Tuesday, November 27, 2018

انا۔محبت اور آزمائش قسط12

http://novelskhazana.blogspot.com/


اَلسَّــلاَمُ عَلَيـكُــم وَرَحْـمَــةُ اللهِ وَبَــرَكـَاتــهُ#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۱۲#_plz_dont_copy_wdout_my_permissionکیسے بتاؤں.کیا ہوتا ہے.دنیا سے ہر درد چھپانا.اپنی ذات کی دیواروں سے سر ٹکرانا.اپنے سر کو اپنے کاندھے آپ ٹکانا.اشک بہانا.ہر دکھ اپنا.خود کو سنانا.خود سے روٹھ کے آپ منانا.اپنے اندر آگ جلا کر.اپنی ذات کو راکھ بنانا.یہ سب سہہ کر.پھر بھی جینا.جیتے رہنا.اور پھر اس پر.خوش ہونے کا ڈھونگ رچانا.کیا ہوتا ھے.💔💔__________$$$$_________$$$$__________پریشے کو کافی ٹھنڈ لگ رہی تھی اوپر سے بارش۔۔جہانزیب شہزاد اور حسن کو گھر چھوڑنے چلا گیا تھا اور انہیںچھوڑنے کے بعد بھی بلاوجہ سڑکوں پر گھومتا رہا۔۔💔اسکی خاموشی پہلے بے بسی میں بدلی اور پھر انا کا پہاڑ اتنا بڑا ہو گیا کہ اسکی آنکھیں نفرت سے سرخ پڑ گئیں۔۔😱اس نے گاڑی گھر کے رستے پر ڈال دی اور آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگا۔۔۔پریشے کیا کہا تھا تم نے ۔۔۔بھول گئی ہو تو ٹھیک ہے تیار رہو آرہا ہوں سب یاد دلاؤنگا۔۔۔😨وہ بہت غصے میں تھا اور کافی ریش ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔😠😠پریشے کو بہت پیار اور مان سے فاطمہ بیگم اور فری نے جہانزیب کے کمرے میں بٹھا دیا۔۔وہ دونوں ہی اسکا دل بہلا رہی تھیں۔۔۔اسکا کمرہ اوپر کے پورشن میں تھا۔۔بہت سی باتوں کے بعد فاطمہ بیگم اور فری چلے گئے تھے۔۔۔اس نے کمرے پر نظر ڈالی تو کمرہ بہت بڑا، ڈیسینٹ اور نفیس سا تھا۔۔❤جس میں بڑا سا اٹیلئین اسٹائل کا کنگ کوئن بیڈ سینٹر میں تھا جسکے اوپر جہانزیب کی بڑی سی خوبصورت تصویرنصب تھی۔۔بیڈ کے علاوہ کمرے میں ایک ڈریسنگ تھی اور اسکے سامنے ایک صوفا کم بیک تھا جس کے پیچھے بک ریک نظر آرہا تھا جس میں کتابیں کافی تعداد میں تھیں اور اسٹیریو پیس بھی تھا۔۔اور ایک طرف چھوٹی وارڈ روب تھی اور دیوار پر جہانزیب کا گٹار لٹکا ہوا تھا۔۔💗اور اسی کے پاس روم فریج بھی موجود تھا۔۔اور اسکے دوسری طرف واشروم تھا۔۔اور بیڈ کی ایک سائیڈ خوبصورت سا شیشے کا دروازہ تھا جوغالبا بالکنی معلوم ہوتی تھی۔۔کمرے کی ہر چیز بلیک اور وائٹ کلر کے امتزاجی رنگوں کی تھی۔۔دیواروں پر بھی اسی طرح کلر ہوا تھا جیسے ہر چیز پہلے سے سوچ کر ڈیکور کی گئی ہے۔۔وہ کمرہ دیکھنے میں ہی مگن تھی جب گھڑی پر نظر گئی جو رات کے ۱ بجا رہی تھی لیکن پچھلے تقریبا ایک گھنٹے سے جہانزیب کی خبر نہیں تھی کچھ، اور بارش اب بھی برس ری تھی۔۔۔😱پریشے بہت تھک چکی تھی اس نے بیڈ کی پشت سے کمر ٹکائی اور سر بھی ٹکا کر آنکھیں موند لیں اور اپنی آج کی اسٹریٹیجی کو سوچنے لگی۔۔😓وہ ٹھنڈ کی وجہ سے تھوڑا سکڑ کر بیٹھی تھی۔۔اسکی آنکھ بھی لگ گئی وہ دو راتوں سے مسلسل جاگ رہی تھی ویسے بھی۔۔😓جب جہانزیب آیا تو شاہزیب صاحب نے اسے گلے لگا کر اسکی قمر تھپکی اور پھر بولے مجھے فخر ہے کہ تم میرے بیٹے ہو اور آج تم نے اپنے ماں باپ کا مان رکھ لیا۔۔۔میں تمہیں گیارنٹی سے کہتا ہوں تمہیں پریشے گڑیا سچ میں بہت پسند آئیگی بیٹا وہ بہت معصوم اور حساس ہے اسکا خیال رکھنا اور آج کافی ڈسٹرب بھی ہے۔۔جہانزیب چہرا جھکائے بمشکل خود کی کیفیت پر ضبط کئیے کھڑا تھا۔۔شاہزیب صاحب نے اور بہت سی تاقید کرتے ہوئے اسے اوپر بھیجا اور خود کمرے میں چلے گئے۔۔😑کاش بابا میں آپکو بتا سکتا اسکی اصلیت۔۔😠کاش مجھے پہلے پتہ ہوتا تو میں منا کر دیتا۔۔😬کاش بابا آپ نام لے لیتے ایک بار۔۔💔وہ سخت غصے میں کمرے میں داخل ہوا تو اسکی نظر سیدھی سامنے سوئی ہوئی پریشے پر پڑی تو وہ تھم گیا۔۔وہ دلہن بنی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔😍اسکا سوگوار سا حسن گھائیل کرنے کو کافی تھا۔۔لیکن اگلے ہی لمحے ہر جذبے پر انا اور نفرت نے اپنے پنجے گڑھائے اور اسکے چہرے کے تاثرات بدلے۔۔😞وہ غصے میں آگے بڑھا لیکن پھر رک گیا اور سوچا کیسے اٹھے گی یہ۔۔پھر وہ ڈریسنگ کی طرف گیا اور بلا وجہ چیزیں زور زور سے پٹخنے لگا۔۔پریشے کی نیند بھی کوئی نیند تھی کیا وہ جھٹکے سے اٹھ گئی اور جہانزیب کو دیکھنے لگی۔۔