Monday, July 30, 2018

یہ جنون منزل عشق ہے قسط 11

http://novelskhazana.blogspot.com/



#یہ_جنون_منزلِ_عشق_ہے
قسط_11از فرحت نشاط مصطفے

ایلاف مارے صدمے کے کچھ کہہ ہی نہ سکی اسی پل امیراں بولتی ہوئی ان کے پاس آئی تھی" بڑی بی بی ....حویلی سے بنین شاہ بی بی کا فون ہیں ...آپ کو بلاتی ہیں....کچھ کام ہیں"شاہ بی بی کو اس کی مداخلت بے انتہا کھلی تھی" یہ حویلی کے بکھیڑے یہاں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑیں گے ... آتے ہیں ہم بیٹا" کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھ گئیں تھیںوہ دونوں اس وقت لان میں موجود تھیںپیچھے بچی ایلاف سوچ رہی تھی"تبھی تم بھاگ بھاگ کے حویلی جاتے تھے .....تمہاری روح سیراب ہے...اپنی جاگیردار اور خاندانی بیوی کے پاس....اور مجھے تم اپنی ماں نامی لالی پاپ سے بہلا رہے ہو" ایلاف کو پہلے ہی کل رات والے اذلان کے انداز پہ تپ چڑھی تھیاذیت سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھےوہ وہیں لان چئیر پہ بیٹھ کہ اپنا مشغلہ پورا کرنے لگیاذلان شاہ جو باہر جا رہا تھا نظریں یونہی لان کی طرف اٹھیں تو ایلاف کو روتا پایا" اب یہ کس کا سوگ منا رہی ہیں....تھکتی نہیں رو رو کے" کوفت سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے اذلان سوچ رہا تھاخواہ مخواہ میں ابھی کوئی دیکھ لے تو تماشہ لگے گا ملازموںکے سامنے جو پیر اذلان شاہ کو گوارہ بھی نہ تھا"کیا بات ہے کس خوشی میں آنسو بہائے جا رہے ہیں ....سکون نہیں ہے آپ کو" اذلان شاہ بیزاری سے بولا"اپنے نصیبوں پہ رو رہی ہوں...آپ کی ایک نئی خوبی پتہ چلی ہے اس پہ رو رہی ہوں..." ایلاف بھینچی ہوئی آواز میں بولی" ہماری خوبی ....?...دیکھیں صاف لفظوں میں بات کریں ...ہمیں آپ کے ساتھ کسوٹی کسوٹی کھیلنے کا کوئی شوق نہیں" اذلان شاہ کچھ حیرت سے بولایہ لڑکی ہمشہ مغز کی چولیں ہلاتی ہے"کسوٹی کا کھیل تو آپ میرے ساتھ کھیل رہے ہیں...جس میں روز ایک نیا چرخہ...ایک نیا انکشاف ...میں نے سوچ بھی کیسے لیاکہ کوئی چیز مجھے خالص اور صرف اپنی بھی مل سکتی ہے بھلا??? ....ہمیشہ ہی میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ جو بھی مجھے ملتا ہےاس میں پہلے سے ہی کسی اور ذات کی ملکیت کا احساس شامل ہوتا ہے....ٹھیک ہے میں ہوں ہی اسی قابل....بھلا ذلتوں اور رسوائیوں میں ڈوبی لڑکی کو پہلے سے شادی شدہ مرد کا ہی ساتھ مل سکتا ہے....تبھی آپ کو کوئی احساس نہیں...اور مجھے آپ نے سوالیہ نشان کی طرح سب کے سامنے رکھ چھوڑا ہے... کسی کو نہیں بتاتے میرے اور اپنے تعلق کے بارے میں" ایلاف کونسا کم تھی"اوہ ...تو یہ بات تھی ...آپ نے کبھی موقع دیا ہمیں کچھ بتانے کا...ہمیشہ اپنی کم عقلی سے کچھ نہ کچھ الٹا سیدھا کرتی رہتیں ہیں...