http://novelskhazana.blogspot.com/
#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۹#_plz_dont_copy_wdout_my_permissionاگر وہ آئے میرے جنازے پہاور پوچھے میری موت کی وجہ😢تو کہہ دینا کھوئی تھی تیری یاد میںاتنا کہ سانس لینا________بھول گئی...!!💔__________$$$$__________$$$$_________پریشے کا آج بار بار سر درد کر رہا تھا لیکن وہ اگنور کر رہی تھی اسے کسی پل سکون میسر نہیں تھا😦آج وہ سینٹر بھی نہیں گئی تھی۔۔وہ جانے کتنی دیر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی کھڑکی سے نظر آتے آسمان کو گھورتی رہتی اگر دروازہ دھڑام سے کھول کرسمرین اور الینا نہ آجاتی۔۔😵وہ ڈر کر مڑی اور ان دونوں کو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھتی ہوئی اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا😌پھر گھور کر بولی تم دونوں انسانوں کی طرح نہیں آسکتی تھیں ابھی میرا ہارٹ فیل ہوجاتا😠وہ دونوں اس سے ایک ساتھ گلے ملیں اور سمرین ہستے ہوئے بولی اوہ وینا۔۔۔😘پھر الگ ہوئیں اور الینا بولی کیسی ہو تمہاری طبیعت کیسی ہے تم میری بات مانتی کیوں نہیں ہو۔۔۔😐پریشے انکے ساتھ ہی بیٹھی اور بولی ارے میں ٹھیک ہوں تم سناؤ اور یہ بتاؤ رخصتی کب ہو رہی ہے صائم بھائی کی مان لو یار اب ان پر رحم کھاؤ😂اسکے معانی خیزی سے کہنے پر الینا جھینپ گئی اور وہ دونوں مل کر ہنسنے لگیں😏😏ہمم امی پاپا آرہے اگلے ہفتے صائم کے بس سادگی سے فنکشن کرینگے تم آوگی نہ پریشے۔۔؟؟ہاں میری جان ضرور۔۔۔اچھا تمہیں پتہ ہے وینا دیکھو یار عمر کتنا شرارتی ہوگیا ہے فری گھنچکر بنا دیا ہے اس نے۔۔سمرین وڈیو دکھاتے ہوئے بولی😁پریشے نے دیکھا اور پھر سب کی تصویریں بھی تھیں فون میں عینی اپی کے بیٹا بیٹی ہادی اور حورین کہیں وانیاور احد ،، مسکراتے مسکراتے اسکی انکھیں چھلک گئیں اس نے انکو دعا دی اور فون واپس کر دیا😓سمرین اور الینا بھی اداس ہوئیں پھر الینا اسے گلے لگا کر بولی یار وہ تم ہسپتال آؤ نہ صائم بھی کہہ رہےتھے پلیز۔۔۔😞اچھا بھئی آؤنگی ابھی چلو کچھ کھاتے ہیں اور سمرین جنید بھائی بھی ائیں ہیں نا۔۔؟؟ہاں ماما کے پاس گئے ہیں سینٹر انہیں لے کر ائیں گے۔۔۔اچھا ٹھیک ہے پھر تھوڑا انتظار کرتے ہیں ساتھ کھائینگے آمنہ بھی اجائے گی۔۔۔۔۔۔💞اتنے میں آمنہ آگئی اور ان سے مل کر بولی۔۔الینا آپی مجھے آپکو نا انکی شکایت کرنی ہیں یہ میڈیسن کھانے میں نخرے کرتی ہیں بہت وہ پریشے کو ٹیبلیٹ دیتے ہوئے بولی۔۔😒پریشے نے ہنستے ہوئے گولی نگلی اور بولی کھا تو لیتی ہوں یارر۔۔😏الینا: کیا مسئلہ ہے تمہارا سمجھ نہیں اتی ایک بار کہ یہ لینا ضروری ہیں😠سمرین: تم کب تک انکے سہارے چلوگی بات مان لو ہماری اور چلو۔۔۔😟پریشے: نہیں جانا مجھے کہیں بھی اور موت آنے تک ان سے گزارا کرلونگی ویسے بھی اب مزید کچھ بھی سہنے کی ہمت نہیں😢😢وہ تینوں اس سے لپٹ کر رو دی😭سمرین: پلیز ایسے نہیں بولا کرو😭الینا: ہاں یار ہم تمہیں نہیں کھونا چاہتے اور اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو.