Friday, November 16, 2018

راہ محبت قسط8

http://novelskhazana.blogspot.com/


**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 8**ناہید کیا تم اس بات سے واقف ہو کہ۔۔۔۔کہ تم بچپن سے معیز سے منصوب ہو۔۔۔"وہاٹ"یہ کیا کہہ رہی ہو تم۔۔۔۔یہ تم سے کس نے کہا۔۔۔تو کیا تم اس بات سے واقف نہیں۔۔۔یشل نے تسلی کرنی چاہی۔ میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں یہ بکواس تم سے کس نے کی۔یہ بکواس نہیں ہے ناہید۔۔۔اچھا رکو ریلیکس۔۔۔۔میں تمہیں شروع سے سب بتاتی ہوں۔۔۔دیکھو ناہید میرے پیرنٹس نے جان بوجھ کر فری آپی کا رشتہ نہیں مانگا ہاں یہ سچ ہے کہ وہ انھیں پہلے ہی نظر میں بہت پسند آئی تھیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ تمہاری معیز سے نسبت طے ہے یہ جاننے کے بعد ہی انہوں نے فری آپی کا ہاتھ بھائی کے لئے مانگا۔ماما پاپا نے پہلے آپ دونوں کی شادیوں کا ذکر چھیڑا تو آنٹی نے بتایا کہ فری آپی کے لئے تو وہ آج کل رشتے دیکھ رہے ہیں مگر تمہاری طرف سے وہ بے فکر ہیں کہ تمہاری خالہ نے پہلے سے ہی انھیں اپنے معیز کے لئے تمہارا کہہ رکھا ہے۔پھر فری آپی نے بتایا کہ خالہ نے تو بچپن سے ہی تمہیں معیزکے لئے پسند کر لیا تھا اور یہ کہ معیز تمہیں بہت چاہتا ہےمگر تم سے اس بارے میں ذکر کرنے کا اس نے سب کو منع کر دیا۔یہ جاننے کے بعد ماما پاپا نے ایسا کیا جب بھائی کو معلوم ہوا کہ وہ انکا رشتہ تمہاری بجاۓ فری آپی کے لئے مانگ آئے ہیں بلکہ باقاعدہ سب طے کر آئے ہیں تو انہوں نے ماما پاپا سے بہت بحث کی باقاعدہ ضد کی اتنا سمجھانے پر بھی بھائی جب نا سمجھے تو پاپا نے انھیں تمہارے اور معیز کے رشتے کا بتا دیا۔بھائی تو چپ کے چپ ہی رہ گئے۔اب اور بولتے بھی تو کیا۔۔۔۔۔میں تمہیں یہ سب اس لئے بتا رہی ہوں کہ تمہیں اگر میرے ماما پاپا اور بھائی پر کوئی غصہ ہے تو وہ ختم کر دو کیوں کہ اس میں انکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔ناہید تم سن رہی ہو ناں۔یشل نے اس کا بازو ہلاتے ہوئے پوچھا۔مگر ناہید تو جیسے وہاں تھی ہی نہیں۔یشل کے اب مزید اور کچھ بولنے کا فائدہ نا تھا وہ خاموشی سے اس کے پاس سے اٹھی اور باہر نکل گئی۔۔********************ارے کیسے ہیں آپ۔۔۔لاؤنج سے گزرتے معیز پر یشل کی نظر پری تو وہ پوچھے بغیر نا رہ سکی۔)اف یہ پرفیوم کی خوشبو یہ بندہ آخر کون سی خوشبو لگاتا تھا ( معیز نے ایک دم رک کر اسے دیکھا اور پھر پہچاننے کی کوشش کی۔ارے آپ ناہید کی دوست ہیں نا اور فری آپی کی نند صاحبہ۔جی میں وہی ہوں۔اوہ سہی۔۔۔معیز نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور آگے بڑھنے لگا جب وہ دوبارہ بولی۔ویسے میں نے آپ سے آپکا حال پوچھا ہے۔۔۔معیز پلٹا اسکی طرف دیکھا اور بولا بندے کا حال بلکل ٹھیک ہے آپ کیسی ہیں۔