😓وہ اب سخت تاثرات لئے ٹہلنے لگا پھر پانی کی بوتل نکالی اور ایک ہی سانس میں پی گیا اور دوبارہ ٹہلنے لگا۔۔😠😠😤پریشے تذبذب کا شکار تھی کہ کیا کرے اور کیا نہیں۔۔اس نے اسے آواز دی۔۔ ج۔۔جہانزیب۔۔😓لیکن جواب نہیں آیا تو وہ شرارا سنبھالتی کھڑی ہوئی اور آہستہ آہستہ اسکی طرف بڑھی۔۔😰اس نے پاس آکر اسے بلایا لیکن وہ ٹہلتا رہا۔۔آخر تنگ آکر پریشے نے اسکا بازو تھاما اور بولی کیا ہو گیا ہے آپکو کوئی کوئی پریشانی ہے کوئی مسئلہ ہوا ہے کیا جوآپ اتنے بے زار اور غصے میں نظر آرہے ہیں۔۔😨جہانزیب نے اپنا بازو چھڑایا اور اسکا نازک بازو اس زور سے پکڑا کی اسکی سییی کی آواز نکلی۔۔😱لیکن وہ جہانزیب کا جارحانہ انداز دیکھ رہی تھی اسکی آنکھیں دیکھ رہی تھی جن کے اندر جیسے خون اترا ہوا تھا۔۔😧ج۔ج۔ج۔۔جہانزیب چھوڑیں مج۔۔مجھ۔۔۔شششش بالکل چپ آواز نہ آئے مجھے تمہاری۔۔ جہانزیب کاٹدارلہجے میں ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے غرایا۔۔۔😠😠پریشے بالکل ساکت ہوگئی یک ٹک اسے تکنے لگی آج سےپہلے تو وہ جب بھی ملی جہانزیب سے اسے بہت نرم لہجے میں بات کرتے پایا تھا یہ تو کوئی اور ہی تھا۔۔۔😵😵جہانزیب: کیا دیکھ رہی ہو اب ہاں میں میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرے ساتھ قسمت ایسا کھیل کھیلے گی۔۔۔تم تم جس سے میں نے سب سے زیادہ نفرت کی جسے دوبارہمیں دیکھنا نہیں چاہتا تھا اسی سے شادی کرلی اف کاش میںماما کی بات مان کر ایک بار تم سے مل لیتا کاش۔۔۔۔اس نے ابھی تک اسکا بازو اپنے ہاتھ کے شکنجے میں دبوچہ ہوا تھا۔۔😠😡😱ج۔ج۔جہانزیب یہ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ اور پلیز چھوڑیں میرا ہاتھ تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔😧جہانزیب نے اسے اور زور سے کھینچا اور پاس ہو کر کہا تکلیف تکلیف ہو رہی ہے اندازہ بھی ہے کوئی تمہیں کہ تکلیف کسے کہتے ہیں مجھے مجھے دیکھو میں اب کچھ کر بھی نہیں سکتا۔۔اس نے اور زور سے اسکا بازو دبایا تو پریشے کی آہ نکلی اسنے زور سے آنکھیں بند کیں تو کب کے رکے آنسو بہہ گئے۔۔😢جہانزیب نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا اور سر تھام کر بیٹھ گیا۔۔😰پریشے نے اپنا ہاتھ دبایا جو ریڈ ہو چکا تھا اور اسے دیکھا جو اب بھی غصے میں دکھ رہا تھا۔۔وہ اپنی تکلیف بھلائے پھر سے اسکے پاس گئی اور ڈرتے ہوئے بولی جہانزیب آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے۔۔۔😢😧وہ ایک دم کھڑا ہوا، اسکے اندر جیسے آگ جل رہی تھی اس نے اےسی کو فل کیا..😠پھر اسکے پاس آیا اور بولا بھول گئیں تم ہاں کیا کہا تھا تم نے مر کر بھی مجھ جیسے انسان سے شادی نہیں کروگی اب اب کیا ہوا پھر اور خوب طریقے آتے ہیں نا تمہیں دوسروں کو پاگل بنانے کے ۔۔میرے ماما بابا کو بھی اپنی معصومیت کے جال میں پھنسا لیا ہے نہ واللہ دیکھو بھئی یہ ہیں پریشے جنکی بارات نےآخری ٹائم آنے سے منا کر دیا اور میرے بیچارے بھولے ماں باپ نے ان پر ترس کھا کر مجھے یعنی اپنے بیٹے کو بلی چڑھا دیا واہ بہت خوب۔۔😱😠😡وہ زہر خند لہجے میں پریشے کو سب کچھ کہے چلا جا رہا تھا اور وہ ٹھنڈ سے کانپتے ہوئے اس زہر کو اپنے اندر اترتا محسوس کر رہی تھی.😦😨😧جہانزیب نے پھر کہا تم جیسی لڑکی قابل ہی نہیں ہے کہ کوئی شادی کرتا شاید آخری ٹائم پر انہیں بھی اصلیت پتہ چل گئی ہوگی۔۔۔پریشے: کیا مطلب ہے اپکا مجھ جیسی لڑکی سے۔؟😢😨جہانزیب نے اسے گھورا اور بولا یہ بھی میں بتاؤں اب بس کردو میرے سامنے تمہارے یہ آنسو اور جھوٹی باتیں نہیں چلینگی۔۔۔😠پریشے اسکے پاس آئی جو اب چہرا موڑے کھڑا تھا، اسکا بازو تھام کر اپنی طرف رخ کرا اور بولی بتائیں جہانزیب مجھے بھی تو پتہ چلے کہ کیسی لڑکی ہوں میں اور ایسا کیا کیا ہے میں نے جو آپ اتنی۔۔۔۔جہانزیب نے اپنے بازو پر رکھا اسکا ہاتھ موڑا اور بولا تم جھوٹی ہو تم تو کسی اور سے پیار ہا پتہ نہیں کرتی بھی تھیں کہ نہیں کیا ہوا وہ بھی چھوڑ گیا یا دل بھر گیا۔۔😡پریشے کا خفت سے رنگ سرخ پڑ گیا اور وہ بولی بس بس کردیں جہانزیب کیا ہو گیا کیسے واحیات الزام لگا رہے ہیں مجھ پر کچھ پتہ بھی ہے کیا کہہ رہے ہیں نہیں کرنی تھی شادی تو نہ کرتے میں نے ہاتھ نہیں جوڑے تھے آپکے لیکنایسے نہ کریں خدا کا واسطہ۔۔