Monday, July 23, 2018

یہ جنو ن منز ل عشق کا قسط 8

http://novelskhazana.blogspot.com/





قسط_08از فرحت نشاط مصطفےسردیوں کی نرم چمکیلی سنہری دھوپ حویلی کے اونچے میناروں سے اس لمبے چوڑے صحن میں جھانک رہیں تھیں جہاں بہت سی ملازمائیں اپنے اپنے حصے کے کاموں میں مصروف تھیں تو کچھ ان کی نگرانی میں" نی رجو ...ساری گاجریں کش کرلیں یا ٹپے ہی گائی جا رہی ہے" وہ ایک باوقار سرخ و سفید چہرے والی خاتون تھیں اس پیروں کیحویلی میں ان کا سکہ چلتا تھااس عورت کی آنکھیں شہد رنگ تھیں یہ پیر اذلان شاہ کی ماںتھیں" آہو ....بی بی تساں فکر ہی نہ کرو " رجو جلدی سے بولی" اچھا اچھا جلدی اب ان کو چڑھا اور سن گھی زرا کم ہی رکھنا بلکہ....تانیہ او تانیہ پتر ...تو اپنی نگرانی میں گاجر کا حلوہ تیار کروانا ..گھی زرا کم ہی رکھنا پتہ تو ہے نا بنین کو ڈاکٹروں نے منع کر رکھا ہے" انہوں نے ساتھ میں ایک طرف چارپائی پہ بیٹھ کے دھوپ سینک کر کنو کھاتی تانیہ کو مخاطب کیاتانیہ جھنجھلا کے رہ گئی مگر ساس کے سامنے دم مارنے کی مجال کہاں تھیں اس کی" ہوں ...کونسا انوکھا بچہ پیدا کر رہی ہے یہ بنین اس کی وجہ سے سب کی جان عذاب میں آئی رہتی ہے" تانیہ نے ناگواری سے سوچابنین اس کی جھٹانی تھی.پیر اذلان شاہ کی ماں کو سب شاہ بیگم کہتے تھے عورتوں کیلئے ان کا دم بڑا غنیمت تھا....بڑی دبنگ قسم کی خاتون تھیں صحیح اور غلط کی مکمل پہچان رکھتیں تھیں .....مظلوموں کی مکمل حمایت کرتیں اور نا انصافی کرنے والوں کیلئے سزا کا فیصلہ ہوتا تھا سو اگر پیراذلان شاہ میں بھی یہ سب جملہ خصائل تھے تو اس میں کچھ ایسا حیران کن بھی نہ تھا اولاد ماں باپ کا ہی پرتو ہوتی ہے اور پھر پیر اذلان شاہ ان کا سب سے بڑا بیٹا تھا گوہر شاہ کے پیدا ہونے کے سات سال بعد وہ پیدا ہوا تھا اس کے بعد کمال شاہ اور احمد شاہ تھے جو انسیت اور جو محبت اپنی اولادوں میں سے ان کو اذلان سے تھی وہ کسی اور سے نہ تھی وہ تھا بھی تو ایساایماندار ,ملنسار ....مضبوط کرداران کی ہر بات ماننے والااگر کچھ اختلاف رکھتا بھی تھا تو اپنی رائے اتنے سلیقے اورطریقے سے دیتا کہ لچک پیدا ہوجاتی تھیاسے اپنی بات منوانے کا فن آتا تھامگر پھر بھی زندگی میں ایک مقام ایسا آتا ہے کہ انسان کو اپنی فطرت کے برعکس چلنا پڑتا ہے اذلان شاہ بھی چلا تھا اور کیا خوب چلا تھا ایک زمانہ گواہ تھااپنی اسی تابعداری کی بدولت وہ خاندانی دستار اور گدی کا وارث ٹھرا تھا"شاہ بی بی میں نے سنا ہے پیر اذلان شاہ آج پھر سویرے سویرے جاگیر آئے ہیں.....خیر تو ہے" رجو کی زبان میں کھجلی ہوئی" ہیں ....مرد ذات ہے خیر سے ذمہ دار ہے ....