😭آمنہ: میں کیسے رہونگی آپ کے بنا آپی کیوں کہا آپ نے ایسامیرا تو تاشفہ آنٹی اور آپکے علاوہ کوئی ہے بھی نہیں😭پریشے نے خود کو سنبھالا اور بات بدلتے ہوئے بولی ارے چھوڑو مجھے تم لوگ ماروگی کیا ابھی تو زندہ ہوں😒😒وہ تینوں الگ ہو کر اسے گھورنے لگیں😠😠بس کرو ایسے دیکھ رہی ہو تم لوگ جیسے کھاؤ گی😓اور پھر تینوں کے ہنسنے لگیں😢😂😂_________$$$$__________$$$$________شام کے سرمئی اندھیروں میں یوں،میرے دل کے داغ جلتے ہیں،🔥جیسے پربت کے سبز پیڑوں پر،🌴🌲برف کے بعد دھوپ پڑتی ہے۔۔🌈🌞جیسے صحرا کی ریت اڑ اڑ کراجنبی کا طواف کرتی ہے۔۔💟دور رہ کر جو دل میں رہتا ہے وہ،ستم کر کے بھی غیر کہتا ہے،😢کتنی معصوم آرزوؤں کو ،اس طرح لوگ توڑ جاتے ہیں،جیسے دم توڑتے مسافر کوقافلے والے چھوڑ جاتے ہیں۔۔😭آہیں بھرتی ہوں،اشک پیتی ہوں،😢روز مرتی ہوں،پھر بھی جیتی ہوں،تیری یادوں کی تشنگی اب تک،یوں میرے دل کو تھام لیتی ہے،💖جیسے اک تازہ قبر پر بیوہمرنے والے کا نام لیتی ہے۔۔😭😭شام کے سرمئی اندھیروں میں...........💔__________$$$$__________$$$$_________الوداعی تقریب میں سب جہاں خوش تھے وہیں اداس بھی تھےکہ پھر یہاں سے جانے کے بعد کون کہاں ہو گا کسے پتہ۔۔۔😢مریم اور سمرین نے زبردستی پریشے سے سونگ گانے کو کہا تھا جو بہت منتوں کے بعد وہ مان گئی تھی اور اس نے کہا تھا وہ اسٹیج پر نہیں جائیگی تاکہ اسکی پکچر یا مووینہ بنے۔۔😐شہزاد کو ماریہ نے کہا تو اس نے کچھ سوچا پہلے پھر پریشے کو اسٹیج سے نیچے ہی ایک کرسی پر بٹھایا اور مائک تھما دیا تاکہ وہ وہیں گالے😇پریشے نے فاخر کا سونگ گایا تھا۔۔۔کاش ہم جدا نہ ہوتے۔۔کبھی الوداع نہ کہتے۔۔چاہا نہیں تھا پھر بھی پڑا۔۔ہم کو جانا۔۔۔۔تم ہم کو یاد رکھنا۔۔کبھی دل سے نہ بھلانا۔۔ہم پاس ہوں یا نہ ہوں۔۔ہمیں پیار سے بلانا۔۔۔💖💖جہانزیب کو تو ہمیشہ اسکی آواز کسی سحر میں لے جاتی تھی💟اور آج بھی وہ اسے بنا پلک جھپکائے دیکھ رہا تھا جیسے اخری بار دیکھ رہا ہو۔۔😍جیسے آنکھ جھپکی تو وہ غائب ہو جائیگی۔۔💔اسکا سحر زدہ انداز امان نے اچھے سے نوٹ کیا تھا وہ فورن آیااور بولا واہ بھئی اسے تو اب تک یاد ہے یہ گانا😠جہانزیب چونکا اور بولا اس میں کیا بڑی بات ہے یہ سونگ توکسی کو بھی یاد ہو سکتا ہے ۔۔😏مجھے بھی ہے اور پریشے لو سنگنگ سو اسے تو بہت سے سونگ ہیں یاد۔۔ وہ امان کو تھوڑا ناگواری سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔😒😒امان: ہاں ہاں لیکن یار یہ اس نے کالج فئیرویل میں بھی گایا تھا وہ بھی زیب کے لئے۔۔😵جہانزیب: اچھا مجھے کام ہے کچھ میں جا رہا ہوں ویسے بھی مجھے کیا لینا وہ کسی کے لئے بھی گائے اور تم بھی اپنے کام پر دھیان دو تو بہتر ہے ہر وقت دوسروں کے پیچھے نہیں لگے رہتے۔۔ وہ سخت اور اکھڑ انداز میں کہتا آگے بڑھ گیا.😒😒امان مسکرایا ہنہ تیری مانوگا میں۔۔ اس پریشے کا کام تمام نہکیا تو میرا نام بھی امان راؤ نہیں اسکو حاصل کر کے رہونگا میں۔۔😈😵___________$$$$__________$$$$________دلِ بے خبر ترے ہاتھ سے مرے سب قرار چلے گئےوہ جو رنج و غم سے تھے آشنا ، وہی غم گسار چلے گئےوہ جو چند ایک تھیں رونقیں، سبھی دم قدم سے انہی کے تھیںمری زیست کے تھے جو رہنما ۔ مرے راز دار چلے گئےمری زندگی میں تھے راہزن ، مری موت پر ہوئے نوحہ کنمری ہر گھڑی کا جو ساتھ تھے ۔ وہی سوگوار چلے گئےکسی جا تو دل کو سکون ہو ، سنبھل اے مرے دلِ ناتواںوہ جو کوئے جان کا نور تھے ۔۔۔۔ کہیں چاند پار چلے گئےیہی آرزو رہی عمر بھر کہ کبھی تو لوٹ کے آ سکیںمجھے چھوڑ کر ، مجھے توڑ کر وہ جو بے شمار چلے گئے________$$$$___________$$$$__________جہانزیب کو اپنی ہر کوشش رائیگاں لگ رہی تھی وہ ٹوٹ رہا بکھر رہا تھا پریشے کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا اسے لگ رہا تھا اگر وہ نہ ملی تو وہ مر جائیگا شاید اج وہ پریشے کو پریشے کی طرح چاہتا تھا وہ اس سے محبت کا اعتراف کر چکا تھا لیکن اب اسکے بنا جینا بے مقصد سمجھ رہا تھا😟😟فاطمہ بیگم کیچن میں تھیں جب وہ گھر میں داخل ہوا اور تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر ڈھے گیا۔۔اکلوتے بیٹے سے محبت تو تھی نہ آخر ماں تھیں تڑپ گئیں اسکو اس طرح دیکھ کر😞😞فورن جوس کا گلاس لئے اسکے پاس آئیں جو آنکھیں موندے سر دبا رہا تھا۔۔بیٹے لو پی لو اچھا محسوس کروگے.💟کتنے دن بعد ماں کی پکار سنی تھی وہ بلکل ساکت ہو گیا اور آنکھیں بھی نہیں کھولیں کہ کہیں یہ خواب ہوا اور ٹوٹ گیا تو۔۔😞فاطمہ بیگم نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں ۔۔۔اسکی سرخ آنکھیں اور مرجھایا چہرا انہیں مارے ڈال رہا تھا😧وہ گلاس ٹیبل پہ رکھتی اس سے پہلے جہانزیب وہ گلاس لے کر لبوں سے لگا گیا😔فاطمہ بیگم اسکے پاس ہی بیٹھ گئیں وہ گلاس خالی کر کے انکی طرف متوجہ ہوا اور بولا ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں ماما؟؟😧دیکھ رہی ہوں کہ اپنی مرضی کرنے کے بعد لوگ کیسے نظر آتے ہیں۔۔جہانزیب چہرا جھکا گیا۔۔ماما مجھے معاف کردیں۔۔بیٹے تمہیں پریشے کے کہنے پر کب کا معاف کر دیا۔۔جہانزیب انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تو اس کے اندر اسے سکون اترتا محسوس ہوا💟ماما وہ نہیں مل رہی😓کون بیٹے۔ وہ انجان بنتے ہوئے بولیں۔۔😓ماما اپ جانتی ہیں کس کی بات کر رہا ہوں۔۔نہیں بیٹے مجھے صرف صاف بات ہی سمجھ آتی ہے۔۔ وہ اس کے اندر کی گھٹن ختم کرنا چاہتی تھیں ماں تو جان لیتی ہے نہ اندر کا حال۔۔😢ماما بہت ڈھونڈا ہے سمجھ نہیں ارہا کیا کروں ۔۔ وہ ایک بار مل جائے بس واعدہ کرتا ہوں کبھی کہیں نہیں جانے دونگا ماما میں اس سے معافی مانگ لونگا جی۔۔جیسا کہے گی ویسا کرونگا بس وہ آجائے ۔۔😖کیوں جہانزیب اب کیوں کیا کم ظلم کئیے ہیں بخی پر جو پھر سے لاؤگے اسے وہ کتنا ترسی ہے تمہاری ایک نظر کے لئے ۔۔