Monday, July 23, 2018

یہ جنو ن منز ل عشق کا قسط 7

http://novelskhazana.blogspot.com/




قسط_07از فرحت نشاط مصطفےکوئی ایسی تھی نہ خطا میریہوئی ختم کیوں نہ سزا میریجو سلوک مجھ سے کیا گیامیری ہر گھڑی میں وہ آب ہےجو نہ دھل سکے جو نہ مٹ سکےمیری زندگی میں وہ داغ ہےاذیت سے ایلاف پتھر کی ہورہی تھیاتنی بے عزتیاتنے گھٹیا الزامکیا آسمان بھی نہ کانپازمین بھی نہ پھٹیکیوں حوا کی بیٹی کو رسوائیاں سمیٹنے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہےہاں مگر اس کا قصہ تھوڑا مختلف ہوگیا تھا اسے ایک رشتے کی دوڑ میں باندھ کے دھتکار دیا گیا تھا اس کا نکاح کر دیا گیا تھا" اور کیا میں ساری زندگی اس شخص کے سامنے سر اٹھا سکوںگی یہ تو میری رسوائیوں کا گواہ ہے" ایلاف نے اذیت سے سوچاواپسی کا سفر ایک بار پھر شروع ہوچکا تھا راستے وہی تھےلوگ وہی تھےمگرانداز بدل چکے تھےحالات بدل چکے تھےیہ گلیاں یہ چوبارے جن میں ایلاف سر اٹھا کے فخر سے چلتی تھی آج اس کیلئے ذلت کا وہ پل صراط بن چکے تھے جو اذلان شاہ کے سنگ اس نے پار کیا تھا اس کی عزت نفس پہ وہ وار ہوا تھا کہ ایلاف ایک زخمی ناگن کی مانند بلبلا کے رہ گئی تھیگاڑی کے نزدیک پہنچنے پہ ہی اذلان شاہ کی خاموشی ٹوٹی تھی" داد شاہ تم لوگ اب دوسری گاڑی میں بیٹھو اس میں صرف ہم سفر کریں گے" اذلان شاہ نے اسے محافظوں کی گاڑی میں بیٹھنے کو کہا تھاجو بھی تھا حالات جیسے بھی تھے ان کے گھرانے کا یہ اصول تھا خواتین ہمیشہ پردے میں رہ کر سفر کرتیں تھیں اور محافظ ہمیشہ اس گاڑی کے پیچھے ہوتے تھے جس میں شاہوں کی بیوی بیٹی ہوتیں تھیں اور ایلاف اس کی اب عزت تھی چاہے اس رشتے کی اہمیت کچے دھاگے سے بھی کمزور تھیداد شاہ سر ہلاتا ہوا پیچھے جا چکا تھا ایلاف خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ چکی تھی مگر اس کی روح سسک رہی تھی چیخنا چاہتی تھی وہ اذلان شاہ سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی اس کے دامن میں رسوائیوں کا حصہ دار وہ بھی تھا مگر وہ چپ تھی اذلان شاہ نے اگر اس کا مان رکھا تھا تو ایلاف بھی سر عام حساب کتاب نہیں کرنا چاہتی تھیگاڑی کسی مصروف شاہراہ پہ رکی تھی ایلاف جو چپ چاپ آنسو بہانے میں مشغول تھی آنسو کسی صورت رکنے کا نام ہی نہ لیتے تھے ٹپ ٹپ آنسو چادر کی اوٹ سے ایلاف کی ہتھیلیوں کو گیلا کررہے تھے برابر میں بیٹھا اذلان شاہ ناواقف تو نہ تھا وہ کوفت کا شکار ہورہا تھا اسے روتی دھوتیں لڑکیاں قطعا پسند نہ تھیں اور اس کے خیال میں اتنی مضبوط پناہ مل جانے کے بعد ایلاف کا واویلا بیکار ہی تھامگر اذلان شاہ کیا جانےکہ جن کے پاس واحد دولت عزت کی ہے اور بیچ چوراہے پہ اس کی بولی لگا دی جائے