http://novelskhazana.blogspot.com/
#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۲سب کو اپنا کہنے والی لڑکی کتنی تنہا تھیسبکے دل کی سننے والی لڑکی کتنی تنہا تھیسب کی آنکھوں کا تارہ تھی لیکن اپنی پلکوں سےاپنے سپنے بننے والی لڑکی کتنی تنہا تھیدن بھر گھر کے کاموں کی الجھن سے چھپ چھپ کررونے اور جاگنے والی لڑکی کتنی تنہا تھیکتنی خوش لگتی تھی لیکن اپنے سارے رنج و غمدل میں رکھنے والی لڑکی کتنی تنہا تھیکتنے سارے رشتے ناطے اسکو حاصل تھے لیکنچپ چپ رہنے والی لڑکی کتنی تنہا تھی۔۔۔۔۔______ _______ ________ ________مانو آ بھی جاؤ ناشتہ ریڈی ہے پھر بابا کو دیر ہو جائے گی ورنہ آفس وہ تمہیں بلا رہے ہیں ۔۔آئی آپی بس ۲ منٹ۔۔ہاں ہاں مہارانی جلدی کیسے آئیں پہلے سب کو انتظار تو کر والیں۔۔احد کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا کیا ہے ماما آپ ہر وقت آپی کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہیں۔۔آئے ہائے یہ کیسےبات کر رہے ہو تم مجھ سے تمجز بھول گئے ہو کیا ساری یا یہ سب وینا کی زبان ہے۔۔ریحانہ بس بھی کردو کیوں بچوں کو سناتی رہتی ہو اور احد تمیز سے بات کیا کرو تم بھی سجاد صاحب نے غصے سے کہا۔۔سوری بابا۔ احد بولا۔السلام وعلیکم بابا ماما اور سبکو وینا نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئےبولی اتنے میں وانیہ بھی آگئی تھی اور عینی ناشتہ لگا چکی تھی۔۔سب نے اسٹارٹ کیا اور موضوع ایک ہی تھا وینا کا یونی میں پہلا دن۔۔ریحانہ بیگم نے مخالفت کی تھی کہ نہ بھیجا جائے لیکن سجاد صاحب کی وجہ سے خاموش ہو گئی تھیں اور پھر وینا نے اسکالر شپ پہ ایڈنیشن لیا تھا تو انھیں پیسے جانے کا بھی دکھ نہیں تھا۔۔عینی: مانو جاؤ گی کیسے یونی؟وینا: آپی سمرین آئیگی نہ ساتھ ہی جائجں گے واپسی میں بھی وہی ڈراپ کریگی۔۔۔اتنے سمرین کی کار کا ہارن ہوا تو وہ جوس کا گلاس پیتی بابا ماما سے گلے ملی سجاد صاحب نے پیار سے اسکا ماتھا چوما اور ریحانہ بیگم نے منہ بناکر اسے اللہ کی ا۔ان میں دیا پھر وہ اپنا حجاب اور چادر درست کرتی ہوئی احد وانی کو چپت لگاتی عینی سے اللہ ءافظ کہتی باہر آگئی سمرین کار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی دونوں گلے ملیں وینا نے کار کیز لیں اور ڈرائونگ سیٹ سمبھال لی سمرین مسکراتے ہوئے اسکے برابر آ بیٹھی اور بولی تم نے نہیں سدھرنا ہے اور آہستہ ڈرائیو کرنا میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی ہے۔۔😝😝وینا تپ کے بولی ہاں ہاں میرے تو جیسے چار بچے ہیں نہ۔۔😒😒😏😏سمرین دل پہ ہاتھ رکھ کر ادھر ادھر دیکھتی بولی ہائے اللہ وینا کدھر ہیں مجھے نہیں ملوایا تم نے ۔۔اسکی ایکٹنگ پہ وینا کو ہنسی آگئی اور سمرین بھی ہنسنے لگی۔۔😂😂ارے یار الینا سے بات ہوئی تمہاری ۔۔سمرین نے کہا ہاں کل ہوئی تھی امریکہ میں مزے کر رہی ہے وہتو۔۔۔ہممم ویسے عجیب بات ہے نہ ہم تینوں بچپن سے ساتھ ہیں لیکن نہ ہمیں کبھی میڈیکل سمجھ آئی اور نہ کبھی الینا کو بزنس ۔۔😏😏ہاہاہاہا ویسے وینا ابھی الینا ہوتی تو تمہاری بات پہ اپنا سنہری حروف میں لکھا جما دہراتی۔۔۔"