اب جواباً اس کا حال پوچھنا تو معیز کا فرض بنتا تھا ناں۔میں بھی بلکل ٹھیک۔۔۔) آپ کو دیکھ کر تو اور بھی ٹھیک ( اب اگر آپ نے میرا حال پوچھ لیا ہو تو میں اپنی ڈیر کزن ) خونخوار ڈائن( کا حال پوچھنے چلا جاؤں۔کتنی محبت سے بولتا تھا نا وہ ڈیر کزن مگر یشل کو نجانے کیوں اسکا اتنے پیار سے یہ بولنا برا لگا۔وہ دھیرے سے سر ہلا گئی تو معیز سیڑھیاں چڑھ گیا۔ویسے یشل چاہتی تھی کہ اس وقت ناہید کا حال نا ہی پوچھا جاۓ تو بہتر ہے۔کیوں کہ اسکا حال اسے دکھ دے رہا تھا۔۔**********************ڈیر کزززز۔۔۔۔۔معیز جو اپنی ہی جون میں چلتا اس کے کمرے میں آیا تھا ناہید کیآنسوؤں سے تر ہوتی صورت دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔ناہید تم رو رہی ہو۔۔۔معیز اس کے پاس چلا آیا۔ناہید نے مگر سر اٹھا کر اسے دیکھا تک نہیں۔ناہید اس طرح کیوں رو رہی ہو ادھر دیکھو میری طرف۔معیز نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنی طرف کیا مگر ناہید تو جیسے کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی اور اس کے دونوں ہاتھ زور سے جھٹکتے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے بے دردی سے پرے دھکا دیا اور چلائی۔چلے جاؤ تم یہاں سے دور ہو جاؤ میری نظروں سے نہیں کرنی مجھے تم سے کوئی بات دھوکہ دیا ہے تم نے مجھے بلکہ شروع سے ہی دیتے آئے ہو۔معیز جو اس کے اتنی زور سے دھکا دینے پر گرتے گرتے بچا تھا اسکے ان الفاظ پر کہ "دھوکہ دیا ہے تم نے مجھے" دھنگ رہ گیا۔یہ تم کیا کہ رہی ہو ناہید کون سا دھوکہ دیا ہے میں نے تمہیںمیں تو تمہیں دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔مگر تم نے سوچا۔۔۔۔تم نے سوچا کہ تم مجھے کبھی یہ نہیںبتاؤ گے کہ تم میرے منگیتر ہو تم بچپن سے یہ بات جانتے ہو اور مجھے چاہتے ہو تم کبھی نہیں بتاؤ گے آخر کیوں۔ناہید چیخ رہی تھی۔۔۔تمہیں یہ کس نے بتایا ناہید۔۔۔معیز حیران ہوا۔۔مجھے جس نے بھی بتایا ہے تمہیں اس سے کیا ۔۔۔ہاں تمہیں کیا اس سے۔۔۔۔بولو کیوں نہیں بتایا۔۔۔بولتے کیوں نہیں۔ناہید نے اس کے کالر کو جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا۔معیز نے دھیرے سی اس کے ہاتھ اپنے کالر سے ہٹائے اور بولا۔اسی لئے نہیں بتانا چاہتا تھا تمہیں۔۔جانتا تھا تم یہ جان کر ایسے ہی ری ایکٹ کرو گی۔یقین کرو ناہید مجھے بھی یہ بات بچپن سے معلوم نہیں تھی مجھے تو یہ تب معلوم ہوا جب میں پندرہ سال کا تھا۔ماما نے تمہیں یہ بات بتانے سے منع کر دیا کہ تم ابھی چھوٹی ہو اس بات سے دور ہی رہو تو اچھا ہے۔جب تم بڑی ہوئی تو ماما نے اس بات کا باقاعدہ اعلان کرنے کا فیصلہ کیا مگر میں نے انھیں یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ میں تمہیں سرپرائز دوں گا میں تمہیں خود بتاؤں گا۔