1 #چل_وہاں_جاتے_ہیں از عالیہ خان قسط
وہ دانتوں
برش کرتی پورے گھر میں گھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لالالا اور اسکا گن گنانا بھی بند نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی مگن میں چلتی جا ہی رہی تھی کہ کسی سے ٹکر لگنے کی وجہ سے اسکا سر پھوٹ گیا ۔۔۔۔۔۔اللہ اللہ مہوش اپنے سر کو ہاتھ سے مسلنے لگی ۔۔۔۔مہوش کتنی بار کہوں برش واشروم میں کیا جاتا ہے یا ایک کونے میں کھڑا رہ کر اور تم ہو کہ برش منہ میں لے کے پورے گھر کے چکر لگاتی رہتی ہو اور آج تو میرا بھی سر توڑ دیا تم نے حد ہے سارہ نے مہوش کو خوب ڈانٹا ۔۔۔۔او ہو میری پیاری پیاری بہن تم جب ایسے ڈانٹتی ہو نا تو بلکل مس سڑیلی لگتی ہو مہوش نے اپنے دونوں بازو سارہ کے کندھوں پر حائل کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔کیا کیا کہا تم نے سارہ اب غصے میں تھیرک جا توں آج نہیں چھوڑنے والی تجھے مہوش بھاگ رہی تھی اور سارہ اسے پکڑ رہی تھی ان دونوں نے گھر میں ہلچل مچارکھی تھی ۔۔۔۔نانی مجھے بچائے یہ دیکھے آپکی لاڈلی مس سڑیلی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہیں مار دے گی مجھے مہوش نے رونے والی شکل بنا کر نانی سے شکایت کی۔۔۔۔۔نانی نے بھی ایک پل انتظار نہیں کیا اور فورن مہوش کا کان پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مہوش پھر جھوٹ نہ نانی نے اسکا کان اور زور سے دبایا ۔۔اف او نانی اب چھوڑے بھی مہوش نے نانی سے خود کو چھڑایا اور کچن کی طرف بھاگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مہوش اور سارہ دونوں بہنیں تھی بلکہ یہ کہا جائے کہ بہتہی اچھی فرینڈس تھی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمینا بیگم میری چائے ابھی نوید صاحب کی بات ہی نہیں پوری ہوئی کہ انکے سامنے چائے بھی رکھ دی گئی اور کیکرس بھی ۔۔۔۔۔یہ لے ابو چائے سارہ نے چائے دی اور مہوش نے کیکرس ۔۔ارے جگ جگ جیو بیٹا ایسی بیٹیاں اللہ پاک سب کو دے نوید صاحب نے ان دونوں کے سر پر ہاتھ رکھاسارہ جیسی بیٹی تو بہت اچھی لیکن مہوش افف اللہ سمینا بیگم بھی اب ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔نہیں سمینا جی مہوش تو میری لاڈلی بیٹی ہے میری معسوم سی گڑیا نوید صاحب نے مہوش کے بالوں پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔آہاں نوید صاحب آپ کے دفتر جانے کہ بعد اسکی اصلی مہوش نظرآتی ہے....مہوش کی فیملی میں اسکے امی,ابو اور اسکی نانی اور ایک بہن تھی نوید صاحب آفس میں کلارک تھے انکی فیملی کی ہر کوئی تعریف کرتا تھا ۔۔۔۔۔نوید صاحب اکیلے تھے جب کے سمینا کے دو بھائی تھے منظور حسین اور آفتاب علی ۔۔۔ آفتاب علی تو اپنی فیملی کے ساتھ دور لاہور میں رہنے لگے تھے لیکن منظور حسین کو اپنی بہن سمینا سے بہت پیار تھا وہ بھی اسی شہر میں رہ رہے تھے جہاں سمینا رہ رہی تھی ۔۔۔معاذ اوئے اب اٹھ بھی جاؤ آفس نہیں جانا کیا سعمیر نے معاذ کے اوپر سے کمبل اتار دیا ۔۔۔۔۔۔۔