تو اس کی اذیت وہی جان سکتا ہے جس پہ یہ گزرےگاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی تو ایلاف کچھ چونکی پتہ نہیں کون سی سڑک تھی گاڑیوں اور لوگوں کا ایک ہجوم تھا بے فکر ہنستے مسکراتے لوگ ایلاف کا دل چاہ رہا تھا وہ ایک ایککو روکے اور پوچھے دیکھو دیکھی تم نے ایسی دلہن جس کے جہیز میں بدنامیوں کے ٹوکرے اور بری میں یہ سیاہ چادر جو میرے وجود کو توڈھانپتی ہے مگر میری روح پہ بار ہے وہ لوگوں کو گزرتے دیکھ کےنہ جانے کیا کیا سوچتی ر ہی اور یہ سفر بھی تمام ہوا تھاگاڑی ایک کشادہ علاقے میں بنے خوبصورت بنگلے کے سامنے آٹہری تھی اذلان شاہ بنا کچھ کہے گاڑی سے اتر آیا تھا ایلاف نے بھی اس کی تقلید کی تھی وہ تیز قدموں سے چل رہا تھا اور ایلاف اس کے پیچھے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہیتھی" کیا ساری ذندگی میں ہمیشہ اس شخص کے پیچھے ہی چلتی رہوں گی ہم دریا کے دو کناروں کی طرح ساتھ تو چلیں گے مگر یہ سمندر سا شخص مجھ دریا سی لڑکی میں کبھی نہیں آملے گا" ایلاف مکمل احساس کمتری کی ذد میں تھیکوٹھی باہر سے جتنی شاندار تھی اندر سے بھی وہ مکینوںکی اعلی پسند کا منہ بولتا ثبوت تھی" امیراں" اذلان شاہ نے آواز دی تھی" حاضر پیر صاحب" ایک عورت جو یقینا امیراں تھی حاضر تھی" ان بی بی کو سامنے والے کمرے میں لے جاؤ" اذلان شاہ نے دائیں طرف بنے کمروں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا" بی بی پروہنی)مہماں( نہیں " امیراں اشتیاق سے بولی اگر مہماں ہوتی تو لازمی گیسٹ روم کی طرف اسے لے جانے کا حکم ملتا اسے" جتنا کہا جا رہا ہے اتنا کرو امیراں ...یہ جو بھی ہے تمہارا درد سر نہیں " اذلان شاہ برہمی سے بولا" تو تم میری حیثیت کا تعین نہیں کروگے اور کروگے بھی کیوں میں تمہاری طرح اونچے شملے والوں کی بیٹی نہیں ہوں نا...تم بھی عام نکلے سوچ رہے ہوگے کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھؤوگے تو بھول ہے تمہاری ایلاف محبوب اتنی بھی سستینہیں" ایلاف نے تلخی سے سوچااسے یہ تو معلوم تھا کہ اذلان شاہ اور اس کا رشتہ اتنی آسانی سے نہ نبھے گا مگر وہ تو اس رشتہ کا اقرار ہی نہ کر رہا تھاایلاف کی عزت نفس کو ایک ٹھیس اور لگی تھیوہ بھاری قدموں سے امیراں کے ساتھ چل پڑی تھی_____________________________________" تسی کون ہو جی ....