میں نیورو سرجن بن کے سب سے پہلے پریشے عباسی تمہارا دماغ ٹھیک کرونگی"دونوں نے ساتھ کہا اور پھر زوردار قہقہا بلند ہوا۔😂۔یار وینا کوئی سونگ ہو جائے۔۔ہاں ہاں پلیئر آن کرلیں نا میڈم۔۔یار نہیں تم سناؤ نا پلیز۔۔فلحال یونی آگئی ہے چپ کر جاؤ اب۔۔ہنہ تم نا بڑی وہ ہو۔۔نہیں ۔یں وہ۔ہ۔ہ نہیں ہوں۔۔پھر ایک قہقہا فضا میں گونجا۔۔)پریشے کی آواز بہت خوبصورت تھی وہ بہت اچھا گاتی تھی اور اسکا دوسرا پسندیدہ مشغلا اسکیچ بنانا تھا وہ اتنا اچھا ڈرا کرتی تھی کہ تصویر میں جیسے بنا کہے اور لکھےالفاظ ہوں دیکھنے والا داد دئیے بنا نہیں رہ سکتا تھا اور تیسراوہ اپنی روز کی روداد لیپ ٹاپ ڈائری کے حوالے کرتی تھی(الینا ، سمرین اور پریشے بچپن کی دوستیں تھیں اجک دوسرے کو اچھے سے جانتی اور سمجھتیں تھیں۔الینا انٹر کے بعد یو ایس اپنے چاچو کے پاس چلی گیی تھی نیورو سرجن بننے۔سمرین کی امی اور بھائی لاہور رہتے تھے اور سمرین کراچی میں اپنے مامو کے پاس رہتی تھی انہوں نے بچپن سے سمرین کو گود لے لیا تھا کیونکہ انکی اولاد نہیں تھی یوں وہ انہیں ہی بابا کہتی تھی اصلی والد انتقال فرما گئے تھے۔۔سجاد صاحب اور سلطانہ بیگم کی شادی کے ایک سال بعد انہیں اولاد کی خوشخبری ملی لیکن پریشے کی پیدائش کے وقت سلطانہبیگم سروائیو نہیں کر سکیں اور اللہ کو پیاری ہو گئیں سجاد صاحب کو بہت دکھ ہوا اور وہ بیمار ہو گئے اس عرصے میں پریشے کو اسکی تائی نے سمبھالا اور جب سجاد صاحب ٹھیک ہوئے تو انہیں پریشے کی فکر لاحق ہوئی بھائی اور بہن کے سمجھانے پر وہ دوسری شادی پہ طیار ہوئے جوں انکی کزن ریحانہ بیگم اپنی ۵ سالہ بیٹی عینی کے ہمراہ انکی زندگیمیں شامل ہوئیں وہ تھوڑج لاپرواہ خاتون تھیں لیکن طلاق کے بعد ان میں کافی چینج آیا تھا اب وہ کوئی نقصان افارڈ نہیں کر سکتی تھیں یوں وہ خاموش رہتی تھیں عینی کی تربیت اسکی نانی نے کی تھی وہ بہت حساس بچی تھی باپ کی شفقت کو ترسی ہوئی سجاد صاحب نے اسے کبھی سوتیلا پن محسوس نہیں کروایا تھا اور بچپن سے ہی پریشے عینی کی مانوبن گئی عینی پری کی خاموشی بھی پہچانتی تھی اور شادیکے چار سال بعد وانیہ اور احد کی پیدائش ہوئی وانیہ بہت بیمار تھی شروع میں اسکا کافی علاج کروایا گیا اور توجہ کی بھی ضرورت تھی اسے تو احد بچپن سے پریشے سے اٹیچ رہا پریشے کو 18 سال تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ریحانہ بیگم اسکی سگی ماں نہیں ہیں اب بھی معلوم نہ ہوتا اگر ایک دن ریحانہ بیگم کی منہ بولی بہن سمینہ انکے گھر نہ آئی ہوتیں اور پریشے نے انکی زہر خند گفتگو نہ سنلی ہوتی۔۔بابا اور عینی کے سمجھانے پر وہ تھوڑی اسٹجبل ہوئی لیکن زیادہ خاموش رہنے لگی آخر اسے منہوس کہا گیا تھا کہ وہ اپنی ماں کو کھا گئی۔