ہم آپ جیسی کم عقل لڑکی کو کیوں صفائیاں دیں...آپ عورتیں ہوتیں ہی یوں ہے ...آدھی بات سن کے پورے افسانے گھڑنا ...عالیہ شاہ بھی ایسی تھی ....انہوں نے تومر کے پیچھا چھوڑ دیا تھا....آپ کس حساب میں ہماری جان بخشی کریں گی ...نہیں رہنا تو جا سکتی ہیں" اذلان شاہ نے اس کی طبیعت ہی صاف کر دی تھی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا تھایہ لڑکی کسی دن مجھ سے کچھ الٹا کروا کے رہے گیایلاف اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی" تو ان کی بیوی مر چکی ہے....اتنی بیزاری ...اتنا تغافل"شاہ بی بی فوم سن کے لوٹیں تو ایلاف کو اپنی جگہ مجسم پایا تھا" ایلاف....ٹھیک ہو"" جی ....ٹھیک ہی ہوں" ایلاف کا لہجہ خالی خالی سا تھاایک منٹ نہیں لگاتا یہ شخص مجھے اپنی زندگی سے باہر جانے کا آرڈر کرنے میں"لگتا ہے تم ہماری بات سن کے پریشان ہو مگر ہماری بات ابھی آدھی تھی ....پوری سن لو آدھی باتیں اور گواہیںاں زندگی کو صرف جہنم بناتیں ہیں" شاہ بی بی اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولیں"اذلان شاہ کا نکاح گیارہ برس کی عمر میں اپنے سے آٹھ سال بڑی عالیہ شاہ سے ہوگیا تھا .. عالیہ گوہر کی نند اور پیر خرم شاہ کی پھپھو بھی ہے. وہ اس دنیا میں اب نہیں اس لئے ہم زیادہ کچھ نہیں کہیں گے مگر جو جاننا ضروری ہے وہ جان لو تم ......" عالیہ شاہ دھیرے دھیرے اذلان شاہ کی پچھلی زندگی سے پردہ اٹھا رہیں تھیںاور ایلاف احساس ندامت کی گہرائیوں میں تھیکتنا غلط سمجھا تھااس نے اپنے محسن کواسے ہی راہزن سمجھتی رہی" ان رسم و رواج کی زنجیروں نے تو تمہیں بھی نہیں چھوڑا تمہیں بھی اپنے جال میں جکڑ لیا ... یہ رسم و رواج صرف قید کرنا تڑپانا جانتے ہیں بنا مرد اور عورت کی تفریق کے ...انہیں صرف قیدی چاہئیے بھلے سے کوئی بھی ہو"ایلاف شاکڈ تھیچٹانوں جیسا مضبوط اور بہتے پانیوں جیسے پرسکون شخص کی پچھلی زندگی میں کتنے طوفان چھپے تھےمگروہ اذلان شاہ تھااس نے کبھی واویلا نہیں کیارونا پیٹنا نہیں مچایا تھااپنے دکھ اپنے اندر ہی رکھے تھےپوری جاگیر کا مالک ہوتے ہوئےوہ اندر سے کتنا تنہا تھاایلاف کو آج پتہ چلا تھاوہ ایک صاف دل کی لڑکی تھی بدگمانی کی عینک اتری تو سارے منظر واضح ہونے لگے تھے" ہمارا بیٹا گو کہ ایک پورا نظام چلاتا ہے...مکمل ذمہ داری سے...مگر اس کی اپنی زندگی کا نظام کوئی نہیں اس نے اپنے آپ کو کاموں میں مصروف کر رکھا ہے....گھر آ کے کرے بھی کیا اور کس کیلئے آئے جب کوئی راہ دیکھنے والا نہ ہو... سفیان کو بھی اس نے ان فرسودہ رسم و رواج سے بچانے کیلئے اپنے سے دور کر رکھا ہے" شاہ بی بی کو اذلان کا اکیلا پن بہت کھلتا تھا" تانیہ شاہ جو احمد شاہ کی بیوی اور عالیہ شاہ کی چھوٹی بہن ہے وہ اور چھوٹی حویلی کے مکین سب چاہتے ہیں کہ اذلان شاہ اور عالیہ شاہ کی بہن نازیہ شاہ سے اس کا عقد ہوجائے .. مگر اذلان دوبارہ ان نفسیاتی اور عقل سے عاری لوگوں میں نہیں پھسنا چاہتا...