http://novelskhazana.blogspot.com/
قسط_09از فرحت نشاط مصطفےاذلان شاہ جا چکا تھا پیچھے رہ جانے والی ایلاف اس کے دھوپ چھاؤں جیسے روئیے پہ حیران ہوگئی تھی ابھی جو کچھ دیر قبل اتنا مہربان تھا ..اور اب اتنا ہی کٹھور ....کیا اسے میری آنکھوں میں موجود التجا ...آس نظر نہیں آئیاور یہ سوچتے ہوئے ایلاف بھول گئی کہ اذلان کو بھلے سے اس کی آنکھوں کی آس اور امید نظر نہ آئی ہولیکن اسے اس کے لہجے کی بے اعتباری اور وہ انا بھرے لہجے میں ہر بات سے انکار کرنا ....اس کی ہر بات پہ تکرار کرنااسے لازمی محسوس ہوگیا تھاوہ کیا کہا ہے نا شاعر نے ایلاف جیسے لوگوں کیلئےقرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیںجھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیںسو ایلاف نے اپنے ہاتھوں یہ موقع گنوایا تھااب سیاہ کالی رات تھیاورشور مچاتی برساتاورایلاف کا ڈر کے مارے نازک بل کھاتا وجودایسے میں اسے فیض کی نظم یاد آنے لگیمیرے قاتل میرے دلدار میرے پاس رہوجس گھڑی رات چلےآسمانوں کا لہو پی کے سیاہ رات چلےایلاف کو اپنے پورے بدن میں سنسناہٹ محسوس ہورہی تھی بارشوں سے اس کی کبھی نہیں بنی تھی اور اب وہ تنہا تھی تو یوں لگ رہا تھا کہ اس کے جسم کا سارا خون خشک ہورہا ہے ....پیشانی پہ پسینہ پھوٹ آیا تھابحر آسودگی مٹائے نہ مٹےجب کوئی بات بنائے نہ بنےجب نہ کوئی بات چلےجس گھڑی رات چلےجس گھڑی ماتمی سیاہ رات چلےمیرے قاتل میرے دلدار میرے پاس رہوایلاف بڑبڑاتی رہی یہ نظم مگر جس چراغ کو اپنے ہاتھوں سے بجھایا جائے وہ دوبارہ اتنی آسانی سے نہیں جلتا اور اذلان شاہ کو کونسی وحی آتی تھی اس کے متعلق یا ہر بار وہ اس کیلئے مثل معجزہ تو نہیں ہوسکتا تھا اور نہ وہ ایلاف کا واقف مزاج تھا سو یہ برستی سیاہ رات ایلاف کو ایک سبق دے کے گئی تھی کہ زندگی میں ہر معاملے میں دوسروں سے مدد نہیں ملتی بس ایک خدا کی ذات ہوتی ہے جو ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتیاوربھلے سے ہمارے پاس رونے کیلئے کوئی کندھا نہ ہو سجدہ کرنے کیلئے زمین ضرور ہوتی ہےسو ایلاف نے بھی خدا سے رجوع کر لیا تھا تین دن قبل جو بے حسی اس پہ مذہب کو لے کے طاری ہوئی تھی وہ اس بارش میں بنا بھیگے اتر گئی تھینیند کی دوائی کے زیر اثر ایلاف سو چکی تھی تجربہ کی رات ڈھل رہی تھیجو ایلاف کو ذندگی کا سبق دے چکی تھیجو اسے بہت کام آنے والا تھا______________________________رات کتنی ہی طویل کتنی ہی سیاہ کیوں نہ ہو ....سویرا ضرور ہوتا ہے اور اتنا ہی اجلا ہوتا ہے کہ اندھیرے پہ حاوی ہوجاتا ہےرات بھر کی بارش سے صبح نکھری نکھری سی تھی چمکیلی کرنیں آہستہ آہستہ پھیل رہیں تھیںایلاف فجر سے اٹھی ہوئی تھی ندامت کا احساس اس پہ پوری طرح حاوی تھا اس نے تین دن قضا ہونے والی ساری نمازیں ادا کی اللّه سے معافی بھی مانگی تھی وہ مہربان ذات جس سے اس نے بہت شکوے کئے تھے وہ یہ کیوں بھول گئی کہ اگر وہ چاہتا تو اسے حقیقتا ذلیل و رسوا کر ڈالتا نہ بھیجتا اذلان شاہ کو چڑھنے دیتا اسے پیر خرم شاہ کی ہوس کی بھینٹ ....کیا کرلیتی تب وہ????کہاں جاتی وہ اپنا لوٹا پھٹا وجود لے کے????مگر خدا ایسا تو نہیں ہے ناوہ تو بہت مہربان ہےکیا وہ اسے نہیں جانتا تھایقینا ...