http://novelskhazana.blogspot.com/
#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۱۱#_plz_dont_copy_wdout_my_permissionیہی سمجھ میں آیا ہےشہر کا شہر پرایا ہےبستی بستی میں اسکیویرانہ ہمسایہ ہےجھوٹے رشتوں ناطوں کابرسوں بوجھ اٹھایا ہے__________$$$$_________$$$$_________پریشے کی مہندی تھی کاشان کی امی اور بہنیں بھی آئیں تھیں بری لے کر۔۔😳پریشے ہرے رنگ کی فراق میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔😍اسے سمرین نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا جس سے وہ مزید حسینلگ رہی تھی۔۔💞اوپر سے اسکا اداس چہرا بھی اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ دیکھنے والوں کی نظر ہٹ نہیں رہی تھی۔۔😍لیکن پریشے کو شدت سے ماں کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔۔😢اور اس کا دل بھی خراب ہو رہا تھا جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہو۔۔😱سب بہت خوش تھے ہر طرف ہنسی اور چہکاریوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔لیکن پریشے کے اندر گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔۔😨اور جب دل کا موسم ہی اداس ہو تو باہر کتنا ہی خوش کن موسم کیوں نہ ہو اس سے فرق نہیں پڑتا۔۔وہ جبرن مسکراہٹ لئے بیٹھی سب سے بات کر رہی تھی عینی احد اور وانی سمیت سجاد صاحب بھی اداس تھے لیکن کوئی بھی پریشے کے سامنے ظاہر نہیں کر رہا تھا۔۔😓پھپو اور تائی جان ہوری کوشش کر رہیں تھیں کہ اسے ماں کیکمی محسوس نہ ہو لیکن کچھ کمیاں انسان کی زندگی میں ایسی ہوتی ہیں جو کوئی پوری نہیں کر سکتا اور آپکی ذات میں ایک خلا سا رہ جاتا ہے آپکے اندر کچھ ادھورا رہتا ہے ہمیشہ اور ایسا ہی کچھ پریشے کے ساتھ بھی تھا۔۔😥😥پریشے حسرت بھری نگاہوں سے ریحانہ بیگم کو دیکھ رہی تھی جو اس سے بات تو دور اسکی طرف دیکھنا بھی پسندنہیں کر رہی تھیں۔۔😭"اک فرعون کا رونا نہیں ہے میرے لئےمیں نے ہر شخص کے تیور میں خدا دیکھا ہے"مہندی کا فنکشن بہت خوش اصلوبی سے انجام پذیر ہوا تھا۔۔پریشے کے ساتھ سمرین اور وانیہ رات ٹہری تھیں۔۔الینا اور ماریہ عینی آپی کے کمرے میں تھیں۔۔سب سو گئے تھے لیکن پریشے کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔۔😓وہ چاہ کر بھی نہیں سو پائی اور ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی۔۔دل بہت پریشان تھا اسکا جیسے ابھی کچھ غلط ہونے کو ہے۔۔😰دوسری طرف امان نے کاشان کا نمبر حاصل کر لیا تھا اب وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا یہ فلحال کوئی نہیں جانتا تھا اور پریشے کی بارات والے دن کی ٹکٹ بھی کنفرم کرالی تھی اس نے۔۔۔😱جہانزیب ایک مہینے بعد لاہور جا رہا تھا اور وہ اسی کی تیاری میں بزی تھا۔۔شادی کی بات پر ایک چہرا اسکی آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا لیکن وہ انا اور نفرت میں سر جھٹک دیتا اور فاطمہ بیگم سے بھی اس معاملے میں زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔۔😔_________$$$$_________$$$$__________نہ امنگ دل میں رہی کوئینہ ذھن میں کوئی سوال ہیںیہ جو گردشیں ہیں ہاتھ پرمیری خواہشوں کے کمال ہیںمیں نے کب کہا میں حسین ہوںیا محبّتوں کی امین ہوں ....میری گفتگو میرا آئینہ ....میرا ذوق میری مثال ہے ...________$$$$_________$$$$__________صبح سے آسمان پر بادلوں کا راج تھا۔۔۔موسم بظاہر بہت خوشگوار ہو رہس تھا۔۔💞لیکن ایسا موسم پریشے کی زندگی میں اکثر طوفان ہی لاتا تھا۔۔😱پریشے باتھ لینے کی غرض سے باتھ روم میں تھی۔۔الینا اور سمرین باہر تھے اور ماریہ روم میں تھی کسی خیال کے دماغ میں آتے ہی ماریہ چٹکی بجا کر اٹھی اور شرارت سے باتھ روم کی باہر سے چٹخنی بند کی اور لائٹ آف کر کے باہر بھاگ آئی۔۔😂وہ بھاگی ہوئی آرہی تھی جب سمرین سے ٹکر ہوتے بچی اس نے رک کر سانس لیا تو سمرین بولی میراتھن میں حصہ لیا ہے کیا جو بھاگنے کی پریکٹس کر رہی ہو۔۔😋ماریہ: ارے۔۔ نہیں۔۔ یار۔۔ وہ سیدھی ہوئی اور بولی میں نے نا پریشے کو بند کر دیا ہے اور زور سے ہنسنے لگی😂😂الینا بولی کیا مطلب ۔۔؟عینی بھی آگئی تھی۔۔مطلب یار وہ نہانے گئی تو میں باہر سے اسے بند کر کے لائٹ آف کر آئی ہوں۔۔۔😉عینی، الینا اور سمرین ایک ساتھ چیخیں کیا۔۔۔۔😵ماریہ: یار کیا کیا بتایا۔۔۔۔اسکی بات پوری ہونے سے پہلے وہ تینوں کمرے کی ظرف بھاگیں تو وہ بھی حیرانی سے انکے پیچھے آئی۔۔کمرے میں پہنچ کر عینی نے چٹخنی کھولی اور لائٹ آن کر کے جلدی سے اندر دیکھا تو پریشے کونے میں گٹھنوں پہ سر ٹکائے بے ہوش ہونے کو تھی😱سمرین غصے میں بولی ماریہ یار تمہارا دماغ خراب ہے کیا۔۔؟😬پریشے کو ایسے دیکھ کر ماریہ خود شاکڈ تھی وہ بولی لیکن میں نے مذاق کیا تھا بسس۔۔۔😧الینا نے کہا پریشے کو اندھیرے سے سخت فوبیا ہے یار۔۔😨وہ لوگ اسے سہارے سے لے کر بیڈ تک آئیں اور لٹا دیا۔۔ماریہ کے چہرے پر تو ہائیاں اڑ گئیں😵عینی نے جلدی سے پانی مارا پریشے کے چہرے پر جس سے وہ حواس پہ قابو پاتے ہی عینی سے لگ کر بری طرح رو دی😭😭ان سب نے ہی اسے سنبھالا اور ماریہ نے روتے ہوئے اس سے معافی مانگی جسے اس نے فورن معاف کر دیا کیونکہ وہ لاعلمی میں ایسا کر گئی تھی۔۔۔😧سمرین نے بعد میں اسے بتایا کہ بچپنسے بہت ڈرتی تھی پریشے اندھیرے سے بڑے ہوتے ہوتے اس نے ڈر پہ قابو پالیا تھا لیکن یونیورسٹی میں لائبریری والے واقعے کے بعد پھر سے فوبیہ بڑھ گیا ہے۔۔😱😱ماریہ بہت ہی زیادہ گلٹی تھی لیکن پریشے نے اسے پرسکون کر دیا کہ وہ ٹھیک ہے اور دوستوں میں مذا تو چلتا ہے اگر وہ یہ بات جانتی تو کبھی ایسا نہ کرتی۔۔پھر وہ سب ہی باتوں میں مگن ہو گئیں۔۔ناشتے سے فارغ ہو کر سب شام کو بارات کی تیاریوں میں مگن ہوگئے۔۔۔پریشے نے پارلر جانے سے بھی انکار کر دیا تھا اور اسی لئے بیوٹیشن کو گھر پر ہی بلا لیا تھا وہ اس پر بھی نہیں مان رہی تھی لیکن وانی اور احد سمیت اسکی دوستو نے ایک نہیں چلنے دی اور آخر پریشے کو مان کر ہی بنی۔۔۔😏😏گھر کے باہر ہی چھوٹا سا مگر خوبصورت ارینجمینٹ کیا گیا تھا۔۔💞دوپہر میں سجاد صاحب نے اپنے ہاتھوں سے پریشے کو کھانا کھلایا تو جو بند وہ اہنے آنسوؤں پر باندھے ہوئے تھی وہ ٹوٹ گیا اور پریشے سجاد صاحب کے سینے سے کگ کر بکھرسی گئی وہ خوب روئی۔۔