پہلی بار مجبور تھا " شاہ بی بی اب اسے حویلی کے مکینوں کے بارے میں بتا رہیں تھیں" مجبور تو وہ میری دفعہ بھی تھے " ایلاف نے سوچا" مجھے کونسا اپنی خوشی سے اپنایا ہے""تمہیں یہ سب اس لئے بتایا کہ تم اذلان کی زندگی میں اچانک سی آئی ہو ...پیر خرم شاہ نے اچھا نہیں کیا مگر وہ کیا سمجھتا ہے ...اسے سزا ضرور ملے گی" شاہ بی بی نے بیا انکشاف کیا" تو کیا یہ بے خبر نہیں...انہیں سب معلوم ہے تو پھر رات اذلان شاہ کا وہ رویہ.. وہ شرط " ایلاف جو جھٹکا سا لگا تھاہائے ایلاف تیری زبان تجھے کسی دن مروائے گی" ایلاف آج تم ہم سے وعدہ کرو تم اذلان شاہ کی حقیقی معنوں میں ایک اچھی ہم سفر ثابت ہوگی....شادی ایک بار ہی ہوتی ہے چاہے جیسے بھی حالات ہوں....خاندانی لڑکیاں پھر ساری زندگی اسے نبھاتی ہیں ....تم بھی خاندانی ہو...اعلا نہ سہی مگر ایک شریفگھرانے سے .. تو ہم توقع رکھیں تم سے کچھ? " ظاہر ہے شاہ بی بی اس سے یونہی تو مغز ماری نہیں کر رہیں تھیں" میں" ابھی تو یہ مجھے فیصلہ کرنے کا کہہ کے گئے ہیں اوران کی اماں وہ ساری زندگی ہم دونوں کو ساتھ کرنا چاہتی ہیں" ایلاف نے سوچاپھر اس نے کچھ کہنا تو تھا ہی" آپ کو لگتا ہے میں اس قابل ہوں" ایلاف نے پوچھ ہی لیا" خدا نے جب تم دونوں کا ساتھ لکھ دیا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے قابل ہو ...تم دونوں کو رسمو رواج کی مار پڑی ہے....تم دونوں کا درد ایک ہے...درد سے درد ملےگا....تو ہی مداوا ہوگا " شاہ بی بی نے کہا"میں بھی رہنا چاہتی ہوں پر میں نے بہت بیوقوفیاں کیں ہیں"" تو مداوا کر لو اسے اپنا احساس دلاؤ مگر اس پہ حاوی مت ہو مرد عورت کا ساتھ برداشت کرتا ہے اس کی حاکمیت نہیں " شاہ بی بی نے انصاف پسندی سے کام لیا تھاتبھی ابراہیم کی بیوی شازمہ چلی آئی تھی" کیسی ہیں بھابھی آپ" اس نے کہا تھااور ایلاف بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھیاسے بھی معلوم ہے" ٹھیک .." مرے مرے انداز میں اس نے کہاشازمہ شاہ بی بی کو دیکھ کے سمجھ گئی تھی کہ اذلان نےاس رشتے کو کچھ آگے بڑھایا ہے اس لئے اس نے ایلاف کو اسیرشتے کے حوالے سے پکارا تھا" اوہ...شازمہ بی بی تساں....اتنے دنوں کے بعد اس دن کے بعد آئیں ہی نہیں....پتہ ہے بی بی جی ایلاف بی بی کو ساری شادی کی شاپنگ انہوں نے کرائی ہے" امیراں نے کہا تو ایلاف اس کی شکل دیکھنےلگی تھیکیا یہ بھی جانتی ہےتو خبر کسے نہیں?ایک میں ہی بےخبر ہوں?