سو کام ہوتے ہیں اس کی اپنی جاگیر ہے ..سو دفعہ آئے دن میں تجھے کیا تکلیف پڑی ہے" شاہ بی بی کو اس کی ٹوہ لینے والی عادت سے چڑ تھی ہر وقت سی آئی ڈی بنی رہتی تھیاسے تو انہوں نے چپ کرادیا تھا مگر اندر ہی اندر وہ پریشان ہوگئیں تھیں وہ جب بھی جاگیر آتا تھا انہیں اپنی آمد کی اطلاع ضرور بھجواتا تھا بھلے ملنے بعد میں آتا اور ابھی کل ہی تو گیا تھا بظاہر کوئی ایسا مسئلہ بھی نہ تھا کہاسے اتنی جلدی لوٹنا پڑے" ناں رجو تجھے کس نے بتایا" تانیہ بھی الرٹ ہوئی تھی" لو بی بی کرلو گل ....وہ ہے نا داد شاہ پیر جی کا چمچہ اسے دیکھا تھا صبح ڈیرے کی طرف اور پھر گاڑی بھی دیکھیتھی ان کی " رجو کی انکوائری مکمل تھی" کیا بات ہوسکتی ہے....الہی میرے بچے پہ رحم کرنا" بی بی شاہ متفکر سی دعا کر رہیں تھیں______________________________" بختاں ....تجھے پتہ ہے رات ایک بڑی عجیب بات ہوئی" امیراں تجسس پھیلاتے ہوئے بولی" کیا " بختاں نے اشارے سے پوچھا" رات نا .....پیر سائیں کے ساتھ ایک کڑی آئی تھی ....رج کے سوہنی " امیراں آنکھیں پھیلا کے بولی" کوئی مہمان ہوگی " بختاں بے تاثر لہجے میں بولی" اری نہیں پگلی ....یہی تو بات ہے وہ مہمان نہیں مہمان ہوتی تو مہمان خانے میں ٹہرتی ....اسے تو پیر سائیں نے اندر والے کمروں میں ٹھرایا ہے " امیراں سے یہ گتھی ہی نہیں سلجھ رہی تھی" کوئی رشتہ دار ہوگی" بختاں نے اندازہ لگایا" لو شاہوں کی رشتہ داریں ایسی ہوتیں ہیں ....نہیں ....بختاں ....میں نے پوچھا دونوں سے تو کوئی بتاتا ہی نہیں...یہ چکر ہی کوئی اور ہے" امیراں اب کے راز داری سے بولی" کیسا چکر" بختاں بھنویں اچکا کے بولی" سن ...مجھے لگتا ہے یہ لڑکی نا پیر سائیں کو پسند آگئی ہے ....پتہ ہے اس نے چادر بھی پیر جی کی پہنی ہوئی تھی"امیراں اپنا خیال بتاتے ہوئے بولی" لعنت ہو تیری سوچ پہ امیراں.... اذلان شاہ ایسا آدمی نہیں ٹکے ٹکے کی عورتوں کے پیچھے خوار ہونے والا" بختاں ناگواری سے بولی" لو کر لو گل پھر کیا وہ لڑکی آسمان سے اگی ہے یا....پیر سائیں کی جیب سے نکلی ہے" امیراں برا مانتے ہوئے بولی"جہاں سے بھی آئی ہو ہمیں کیا ...یہ ان کا مسئلہ ہے ....تو نے ناشتہ نہیں بنایا ابھی تک" بختاں نے اس کی کلاس لگائی" ناشتہ کس کیلئے بناؤ پیر سائیں تو کہیں رات کو ہی واپس ہوگئے اور وہ ابھی تک سو کے اٹھی نہیں ....