Sunday, November 25, 2018

انا۔محبت اور آزمائش قسط 10

http://novelskhazana.blogspot.com/


#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۱۰#_plz_dont_copy_wdout_my_permissionﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺍﺑﮭﯽ ﻣﺼﻠﺤﺖ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽﺍﺑﮭﯽ ﭼﺸﻢ ﻧﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽﺍﺑﮭﯽ ﻧﻘﺶ ﭘﺎ ﮐﻮ ﺛﺒﺎﺕ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺍﺑﮭﯽ ﮔﺮﺩ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺍﮌﯼ ﻧﮩﯿﮟﺍﺑﮭﯽ ﮐﺮﭼﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮯ ﻧﮩﯿﮟﺍﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﺣﺴﯿﻦ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﺻﺒﺢ ﻧﻮ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﯾﮧ ﺳﻔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﭘﮧ ﺳﺮﺍﺏ ﮨﮯﯾﮩﺎﮞ ﺑﺪ ﮔﻤﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺭﺍﺝ ﮨﮯﯾﮩﺎﮞ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﺭﻭﺍﺝ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﮨﻮﺵ ﮐﮭﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻧﮩﯿﮟﺍﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻧﮩﯿﮟﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺍﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻧﮕﺮﯼ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﺩﻥ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﮨﮯﺍﺑﮭﯽ ﺑﮩﺮ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﺍُﺗَﺮﺍﺑﮭﯽ ﺷﮩﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎ__________$$$$__________$$$$_________عباسی ہاؤس دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا۔۔💐گھر میں بہت چہل پہل تھی۔۔شادی سادگی سے گھر میں ہی ہورہی تھی کیونکہ پریشے نےہال وغیرہ کا سختی سے منع کر دیا تھا دوسرا لڑکے والوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔پریشے نے لڑکے کو نہیں دیکھا تھا نہ لڑکے کی طرف سے اسے دیکھنے کی فرمائش آئی تھی ہاں پریشے کی تصویر لے کر گئے تھے وہ لوگ جس کے بعد شادی فکس کر دی گئی تھی۔۔😱پریشے کے دل میں کوئی خاص احساس نہیں تھے اسے صرف گھر کی بابا کی فکر تھی کہ وہ چلی جائگی اور اگر بعد میںجاب سے منع ہو گیا تو گھر کیسے چلیگا۔۔۔😰احد چھوٹا ہی تھا ابھی اسکا اور وانیہ کا انٹر کمپلیٹ ہوا تھا۔۔الینا اور سمرین ہر وقت اسے چھیڑتے تھے جس سے وہ بلش کرجاتی تھی آخر تھی تو لڑکی ہی اور اس نے اج تک اپنے دل میں کسی کو نہیں بسنے دیا تھا۔۔تاشفہ آنٹی سے اسکی بات ہوتی رہتی تھی اور وہ اسکی بارات والے دن آنے والی تھیں۔۔۔