وہ کپکپاتے ہوئے دونوں ہاتھ بازوؤں پر لپیٹے روتے ہوئےزمین پر بیٹھ گئی۔۔😭جہانزیب نے اسے جھٹکے سے اٹھایا اور بولا کیوں بس اتناسن سکی اور وہ بھول گئیں لائبریری میں جنہیں بلایا تھا۔۔😰😱پریشے نے اس بار سختی سے ہاتھ جھٹکا اور بولی آپ کا دماغ خراب ہے کیا جو ک۔۔کچھ بھی بولے جارہے۔۔ ہیں ۔۔ آپ وہاں موجود تھے کیوں کہہ رہے ہیں اب ایسا۔۔۔😵جہانزیب نے اسکا ہاتھ پھر پکڑا اور بولا آواز نیچے رکھو اپنی اور ہاں میں تھا وہیں یہی تو تم چاہتی تھیں کہ میں۔۔ ہنہ😠جہانزیب میری بات تو سنیں آپکو کوئی غلط فہمی ہے ک۔کیام۔میں نے میں نے بلایا تھا آپکو پلیز ہا۔۔ہاتھ چھوڑیں پلیز۔۔😧😰😭جہانزیب کی مضبوط گرفت سے اسکے لیے ہاتھ نکالنا ممکن کہاں تھا وہ تو نازک سی لڑکی تھی جو ابھی تک کچھ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی۔۔کیوں چھوڑوں ہاں میرا دل کر رہا ہے ابھی کے ابھی تمہیں اپنی زندگی سے نکال کر پھینک دوں، طلاق دے دوں اور بتاؤں سب کو تمہاری اصلیت۔۔۔😱پریشے کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔اس نے ایسا تو کچھ سوچا بھی نہیں تھا کبھی۔۔اور اگر جہانزیب نے اسے چھوڑ دیا تو اسکے بابا کیسے برداشت کر پائیں گے۔۔😧وہ اپنے بابا کا نظروں کے سامنے آتے ہی بس اس بے حس انا پرست انسان کے قدموں میں گر گئی اور روتے ہوئے بولی جہانزیب میں بری ہی صحیح لیکن خدا کا واسطہ ہے مجھے چھوڑنے کی بات نہ کریں بابا نہیں برداشت کر پائیں گے۔۔😭😭وہ بھی نیچے ہی بیٹھا اور اسکا جھکا چہرا اٹھا کر بولا جب نہیں سوچا اپنے بابا کا جس وقت یہ سب کر رہی تھیں جو آج بارات تک نہ آئی۔۔ اور میں میں پتہ نہیں کہاں مصیبت اٹھا لایا۔۔😵آخری بات سر جھٹکتے ہوئے وہ خود سے بولا تھا۔۔پریشے نے اسکے ہاتھ تھامنے چاہے لیکن وہ کھڑا ہو گیا تو وہ بھی مشکل سے کھڑی ہوئی اور بولی دیکھیں جو جو آپ کہیں گے میں وہ کرونگی بس بس پلیز یہ یہ طلاق کی بات نہ کریں میں میں مر جاؤنگی ورنہ ر۔۔رحم کھائیں کچھ آپ جو بھی سمجھ رہے ہیں ویسا نہیں ہے۔۔۔😰😧جہانزیب پلٹا اور اسے پھر جھٹکا دیا تو وہ پیچھے صوفے پر گر گئی۔۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے پھر مجھے تمہاری آواز سنائی نہ دے اور یہیں اسی پر رہو بابا ماما کا خیال نہ ہوتا تو تمہیں یہاں بھی نہیں رہنے دیتا ۔۔تم تم برداشت نہیں ہو رہا تمہارا وجود مجھ سے۔۔تم تم قابل ہی نہیں ہو میرے۔۔پریشے نے کچھ کہنا چاہا تو وہ انگلی اٹھا کر بولا کچھ مت کہنا کوئی جھوٹی بات نہیں سننا چاہتا میں۔۔😵وہ جاتے ہوئے دوبارہ پلٹا اور بولا ہاں ایک بات اور جتنا ہو سکے مجھ سے دور رہنا ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔۔😞😟وہ دروازہ زور سے بند کرتا چلا گیا۔۔پریشے کی سانسیں بھی لے گیا جیسے ۔۔""کٹھن سفر ابھی مکمل نہیں ہوامنزل ابھی بھی بہت دور ہےزندگی پہلے بھی بہت مجبور تھیزندگی اب بھی بہت مجبور ہےشام ابھی باقی ہےسورج ابھی ڈوبا نہیں""پریشے کا سکتا ٹوٹا اور وہ بری طرح رونے لگی رو رو کر تھک گئی یہاں تک کہ لیکن اب تو رونا ہی لکھا تھا ساری زندگی میں۔۔😭وہ اٹھی ساری جیولری نوچ کر ڈریسنگ ڈار میں پھینک دی اور اپنے ساتھ لائے سوٹ کیس میں سے ایک سوٹ نکال کر باتھ روم میں چلی گئی۔۔بہت دیر شاور کے نیچے کھڑے کھڑے وقت گزار دیا۔آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔😭فجر کی آذان کی آواز آئی تو اسے راستہ دکھائی دیا۔۔ابھی ہے کوئی جسے وہ سب کچھ کہہ سکتی ہے۔۔ابھی سن رہا ہے وہ۔۔اسکی ایک ایک تکلیف اور آہوں کا گواہ۔۔اسے دلاسہ اور سہارا دینے والا۔۔💔جب باہر آئی تو اسے محسوس ہوا جیسے برف گر رہی ہو اس پرکمرہ ٹھنڈا یخ ہو رہا تھا۔۔اس نے جائے نماز ڈھونڈی اور چادر لپیٹ اندازے سے قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھی اور اپنی ساری تکلیف اس رب سے کہہ دی😭😭جب تھوڑا سنبھلی تو احساس ہوا کہ جیسے اگر ٹھنڈ کم نہ ہوئی تو وہ جم جائے گی۔۔مشکل سے کھڑی ہوئی لیکن چکرا گئی اور زمین پر گر گئی ایک آہ نکلی،وہ بولی با۔۔با اور بے ہوش ہو گئی۔۔۔😱__________$$$$_________$$$$_______سجاد صاحب کو ساری رات بے چینی رہی مشکل سے ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ ایک دم سے وینا کہتے ہوئے اٹھ گئے۔۔