بندہ اسے مہمان کہے یا کسی اور سیارے کی مخلوق " امیراں اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولیصبح سے تین دفعہ وہ ایلاف کے کمرے کے چکر کاٹ چکی تھی اور ہر بار وہ اسے سوئی ہوئی ملی تھی کمبل منہ تک لپیٹےرات کو اپنے نصیبوں کی سیاہی پہ وہ رات بھر روتی رہی تھیپھر نہ جانے کس پہر آنکھ لگ گئی تھی نیند تو سولی پہبھی آجاتی ہے اسے بھی آگئی تھیوہ رات کو یہ دعا مانگتے مانگتے سوئی تھی کہ اسے صبح کا سورج نصیب نہ ہو مگر اس کی زندگی تھی اس کی آنکھ کھلی فجر قضا ہوچکی تھی ایلاف کو کوئی ملال نہ ہوا وہ بے حسی کی انتہا پہ تھی اذیت کی کوئی حد نہ تھیکیوں جئیوں میںکس لئےاس دنیا کیلئےجن کو مجھے اپنی ہر سانس کی گواہی دینی ہےکہاں سے لاؤں میں وہ عیسی جو میری گواہی دےنہیں چاہیۓ ایسی زندگیمجھے موت چاہئیے میرے مالکمیں نہیں جی سکتی اس دنیاموت کی خواہش اتنی شدید تھی کہ وہ ہر احساس سے بے نیاز ہوچکی تھی اسے معلوم تھا کہ ملازمہ اس کے کمرے کے چکرپہ چکر لگا رہی ہے مگر وہ خود اٹھنا ہی نہیں چاہتی تھی صبح سے دوپہر ہوچلی تھی حالات جیسے بھی ہوں دل میں حشر بپا ہوں دماغ میں دنگل ہو سوچوں کا پیٹ کا معاملہ سب سے مختلف ہوتا ہے اسے اپنا جہنم بھرنا ہوتا ہے چاہے کچھ بھی ہو کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں مگر ایلاف کو بھی جیسے ضد ہوچلی تھی وہ نہ خود اٹھی نہ اپنے لئے کھانا طلب کیا" کیوں اپنی سانسیں بڑھاؤں وہ بھی اس شخص کا کھا کے جو میرے وجود کو شعلوں کی زد میں چھوڑ گیا ہے ...نہ مجھے اس کے نام کی پناہ چاہئے نا اس کے گھر کی روٹی کب تک منہ چھپا کے پھرے گا ....کبھی تو سامنے آئے گا نا ....بتا دوں گی اسے میں بھی ایلاف ہوں" ایلاف لاشعوری طور پہ زہریلی ہوچکی تھیاسے اس سارے منظر نامے میں ایک ہی شخص قصوروار دکھ رہا تھا وہ اب تک بہت مشکل زندگی جیتی آئی تھی مگر اب اس کے برداشت کی حد ہوچکی تھی .....عورت کے کردار پہ بات آئے تو ہر حد ختم ہوجاتی ہےمحبت کیزندگی کی______________________________رات کا سایہ شاہ پور کی جاگیر میں اپنے پر پھیلا چکا تھا حویلی کے اونچے میناروں سے رات کے سائے ناگن کی طرح بل کھا کے پھیل چکے تھے شاہ بی بی اپنے کمرے میں بسترپہ موجود وال کلاک پہ نظریں گاڑیں بیٹھیں تھیں اب تک اذلانشاہ نہ خود آیا تھا اور نہ کوئی پیغام بھجوایا تھا بڑھتیرات کے ساتھ شاہ بی بی کی پریشانی بھی بڑھ رہی تھی" شاہ بی بی .....پیر سائیں آگئے ....ادھر ہی آرہے ہیں" رجو اس وقت کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھول کے بولی" شکر ہے" شاہ بی بی کے لبوں سے پرسکون سانس خارج ہوئی اب کچھ ہی دیر میں وہ ان کے سامنے ہوگا ان کے بے چین دل کو قرار آنے لگا" اسلام علیکم .....اماں سائیں" پیر اذلان شاہ مؤدب سا ہوکے بولا" وعلیکم السلام ....اماں کی جان بہت انتظار کرایا ....خیر تو ہے نا" شاہ بی بی اس کے تھکے تھکے چہرے کو بغور دیکھتی ہوئیں بولیں شہد رنگ آنکھوں میں سرخی واضح تھی" کیا ساری رات سویا نہیں میرا بچہ" ان کے دل کو دھکا سا لگا" پتا نہیں اماں خیریت ہے بھی کہ نہیں .....