اور میں جانتا تھا کہ یہ جان کر تمہیں جھٹکا ضرور لگے گا مگر تم اس طرح کا ری ایکٹ کرو گی یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔مجھے اس بارے میں بچپن سے نہیں پتا تھا مگر ہاں میں یہ ضرور مانتا ہوں کہ میں تم سے محبت بچپن سے ہی کرتا آیا ہوں اور تاعمر کرتا رہوں گا ناہید۔۔۔پلیز تم اس طرح مت رو ناہید تمہارا رونا مجھے کتنی تکلیف دینا ہے یہ بات۔۔۔۔پلیز معیز اب اور کچھ مت کہنا۔۔۔اگر تمہیں میری ذرا سی بھی پرواہ ہے تو پلیز چلے جاؤ یہاں سے مجھے تم سے اب نا کچھ کہنا ہے اور کچھ سننا ہے۔ناہید نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔مگر میں تمہیں اس حال میں روتا ہوا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔معیز کو اس کے اس طرح رونے سے دکھ رو رہا تھا۔مت کرو میرے حال کی پرواہ چھوڑ دو مجھے میرے اسی حال پر مر نہیں جاؤں گی میں اگر تم چلے جاؤ گے تو۔۔ناہید چلاتی ہوئی واش روم میں گھس گئی اور دروازہ زور سے بندکیا۔معیز کتنی ہی دیر اس کے باہر آنے کا انتظار کرتا رہا مگر وہ واش بیسن کے پاس کھڑی آنسو بہاتی رہی تو معیز نیچے چلا آیا۔معیز بیٹا کیا بات ہے یہ ناہید اتنی زور زور سے کیوں چلا رہی تھی۔خالہ اسکا پتا تو ہے آپ کو غلطی سے اسکا پرفیوم مجھ سے ٹوٹ گیا بس اسی کا غصہ نکال رہی تھی۔معیز نے بر وقت بہانہ بنایا۔پتا نہیں کیا بنے گا اس لڑکی کا ذرا ذرا سی بات پر غصہ کرنے لگ جاتی ہے۔خیر تم یہ بتاؤ کہ کھانا کھاؤ گے۔سمینہ نے کچن کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا۔نہیں خالہ کھانا تو میں کھا کر آیا تھا۔معیز نے دوسرا جھوٹ بولا۔اب کیا بتاتا کہ بھوک تو اس کی اڑ چکی تھی ناہید کی باتیںسن کر۔۔****************************کام کا دباؤ ذرا کم ہوا تھا اس لئے ریان آج آفس جلدی واپس آگیا اس ارادے کے ساتھ کہ کچھ آرام کر لے۔مگر لان میں سب کو بیٹھا دیکھ وہ کمرے میں جانے کی بجاۓ وہی کرسی لے کر بیٹھ گیا۔فریحہ شام کی چاۓ بنا لائی تو سب نے مل کر چاۓ پی۔گرمی کا زور ٹوٹ چکا تھا سردیوں کی آمد آمد تھی۔ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی تھیں۔بارش بھی آنکھ مچولی کھیلنے لگی۔کبھی اچانک سے آتی تو کبھی آتے ہی تھم جاتی۔ریان کو ہمیشہ سے اس موسم سے چڑ رہی تھی کیوں کہ بدلے موسم کی ہوائیں اس پر ہمیشہ سے برے تاثرات چھوڑ جاتی تھیں۔یعنی وہ ضرور بیمار پر جاتا تھا۔جبکہ ناہید کو ایسے موسم کا بے صبری سے انتظار رہتا تھا وہ سردیوں کا بڑی خوشدلی سے ویلکم کرتی تھی۔مگر اب اسے اس موسم سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیوں کہ اس کے دل کا موسم جو ایک ہی جگہ تھم سا گیا تھا۔۔۔ارے اب تم پھر سے کہاں چل دیے۔ریان کو اٹھتا دیکھ شمسہ بولیں۔