی کے بازار سے کچھ منگوانا ہو یا پھر کبھی اسے کیمرے کی ضرورت ہو یا پیکس ڈولپ کروانی ہوں یا کوئی بھی مسلہ ہو تو وہ اس سے شیر کرتی تھی لیکن اس سے محبت یا ایسی ویسی بات کے بارے میں تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا اور روحان بھی اسکی بہت عزت کرتا تھا اس کے ایک آرڈر پے اسے سب کچھ لا دیتا تھا چاہے کتنا مصروف ہو وہ بس ماہ گل کے ایک پیغام پر چلا آتا تھا تھایہ کیا کہہ رہی ہو تم ، میں تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا وہ جھوٹ بولتی ہے روحان کو تو اب ناشتہ کرنا ہی بھول گیا تھاتو پھر وہ اب تمہیں میرے ساتھ کیوں جوڑ رہی ہے کوئی نا کوئی بات تو ہو گی ایسی ماہ گل نے لہجہ کچھ نارمل رکھاہاں ہے بات کے میں نے اسے سے تمھارے خلاف بکواس کرنے سے روک دیا ہے تو بس اس کو تو پہلے ہی کچھ نا کچھ بہانہ چائیے ہوتا ہے کسی پر بھی الزام لگانے کا روحان نے تپ کر کہااچھا تو جب تمہیں پتا ہے کے وہ کیسی ہے تو پھر بھی تم اس سے کنٹیکٹ میں ہو ماہ گل نے اسے گھوراہاں تو میں کون سا اس کے لیے سیریس ہوں بس ٹائم پاس کر رہا ہوں روحان نے لا پرواہی سے کہااچھا چھوڑ دو اسے تم ماہ گل نے آرڈر دیا تھا اور روحان کے لیے یہ لوہے لکیر ہو چکا تھا اب اسے ہر حال میں روبینہ سے کوئی بھی واسطہ نہیں رکھنا تھا ویسے بھی اس نے ہر حد کراس کر دی تھی ماہ گل اور اس پے الزام لگا کےہاں ٹھیک ہے چھوڑ دوں گا روحان نے فورن سے حامی بھر لی تھیہاں اور وہ میری پارٹی آنے والی ہے کالج میں اور اس بار مجھے ڈیجیٹل کیمرے چائیے وہ عام سا نہیں چائیے انتظام کرو ماہ گل نےایک اور آرڈر دیا تھاجی یہ بھی ہو جائے گا کوئی اور حکم روحان نے مسکرا کر سرجھکاتے ہوئے کہااور کچھ نہیں بس چلتی ہوں میں ماہ گل لا پرواہی سے کہتی ہوئی چلی گئی تھی اور روحان اس کو پیچھے سے جاتے کتنیدیر دیکھتا رہاروحان ماہ گل کی خالہ کا بیٹا تھا اور دونوں ایک ہی گاوں میں رهتے تھے................................................مس ہانیہ آج زرتاشا کدھر ہے ربیہ آفس کی میٹنگ کے دوران بریک ٹائم میں سب کے سامنے پوچھ رہی تھیوہ گھر پر ہے آج اس کی طبیت خراب تھی ہانیہ بیگم نے بتایاتھااچھا لیکن میں نے تو اسے گاڑی سے کسی کے ساتھ اترتے ہوئے دیکھا ہے ربیہ نے تو جیسے بم پھوڑا تھاکیا نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ،وہ تو گھر میں ہے آپ نے کسیاور کو دیکھا ہو گا ہانیہ بیگم نے جھجکتے ہوے کہانہیں جی مجھے بلکل غلط فہمی نہیں ہوئی پہلے وہ نقاب میں تھی لیکن ہوٹل میں آتے ہی اس نے نقاب اتار دیا تھا اور وہی زرتاشا تھی ربیہ ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی اور ہانیہ بیگم شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی سب کی نظریں انکی طرف اٹھ رہی تھی ان کے لیے مزید بیٹھنا وہاں محال ہو گیا تھا وہ ادھوری میٹنگ چھوڑ کر گھر چلی گئی تھی اور زرتاشا گھر میں نہیں تھی مطلب ربیہ کی بات کی تصدیق ہو چکی تھی سر پکڑ کے بیٹھ گئی شام کے ٹائم زرتاشا واپس آگئی تھیکہاں تھی تم ہانیہ بیگم نے اسے آتے ہی بالوں سے پکڑ لیا تھا اور مارنا شروع کر دیا تھامما وہ میں اپنی فرنیڈ کے پاس گئی تھی زرتاشا خود کا بچا و کرنے کے لیے جھوٹ بول رہی تھی لیکن ہانیہ نے اس کی ایک نہیں سنی اور اسے زبردست