ہمیں خود نہیں معلوم" اذلان شاہ تھکا تھکا سا ان کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا" خدایا رحم " شاہ بی بی تو دہل ہی گئیں رجو کو جانے کا اشارہ کیا اور اذلان شاہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے سہلانے لگیں" شاہ ....کیا بات ہے پتر ....ہم نے آپ کو اتنا تھکا ہوا پہلے توکبھی نہیں پایا" شاہ بی بی فکر مندی سے بولیں" اماں ....ہمیں لگتا ہے ہم اس دستار کے قابل ہی نہیں ....نہ اس گدی کے ...جب ہم اپنے گھر والوں کی ہی تربیت نہ کرسکے ان پہ نظر نہ رکھ سکے تو جاگیر والوں کا کیا مداوا کریں گے" اذلانشاہ ایلاف کے لفظوں کے زیر اثر تھا" پیر اذلان شاہ .....ایسا بھی کیا ہوگیا ہے ....آپ اور اتنے مایوس...آپ کی تربیت ایسی تو نہ کی تھی کہ آپ ہار مان جائیں حالات سے" شاہ بی بی کے دل کو تو دھکا ہی لگا تھاجواب میں اذلان شاہ نے انہیں ساری بات بتا دی تھی بشمول ایلاف سے نکاح کے"میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ گوہر شاہ اور اکبر شاہ نے اپنے بیٹے کو اتنی چھوٹ دی ہوگی ....توبہ میرے خدا اس لڑکے تو نام ہی ڈبو دیا پیروں کے خاندان کا" بی بی شاہ برہمی سے بولیں تھیںپیر سلطان کا نواسہ اور اتنی نیچ حرکت" اور آپ کو کیا ضرورت پڑی تھی اس لڑکی سے نکاح کرنے کی ....جب غلطی خرم شاہ کی تھی تو اسے ہی بھگتنے دیتے آپ ....اس سے کراتے آپ نکاح خود کو کیا بلی کیا " بی بی شاہ کی انصاف پسند طبیعت کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی تھی" وہ ہمارے ساتھ نہیں تھا اس وقت ....ہم نے اسے کال بھی کی کوئی رابطہ نہ ہوا...اور اب تک اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے ...." اذلان دھیرے سے بولا" آپ کو کوئی ضرورت نہیں تھی نکاح کرنے کی پناہ ہی دینی تھی تو آپ کا شیلٹر ہوم ہے وہاں لے جاتے ....یہاں حویلی لے آتے ...خرم شاہ کبھی تو ہاتھ آتا تھوڑا انتظار کرلیا ہوتا" شاہ بی بی ناگواری سے بول رہیں تھیں" اماں جان....ہم نے کہا تھا اس کے ماموں سے مگر وہ لوگ کچھ سننے کو تیار نہ تھے ...وہ عجیب لوگ تھے سنگسار کردیتے اس لڑکی کو ....اماں جان آپ نے ہمیں انصاف کی تربیت دیہے ہم بھلا کیسے ظلم ہوتا دیکھ سکتے....مجبوری ہی سہی مگر اب وہ ہماری پناہ میں ہے " اذلان شاہ صفائی دیتے ہوئے بولا" ہمیں آپ پہ فخر ہے ....آپ کو مان رکھنا آتا ہے....مگر بہت سے معاملات ہیں آگے یہ کوئی افسانہ تو نہیں کہ سب ہنسی خوشی نپٹ جائے ....