یارر سمیر سونے دونہ تم جاؤ مجھے آج نہیں جانا بہت تھک گیا ہوں معاذ نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا ایسا کیا کیا ہے تم نے بکریا چرائی ہے کیا اٹھ جاؤ ورنہ ایک لات پڑے گی تجھے سمیر نے اسکو ہلکی سی لات ماری معاذ نے سمیر کو گرایا بیڈ پر اور اسکو مارنے لگا یہ بھی دونوں بھائی دوست کی طرح تھے جیسے مہوش اور سارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معاذ اور سمیر منظور حسین کے بیٹے تھے سمیر بڑا تھا اور معاذ چھوٹا منظور حسین اپنے کام سے ریٹائر ہوچکے تھے جبکہان کا اپنا بزنس تھا جو اب سمیر اور معاذ سنمبھال رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمیر معاذ ناشتا تو کرکے جاؤ شازیہ بیگم نے معاذ اور سمیر کو جاتا دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ماما پہلے سے ہی آپ کے لاڈلے معاذ نے دیر کردی ہے اور آج ایک بہت ایمپورٹینٹ میٹینگ ہے ہمیں بلکل بھی لیٹ نہیں ہونا چاہیے سمیر نے اپنے ماں کو کہا ۔۔۔۔۔۔اچھا تو جوس ہی پی لو شازیہ نے ان کے آگے جوس رکھا ۔۔۔۔۔۔اوہ تھینکیوں موم آئی لوو یوں موم ایک آپ ہی تو ہے جو میری پروہ کرتی ہے ورنہ باقی لوگ تو بس کیا کہوں معاذ نے جوس پی کر گلاس کو رکھا ۔۔۔۔۔۔ماں کے چمچے اب جاؤ آفس دیر ہورہی ہے منظور حسین نے انھیں آفس جانے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آفتاب صاحب کے بھی یہاں ایک بیٹا اور بیٹی تھے انکی بیٹے کی شادی ہونے والی تھی بچپن سے سلیم اور مہوش کی انگیجمینٹ ہوئی تھی جس بات کا مہوش کو بھی پتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور انکی بیٹی رابیل تھی سلیم اور رابیل ہم عمر تھے آفتاب صاحب بہت ہی کڑک انسان تھے انکی کسی سے دوستی نہیں تھی وہ الگ قسم کے تھے سلیم بھی اپنے باپ جیسا تھا کڑک لہجے دار شخص۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا میڈم آپ تھی کہا اتنی دیر یوں کلاس کے باہر کھڑا رہنااچھا لگتا ہے کیا تمھیں سونیا نے مہوش سے پوچھا جو کلاس کے باہر پنیش میں کھڑی تھی ۔۔۔۔یار دیر ہوگئی نہ اب میں ڈیلی تو ٹائم پر آتی ہوں یہ ٹیچرز بھی نہ اف مہوش نے اپنے سر پر بک مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔اچھا چلو کچھ کھاتے ہیں سونیہ مہوش کو کینٹین کی طرف لےگئی ۔۔۔۔۔۔پیٹوں کہی کی جب دیکھو کھاتی رہتی ہے مہوش آہستہ سے بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے سن لیا تم نے کیا کہا سونیہ نے اسکو پیٹھ پر ہلکی سی تھپڑ ماری ۔۔۔۔ایکسکیوزمی بات سنیں مہوش کو کسی نے پیچھے سے بلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں نیا ہوں سو مجھے نہیں پتا یہاں کا آپ مجھے بتائے گی کہ پرینسیپل کا آفس کہاں ہے لڑکے نے انتہائی شرافت سے مہوش سے پوچھا۔۔۔جی یہاں سے جاکر لیفٹ مہوش نے عثمان کو بتایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ عثمان یہ کہہ کر آفس کی طرف جانے لگا ۔۔۔۔۔ویسے لڑکا اچھا ہے سونیہ نے لڑکے کی تعریف کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں ت

No comments:
Post a Comment