ماما کہیں نہیں بس یہیں قریب واک پر جا رہا ہوں۔بھائی میں بھی چلوں گی آپ کے ساتھ گھر میں بیٹھ بیٹھ کر تو میں بور ہی ہو گئی چہل قدمی)آوارہ گردی ( کرتے تھوڑی سی تازہ ہوا ہی کھا لوں۔ریان کی بات پر یشل بولی۔اچھا ٹھیک ہے چلو۔ریان نے کہا۔بھابھی آپ بھی چلیں نا۔یشل فریحہ کو اب فری آپی کی بجاۓ بھابھی کہنے لگی تھی۔ارے نہیں۔۔۔۔کوئی انکار نہیں چلیں نا تھوڑی سی آوارہ گردی کر کے آتے ہیں۔یشل نے شوخ لہجے میں آہستہ سے فریحہ کے کان میں کہتے ہوئے آنکھ ماری۔بدتمیز۔۔۔فریحہ نے اسے چٹکی کاٹی۔اچھا چلیں اب آجائیں۔۔۔۔********************ارے بھابھی چلیں آئس کریم کھاتے ہیں۔آئس کریم شاپ دیکھتے ہی یشل کی آنکھیں چمک اٹھیں۔نہیں یشل میں آئس کریم نہیں کھاتی۔فریحہ نے نرمی سے منع کر دیا۔کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ارے کیسی لڑکی ہیں آپ آئس کریم نہیں کھاتیں۔یشل پوری آنکھیں پھیلائے اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی تو فریحہ ہنس دی۔تمہیں پتا ہے ناہید بھی یہی کہتی ہے۔ناہید کے ذکر پر ریان نے فریحہ کو اور یشل نے ریان کو دیکھا۔یشل سوچنے لگی اگر بھابھی کو ذرا بھی اندازہ ہو جاۓ کہ بھائی یشل کے لئے کیا جذبات رکھتے ہیں تو شائد وہ ان کے سامنے اسکا ذکر کرنے سے احتیاط کرنے لگ جائیں۔یشل نے اپنے لئے آئس کریم لی اور سڑک پر ٹہلتی ہوئی کھانے لگی وہ پوری طرح سے آئس کریم کھانے میں مگن تھی اور ساتھ ہی معیز کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی۔اس دن کے بعد سے اسکا معیز سے کوئی سامنا ہی نہیں ہوا تھا اور اس دن کو دو ہفتے سے زیادہ ہو چکے تھے۔حالانکہ وہ دو دفعہ فریحہ کے ساتھ ناہید کی طرف سے ہو کے آئی تھی۔فریحہ اور ریان ساتھ ساتھ چل رہے تھے جبکہ یشل ان سے دور)جان بوجھ کر (۔۔۔۔آپکا پسندیدہ رنگ کونسا ہے۔ان دونوں کے درمیان خاموشی کو توڑنے کے لئے ہر بار کی طرح پہل فریحہ نے کی۔بلیو۔۔۔ارے واہ ناہید کا پسندیدہ رنگ بھی بلیو ہے۔اور آپ کی پسندیدہ ڈش۔۔۔۔۔بریانی۔۔۔زبردست ناہید بھی بریانی کے پیچھے پاگل ہے۔۔۔۔ویسے اسی لئے آپ بریانی اتنے شوق سے کھاتے ہیں میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔اور زندگی کی کوئی ایسی بات جس پر آپ بہت یقین رکھتے ہوں۔۔۔؟؟کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے اگر آپ ممکن بنانا چاہیں تو کچھ بھی نا ممکن نہیں۔۔۔۔۔ڈٹس گریٹ پتا ہے ناہید کا بھی یہی ماننا ہے۔۔۔۔) اف ناہید ناہید ناہید آخر یہ ناہید کا نام لینا بند کیوں نہیں کر دیتی( ویسے آپ کی اور ناہید کی پسند کتنی ملتی ہے ناں۔ریان نے اس بات کا کوئی جواب نا دیا۔) ریان کا ماننا تھا کے ہار نہیں ماننی چاہیے اور کچھ بھی نا ممکن نہیں اگر آپ ممکن بنانے کا پکا ارادہ رکھتے ہوں تو۔۔۔