یہ ذندگی ہے خاندان کے بڑے اعتراض کریں گے کہ اتنا بڑا فیصلہ اور خاموشی اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں خاص طور سے تانیہ شاہ کو اور اکبر شاہ کو ....سب کے خیال میں اگر آپ کو دوبارہ گھر بسانا ہے تو نازیہ شاہ سے عقد کرلیناچاہئیے " بی بی شاہ نے انہیں آئینہ دکھایا" اماں جان ہماری زندگی ہے یہ اگر ایک بار ہم نے خاندان والوں کی رضا سے عالیہ شاہ کو اپنا لیا تھا تو ضروری نہیں دوبارہ ان کا کہا مانے ....ہماری بھی کوئی حیثیت ہے " اذلان شاہ ناگواری سے بولا" گویا آپ خوش ہیں ...اس لڑکی کو اپنی زندگی میں لا کے" شاہ بیبی نہ جانے کونسی تسلی چاہ رہی تھیں" اماں جان شادی کوئی کھیل تو نہیں اور وہ لڑکی اس میں بھی انا بہت ہے وہ ہمارا نام ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہے خوشی اور غمی کا سوال تو تب ہو جب کوئی احساس ہو" اذلان شاہ کو ایلاف کی رات والی گفتگو ازبر تھی" تو پھر کیا انجام ہوگا اس رشتے کا " بی بی شاہ نے پوچھاتھا" ہم نے اسے کہہ دیا ہے کہ اگر اسے یہ رشتہ بوجھ لگتا ہے تو ہم بھی کوئی شوق نہیں رکھتے اسے اپنے ساتھ باندھنے کا " اذلان شاہ سنجیدگی سے بولا" آپ نے مذاق سمجھ رکھا ہے نکاح کو ....نکاح ایک ذمہ داری ہےجو مرد پہ ڈالی گئی ہے جو بھی ہے اب وہ آپ کی بیوی ہے منکوحہ ہے ...یہ کوئی چیز نہیں پسند نہ آئے تو واپس" شاہ بیبی کو قطعا اچھا نہیں لگا تھا یوں کہناابھی نکاح کیا اور پھر چھوڑ دیا" اس میں انا بہت ہے اماں ....وہ ہمیں عالیہ شاہ کی طرح الٹے دماغ کی لگی ہے ...اس نے خرم شاہ کے چکر میں ہمیں بھی رگید دیا تھا " اذلان شاہ کوفت سے بولا تھاشاہ بی بی اسے دیکھ کے رہ گئیں تھیں یہ انداز تو اس کے تب ہوا کرتے تھے جب عالیہ شاہ نام کے طوفان سے وہ منسوبہوا تھا" بنین شاہ خیر سے فارغ ہوجائے تو ہم شہر آئیں گے ملیں گے تمہاری دلہن سے ....بیٹا جیسا تم بتا رہے ہو ایک اچھی لڑکی یوں ہی ہوتی ہے اور خدا نہ کرے وہ عالیہ شاہ کی طرح ہو ....اس بار تمہاری زندگی جہنم نہیں بننے دوں گی میں ....اگر وہ واقعی بسنے والی لڑکی ہوئی تو تم اسے بساؤ گے اذلان شاہ ...ویسے بھی اب تمہیں شادی کرلینی چاہئے کب تک تم اور تمہارا بچہ یوں ہی گھومتے رہیں گے" شاہ بی بی فیصلہ کن لہجے میں بولیںبنین شاہ ان کی دوسرے نمبر کی بہو تھی شادی کے آٹھ سال بعد خدا انہیں نوازنے جا رہا تھا بنین شاہ ان کی اچھی بہو تھی اس نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ کبھی نہ موڑا تھا وہ انکی بھانجی بھی تھی جب کہ تانیہ شاہ سلطان شاہ کی بھتیجی تھی اور عالیہ شاہ کی بہن ....