مسٹر اینڈ مسز احمد بھی اس سے مل کر گئے تھے اور شادی میں آنے کا واعدا سجاد صاحب نے لیا تھا ان سے۔۔مسز احمد کو کافی ملال تھا کہ پریشے جیسی لڑکی انکی بہو نہیں بنی لیکن وہ پھر بھی پریشے کی اچھی زندگی کے لئے دل سے دعاگو تھیں۔۔💟ماریہ نے بھی شادی کے فنکشن اٹینڈ کرنے کی حامی بھری تھی اسے مہندی کے فنکشنز کے بعد وہیں رکنا تھا سجاد ہاؤس میں۔۔۔سمینہ خالہ خوب برا کہتی رہتی تھیں پریشے کو۔۔اور سجاد صاحب کی بیماری کی وجہ سے اب ریحانہ بیگم بھی کچھ کم نہیں سناتی تھیں اسے۔۔۔لیکن وہ چپ کر کے صبر کے گھونٹ پیتی تھی اور احد وانی کو بھی بحث سے بعض رکھتی تھی ورنہ وہ دونوں ہمیشہ اسے ڈیفینڈ کرتے تھے💔آج وہ اپنے بابا کے پاس بیٹھی تھی تو وہ اس کا ہاتھ تھامرونے لگے۔۔😰مجھے معاف کر دینا میری بیٹی میں میں تمہیں شاید اتنے پیار سے نہیں رکھ سکا اور اگر سلطانہ ہوتی تو۔۔۔۔بات پوری نہیں ہونے دی پریشے نے اور انکے دونو ں ہاتھ چوم کر بولی بابا ایسے نہ بولیں پلیز مجھے آپ سے یا کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے اور آپ تو میرے ہیرو ہیں نا پھر ایسے نہ بولیں پلیز ورنہ بس میں کہیں نہیں جا رہی😐عینی اندر آتے ہوئے آخری بات سن کر بولی مانو یہ کیا بول رہی ہو ایسے نہیں بولتے نا اور بابا کو بھی رولا دیا تم نے😠آپی میں نے کہاں بابا نے مجھے رلایا ہے اور دیکھیں نا کیا کہہ رہے ہیں😨اتنے میں ریحانہ بیگم بھی وہیں آگئیں اور پریشے کو دیکھ کر انہیں غصہ آگیا😠تم یہاں کیا کر رہی ہو اپنا وہ سارا سامان سمیٹو جا کر جو رکھنا ہے رکھ لو ورنہ میں پھینک رہی ہوں۔۔پریشے: ٹھیک ہے ماما آپ پریشان نہ ہوں میں سمیٹ لونگی۔۔۔سجاد صاحب نے اسے پھر سے بوسہ دیا تو وہ لاڈ سے بولی بابا ایسے نہ کریں پلیز ورنہ بس پھر کردیں منا سب کو۔۔۔۔ہائے لڑکی ہوش کے ناخن لو کیسی بدفال بول رہی ہو اللہ اللہ کر کے سجاد صاحب مانے ہیں جاؤ اپنے گھر سکون سے اور ہمیں بھی رہنے دو شکر ہے انہیں کچھ خبر نہیں تمہارے تو ورنہ کام ہی۔۔۔😬سجاد صاحب: بس کرو بیگم۔۔ وہ غصے سے بولے😡پریشے نے انکا ہاتھ چوما اور کہا بابا غصہ نہ ہوں میں ابھی سامان سمیٹ کر آتی ہوں وہ نکل گئی کمرے سے تو سجاد صاحب غصے سے بولے ۔۔کیا بگاڑا ہے میری بیٹی نے تمہارا، جو اسے باتیں سناتی رہتی ہو، آج تک کبھی ماں کی طرح گلے نہیں لگایا، تمہاری وجہ سے سارا گھر وہ سنبھال رہی ہے، تمہاری وجہ سے کتنا کم بولتیہے، لیکن اج تک شکوہ نہیں کیا، ترس نہیں آتا تمہیں بچپن سے تمہارے پیار کو ترسی ہے میری بچی لیکن تم اور تمہاری وہ بد دماغ بہن۔۔ وہ ہنہ کرتے ہوئے ٹیکی کے سہارے کمرے سے باہر چلے گئے😤😱ریحانہ بیگم پھر سے پریشے کو سلوتوں سے نوازنے لگیں توعینی بولی ماما آپ کیوں ایسی ہیں مانو کے ساتھ اچھا نہیں کر رہی ہیں آپ کم سے کم یہ ہی سوچ لیتیں کے بابا نے مجھے کتنا پیار اور مان دیا۔۔