😭سجاد صاحب نے اسے رونے دیا وہ بس اسکا سر اور کمر سہلاتے رہے اور اسکی آنے والی نئی زندگی کے لئے نم آنکھوں سے دعائیں کرتے رہے۔۔😢اور باہر کا موسم میں خنکی مزید بڑھ گئی بادلوں نے اپنا ڈیرا ہی جما لیا اور آتی ہوئی سردی کے رنگ نظر آنے لگے۔۔۔😰__________$$$$__________$$$$________کُچھ بھی تو نہیں ویساجیسا تجھے سوچا تھا💔جتنا تجھے چاہا تھاسوچا تھا تیرے لب پرکُچھ حرف دُعاؤں کےکُچھ پھُول وفاؤں کےمہکیں گے مِری خاطرکُچھ بھی تو نہیں ویساجیسا تجھے سوچا تھا💔محسوس یہ ہوتا ہےدُکھ جھیلے تھے جو اَب تکبے نام مسافت میںلکھنے کی محبّت میںپڑھنے کی ضرورت میںبے سُود ریاضت تھیبے فیض عبادت تھیجو خواب بھی دیکھے تھےان جاگتی آنکھوں نےسب خام خیالی تھیپھر بھی تجھے پانے کیدل کے کسی گوشے میںخواہش تو بچا لی تھیلیکن تجھے پاکر بھیاور خود کو گنوا کر بھیاس حبس کے موسم کی کھڑکی سے ہوا آئینہ پھول سے خُوشبو کی کوئی بھی صدا آئیاب نیند ہے آنکھوں میںنہ دل میں وہ پہلی سی تازہ سخن آرائینہ لفظ مِرے نکلےنہ حرف و معافی کی دانش مِرے کام آئینادیدہ رفاقت میںجتنی بھی اذیت تھیسب میرے ہی نام آئیکچھ بھی تو نہیں ویساجیسا تجھے سوچا تھاجتنا تجھے چاہا تھا💔💔💔_________$$$$_________$$$$_________شام کے پانچ بج رہے تھے اور عینی، احد، وانی، سونیا، فرہاد، سمرین، الینا، ماریہ حتی کہ ہر کزن پریشے کو گہرے بیٹھے تھے۔۔❤اسکی مہندی کو خوب رنگ آیا تھا اور وہ دوپٹہ سر پہ ٹکائے شرمائی لہجائی سی چہدا جھکائے بیٹھی تھی کچھ دیر میں بیوٹیشن نے آجانا تھا اور باقی سب نے بھی اپنی تیاریوں میں مگن ہوجانا تھا۔۔💗پریشے کو دیکھ کر بار بار سب کی آنکھیں بھیگ رہی تھیںلیکن سب وہاں اسے خوش رکھنے کی غرض سے جمع تھے جس کوشش میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے تھے۔👌پریشے کچھ دیر کے لئے سوچوں کے بھنور سے باہر آگئی تھی۔۔💟سجاد صاحب نے ریحانہ بیگم کو غصہ سے کہہ دیا تھا کہ پریشے کو ماں کی طرح رخصت کرو😠اور پیار بھی دیدو اس سے تمہیں فرق نہیں پڑیگا بس میری بچی کا دل ہلکا ہو جائیگا۔۔😢لیکن ان پہ نہ پہلے کبھی اثر ہوا نہ اب ہونا تھا۔۔😧احد فرہاد سجاد صاحب کے ساتھ کام دیکھ رہے تھے جبھی سجاد صاحب کا فون بجا۔۔انہوں نے دیکھا تو پریشے کے سسرال سے فون تھا۔۔ابھی فون اٹھایا ہی تھا لیکن سامنے سے جو سننے کو ملا وہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا😨سجاد صاحب تو پتھر کے ہو گئے تھے انکے ہاتھ سے فون چھوٹ کر نیچے گرا تو فرہاد اور احد کو تشویش لاحق ہوئی احد نے بابا کہتے ہوئے انہیں سنبھالا اور فرہاد نے فون اٹھایااور کہا جی کون بات کر رہا ہے اور جو بات اس نے سنی وہ برداشت نہیں کر سکا اور سر تھام کرسی پر بیٹھ گیا اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے تھے۔۔😱احد نے سجاد صاحب کو بٹھایا اور پانی پلایا۔۔انکی جیسے بولنے کی تاقت ہی ختم ہو گئی تھی۔۔احد فورن فرہاد کے پاس آیا اور بولا کیا بات ہے بھائی مجھے بتائیں، بابا کو بھی پتہ نہیں کیا ہوا ہے پلیز کچھ بولیں..؟؟😧فرہاد نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا انہوں نے بارات لانے سے انکار کر دیا بھائی۔۔ وہ اتنا ہلکا بولا کہ احد نے بمشکل سنا۔۔😱😱ک۔۔۔کیا۔کیا کہہ رہے ہیں بھائی ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟😨میں سچ کہہ رہا ہوں وہ ہماری بہن پر الزام لگا رہے ہیں یار میں تو کہہ بھی نہیں سکتا۔۔فرہاد بہت ہی دلبرداشتہ سا سجاد صاحب کے قدموں میں بیٹھا اور انکے ہاتھ تھامے پھر بولا چچا جان ہمت نہیں ہارنی ہے ورنہ وینا کو کون سنبھالیگا۔؟😢سجاد صاحب: فرہاد میں میں نہیں سنبھال سکتا میں کیسے اسکاچہرا دیکھونگا یا اللہ یہ کیا ہو گیا میری بیٹی۔۔ آخر میری بیٹی کے نصیب میں کیا لکھا ہے۔۔ کیوں کیا انہوں نے ایسا اتنا گھٹیا الزام ایک کسی کی فون کال سے وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں😨😨😨احد بھی وہیں بیٹھا اور روتے ہوئے بولا بابا پلیز آپ تو ایسے نہ کریں ہمارا کیا ہوگا ورنہ اور اب کیا کرینگے ہم۔۔۔۔؟؟😰😰😰اتنے میں سجاد صاحب کا فون پھر بجا تو فرہاد نے دیکھا احمد کالنگ لکھا آرہا تھا اس نے سجاد صاحب کو بتایا تو وہفون کو دیکھتے رہے بس وہ دوبارہ بجا تو انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور فون اٹھالیا جو بھی تھا ابھی سب سنبھالنا تھا۔۔۔😢دوسری طرف سے احمد صاحب ٹائمنگ کا دریافت کر رہے تھے جب جواب نہ ملا تو وہ تشویش سے تھوڑا تیز بولے کہ سن رہے ہو کیا ہوا کچھ بولو بھی یار۔۔سجاد صاحب: ان۔۔انکار کر دیا انہوں نے۔۔ دوست تھے اور انسان کو دل ہلکا کرنے کو کسی کا تو سہارا چاہیے ہوتا ہے نا سجاد صاحب بھی بہت ٹوٹ گئے تھے😢انہوں نے سب بتا دیا تو احمد صاحب کو یقین نہ آیا وہ اگلے آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچ گئے ساتھ مسز احمد بھی تھیں۔۔😰شادی کے گھر میں کہرام سا مچا تھا جیسے کوئی مر گیا ہو اور جس لڑکی کی بارات نہ آئے وہ لڑکی مر ہی تو جاتی ہے لیکن پریشے کی آنکھ سے ایک آنسو نہیں گرا وہ خود کو پتھر بنائے سب کو دلاسے دینے میں لگی ہوئی تھی اور ریحانہ بیگم سمینہ خالہ اسے لعن طعن ہی کر رکی تھیں انکا دقیہ نوسی کلامجاری تھا کہ بس یہ لڑکی منحوس ہی ہے۔۔😱باہر بادل بس برسنے کو تیار تھے☁☁☔مسٹر اینڈ مسز احمد کو پریشے ویسے ہی بہت پسند تھی انہوں نے سجاد صاحب سے ابھی پریشے کو اپنی بیٹی بنانے کے لئے کہا تو وہ غم سے نڈھال انہین بات نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگے😨احمد صاحب نے انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور کہا پریشان نہ ہو سجاد میں تمہارے ساتھ ہوں اور اگر یہ رشتہ نہ ہوتا تو میں تم سے پریشے گڑیا کا ہاتھ مانگنے ہی والا تھا۔۔😐😐سجاد صاحب اب صحیح مانو میں رو دیئے😭فرہاد اور احمد صاحب نے مشکل سے انہیں سنبھالا۔جب وہ پریشے کے کمرے میں پہنچے تو سب باہر چلے گئے اوروہ آہستہ سے اسکے قریب پہنچے انکا سر جھکا ہوا تھا۔۔😥پریشے نے پکارا بابا۔۔۔😧اور بس سجاد صاحب اسے سینے سے لگائے بری طرح رو دیئے😭مجھے معاف کرنا میری بیٹی مجھے نہیں سمجھ ارہا یہ سبکیا ہو رہا ہے ۔۔۔پریشے نے انہیں بٹھایا اور پانی پلایا پھر نیچے بیٹھ کر انکے ہاتھ چومے اور بولی بابا میں بالکل ٹھیک ہوں اور شاید وہ میرے لئے بہتر نہیں ہونگے اسلئے ایسا ہوا اللہ جی نے میرے لئے کچھ بہتر ہی سوچا ہوگا نا۔۔