کیوں کہ خدا تو ہماری شہ رگ سے بھی ذیادہ قریب ہےاس نے ایلاف کی عزت بچائیاسے ایک نیک فطرت انسان کے نکاح میں دیا تھاایک ایماندار شخص کو اسکا کفیل بنایا تھاایلاف نے آج دیر سے صحیح مگر شکر ادا کیا تھا اپنی عزت کے بچ جانے کامگر اذلان شاہ کی طرف سے اس کا دل صاف ہی نہ ہوتا تھا اسکی کچلی ہوئی خودداری نے اس کی آنکھوں پہ وہ پٹی باندھی ہوئی تھی کہ اسے اذلان شاہ کا ہر عمل ڈھونگ دکھتا تھاساڑھے آٹھ کا ٹائم ہوا تو ایلاف ازخود کمرے سے باہر نکل آئی ذہن میں اذلان کی ہدایت یاد تھیبارش نے موسم اور سرد کر دیا تھا اس نے اذلان کی دی ہوئی شال کو اچھی طرح لپیٹا موزوں پہ روم سلیپر ہی پہن لئے ظاہراس لے پاس گھریلو استعمال کا مکمل سامان تھا ہی نہیںلاؤنج میں آئی تو اذلان شاہ نک سک سے تیار ڈائینگ کی گرد موجود تھا نیوی بلیو سوٹ پہ ہائی نیک پہنے ...ساتھ ہی شال لپیٹے وہ خاصا تروتازہ سا اخبار دیکھ رہا تھاایلاف دھیرے دھیرے چلتی ڈائینگ کی طرف آئی اس کی موجودگی محسوس کر کے اذلان نے اخبار سے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا اس کے پیروں پہ نظر پڑی تو لب بھینچ لئے اور پیشانی پہ بل پڑ گئے" لو اگر میری آمد اتنی ہی ناپسند تھی تو آنے کا آرڈر ہی کیوں دیا تھا" ایلاف نے اس کی ناگواری محسوس کرتے ہوئے سوچااذلان کی یہ کیفیت پل بھر کیلئے تھی اس کے بعد اس کے چہرے پہ وہی اذلی بہتے پانیوں جیسا سکون تھا" السلام علیکم" اذلان نے پہل کی تھی انداز جتاتا ہوا تھاظاہر اصولا ایلاف کو پہلے سلام کرنا چاہئے تھا مگر ایلاف کا تو دماغ ہی کام نہ کرتا تھا" وعلیکم اسلام" ایلاف جی بھر کے شرمندہ ہوئی" کیا سوچے گا یہ باتیں اتنی بڑی بڑی کرتی ہوں اور سلام تک نہیں کیا" ایلاف شرمندہ شرمندہ سی سوچ رہی تھی چہرہ سرخ ہوگیا تھا"کیسی طبیعت ہے اب آپ کی ...کیسی ہیں آپ" اذلان شاہ نے اپنا فرض نبھایا تھا" جیسا رات کو چھوڑ کے گئے تھے ویسی ہی ہوں" ایلاف کے لبوں سے بے ساختہ نکلا" ہوں ...وہ تو دکھ رہا ہے....کہیں آپ ان مریضوں میں سے تو نہیں جنہیں ہم لاعلاج کہتے ہیں" وہ بھی اذلان شاہ تھا اینٹ کا جواب پھتر سے ہی دیا" مطلب" ایلاف نے بھنویں سکیڑتے ہوئے پوچھا" یہ مجھے پاگل سمجھ رہا ہے یا کہہ رہا ہے....ہمارا مذاق کا کونسا رشتہ ہے ...بس زبردستی کا ایک بندھن" ایلاف نے سوچا" مطلب چھوڑیں ....آپ کو سیدھی باتیں بھی سمجھ نہیں آتیں تو مطلب آمیز گفتگو ہوئی بھی تو کیا فائدہ آپ تو کوری ہیں ان معاملات میں ....فضول میں آپ کی جان مشکل میں پڑ جائے گی" اذلان شاہ کا لہجہ معنی خیز تھاایلاف کے پلے ککھ بھی نہ پڑا بس چپ چاپ اس کی شکل دیکھ کے رہ گئیامیراں نے ناشتہ لگانا شروع کیا ساتھ میں چوری چوری وہ ایلاف پہبھی نظریں ڈالتی" سائیں کی بیوی ہیں تو ساتھ کیوں نہیں بیٹھتیں کونسا کوئی دیکھ رہا ہے.....