Monday, November 19, 2018

راہ محبت قسط 9

http://novelskhazana.blogspot.com/


*راہ محبت****ایشاءگل****قسط 9**اسلام و علیکم خالہ جان۔۔۔ناہید نے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی باآواز بلند سلام کیا۔پہلے حنا اور پھر روحیل سے ملنے کے بعد وہ دوبارہ حنا کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ناہید بیٹے کہاں گم رہتی ہو ایسا لگتا ہے جیسے تم اپنی خالہ کو بھول ہی گئی ہو۔حنا نے پیار بھرا شکوہ کیا۔نہیں خالہ ایسی بات نہیں ہے بس ویسے ہی گھر سے نکلنے کودل نہیں چاہتا اب۔ارے محترمہ یہ آپ کہہ رہی ہیں جو پہلے گھر ٹک کے نہیں بیٹھ سکتی تھیں اور اب گھر سے نکلتے انہیں ڈر لگتا ہے۔بیرونی دروازے سے معیز نے اندر آتے ہوئے کہا۔)معیز بھلا ناہید سے اتنے دن ناراض رہ سکتا تھا کیا(تمہارے ہوتے میں کیسے بھول سکتی ہوں کہ میری ایک خالہ بھی ہیں۔سب کی موجودگی میں ناہید نے اسے جواب دینا بلکہ تمیز سے جواب دینا ضروری سمجھا۔"کیسی ہو"معیز نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بہت پیار سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ناہید چاہے کچھ بھی کر لیتی چاہے کچھ بھی کہہ لیتی معیزاس سے دور نہیں ہو سکتا تھا اس بات کا ناہید کو آج اندازہ ہوگیا تھا۔ایک پل کے لئے اسکا دل چاہا کہ وہ معیز سے اپنے اس دن کے رویے کی معافی مانگ لے۔۔۔مگر پھر ساتھ ہی اسکا غصہ واپس آگیا اور وہ جواب دینے کی بجاۓ اس سے منہ پھیر گئی۔حنا اور روحیل اس کی طرف متوجہ نہیں تھے۔کیا اب تک منہ بنا کر بیٹھی ہو اس بات پے۔۔۔یار اب بس بھی کر دو یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں جو تم اتنا دل پے لے رہی ہو۔معیز نے اسے منانا چاہا۔تمہارے لئے چھوٹی بات ہوگی مگر میرے لئے نہیں ہے۔ناہید نے شکوہ کیا۔اچھا چلو یہ ہی بتا دو کہ مزید کتنے دن ناراض رہنے کا ارادہ ہے۔معیز نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا۔دنوں کی ناراضگی کی بات کر رہے ہو تم میں تو تمہاری ساری زندگی شکل نا دیکھوں۔)منحوس مارا ( ناہید نے دانت پیستے ہوئے کہا تو معیز ایک دم ہنس پڑا جس پر ناہید کو مزید غصہ آگیا۔منہ بند رکھو اپنا ورنہ۔۔۔۔)منہ توڑ دوں گی تمہارا(۔۔۔ورنہ کیا۔۔۔؟؟معیز نے پوچھا۔اس سے پہلے کہ ناہید ورنہ سے آگے بڑھتی سمینہ بول پڑیں۔ناہید کھانا لگاؤ بیٹا سب ساتھ ہی کھاتے ہیں۔ناہید ایک غضیلی نگاہ معیز پر ڈال کر اٹھ کھڑی ہوئی۔سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔کچھ دیر بعد جب سب چلے گئے تو وہ کچن میں آگئی۔برتن سمینہ دھو چکی تھیں وہ دھلے ہوئے برتن واپس انکی جگہ پر سیٹ کرنے لگی۔حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ اب ناہید کی کاموں سے جان نہیں جاتی تھی بلکہ وہ خود کو زیادہ سے زیادہ کاموں میں الجھائے رکھتی تھی تا کہ ریان کے مسلسل خیالوں کو اپنے ذہن سے جھٹک سکے۔۔*************************فریحہ کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔بخار بخار سا لگ رہا تھا مگر وہ خود کو ہی نظر انداز کرتی روز کے کاموں میں الجھی رہی۔