😢سجاد صاحب نے اسکاماتھا چوما اور اثبات میں سر ہلا کر بولے اپنے بابا پر یقین ہے نا۔۔؟😓پریشے نے انکی گود میں سر رکھا اور بولی بابا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے مجھے خود سے زیادہ آپ پر یقین ہے۔۔۔💗ٹھیک ہے پھر تیار ہو جاؤ وینا رخصتی تمہاری آج ہی ہوگی۔۔ وہ اٹل لہجے میں بولے۔۔😱پریشے نے جھٹ سے سر اٹھایا اور انہیں الجھن بھری نگاہوں سے دیکھا۔۔😵وینا میری جان میں نہیں چاہتا کوئی میری بیٹی پر کیچڑ اچھالے اور تم مجھ پر بوجھ بھی نہیں ہو بلکہ یہ گھر تو چل ہی تمہاری وجہ سے رہا ہے۔۔😢بابا۔۔😨نہیں اج سنو میری بات احمد انکل کو تو دیکھا ہی ہے تم نے وہ تمہیں اپنی بیٹی بنا کر آج ہی رخصت کرانا چاہتے ہیں میں نے ہاں کردی ہے اب شاید ایسے ہی تمہارا نصیب لکھا تھا بس اللہ تمہیں ہزاروں خوشیاں نصیب کرے بیٹا میں باہر جا رہا ہوں تم تیاری کرو۔۔😱😱وہ یہ کہتے ہوئے بیساکھی کے سہارے باہر چلے گئے۔۔پریشے اپنی قسمت کے تماشے سمجھ ہی نہیں سکی۔۔وہ روئی نکیں تھی بس خاموش تھی۔۔😰ساری تیری ہو گئی تھی مہمان بھی آگئے تھے۔۔تاشفہ آنٹی بھی آگئی تھیں اور جب انہیں سب پتہ لگا تو بہت دکھی ہوئیں وہ پریشے کے پاس آئیں تو وہ فورن ان کےگلے لگ گئی اسکے الفاظ تو ختم ہی ہو گئے تھے۔۔😞انہوں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا بس صبر کرو بیٹا اللہ نے ضرورکچھ اچھا ہی سوچا ہوگا تمہارے لئے وہ بہت بہتر جاننے والا ہے اللہ تمہیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔۔آمین❤احمد صاحب نے اپنے بیٹے کو کال کی اور بولے بیٹا اپنی ماں اور مجھ پر کتنا یقین ہے۔۔؟😐بابا کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ جانتے ہیں میں آپ پر اور ممی پر خود سے زیادہ یقین رکھتا ہوں۔۔۔ٹھیک ہے پھر جس لڑکی سے ہم تمہاری شادی کرانا چاہتے تھے یاد ہے ہم نے بتایا تھا۔۔؟😓جی ۔۔ پھر۔۔۔پھر یہ کہ ابھی میں ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں تمہیں فورن یہاںپہنچو تمہاری شادی ہے سوال کوئی نہیں باقی باتیں میں پھر بتاؤنگا۔۔ اب بولو ہمارا مان رکھوگے یا۔۔۔؟؟😓کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا ٹھیک ہے تو مسز احمد بولیں بیٹا کسی جیولری شاپ سے کوئی تحفہ بھی لے لینا اس نے اوکے کہا اور کال کاٹ دی۔😰پریشے دلہن بن گئی تھی۔۔اسکی آنکھیں ضبط کے مارے سرخ تھیں اور اسکی سوگوار حالت بھی اچھی نہیں تھی اسے ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی۔۔😥😥سارا ماحول پھر سے خوشگوار ہو گیا تھا لیکن سب ہی افسردہ تھے ریحانہ بیگم کو سجاد صاحب نے بہت غصے سے خاموش کروادیا تھا۔۔😠________$$$$______$$$$_______جہانزیب تھکا ہارا گھر آیا تھا۔۔اسے معلوم تھا کہ آج پریشے کی شادی ہے وہ صوفے پر بیٹھا اور سر اسکی پشت سے ٹکالیا۔۔آنکھیں بھی بند تھیں گھر میں بھی کوئی نہیں تھا۔۔اسکا فون بجا تو دیکھا شاہزیب صاحب کی کال تھی۔۔