وہ روتے ہوئے اتنا کہہ کر چلی گئی😢😨___________$$$$__________$$$$________ماں تیرے بعد ، بتا کون لبوں سے اپنے💟وقت رخصت میرے ماتھے پہ دعا لکھے گا😭__________$$$$___________$$$$________پریشے کمرہ بند کر کے بیڈ پر بیٹھی سلطانہ بیگم کی تصویر کو سینے سے لگائے ہوئے تھی اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے😢😢اس نے تصویر لبوں سے لگائی اور بولی ماما کاش اپ ہوتی تو میں آپکے سینے سے لگ کر روتی۔۔💔کاش اللہ جی آپ میری ماما کا تھوڑا سا پیار تو لکھ دیتے میرے لئے بھی۔۔کاش ریحانہ ماما کی مجھ سے ناراضگی ختم ہو جائے۔۔پتہ نہیں ماما کاشان اور انکے گھر والے کیسے ہونگے بابا کہتے ہیں اچھے ہیں وہ سب۔۔کاش میری آنے والی نئی زندگی اچھی ہو۔۔کاش۔۔ کاش۔۔ کاش۔۔ وہ تصویر سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی😭😭اسکی زندگی میں اتنے کاش تھے لیکن یہ تو پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ابھی اور کاش لگانے والا ہے۔۔جس شخص سے شادی ہورہی ہے وہ کون ہے کیسا ہے اس سے شادی کیوں کر رہا ہے ۔۔۔😱😱________$$$$________$$$$__________آنکھوں میں سما جاتے یا دل میں اتر جاتےدونوں کا بھلا ہوتا دونوں ہی سنور جاتےملتے تو یہ اچھا تھا جیون کی مصافت میںکچھ فاصلے کم ہوتے کچھ روز گزر جاتےدوری بھی غنیمت ہے اک آس تو ہے ورنہجو آس پہ جیتے ہیں وہ لوگ بکھر جاتےکچھ روز جدائی کے اس حال میں بھی گزرےہنستے ہوئے رو دیتے روتے ہوئے گر جاتےمنزل نہ ٹھکانا ہے اچھا ہے نہیں کچھ بھیرکتے تو کہاں رکتے جاتے تو کدھر جاتے💔💔________$$$$_________$$$$___________"زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ جب محسوس ہوتا ہے کہ زندگی میں سب سے مشکل احساس اپنے والدین کو بوڑھا اور بےبس ہوتے دیکھنا ہے !😢بڑھاپے کی جھریوں میں وہ ترو تازہ چہرے پہلے سے با ہمت نہیں دکھتے😓ان کو کمزور اور بےبس ہوتے دیکھ کے احساس ہوتا ہے کہ ہم ان کی ہمت طاقت اور جوانی کھا گئے ہیںاسی طرح زندگی کا گزرتا ہر دن کسی نئے احساس اور تازہ غم کو جنم دیتا ہے کچھ جا رہا ہوتا اور ہمیں اسے جانے دینا پڑتا ہے۔۔۔😥ہمارے ہاتھ سے وقت کی طرح اور بھی بہت کچھ سرکتا چلا جاتا ہے اور بس ہم جانے دینے کے سوا کچھ کر نہیں سکتے۔۔۔😧لیکن بہت کچھ ایسا بھی ہے جو ہمارے بس میں کسی نا کسی حد تک رہتا ہے ہم چاہیں تو روک سکتے ہیں ہم چاہیں تو بچا سکتے ہیں اور بچا لینے کی کوشش بھی تو بچا لینا ہی ہوتا ہے نا۔۔۔میں نے اکثر لوگوں کے منہ پر جانے والوں کے لیے آہ دیکھی ہے کاش سنا ہے۔۔۔۔کہ کاش وہ گیا ہوا وقت لوٹے نا لوٹے گیا ہوا شخص لوٹ آۓ۔۔۔😢پر زندگی کی حقیقت جھٹلائ یا چھپائ نہیں جا سکتی۔۔۔جانے والے لوٹا نہیں کرتے۔۔۔😭زندگی کو موت کے آگے ہارتے دیکھا ہے پر خدارا محبت کو نفرت کے آگے ہارنے سے بچائیں یا بچانے کی کوشش ہی کریں۔۔۔