ایسے شجر ممنوعہ کی طرح کیوں بیٹھیں ہیں" امیراں سوچ رہی تھیڈائینگ پہ وہی دونوں تھے سربراہی کرسی پہ اذلان شاہ تھا اور ایلاف ایک کونے پہ کرسی پہ ٹکی ہوئی تھی نہ اذلان نے اسے بیٹھنے کو کہا نہ وہ گئی اذلان کی کونسی وہ من چاہی تھی جو وہ اسے یوں پہلو میں بٹھاتا وہ تو ایک حادثے کی مانند اس کی ذندگی کا حصہ بنی تھی ایلاف نے محسوس کیا تھا اس بات کو" میں کونسا مری جا رہی ہوں اس کے مقابل بیٹھنے کو" ایلاف نے اپنے زخموں پہ مرہم خود ہی رکھنا شروع کردیا تھا" امیراں بی بی کے پاس جاؤ انہیں ناشتہ کراؤ" اس کی ساری کیفیات سے بے نیاز اذلان نے اپنی ہی کہی"میں لے لوں گی" ایلاف نے کہاجواب میں اذلان نے امیراں کو ایک ذبردست گھوری سے نوازا تو وہجلدی سے ایلاف کے برابر آکے کھڑی ہوگئی" پہلے بوائل ایگ دو" اذلان نے حکم دیا تھا" بی بی کو کیا خود کھانا نہیں آتا رات میں خود کھلا رہے تھے ابھی مجھے کہہ رہے ہیں ...یہ بی بی کیا واقعی کسی اور جہاں کی پیداوار ہے"انڈہ ختم ہوا تو ااذلان نے دوسرا دینے کو کہا ایلاف اسے دیکھ کے رہگئی مگر کھاناہی پڑا" اب یوں کرو سلائس پہ جیم کے بجائے مکھن لگاؤ وہ ذیادہ اچھا ہے " اذلان شاہ اسے ایک پرفیکٹ ناشتہ کروانے کے موڈ میں تھا" ساتھ میں دودھ دو ....چائے بعد میں دینا" اسے چائے دینے سے منع کرتے ہوئے دودھ کے جگ کی طرف اشارہ کیا" پھر دودھ ....پلیز مجھ سے نہیں پیا جاتا " ایلاف جی بھر کےبدمزہ ہوئی ایک تو زبردستی ناشتہ اوپر سے دودھ" آپ کو ایک بات دس دفعہ کیوں بتانی پڑتی ہے امیراں اس میں شہد ڈال دو یا اولٹین پوچھ لو بی بی سے" اذلان نے بڑا احسان کیا تھا اس پہ" رہنے دو ایسے ہی پی لوں گی میں....اب زہر کو شہد میں کیا لپیٹنا" ایلاف نے امیراں کے ہاتھ سے گلاس لے لیا تھا اور دانتوں سے آہستہ آہستہ سلائس کترنے لگیخدا خدا کر کے ناشتہ ختم ہوا تو ایلاف نے شکر ادا کیا کہ اذلان شاہ کو کسی اور ڈش کے کھلانے کا دورہ نہیں پڑا" ہم اب جا رہے ہیں اپنی جاگیر کافی دن لگ جائیں گے پیچھے آپ نے اپنا خیال رکھنا ہے پہلے والا کام کیا تو یاد رکھیں اس بار اپنے ہاتھوں سے آپ کو قبر میں اتار دیں گے " اب وہ پہلے والا اذلان شاہ بن گیا تھاکٹھورسنگ دل" آپ کو کیا میں جئیوں یا مروں کونسا فرق پڑ جائے گا ....آپ کا شملہ تو ہر حال میں اونچا ہے ...نقصان تو ہم چیونٹی جیسے حقیر لوگوں کا ہے" ایلاف نے بھی دیر نہیں لگائی اپنی کھولن باہر نکالنے میں"واقعی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کے جینے مرنے سے ....مگر آپ انسان ہیں اور ہم بھی اور انسانیت ہی کے تحت ہم نہیں چاہتےکہ آپ اپنے آپ کو کسی مشکل میں ڈالیں....چلتے ہیں خدا حافظ" اذلانشاہ پھتر پھوڑتے آخر میں اسے خدا کی امان میں دے کے چلا گیاایلاف دوبارہ سے اپنی کرسی پہ بیٹھ گئی تھی" سائیں چلے گئے" امیراں نے پوچھا" تمہیں دکھ رہے ہیں" ایلاف نے پوچھا" نہیں تبھی تو پوچھ رہی ہوں" وہ بھی امیراں تھی" آپ نہیں گئی سائیں کے ساتھ بڑا خوشی کا موقع حویلی والوں کیلئے" امیراں نے اس سے پوچھا" ہوں مجھے اپنے ساتھ کس منہ سے لے کے جائیں گے تمہارےپیر سائیں کیا کہیں گے لوگوں سے کہ دیکھو ہم نے اپنے بھانجے کی غلطی کا مداوا کیا ہے ...ایک لڑکی کو زمین سے آسمان پہ بٹھایا ہے " ایلاف یہ سب سوچ ہی سکی کہہ نہ سکی" بنین شاہ کو خدا نے آٹھ سال بعد بیٹے کی نعمت دی ہے اب پیر سائیں خاندان کے سربراہ ہیں وہ تو ہاتھ رکھنے جائیں گے ہی اور دو ہفتے سے پہلے لوٹنا مشکل ہی ہے خیر سے عقیقہ کراکے ہی آئیں گے" امیراں اسے بتاتے ہوئے ساتھ ساتھ برتن بھی اٹھا رہی تھی" عادت ہے تمہارے پیر سائیں کو ہر کسی کے سر پہ ہاتھ رکھنے کی" ایلاف طنزیہ بولی" ہاں جی ...پیر سائیں تو خدا کی رحمت ہیں ....