قسم کی مار دیتمہاری وجہ سے میں سب کے سامنے ذلیل ہو گئی وہ ربیہ اس نے اتنا بھی خیال نا کیا کے تم اس کی بھتیجی کی دوست ہو اور ہم ایک ہی محلے میں رهتے ہیں تو کچھ لحاظ کر لیتی اور مجھے علیحدہ سے بتا دیتی تو کم از کم میں ایسے سب کے سامنے تو شرمندہ نا ہوتی ہانیہ بیگم روتے ہوئے کہنے لگی تھی اور زرتاشا کے دل میں ماہ گل کے لیے نفرت کا بیچ اگ گیا تھا اب ربیہ آنٹی کو بھی سزا بھگتنی پڑے گی ان کا بیٹا بھی بدنام ہو گا اور ساتھ میں ان کی بھتیجی بھی زرتاشا نے پکا ارادہ کر کے اپنی آنکھوں سے آنسو پونجھ لیے تھے...........................................پلز مجھے معاف کر دو پلز میری کال اٹینڈ کرو روبینہ مسلسل روحان کو مسجس کر رہی تھی پر اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا روبینہ تو حسد کی آگ میں جل رہی تھی پورے علاقے میں ماہ گل کو کتنوں کے ساتھ جوڑ کر وہ بدنام کر چکی تھی لیکن پھر بھی اسے تسلی نہیں مل رہی تھی ابھی پلاننگ بنا رہی تھی کے کیا کروں جب ادھر سے گزرتے اسفند یار پر اس کی نظر پڑ گئی تھی اور اسے اس کا نیا شکار مل گیا تھا اس نے چہرے پے شاطر ہنسی سجائی اور ماہ گل کے گھر کی طرف چل پڑی تھیاسفند یار جب ماہ گل کے گھر پہنچا تو کوئی بھی نہیں تھا سب کہی گے ہوئے تھے بس ماہ گل بالوں کو کھولے کنگھی کر رہی تھی وہ اسے وہی کھڑا ہو کر دیکھنے لگا تھا ماہ گل اپنی مستی میں بیٹھی تھی اسے تو کسی بات کی بھی پرواہ نہیں تھا روبینہ بھی چپکے سے ایک کمرے میں چھپ گئی تھیماہ گل بال باندھنے لگی تو اس کی نظر اسفند یار پر پڑ گئیتم ،تم کب آئے ماہ گل نے جلدی سے دوپٹہ سر پر لے لیا تھابس ابھی آیا اسفند یار نے اسے شرمندگی سے بچانے کی خاطر کہااچھا گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے امی اور ابو ہمارے ملازمکی بیٹی کی شادی پر گے ہیں ماہ گل جلدی سے بات ختم کر رہی تھیتو پھر کیا ہو گیا وہ نہیں ہیں تو تم تو ہو نا گھر میں اسفند یار نے قدم اس کی طرف بڑھا دیے تھےہاں تو مجھ سے کیا کام ہے تمہیں ماہ گل نے نظریں اِ دھر اُ دھر کرتے ہوئے پوچھاکام تو کوئی نہیں بس ویسے ہی اسفند یار نے قدم روک دیے تھےاچھا مجھے تم سے ایک بات پوچھنی تھی ماہ گل زرتاشا کے دیے ہوئے مشورے پر عمل کرنے کے لیے سوچ رہی تھی یہی اچھا موقع تھاہاں جی پوچھو اسفند یار آگے بڑھ کر چار پائی پر بیٹھ گیا تھاتم مجھے ایسی نظروں سے کیوں دیکھتے ہو ماہ گل نے فل اعتماد سے پوچھا تھاکیسی نظروں سے اسفند یار نے سوال کیایہی ہے جو ایسے دیکھتے ہو جیسے میں تمہاری محبوبہ ہوں ماہ گل نے ڈھٹائی سے کہا تھاہاہاہاہا مجھے لگتا ہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے میں تو ویسے ہی دیکھتا ہوں تمہیں آخر کو کزن جو ہو میری تم اسفند یار نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہااچھا ٹھیک ہے پھر آئندہ اپنی نظروں کو کنٹرول میں رکھنا ماہ گل کو اس کا جواب سن کر غصہ آ گیا تھاکیوں کروں کنٹرول اسفند یار نے کھڑے ہو کر اس کے قریب ہو کر اسے پیشانی پر بوسہ دے دیا تھا ماہ گل ہکی بکی رہ گئی تھییہ کیا تھا ماہ گل نے اسے آنکھیں دیکھائییہ وہی تھا جو تم نے محسوس کیا اسفند یار نے اسے پیار سے اپنی آنکھوں میں سموتے ہوئے کہاتم مجھ سے پیار کرتے ہو ماہ گل نے سوال کیااسفند یار