وہ جلدی سے اٹھے اور باہر آئے تو احد نماز پڑھنے جا رہا تھا وہ بولے وینا کو فون کرو مجھے بات کرنی ہے اس سے۔۔احد: بابا صبح جائیں گے نا ہم اپ پلیز ٹینشن نہ لیں ابھی اچھا نہیں لگتا نا اور آپی تو اپنا فون بھی نہیں لے گئیں ہیں۔اسکی بات ٹھیک تھی لیکن سجاد صاحب کو سکون ہی نہیں مل رہا تھا آخر باپ تھے نا ۔۔😢__________$$$__________$$$$_________فاطمہ بیگم نماز سے فارغ ہو کر کچن میں گئیں تو شاہین سے پتہ چلا کہ جہانزیب تو باہر گیا ہے انہوں نے اندازہ یہ لگایا کہ نماز کے لئے گیا ہوگا اور وہ پانی پی کر اوپر کی طرف بڑھ گئیں۔۔کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر آئیں تو انکے اوسان ہی خطا ہونے کو ہو گئے اور وہ چیخی پریشے۔۔۔۔😱جب اسکے پاس آئیں اور اسے ہلایا تو احساس ہوا وہ اسکا جسم جیسے جل رہا ہو۔۔🔥انہوں نے شاہین کو آوازیں دیں لیکن کمرہ تھا ہی الگ تو اس لئے وہ جلدی سے باہر آئیں اور نیچے جھک کر تیز سے بلایا شاہین بھاگی ہوئی آئی اور ان دونوں نے مل کر پریشے کو بیڈ پر لٹایا اور اےسی آف کر کے دروازہ کھول دیا پورا تاکہ ٹیمپریچر جلدی نارمل ہو جائے۔۔پھر ایک بلینکٹ نکال کر پریشے پر ڈالا۔۔اور شاہزیب صاحب کو بلانے چلی گئیں شاہین کو اسکے پاس ہی چھوڑا جو بے سدھ سی پڑی تھی۔۔😨شاہزیب صاحب بھی پریشان ہوگئے تھے انہوں نے جلدی سے ڈاکٹر کو بلایا اور پریشے کا چیک اپ کروایا ۔۔ڈاکٹر نے اسے انجیکشن دیا اور بولا پریشانی کی بات نہیںہے انہیں ٹھنڈ لگ گئی ہے اور اسٹریس بھی کافی ہے اور بیپی لو ہونے کی وجہ سے یہ بے ہوش ہو گئی ہیں میں نے انجیکشن دیا ہے کچھ دیر میں ہوش آجائے گا۔۔😓اور یہ میڈیسن منگوالیں۔۔ ایک پرچہ شاہزیب صاحب کو دیا وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر کو باہر لے گئے اور دروازے پر موجود چوکیدار سے دوائی بھی منگوالی۔۔۔جہانزیب صبح بھی غائب ہی تھا ۔۔پریشے کو ہوش آگیا تھا اور رات کی ساری باتیں یاد آنے پر اس نے خود کو سنبھالا اور اٹھ گئی۔۔فاطمہ بیگم نے اسے پیار کیا فری بھی پریشانی سے دیکھ رہی تھی ۔۔کیسی ہو بیٹا اور اب کیسا لگ رہا ہے۔۔؟وہ اثبات میں سر ہلا گئی اور بولی ٹ۔ٹھیک ہوں آنٹیی۔۔انہوں نے زبردستی اسے جوس پلایا اور میڈیسن کھلائی فری بھی اسکا دل بھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔وہ لوگ یہ ہی سمجھے کہ کل والے حادثے کی وجہ سے طبیعتخراب ہوئی ہے۔۔پر دل کا حال کون جانے۔۔😥شاہزیب صاحب نے بھی اسکی خیریت پوچھی اور اسے آرام کا کہہ کر چلے گئے ۔۔جہانزیب فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا کسی کا۔۔شاہزیب صاحب کو اب تشویش لاحق ہوئی۔۔😰احد نے بھی کال کردی تھی کہ ناشتہ وہ لوگ لائینگے۔۔فاطمہ بیگم نے پریشے کو بھی بتا دیا تھا اور وہ یہ بالکل نہیں چاہتی تھی کہ جہانزیب یا اسکے روئیے کا گھر والوں میں سے کسی کو بھی پتہ چلے۔۔اس لئے ایک ڈریس نکالا جو فری زبردستی اس سے لے گئی پریس کرنے کے لئے۔۔جہانزیب بھی 8 بجے گھر پہنچا گاڑی روکی تو ڈیش بورڈ پر پڑا باکس نیچے گرا۔۔اسے یاد آیا کل رات ماما کے کہنے پر یہ پینڈینٹ خریدا تھا اس نے۔۔وہ اسے ہاتھ میں لئے گھر میں داخل ہوا تو فاطمہ بیگم اور شاہزیب صاحب کو اپنا منتظر پایا اس نے سوچا شاید اب سببتا دیا ہو گا پریشے نے تو میں بھی چھوڑ دونگا اسے جان چھوٹے گی میری بھی۔۔کہاں تھے تم ہاں۔۔؟؟ شاہزیب صاحب غصے سے بولے۔وہ بابا میں۔۔پتہ بھی ہے پریشے کی طبیعت کتنی خراب تھی شکر ہے تمہاری ماں کمرے میں چلی گئی ورنہ بچی زمین پر پڑی تھی۔۔😠فاطمہ بیگم آئیں اور اسکا ہاتھ تھام کر بولیں بیٹا سب ٹھیک ہے نا کوئی بات تو نہیں کہیں تم نے تو کچھ نہیں کہا۔۔ویسے تو پریشے نے کہا ہے کہ تم کسی کام سے گئے تھے۔۔انکی تشویش اور پریشے کا خیال دیکھ کر اس نے جھوٹ بولنا ہی بہتر سمجھا اسے لگا اگر ابھی کچھ بولا تو اسکے ماں باپ اسے ہی برا سمجھیں گے اسی لئے دوسرا ہاتھ آگے کر کے بولا ماما وہ آپ نے تحفے میرا مطلب ہے کہ منہ دکھائی کا بولا تھا میں کل وہ بھول گیا تھا۔۔ تو یہ یہ لینے ہی گیا تھا۔۔😧مشکل سے بات پوری کی اور سانس کھینچا تو شاہزیب صاحب اور فاطمہ بیگم کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے۔۔