ایلاف پہ تو آج حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے______________________________ایلاف مداوا کرنا چاہتی تھی مگراذلان نے اسے موقع ہی نہ دیا تھا ابھی وہ گھر میں ٹکتا ہی نہ تھی کبھی کہاں تو کبھی کہاں" اس شخص کے پاؤں میں چکر ہے" ایلاف جل کے سوچتیآج بھی پورے ہفتے بعد چھٹی کے دن وہ ان کے ساتھ ناشتے پہ تھا" بس شاہ سارا کام ختم کرو اور جاگیر چلنے کی تیاری کرو تمہارا ولیمہ کرنا ہے" شاہ بی بی نے دونوں کے سر پہ بم پھوڑا"کس کے ساتھ " اذلان شاہ نے پوچھ لیا تھا" کیا ہوگیا ہے آپ کو....جس سے نکاح کیا ہے اسی سے ولیمہ بھی ہوگا لازمی سی بات ہے" شاہ بی بی کو قطعا اس کا انداز نہ بھایا تھا" پہلے ان سے پوچھ بھی لیں کہ یہ رہنا بھی چاہتی ہیں کہ نہیں .. کیوں اپنا تماشہ بنوائیں گی.....انہیں تو عادت ہے تماشہ کرنے کی" اذلان نے اپنی کھولن ایلاف پہ انڈیلی تھی" لوگ بہت خوش فہمیوں میں ہیں....اماں سائیں.. ہم قیامت تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے لوگ سن لیں " اسے بھی لوگ ایلاف بی بی کہتے تھے" لوگ" آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے" اوہو....کیا ہوگیا ہے آپ دونوں کو....اذلان شاہ ہم اپنے گھر کی خاک اٹھا کے باہر نہیں ڈالتے تو یہ تو پھر آپ کی عزت ہے...آپ نے اسے اپنے نکاح میں لیا ہے تو اب نبھائیں بھی...ہم فیصلہ کرچکے ہیں بس کل نکل چلیں گے ....پیچھے سارے مسئلے بنین کی جان کو لگے ہوں گے " شاہ بی بی اتنے دنوں میں ایلاف کی ٹریننگ کر چکیں تھیںاذلان نے باری باری دونوں کے چہرے دیکھے پھر" جیسا آپ کہیں" کہہ کے اٹھ کھڑا ہواشاہ بی بی جانتیں تھیں کہ اذلان کی شادی کی خبر حویلی میں بھونچال لے آئی گی سو پیشگی کاروائی ضروری تھی" بنین کل خاندان کے سب بڑوں کو کھانے پہ بلا لو رات کو....ایک ضروری بات کرنی ہے ان سے" وہ فون پہ بنین شاہ سے مخاطب تھیںایلاف نے ان کا مصروف انداز دیکھا اور وہ بھی کھڑی ہوگئی تھیاذلان شاہ اپنے کمرے میں تھا ایلاف چاہتی تھی کہ اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ دورے پہ نکلے وہ اس سے بات کر لےایلاف نے دروازے سے جھانک کے دیکھا اذلان شاہ اسٹڈی ٹیبل پہ بیٹھا لیپ ٹاپ اور کاغذوں کے ڈھیر میں الجھا ہوا تھاایلاف نے کچھ دیر اسے دیکھا پھر کچھ سوچ کے کاغذ پہ قلمسے چند لفظ گھسیٹے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کے اذلان کے پاس آ کے اسٹڈی ٹیبل پہ رکھ دیااذلان نے اسے پہلے دیکھا پھر کاغذ کو" جو تم بے عیب چاہو توفرشتوں سے نبھا کر لومیں آدم کی نشانی ہوںمجھے انسان ہی رہنے دو"اشارے سے پوچھا کیا ہےیعنی مخاطب ہونا بھی گوارا نہیںپھر بولی" شاعری ہے" ." وہ تو ہمیں بھی دکھ رہا ہے ...اس کا مطلب" اذلان کو بھی منہ کھولنا پڑا"مطلب غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتیں ہیں....