![]() |
| راہ محبت قسط7 |
**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 7**گاڑی کا ہارن سن کر ناہید کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔تو آگئے یہ۔ناہید بیڈ سے اٹھی اور کھڑکی تک آئی پردہ پیچھے ہٹا کر ان دونوں کو دیکھا۔فریحہ گاڑی سے باہر کھڑی ریان سے کچھ کہہ رہی تھی۔ریان اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔وہ پردہ واپس کھینچتی دوبارہ بیڈ پر آ بیٹھی۔۔*****************گاڑی گیٹ کے سامنے رکی تو فریحہ بے چین ہو کر باہر نکلی آگے بڑھنے ہی والی تھی کہ ریان کو اندر ہی بیٹھا دیکھ کر رک گئی اور بولی۔آپ اندر نہیں آئیں گے کیا۔نہیں تم جاؤ میں تمہیں لینے آجاؤں گا۔ریان نے دوسری طرف منہ کرکے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔پر ریان اس طرح اچھا تو نہیں لگے گا میں پہلی بار آپ کے ساتھ آئی ہوں اور آپ کے بغیر ہی اندر چلی جاؤں۔سب پوچھیں گے آپ کا اور میں نے تو گھر میں بتا بھی دیا ہے کہ ہم آ رہے ہیں اور امی نے تو اچھا خاصا انتظام بھی کر ڈالا ہوگا۔اب کی بار فریحہ ریان کو امید بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ریان مزید کچھ کہے بغیر گاڑی سے اتر آیا۔فریحہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔*********************یشل ناہید سے معیز کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا اسے واقعی میں معلوم نہیں تھا کہ وہ بچپن سے ہی معیز سے منصوب ہے۔یا پھر یہ جانتے ہوئے بھی وہ بھائی سے محبت کر بیٹھی یا یہ کہ وہ معیز اور اپنے رشتے کو کچھ سمجھتی ہی نہیں۔اگر ناہید واقعی میں انجان ہے تو یشل اسے بتانا چاہتی تھی یہ سوچے بغیر کہ اب تک اس کے گھر والوں نے اسے کچھ نہیں بتایا تو وہ کیوں بتاۓ۔وہ اسے یہ بتا کر اسکا غصہ کم کرنا چاہتی تھی جو کہ شائد اسے ابھی بھی ریان اور اس کے والدین پے تھا۔وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ کن حالات میں اس کے والدین نے اسکی بجاۓ فریحہ کا رشتہ ریان کے لئے مانگ لیا۔اور اب وہ کچھ دنوں تک ناہید کی طرف جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔************************ارے ناہید تم ابھی تک یہاں بیٹھی ہوئی ہو بیٹا فری کب کیآچکی ہے اور تمہیں یاد کر رہی ہے نیچے آؤ شاباش۔ناہید جو ٹیرس پر رکھی چیئر پر بیٹھی ہاتھ میں پین لے کر اسے گھماتی خود بھی پتا نہیں کن کن خیالوں میں گھوم رہی تھی ٹھنڈی سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔۔۔اچھا امی آگئی فری مجھے معلوم ہی نہیں ہوا۔لو ٹیرس پر بیٹھی ہو اور کہہ رہی ہو کہ معلوم ہی نہیں ہوا۔اف ناہید نے اس بہانے پر خود کو کوسا نہیں بلکہ ٹیرس پر بیٹھنے پر۔وہ امی یہاں تو میں ابھی آکر بیٹھی ہوں ورنہ سوئی ہوئی تھی آپ چلیں میں بس منہ دھو کر آرہی ہوں۔اچھا ٹھیک ہے جلدی آجانا۔سمینہ جاتے جاتے بھی کہنا نہیں بھولیں۔۔************************ناہید کمرے سے یہ سوچ کر نکلی تھی کہ کاش اسکا ریان سے سامنا نا ہو مگر ہائے ری قسمت آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہی ساتھ والے کمرے سے نکلتے ریان سے اس کی ٹکر ہوئی۔ٹکر بہت زور کی تو نہیں تھی مگر ناہید کا تو دل ہی ہل کے رہ گیا۔اس دوران ناہید کے ہاتھ میں پکڑا پین چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔آپ ٹھیک ہیں ناہید۔ریان نے اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے ) جو کے اسکو بچانے کی خاطر بڑھائے تھے ( پوچھا۔۔۔"آپ"ناہید زیرلب بڑبڑائی۔یعنی اب وہ اس کے لئے اتنی انجان ہو گئی کہ وہ اسے آپ کہنے لگ گیا۔