Second last epi**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 11**کیا حال بنا لیا ہے آپ نے اپنا دیکھیں تو کتنی طبیعت خراب کر لی ہے اپنی۔۔۔کوئی پرواہ نہیں ہے آپ کو اپنی بہت ہی لاپرواہ ہیں آپ اپنے معاملے میں آخر کبھی تو اپنے بارے میں سوچ لیا کریں۔جب تم ہو میرا خیال رکھنے میرے بارے میں فکر کرنے کے لئے تو پھر مجھے اپنے بارے میں سوچنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ریان نے مسلسل فکرمند ہو کر بولتی فریحہ کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا۔میں تو ہوں ہی آپ کی فکر کرنے کے لئے اور ہمیشہ کرتی رہوں گی۔اب آپ یہ دوائی کھائیں ماما بتا رہی تھیں کہ آپ دوائی لینے کے معاملے میں بہت ہی لاپرواہ ہیں جان چھڑاتے ہیں اس سے۔تو اور کیا کروں ہر سال ایسے ہی بیمار پر جاتا ہوں میں تو تنگ آگیا ہوں ان دوائیوں سے۔ریان نے دوائی کو دیکھ کر آہ بھرتے ہوئے کہا۔مجبوری میں ہی سہی مگر لینی تو پڑے گی ہی آپ کو۔فریحہ نے اسے پانی کا گلاس پکڑایا اور دوائی دی جسے ریان نے بری سی شکل بناتے ہوئے کھا لیا۔فریحہ اس پریشانی میں بھی ہنسنے لگی۔کیا ہوا اب ہنس کیوں رہی ہو۔ہنسو نہیں تو اور کیا کروں کیسے بچوں کی طرح ناک چڑھا کر منہ بناتے ہوئے دوائی کھارہے تھے آپ۔ہاں تو ایسے ہی تو کھاتے ہیں دوائی کوئی پاگلہی ہوگا جو بڑے مزے آرام سے اور شوق سے دوائی کھاتا ہوگا۔ریان نے اسکی ہنسی دیکھتے ہوئے کہا۔ہوتے ہیں کچھ ایسے پاگل بھی۔جیسے کہ ناہید ایسے شوق اور مزے سے نا سہی مگر وہ دوائی بڑے آرام سے کھا لیتی ہے کہتی ہے کہ دوائی ہے کوئی زہر نہیں جو لوگ ایسے ایسے منہ بناتے ہیں جیسے خون پینے کو کہہ دیا ہو۔فریحہ بتا کر پھر سے ہنسنے لگی۔جبکہ ریان نے ناہید کے ذکر سے کچھ بے چین سا ہو کر پہلوبدلہ۔فری اگر تم برا نا مانو تو کوئی اور بات کریں مطلب تمہاری تو ہر بات پے ناہید کا ذکر نکل آتا ہے میری طبعیت ٹھیک نہیں مجھے تم اچھی اچھی باتیں بتاؤ بس۔۔۔۔کیوں ریان آپ کو میرا ناہید کا ذکر کرنا اچھا نہیں لگتا کیا۔نہیں ایسی بات نہیں ہے اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو سوری یار۔ارے نہیں ریان میں نے تو بس ایسے ہی پوچھ لیا ورنہ میں بھلا کیوں ایسا سوچنے لگی۔فریحہ جلدی سے بولی۔اچھا چلیں آپ ہی بتائیں کیا باتیں کروں۔ریان اس سے پوچھنے لگا ہی تھا کہ اور بتاؤ کیسے گزرے یہدو دن کیا کیا ان دنوں میں مگر یہ سوچ کر چپ ہی رہ گیا کہ پھر سے اسکی ہر بات میں ناہید کا ذکر شروع ہو جاۓ گا تو بولا۔کچھ بھی سنا دو ویسے بھی تم تو بہت اچھا بولتی ہو یاد ہے شادی کے اولین دنوں میں تم رات دیر تک میرے کتنے کان کھاتی تھی اور میں چپ کر کے تمہاری ایک ایک بات سنا کرتا تھا تم بغیر یہ سوچے کے میرے بیچارے کانوں کا کیا حال ہورہا ہوگا بس اپنی ہی بولے جاتی۔۔۔ریان نے کچھ اس انداز سے اسے یاد کروایا کہ وہ ہنسنے لگی تو اسے ہنستا دیکھ ریان بھی مسکرا دیا۔