چپ رہامیں نے کچھ پوچھا ہے تم سے ماه گل نے سوال دوہرایامیں چلتا ہوں مجھے گھر میں کچھ کام ہے اسفند یار اس کی بات کو اگنور کرتا نکل گیا ماہ گل اسے آواز دیتی رہی لیکن اس نے ایک نہیں سنیروبینہ سب سن چکی تھی اور اب ماہ گل کی خیر نہیں تھیروبینہ نے گھر جا کر سب سے پہلے اپنی امی کو بتایا پھر ساری گرلز کو اکھٹا کر کے انھیں بتایا اور پھر اسی طرح سارے محلے کو بتا دیا تھاظفر صاحب تک بھی بات پہنچ چکی تھی انہوں نے ماہ گل کو مار مار کر ادھ مووا کر دیا تھا ابو میرا کوئی قصور نہیں ہے وہ کہتی رہی پر ظفر صاحب کے ہاتھ رکنے والے نہیں تھی حسنہ بیگم بھی آگے بڑھ کر روکنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ظفر صاحب نے ان کی بھی کوئی بات نہیں سنی کل سے تمھارا کالج جانا بند ظفر صاحب نے ایک نیا فرمان جاری کر دیا تھا ماہ گل روتی بلکتی رہی پھر 3 دنوں بعد پرنسپل کی کال آ گئی تو ظفر صاحب کو مجبورن اسے بھیجنا پڑا لیکنوہ اس سے بات نہیں کر رہے تھے ماہ گل بلکل ٹوٹ چکی تھی اور روبینہ خوش تھی کے اب ماہ گل کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہی...............................،..............زرتاشا بھی یہ خبر سن کر آ گئی تھی ماہ گل اسے دوست سمجھ کر گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی اور ساری بات اسے بتائی مطلب اب تو کوئی کسر بھی نہیں رہ گئی تھی کے اب وہ بدنامی سے بچتیگھر جا کر زرتاشا نے ایک لمبی کہانی سنائی ماہ گل کے غلط کردار کی اور دوسرے دن سب کے سامنے ہانیہ بیگم نے ربیہ بیگمکو شرمندہ کرنے کی خاطر سب جھوٹ موٹ کہہ دیاربیہ شرمندہ تو ہوئی ہی لیکن اس کے دل سے ماہ گل بھی اتر گئی اب جو وہ اسے اپنی بہو بنانے کے بارے میں سوچ رہی تھی اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا تھا پہلے ہی اسفند یار نہیں مان رہا تھا کے اسے ماہ گل سے شادی نہیں کرنی کیوں کے وہاچھی لڑکی نہیں ہے جو وہ زرتاشا کی زبانی سن چکا تھا اور رہی سہی کسر روبینہ نے پوری کر دی تھی اب تو فیصلہ کرنےمیں بھی آسانی ہو گی ربیہ بیگم نے سوچ لیا تھا
Episode 5
خدا کی لاٹھی بے آواز ہے
از شگفتہ نواز
دن گزرتے جا رہے تھے روبینہ کا اسکول ختم ہونے کے بعد اب اس کا اڈمشن کالج میں ہو گیا تھا زرتاشا نے بھی آگے داخلہ لے لیا تھا ماہ گل بھی گریجویٹ ہو گئی تھی اب آگے پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں کوئی نہیں ہم نے تم سے نوکری کروانی ہے ظفر صاحب نے حکم دے دیا تھا کیوں کے اب ان کو اس پے اعتبار نہیں رہا تھا کچھ دن رؤ دھو کے ماہ گل بھی چپ کر گئی تھیپپھو کدھر ہیں اسفند یار آج آیا ہوا تھا ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہبھی تھاکمرے میں ہیں ماہ گل نے آہستہ سے جواب دے دیا تھا وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی آج کل وہ اسفند یار کو کوئی لفٹ نہیں کروا رہی تھی کیوں کے پہلے ہی بہت بڑا ایشو بن گیا تھا اور اسفند یار بھی اس کی بے رخی محسوس کر رہا تھا آج سوچ کے آیا تھا کے اس کو منا کے ہی جاؤں گااچھا تم کیسی ہو اسفند یار نے بات بڑھانی چاہیجیسی بھی ہوں تمہیں کیا اور پلز جاؤ امی سے مل لو میرے سرپے نہیں سوار ہو ماہ گل نے غصے سے کہا تھااچھا اتنا غصہ کس بات کا ہے تمہیں اسفند یار نے