🙏میری سوچ کہتی ہے کہ جیسے خون میں سفید اور لال خلیے ہوتے ہیں جو الگ الگ فنکشنز کے حامل اپنا اپنا کام سر انجام دیتے ہوۓ خون کے ساتھ پورے جسم میں گردش کرتے ہیں ایسے ہی محبت اورنفرت دو ایسے جزبات ہیں جو ہمارے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں گردش کرتے ہیں۔۔۔۔جس سے محبت ہو اسے دیکھتے اُسے پاتے ہی ہمارا جسم سکون کی انتہا کو جاتا ہے۔۔۔💖اب یہ محبت چاہے کسی انسان سے ہو یا کسی جانور سے یا بے جان چیز سے۔۔۔محبت کے مثبت اثرات ہماری زندگی کو مثبت بناۓ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ہم خوشی غمی میں بھی خود کو تب ہی با ہمت محسوس کرتے ہیں جب ہماری محبتوں کا حصار ہمیں گھیرے ہوۓ رہتا ہے۔۔۔😥اسی طرح نفرت کے منفی اثرات ہوتے ہیں جو کہ ہمیں خود اپنے کندھوں پر بوجھ کی طرح ہی محسوس ہوتے ہیں۔۔۔😓شعوری اور لاشعوری طور پر کی جانے والی نفرت بھی آگ🔥کی طرح ہوتی ہے جس میں ہم اپنے جسم کے مثبت اثرات کو جلاتے رہتے ہیں اور پھر نفرت اس حد تک ہم پر منفی اثرات ڈالتی ہے کہ ہم نفرت کیئے جانے والوں سے وابستہ لوگوں سے بھی کراہنے لگتے ہیں۔۔۔😰جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاۓ کہ کوئی نا پسندیدہ شخص ہے تو اس کی اولاد یا گھر والوں سے بھی نا پسندیدگی ہونے لگتی ہے جو کہ ایک فطری عمل سمجھا جاتا ہے۔۔۔جب کے یہ فطری عمل نہیں ہے یہ وہ منفی اثرات ہیں جو ہمارے اندر کے مثبت اثرات کو کھاۓ جانے کا یا ان پر حاوی ہونے کا نتیجہ بن کر سامنے آتے ہیں اور ہم لوگ اسے نظر انداز کیے رہتے ہیں۔۔۔۔😫پھر کہوں گی خدارا اپنے اندر ان منفی اثرات کو ختم کر کے محبتوں کو مرنے سے بچائیں۔۔۔😟😭روکیں اپنے پیاروں کو دور جانے سے۔۔۔۔😰😭پوچھیں ان سے جن کے پیارے بچھڑے ہوۓ ہیں۔۔۔۔اس سے بڑا کوئی غم نہیں ہے اس سے بڑا کوئی دُکھ نہیں ہے😭😭یقیناََ بیان ہی نہیں کیا جا سکتا وہ دکھ جو کسی کے بچھڑ جانےپر جھیلنا پڑتا ہے کیونکہ کچھ احساسات کو زبان نہیں دی جا سکتی۔۔😭😧کچھ تاثرات لکھے نہیں جا سکتے۔۔۔کچھ احساسات کی قسمت میں دل کی زمین پر قطرہ قطرہ بن کرگرنا لکھا ہوتا ہے۔۔۔😨😩کچھ احساس زیاں مٹائے نہیں جا سکتے۔۔۔میں آج بھی اپنے بابا کا خود سے بچھڑنا نہیں بھولی۔۔😭مجھے آج بھی وہ اپنی زندگی کا بدترین دن یاد ہے جب میرے بابا چلے گئے تھے۔۔😨😭میں وہ احساس اور جذبات بیان ہی نہیں کر سکتی۔۔کہ کیسے میری زندگی خالی ہو گئی میرا سائبان چلا گیا تو کیسے میرے سر سے چھت چھن گئی۔۔😭😭اور کچھ دکھ سب کے سانجھے ہوتے ہیں گونگے بہرے دکھ۔۔۔😧😧اس سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا وہ روتی جا رہی تھی ۔ہال میں سناٹا تھا لیکن سب کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔۔😢😢وہ درس کے آخر میں ضرور کوئی نصیحت کرتی تھی۔۔