ناہید نے کوئی جواب نا دیا۔ریان نے نیچے پڑا پین اٹھا کر ناہید کی طرف بڑھایا جسے وہ پکڑے بغیر کمرے میں چلی گئی۔ریان نے کچھ سوچتے ہوئے پین اپنی پاکٹ میں رکھ لیا۔۔************************ریان جتنا ناہید سے دور رہنے کی کوشش کرتا اتنا ہی اس سے سامنا ہو جاتا تھا جتنا بھی اس کے ذکر سے بچنے کی کوشش کرتا اتنا ہی اسکا ذکر کیا جاتا۔۔۔وہ اس سے دور رہ کر اسے بھولنا چاہتا تھا مگر اپنی اس کوشش میں وہ کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔)کوئی اسے کیا بتاتا کہ دور رہنے سے محبتیں ختم نہیں ہو جاتیں ہاں بعض دفعہ ان میں کمی ضرور آجاتی ہے ( ابھی بھی ناہید کمرے میں تھی اور وہ واپس کمرے میں جانے کی بجاۓ باہر چلا گیا۔۔۔۔۔******************ناہید کھانا لگاؤ بیٹا کب سے فری آئی ہوئی ہے بھوک لگ رہی ہوگی میری بچی کو۔۔۔جی امی اب تو واقعی میں بہت بھوک لگ رہی ہے۔سمینہ کے کہنے پر فری کی بھوک ایک دم جاگ اٹھی۔جی امی لگاتی ہوں۔ناہید یہ کہہ کر باہر نکل آئی اور کھانا لگانے لگی فریحہ بھی اس کے ساتھ ہی چلی آئی اور اس کی مدد کروانے لگی۔فری بیٹا یہ ریان کہاں چلا گیا اسے بلاؤ۔کھانا شروع کرنے سے پہلے سمینہ نے کہا۔امی مجھے تو وہ کسی ضروری کال کا کہہ کر گئے تھے لانمیں ہونگے میں بلاتی ہوں۔فریحہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ ریان کو لاؤنج میں آتا دیکھ اٹھنے کا ارادہ ترک کر گئی۔ریان فریحہ کے برابر والی چیئر پر بیٹھ گیا کچھ کھانے پینے کا اسکا بلکل بھی موڈ نہیں تھا۔فری تمہیں پتا ہے یہ ڈنر میں نے نہیں ناہید نے تیار کیا ہے ہاں بس کہہ کہہ کر انتظام کروانا پڑا۔کیا سچ میں امی یہ سب ناہید نے بنایا ہے پھر تو میں ہر چیز ٹرائی کروں گی۔فریحہ خوش ہوتی ہوئی بولی اور سوچنے لگی کہ سب سے پہلےکیا کھائے۔ریان بھی یہ سوچ کر کہ ناہید نے اتنی محنت کی ہے )یا اسکا دل رکھنے کے لئے ( چاولوں کی ٹرے پکڑی کچھ چاول پلیٹ میں ڈال لئے اور کھانے لگا۔چاول بہت مزے کے تھے۔ریان کا دل چاہا کہ ناہید کے ہاتھ کے کھانے کی تعریف کرے مگر ہونٹوں پر تو جیسے تالے سے لگ گئے۔) جب وہ اپنی بیوی کے کھانے کی تعریف نہیں کرتا تھا تو اسکی بہن کی تعریف کیسے کرتا (۔۔۔۔**********************جب وہ دونوں چلے گئے تو ناہید نے شکر ادا کیا اور برتن سمیٹنے لگی۔کھانا اس نے براۓ نام ہی کھایا تھا بھوک تو بہت لگ رہی تھی مگر دل نہیں چاہ رہا تھا کھانے کا۔اس نے برتن اٹھاۓ اور پھر دھونے چلی گئی۔۔۔۔ہائے ڈیر کزن کیسی ہو۔۔معیز نے کسی سپر مین کی طرح کچن میں داخل ہوتے ڈیر کزن کی چٹیا کھینچتے ہوئے پوچھا۔تم سے تو بہتر ہی ہوں۔سنو لڑکی آج مجھ پر ایک حیرت انگیز انکشاف ہوا اور وہ انکشاف یہ تھا کہ آج کھانا تم نے بنایا ہے۔۔۔کیا یہ سچ ہے؟؟؟؟معیز نے اسے تنگ کرنے کے خیال سے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ناہید نے کوئی جواب نا دیا اور چپ چاپ برتن دھوتی رہی۔سنو یہ تمہارے نخرے کچھ زیادہ ہی نہیں بڑھ گئے کسی بات کا کوئی جواب ہی نہیں دیتی کیا میں پاگل ہوں جو بولتا جاؤں۔معیز نے مصنوئی غصہ دکھاتے ہوئے کہا۔تمہیں اپنے پاگل ہونے پر کوئی شک ہے کیا تم تو شروع سے ہی پاگل ہو اور اپنے ساتھ رہنے والوں کو بھی پاگل کر دیتے ہو۔اس لئے میں تم سے دور ہی رہنا چاہتی ہوں۔تم جیسے اڈیٹ سے بات کر کے اپنا وقت فضول میں برباد نہیں کرنا چاہتی۔اچھا تو یہ بات ہے تمہاری اس بات کا جواب تو میں بعد میں ہی دوں گا پہلے تم میرے لئے کھانا نکالو میں خالہ کے روم میںہوں۔میں تمہاری ملازم نہیں ہوں۔