انہیں سمجھا کر وہ اوپر آیا تو فری پریشے کا جوڑا صوفے پر رکھ رہی تھی اور پریشے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔فری چلی گئی تو اس نے دروازہ بند کیا اور پلٹا تو پریشے کھڑی ہو چکی تھی وہ اسکے پاس آیا۔۔غصے سے بولا آئیندہ کے لئے یاد رکھو میرے بیڈ کے قریببھی مت آنا تم۔۔اور ہاں یہ لو وہ سختی سے اسکے ہاتھ میں باکس رکھتے ہوئے بولا یہ ماما کے کہنے پر اپنی ہمسفر کے لئے لیا تھامعلوم نہیں تھا کہ تم ہو ورنہ ۔۔جہانزیب پلیز بس کردیں اور چھوڑئیے مجھے بابا آنے والے ہیں مجھے تیار ہونا ہے باقی ج۔جیسا آپ کہیں گے وہی ہوگا بس بابا کے سامنے میری عزت رکھ لیں وہ نہیں برداشت کر پائیں گے۔۔😭پریشے چہرا جھکائے روتے ہوئے بولی تو جہانزیب نے اسے چھوڑا اور کہا ٹھیک ہے پھر جاؤ اور اس صوفے پر ہی رہا کرو تم میرے بیڈ سے دور ہی رہو۔۔وہ التجائی انداز میں بولی کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ ایسا۔۔؟😓کیونکہ نفرت ہے مجھے تم سے تمہارے وجود سے۔۔😡وہ زخمی دل لئے آگے بڑھ گئی اور کپڑے اٹھائے چینج کرنے چلی گئی۔۔💔جہانزیب سر تھامے بیڈ پر گر گیا اور خود سے بولا یہ میں کیا کر رہا ہوں اف شاید مجھے جلد یہاں سے جانا چاہئیے ورنہ میں پاگل ہو جاونگا۔۔یا اللہ یہ کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟_________$$$$_________$$$$________وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھیعداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہتبچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھیبچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزلغزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھیوہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی۔۔__________$$$$_________$$$$________پریشے کے آنے کے بعد جہانزیب باتھ لینے چلا گیا اور پریشے اسکے باہر آنے سے پہلے ہی جلدی سے تیار ہوگئی۔۔۔اسکے ہاتھ پر اب بھی جہانزیب کی گرفت کے نشان موجود تھے اس نے فل استیں والی سادی مگر نفیس سی لائٹ بلیو کلر کی فراک پہنی تھی ساتھ چوڑیدار پاجامہ اور دوپٹہ بھی ہم رنگ ہی تھا۔۔ہاتھ میں فاطمہ بیگم کے کنگن، انگلی میں بابا کی دی ہوئی انگوٹھی، کانوں میں ماما یعنی سلطانہ بیگم کے ٹاپس پہن لئے پھر گلے کے لئے ایک چین نکالی۔۔اسے یاد آیا سب پوچھیں گے کہ جہانزیب نے کیا دیا تو۔۔😵اسے وہ باکس دکھا جو ابھی جہانزیب نے دیا تھا۔۔وہ کھولا تو اندر ایک ہارٹ شیپ لاکٹ تھا اسنے گلے میں روتے ہوئے وہی ڈال لیا آنکھیں صاف کیں اور سر پر دوپٹہ ٹکاتی ایک نظر باتھروم کے بند دروازے پر ڈالتی باہر چلی گئی۔۔😞جہانزیب ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا جب فری آئی اور بولی بھائی اب تک ریڈی نہیں ہوئے ہیں آجائیں نیچےانتظار کر رہے ہیں آپکا۔۔جہانزیب: پرنسس چلو تم میں آرہا ہوں۔۔😑اس نے گھڑی نکالنے کے لئے جیسے ہی ڈار کھولی تو سامنے نظر پریشے کے زیور پر پڑی تو رات پریشے کی روتی صورت آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔۔ڈار بند کر کے وہ کف فولڈ کرتا ہوا باہر آیا اور سیڑھیاں اترنے لگا تو کانوں میں پریشے کی ہنستی ہوئی آواز آئی۔۔وہ رک گیا اور سوچا کتنے سالوں بعد یہ آواز سنی ہے لیکن پہلے جیسی بات نہیں ہے نا۔۔۔😓وہ خود سے ہی سوال جواب کرتا لاؤنج میں آیا تو پریشے کی ہنسی سمٹی اور وہ خاموش ہو گئی۔۔فری نے جہانزیب کو دیکھا تو اٹھ کر آئی اور اسکا ہاتھ تھام کر پریشے کے ساتھ بٹھادیا۔۔پریشے کا سر مزید جھک گیا۔۔جہانزیب کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے وہ بھی تھوڑا فاصلے سے چپ بیٹھ گیا۔۔فری بولی اللہ ماما دیکھیں کتنی اچھی اور پرفیکٹ جوڑی لگ رہی ہے نا۔۔؟😍شاہزیب صاحب بولے بیٹے ماشااللہ بولو۔۔فاطمہ بیگم نے فورن سے دونوں کے سر سے پیسے وار کر شاہین کو بلا کر دے دیئے۔۔اللہ نظر بد سے بچائے میرے بچوں کو۔۔😗پریشے کا دل بار بار رونے کو کر رہا تھا مگر وہ کمال مضبوطی سے خود پر جبر کیئے بیٹھی رہی۔۔😢اور جہانزیب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پریشے کو گولی ہی مار دے وہ سخت غصے کو ضبط کئیے بیٹھا تھا۔۔