وہ بھول چکا تھا کہ کچھ دیر پہلے جب وہ کمرے میں اکیلا تھا تو اسکا سر درد سے کیا حال ہو رہا تھا اب وہ ہر بیماری سے بے نیاز ہر بار کی طرح چپ چاپ بس فریحہ کی باتیں سن رہا تھا اور شکر کہ ان باتوں میں بس فریحہ اور ریان ہی تھی ناہید کہیں دور دور تک بھی نہیں تھی۔۔***********************صحیح کہتے ہیں کہ انسان جس چیز کو ٹھکراتا ہے پھر واپس اسی کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے تو ناہید بی بی تم بھی لگ گئی ناں معیز کے پیچھے پہلے خود اسکو دور کیا اور اب خود ہی اس کے پاس آنے کی دعائیں کیوں کرنے لگی۔آخر اسکی محبت کی قدر ہو ہو گئی تمہیں اسکی محبت نے اثرچھوڑ ہی دیا تمہارے دل پر یا پھر اسکی اس قدر دوریوں نے تم پر وضع کیا کہ تمہیں اس کے ساتھ کی کتنی ضرورت ہے۔ہاں معیز میں کوئی کمی نہیں ہے ہاں وہ بہت ہی اچھا ہے ہاں مجھ سے پیار بھی بہت کرتا ہے ہاں وہ اب تک میری راہ دیکھتا ہے ہاں اسے ابھی بھی میری پرواہ ہے اور ہاں۔۔۔۔۔اور ہاں مجھے بھی اس سے محبت ہے۔۔۔۔مگر یہ محبت دوستی کی حد تک تھی یا واقعی میں اسکی دعا اتنی جلدی قبول ہو گئی تھی یہ اسے معلوم نہیں تھا۔۔***********************ایک تو طبعیت اتنی خراب ہے اوپر سے آپ پھر آفس کا کام لے کر بیٹھ گئے۔بس ہر وقت کام کی ہی فکر لگی رہتی ہے آپ کو اپنی ذرا بھی فکر نہیں۔فریحہ نے ریان کو لیپ ٹاپ کے ساتھ بزی دیکھ کر کمرے میں آتے ہی بولنا شروع کر دیا۔ریان اسکی طرف دیکھے بغیر مسکرایا تو وہ تپ کے بولی۔ادھر مجھے آپ کی صحت کی فکر کھاۓ جا رہی ہے اور آپ ہیں کہ مزے سے مسکرا رہے ہیں۔ادھر لائیں یہ لیپ ٹاپ کوئی کام نہیں کر رہے آپ دوائی کھائیں اور آرام کریں۔فریحہ نے بڑبڑ کرتے ہوئے ریان کی گود سے لیپ ٹاپ اٹھایا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔وہ پھر سے مسکرا دیا۔فریحہ کا اسکے لئے اتنا فکر مند ہونا ریان کتنا اچھا لگ رہا تھا۔اب مسکراتے ہی رہیں گے یا دوائی بھی کھائیں گے۔فریحہ نے ٹیبلٹ ریان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔اگر فریحہ اسکو ٹائم سے دوائی نا دے تو وہ تو کبھی خود سے دوائی کو ہاتھ بھی نا لگاۓ ہاتھ لگانا تو دور کی بات نظر اٹھا کے بھی نا دیکھے۔ریان نے چپ چاپ دوائی کھائی اور پر سکون ہو کر آنکھیں بند کئے لیٹ گیا۔۔*********************ناہید دیکھو کس کا فون آرہا ہے۔سمینہ نے فون کی آواز پے لاؤنج میں ہی بیٹھی ناہید کو کہا وہ خود کچن میں تھیں۔ہیلو کون۔۔۔؟۔۔۔۔۔کونہے۔۔۔۔ارے بولو بھی۔۔۔مگر آگے سے مسلسل خاموشی۔۔۔اف بولو بھی کون ہو۔۔ناہید نے تنگ آکر کہا۔خالو امان کو فون دو۔۔۔دوسری طرف سے آواز آئی۔بے اختیار ناہید کے منہ سے نکلا۔۔۔"معیز تم"معیز نے لینڈ لائن پر کال کی تھی۔تم نے شائد سنا نہیں خالو کو فون دینا پسند کرو گی۔معیز کیسے ہو تم۔۔ناہید نے اب کی بار بھی اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئےپوچھا۔یعنی تو تم نہیں دوگی۔۔۔ٹھیک ہے خدا حافظ۔۔۔معیز نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔ناہید بے بسی سے رسیور کو دیکھنے لگی۔امان نماز پڑھ کر واپس آئے تو انہیں معیز کے فون کی اطلاع دے کر وہ اپنے کمرے میں آگئی۔