لیکن موقع تو دینے چاہئیے نا اگر کوئی مداوا کرنا چاہے" ایلاف نے ڈھکے چھپ لفظوں میں اقرار کیا تھا اپنی غلطیوں کا" جو بار کریں ان کو موقع نہیں دینا چاہیۓ " وہ بھی انا پرست تھا" آپ ایک موقع دے کے تو دیکھیں" ایلاف کسی صورت اس کا اقرار چاہتی تھی" اور اس سے کیا ہوگا " اذلان نے پوچھا"میرا سر ہوگا... ہمیں کچھ وقت دینا چاہئے اس رشتے کو ....پہلے ہی بہت بے وقوفیاں ہوچکی ہیں مجھ سے" ایلاف نے آخر کار اقرار کر ہی لیا تھا"تو اب یہ عقل کہاں سے آگئی" اذلان شاہ نے پتھر پھوڑے تھےمجال ہے جو یہ آدمی سیدھی بات کرے... انار کلی سے خریدی ہے....ایلاف کوغصہ تو بہت آیامگر ضبط کر گئییہ ادھار پھر سہی"آپ کو خوشی نہیں ہوئی "" خوشی ... چلیں ایلاف بی بی کیا یاد کریں گی دیا آپ کو ایک موقع" اذلان نے اس کی سات پشتوں پہ احسان کرتے ہوئے کہا تھا" تھینک یو" ایلاف اس سے زیادہ برداشت نہیں کرسکتی تھی سو جلدی سے کھسک لی تھی مطلب پورا ہونے کے بعدکیا ہے یہ لڑکی ....عجوبہ" پیچھے اذلان اسے دیکھ کے رہ گیا تھااگلے دن سفر میں وہ تینوں اپنی جگی چپ تھے جب تک جاگیر کی حدود شروع نہیں ہوئی ....شاہ بی بی اسے بتاتیں رہیں...یہ کھیت کس کے ...یہ زمین کس کی...اذلان شاہ ان دونوں سے بےنیاز آگے بیٹھا اپنے موبائل پہ مگن تھاگاڑی شاندار سی حویلی کے سامنے رکی تو شاہ بی بی اسے لے کے اندر چل دیں تھیں اذلان کا رخ دوسری طرف تھا یعنی وہان کے ساتھ اندر نہیں جا رہا تھا" بی بی جی یہ کون ہیں" رجو نے حیرت سے شاہ بی بی کے ساتھ موجود اس خوبصورت سی لڑکی کو دیکھ کر پوچھاسب اسے ہی دیکھ رہے تھے ....ایک دم الرٹ" یہ ایلاف ہے ....اذلان شاہ کی بیوی" شاہ بی بی کی بات پہ جیسے کوئی بھونچال آیا تھا تانیہ شاہ کو" کیا...تائی اماں کسے اٹھا کے لے آئیں ہیں آپ ....آپ ایسا نہیں کر سکتیں" تو نازیہ شاہ کا شک ٹھیک نکلا" منہ سنبھال کے بات کریں تانیہ ....ایلاف کی عزت آپ کے ہم پلہ ہے...بنین اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ ہم اپنے کمرے میں جا رہے ہیں...مہمان آجائیں تو بلا لینا" شاہ بی بی نے تانیہ کو جھاڑنے کے ساتھ بنین کو حکم دیا تھا" آؤ ایلاف" بنین اسے لے کے آگے بڑھ گئی تھی" ہائے کنی سوہنی ہےپیر سائیں کی گھر والی" رجو بولی تو تانیہ شاہ اسے گھور کے رہ گئی تھی" آجاؤ...یہ میرا بیٹا ہے" بنین اسے کمرے میں لا کے بولی" بہت پیارا ہے" ایلاف جھولے پہ جھکتے ہوئے بولی تھیاسے بنین اچھی لگی تھی" تم آرام کرو تھک گئی ہوگی ....سفر سے" بنین نے کہا تو ایلاف نے سر ہلا دیا تھا" کہاں ہے اذلان شاہ کی عیاشی کی سوغات....زرا ہم بھی تو دیکھیں کس نے اس پتھر دل آدمی کا کلیجہ پانی کیا ہے " تانیہ شاہ دروازے پہ کھڑی تنفر سے بول رہی تھی" اوہ دیورانی جی....وہ کیا ہے نا کہ یہ خدا کے فیصلے ہیں تو بھلا آپ کی کیسے چلتی ....