فون یس کیا اور کچھ بات کے بعد جو خبر شاہزیب صاحب نے سنائی وہ اسے کچھ دیر کو خاموش کر گئی لیکن کچھ سوچ کر اس نے حامی بھر لی اور واپس گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔😵😵_________$$$$________$$$$__________یہ جھکی جھکی آنکھیںیہ رکا رکا لہجہٹوٹتا ہوا فقراگرد میں اٹی پلکیںبارش میں نم چہراسر جھکائے آیا ہےاک عمر کا بھولادل ہزار کہتا ہےہاتھ تھام لوں اسکاچوم لوں یہ پیشانی💗لوٹنے نہ دوں تنہالیکن انا پھر یہ کہتی ہےسارے لفظ جھوٹے ہیںاعتبار مت کرنااعتبار مت کرنا۔۔۔۔۔💔💔_______$$$$__________$$$$__________جہانزیب راستے سے شہزاد کو اور اپنے بزنس پارٹنر کو لیے ایڈریس پر پہنچا تو وہاں ہر طرف روشنیاں اور شادی کا سماں دیکھ کر حیران ہوا۔۔😵اس نے شاہزیب صاحب کو کال کی تو انہوں نے اسے وہیں رکنےکو کہا اور تھوڑی دیر میں سجاد صاحب کے ساتھ باہر آئے😱)ہاں جی احمد انٹرپرائیزر کے اونر کوئی اور نہیں شاہزیب احمد کی ہیں اور سجاد صاحب کے دوست بھی(😜جہانزیب کو مختصر بات بتا کر انہوں نے اسکی مرضی پوچھی ۔۔۔سجاد صاحب اس سے مل کر خوش ہوئے تھے کیونکہ وہ شخصیت ہی ایسی رکھتا تھا کہ بندہ پہلی نظر میں اسکا قائل ہو جائے❤انہوں نے ایک کمرے میں شاہزیب فیملی کو اور جہانزیب کے دوستوں کو بات کرنے کا موقع دیا تھا اور وہ خود باہر دل سے دعاگو تھے پریشے کے اچھے نصیب کے لئے۔۔😓جہانزیب کچھ دیر سوچتا رہا۔۔اسکی نظروں میں بار بار پریشے کا چہرا آرہا تھا شاہزیب صاحب نے لڑکی کا نام گڑیا ہی لیا تھا اور سجاد صاحب نے وینا جہانزیب کے دل و دماغ میں ہی نہیں تھا کہ کون اسکی شریک سفر بنائی جا رہی ہے۔۔۔😵فلحال شہزاد کو بھی کچھ خبر نہیں تھی کیونکہ ماریہ اور پریشے کی دوستیں اسکے ساتھ کمرے میں ہی موجود تھیں۔۔۔جہانزیب نے دل میں کہا تو دیکھو پریشے میری بھی شادی آج ہی ہو رہی ہے اور اب میں تمہیں کبھی یاد نہیں کرونگا تم اس قابل ہو بھی نہیں نفرت ہے جھے تم سے بس۔۔😨فاطمہ بیگم اور فری اسکے ساتھ بیٹھ گئے فری نے اسکے کان میں کہا بھائی مجھے تو بھابی بہت پسند ہیں😃فاطمہ بیگم نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولی دیکھو جو کہوگے تم ہمیں کوئی تم سے گلہ نہیں چاہو تو لڑکی سے بھی مل و وہ بہت پیاری بچی ہے اور اسکا نصیب تمہارے ساتھ ہی تھا شاید مجھے ویسے کی اسکے کہیں اور رشتے پر افسوس تھا خیر اب بولو کچھ۔۔۔؟😐جہانزیب نے سب کی طرف باری باری دیکھا پھر بولا ٹھیکہے جیسے آپکی مرضی میں تیار ہوں اور پھر پرنسس کی پسند بھی ہے تو انکار کا سوال ہی نہیں۔۔💗❤باہر بادل زور سے گرج رہے تھے۔۔۔________$$$_________$$$$__________پریشے تو خود ٹوٹی بکھری ہوئی تھی اس نے بھی گم حواس سے پیپر سائین کئیے اور تائی جان کے گلے لگ کر رو دی۔۔😢سجاد صاحب اور فرہاد بھائی نم آنکھوں سے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر چلے گئے تھے۔۔😢احد تو چھوٹا ہی تھا اسکا ضبط اتنا ہی تھا بہن کے گلے لگ کر وہ رو دیا بس😭وانیہ سے بھی اور نہیں برداشت ہوا اور وہ بھی اس سے مل کر رودی۔۔رو تو سونیا اور عینی بھی رہی تھیں لیکن فلحال انھوں نےہی سنبھالا۔۔