تو اب میں تمہارے لئے اتنی غیر اہم ہو گئی معیز میری آواز بھی اب تمہیں کھٹکنے لگی۔اف ناہید بی بی جب خود ہی دعا کی تھی کہ جتنے دکھ تم نے معیز کو دیے بدلے میں تمہیں بھی اتنے ہی دکھ ملیں اور ابجب مل رہے ہیں تو شکوہ کیسا۔۔***********************ریان کی طبعیت اب کافی بہتر تھی ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ اس نے فریحہ سے کہا۔فری میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ دن اپنے گھر رہ آؤ۔کیوں ریان خیریت یوں اچانک آپ نے یہ بات کہہ دی ابھی ہفتہپہلے ہی تو آئی ہوں۔میں جانتا ہوں مگر میری بیماری کا سن کر تم ایک دن مزید رہنے کی بجاۓ واپس آگئی تھی اور ویسے بھی آفس کے کچھ کام کے سلسلے میں پرسو دبئی جا رہا ہوں وہاں کچھ دنکا سٹے ہے۔اچھا آپ دبئی جا رہے ہیں۔فریحہ دھیرے سے بولی۔ریان کے دور جانے کا سن کر وہ بجھ سی گئی۔ارے بابا میں کون سا وہاں رہنے جا رہا ہوں واپس آجاؤں گا کچھ دنوں کے بعد اور ہاں کال کرتا رہوں گا۔ریان نے اسکی اداس صورت دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بولی۔پکا روز کال کریں گے ناں۔ہاں مائے ڈیر سویٹ وائف۔۔۔ریان نے اس کی تھوری چھوٹے ہوئے کہا۔اچھا چلیں ٹھیک ہے میں چلی جاؤ گی مگر کب جانا ہے۔۔۔۔آج اور ابھی۔۔۔کیا ابھی۔۔۔؟؟فریحہ ریان کی بات پر کچھ حیران ہوئی۔مگر جانا تو آپ کو پرسو ہے پھر میں آج ہی کیوں چلی جاؤ۔ریان اب اسے کیا بتاتا کہ وہ آج ہی ناہید سے بات کرنا چاہتا ہے۔ویسے ہی دل چاہ رہا ہے ناہید کے ہاتھ کا بنا لنچ کرنے کو تمہیں چھوڑنے جاؤ گا لنچ کرو گا پھر ایک دوست کی طرف جانا ہے وہاں سے ہو کر واپس آؤں گا کچھ دیر بیٹھوں گا اور پھر رات میں واپس۔۔۔۔آج پہلی دفعہ ریان نے خود سے فریحہ کے سامنے ناہید کا ذکر کیا تھا۔اچھا جی بیٹھنے بیٹھائے آپ نے سارے دن کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ کر لیا بہت خوب۔فریحہ کی بات پر ریان ہنس پڑا۔فریحہ اٹھ گئی اور فون کر کے ناہید کو اپنے آنے کی اطلاع دینے لگی اور ساتھ ہی لنچ اپنے ہاتھوں سے بنانے کا آرڈر بھی۔۔************************لنچ کرنے کے بعد ناہید سب کو باتیں کرتا چھوڑ خود لان میں آگئی۔ریان واقعی میں بدل چکا تھا بلکہ بہت بدل چکا تھا۔مگر اس کے بدلاؤ کو دیکھ کر اس دفعہ ناہید کو دکھ نہیں ہوانا ہی برا لگا۔بلکہ اسے فریحہ کے چہرے پر ریان کی وجہ سے آئی رونق دیکھ کر اچھا لگتا تھا۔اس نے یہ کبھی نہیں چاہا تھا کہ فریحہ شادی کے بعد ناخوش رہے ہاں وہ پہلے نا خوش تھی مگر اب تو خوش تھی اور یہی خوشی ناہید کو سکون دے رہی تھی یہ جان کر بھی کہ یہ سب ریان کی وجہ سے ہے۔وہ گم سم سی پلانٹس کے پاس کھڑی پتے توڑ رہی تھی جبریان نے اسے بلایا۔"ناہید"۔۔ناہید نے مڑ کر حیران ہوتے ہوئے ریان کو دیکھا۔کتنا عرصہ (نو مہینے ) ہوگیا تھا ناہید کو یہ پکار سنے۔ریان کے منہ سے اپنا نام سن کر ناہید کے دل میں ایک دم سےکچھ ہوا۔