میرا اور اذلان شاہ کا ساتھ ازل سے لکھا تھا تو پتھر کو تو پانی ہونا ہی تھا ... پھر بھلا کوئی اور کیسے پیر اذلان کی ہم سفری میں آ سکتا تھا" ایلاف جان گئی تھی کہ تانیہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گیسو اس نے بھی اس کی طبیعت ہری کردی تھیتانیہ بلبلا کے رہ گئی تھی" تم پچھتاؤ گی "" کیوں ....آپ سے تھوڑی شادی ہوئی ہے....کبھی نہیں" ایلاف کی زبان کے جوہر ابھی کوئی دیکھتا تو بے ہوش ہوجاتاتانیہ دھپ دھپ کرتی چلی گئی تھی جان گئی تھی مقابل تر نوالہ نہیں"مان گئے آپ کو ایلاف...اذلان شاہ نے کیا ٹکر کی لڑکی پسند کی ہے .. زبردست" بنین نے تعریفا کہا تو ایلاف شرمندہ سی ہوگئی" یہ زیادہ نہیں ہوگیا" ایلاف نے پوچھا" بالکل نہیں" بنین نے انکار میں سر ہلایاپھر دونوں ہنس پڑیں تھیں_____________________________ہال میں سب بڑوں کی نشست جمی ہوئی تھی" کیوں بھئی . شاہ بی بی سب خیر ہے نا یوں اچانک کیسے اذلان نے نکاح کرلیا" یہ پیر اعظم کی بیوی تھیں جنہیں مرچیں لگی ہوئی تھیں"یہ اسی طرح لکھا تھا قدرت نے....آپ لوگوں کو پہلی فرصت میں اس لئے زحمت دی تاکہ بتا سکیں آپ سب کو "" ارے پر ایسے چھپتے چھپاتے نکاح نہیں ہوتے" خدیجہ شاہ چمک کے بولیں تھیںان کی بیٹی کی جگہ کسی اور نے لے لی تھی"آپ سے کس نے کہا کہ چھپ کے ہوا ہے ...بالکل حلال اور جائز طریقے سے ہوا ہے...ہماری زوجہ ایک شریف گھرانے سے ہیںاور اب وہ ہمارے خاندان کاحصہ ہیں اس لئے زرا محتاط انداز اپنائیں....کیونکہ اب معاملہ ہمارے خاندان کی عزت کا ہے" اذلان شاہ کا انداز اتنا اٹل تھا کہ سب کے سوال منہ میں ہی رہ گئے تھےاذلان نے بات ہی ختم کردی تھی"تو اب کیا سوچا ہے خیر سے ولیمہ کب کرنا ہے.. سنت تو پوری کرنی ہے نا " کمال شاہ نے بات آگے بڑھائی تھی" آج پیر ہے....جمعے کو خیر سے ہم اپنے بچے کی خوشی منائیں گے ...کیوں بھائی جی" شاہ بی بی نے ہیر اعظم شاہ کو مخاطب کیا" جیسا بھابھی چاہیں ....بس بچے خوش رہیں"_____________________________حویلی میں جیسے رنگوں کی برسات اتر آئی تھیکپڑوں کا ڈھیر لگ چکا تھاایک سے ایک بڑھ کے بڑھیا کپڑانفیس زیور جن کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی تھیملازمائیں صفائی میں مگن ہوتیں سارا دن اور شام میں رجو انہیں لے کے بیٹھ جاتی تھی اور خوب ٹپے گاتی تھی" بی بی آئیں ...آپ کو مہندی لگاؤں" آج جمعرات کی رات تھی اور کل ولیمہایلاف نے سوچا تھا کہ وہی روایتی گول ٹکیہ لگائے گیمگر اس نے بھر بھر کے جدید ڈیزائن لگائے تھےظاہر ہے سارا دن رسالوں اور ٹی وی پہ وہ یہی کچھ دیکھتی تھیگاؤں کوئی پسماندہ سی جاگیر نہ تھی یہاں اسکول اور کالج بھی تھے اور لوگ بھی خوشحال تھےایلاف آج باقاعدہ دلہن بنی تھیاس پہ ٹوٹ کے روپ آیا تھاگولڈن ایمرلڈش رنگ کے لہنگے میں ڈھیروں ڈھیر گہنے پہنے.. مہندی کا گہرا رنگ لئے... وہ قوس قزح کے رنگوں کو مات دے رہی تھی" آج تو بھایا گئے کام