ناہید نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔حلیہ تو تمہارا بلکل ویسا ہی ہے۔اس وقت تمہیں جو بھی دیکھے گا یہی سمجھے گا۔ہاں البتہ اگر تم جیسی ملازم ہو تو کیا ہی بات ہے۔معیز نے خیالوں میں کھوتے ہوئے کہا۔دفع ہوجاؤ نہیں تو کھانانہیں دوں گی خود ہی لیتے پھرنا۔معیز فوراً سے پہلے وہاں سے دفع ہو گیا۔معیز کو کھانا دینے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ناہید کچھ بدل سی گئی تھی لیکن آخر کیوں۔۔۔؟؟کھانا کھاتا معیز یہ سوچ کر رہ گیا۔۔***********************ریان اپنے کمرے میں آیا تو فریحہ کھڑکیوں کے پردے آگے کر رہی تھی۔انہیں کیوں آگے کر رہی ہو ویسے ہی رہنے دیتی۔ریان فریحہ کو آپ کی بجاۓ تم کہنے لگا تھا۔۔۔کیوں اور کب سے یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔وہ اصل میں صبح دھوپ سیدھا آپ کے چہرے پر پڑتی ہے ناں جس کی وجہ سے آپ کی نیند خراب ہوتی ہے اس لئے ہی پردے آگے کر رہی تھی۔ریان نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا جو اب بیڈ شیٹ ٹھیک کر رہی تھی۔کیوں خیال رکھتی ہے یہ اتنا میرا حالانکہ بہت سی باتوں میں میںاسکا دل توڑ جاتا ہو۔سہی کہا تھا اس نے میں آپ کو کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر موجود تھا کل کے لئے کپڑے پریس کر دیے گئے تھے اس کا لیپ ٹاپ اور آفس کی تمام چیزیں اور بکس اسٹڈی ٹیبل پر سلیقے سے سیٹ کر دی گئی غرض کہ اس کا ہر کام اس کے کہنے سے پہلے پورا ہو چکا ہوتا۔فریحہ اس کے چپ رہنے کے باوجود بھی اکثر رات کو اس سے اتنی باتیں کرتی اور وہ چپ چاپ سر ہلائے جاتا۔تو کیا ہوا اگر وہ بات نہیں کرتا تھا زیادہ بولتا نہیں تھا مگر اس کی سن لیتا تھا اس کے لئے یہی کافی تھا۔پاپا بتا رہے تھے کہ آج کل آفس میں کام بہت ہے آپ تو بہت تھک جاتے ہونگے ناں کیا آپ کے لئے کافی بنا لاؤں۔فریحہ نے دیکھا کے دس بج رہے تھے اور روز کی طرح آج بھی وہ لیٹ ہی آیا تھا۔نہیں رہنے دو میں دودھ ہی پی لوں گا تم بس اسے گرم کر لاؤ ٹھنڈا ہو چکا ہے۔تھک تو وہ واقعی میں چکا تھا۔ریان نے دودھ کا گلاس جو کہ ٹھنڈا ہو چکا تھا اسے تھماتے ہوئے کہا اور خود شاور لینے چلا گیا۔آج وہ آفس کا کوئی کام لے کر بیٹھنے کی بجاۓ بس سونا چاہا تھا۔۔**********************ناہید کے کمرے کا دروازہ بج رہا تھا جسے وہ لاک کئے بیٹھی تھی۔ناہید نے دروازہ کھولا تو سامنے یشل کھڑی تھی۔یشل کو دیکھ کر اسے بے حد خوشی ہوئی۔جب سے اسکول چھوڑا تھا وہ دونوں پہلی بار مل رہی تھیں۔یشل بھی خوش ہوتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی۔یشل نے سوچا تھا کہ وہ کچھ دن تک ناہید کی طرف چکر لگاۓ گی مگر اسے کچھ سے زیادہ ہی دن لگ گئے اور اب وہ مہینے بعد اسکی طرف حاضر تھی۔وہ دونوں بیڈ پر آبیٹھیں۔ناہید کیا بات ہے تم اتنی کمزور کیوں ہو گئی ہو۔رنگ دیکھو اپنا کیسا ہو رہا ہے۔ذرا خیال نہیں رکھتی کیا تم اپنا۔چھوڑو نا تم بھی کن باتوں کو لے کر بیٹھ گئی یہ بتاؤ کہگھر میں سب کیسے ہیں اور ماما بتا رہی تھیں) جنہیں فریحہ نے بتایا تھا ( کہ تمہارا کوئی رشتہ آیا ہوا ہے۔سب ٹھیک ہیں۔۔۔یشل نے اسکے بس ایک ہی سوال کا جواب دیا۔))اور ناہید بھی کوئی پہلے وہی ناہید نہیں تھی جو پیچھے پر جاتی کہ بتاؤ نا کیسے لوگ ہیں لڑکا کیا کرتا ہے تمہیں رشتہ پسند ہے تم جواب کیوں نہیں دے رہی ((ناہید سمجھ گئی کہ وہ بتانا نہیں چاہتی اس لئے دوبارہ چپ ہی رہی۔ناہید میں یہاں تم سے ایک بات کرنے آئی ہوں۔یوں سمجھ لو کہ پوچھنے بھی اور بتانے بھی۔کیا بات ہے یشل بولو۔ناہید یشل کے تاثرات سے کچھ الجھ سی گئی۔

No comments:
Post a Comment