فضل ہیں" امیراں تو گوڈے گوڈے اذلان کی تعریف میں ڈوبی ہوئی تھی" اچھا اپنا کام کرو" ایلاف کو اذلان شاہ کی تعریفوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی اس لئے اٹھ کے اپنے کمرے میں آگئی تھیکرنے کو کچھ تھا ہی نہیں یوں ہی بیٹھ کے وہ اپنی زندگی کی الجھی ڈور کے سرے سلجھانے لگی تھی______________________________شاہوں کی حویلی میں آج خوشیوں کی بارات اتری ہوئی تھی پوری جاگیر میں مٹھائی بانٹی جا چکی تھی ماں بیٹے کا صدقہ دیا جا چکا تھا مہمانوں کا ایک ہجوم تھا ہر سننے والا ملنے کو آرہا تھا سارے رشتہ دار جمع تھے آج خیر سے دوسرا دن تھا نو مولود کی آمد کو" پیر سائیں پہنچ چکے ہیں شاہ بی بی " رجو نے بریکنگ نیوز دی تو سب میں ہلچل مچ گئی تھی" خیر سے لمبی عمر ہے میرے بچے کی " شاہ بی بی بولیں" جی سائیں زنان خان کی طرف ہی آرہے ہیں منے کو دیکھنے" رجونے کہا تو ساری مہمان خواتین کا رش کم ہونے لگا تانیہ شاہ کی بہن نازیہ شاہ بھی آئی ہوئی تھی وہ بھی اٹھنے لگی تو تانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ بٹھا لیا" کیا ہوا آپی کیوں بٹھا لیا ....تائی اماں کو اچھا نہیں لگے گا"نازیہ سرگوشی میں بولی" تمہیں میں نے یہاں اس لئے نہیں بلایا کہ بنین کے بیٹے کےدرشن کرو مجھے پتہ تھا پیر اذلان آج ضرور آئے گا ایسے تو ملاقات ہوتی نہیں آج ہوجائے گی تو دو چار باتیں کر لینا سمجھی" تانیہ اس کے کان میں بولیعالیہ شاہ کے انتقال کے بعد پیر اعظم شاہ اور ان کی بیوی نے بہت چاہا تھا کہ اذلان شاہ کا عقد نازیہ شاہ سے ہوجائے مگر اذلان کیلئے ایک تجربہ کافی تھا اس نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ اگر اس نے دوبارہ کبھی شادی کی بھی تو وہ خاندانمیں نہیں کرے گا وہ اپنی زندگی پہ اور سفیان پہ ان ہٹ دھرم لوگوں کا سایہ بھی نہیں ڈالنا چاہتا تھا"اسلام علیکم.....مبارکہو بھرجائی " اذلان شاہ نے سب کو مشترکہ سلام کرتے ہوئے بنین شاہ کو مبارک باد دی" وعلیکم سلام ....خیر مبارک ہو آپ کو بھی بھایا" بنین شاہ نےکہا" کیسا ہے ہمارا نیا شہزادہ???یہ تو پورا کمال ہے واہ بھرجائی کیا فوٹواسٹیٹ ہے" اذلان شاہ کو وہ نرم روئی کے گالوں جیسا بچہ بہت اچھا لگا تھا" ہوں اپنے بچے کو تو سات سمندر پار پھینکا ہوا ہے اور سارا لاڈ دوسروں کی اولاد کیلئے بے چارا ہمارا بچہ ہم تو اس کی شکل بھی دیکھنے کو ترس گئے ہیں" تانیہ ایک رشتہ دار خاتوں کی طرف جھکتے ہوئے بولی" نام کیا سوچا بھرجائی" اذلان نے اسے پیسے دیتے ہوئے اور کچھ ہینڈ بیگ پکڑاتے ہوئے پوچھا"بھایا کمال کہتے ہیں نام آپ رکھیں گے سو جو آپ کی رضا" بنین نے اسے بتایا" آپ ماں ہیں پہلا حق آپ کا بنتا ہے یہ آپ کی اولاد ہے آپ جو کہیں گی یہ اسی نام سے پکرا جائے گا" اذلان شاہ کو مان دینا خوب آتا تھابنین کا چہرہ کھل اٹھا تھا کس ماں کی خواہش نہیں ہوتی کہ وہ اپنی اولاد کو من چاہے نام سے پکارے" سچ بھایا....سلجوق کیسا نام ہے...خالہ بی بی آپ کو پسند آیا" بنین نے پوچھا" کیوں نہیں بہت اچھا نام ہے ....