سے" بنین اس کا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی"اتنے کچے نہیں آپ کے بھایا" ایلاف نے کہا جسے اندر آتی تانیہ نے بھی سن لیا تھا" اوہ پھر کیسے حاصل کروگی انہیں" طنز سے پوچھا تھا"جو پہلے سے حاصل ہو اسے مزید تو نہیں حاصل کیا جا سکتا.. وہ میرے شوہر ہیں نا کہ غلام جو میں ان کے سر پہ سوار رہوں" ایلاف نے کرارا سا جواب دیا تھاشاہ بی بی جو اسی کے پاس آ رہیں تھیں ان کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آگئی ....تانیہ آگے بڑھ گئی تھیاذلان شاہ واقعی عجوبہ لایا تھاایلاف چپ ہوگئی تھی نظریں جھکا لیں تھیں اس پل بہت شدت سے اسے اپنے ماں باپ یاد آئے تھے ...دلہن بھی آج ہی بنی تھی تو کیفیت بھی آج ایسی ہو رہی تھی اوپر سے اذلان کا بھی کچھ پتہ نہ تھا اس دن کے بعد سامنا ہی نہ ہوا تھا رواج کے مطابق پردہ تھا دونوں کا ....جس نے ان کا پردہ رکھ لیا تھا" پریشان ہو" شاہ بی بی نے پوچھا" نہیں بس....." ایلاف نے جملہ ادھورا چھوڑا" ایلاف....ایک بات یاد رکھنا بچے....میاں بیوی میں کوئی رشتہ بھلے سے بعد میں بنے پہلے اعتبار اور خلوص کا ہو ....وہ نا ہوتو پھر سارے رشتے بیکار...اعتبار روح کو روح سے جوڑتا ہے...دل کو دل سے ملاتا ہے " شاہ بی بی دونوں کے مزاج جانتی تھیںاس لئے کہامہمان آنا شروع ہوئے تو سب وہیں مصروف ہوگئے تھے...دلہن بنی ایلاف سب کو پسند آئی تھی ...کہیں دبے دبے سوال بھی تھے اس کی فیملی کو لے کے ...اذلان شاہ سفید شلوارسوٹ میں بلیک واسکٹ پہنے اپنے ازلی سکون کے ساتھ شاندار لگ رہا تھاایلاف کی بیٹھ بیٹھ کے کمر اکڑ چکی تھی گیارہ بجے جان بخشی ہوئی تو بنین اسے کمرے میں چھوڑ گئی تھیایلاف آج پہلی بار اس شاندار سی خوا گاہ میں آئی تھیپھولوں کی بھینی بھینی سی مہک سانسوں میں کھینچ کےاتاری تھی" آپ سے سارے دھاگے اعتبار کے ناطے سے جوڑنے ہیں مجھے....میرے بدگمان...میں نے ہی آپ کو اپنی راہ بھلائی ہے میں ہی آپ کو واپس لاؤں گی " ایلاف نے اذلان شاہ کی تصویر دیکھتے ہوئے خود سے عہد کیا تھاتبھی دروازہ کھل کے بند ہوا تھا اذلان شاہ با وقار قدموں سے چلتا ہوا آرہا تھاایلاف کمرے کے بیچ میں کھڑی تھی حالانکہ بنین اسے بٹھا کے گئی تھی مگر ایلاف کو چین کہاں آتا تھا" کیا ساری رات مراقبے کا موڈ ہے....کھڑی کیوں ہیں... چینج کر کے آرام کریں...ہم بھی تھک چکے ہیں بہت آرام کریں گے" اذلان شاہ نے ایلاف سے کہااس پہ نگاہ غلط بھی نہیں ڈالی تھی جو شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھیایلاف اس کی بیگانگی پہ کٹ کے رہ گئی تھی" تم سونے کی بھی بن جاؤ ناایلاف محبوب....تب بھی اذلان شاہ تمہیں نہیں دیکھے گا...