پہلے تو نہیں دیکھا آپ کو" امیراں کو کھد بد لگی تھی" یہ سوال جا کے اپنے صاحب سے پوچھو میں یہاں تمہارا سوالنامہ حل کرنے نہیں آئی " ایلاف برہمی سے بولیامیراں نے غور سے اسے دیکھا سیاہ چادر لپیٹے اس نے گھریلو لباس کے بجائے کالج کا یونیفارم پہن رکھا تھا اور چادر بھی اذلان شاہ کی تھی امیراں اس لئے تجسس میں پڑ گئی تھی مگر دونوں طرف سے اسے پھٹکار ہی ملی تو منہ بناتے ہوئے وہ چلی گئی تھیایلاف نے دیکھا وائٹ اور بلیو اسکیم سے سجا سادہ مگر آرام دہ کمرہ تھا ڈبل بیڈ جس پہ بلیو بیڈ شیٹ تھی دائیں طرف الماری تھی بائیں جانب کھڑکی تھی جس کی طرف صوفہ سیٹ رکھا تھا ایلاف تھکے تھکے انداز میں بیڈ پہ گر گئی تھیبارہ بجنے کو تھے اور ایلاف صبح کے ناشتے پہ تھی رو رو کے سر الگ درد سے پھٹا جارہا تھا اوپر سے یہ احساس ہی اس کی جان نہیں چھوڑ رہا تھا کہ وہ کسی کے سر پہ ذبردستی مسلط کر دی گئی ہے کسی اور کی خطاؤں کا خمیازہ وہ بھگت رہی تھی" پیر جی کھانا لاؤں " امیراں اذلان شاہ کے کمرے میں جا کے اس سے پوچھ رہی تھی جو آرام کرسی پہ بیٹھا اپنی کنپٹیاں ہولےہولے دبا رہا تھا" یہ کونسا کھانے کا وقت ہے .....ایسا کرو مجھے کافی دے دو ساتھ میں پین کلر بھی" اذلان شاہ کھانے سے انکار کرتے ہوئے بولا" لو تو یہ کافی کا بھی کونسا ٹیم ہے " امیراں بڑبڑائی پھر اونچی آواز میں بولی" خیر سے ڈنر کر کے آئے ہیں ان بی بی کے ساتھ انہیں بھی دے دوں کافی"کرسی پہ جھولتا اذلان شاہ ساکت ہوگیا تھا " اوہ ...شٹ....سنو امیراں کھانا لے جاؤ اس کیلئے ...ایک تو یہ پتا نہیں کونسا امتحان ہے" اذلان شاہ بیک وقت متضاد کیفیت کا شکار تھا کبھی ایلاف سے ہمدردی محسوس ہوتی اور اس اس سسٹم سے چڑنہ ہوتیں یہ فرسودہ روایات تو خواہ مخوا میں ایلاف کو اس کے سرنہ تھوپا جاتا اور کبھی اسے ایلاف پہ غصہ آتا کیا ضرورت تھی اسے کسی کی مدد کرنے کی نہ کرتی آج کے دور میں کون کسی کو پوچھتا ہے" اچھا جی " امیراں سر ہلاتی ہوئی مڑ گئی تھیکھانا لے کے کمرے میں گئی تو ایلاف اوندھے منہ بستر پہ گری تھی چادر پھیلا رکھی تھی حالانکہ کمبل سرہانے ہیرکھا ہوا تھا" بی بی کھانا کھا لو " امیراں اس کا شانہ ہلاتے ہوئے بولی" کھانا " ایلاف بڑبڑائی" جی کھانا کھاؤ" امیراں کو وہ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق لگ رہی تھی جو کھانے کے نام پہ حیران تھیایلاف بمشکل اٹھی تھی گو کہ دل نہیں چاہ رہا تھا مگر روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے پیٹ کا جہنم بھرنابھی تو ضروری تھاوہ کھانا کھا کے فارغ ہوئی تھی تو امیراں برتن لے گئی تھی چائے کا پوچھا تو اس نے ساتھ میں گولی بھی مانگ لی تھی" کونسے درد لگے ہیں ان دونوں کو جو گولی مانگ رہے ہیں " امیراں حیرانگی سے سوچ رہی تھی" تم سے بھی حساب کتاب کرنے ہیں اذلان شاہ تمہیں اپنا وکیلبنایا تھا اور تم اتنی آسانی سے ہار گئے سارے فساد کی جڑ تمہارا خاندان ہے" ایلاف کے جسم میں کچھ توانائی آئی تو دماغ بھی چلنے لگاگھڑی دیکھی رات کا ایک بجنے والا تھا اور آج ایلاف کی ساری نمازیں