😠اتنے میں پریشے کی فیملی وہاں پہنچی احد اور وانی تو بھاگ کر پریشے سے چمٹ گئے۔۔❤آپی کیسی ہو کتنا مس کیا میں نے احد کو دیکھیں نا اس نےمجھے صبح سے تنگ کر رکھا ہے۔۔وانی بولی تو احد کہاں پیچھے رہتا فورن بولا۔۔آپی یہ موٹی جھوٹ بول رہی ہے مجھے تو بابا نے تنگ کیا ہے ویسے بھی۔۔پریشے اس سے پہلے کچھ بولتی کہ فرہاد سونیا تائی جانکے ساتھ اتے سجاد صاحب پر اسکی نظر پڑی تو وہ ان دونوںسے الگ ہوئی اور دوڑ کر بابا کہتے ہوئے انکے سینے سے لگ گئی سارے بند ٹوٹ گئے۔۔😭سجاد صاحب کو بھی کل سے اب سکون ملا وہ اسکو سہلاتے ہوئے آگے بڑھے اور بولے بس میرا بیٹا تو بہت بہادر ہے بھئی ایسے کیوں رو رہا ہے پھر اور کیسی ہے میری جان۔۔۔❤وہ کچھ نہ بولی بس روتی رہی تائی جان نے اسے الگ کیا اور پیار کرتے ہوئے بولیں پریشے بھائی صاحب ویسے ہی پریشان ہیں بس کرو بچے۔۔💟جہانزیب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔عینی نے بھی اسے پیار کیا ار اسکا فون دیتے ہوئے بولی بھئی اسے ساتھ ہی رکھا کرو تاکہ بابا پریشان نہ ہوں۔۔😊سونیا: ویسے اچھا ہوا کل تم نہیں لے کر آئیں ورنہ ماموں نے تو بار بار کال کرلینی تھی اور تمہاری ساری رات کا مزا خراب ہونا تھا۔۔😏وہ پریشے کے کان میں شرارت سے بولی تو اسکی نظر سامنے کھڑے جہانزیب پر گئی۔۔جہانزیب فورن نظروں کا زاویہ بدل لیا اور پریشے کی آنکھیںبھر آئیں رات کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے چل گیا جیسے۔۔😥شاہزیب صاحب اور فاطمہ بیگم نے سب کو بہت عزت دی، سب ایک دوسرے سے ملے اور ناشتے کے لئے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔پریشے اور جہانزیب کو پھر ساتھ بٹھایا تو بس پریشے نے کھایا ہی کیا کچھ نہیں سر جھکائے سہمی سی بیٹھی رہی۔۔😓سجاد صاحب نے پریشے کو گھر لے جانے کی بات کی تو سب نے ہی اجزت دے دی اور جہانزیب کو بھی کیا اعتراض کرنا تھا بلکہ دل میں بولا میری طرف سے ہمیشہ کے لئے ہی لے جائیں۔۔😒_________$$$$________$$$$________گہری سوچیں ،لمبے دن اور چھوٹی راتیںوقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچی_________$$$$_________$$$$________شاہزیب صاحب نے ایک دن بعد کا ریسیپشن ارینج کر لیا اورفاطمہ بیگم شاپنگ میں لگ گئیں۔۔پریشے گھر آئی تو سب سے مل کر اسکی طبیعت بہتر ہوگئی اور بخار کی وجہ اس نے ٹھنڈ بتادی، میڈیسن وہ لے ہیچکی تھی تو اب وہ تھوڑی ٹھیک تھی۔۔😔ریحانہ بیگم بھی سجاد صاحب کی وجہ سے اس سے مل ہی لیں تھیں لیکن اب بھی کھنچی کھنچی سی تھیں۔۔😓سمرین، الینا اور ماریہ بھی ملنے آئیں تھیں ان سے مل کر کل سے ڈرا سا بجھا سا دل تھوڑا بہل گیا تھا۔۔😐سارا دن ہی مصروف سا گزرا لیکن رات اسکے لئے بہت مشکل تھی وہ جھوٹی مسکان رات کو چہرے سے اتر چکی تھی اب پریشے تھی اور لامتناحی سوچیں۔۔وہ سلطانہ بیگم کی تصویر سینے سے لگائے بری طرح رو دی تھی۔۔😭اسی ٹائم تاشفہ آنٹی کی کال آگئی اور اسے رونے کو مانو سہارا مل گیا۔۔کسی سے تو کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کرنا ہی تھا گھر میں وہکسی سے نہیں کہہ سکتی تھی😔دوستوں سے بھی کیا کہتی اسلئے سب کچھ آنٹی سے بیان کردیا۔۔😖انہیں بھی بہت دکھ ہوا لیکن اس وقت پریشے کو حوصلہ دینا ضروری تھا۔۔وہ بولیں صبر کرو بیٹا اللہ بڑا مہربان ہے۔۔رو مت میری جان اگر اس نے تم دونوں کا نصیب جوڑا ہے کوئی بہتر فیصلہ ہی ہوگا۔۔تم ہمت نہ ہارو اور کوشش کرتی رہو کہ جہانزیب کی غلط فہمی دور ہو جائے۔۔😑😑پریشے روتے ہوئے بولی لیکن وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں بہت کل انہوں نے کہا اور جو باتیں وہ کہہ رہے تھے میرےبارے میں آنٹی میں کیا بتاؤں میں خود سے نظر نہیں ملا پا رہی مجھے سمجھ نہیں آرہا کیوں کر رہے ہیں وہ ایسا وہ وہ تو مجھے جانتے ہیں پہلے سے۔۔؟؟😭اور پتہ ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میری وجہ سے ہمیشہ انکی انسلٹ ہوئی جب بھی وہ یونی میں پہلے نہیں آئے اور اب تک انہیں میرا تھپڑ مارنا یاد ہے لیکن وہ بھول گئے کیا کہ وہ تصویریں کیسی تھیں اور پھر آج تک میں انکی وجہ سے کیسے جی رہی ہوں آنٹی میں کیا کروں مجھے بتائیں یہ سب کیا ہے ۔۔؟