آج رشتوں کی نفرت اور محبت پہ بات کی تو جیسے اسکی زندگی اسکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چل رہی تھی۔۔۔😦بس اب اتنا کہونگی کہ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔۔😳اس زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔۔۔پل میں جان نکل جاتی ہے اور سب یہیں رہ جاتا ہے"خیر اب اجازت چاہونگی آپ سے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر۔۔💔😨😭😭😭رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا۔۔۔ اللھم ربنا آمین___________$$$$________$$$$________سینٹر سے گھر آئی اور پریشے نے پانی پیا پھر کمرے میں آکر فریش ہوئی اور چائے بنا کر لائی۔۔وہ بہت اداس تھی آج۔۔😢اسے بابا جہانزیب اور سب گھر والوں کی یاد آرہی تھی۔۔خاص کر جہانزیب۔۔💔سردیاں پھر آنے کو تھیں اور پریشے کو بہت سردی لگتی تھی وہ ابھی بھی شال لئے کھڑکی میں کھڑی باہر لان میں کھلے خوبصورت پھول دیکھ رہی تھی۔۔پھر خود سے بولی آسمان کو دیکھتے ہوئے۔۔تو دو دن بعد چھ سال ہو جائیں گے جہانزیب لیکن لاکھ کوشش کے بعد بھی آپکے دل میں جگہ نہیں بنا سکی میں واقعی منہوس ہوں سمینہ خالہ اور ریحانہ ماما ٹھیک کہتی ہیں۔۔۔😥اس نے یادوں سے تنگ آکر اسٹیریو آن کیا جس پر چلتی غزل درد کی شدت کو مزید بڑھا گئی۔۔۔💔"میں وہ کس طرح سے کروں بیاںجو کئیے گئے ہیں ستم یہاںسنے کون میری یہ داستاںکوئی ہم نشیں ہے ناراضداں،😰دل سے آہ نکلی اور وہ بولی جہانزیب😧جو تھا جھوٹ وہ بنا سچ یہاںنہیں کھولی میں نے مگر زباں،اسے خود پر لگے سب الزام یاد آرہے تھے۔۔اسے جہانزیب کا تھپڑ اور نفرت بھرا انداز تڑپا رہا تھایہ اداسیاں،،😨یہ اکیلا پن،،😰میری زندگی کی ہیں ترجماں😭😭بابا ماما۔۔ آہ۔ہ۔ہ۔۔۔وہ سر تھام کر بولیاللہ کیوں یہ شخص نہیں نکلتا میرے دل سے۔۔۔😱میری ذات ذرہ بے نشاں،،میری ذات ذرہ بے نشاں"۔۔۔۔😭😭وہ جنونی سی ہو رہی تھی غصے سے اسٹیریو بند کیا ۔۔۔اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔کلون کی شیشیاں بھری پڑیں تھیں وہ وہی برانڈ کی تھیں جو جہانزیب استعمال کرتا تھا۔۔۔💔پریشے صرف خریدا کرتی تھی انہیں اکثر شوقیہ آمنہ لگایا کرتی تھی کبھی کبھی۔۔۔خلوص عشق کبھی رائیگاں نہیں جاتا_____!!میں کیسے مان لوں تجھے میرا خیال نہیں آتا...♡♡اس نے پھینک دیں ساری بوتلیں جس سے فضا معطر ہوگئی ہر طرف بھینی بھینی مہک پھیل گئی اور وہ اسے اور یاد آنے لگا۔۔۔وہ چیخ کر بولی کیوں تمہاری یادیں پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں کیوں۔😰اللہ جی آپ میری سزا میں کمی کردیں پلیز۔۔😭اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا ڈپریشن بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔😱😱وہ نیچے بیٹھ گئی۔۔۔آمنہ آنٹی کے ساتھ بازار گئی تھی کچھ سامان اور پریشے کی میڈیسن لینے۔۔