اس دن سے وہ روز اپنی ماں سلطانہ بیگم کی تصویر سے باتیں کرتی تھی اور احد ہمیشہ پری کے لیے اپنی ماں سے لڑتا تھا لیکن پری اسے ڈانٹ کر خاموش کرادیتی تھی ریحانہ بیگم نے سمینہ کو بھی یہ بات کرنے سے سختی سے اسی دن منا کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ تو پھر ناانصافی کر جاتی ہیں لیکن سجاد صاحب نے کبھی عینی کے معاملے میں کوتاہی نہیں برتی اور اس طرح حقیقت کھلنے پہ وہ ریحانہ سے خفا بھی ہوئے تھے لیکن پری کے کہنے پہ انہوں نے ناراضگی ختم کرلی تھی سمینہ کو وینا سے یہ پرخاش تھی کہ انکا بیٹا امان پری کے پیچھے پڑا تھا اور وہ کسی صورت پری کو بہو نہ بناتی تو وہ پری کو بے عزت کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتی پری تو کچھ نہ کہتی البتہ احد اور وانی انکو سناتے دونوں جڑوا تھے تو عادتیں بھی ملتی تھیں اکثر امان بھی اپنی ماں سے خفا ہوتا لیکن پری کو وہ بلکل اچھا نہیں لگتا تھا اسے اسکی نظروں سے الجھن ہوتی تھی ویسے بھی اسکے دس دس افئیرز ہوتے تھے کیونکہ وہ امیر ہونے کےساتھ ساتھ خوش شکل بھی تھا پری کو ہمیشہ بزنس کا شوق رہا اس انٹر بورڈ میں ٹاپ کیا جسکی بنا پر اسے اسکالر شپ مل گئی لیکن اسکی بد اسمتی تھی کہ امان نے بھی اسی یونی میں ایڈ میشن لیا تھا۔۔ جو آگے جا کر پری کی زندگی کو آزمائیشوں کے سمندر میں دھکیلنے والا تھا۔۔😢😢😢😓_______ _______ ________ _______اک نفرت ہی نہیں دنیا میں درد کا سبب فرازمحبت بھی سکوں والوں کو بڑی تکلیف دیتی ہے_________ _________ ________پری اور سمرین آج ڈاکومینٹس پورے کرنے اور بزنس ڈیپارٹمینٹ سمیت یونی دیکھنے آئے تھے ۔۔جب وہ ڈین کے آفس سے نکل کر ڈیپارٹمینٹ کی طرف گئے تو پری گھوم گھوم کر یونی کا جائزا لے رہی تھی اور سمرینہر آتے جاتے پہ کمینٹ کر رکی تھی۔ کوریڈور کا موڑ مڑتے ہی پری کی کسی زوردار ٹکر ہوئی سامنے والا کافی عجلت میں آجا تھا لیکن اس افتاد کے لئے طیار نہیں تھا پری کسی کے چوڑے سینے ٹکرائی تو سامنے والا اسے دیکھتا دنگ رہ گیا وہ پیچھے ہوتی آنکھیں بند کئیے سر پہ ہاتھ رکھے بولی اللہ جی میرا سر ایسا لگتا ہے کسے پتھر سے ٹکرا گئی سسس اف۔ف۔ف ۔۔۔🙈🙈سمرین خود سکتے میں تھی فورن ہوش میں آئی اور بولی مسٹر آپکی آنکھیں ہیں یا بٹن میری دوست کا سر توڑ دیا یار اب تو الیناسے علاج کرانا ہی پڑیگا دونوں ایک دم ہنسنے لگیں پری کی آنکھ میں آنسو آگئے اس نے صاف کئے سامنے والا تو اسکی ہنسی میںہی کھو گیا پھر انہیں یوں ہنستا دیکھ کر سوچا پاگل ہیں کیا دونوں اسکے ٹکٹکی باندھے دیکھنے سے پری کی ہنسی کو بریک لگے اور وہ اسے گھور کر منہ بناتی اپنی چیزیں اٹھانے لگی اسکے اس طرح کر ری ایکشن پہ سامنے والے نے مشکل سے اپنی ہنسی😊کنٹرول کی اور کہا:سوری مس مے آئے ہیلپ یو پلیز؟پری نے ایک نظر اسے دیکھا نفی میں سر ہلاتے اپنے کام میں لگ گئی لیکن سمرین نے اسکی اچھی خاصی کلاس لے لی واہ پہلے کام بگارو پھر مدد کرنے آجاؤ بہت خوب مسٹر ابھی وہ اور کچھ بولتی کہ پری نے اٹھکر اسے کہا بس کردو اور چلو میں تمکیں کچھ کھلاتی ہوں )سمرین میڈم چٹوری ہیں ذرا( پری جاتی تھی اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے وہ فورن اس لڑکے کو بھول کر بولی ہاں ہاں کیون نہیں جلدی چلو وہ لڑکا اب بھی پری کو دیکھ رہا تھا۔ سمرین آگے چل پڑی تو پری اس لڑکے کو دیکھ کر منہ بناتی آنکھیں گھماتی سمرین کے پیچھے چل دی۔