قدم آگے بڑھا دیا تھےمجھے تو غصہ نہیں ہے ماہ گل نے لا پرواہی سے کہااسفند یار نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو پکڑ لیا تھایہ کیا بتتمزی ہے چھوڑو میرے ہاتھ ماہ گل نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن اسفند یار نے اسے گلے سے لگا لیا تھا اور گرفت مضبوط کر لی تھی اپنیچھوڑو مجھے اسفند یار یہ کیا کر رہے ہو تم کوئی آ جائے گا ماہ گل نے ڈرتے ہوئے کہاکوئی نہیں آئے گا میں ہر جگہ سے دیکھ کر آیا ہوں اسفند یار نے مسکرا کر کہا تھاتو پھر بھی چھوڑو مجھے ماہ گل پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہی تھی آخر اس کے پاؤں پے اپنا پاوں زور سے مارا تو اسفند درد سے پیچھے ہٹ گیااہ اسفند پاوں پکڑ کر وہی بیٹھ گیااہ شٹ کہی زیادہ تو نہیں لگ گیا ماہ گل بھی اس کے ساتھ ہی نیچے بیٹھ گئی اسے اس کی فکر ہو رہی تھیتمہیں اس سے کیا جتنا بھی لگ گیا ہو اسفند نے منہ پھولا کر کہامجھے کیوں نہیں ہو گا بھلا ماہ گل نے لہجہ نارمل رکھااگر کچھ تمہیں ہوتا میرے لیے فیل تو اسے نا کرتی میرے ساتھ اسفند یار نے اسے ایموشنل کرنے کی کوشش کیہاں تو اگر کچھ فیل ہو تو پھر گلے سے لگا لینا چائیے کیا اگر مجھ سے محبت کرتے ہو تو میرا رشتہ بھیجو یہ کیا کبھی چوم لیا تو کبھی گلے سے لگا لیا مجھے یہ سب نہیں پسندماہ گل نے نارمل موڈ میں کہا تھااسفند یار چپ رہااب تمہاری بولتی بند ہو گئی ماہ گل طنزیہ ہنسی اسفند یار کھڑاہو گیامیں یہ مٹھائی لایا تھا پاس ہونے کی خوشی میں اسفند یار نےڈبہ آگے اس کی طرف کر دیا ماہ گل نے پکڑ لیا تھا اسفند یار باہر حسنہ بیگم کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھاماہ گل چائے کے ساتھ مٹھائی بھی لے آئ تھی کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اسفند یار چلا گیا تھا ماہ گل کواس کی کوئیسمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا چاہتا ہےزرتاشا آج اس سے ملنے آئی ہوئی تھی ماہ گل نے ساری بات اسے بتا دی تھی بیچاری اپنے انجام سے انجان کے زرتاشا تو اس کی سب سے بڑی دشمن ہے اسے یہ بھی بتا دیا کے اسفند یار نے اسے گلے سے لگا لیا تھا زرتاشا کچھ الٹے پلٹے مشورے دےکر چلی گئی اور ماہ گل اپنی دوست کی باتوں پے عمل کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی کے امی کے فون سے اسفند یار کو کال کرنی ہے......................................زرتاشا نے جا کر ایک ایک لڑکی کو بتایا کے ماہ گل اور اسفند یار کے درمیان کیا ہوا سب ماہ گل پے افسوس کر رہی تھی کے پہلے تو روبینہ کہتی تھی کے یہ بری ہے پر ہمیں اعتبار نہیں آتا تھا لیکن اب تم تو اس کی دوست ہو ظاہر ہے تم تو سچ ہی کہہ رہی ہو گی بات روبینہ تک بھی پہنچ گئی تھی اس نے بھی آگے تک بات پھیلا دی غرض کے شام تک پورے گاوں میں یہ بات پھیل چکی تھی صد شکر کے ظفر صاحب تک نہیں پہنچی تھیزرتاشا اب اپنی باتیں ماہ گل کو نہیں بتاتی تھی بس اس کی سنتی تھی اور پھر ایک بات کے سو جھوٹ بنا کر آگے بتا دیتی تھی ایک دو دفعہ ماہ گل تک یہ بات پہنچی کے وہ سب کو بتا دیتی ہے اس نے زرتاشا سے پوچھا تو زرتاشا مکر گئی اور اسے مکھن لگانے لگی کے یہ سب ہمارے دشمن ہیں ہمیں دور کرنا چاھتے ہیں تم تو میری جان ہو ماہ گل جو پہلے سے ہیعقل سے پیدل تھی زرتاشا کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گئی تھی..............................................