وہ اور تاشفہ آنٹی آئیں جیسے ہی پریشے کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہاں کے منظر سے دونوں دنگ رہ گئیں😵پریشے پریشے میری بچی یہ کیا حال بنا رکھا ہے۔۔آمنہ اسکی میڈیسن اور پانی لاؤ۔۔تاشفہ آنٹی دونوں سے ایک ساتھ بولیں اور پریشے کے پاس پہنچیں اسے وہاں سے سہارے سے اٹھا کر بیڈ پر لے آئیں۔۔اور چہرا تھام کر بولیں کیا ہوا ہے یہ سب کیا ہے میری جان۔۔۔؟؟😱😰😨آمنہ جلدی سے ڈپریشن والی ٹیبلیٹ اور پانی لے آئی اس نے تین گولیاں کھائیں اور پھر تیز تیز سانس لینے لگی آمنہ نے الینا کو کال بھی کر دی تھی۔۔۔آپی ٹھیک ہیں آپ۔۔ نہیں تو چلیں الینا آپی کے پاس۔۔ آمنہ تشویش سے بولی۔۔😨پریشے نے سرخ سوجھی آنکھوں سے اسے دیکھا پھر تاشفہ آنٹی سے لگ کر رودی😭😭میں کیا کروں وہ نہیں بھولتے مجھ سے آنٹی اللہ نے نہیں کیا نامجھے معاف ۔۔۔آمنہ بھی وہیں بیٹھ گئی اور تاشفہ آنٹی اسے بہلانے لگیں جو کبھی کبھی ڈپریشن کی حالت میں پاگل سی ہو جاتی تھی۔۔😱آنٹی دو۔۔ دو دن بعد چھ سال ہو جائیں گے لیکن یہ دن صرف مجھے ہی کیوں یاد رہتا ہے وہ۔۔ وہ تو نہیں یاد کرتے مجھے میں میں اس قابل ہی نہیں کیوں کہ میں تو بہت بری ہوں نا۔۔۔😢وہ روتے ہوئے بےحال سی ہورہی تھی اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں درد کی وجہ سے وہ اپنے بال نوچ رہی تھی۔۔۔😨الینا نے آکر اسے جلدی سے انجیکشن لگایا جس سے کچھ دیر میں روتے روتے وہ پرسکون نیند سو گئی۔۔اور الینا بہت دیر وہاں بیٹھی اپنی دوست کی قسمت اور حالت پر آنسو بہاتی رہی آمنہ اور آنٹی بھی رو ہی رہی تھیں .😱😭😭__________$$$$________$$$$__________ہزاروں نہ مکمل حسرتوں کے بوجھ تلے🔥🔥یہ جو دل دھڑکتا ہے کمال کرتا ہے💔💔_________$$$$__________$$$$_________جہانزیب نے بہت ڈھونڈا لیکن پریشے کا کہیں نام و نشان نہیں مل رہا تھا۔۔وہ روز آفس جاتا اور پھر جگہ جگہ پریشے کا پتہ کرتا تھا اور شام کو تھکا ہارا گھر اتا لیکن اپنی بیٹی سحرش کو دیکھ کرڈاری تھکن بھول کر اسے گود میں لئے کمرے میں چلا جاتا اورگھنٹوں اسکے ساتھ کھیلتا۔۔💟ایک ماہ کی بیٹی باپ سے بہت مانوس ہو گئی تھی۔۔جہانزیب کے بھی وہ جینے کی وجہ تھی جیسے💞بابا کی جان کیسی ہے وہ اسے چوم کر بولا جب فاطمہ بیگم آئیں اور بولیں بیٹا لاو دو اسے مجھے وہ فری آئی ہے بلا رہی ہے سحرش کو۔۔جہانزیب نے ماں کو دیکھا اور بولا پرنسس نے مجھے معاف نہیں کیا نا۔۔😓نہیں بیٹے ایسی بات نہیں ہے۔۔ وہ نظریں چرا کر بولیں۔۔کوئی بات نہیں ماما میں اسی قابل ہوں لیکن میں کیا کروں وہ نہیں مل رہی مجھے۔۔ وہ رونے کے سے انداز بیٹی کو سینے سےلگائے بولا.😥فاطمہ بیگم نے اسے پیار کیا اور بولیں اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا😓جہانزیب چپ چاپ کمرے سے نکل کر لاونج کی طرف بڑھا رستے میں عمر ماموں ماموں چیختا ہوا اسکی ٹانگوں سے لپٹ گیا😍وہ ابھی ایک سال کا ہونے والا تھا اور پریشے کو گئے بھی اتنا ہی ٹائم گزرا تھا😧جہانزیب نے دوسرے بازو میں اسے اٹھالیا اور پیار کرتے ہوئے بولاکیسا ہے میرا چیمپ؟؟