خدا اسے بلند کردار کرے" اذلان شاہ نے بڑے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اسے دعا دی" خیر سے بھایا ہم بھی ہیں ادھر مانا کہ بنین بھابھی ویآئی پی ہیں آج کی پر ہمیں بھی کچھ وقت مل سکتا ہے " تانیہ کی بات پہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوا" ہمارا وقت آپ لوگوں کیلئے ہی تو ہے کیسی ہیں آپ " اذلان نے پوچھا تھا" ہم ٹھیک ہیں ...ہمارے ساتھ کوئی اور بھی ہے غالبا" تانیہ نے تیکھے لہجے میں نازیہ کی طرف اشارہ کیانازیہ نے بڑے ناز بھرے اندازمیں سلام کیا تھااذلان اس کے سلام کا جواب دے کے فورا اٹھ کھڑا ہوا تھا" گوہر آپا نہیں آئیں " یاد آنے پہ پوچھا تھا اس نے" وہ دونوں تو ملک میں ہیں ہی نہیں آج رات تک پہنچیں گے....بھلا بھابھی رہ سکتیں تھیں وہ تو خوشی سے پاگل ہی ہوگئیں تھیں جب میں نے بتایا تھا انہیں" نازیہ اترا اترا کے بولیاذلان شاہ نے صرف سر ہلانے پہ اکتفا کیا وہ بچہ تو نہیں تھاجو نازیہ کے انداز سمجھ نہ پاتا" کہاں چلےآپ" تانیہ نے پوچھا" بھئی بہت کام ہیں اماں سائیں کل عقیقہ ہے اس کا انتظام ہےدعوت نامے بھی بھیجنے ہیں آپ بھی بتادیجئے گا....پھر کسانوں کا بھی کچھ مسئلہ چل رہا ہے ہم تھوڑا آرامکرلیں تو ذمینوں کی طرف جائیں گے ....آج رات ڈیرے پہ ہی ہیں میں اور احمد شاہ" اذلان نے انہیں سارا پروگرام بتایا" ہوں بچے ....ٹھیک ہے پھر کل ملتے ہیں بہت ضروری باتیں کرنیں ہیں آپ سے" شاہ بی بی نے اسے رخصت کرتے ہوئے کہا" یہ ماں بیٹا کورڈ ورڈز میں کیا باتیں کر رہے ہیں" نازیہ پھر تانیہ کے کانوں میں گھسی" پتہ نہیں آج کل تائی اماں شہر جانے کو بھی پر تول رہی ہیں....نہ جانے کیا معاملہ ہے" تانیہ الجھے لہجے میں بولی" ہائے آپی کہیں اذلان شاہ شہر میں ہی تو شادی نہیں کر رہا اس لئے شہر لے کے جا رہا ہو تائی کو" نازیہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا" خدا نہ کرے کیا ہوگیا ہے ...شادی اگر وہ کرے گا بھی کبھی تو وہ نازیہ سے کرے گا تو فکر مت کر" تانیہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولی" نہیں آپی کچھ تو گڑ بڑ ہے ورنہ تائی شہر جانے کا نام کبھی نہ لے" نازیہ بے چین سی ہو کے بولی" میں پتہ کرتی ہوں ایسا کرتی ہوں شہر کی کوٹھی فون کر کے ملازمہ سے سن گن لیتی ہوں" تانیہ اٹھتے ہوئے باہر کی طرف نکل لیباہر آکے اس نے کوٹھی کا نمبر ملایا فون امیراں نے حیرانگی سے اٹھایا تھا اذلان شاہ کی غیر موجودگی میں آج تک حویلی سے فون نہیں آیا تھا" بی بی خیر تو ہے" امیراں نے پوچھا" ہاں بھئی خیر ہےتم سناؤ کیسا چل رہا ہے نظام" تانیہ نے پوچھا" بس جی شکر ہے مالک کا" امیراں نے جواب دیا"امیراں ....مہماں تو نہیں آئے ہوئے کوئی" تانیہ اب آہستہ آہستہ مدعے پہ آرہی تھی" مہمان تو آپ کو پتہ ہے آتے ہی رہتے ہیں" امیراں نے حیرانی سے جواب دیا" نہیں میرا مطلب آج کل کوئی خاص مہمان ....کوئی خاتون" تانیہ نے صاف صاف پوچھ لیا" اوہ" امیراں کو ساری کہانی سمجھ میں آگئی اس خاتون سے مراد اس کی ایلاف تھی مگر وہ بھی امیراں تھی اذلان شاہ کا نمک کھاتی تھی اور اس نے دیکھا تھا کہ اذلان نے ابھی تک کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا تو وہ کیسے اپنا منہ کھولتیوہ بھی تانیہ کے سامنے" نہ جی ادھر تو کوئی نہیں کیا آپ کی سہیلی نے آنا ہے" امیراںصاف منکر ہو گئی تھی"نہیں بس اچھا چلو گھر کا خیال رکھنا اور کام دھیان سے کرنا" تانیہ شاہ کو جب کچھ پتہ نہیں چلا تو بات ختم کردی فون رکھ کے مڑی تو اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے سامنے اذلان شاہ کھڑا تھا ماتھے پہ بل ڈالے" کیا بات ہے تانیہ شاہ آپ کو ہمارے گھر کے معاملوں میں کیوںاتنی دلچسپی ہوتی ہے???" اذلان شاہ سراپا سوال تھا" اذلان بھا...