عالیہ شاہ پیر سلطان کی سب سے بڑی بھتیجی اور پیر اذلان شاہ کی بیوی تھی_____________________________________پیر سلطان شاہ اور پیر اعظم شاہ دو بھائی تھے دونوں کی شادی ساتھ ہی ہوئی تھی سلطان بڑے اور اعظم چھوٹے تھے قدرت کے فیصلے کہ اعظم کو اولاد کی نعمت سے اللہ نے پہلے نوازا عالیہ شاہ کی صورت میں وہ گھر بھر کی لاڈلی تھی سلطان شاہ میں تو اس کی جان تھی گوہر عالیہ کے پیدا ہونے کے دو سال بعد ہوئی تو اعظم کے گھر اکبر شاہ کی پیدائش ہوئی خاندانی رواج کے تحت ان دونوں کی نسبت طے کردی گئی تھی ان کے ہاں لڑکیوں کی نسبت فورا طے کردی جاتی تھی عالیہ شاہ کی کسی سے نسبت ٹھر ہی نہ سکی کیوں کہ اس کیلئے فی الحال کوئی رشتہ نہ تھا سات سال بعد اذلان شاہ کی پیدائش ہوئی تو ابھی شاہ بی بی دل سے خوش ہو ہی نہ سکیں تھیں کہ سلطان شاہ نے عالیہ شاہ اور اذلان شاہ کی نسبت ٹھرا دی تھی" یہ ذیادتی ہے پیر صاحب دونوں کے ساتھ" شاہ بی بی اجتجاجا بولیں تھیں" کوئی ذیادتی نہیں کنواری رہنے سے بہتر ہے کہ کسی سے اس کی شادی ہوجائے اور ویسے بھی مرد کے سامنے عورت چھوٹیہی لگتی ہے" سلطان شاہ نے ان کے احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دی تھیاذلان شاہ کو انہوں نے اپنے اصولوں کے مطابق پروان چڑھایا تھا وہ باپ سے ذیادہ ماں سے قریب تھا گزرتے وقت کے ساتھ بچے بڑے ہوگئے شاہ بی بی کی گود میں کمال شاہ اور احمد شاہ کا اضافہ ہوچکا تھا تو اعظم کے ہاں تانیہ شاہ اور نازیہ شاہ کاشاہ بی بی نے کمال کی نسبت بنین شاہ سے طے کردی تو سلطان شاہ نے احمد شاہ اور تانیہ کا نصیب ساتھ ملا دیااکبر شاہ اور گوہر شاہ کی شادی کا وقت آیا تو سلطان شاہ نے اذلان شاہ کو بھی بلا بھیجا تھا" با با ...تیار ہوجاؤ اب گھر بار والے ہونے جا رہے ہو" سلطان شاہ اسے پسندیدگی سے دیکھتے ہوئے بولے اٹھارہ برس کا بھر پور شیر جوان ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا تھا" کیا مطلب بابا جان" اذلان حیرانگی سے بولا" تمہاری شادی بھی اکبر شاہ کے ساتھ ہی ہوگی عالیہ شاہ کے ساتھ" سلطان شاہ نے دھماکہ کیا" کیا " اذلان شاہ تو ہل ہی نہ سکا" اماں جان یہ کیا کہہ رہے ہیں بابا جان میری شادی میرے ساتھ کے لڑکے ابھی پڑھ رہے ہیں اور میری شادی .....وہ بھی عالیہ شاہ سے " اذلان شاہ پریشانی سے بولا تھااپنی یہ کزن اسے ایک آنکھ نہ بھاتی تھی سارا دن ملازماؤں پہرعب جماتی نت نئی سزائیں دیتی انہیں عجیب حاکمانہ رویہ تھااذلان شاہ کا انکار حویلی والوں کیلئے صور اسرافیل ثابت ہوا قیامتآگئی تھی ایک" بہت خوب اس لئے تمہیں پڑھایا کہ تم انکار کی جرات کرسکو یاد رکھو اگر تم عالیہ سے شادی نکاح نہیں کروگے تو گوہر کی بھی شادی نہیں ہوگی " سلطان شاہ کی دھمکی نے اذلان شاہ کے سارے احتجاج ختم کر دئیے تھےاس نے عالیہ شاہ سے شادی کرلی تھی بہن کی خوشیوں کیلئے وہ جانتا تھا اس کا باپ کتنا ضدی ہے ....