وہ لڑکا اسکے جانے کے بعد ہلکے سے مسکرایا😊جس سے اسکے ایک گال پہ ڈمپل نودار ہوا جو اسکی ہلکی بیئرڈ میں چھپا ہوا تھا اور اسے مزید خوبصورت بنا رہا تھا😍پھر ہلکے سے بولا پری ہممم امیزنگ💞اور اپنا کام یاد آتے ہی پھر تیز تیز چلنے لگا۔۔۔پری اور سمرین جب کینٹین پہنچے تو وہاں کچھ لڑکے لڑکیای گروپ بنائے سنگنگ کی محفل جمائے بیٹھے تھے سمرین تو فورن وہاں پہنچ گئی پریشے جانا نہیں چاہتی تھی مگر سمرین کی وجہ سے چاروناچار وہیں بیٹھنا پڑا سب کا انٹرو ہونےکے بعد سمرین نے پری کو پھنسا دیا کہ یک بکت اچھا گاتی ہےیوں سب اس کے سر ہو گئے کہ کچھ سناؤ پریشے سخت نظروں سے سمرین کو گھورتی کچھ گانا شروع کرنے ہی لگی تھی کہ سمرین نے پںر ٹوکا اور کہا میرا فیورٹ سناؤ پلیز وہ غصہ ہوتی سانسکھینچ کر خود کو نارمل کرتی گانا شروع کردیا۔۔۔۔😒😊باتیں یک کبھی نہ تو بھولناکوئی تیری خاطر ہےجی رہاجائیں تو کہیں بھی یہ سوچناکوئی تیری خاطر ہےجی رہاتو جہاں جائے محفوظ ہودل میرا مانگے بس یہ دعائیں۔۔۔۔۔💞💞💞🔥🔥سب اسکی آواز کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے کینٹین میں خاموشی سی ہو گئی تھی جب وہ چپ ہوئی تو زوردار کلیپنگ ہوئی سب نے اسے داد دی وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ چہرا جھکائے بیٹھی تھی کہ سمرین نے اسے کوہنی ماری تو وہخفگی سے دیکھتے بولی اب کیا ہر اس نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے کہا کہ دیکھ وینا وہ ٹکر والا لڑکا یہاں بھی پہنچ گیا اور کیسے تجھے گھور رہا ہے پری نے اس لڑکے کو غصے سے دیکھا تو وہ ہوش میں آیا اسی طرف آنے لگا پتا نہیں کون کے اسکے ایسے کہنے پر سامنے بییٹھے لڑکے نے ککا ارے آگیا ہمارا ہیرو پرییشے آپکو یہ ہی مات دے سکتے ہیں بس ایک لڑکی فورن بولی نہیں شہزاد وہ گٹارسٹ بہت اچھا گاتا بس نارمل ہے لیکن پری کی آواز میں جادو کے یار وہ لڑکا اثبات میں گردن ہلاتا بولا ہاں ماریہ یہ بات تو ہےاتنے میں وہ لڑکا گٹار تھامے انکی ٹیبل تک آیا اور پریشے کی سامنے والی کرسی پہ بیٹھا ۔۔یار تم گٹار لینے گئے تھے یا بنانے ۔۔😏😏وہ بولا ہاں سوری یار تھڑا لیٹ ہو گیا راستے میں پریاں مل گئیتھیں اسکی بات پہ سب نے قہقہا لگایا سوائے پریشے اور سمرین کے وہ بات سمجھ گئیں تھیں پھر وہ پری سے آپکی آواز بہت ہی خوبصورت ہے امیزنگ آئی ایم ریلی سرپرائیزڈ۔۔۔😍😊پری نے جبری مسکراہٹ سے اسے تھینکیو بولا۔۔۔۔۔۔😒😒اور وہ لڑکا مسکرانے لگا پری نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا اورکچھ دیر میں وہاں سے پری اور سمرین چلی گئیں وہ لڑکا مسکراتے ہوئے پر سوچ نظروں سے پری کو دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔🔥💞💞___________ _____________💖بظاہر چپ ہو لیکن پھر بھی آنکھــــوں میں ہیں افسانے💖تیری خاموشیــــــوں کو بھی صدا کہہ دوں تو کیسا ہو___________ _____________جاری ہے۔۔۔۔آپکے کمینٹس اور حوصلہ افزائی کا انتظار رہیگا کوئی مسٹیک ہو تومعاز ت۔۔😘😘

No comments:
Post a Comment