رات کو آفس کا کام کرتے ریان کو کافی دیر ہوگئی بارہ بج چکے تھے اس نے لیپ ٹاپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور لیمپ بند کرتا لیٹ گیا۔فریحہ بار بار کروٹ بدل رہی تھی۔نیند نجانے کیوں آج اسے آنے کو ہی نہیں دے رہی تھی شائد سرمیں درد کی وجہ سے۔فریحہ نے ریان کی طرف کروٹ لی تو اسکا ہاتھ ریان کے بازو پر ٹھہر گیا۔فریحہ اس بات سے بے خبر دوسرے ہاتھ سے آنکھیں بند کئے اپنا سر دبا رہی تھی۔ریان جو بازو آنکھوں پر رکھے لیٹا ہوا تھا فریحہ کا گرم ہاتھ اپنے بازو پے محسوس کرتا چونک کر اٹھ بیٹھا۔ہاتھ بڑھا کر لیمپ آن کیا اور سر دباتی فریحہ کی طرف دیکھا۔ابھی تک اپنے بازو پر رکھا اسکا ہاتھ تھاما اور بولا۔تمہارا ہاتھ تو بہت گرم ہے کہیں بخار تو نہیں۔فریحہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا جو اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھا تھا۔ریان نے اسکے ماتھے کو چھوا تو اسکا شک یقین میں بدل گیا۔اسکو واقعی میں بخار تھا۔سر میں بھی درد ہے کیا۔۔۔؟؟نہیں ریان میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نا ہوں سو جائیں۔فریحہ نے اسکے چہرے پر اپنے لئے فکرمندی دیکھتے ہوئے کہا۔سو جاؤں گا میں پہلے یہ بتاؤ کہ سر میں بھی درد ہے۔۔۔فری نےہاں میں سر ہلا دیا۔ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔۔نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں بس ہلکا سا درد ہے صبح چلیں گے ڈاکٹر کے پاس۔۔۔فریحہ نے ریان کو مزید بولنے سے پہلے ہی روک دیا۔وہ جانتی تھی ریان خود بھی بہت تھکا ہوا ہے نیند سے اسکی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اور وہ رات کے اس وقت اسے کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔ریان نے سر ہلا دیا مگر سر درد کی ٹیبلٹ اسے تھماتے ہوئے بولا اس سے آرام آجاۓ گا کھا لو ورنہ درد سے ساری رات جاگنا پرے گا تمہیں بھی اور مجھے بھی۔فریحہ جو ٹیبلٹ لئے پانی گلاس میں انڈیل رہی تھی ریان کے آخری جملے )مجھے بھی ( پر پانی گلاس کی بجاۓ ٹیبل پر گرا بیٹھی۔وہ ہی نہیں بلکہ ریان خود بھی اپنے آخری جملے پر حیران رہ گیا تھا۔کیا واقعی میں فریحہ کو تکلیف میں دیکھ کر وہ سو نہیں پائے گا۔فریحہ نے ٹیبلٹ لی اور چپ چاپ لیٹ گئی۔بیس منٹ گزرنے کے بعد وہ بولی۔ریان لیمپ آف کر دیں مجھے نیند آرہی ہے۔) نیند سے مراد اب اسکا سر درد قدرے کم ہو چکا تھا اور اب وہ سو سکتا ہے (کچھ فرق پڑا۔ریان نے لیمپ بند کرنے سے پہلے تصدیق کرنا ضروری جانا۔جی اب ٹھیک ہے۔فریحہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو ریان نے لیمپ آف کر دیا اور اسی پوزیشن میں آنکھوں پر بازو رکھے لیٹ گیا۔۔"**********************تمہیں پتا ہے آج تمہاری خالہ کیوں آئی تھیں۔سمینہ نے برتن سیٹ کرتی ناہید کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔مجھ سے ملنے آئی تھیں آپ نے خود ہی تو بتایا تھا۔ناہید نے لا پروائی سے جواب دیتے ہوئے کہا۔