ناہید مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ناہید نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔تم نے معیز کے رشتے سے انکار کیوں کیا ناہید تم جانتی ہو کہ تم نے انکار کر کہ بہت بڑی غلطی کی ہے۔ریان کی یہ بات سن کر ناہید کو نجانے کیوں غصہ آگیا۔دیکھیے آپ کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط۔(ہونہہ جس کی وجہ سے انکار کیا اب وہی پوچھ رہا ہے کہ کیوں انکار کیا ) ریان نے جیسے اس کی سوچیں پڑھ لی اس لئے بولا۔میں جانتا ہوں کہ تم کیا سوچ رہی ہو یہی نا کہ تم نے میری وجہ سے انکار کیا اور میں ہی تم سے انکار کی وجہ پوچھ رہا ہوں۔مگر ناہید انکار کرنے سے پہلے یہ تو سوچ لیتی کہ اب میں تمہارا کبھی نہیں ہو سکتا تو لا حاصل کی تمنا کر کے کیا فائدہ۔محبت فائدے اور نقصان کا نہیں سوچتی مسٹر ریان۔۔ناہید ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔ہاں مگر محبت کسی کی محبت کا تو سوچتی ہی ہے ناں۔ریان کی اس بات پر ناہید لاجواب ہی ہوگئی۔میں جانتا ہوں کہ معیز تمہیں بہت چاہتا ہے۔تم جانتی ہو کہ معیز میرا دوست ہے اکثر اس سے ملاقات ہو جاتی تھی ہماری دوستی حیدر (میرا دوست ) کے زریعے ہوئی مگر کچھ عرصے سے میری ملاقات اس سے ہو نہیں پائی۔اتنی ملاقاتوں میں مجھے اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ وہ اپنی منگیتر سے بہت محبت کرتا ہے۔کیوں کہ وہ اول تو تمہارا ذکر خود سے نہیں کرتا تھا مگر جب بھی کرتا اس کے لہجے میں محبت سمٹ آتی۔اس کی آنکھوں میں اس لڑکی کے لئے (جو کہ تم ہو ) محبت کی چمک پیدا ہو جاتی۔جب بھی تمہاری کال آتی بھاگتا ہوا تمہیں لینے چلا جاتا ایسے جیسے کب سے تمہاری کال کے انتظار میں ہی بیٹھا ہو۔اور اس کی اس جلدبازی پر میں اور حیدر ہنسنے لگ جاتے۔میرےکہنے پر یشل نے مجھے معیز کی تصویر دکھائی تو مجھے تو تب معلوم ہوا کہ یہ تو وہی معیز ہے جو ہمارا دوست ہے اور جس کی منگیتر کوئی اور نہیں بلکہ تم ہی ہو۔یقین مانو تب مجھے بہت سکون ہوا کہ تمہارا منگیتر یہ معیز ہے کیوں کہ میں اسکی آنکھوں میں تمہارے لئے سچی محبت دیکھ چکا تھا اور جان چکا تھا کہ وہ تمہیں ہمیشہ بہتخوش رکھے گا شائد مجھ سے بھی کہیں زیادہ۔ناہید کے لئے یہ حیرت انگیز انکشاف تھا کہ معیز تو ریان کا دوست ہے۔فریحہ نے مجھے بتایا کہ معیز تمہیں پرپوز کرنے کے لئے صرف صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا اور جب وہ صحیح وقت آیا تو تم نے اسے ٹھکرا دیا۔سچ بولوں تو یہ جان کر مجھے بہت دکھ ہوا میں نے یہ تو سوچ رکھا تھا کہ میں تم سے بات کروں گا تمہیں سمجھاؤں گا مگر جب تم نے معیز کے لئے انکار کر دیا تو یہ جان کر میں نے تم سے بات کرنے کا اور بھی پکا ارادہ کر لیا۔دیکھو ناہید ہم دونوں اب کبھی ایک نہیں ہو سکتے ہمارا ملنا لکھا ہی نہیں تھا کیوں کہ ہم ایک دوسرے کے لئے کبھی بنے ہی نہیں تھے۔فریحہ میرے لئے ہر لحاظ سے بہترین لائف پارٹنر ہے شائد اسی لئے اسے میری زندگی میں شامل کیا گیا۔اور دیکھو میں نے جلد ہی اس بہترین لائف پارٹنر کی قدر جان لی۔اور اب میں مطمئن ہوں۔