وہ میں تو بس حال چال پوچھ رہی تھی آخر ملازموں کے سر پہ گھر چھوڑنا اچھا تو نہیں ہوتا " تانیہ شاہ نے بوکھلاتے ہوئے بات بنائی" میرے خیال سے آپ اپنے گھر کی ....خصوصا اپنی اولاد کی خیر خبرلیں اتنی ٹھنڈ میں عباس شاہ باہر کیا کر رہا تھا گرم کپڑوں کے بغیر" اذلان نے اس کے بیٹے کی انگلی پکڑ رکھی تھی" اچھا اس مصیبت کی وجہ سے میں پھنسی ہوں" تانیہ نے اپنے بیٹے کو گھورا "بس بچے ہیں لاپرواہی ہو ہی جاتی ہے" تانیہ نے عباس کو لیتے ہوئے کہا" بچے تو لاپرواہ ہی ہوتے ہیں تانیہ بیگم ....مگر اگر بڑے لاپرواہ ہو جائیں تو خاندان بکھر جاتے ہیں ....ذرا دھیان رکھیں" اذلان شاہ جتاتے ہوئے بولا اور چلا گیا" مسئلہ کیا ہے ان کا بہت دماغ خراب کرنے لگے ہیں بڑے آئے خدائی فوجدار" تانیہ بولتی ہی رہ گئی_____________________________امیراں کی ہنسی ہی رکنے کا نام لے رہی تھی" کیا ہوگیا ہے بھئی کونسا لطیفہ سن لیا تم نے" ایلاف نے پوچھ ہی لیا وہ صبح کا اخبار پڑھ رہی تھی" بی بی لطیفہ ہی ہے وہ نا سائیں کی بھاوج نے آج فون کیا کیا پوچھنے....کہ کوئی لڑکی مہمان تو نہیں میں نے بھی کہہ دیا نہیں " امیران نے سے بتایا" کہاں گئے ہیں تمہارے صاحب" ایلاف نے کچھ سوچ کے پوچھا" اپنی جاگیر جی وہ ان کے چھوٹے بھائی کے ہاں بچہ ہوا ہے نا پورے آٹھ سال بعد" انگلیوں ست واضح کر کے بھی بتایا" اچھا ان کی وہی بھابھی تھیں " ایلاف نے مزید پوچھا" اوہ نہ جی وہ تو تانیہ شاہ تھیں گوہر شاہ کے وٹے میں آئیں ہیں احمد شاہ کی بیوی" امیراں نے بتایا" گوہر شاہ کون" ایلاف نے پوچھا" سائیں کی سب سے بڑی اور اکلوتی لاڈلی بہن ....ان کے بچوںمیں جان ہے سائیں کی خاص طور سے خرم شاہ ...بڑا ٹیم ہوا آیا نہیں خرم شاہ بھی" امیراں نے اسے بتاتے ہوئے کہا" اوہ تبھی تم نے اذلان شاہ آپ نے بھانجے کا گناہ اپنے سر لے لیا ...اور کس منہ سے سامنا کرے گا وہ اپنے ماموں کا اور میرا" ایلاف نے تلخی سے سوچا" یہ پیر خرم شاہ کیا اکلوتاہے" ایلاف نے جانے کیا سوچ کے پوچھا" نہ جی بڑا ہے سب سے اس لئے گدی پہ وہی بیٹھے گا " امیراں ایک بات کے دو جواب دیتی تھی" ہرگز نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی آنے دو تم اپنے سائیں کو مجھے انصاف چاہئے جس طرح خرم کی وجہ سے میں ذلیل و رسو ہوئی ہوں ویسے ہی خرم شاہ بھی اپنا منہ چھپاتا پھرے گا " ایلاف نے سوچ لیا تھا______________________________دن یونہی پھیکے پھیکے سے گزر رہے تھے ایلاف سارا دنخرم شاہ سے انتقام لینے کے منصوبے بناتی رہتی یا پھر اپنی بیتی ہوئی زندگی پہ غور کرتی رہتی اسے ڈھونڈنے سے بھی اپنی ایسی کوئی خطا نہیں ملتی تھی جس کی بنا پہ اس کو یہ تنہائی ملی تھیاذلان شاہ کو گئے ہوئے ہفتہ ہوچکا تھا اس کی کوئی خیر خبر ہی نہ تھا امیراں اس کا پورا خیال رکھتی تھی اس لئے ایلاف کی صحت اب بہت بہتر تھی چہرے کی شادابی اور آنکھوں کی رونق لوٹ آئی تھی بس آنکھوں میں حزن و ملال کی کیفیت ٹھر سی گئی تھی سبز آنکھوں میں حزن کے رنگقیامت ڈھاتے تھےاس دن بھی امیراں اس کے بال بناتے ہوئے اس ہی تعریفوں کےپل باندھ رہی تھی" بی بی آپ کے بال کتنے خوبصورت جیسے وقفوں میں کام کرنے والی لڑکیوں کے ہوتے ہیں ...