عالیہ شاہ ایک عذاب کا نام تھا جو ہر وقت اس پہ مسلط رہتا تھا اذلان کہاں جاتا ہے کیا کھاتا ہے کس سے ملتا ہے عالیہ ہر وقت اسی ٹوہ میں رہتی تھی اذلان شاہ دو ہفتوں میں ہی تنگ آگیا تھا اس لئے شہر جانے کو تیار ہوگیا تھا عالیہ شاہ نے سنا تو اس کے سرپہ پہنچ گئی تھی" میں بھی چلوں گی شہر آخر کو بیوی ہوں" وہ جیسے اذلان کو یہ بات حفظ کرانا چاہتی تھی" ہم شہر میں پڑھنے جا رہے ہیں ...وہاں آپ کا کیا کام آپ حویلی میں رہیں" اذلان شاہ حتی الامکان برداشت سے کام لیتا تھا" ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کہاں رہنا ہے اور کہاں نہیں. ...صاف کہو کہ شہر میں دوسریوں کو بھی وقت دینا ہے بھلا میں بوڑھی تمہیں کیا دوں گی" عالیہ شاہ چیں بہ چیں ہو کے بولی" منہ سنبھال لے بات کریں ....ہم سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی" اذلان نے بنا لگی پٹی کے کہاعالیہ شاہ کے تلوے پہ لگی اور سر پہ بجھی اس کے آمرانہ مزاج کے آگے کسی کی نہ چلتی تھی فورا اس نے وہ واویلا کیا کہ سلطان شاہ نے اسے اسی وقت اذلان شاہ کے ساتھ بھیج دیا تھاعالیہ کو ہر وقت اپنی بڑھتی عمر کا احساس رہتا تھا اذلان شاہ جو ابھی جوانی کی منزلوں پہ قدم رکھ رہا تھا وہ اسے سب سے چھپانا چاہتی تھیشہر آکے بھی ہر وقت وہ اذلان شاہ کی جاسوسی کرتی کہ کہیں وہ کسی اور لڑکی کے چکر میں تو نہیں اذلان اسے سمجھا سمجھا کے تھک چکا تھا مگر عالیہ دن بدن زہریلی ہوتی جارہی تھی اذلان کا دل گھر آنے کو قطعا نہ کرتا تھا وہ گھر نہیں اسے پاگل خانہ لگتا تھا جہاں عالیہ شاہ جیسی پاگل عورت تھی مگر اسے جانا پڑتا تھا یوں بھی ان دنوں عالیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی اذلان چاہتا تھا وہ حویلی چلی جائی مگر عالیہ نے تو جیسے اس کی نافرمانی کی قسم اٹھا رکھی تھی اس حالت میں بھی اسے چین نہ تھااذلان کہ امتحان ہونے والے تھے موبائل آف کئے وہ سب دوست کمبائن اسٹڈی میں مصروف تھے دیر ہونے پہ عالیہ اس کا نمبر ملا ملا کے تھک گئی اور اپنا بی پی شوٹ کرلیا تھا اذلان گھر آیا تو عالیہ کی حالت خراب دیکھ کے وہ اسے فورا اسپتال لے گیا تھا اب عالیہ کی زندگی ہی اتنی تھی یا قدرت کو اذلان پہ رحم آگیا تھا عالیہ ایک بچے کو جنم دینے کے بعد یہ دنیا چھوڑ گئی تھیاذلان شاہ ڈیڈ باڈی اور بچے سمیت جاگیر گیا تو چاچی نے اسے عالیہ کی موت کا زمہ دار اٹھایا تھا اور بچے کی کسٹڈی کا مطالبہ کردیا تھا" ہرگز نہیں عالیہ ایک بیمار ذہن کی عورت تھی وہ اپنے جنون کے ہاتھوں ختم ہوئی ہے ....