ہاں اس لئے بھی آئی تھیں مگر اصل بات کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ وہ معیز کے لئے تمہارا ہاتھ مانگنے آئی تھیں۔)وہ یہ نا کہہ سکیں کہ وہ دوبارہ اور باقاعدہ رشتہ لے کر آئی تھیں کیوں کہ وہ اس بات سے لا علم تھیں کہ ناہید کو معلوم ہو چکا ہے اپنی اور معیز کی بچپن کی نسبت کا ("کیا"ناہید کے ہاتھ سے کانچ کی پلیٹ چھوٹ کر زمین پر جا گری۔ارے دھیان سے ناہید ایک تو تمہارے ہاتھوں سے چیزیں بہت ٹوٹتی ہیں۔)امی آپ کو چیزوں کے ٹوٹنے کی فکر ہے میرے دل کی نہیں جو ٹوٹ چکا ہے۔ (امی میں کوئی کھلونا ہوں کیا کہ جو کوئی مانگنے آئے گا تو آپ اسے تھما دیں گیں۔)ناہید کو لگا تھا کہ اس دن اس کی اتنی باتوں کی وجہ سے معیز کو اس کی ناپسندیدگی کا علم ہو چکا ہوگا اور اس نے ناہید کی طرف سے انکار سمجھ کر خالہ خالو سے بات کر لی ہوگی مگر۔۔۔(ناہید یہ کیسی بات کر رہی ہو تم۔ارے سب کا رشتہ ایسے ہی تو مانگا جاتا ہے۔امی جو بھی ہے مجھے معیز سے شادی نہیں کرنی۔کیا مطلب ہے نہیں کرنی کیا برائی ہے معیز سے اتنا اچھا تو ہے بچپن سے جانتے ہیں ہم اسکو۔سمینہ کو تو تاؤ ہی آگیا۔میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی برائی ہے مگر امی مجھے معیز سے تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنی۔ناہید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے پڑےبرتن اٹھا کر زمین پر پٹک دے۔کیوں نہیں کرنی کیا ساری عمر اسی گھر میں رہنا ہے۔آخر کوئی وجہ تو بتاؤ۔کوئی وجہ نہیں ہے امی۔۔۔جب کوئی وجہ ہی نہیں ہے تو پھر کیوں بے وجہ انکار کر رہی ہو۔سمینہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ وہ کیوں انکار کئے جا رہی ہے۔امی ابھی تو فری کی شادی ہوئی ہے مشکل سے سات مہینے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی اب آپ کو میری شادی کی فکر لگ گئی امی میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی۔ناہید نے اپنی طرف سے ایک فضول بے تکا سا بہانہ بنایا۔ارے پاگل ہم کونسا ابھی تمہاری شادی کر رہے ہیں ابھی تو صرف منگنی ہی کریں گے اور ویسے بھی شادی کر کے کونسا تم دور جاؤ گی ساتھ والے گھر ہی تو جانا ہے۔سمینہ کی اس بات پر ناہید اور بھی چڑ گئی اور بولی۔بس امی میں نے کہہ دیا ناں کہ مجھے شادی نہیں کرنی تو مطلب نہیں کرنی پلیز آپ مجھے فورس مت کریں۔یاد ہے جب فریحہ سے میں نے اسکی شادی کی بات کی تو اس نے کیسے چپ چاپ ہمارے فیصلے پر سر جھکا دیا اور ایک تم ہوماں باپ کی خوشیوں کا کوئی احساس ہی نہیں۔) کاش امی اس نے سر نا جھکایا ہوتا کاش وہ آپ کے فیصلے سے خوش نا ہوتی (امی یہ میری ساری زندگی کا معاملہ ہے اور اسکا فیصلہ آپ لوگ میری مرضی کے بغیر نہیں کر سکتے آخر میری خواہش کی بھی تو کوئی ویلیو ہونی چاہیے۔)امی اب آپ کو کیسے بتاؤں کہ میں ریان کو ابھی تک اس رشتے کی حثیت سے قبول نہیں کر پائی (کیا ہے تمہاری خواہش ساری زندگی شادی نا کرنے کی سمینہ اپناسر پکڑتے ہوئے غصے سے بولیں۔۔۔"