قضا ہوچکیں تھیں علاوہ فجر کےباتھ روم جا کے وضو کیا اور ساری نمازیں ادا کیں تھیں آخری سلام میں اسے لگا تھا کہ کوئی کمرے میں داخل ہوا ہے شاید وہی ملازمہ ہو ایلاف نے اپنا دھیان نماز میں لگایا آج کے دن تو کچھ بھی اچھا نہیں ہوا تھا کبھی نماز قضا نہیں ہوئی تھی اور آج یکمشت ساری" میرے مالک میں نہیں جانتی مجھے اس آزمائش میں آپ نے کیوں ڈالا میں ہمیشہ آپ کی رضا میں راضی رہی کبھی شکوہ نہ کیا پھر کیوں میرے ساتھ ایسا ہوا ایک اپنے کردار کا وقار ہی تو مانگتی تھی" ایلاف دعا نہیں شکوہ کر رہی تھی آخر کو آدم ذادتھی ہر آزمائش ہمیں پہاڑ سی لگتی ہے جب کہ یہ حقیقت ہے کہ بلندی پہاڑوں پہ چڑھے بغیر نہیں ملتی کتنی عجیب فطرت ہے انسان کی ہم.سیراب بھی ہونا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ بارش ہمیں نہ بھگوئے سمندر کی نمکینیت سے چکھے بغیر سیپ میں چھپے موتی ملا نہیں کرتے مگر ہائے انسان ہم ہیں نادانایلاف جائے نمازتہہ کر کے اٹھی تو سامنے اذلان شاہ کو موجود دیکھ کے ساکت رہ گئی"یہ یہاں اس وقت کیا لینے آئے ہیں " ایلاف حیران سی ہوئی”آپ" ایلاف نے اتنا ہی کہا" ہاں ایلاف ہم کچھ باتیں کرنی ہیں تم سے " اذلان شاہ بہت سنجیدہ تھا" کیا بات کرنی ہے اب بات کرنے کو رہ کیا گیا جب آپ سے بات کرنے کو کہا تب تو آپ کر نہ سکے اب کیا بات کریں گے آپ" ایلاف طنزیہ بولی" ایلاف بی بی وہ لوگ آپ کی نہیں سن رہے تھے آپ کے ہو کے تو میں تو پھر باہر کا آدمی تھا میری کیا حیثیت تھی ان کے سامنے" اذلان شاہ سنجیدگی سے گویا ہوا" حیثیت....ساری بات اس حیثیت کی ہی تو ہے پیر صاحب آپ اونچے شملے والے کچھ بھی کرتے پھریں آپ پھر بھی اعلی کردار مگر ہم بے چارے مارے جاتے ہیں کاش آپ لوگ اپنی اولادوں کو دولت کی فروانی دینے کے ساتھ عزت کے مفہوم بھیسمجھا پاتے" ایلاف کے ایک لفظ لفظ میں تلخی تھی" کہنا کیا چاہ رہی ہیں آپ ہم نے ماناکہ آپ کے ساتھ ذیادتی ہوئی مگر اس کا ازالہ ہوچکا ہے ایلاف بی بی " اذلان شاہ تنفر سے بولابیٹھے بٹھائے چھ فٹ کا ذی حیثیت مرد اسے مل چکا تھا پھر بھی اس کا نخرہ کم نہیں ہورہا تھا" مطلب یہ پیر صاحب اپنی نسلوں کو یہ سبق بھی پڑھایا کریں عزتیں سب کی سانجھیں ہوتیں ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے اپنی عورتیں پردیں میں رکھیں اور دوسروں کی چادریں اتارتے پھریں ....یا پھر یہ آپ لوگوں کی فطرت منہ چھپا کے ڈاکے ڈالنا " ایلاف کی ساری کھولن باہر نکل رہی تھی اس کے الفاظ نے اذلان شاہ کا دماغ گھما دیا تھا" کیا بکواس ہے منہ سنبھال کے مخاطب ہوئیے ہم سے ہم اس لہجے کے عادی نہیں ہیں ....