پر کیا اصلی ہوتے ہیں مجھے نہیں لگتے" امیراں خود ہی سوال کرتی اور جواب دیتی" تمہیں ج صحیح لگے بھئی" ایلاف کے جواب مختصر ہی ہوتے تھے" ارے بھئی کس حور کی زلفوں کی اسیر ہوگئیں امیراں بی بی....ہمیں بھی تو بتا دو" وہ ایک اسٹائلش سی لڑکی تھی خوبصورت سی" ارے شازمہ بی بی تسی....ہیں نا بی بی خوبصورت " امیراں نے پوچھا" ہاں بھئی آخر کو اذلان شاہ کے گھر میں کوئی معمولی چیز ہو بھی کیسے سکتی ہے ....میں شازمہ ہوں اذلان کے دوست ابراہیم کی بیوی اذلان نے مجھے شاپنگ کرانے کو کہا تھا آپ کو" شازمہ نے اسے بتایاایلاف نے اس کی بات میں اپنا اور اذلان شاہ کے بے نام سے رشتےکا احساس ڈھونڈنا چاہا مگر اسے کوئی سراغ نہ ملا" آپ ٹھیک تو ہیں اتنی شاکڈ کیوں ہیں" شازمہ اس کا شانہ ہلاتےہوئے بولی"کچھ نہیں آپ بیٹھیں پلیز" ایلاف نے کہا" بیٹھنے کا ٹائم نہیں یار ابھی نکلیں گے تو ٹائم سے پہنچیں گے ورنہ ابراہیم تو کان کھا جاتے ہیں اگر میں انہیں شاممیں گھر نہ ملوں" شازمہ کے لہجے میں مان بھرا غصہ تھاایلاف نے اسے رشک سے دیکھا یہ ہوتی ہیں بیویاں ...من چاہی...پیا من بھائیاور میں کس کیٹیگری میں ہوںایک بوجھایک عذابایلاف گم صم سی سوچ رہی تھی" بی بی پہلے کچھ کھا پی لیں ....ایلاف بی بی دوپہر کا کھانا نہیں کھاتیں صرف فروٹ لیتی ہیں یہ بھی کھا لیں گی" امیراں نے کہا" ارے بھئی تمہارے ہاتھ کی چائے کو کون کافر نہ کر سکتا ہے جلدی سے ڈالو" شازمہ نے کہاشازمہ ذیادہ تر خود بولتی رہی اسے اذلان نے بتایا تھا ایلاف کے بارے میں اور اسے شاپنگ پہ لے جانے کو کہا تھا" پر بھابھی آپ کی کسی بات سے ظاہر نہ ہو کہ آپ ہمارے نکاح کے بارے میں جانتیں ہیں ... وہ الٹے دماغ کی لڑکی کچھ الٹا سیدھا ہی سمجھے گی آپ کے بارے میں" اذلان کو اس سے کسی عقلمندی کی امید نہ تھی" اوکے بھائی" شازمہ اسی بات پہ عمل کر رہی تھیایلاف کو لے کے وہ ہر شاپنگ مال میں اتنا گھومی کہ ایلاف کا سرچکرانے لگا تھا یوں لگ رہا تھا پورا بازار ہی خرید لے گیکپڑے ,جوتے جیولری اور نہ جانے کیا الم غلم گرم کپڑوں کی خریداری بھی الگ سے کی تھی اس نے میک اپ شاپ پہ پہنچے تو ایلاف نے منع کردیا" میں میک اپ نہیں کرتی" ایلاف نے آج تک لپ اسٹک بھی نہ لگائی تھی" کوئی بات نہیں ان لگا لینا ....ویسے آپ کو ضرورت بھی نہیں" شازمہ نے ناک پہ سے مکھی اڑائی" یہ لوگ میری بات کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتے بھاڑ میں جائے میں بھی نہیں استعمال کروں گی " ایلاف روہانسی ہوگئیاللہ اللہ کر کے شاپنگ مکمل ہوئی تو شازمہ نے اسے گھر چھوڑا ایلاف اتنا تھک چکی تھی کہ نماز پڑھ کے فورا سوگئی تھی اتنا لونگ مارچ تو زندگی میں نہ کیا تھا اس نے______________________________" اذلان پتر کل کی کیا خبر ہے " شاہ بی بی کو آج بہت دنوں بعدتنہائی ملی تھی ان کے ساتھ" کل واپسی ہے اماں" اذلان نے بتایا"ہم بھی چلیں گے آپ کے ساتھ" شاہ بی بی نے بتایا" اماں ابھی ہم نے اس سے بات نہیں کی آپ تھوڑا رک جائیں اصل میں....." اذلان نے انہیں پچھلی ساری صورتحال بتائی تھی" پھر تو ہمیں جتنا جلدی ہو جانا ہوگا لڑکیاں بہت حساس ہوتیں ہیں وقت پہ پروا نہ کرو تو بکھر جاتی ہیں " شاہ بی بی فکرمندی سے بولیں" اماں وہ حساس ہونے کے ساتھ بیوقوف بھی بہت ہے بجائے اس کے کہ وہ شکر کرے عزت بچ جانے پہ روتی بسورتی رہتی ہے" اذلان شاہ بیزاری سے بولا" کم عمر ہے ناسمجھ ہے راستہ ملے گا رہنمائی ہوگی تو سمجھ جائے گی. ...