😢😭بس بچے چپ ہوجاؤ ورنہ طبیعت اور خراب ہو جائیگی۔۔اللہ پر بھروسہ رکھو اور راضی رہو اسکی رضا میں وہ ہمیشہ بہترین عطا کرتا ہے بس کبھی جلدی اور کبھی دیر میں۔۔تم تع بہدر لڑکی ہو نا ویسے بھی اور اللہ تم سے بہت پیارکرتا ہے بچے ۔۔تم اچھی ہو میری جان اب اپنی اچھائی سے ہی جہانزیب کا دل جیت لو۔۔تمہاری اچھائی اسکے دل میں خود جگہ بنا دیگی۔۔اور دیکھو وہ بھی برا نہیں ہے اگر ہوتا تو سب کے ساتھ بھی برا پیش آتا نا بس شاباش رونا بند کرو اور سو جاؤ جلدی سے۔۔❤وہ پیار سے اسے کافی کچھ سمجھاتی رہیں اور کچھ دیر بعد پریشے سنبھل بھی گئی۔۔۔😐_________$$$$__________$$$$_________حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیںزندگی ہجر میں تحلیل کیے دیتے ہیںتو میری وصل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہےراستہ ہی ہے چلو تبدیل کیے دیتے ہیںآج سب اشکوں کو آنکھوں کے کنارے پہ بلاؤآج اس ہجر کی تکمیل کیے دیتے ہیںہم جو ہنستے ہوئے اچھے نہیں لگتے تم کوتو حکم کر آنکھ ابھی جھیل کیے دیتے ہیں_______$$$$__________$$$$_________جہانزیب کو صبح زبردستی پریشے کو لینے بھیج دیا وہ عباسی ہاؤس آیا تو سب نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بہت عزت دی۔۔تو وہ بھی سب سے بڑے ادب سے ہی ملا۔۔جہانزیب کی شخصیت سے سب ہی متاثر تھے۔۔❤واپسی کے وقت سے پہلے سجاد صاحب نے سب کو کمرے سے باہر بھیج دیا اور پریشے جہانزیب کو روک لیا دونوں نے ہی ایک دوسرے کو دیکھا پھر سمجھنے کی کوشش کرنے لگے کہ کیا ہو رہا ہے۔۔😵سجاد صاحب جہانزیب کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پریشے کو بھی اپنے پاس ہی بلا لیا اور اسے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے بولے جہانزیب بیٹا کل جو ہوا وہ شاید ایسے ہی ہونا لکھا تھا لیکن جو الزام میری وینا پر لگاوہ بالکل جھوٹ ہے بیٹا۔۔میری بیٹی بہت معصوم ہے اور تمہارا احسان تو میں زندگی بھر نہیں چکا سکتا۔۔😢پریشے تو انکے سینے سے لگی رودی۔۔😭سجاد صاحب نے ہاتھ کی جوڑ دئیے اور بولے بس اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کردینا دیکھو میں معافی مانگ لونگا تم سے🙏😨جہانزیب نے فورن انکے ہاتھ تھامے اور بولا انکل آپ بڑے ہیں اور پلیز مجھے گنہگار نہ کریں ایسے کر کے میرے بڑوں کا فیصلہ تھا جو ہونا تھا ہو گیا آپ پریشان نہ ہوں بس۔۔😓سجاد صاحب نے پریشے کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیا جو پریشے نے دل سے تھام لیا اور بولی دل میں کہ اب یہ ہاتھ کبھی نہیں چھوڑونگی آپکی ساری غلط فہمی میں دور کردونگی جہانزیب۔۔😑اسکے دل میں ایک نیا احساس پیدا ہوگیا تھا۔۔💟جہانزیب نے انکل کی بات پوری سنی اور جھٹ سے پریشے کاہاتھ چھوڑ دیا😖پھر وہ دونوں ہی سب سے مل کر احمد ولا کے لئے روانہ ہو گئے۔۔راستے میں گہری خاموشی تھی جسے جہانزیب نے ہی توڑا اور بولا میں جا رہا ہوں اگلے ہفتے میری ٹکٹ بھی کنفرم ہو گئی ہے۔۔😒پریشے: ک۔کیوں میرا مطلب کہاں جا رہے ہیں۔۔؟😓جہانزیب: لاہور بزنس سیٹ اپ کرنا ہے اور ویسے بھی یہاں رہاتو میں پاگل ہو جاؤنگا مجھ سے اور کوئی جھوٹ نہیں بولا جائیگا۔۔😑پریشے: پھر مطلب اور کچھ۔۔😓جہانزیب: ہمم تم چاہو تو میں فیصلہ کرنے کو تیار ہوں ابھی۔۔😱پریشے کا دل دہل گیا اور جلدی سے بولی کہ اپ کو جانا ہے جائیں لیکن پلیز یہ یہ چھوڑنے والی بات نہ کریں۔۔😧جہانزیب: دیکھو میں نہیں رہ سکتا تمہارے ساتھ اور بابا ماماچاہتے ہیں میں تمہیں لے کر کہیں باہر جاؤں اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔😰جہانزیب کا انداز کافی سرد مہر تھا۔پریشے: اتنی اتنی نفرت کرتے ہیں مجھ سے آپ۔۔؟😧پریشے کا انداز التجائی تھا۔جہانزیب: شاید😑پریشے نے اب اسے نہیں سامنے دیکھا اسکا دل بری طرح ٹوٹا تھا وہ بولی کہ آپ بے شک جائیں اور چاہیں تو جس سےمرضی شادی بھی کرلیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔میں آپ سے ساری زندگی کچھ نہیں مانگوں گی سوائے اسکے کہ اپنا نام رہنے دیں میرے پاس یہ نہ چھینے پلیز آپکو اللہ کا واسطہ۔۔😭آخر میں میں وہ کھڑکی کی طرف رخ موڑ گئی تھی اسکی آواز بھی بھاری ہو گئی تھی۔۔