آپ کو اپنے نام کی چھاؤں دی آپ کوہمارا شکر گزار ہونا چاہئے الٹا آپ ہمیں بھی رگید رہیں ہیں" اذلانشاہ برہمی سے اس کے کندھوں پہ اپنی انگلیوں کا دباؤ ڈالتے ہوئے بولا" کیوں نہ رگیدوں میں آپ کو آپ کا فرض ہے نا یہ کہ اپنے چھوٹوں پہ نظر رکھیں آپ کو گدی پہ دوسروں کے عیبوں پہ پردہ ڈالنے کیلئے نہیں ان کی اصلاح کیلئے بٹھایا گیا ....مگر آپکسی کی کیا اصلاح کریں گے جو اپنے گھر والوں کو ہی نہ کچھ سکھا سکا وہ کسی اور کو کیا سکھائے گا " ایلاف تکلیف سی چیخی"جسٹ شٹ اپ ....یو سلی گرل تم اس قابل ہی نہیں تھیں کہ تمہیں ہم اپناتے تمہارے لئے وہ قادر بخش ہی ٹھیک تھا...." اذلان شاہ نے اسے جھٹکے سے چھوڑا تو وہ سیدھی بیڈکے کنارے پہ گری تھی" میں کس کے قابل ہوں یا نہیں یہ مسئلہ میرا تھا آپ جائیے جاکے اپنا گھر سدھارئیے ورنہ کس کس کو اپنے نام کی پناہ دیتے رہیں گے یا پھر آپ لوگوں کا کام ہی یہی ہے ایک کرتا ہے دوسرا اس کی پردہ پوشی کرتا ہے " ایلاف چٹخ کے بولیاچھا ہے انہیں بھی تو پتہ چلے کہ جب کسی کی کردار کی دھجیاں کوئی خطا نہ ہونے کے باوجود اڑائی جاتیں ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے ??? اس وقت ایلاف کے دماغ میں یہی تھا"تم....کیا چاہ رہی ہوں ہاں جتنا آپ مجھے کہہ رہی ہیں یہ میری شرافت ہے کہ میں کچھ کہہ نہیں رہا ....آپ کیلئے بہتر ہوگا کہ آپ چپ کرجائیں رائی ہوتی ہے تو پہاڑ بنتا ہے اس قصے میں آپ بھی قصور وار ہیں جب آپ کو اپنی کزن کے کرتوت معلوم تھےتو آپ نے بتایا کیوں نہیں اپنے ماموں کو ....اس حساب سے تو آپ نے بھی پردہ پوشی کی ....پھر تو ہم دونوں کا حساب برابر ہوا ....تو واویلا کیوں ایلاف بیگم" اذلان شاہ کی شہد رنگ آنکھیں اس وقت لہو میں ڈوبی ہوئیں تھی جنہیں وہ ایلاف کی سبز آنکھوں میں گاڑ کے بول رہا تھا کمال کے ضبط کے ساتھ" واہ کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹہری ....بہت خوب اور تبھیآپ اس رشتے کی بھنک کسی کو لگنے نہیں دے رہے ...یہ مداوا کیا ہے آپ نے اس ذیادتی کا کیوں چھپا رہے ہیں اس رشتے کو...کیا حیثیت ہے میری اس پورے منظر نامے میں تو پیر خرم شاہ کادامن تو بالکل کورا ہے اور آپ ....آپ کو تو کھلونا مل گیا میری شکل میں مگر یاد رکھیں میں ایلاف ہوں اتنی آسانی سے حاصل نہیں کرسکتے آپ مجھے" ایلاف سے جب جواب نہ بن پڑا تو جو منہ میں آیا بولتی چلی گئیاحساس تب ہوا جب اذلان شاہ کے فولادی حصار کا اندازہ ہوا" آپ کو کیا لگتا ہے حاصل کرنا عورت کو بہت مشکل ہے...اونہوں قطعا نہیں ...بلکہ یہ تو سب سے آسان کام ہوتا ہے مردوں کیلئے ....آپ کو کیوں یہ خوش فہمی لاحق ہوئی کہ اذلان شاہ کو آپ کے قرب کی چاہ ہوگی ہاں ...وہ بھی اس عورت کی جو اتنے سارے سوالیہ نشانات کے سامنے ہمارے پہلو میں ہے...