😢😢سمرین اور ماریہ تو نام سن کر دنگ تھیں وہ بھی سب کے پیچھے باہر گئیں تھیں لڑکے کو دیکھنے😵نکاح بھی روم میں ہی ہوا اورہ لڑکی کا نام سن کر جہانزیب کو اوسان خطا ہوتے محسوس ہوئے۔۔شہزاد بھی چونکا تھا شاہزیب صاحب نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا تو اس نے غائب دماغی سے پیپر سائن کئیے۔۔😓وہ ابھی تک ماننے کو تیار نہیں تھا کہ یہ وہی پریشے ہوگی لیکن سب کڑیاں ملتی ہی جا رہی تھیں۔۔_______$$$$_________$$$$________ماریہ اور سمرین جہانزیب کو دیکھ کر تیر کی طرح دوبارہ بھاگیاور کمرے میں آکر پریشے زور سے گے لگایا اور فونوں خوشی میں کھڑے ہوکر ڈانس کرتے ہوئے گانے لگیں۔۔لے جائیں گےلے جائیں گےدل والے دلہنیالے جائیں گے😜😜سب ان دونوں کو حیرانی سے دیکھ رہے تھےپریشے بھی ہونق بنی انہیں تک رہی تھی😵آخر الینا سے اور برداشت نہیں ہوا دونوں کا پاگل پن تو وہ سمرین کو چپت لگا کر بولی کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو کوئی جن کا اثر ہو گیا ہے کیا۔۔۔؟؟؟😠سمرین نے ماریہ کو دیکھا اور دونوں تالی مار کر بری طرح ہنسنے لگیں😂😂عینی نے کہا لگتا ہے یہ دونوں صدمے میں چلی گئی ہیں۔۔۔😒سمرین نے مشکل سے ہنسی کو بریک لگائے اور مٹھائی کا بڑا سا پیس اٹھایا اور ماریہ کے ساتھ مل کر کھایا😁پھر پریشے کو زور سے بھینچ کر بولی بتاؤ تمہارے شوہر نامدار کا نام کیا ہے۔۔۔؟😅پریشے حواس میں ہوتی تو سنا بھی ہوتا وہ چہرا جھکائے بولی پتہ نہیں۔۔۔😞ماریہ بولی ہم بتاتے ہیں بھئی تم اچھی طرح جانتی ہو ویسے۔۔وہ دونوں سب کو شاکڈ کئیے جا رہیں تھیں😵وہ دونوں چہک چہک کر ساتھ بولیں بھئی تمہاری شادی کسی اور سے نہیں جہانزیب احمد اپنی یونیورسٹی کے سب سے ہینڈسم اور مستقبل کے مشہور بزنس مین سے ہوئی ہے۔۔۔😅😅پریشے کو سانپ سونگھ گیا۔۔آج پھر اسکی عزت کو بچانے والا وہی تھا۔۔فرق اتنا تھا پہلے محبت تھی💔اور اب نفرت😥😨وہ دل سے اسکی شکر گزار تھی۔😳اور اس نے عہد کر لیا تھا کہ ساری عمر اسکے ساتھ سچی رہیگی جیسا وہ کہے گا وہی کریگی اور کبھی اسکی عزت پر حرف نہیں آنے دیگی محبت کا پھول اسکے دل میں بڑھنا شروع ہوگیا تھا💗💗💗جہانزیب کا شک یقین میں بدل گیا جب اسے اسٹیج پر سمرین اور ماریہ ملنے آگئیں۔۔وہ بالکل خاموش تھا۔۔اسکی خاموشی طوفان سے پہلے والی خاموشی تھی😱😱بارش ہونے کا خدشہ تھا تو کھانا کھلا کر رخصتی جلدی کر رہے تھے😑پریشے سب سے ملی اور سب ہی روئے احد اور وانی تو اسے چھوڑ ہی نہیں رہے تھے۔۔۔😢لیکن سجاد صاحب کے سینے سے لگ کر وہ بری طرح رو دی بہت مشکل سے وہ ضبط کئیے اڈے سنبھال رہے تھے مگر آنسو پھر بھی آگئے۔۔آخر میں وہ ریحانہ بیگم کے پاس بھی گئی جو سمینہ خالہ کے ساتھ کھڑی تھیں اس نے انکے ہاتھ جوڑ دئیے اور سر جھکائے روتے ہوئے بولی ماما اب تو معاف کر دیں جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئیے ۔۔😨😢سب کا ضبط جواب دے گیا اس معصوم کی حالت دیکھ کر اسکی دوستیں کزن بہن بھائی سجاد صاحب یہاں تک کہ فری بھی رو دی😭😭ریحانہ بیگم کو بھی شاید اس پر ترس آہی گیا تھا انہوں نےاس کے جڑے ہاتھ کھولے اور ماتھا چوم کر بولیں صدا خوش اورآباد رہو جاؤ اپنے گھر بچے مجھے کو گلہ نہیں تم سے😓وہ ماں کی آغوش کو ترسی ہوئی لڑکی کو سجاد صاحب نے اپنے حصار میں لیا اور آکر جہانزیب کے ہاتھ میں اسکا ہاتھ تھما دیا❤اور بولے میرے جگر کا ٹکڑا ہے بیٹا یہ آج سے تمہارے حوالے۔۔۔ اور آنسو پہنچ کر پیچھے ہو گئے😢شاہزیب صاحب اور فاطمہ بیگم انکے پاس آئے اور پھر بولے پریشان نہ ہو بھائی صاحب بیٹی بنا کر لے جا رہی ہوں۔۔۔💗انہوں نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔۔جہانزیب نے محسوس کیا کہ پریشے کانپ رہی ہو جیسے اور اسکا ہاتھ بھی برف ہو رہا تھا۔۔اس نے اپنے ہاتھ ۔یں پریشے کا ہاتھ دیکھا انا نے چوٹ کی اور اسنے ہاتھ چھوڑ دیا😨😥پریشے بالکل بے حال سی تھی اس لئے نوٹ نہیں کر سکی۔۔امان کی فلائٹ تھوڑی لیٹ پہنچی تھی اور وہ جلدی سے وہاں پہنچا اور جہانزیب کے ساتھ پریشے کو دیکھ کر اسکا خون کھول گیا ۔۔اسکی ساری محنت ضائع چلی گئی۔۔کتنی مشکل سے کاشان کی فیملی کو اس نے بدزن کیا تھا پریشے سے اور یہاں کہانی پھر الٹی ہوگئی تھی۔۔اسکی بجائے پھر جہانزیب پریشے کا صائبان تھا۔۔۔امان سے برداشت نہیں ہوا اور وہ بنا کسی سے ملے وہاں سے کہر برساتی نظروں سے دونوں کو گھورتا چلا گیا۔۔😠😡😤😬❤)"اللہ کو ایسے لوگ کیوں بھول جاتے ہیں آخر ہوتا تو وہی ہے نا جو کاتب تقدیر لکھتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا کبھی برا نہیں کرتا ہاں انہیں آزمائش میں ضرور ڈالتا ہے اور جو اس میں پورے اترتے ہیں انہی کے لئے انعام موجود ہیں دنیا میں نہیں تو جنت میں ملتے ہیں اور دنیا تو ہے ہی فانی اصل زندگی تو موت کے بعد ہی ہے، جانے والا چلا جاتا ہے پیچھے آہیں، پچھتاوے، سسکیاں اور یادیں چھوڑ کر اور جو قدر نہیں کرتے انکے لئے تو نارسائی کی سزا ہی مقدر بنتی ہے۔۔۔۔۔۔اس لئے اپنے پیاروں کو روٹھنے نہ دو قدر کرو انکی اور منالو روٹھے ہوؤں کو اس سے پہے کہ وقت دغا دے جائے۔۔دنیا میں وقت کے ہاتھوں بری مار اور کوئی نہیں ہوتی دوستوں۔۔۔ابھی وقت ہے تو سنبھل جاؤ ایسا نہ ہو کہ پھر وقت پلٹنا بھول جائے اور تم سسکی گرد میں کہیں دور گم ہو جاؤ"۔۔۔"وقت کے بے لگام گھوڑے کو ہمیشہ آگے اسکے سر کے بالوںسے تھاموں پیچھے سے کھینچوگے تو وہ تمہیں اپنے پاؤں تلے کچل دیگا کیونکہ یہ وقت کسی کے لئے نہیں رکتا"۔۔۔۔(❤رخصتی کر دی گئی ۔۔۔😢اسکے رخصت ہوتے ہی بادلوں نے برسنا شروع کر دیا جیسے اج ہر شہ رو رہی تھی اس معصوم کی قسمت کی ستم ظریفی پر۔۔☔🔥😱پریشے اپنوں کی دعاؤں تلے سجاد ہاؤس سے رخصت ہو کر احمد ولا آگئی۔۔۔😓پریشے عباسی سے پریشے جہانزیب بن گئی۔۔😓اور جہانزیب احمد کے اندر سناٹوں کا راج تھا وہ اب تک قسمت کا کھیل نہیں سمجھ پایا تھا۔۔😞پریشے دل و جان سے اپنی اللہ کی مرضی پر راضی تھی.❤💗________$$$$___________$$$$__________لیکن کیا آزمائیشیں ختم ہو گئیں۔۔؟😑کیا زندگی میں اسے خوشیاں نصیب ہونگی۔۔؟؟😞کیا جہانزیب اسے سچے دل سے اپنائے گا۔۔؟💔یا مشکلوں کے اصل سفر کا آغاز ہی اب ہوگا۔۔؟😱۔۔۔۔۔۔جاری ہے دوستوں جاننے کے لئے اگلی قسط کا انتظار کریں۔۔۔۔۔۔😊آج کی قسط کیسی لگی اپنی خوبصورت رائے ضرور دیجئے گا پلیز۔۔۔۔😊#SimiWrites_________$$$$__________$$$$_________

No comments:
Post a Comment