جہانزیب نے ایک ترچھی نظر اس پر ڈالی اور ڈرائیو کرتا رہا۔۔خاموشی اب تویل تھی یہاں تک کہ گھر آگیا۔۔________$$$$_________$$$$__________‏نگر ہو جائے گا ، وِیران سارااُسے روکو وہ ہجرت کر رہا ہے_________$$$$_________$$$$_________پریشے اور جہانزیب کا خوش اصلوبی سے چھوٹا سا ریسیپشن بھی ہو گیا ۔۔اگلے دن ناشتے کے وقت جہانزیب نے کہا بابا میری ٹکٹ کنفرم ہے میرا جانا ضروری ہے۔۔😐شاہزیب صاحب بولے ابھی کوئی ایسی ضرورت نہیں اور۔۔پریشے بات کے بیچ میں ہی بولی کیوں کہ جہانزیب کو غصہ آرہا تھا اب۔۔انکل گستاخی معاف لیکن پلیز جانے دیں آپ جہانزیب کو میں نہیں چاہتی میری وجہ سے کوئی بزنس لوس ہو۔۔😓لیکن بیٹا۔۔😑پلیز انکل مان جائیں نا۔۔😧ٹھیک ہے ایک شرط پر۔۔😒جی کہیں کیسی شرط۔۔😵گڑیا تم مجھے بابا کہوگی اب سے۔۔☺جی جی انکل کیوں نہیں😌ہمم پھر انکل۔۔😒اوہ ہاں سوری ان۔۔۔ میرا مطلب بابا😓فاطمہ بیگم بھی بولیں اور مجھے ماما😏جی جی ماما ٹھیک ہے۔۔پریشے گردن جھکا کر بولی۔۔جہانزیب بڑبڑایا ہنہ ڈرامہ کوئین۔۔😒شاہزیب صاحب بولے اچھا جہانزیب تم جاؤ لیکن جلدی آنے کی کوشش کرنا یا پھر سیٹل ہوجاؤ تو گڑیا کو بھی بلا لینا۔۔جی جی بابا ٹھیک ہے۔۔جس سے بھاگ رہا ہوں اسے ہی بلا لوں تو جاؤں ہی کیوں۔۔😒آخری بات دل میں سوچی۔۔جہانزیب اور پریشے کے درمیان کسی بھی قسم کی بات چیتنہیں تھی وہ ایک کمرے میں تھے مگر اجنبیوں کی طرح۔۔😧😰اس ایک ہفتے میں پریشے کو جہانزیب کی ڈانٹ بھی اچھی لگنے لگی تھی وہ کچھ بھی نہیں کہتی تھی بس خدا کے سامنے رو لیتی تھی جب دل بھر آتا تو۔۔پریشے کے دل میں جہانزیب کے لئے محبت کا پھول کھلنا شروع ہو گیا تھا۔۔💞💞جہانزیب ایک ہفتے بعد لاہور چلا گیا پریشے بہت اداس ہو گئی تھی۔۔😔اس نے شاہزیب صاحب کے ساتھ دوبارہ آفس جوائن کرلیا اور سب سے کہہ دیا جہانزیب کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔احد اسکالر شپ کے اگزام میں پہلے نمبر پر آیا اور یونیورسٹی جوائن کرلی۔۔وانیہ بہت اداس تھی اور پریشے کو وجہ اچھے سے پتہ تھی۔۔فری نے بھی گریجویشن کے لئے اسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا جہاں احد بھی جارہا تھا پریشے نے احد سے کہہ کر وانیہ کا بھی فری کے ساتگ ہی ایڈمیشن کروادیا اور فیس کی ذمہ داری اپنے سر لی۔۔وانی کو پتہ چلا تو وہ کافی دیر تک اکی گود میں سر رکھے روتی رہی اور پریشے اسے بہلاتی رہی۔۔❤وانی: آپکو کیسے پتہ تھا آپی۔۔؟😧پریشے: کیونکہ میں اپنی چھوٹی بہن کو اچھے سے جانتی ہوں۔۔😘پریشے کا گھر یونیورسٹی کے راستے میں پڑتا تھا اسلئے احد اور وانی کے ساتھ ہی فری بھی یونی جانے لگی پریشے کے کہنے پر ہی شاہزیب صاحب نے اجازت دے دی تھی ۔۔😊جہانزیب گھر فون کرتا تھا سب سے بات کرتا تھا لیکن پریشے سے نہیں۔۔پریشے نے یہ کہہ رکھا تھا کہ اسکی بات ہوتی رہتی ہے جہانزیب اسے فون کرتے ہیں جب کہ جہانزیب کے پاس تو اسکا نمبر تک نہیں تھا۔۔😔😰دوسری طرف امان غصے میں اپنی ماں سے لڑا تھا کہ جب بات ختم ہوئی تو آپ نے میرے لئے کیوں بات نہیں کی۔۔؟😠سمینہ خالہ بولی آئے ہائے ایک لڑکی کی بارات نہیں آئی الزام لگ گیا اور میں اسے اپنے گھر لے آتی توبہ ہے کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔😵امان بولا حد کردی آپ نے بس کتنی مشکل سے میں نے بات بگاڑی تھی کہ پھر میرے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا اور آپ نے کام ہی خراب کر دیا😡کیا کیا بول رہے ہو یہ سب تم نے کیا ہے۔۔؟😱ہاں اب اعلان کروادیں اور غصہ ہوتے ہوئے بس اگلے ہی دن دوبارہ لندن چلا گیا۔۔😤اسکا بزنس تو یہیں تھا لیکن وہ اکثر لندن جاتا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ وہاں کیا کیا کرتا ہے۔.اس بار بھی وہ کسی لڑکی کے ساتھ لندن گیا تھا۔۔😱اور دل میں یہ سوچ کر گیا تھا کہ دوبارہ آنے پر پریشے کو چھوڑے گا نہیں ایسے اور جہانزیب سے بدلہ لیگا ضرور۔😱😰😨__________$$$$_________$$$$__________۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔آج کی قسط کیسی لگی آپکی رائے کا انتظار رہے گا۔۔۔اگلی قسط دلچسپ ہوگی انشاءاللہ۔۔😊😊#Simiwrites_________$$$$___________$$$$__


No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/