بہتر ہے کہ تم بھی ایک ایسے انسان کی جو کہ ابھی بھی تم سے محبت کرتا ہے اور شائد ہمیشہ ہی کرتا رہے گا اسکی قدر جان لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات مان لو ناہید معیز کا ہاتھ تھام لو یا اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھا کر پہل کر لو یہ نا ہو کہ تم دیر کر دو اور تم سے پہلے کوئی اور اسکا ہاتھ تھام چکا ہو اور اگر ایسا ہوا ناں ناہید تو مجھے بہت دکھ کے ساتھ کہنا پر رہا ہے کہ تم اسے ہمیشہ کے لئے کھو دو گی۔اور میں تمہیں خالی ہاتھ نہیں دیکھنا چاہتا۔اپنے ان ہاتھوں کو معیز کی محبت سے بھر لو ساری خوشیاںتمہاری جھولی میں سمٹ جائیں گیں اس بات کی میں تمہیں گرنٹی دیتا ہوں۔بولو ناہید محبت کی راہ میں قدم بڑھاؤ گی ناں راہ محبت کا انتخاب کرو گی ناں۔ریان نے بہت مان سے اس سے پوچھا جیسے اسے یقین ہو کہ وہ اسکی بات سے انکار نہیں کرے گی۔ناہید تو بس آنکھوں میں آنسو لئے یک ٹک اسے دیکھے گئی۔خیر تمہاری ایک امانت تھی میرے پاس۔ناہید نے اب کی بار چونک کر اسے دیکھا۔ریان نے پاکٹ سے پین نکالا اور ناہید کی طرف بڑھایا۔دیکھ لو محترمہ تسلی کر لو ذرا بھی استعمال نہیں کیا۔ریان کی اس بات پر نا چاہتے ہوئے بھی ناہید ہنس دی۔اس نے پین تھاما اور آنسو صاف کرتی ہوئی بولی۔آپ مجھے خالہ کی طرف چھوڑ دیں گے کیا۔۔۔۔ہاں کیا کہا۔۔۔؟؟ریان کو اس کے الفاظ پے یقین نا آیا۔میں نے کہا آپ مجھے خالہ کی طرف چھوڑ رہے ہیں ابھی کہ ابھی۔ناہید کے پہلے جملے میں انداز گزارش اور دوسرے جملے میں حکمانہ انداز تھا۔مجھے خوشی ہے کہ تم نے میری بات مانی اور صحیح انتخاب کیا۔چلو چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔میں بس ابھی آئی ناہید پین کرسی پر رکھتی اندر کی طرف جانے لگی جب لان میں آتے امان کو دیکھ کر رک گئی اور بولی۔بابا میں ان کے ساتھ خالہ کی طرف جا رہی ہوں۔ناہید نے بابا کے سامنے ریان کا نام نہیں لیا۔امان صاحب ایک دم حیران ہوئے اور پوچھ بیٹھے۔خیریت بیٹا آج کہاں سے یاد آگیا ادھر جانا۔ارے بابا آپ پریشان کیوں ہو گئے میں لڑنے نہیں جا رہی بلکہ اپنی ان باتوں کی تلافی کرنے جا رہی ہوں جن کی وجہ سے معیز اور باقی سب کا دل ٹوٹا۔اس سے پہلے امان اس کی بات کا مطلب سمجھتے وہ انہیں سوچتا چھوڑ ریان کے ساتھ چلی آئی۔جبکہ امان جاتی ہوئی ناہید کی بات کا مطلب سمجھ کر مسکرادیے۔ویسے ایک بات تو بتاؤ ناہید تمہاری خالہ کا گھر کوئی دور تھوڑی نا ہے بلکل ساتھ ہے پھر تم نے مجھے تمہیں یہاں چھوڑنے کو کیوں کہاں۔ریان اس بات پر الجھا تھا۔آپ ابھی بھی نہیں سمجھے ریان۔۔۔؟؟"نہیں"ریان نے اس کی بات پر نہیں میں سر ہلا دیا۔میں چاہتی ہوں کہ مجھے میرے صحیح انتخاب کے پاس آپ ہی لے کر جائیں آپ ہی مجھے اس دروازے تک چھوڑیں جس کے اندر وہ شخص بیٹھا ہے جو میری راہ تک رہا ہے۔ناہید کی بات سن کر ریان مسکرا دیا اور اسے معیز کے گیٹ تک چھوڑ کے خود گاڑی میں بیٹھ کر اپنے دوست کی طرف چلا گیا۔۔**********************Next on tuesday...

No comments:
Post a Comment