ہاں"ناہید ایک حرفی جواب دیتی سیڑھیاں چڑھ گئی۔۔۔اور اب یقیناً دو تین دن سے پہلے وہ کسی کو اپنی شکل دکھانےنہیں والی تھی۔۔******************************بھائی آپ آگئے ماما آپ کو بلا رہی ہیں۔یشل نے کمرے کے دروازے سے جھانکتے ہوئے ریان کو شمسہ کا پیغام دیا اور وہیں سے واپس مڑ گئی۔ریان جو ابھی آفس سے آیا تھا اور فریش ہونے کا ارادہ رکھتا تھا اپنا یہ ارادہ ترک کرتے ہوئے شمسہ کے کمرے میں آگیا اور ان کے پاس بیٹھتے اور انکا ہاتھ چومتے ہوئے بولا۔جی ماما آپ نے مجھے یاد فرمایا۔ہاں تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔جی کہیے۔دیکھو بیٹا تم اس شادی سے خوش نہیں تھے یہ ہم سب جانتے ہیں مگر ابھی تک تم نا خوش ہو یہ دیکھ کر ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے۔آخر کیا ایسی کمی ہے فریحہ میں کہ تم ابھی تک ناہید کو بھول نہیں پائے۔کتنے کم وقت میں ہی اس نے سب کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی اور اب تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ شروع سے ہی اس گھر کا فرد تھی۔۔۔۔۔پھر آخر کیا وجہ ہے جو ابھی تک وہ صرف تمہارے ہی دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت اسی کی ہی تھی۔یہ بات تو تم جانتے ہی ہوگے کہ جب تک کوئی چیز پاس ہوتی ہے اسکی قدر نہیں ہوتی اور جیسے ہی وہ چیز ہم سے دور ہو جاتی ہے ہم اسکو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔اور میں نہیں چاہتی کہ ایسی کوئی بھی کوشش تم کرو کیوں کہ میں نہیں چاہتی کہ فریحہ تم سے کبھی دور ہو۔لیکن میری ایک بات ضرور سن لو تم ابھی تو تم اسے خود سےدور رکھتے ہو نا جس دن اس نے خود کو تم سے دور کر لیا ناں تو تم بہت پچھتاؤ گے۔کیوں کہ ایسا تو بلکل نہیں ہے کہ اتنے اچھے انسان کے دور چلے جانے سے تم خوش اور مطمئن ہو جاؤ سکون میں آجاؤ۔بیٹا میرے نزدیک تو میری بہو ایک ہیرا ہے میں اس ہیرے کی قدر کرتی ہوں بہتر ہے کہ تم بھی کرو۔سارے دن سے لے کر رات تک وہ بس کاموں نہیں ہی الجھی رہتی ہیں میں لاکھ منع کر لوں مگر وہ بہت پیار سے میرا ہاتھ چوم کر کہتی ہے کہ آپ نے اس گھر کی ذمہ داری اب مجھے سونپی ہے اور اس ذمہ داری میں میں کوئی بھی کوتاہی نہیں کروں گی کام کرنا مجھے اچھا لگتا ہے اس لئے آپ میری فکر مت کرا کریں۔تمہارا ہر کام وہ کتنی محبت اور فکر مندی سے کرتی ہے کیا یہ دیکھ کر بھی تمہیں خوشی نہیں ہوتی۔اور ایک بات بتاؤ مجھے کہ تم شادی کر کے بیوی لائے ہو یا ملازمہ۔بیٹا اسے کاموں کی ہی نہیں بلکہ محبت کی بھی ضرورت ہے۔ہماری طرف سے محبت تو اسے ملتی ہے مگر جس کی محبت کی اسے اشد ضرورت ہے وہ تو اسے بھلائے بیٹھا ہے۔وہ اپنے منہ سے تو کچھ نہیں کہتی اور نا ہی شائد کبھی کہےگی مگر تمہیں خود احساس ہونا چاہیے اس کے احساسات کا۔جس لڑکی کو ابھی تک تم اپنے دل میں بسائے بیٹھے ہو وہ تمہیں اب نہیں ملے گی یہ تم اچھی طرح جانتے ہو تو پھر کیوں اپنی شادی شدہ زندگی تو اتنا بے مزہ بے کار بنا کر بیٹھے ہو۔