بس خیر سے کل صبح کا ہی پروگرام رکھنا" شاہ بی بی نے حکم دیا" جی اماں سائیں" اذلان نے مزید بحث مناسب نہ سمجھی" ایلاف بیگم ....اب نہ جانے تم نے کونسا کارنامہ سر انجام دیا ہوگا" اذلان شاہ نے اکتاہٹ سے سوچا" میں گوہر آپا سے بات کرنا چاہ رہا تھا مگر خرم شاہ غائب ہےسنا ہے کاغان کی طرف ہے آج کل واپس تو لوٹے گا تو اسے پوچھیں گے" اذلان شاہ نے موضوع بدلتے ہوئے کہا" ابھی ٹھر جاؤ اذلان ....مت بھولو اس کی غلطی اب آپ کی عزت ہے ....کیوں اپنے آپ کو کھوٹا کر رہے ہو خرم شاہ پہ ہاتھ زرا اور طرح سے ڈالو" شاہ بی بی کا اشارہ کس طرف تھا اذلان شاہ سمجھ چکا تھاصبح جو وہ جاگیر سے نکلے تو دھند کے باعث شام کو ہی شہر پہنچ سکے تھے گھر میں خاموشی کی فضا طاری تھی جس کو کبھی کبھی امیراں کے گانے کی آواز توڑتی تھی ایلاف حسب معمول کمرہ نشین تھی عشا ہو چکی تھی امیراں نے ان دونوں کو دیکھا تو بولتی بند ہوگئی" بڑی بی بی آپ .....بھاگ لگ گئے ہمارے تو" امیراں مارے خوشی کے ان سے لپٹ گئی" ارے بھاگ کی بچی تیرا بچپنا کب رخصت ہوگا " شاہ بی بی نے اسے جھاڑا کبھی نہیں" سچ بی بی آپ تو آتی نہیں میں نے آج آپ کی پسند کی ماش کی دال بنا لی تھی مکھن ڈال کے وہ ایلاف بی بی کو بھیپسند ہے ایک لگتا ہے دال ہی شوق سے کھاتی ہیں" امیراں اپنی ہانکتے ہوئے بولی" کہاں ہے ایلاف " شاہ بی بی نے پوچھا" ہونا کہاں ہیں اپنے کمرے میں سارا دن ہوتیں ہیں .....چپ چاپ یا تو نماز پڑھیں گی یا مراقبہ" امیراں کو بہت چڑ ہوتی تھی ایلاف کے خاموش رہنے سے"بلاؤ اسے " اذلان نے کہا" نہیں شاہ ....ہم خود جائیں گے کہاں اس کا کمرہ" شاہ بی بی نے روکتے ہوئے پوچھا" آپ ....نہیں اماں یہ مناسب نہیں ہے " اذلان کو اچھا نہیں لگا" ہم جارہے ہیں " وہ بھی اذلان کی ماں تھیں جو کہتیں وہی کرتیں تھیںوہ ایلاف کے کمرے میں داخل ہوئیں تو ایلاف نماز پڑھ رہی تھیوہ چپ چاپ ایک طرف صوفے پہ بیٹھ کے ایلاف کا جائزہ لینے لگیںفیروزی رنگ کے سوٹ میں اس کی شہابی رنگت دمک رہی تھی سیاہ چادر کے ہالے میں اس کا چہرہ نہایت پرکشش لگ رہا تھامجموعی طور پہ ایلاف کا تاثر ایک خوبصورت لڑکی کا پڑتا تھاوہ شاہ بی بی کو شکلا اچھی لگی تھی یہ ایک معیار ہے مگرمکمل نہیں اب یہ تو بات کر کے پتہ چلتا کہ وہ واقعی ان کے بیٹے کی ہم سفر ہوسکتی ہے کہ نہیںایلاف نے نماز ختم کی تو ایک اجنبی خاتون کو کمرے میں دیکھ کے حیران ہوگئی" جی آپ ....???" ایلاف نے پوچھا" ہم اذلان شاہ کی ماں ہیں ....شاہ بی بی کہتے ہیں ہمیں" شاہ بی بی نے اپنا تعارف کرایاایلاف کے اردگرد کے زمیں آسمان ساکت ہوگئے تھے وہ حیران وپریشان سی اس عورت کی شکل دیکھنے لگی" اب اس کا کیا مقصد ہے????" ایلاف پریشانی سے سوچنے کے قابل بھی نہ رہی تھی

No comments:
Post a Comment