اپنا بچہ میں اس حویلی میں نہیں دوں گا تاکہ ایک اور عالیہ شاہ بنے نو وے " اذلان شاہ کے تیور بدل چکے تھےاس نے سفیان نام رکھا تھا اپنے بیٹے کا انیس سال کی عمر میں وہ ایک بچے کا باپ بن چکا تھا وہ اپنے بچے کو اس فرسودہ نظام سے بہت دور رکھنا چاہتا تھا اسے ابتدا سے نرسری کے بعد سوئیزرلینڈ بھیج دیا تھا وہ وہیں رہتا تھا سالانہ چھٹیوں میں لاہور تک آتا تو دادا دادی وہیں مل لیتے تھےوقت کے تھال میں چند سکے اور گرے پیر سلطان شاہ کے انتقال کے بعد پیر اذلان شاہ کو گدی پہ بٹھا دیا گیا تھا .اذلاننے جاگیر کے معاملات کے ساتھ پڑھائی بھی مکمل کی تھی زراعت کے شعبے میں ڈگری لینے کے بعد اس نے سی _اےاپنے ذاتی شوق کی بنا پہ کیا تھا اس کی ذندگی اب جاگیر اور لوگوں کہ معاملات کے گرد ہی گھموتی تھی اپنی ذاتی ذندگی تو کہیں رہی نہیں تھی سب نے کتنا چاہا تھا کہ وہ دوسری شادی عالیہ شاہ کی چھوٹی بہن نازیہ شاہ سے کرلے مگر اذلان کیلئے ایک تلخ تجربہ ہی کافی تھا وہ اپنی زندگی سے مطمئن تھا اب کم ازکم سکون تو تھا مگر اس سکون میں ایلاف نامی پتھر نے ہلچل مچادی تھی_____________________________________" امیراں ....بی بی ٹھیک ہے" اذلان شاہ آج دو دن بعد شہر لوٹا تھا اور گھر پھنچتے ساتھ ہی ایلاف کا پوچھا تھااب یہ شاہ بی بی کی باتوں کا اثر تھا یا وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایلاف یہاں موجود ہے یا جاچکی ہے" صاحب جی ....وہ بی بی مجھے تو کسی اور سیارے کی مخلوق لگتی ہے نہ بولتی ہے کچھ نہ کھاتی پیتی ہے بس منہ سر لپیٹے پڑی رہتی ...نہ ہماری بات کا جواب دیتی ہے" امیراں بھڑک کے بولیپچھلے دو دن سے ایلاف نے ایک لقمہ توڑ کے نہ دیا تھا اور نہ کسی بات کا جواب بس چپ چاپ منہ سر لپیٹے اشک بہائی جاتی اب تو آنسو بھی خشک ہوچکے تھے" کیا بیوقوف عورت ...کم ازکم مجھے تو بتایا ہوتا اس کی حالت کا " اذلان شاہ پریشانی سے بولااور اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں ایلاف کا مسکن تھا" لو کر لو گل .....میں کہاں سے بتاتی مجھے کونسا آرڈر دے کےگئے تھے" امیراں بڑبڑائیاذلان کمرے میں داخل ہوا تو ایلاف بے سدھ پڑی تھی بیڈ پہ رنگت خطرناک حد تک پیلی پلکیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئیں تھیںاذلان شاہ پریشانی سے اس کی طرف بڑھا" ایلاف ....ایلاف بی بی " اس نے اپنے پر حدت ہاتھوں میں ایلاف کاہاتھ تھاماایلاف کا پورا جسم برف کی طرح سرد تھا وہ ہوش وحواس سےمکمل بیگانہ تھی دو دن کے فاقے نے اس کی یہ حالت کردی تھی اپنے آپ کو خود بھی سزا دی تھی

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/