کیا یہ خیال تمہارے ذہن میں کبھی نہیں آیا کہ اگر فریحہ کو پتا چلے گا کہ تم کسی لڑکی کو پسند کرتے ہو تو کیا ہوگا۔۔۔۔یقیناً وہ اس بات پر بھی سمجھوتہ کر لے گی لیکن جب اسے یہ پتا چلے گا کہ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ اسکی اپنی ہی بہن ہے تو۔۔۔۔۔تب اسکے دل پر کیا گزرے گی یہ سوچا ہے تم نے۔۔۔۔۔شمسہ کی اس بات پر سر اٹھا کر ریان نے ان کی طرف دیکھا۔واقعی میں اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا۔۔۔۔اس نے انجانے میں فریحہ کو بہت دکھ دیے مگر وہ اتنا بڑا دکھ اسے نہیں دینا چاہتا تھا۔وہ ٹوٹ جاتی اور وہ ایسا بلکل نہیں چاہتا تھا۔اگر نہیں سوچا بیٹا اس بارے میں تو سوچو میں ایک ساس ہو کر اس کی آنکھوں میں پھیلی ویرانی دیکھ کر بہت دکھی ہوتی ہوں تو تم تو پھر بھی اس کے شوہر ہو اور کتنے ظالم ہو جو اس کی آنکھوں کی ویرانی کی وجہ تم ہو۔۔۔۔میرے پاس کرنے کو تو اور بہت سی باتیں ہیں مگر میرا خیال ہے کہ اگر تمہیں سمجھنا ہوا تو تم میری ایک ہی بات سے سمجھ جاؤ گے اور اگر تم نے ساری زندگی نا سمجھی کا ہی سوچ کر رکھا ہے تو میرے ہزاروں الفاظ بھی تم پے بیکار ہیں۔۔۔شمسہ تھکے لہجے میں بولیں۔ریان نے ایک نظر اپنی ماں کے چہرے کی طرف دیکھا جنہوں نے اتنی محبت خوشی اور چاؤ سے اسکی شادی کی تھی بدلے میں اس نے شادی کے بعد انہیں ایک بھی خوشی نا دی۔یہاں سے اٹھنے سے پہلے وہ یہ تو مان چکا تھا کہ اسکی ماں کی کہی باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی غلط نہیں تھی ہر ایک بات میں سچائی تھی۔خاص طور پر وہ بات کہ اگر وہ سمجھنا چاہے تو انکی ایک باتہی کافی ہے اور اگر نا سمجھنا چاہے تو ان کے ہزاروں الفاظ بھی بیکار ہیں۔مگر اب وہ سمجھنے لگا تھا اتنا سچ سننے کے بعد نا سمجھی کا )اس کے نزدیک (سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔*****************************تو تم نے اس رشتے سے انکار کر دیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آخر کیوں۔۔۔۔معیز ایک ہی جھٹکے سے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور چبا چبا کر بولا۔ناہید جو بیڈ شیٹ درست کر رہی تھی اسکی اس بات کو انگور کرتے ہوئے اپنے کام میں ہی لگی رہی۔میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ناہید صاحبہ۔معیز نے کوئی جواب نا پا کر اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے اپنے قریب کیا۔ناہید کے بازو میں درد کی لہر سی اٹھی۔اس نے معیز کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹانے کی کوشش کی مگر اس کی گرفت مظبوط تھی۔مجھے جواب دو ناہید۔معیز نے اس کو آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔ناہید نے چہرہ دوسری طرف کر لیا اور بولی میں تمہارے کسی بھی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔تو بنا لو ناں خود کو پابند کبھی اپنے سوا کسی دوسرے کا بھی احساس کر لیا کرو۔معیز نے اس پر طنز کیا جو سیدھا تیر کی طرح ناہید کے دل میںچبھا۔وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا اسے کہاں کسی کا خیال تھا نافریحہ کا جس کے شوہر کو ابھی تک وہ اپنے دل میں بسائے بیٹھی تھی نا اپنے ماں باپ کا جن کے بچپن سے طے کئے گئے رشتے کو وہ ایک ہی جھٹکے میں توڑ چکی تھی اور نا ہی معیز کا جو اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔اف میں تم کو کیسے بتاؤں معیز کہ میں کیوں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکون گی معیز تمہیں مجھ سے صرف دکھ ہی ملے گا۔ناہید میں یہاں تمہاری خاموشی سننے نہیں آیا وہ وجہ جاننے آیا ہوں جس کی بنا پر تم نے اتنی بے رحمی سے میرا توڑ دیا۔ناہید کو معیز کی اس پر بہت دکھ ہوا مگر پھر اس نے جان بوجھ کر پورا زور لگاتے ہوئے معیز کو خود سے پرے کیا اور خود بیڈ کی دوسری طرف جا کھڑی ہوئی۔میرے پاس تمہارے کسی بھی سوال کا جواب نہیں ہے یہ میں تمہیں پہلے ہی بتا چکی ہوں۔اچھا تو پھر میرے اس سوال کا جواب تو ضرور ہی ہوگا تمہارے پاس۔معیز نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔ناہید نے مڑ کر سوالیہ نظروں سے معیز کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کس سوال کا ؟؟؟تم کسی اور کو پسند کرتی ہو ناں ناہید۔۔۔معیز نے اس کے چہرے کی طرف کھوجتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔وہ چہرہ جس کا رنگ اس سوال پر اڑ چکا تھا۔ہاں ہے جواب۔۔۔ناہید نے فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔۔اور وہ جواب ہے "نہیں"۔۔۔۔نجانے کیوں ناہید کا یہ جواب سن کر معیز کے چہرے پر سکون آٹھہرا۔تو پھر کیوں تم انکار کر رہی ہو ناہید پلیز بتاؤ ناں۔معیز نے ناہید کے پاس آکر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بے حد نرمی سے پوچھا۔ناہید دل ہی دل میں آنسو بہاتی رہی۔معیز پلیز جاؤ یہاں سے میں انکار کر چکی ہوں اور میرا انکار انکار ہی رہے گا اب بس اس سے آگے اور کوئی بات نہیں ہوگی۔ناہید کی آنکھیں بہنے کو بے تاب تھیں اور وہ یہ کام معیز کے سامنے نہیں کرنا چاہتی اس لئے ذرا غصے سے بولی۔تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔معیز بھی واپس اسی موڈ میں آگیا۔"ہاں"ناہید نے مختصر مگر دو ٹوک جواب دیا۔معیز نے اس کے ہاتھ کو زور سے جھٹکا جو وہ تھامے کھڑا تھا اور زور سے کمرے کا دروازہ بند کر کے چلا گیا۔اتنی زور سے کہ ناہید ایک دم کانپ سی گئی۔۔۔۔۔******************معیز چلا گیا مگر ناہید کے لئے ایک آسانی کر گیا کہ وہ جی بھر کر اب روتی رہے۔باہر بارش برس رہی تھی اور اندر بھی بارش برس رہی تھی۔بارش باہر تو آج آئی تھی مگر اندر کی بارش روز ہوا کرتی تھی۔ناہید کھڑکی کے پاس کھڑی برستی بارش کو دیکھنے لگیاور ساتھ ہی بے آواز آنسو بہاتی رہی۔کچھ دیر بعد وہ ٹیرس پر آئی۔معیز کے کمرے کی لائٹ آف تھیکھڑکی بھی بند تھی۔معیز اسے روز اپنی کھڑکی سے دیکھا کرتا تھا روز ٹیرس پر آکر اسے تکتا تھا اور وہ یہ بات جانتی تھی۔آج معیز کا میسج نہیں آیا تھا اور وہ جانتی تھی کہ نا ہی کل پرسو پھر کبھی آئے گا۔۔**********************ارے واہ بارش۔۔۔