😃عمر ابھی بہت کم الفاظ بولتا تھا لیکن وہ دیکھنے میں بالکل احد کی کاپی تھا❣جہانزیب لاؤنج میں آیا اور عمر کو گود سے اتارا فاطمہ بیگم پیچھے ہی آرہی تھیں تو اس نے سحرش کو پیار کیا اور ماما کی گود میں دیا💖فری نے سلام کیا اور سحرش کی طرف بڑھی۔۔جہانزیب نے اسکا ہاتھ تھام کر سامنے کیا اور بولا پرنسس بھائی کو معاف نہیں کر سکتیں۔۔۔؟؟؟😓فری: بھابی جس دن آگئیں میں آپکو معاف کر دونگی۔۔وہ چہرا موڑ کر بولی کیونکہ بھائی کو تکلیف میں کیسے دیکھتی لیکن بھابی کی تکلیفیں نہیں بھول سکتی تھی وہ😥پرنسس بھائی کو معاف کردو کیا پتہ میرا اللہ بھی معاف کردےاور پریشے مل جائے😧نہیں ہوگا بھائی وہ تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔کہاں تھے اپ اس وقت جب مجھے بلکہ ہم سب کو آپکی ضرورت تھی۔۔کوئی نہیں تھا سوائے بھابی کہ انہوں نے سنبھالا ہمیں بابا کے بزنس کو ۔۔میری تو انہوں نے بھائی عزت تک بچائی ہے اور خود وہ مصیبت میں پڑ گئیں لیکن لیکن آپ نہیں آئے۔۔😭😭احد نے ایک دن کیا ایک پل کے لئے مجھے احساس نہیں دلایا کہ وہ اس وقت آپکی وجہ سے یہاں نہیں ہیں کبھی نہیں کہا کہ وہ ہمارے گھر بہت تکلیفوں میں تھیں😰بھابی نے بھی کوئی شکوہ نہیں کیا تھا کبھی اب میں کیسے بھول جاؤں سب بھائی کیسے۔۔میری نظروں کے سامنے سے انکا چہرا جاتا ہی نہیں ہے۔۔کیسے وہ دیر رات تک کام کرتی تھیں کیسے کبھی کبھی بنا کھائے ٹیبل پر سر رکھے سوئی ہوتی تھیں کیسے وہ۔۔ وہ آپکا کوٹ تھامے صوفے پر سوتیں تھیں میں نہیں کر سکتی آپکو معاف میں تو احد سے نظریں نہیں ملا سکتی جب کہ وہ کچھنہیں کہتے ہیں مجھے بہت مان دیتے ہیں لیکن یہ مان میں کیسے لے لوں جو میرا بھائی انکی بہن کو نہیں دے سکا۔۔۔💔😭😭وہ بے تحاشہ رو رہی تھی اور دل کی ہر بات کہہ رہی تھی😭فاطمہ بیگم بھی رو رہی تھیں اور جہانزیب سکتے میں تھا بہت مشکل سے خود پر ضبط کئیے ہوئے شاہزیب صاحب کے ساتھ اندر آتا احد بھی وہیں رک گیا تھا۔۔شاہزیب صاحب بھی افسردہ ہی رہتے تھے😟اسکا دل بھی رو رہا تھا لیکن وہ کیا کرتا کیسے اپنی آپی کو لاتا کہیں سے۔۔😭😭😭احد نے آکر فری کو چپ کرایا اور بولا بھائی کو معاف کردو فری تم تو آپی سے بہت پیار کرتی ہو نا پھر مان لو انکی بات اور کردو معاف مجھے تم سے کیا کسی سے بھی کوئی شکایت نہیں ہے مت رو ایسے آپی کو پتہ چلیگا تو وہ مجھ سے خفا ہونگی۔۔ وہ دھیرے مگر ٹوٹے لہجے میں بول رہا تھا💔😧جہانزیب کیا کسی میں ہمت نہیں تھی کچھ کہنے کی۔۔فری نے روتے ہوئے کہا میں نے معاف کیا بھائی آپ کو میں نے معاف کیا صرف بھابی کی خاطر۔۔۔احد گھر لے چلیں اب نہیں رکا جائیگا۔۔۔وہ سحرش کو گود میں لے کر بولی۔۔