کیوں کہ اس کا معیار کچھ اور ہے.. تم اس کا اعتبار تو جیتو پہلے پھر کسی اور کی توقع رکھنا" ایلاف نے سوچا اور ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آن کھڑی ہوئی تھیاذلان شاہ ڈریسنگ روم میں جا چکا تھا" اف کیا مصیبت ہے یہ ...." ایلاف اتنی دیر سے نتھ سے الجھی ہوئی تھی مگر وہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیابھی کچھ دنوں پہلے ہی تو شاہ بی بی نے اس کی ناک چھیدوائی تھی.....جو اب سرخ ہوچکی تھیاذلان شاہ ڈریسنگ روم سے نکل کر اب سونے کی تیاری کر رہا تھا وہ بیڈ پہ لیٹ چکا تھا" ان سے کہوں ...ان کی وجہ سے تو ہی مصیبت میں پڑی ہوں...یہ بھی تو بھگتیں" ایلاف نے سوچااندر کہیں بی بی کی نصیحت بھی تھا" اسے اپنا احساس دلاؤ"ایویں تو اتنا تیار نہیں ہوئی ....کوئی تو فائدہ ہو" وہ ایلاف تھی ہار ماننا اس نے سیکھا ہی نہ تھا" سنیں" اس نے آنکھیں بند کئے اذلان کو مخاطب کیا"فرمائیے .. اب کیا ہے" اذلان نے پوچھا"یہ نتھ اتار دیں کب سے کوشش کر رہی ہوں اتر ہی نہیں رہی" ایلاف روہانسے لہجے میں بولی"تو ہم کیا سنار ہیں" اذلان نے اس کی سرخ ناک دیکھتے ہوئے پوچھا" میں نے کب کہا " ایلاف نے پوچھا" بڑی مہربانی جو آپ نے آج کچھ نہیں کہا " اذلان نے طنزیہ کہا" آپ نکال رہے ہیں کہ نہیں...میں تنگ آگئی ہوں" ایلاف نے پوچھا تھا تنگ آ کےتوبہ کتنے نخرے ہیں" ادھر آئیں ....یہاں بیٹھیں" اذلان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنے دائیں طرف بیٹھنے کا کہاایلاف شرارہ سنبھالتے ہوئے بیٹھ گئی تھیاذلان نے اس کی ناک ہولے سے پکڑ کے کے نتھ اتارنے کی کوشش کیاس سمے وہ اتنا قریب تھا کہایلاف کواس کی دھڑکنیں بھی سنائیں دیںاس کے پرفیوم کی خوشبو اس کی سانسوں میں اترنے لگی تھی" لیں بس اتنی سی بات تھی " اذلان نے نتھ اتار دی تھی" میں آسان کام نہیں کرتی ....یو نو میں بڑے بڑے کام کرتی ہوں" ایلاف نے اپنے حواس قابو کرتے ہوئے کہا" یہ شخص اگر کبھی مہربان ہوگیا تو ....کیا عالم ہوگا" ایلاف نےسوچا" واقعی میں آپ بہت بڑے بڑے کام کرتیں ہیں یہ تو ہمیں پتہ چل ہی چکا ہے .. یقین ہے" اذلان بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا ." ویسے سنا تھا کہ میک اپ سے لوگ بدل جاتے ہیں ....آج یقین بھی آگیا آپ کو دیکھ کے" اذلان نے لطیف سا طنز کیا.شاید تعریف کرنی چاہی تھی" ارے..." ایلاف کو خوشگوار سی حیرت ہوئی تھی" ایسے یقین اب آپ کو ایلاف روز دلائے گی یو ڈونٹ وری"ایلاف کے اندر جیسے توانائی سی بھر گئی تھیاس کی بات سن کےمطلب وہ انجان نہیںاور مسکراتی ہوئی چینج کرنے چلی گئی تھیاذلان شانے اچکا کے لیٹ گیا تھاایلاف نے تھکن کے باوجود وضو کیا اور نماز ادا کیپھر جائے نماز پہ ہی تکیہ گھسیٹ کے لیٹ گئی تھی.......اور کچھ ہی دیر میں سو چکی تھیرات خاموشی سے گزرنے لگی تھی_____________________________

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/