فریحہ خوش ہوتی ہوئی ٹیرس پر چلی آئی اور بازو پھیلا کر بارش کے قطرے اپنے ہاتھوں پر محسوس کرنے لگی۔کتنی ہی دیر وہاں کھڑی رہی۔اس بات سے انجان کہ کوئی کب سے اس بند آنکھوں سے مسکراتی ہوئی لڑکی کو خود بھی مسکرا کر دیکھ رہا ہے۔وہ چلتا ہوا اس کے قریب آگیا اور اس کے پھیلائے ہوئے دونوں ہاتھوں کے نیچے اپنے ہاتھ رکھ دیے۔فریحہ نے ایک دم آنکھیں کھولیں اور سر گھما کر اپنے پیچھے کھرے انسان کو دیکھا۔اسے ایسا لگا کہ وہ حیرت کے سمندر میں ہی ڈوب گئی ہو۔ریان اس کے اتنی قریب تھا اپنے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ لئے ہوئے تھا اور مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ریان اس کی مسکراہٹ دور کرنے کی خاطر بولا۔تمہیں بارش پسند ہے کیا۔۔۔۔اور پھر اس کا جواب جانے بغیر پھر بول پڑا مجھے بہت پسند ہے۔جب بھی بارش آتی ہے میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ایسے ہی بازو پھیلائے بارش کے قطروں کو اپنی ہتھیلیوں پر محسوس کروں۔ایک سکون سا دل میں اتر جاتا ہے۔تم کہتی ہو کہ میری اور ناہید کی پسند بہت ملتی ہے مگر تم غلط ہو فری پسند اسکی اور میری نہیں بلکہ تمہاری اور میری ملتی ہے۔جیسے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر پانی پینے کی عادت) ساری رات ہی یہی کام (بلکل اندھیرا کر کے سونے کی عادت)ذرا بھی اندھیرا ہو تو نیند نہیں آتی (بدلتے موسم سے ڈرنے کی عادت) طبعیت ناساز ہو جاتی تھی (۔۔۔۔فضول بحث کرنے کی بجاۓ چپ کر جانے کی عادت) بحث سے سخت چڑ(۔۔۔۔بار بار ٹی وی چینل بدل کر ایک ہی پر ٹک جانے کی عادت۔۔۔۔ناشتے میں ڈیلی بوئل ایگ کھانے کی عادت۔۔۔۔کولڈ ڈرنک سے خار کھانے کی عادت۔۔۔۔ہر شام بلا ناغہ چاۓ پینے ) جس کے بغیر دونوں کا گزارا نہیں ( کی عادت۔۔۔ہر بات پے کیڑے نکالنے والے لوگوں سے دور رہنے کی عادت۔۔۔۔بری بات پے فوراً ٹوک دینے کی عادت۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے ریان اور بھی عادتیں گنواتا فریحہ مسکراتے ہوئے بول پری۔ریان مجھے نہیں پتا تھا کہ آج اتنا غور کرتے ہیں ہماری عادتوں پر۔پہلے تو واقعی میں کبھی غور نہیں کیا تھا مگر اب چند دنوں سے عادت پری عادتیں نوٹ کرنے کی۔ریان نے بھی مسکرا کر جواب دیا اور ٹیک لگا کر گرل کے ساتھکھڑا ہوگیا۔فریحہ حیران تھی کہ آج ریان خود سے اس کے ساتھ اتنی باتیں کر رہا ہے اور وہ بھی خوشگوار موڈ میں۔)یا شائد بارش کا اثر تھا جو اس پر خوشگوار اثرات چھوڑ رہی تھی ( فریحہ کو لگا کہ جیسے ریان کو دی مہلت پوری ہونے لگی ہے اسکو دیا وقت ختم ہو رہا ہے۔دوسری طرف ریان کو بھی ایسا ہی لگ رہا تھا۔فریحہ ریان کے چہرے پر کچھ تلاش کر رہی تھی شائد اپنے لئے پسندیدگی کہ ریان نے ایک دم سے چھینک ماری۔۔ایک دو اور پھر تین۔۔۔موسم واقعی میں اپنے اثرات چھوڑ رہا تھا مگر اب کے اثرات کچھخوشگوار نہیں تھے۔شائد بیماری )بخار زکام سر درد ( کی آمد آمد تھی۔۔***************************Next on Wed....

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/