مگر اس کے باوجود وہ ہار مان چکا تھا اپنے ماں باپ کے آگے فریحہ کے لئے ہاں کہہ کہ کیوں کہ وہ ناہید سے اپنا رشتہ ممکننہیں بنانا چاہتا تھا۔۔۔وجہ معیز تھا جو اسے بہت چاہتا تھا( ریان سوچنے لگا ناہید بہت کم فریحہ کا ذکر کرتی تھی اور ایک فریحہ ہے ناہید کا ذکر کر کر کے اس کی زبان ہی نہیں تھکتی۔۔********************اس دن کے بعد سے معیز نے ناہید کی طرف آنا جانا بہت کم کر دیا تھا اپنے پاپا کے ساتھ بزنس میں بہت سیریس ہو گیا تھا۔سیریس تو خیر وہ پہلے بھی تھا مگر اس کی سنجیدگی کچھخطرناک سی لگتی تھی۔چھوٹی موٹی شرارتیں اور نوک جھوک بھی بند کر دی تھیں۔روحیل صاحب کو نہیں معلوم تھا کہ وہ اس قدر سنجیدہ کیوں ہوگیا ہے اگر وہ پوچھتے تو ہنس دیتا اور کہتا کہ آپ خود ہی تو کہتے تھے کہ سنجیدگی اختیار کرو تو اب کر لی۔اس دن کے بعد ایک دو دفعہ ناہید کی طرف چکر لگایا تو تھا مگر وہ بھی ایسے جیسے ویران سے گھر میں آئے اور چپ چاپ واپس چلے گئے۔کیوں کہ ناہید اس سے بات ہی نہیں کرتی تھی لڑتی ہی نہیں تھی اس لئے اسے گھر بلکل خالی خالی سا لگتا تھا۔ناہید سے بات کرنے کی کوشش کی تھی اس نے بدلے میں وہ بھی بات کرتی مگر ایسے جیسے کسی اجنبی سے بات کر رہی ہو۔آخر تنگ آکے معیز یہ کہہ آیا کہ ٹھیک ہے اگر تمہیں میرا اس گھر میں آنا اچھا نہیں لگتا تو میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔مگر رات اپنے کمرے کی کھڑکی سے لان میں بیٹھی ناہید کو گھنٹوں تکتا رہتا۔کبھی جو وہ ٹیرس پر چیئر رکھ کر بیٹھی ہوتی تو تب بھی وہ ایسے ہی کرتا۔دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے لمبی لمبی غزلیں اور اشعار بھیجتا۔جانتا بھی تھا کہ جواب نہیں آئے گا مگر اس نے توجیسے روز یہ کام خود پر فرض کر لیا تھا ہر میسج کے آخر میں لکھا ہوتا۔روٹھے ہو تم۔۔۔تم کو کیسے بناؤں پیا بولو ناں بولو ناں۔۔۔۔؟؟؟مگر پیا آگے سے کبھی بولتا ہی نا تھا۔۔********************آج ناہید کی خالہ یعنی حنا بیگم آئی تھیں ساتھ میں روحیل بھی۔ناہید اپنے کمرے میں تھی جب سمینہ اسے بلانے آئیں۔کچھ ہوش بھی ہے تمہیں سارا دن کمرے میں بند رہتی ہو کونآرہا ہے کون جا رہا ہے کوئی خبر ہی نہیں تمہیں تو۔کیا ہوا امی اب کون آگیا۔ناہید نے گود میں پڑا کشن بیڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔تمہاری خالہ اور خالو آئے ہیں۔ساتھ گھر ہونے کے باوجود تم نے تو کبھی چکر لگانا نہیں ہوتا اس لئے وہ ہی ملنے چلے آئے۔اب آجاؤ نیچے آکے چاۓ کا انتظام کرو میں کچھ گھڑی ان کے پاس بیٹھ جاؤ تمہارے بابا بھی آنے والے ہیں سب کی چاۓ بنالینا۔سمینہ اسے اطلاع دے کر چلی گئیں۔ناہید سیڑھیاں اترتی خود بھی نیچے چلی آئی۔۔********************

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/