ابھی تو ہم آپ کی حیثیت کا تعین اپنی زندگی میں نہیں کرپائے...کجا کہ آپ کے ساتھ جسم و جان کا رشتہ ہوں ....ایسے ہی پہلو آباد کرنا ہوتا تو بہت ملتیں ہیں ...مگر اذلان شاہ کا معیار یہ نہیں اس لئے آئندہ محتاط رہئیے گا ...ورنہ سارے خسارے آپ ہی کے حصے میں آئیں گے" اپنی گرفت میں اسے جکڑے اس نے ایلاف کو اچھی طرح اس کا مقام باور کروا دیا تھاایلاف نے جھٹکے سے اس کا حصار توڑا تھا ایک اور وار اس کیخودداری پر" ارے پیر صاحب جائیں ....پستیوں میں جو آپ کا چہرہ دیکھ چکا ہو اسے اپنے معیار کی بلند یوں کی کہانی نہ سنائیں ....ایلاف محبوب ہوں میں کبھی مر کے بھی ایسے شخص کی چاہ نہیں کرسکتی ...آپ کے احسانوں کی ضرورت نہیں مجھے " ایلاف تنفر بھرے لہجے میں بولی تھیکیا سمجھ رہا تھا یہ شخص اسے" آپ کو ہم نے اپنے نام کی پناہ دی ہے ....یہ یاد رکھیں ....ہمیں کوئی شوق نہیں آپ کو اپنے سر پہ مسلط کرنے کا نہیں رہنا چاہتیں یہاں تو بتا دیں ....آپ آذاد ہیں جہاں جانا چاہیں چلی جائیں ہمارا نام اتنا بے مول نہیں کہ ہر کوئی راہ میں لے کے گھومے" اذلان شاہ نے بھی اینٹ کا جواب پھتر سے دیا تھا اور کمرے کا دروازہ کھول کے باہر نکل گیا تھا" یہ عورتیں مجھے پاگل کردیں گی ....سچ ہے مرد کو مرد ہی نہیں رہنے دیتیں" اذلان شاہ آج برسوں بعد اتنے طیش میں آیا تھاکیا سمجھ رہی تھی ایلاف وہ بیوقوف جس کی مدد کی کہ وہ اپنی نیکی کا خراج وصول کرنے آیا ہے رات کے اس پہر ....وہ ملازموں کے سامنے کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا جانتا تھا ایلاف ایسا ہی ردعمل دے گی مگر ایلاف اس کی باتوں نے اذلان شاہ جیسے متحمل مزاج آدمی کو غصے کی گہرائیوں میں اتار دیا تھا اگر وہ تھوڑی دیر اور وہاں رہتا تو یقینا ایلاف کی جان آج مشکل میں پڑ جاتی" رمضان او رمضان" سرونٹ کوارٹر کی طرف جاتے ہوئے اذلان نے ڈرائیور کو پکارا" جی ....جی سائییں" ڈرائیور بے چارا آنکھیں مسلتا ہوا نیند سے اٹھتے ہوئے آیا تھا" گاڑی تیار کرو فورا جاگیر جانا ہے ....پانچ منٹ میں" اذلان شاہ نے حکم دیا تھااور تھوڑی دیر بعد گھر سے نکل گیا تھاپیچھے ایلاف بچی تھی اس کا صدمے سے برا حال ہورہا تھا" کیا سمجھتے ہیں یہ مرد اپنے آپ کو ....کیا سمجھا اس نے مجھے کہ میں چاہوں تو کسی کے پاس بھی چلی جاؤں ....یا خدایا پناہ دینے والے بھی ایسی باتیں کرتے ہیں ....یہ بھی میرےکردار پہ شک کر رہا ہے ....خدایا موت دے دے مجھے نہیں جینا مجھے ....خودکشی حرام رکھی ہے تو موت آسان کردے....مجھے موت دے دے مالک" ایلاف مایوسیوں کی انتہا پہ تھییہ سوچے بغیر کے یہ سب اس کی زبان کے صدقے ہی اسے یہ سب سننے کو ملا تھاجاری ہے ........

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/