جان میں اب تمھارے بنا نہیں رہ سکتی پلز مجھے ساتھ لے جاؤ دور یہاں سے زرتاشا حمزہ کے کندھے پر سر رکھ کر اپنے دکھڑے اسے بتا رہی تھیچلو تم تیاری کر لو دو دن میں میں تمہیں ادھر سے لے جاؤں گادور کہی اور تم سے نکاح بھی کر لوں گا حمزہ نے اسے تسلی دے دی تھی اور ٹھیک دو دن بعد زرتاشا اس کے ساتھ بھاگ گئی تھی اس کے ابو کو تو خبر ہی نہیں ہوئی تھی ہانیہ بیگم ہر گھر میں جا کر اپنی بیٹی کو پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی تھی لیکن کسی کو کوئی پتا نہیں تھاادھر 4 دن حمزہ نے خوب عیش کر کے زرتاشا کو فری کر دیا تھا کے میں تم سے نکاح نہیں کر سکتا اور اسے گھر کے دروازے پے چھوڑ گیا تھا ہانیہ بیگم نے اسے تھوڑا بہت مارا اور پھر اسے گلے سے لگا لیا بس پھر کسی نے پوچھا تو کہہ دیا کے دوست کے گھر گئی تھی بس سب چپ کر گے...................................................روبینہ کالج میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نا آئی اور ایک سر کےپیچھے لگ گئی اس نے اس سے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن روبینہ رونے بیٹھ جاتی آخر تنگ آ کر پرنسپل نے دلاور صاحب کو آفس میں بلا لیا تھا اور ان کو اس کی حرکتیں بتا دی اور ساتھ میں اسے کالج سے بھی نکال دیا تھادلاور صاحب نے ساری زندگی جو عزت کمائی تھی پل بھر میں سب ختم ہو گئی تھی سر جھکائے اسے ساتھ لے کر آ گے تھےگھر آ کر کہا بھی سہی کے بس اب اس کو نہیں پڑھاو پر وہ ثمینہ ہی کیا جو کسی کی بات مان جائے کہتی کچھ نہیں ہوتا بچیوں سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں میں تو اس کو ضرور پڑھاؤں گیبس ایک اور کالج میں جا کر اس کا داخلہ کروا دیا جب گھر سے کوئی کچھ کہنے والا نا ہو تو بچیوں نے بگڑنا ہی ہے پھر جتنے دن بھی رہی ادھر کوئی نا کوئی حرکت کرتی رہی پرکوئی کچھ کہنے والا نہیں تھا...................................................فرحان کی اپنی دوست سے شادی کرنے کا پروگرام بن گیا تھا اس لیے اب وہ اور اسامہ فرحان کے گھر جا کر ظفر صاحب کو منانا چاھتے تھے کیوں کے فرحان ان سے بہت ڈرتا تھا اور کوئی بھی ایسی بات کرنے کی ہمت اس میں نہیں تھی اس لیے اسامہ اس کی ہمت بن کر اس کے ساتھ آ رہا تھا فرحان نے گھر ماہ گل کو کال کر دی تھی کے اچھا سا کھانا بنانا میرا دوست آ رہا ہے.........................................رات کا ٹائم تھا روبینہ اپنے کسی بوائے فرنڈ سے خوش گپیوںمیں لگی ہوئی تھی باتوں باتوں میں اس کے جذبات ابھرنے لگے اور اسے ملنے کے لیے اکسانے لگی وہ بھی آ گیا دیوار پھلانگنے لگا جب دلاور صاحب تھوڑے سے شور سے اٹھ گے اور باہر نکل آئے ان کی نظر ایک سایہ پر پڑ چکی تھےکون ہے ادھر دلاور بابا آوازیں لگانے لگے وہ لڑکا پھر دیوار پھلانگ کر باہر بھاگ گیا لیکن اس بھاگنے کی آواز ارد گردکے 2 ,4 گھر سن چکے تھے اور پھر بابا دلاور کو بھی دیکھ چکے تھے کوئی نا کوئی گڑبڑ تھے سب کو پتا چل گیا تھا صبح تک پورے گاوں میں یہ بات پھیل چکی تھےلیکن روبینہ اور اس کی ماں کو کوئی پرواہ نہیں تھا لیکن دلاوربابا کا سر جھک چکا تھا
No comments:
Post a Comment