😢ماما سحرش کو لے جا رہی ہوں کل لے آؤنگی۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو جہانزیب اپنے دل کے ٹکڑے اپنی سانسوں کی وجہ کو اپنی سحرش کو لے جانے نہیں دیتا۔۔لیکن ابھی اس نے سحرش اور فری کو خود سے لگاکر پیار کیا اور کمرے میں چلا گیا😦سب اسے دیکھتے رہ گئے۔۔۔ جو خود کہیں سے ٹھیک نہیں لگتا تھا😱😨جہانزیب کمرے میں آکر ضبط کھو دیا اور بولا یا اللہ رحم مالک بس ایک بار ملادے میں کبھی نہیں رونے دونگا اسے میں میں بہت پیار دونگا مولا مجھے معاف کردے۔۔۔😭😭_________$$$$________$$$$___________-مجھے معلوم ہے تم خوش بہت ہو جدائی سے..😊-اب خیال رکھنا اپنا تمہیں تم جیسا نہ کوئی مل جاۓ...💔_______$$$$___________$$$$__________شاہزیب صاحب بیٹے کی شادی کے لئے کوشاں تھے اور فاطمہ بیگم بھی لڑکیاں دیکھ رہیں تھیں جہانزیب نے کہہ دیا تھا جس کو پسند کرنا ہے کرلیں بس شو آف اور ماڈرن لڑکی نہ ہو باقی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔وہ تو لڑکیوں کی تصویر بھی نہیں دیکھتا تھا بس بزنسمیں خود کو الجھائے رکھتا تھا۔۔۔😰جہانزیب لاہور میں بزنس سیٹ کرنے میں بہت بزی تھا۔۔دوسری طرف پریشے کی شادی کی خبر اسے سکون سے نہیں رہنے دیتی تھی اور وہ غصے میں سگریٹ پیتا رہتا تھا۔۔۔😱جہانزیب کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور وہ خود کو تسلی دیتا تھا کہ وہ تو پریشے سے نفرت کرتا ہے اب وہ کسی سے بھی شادی کرے اسے فرق نہیں پڑتا۔۔💔💔آج ہی اسے پتہ چلا تھا کہ کل اسکی مہندی ہے۔۔۔کیونکہ ماریہ پریشے کے گھر آگئی تھی۔۔پریشے میں بھی دیکھنا تمہیں خوش رہ کر دکھاونگا تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ میں کبھی معاف نہیں کرونگا تمہیں تم تم تو ویسے بھی میرے لائق نہیں ہو ہنہ۔۔ وہ نخوت سے سر جھٹکتا سگریٹ بجھا کر گھر کے لئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔😵😵دوسری طرف امان تلملا رہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے جو پریشے کی شادی اس سے ہو اسے لندن سے پاکستان کی فلائٹ پریشے کی شادی والے دن کی ملی تھی جس پر وہ سخت جھنجلایا ہوا تھا۔۔۔😱کچھ تو کرنا ہی ہو گا امان سوچ جلدی ورنہ دیر ہو جائے گی۔۔بالآخر کسی سوچ کے تحت اسکی آنکھیں چمکیں اور وہ چٹکی بجا کر بولا یس😬پریشے تیار ہو جاؤ آرہا ہوں میں۔۔شادی تو تمہاری مجھ سے ہی ہوگی ورنہ۔۔۔😨وہ بری طرح قہقہے لگانے لگا اپنے کسی بے حدا پلان کو سوچکر۔۔۔۔۔😵😱😰😨________$$$$_________$$$$_________۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔پریشے اور کاشان کی شادی کی تیاری کریں ریڈرس۔امان کیا کرنے والا ہے اب.😱😱جانئیے اگلی قسط میں۔۔آج کی قسط کیسی لگی آپکی رائے کا انتظار رہے گا۔۔#SimiWrites__________$$$$___________$$$$_______

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/