ماما پلیز کچھ کریں مجھے کسی پل سکون نہیں ہے ہر جگہ یہاں اسی کی اواز اتی ہے میں کئی راتیں ہو گئیں سو نہیں سکا ماما مجھے لگتا ہے میں پاگل ہو جاونگا😲😧جہانزیب کا عجیب جنونی انداز فاطمہ بیگم کو اندر تک دہلا گیا وہ اسکا ماتھا چوم کر بولیں اب صبر کرو میری جان اللہ چاہے گا تو ہی ملے گی وہ بس جہاں ہو محفوظ ہو بہت معصوم اور صاف دل لڑکی تھی پتہ نہیں کس حال میں ہوگی۔۔😢جہانزیب نے انکے انسو صاف کئیے اور ہاتھ تھام کر بولا ماما دیکھنا آپ میں اسے ضرور ڈھونڈ لاونگا وہ بالکل ٹھیک ہوگی مجھے پتہ ہے😧😧فاطمہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں💞اتنے دنوں بعد سکون میسر تھا جہانزیب سو گیا انکی گود میں ہی سر دھرے۔۔۔فاطمہ بیگم اللہ سے دعائیں کرنے لگیں اپنے بچوں کی خوشیوں کی خاطر اور پریشے کی واپسی بہت ضروری لگی انہیں۔۔😞شاہزیب صاحب سب سن چکے تھے وہ واپس کمرے مئں چلے گئے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ انکا ضبط جواب دے جائے جوان بیٹا اس حال میں ہو تو ماں باپ کا تو کلیجہ منہ کو آئے گا ہی۔۔۔لیکن وہ پریشے کے منتظر تھے بس۔۔سجاد مجھے معاف کر دینا میں نہیں سنبھال سکا تمہاری بیٹی کو نہ جانے کہاں ہے وہ بچی میں تھک رہا ہوں میرے مالک رحم فرما۔۔😢😢__________$$$$_________$$$$__________اسکے لہجے میں مقیٌد تھی بلا کی ٹھنڈکلفظ سارے تھے مگر جی کو جلانے والے...!!__________$$$$__________$$$$________یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد سب ہی اپنی لائف میں بزی ہو گئے تھے۔۔امان کچھ وقت کے لئے لندن چلا گیا تھا😑پریشے جاب کنٹینیو رکھتے ہوئے صبح سے جانے لگی اسکی سیلری کافی اچھی تھی۔۔ماریہ شہزاد کی منگنی ہو گئی تھی😍اور ماریہ پریشے سے رابطے میں تھی۔۔جہانزیب بزنس اسٹیبلش کرنے میں بزی ہو گیا تھا۔۔شہزاد سے اسے پریشے کی شادی طے ہونے کا پتہ چلا تھا وہ اسے تو ٹال گیالیکن اپ سیٹ بہت ہوا تھا😞😞گھر آکر بھی پریشے ذہن پر سوار تھی۔۔تو تم شادی کر رہی ہو میں نے واقعی اپنے جذبے غلط انسان سے منسوب کئیے تم تو میرے قابل ہی نہیں۔۔😰😰جہانزیب نے سر جھٹکا اور بولا میں کیوں سوچ رہا ہوں تم جس سے مرضی شادی کرو مجھے کیا فرق پڑتا ہے میں نفرت کرتا ہوں تم سے تمہارا ایک ایک لفظ یاد ہے مجھے ہنہ۔۔ وہ نخوت سے سر جھٹکتا فریش ہونے چلا گیا۔۔😱شاہزیب صاحب نے اس سے شادی کا کہا تو اس نے یہ ذمہ داری ماما اور ان پر ہی رکھ دی۔۔۔_________$$$$_________$$$$__________سجاد صاحب کو پریشے کے لئے آیا رشتہ مناسب لگا عینی کی منگنی ہو گئی تھی لیکن شادی 2 سال بعد رکھی تھی۔۔پریشے نے بابا کو کہہ دیا تھا جیسا وہ ٹھیک سمجھیں کیونکہ سجاد صاحب نے اس کی شادی نہ کرنے کی ضد ماننے سے انکار کر دیا تھا۔۔پریشے نے سب اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔۔احد اور وانی انٹر میں تھے۔۔۔احمد انٹرپرائیزر میں پریشے کی بہت اہمیت تھی وہ وہاں سیکنڈ مینیجر کے طور پر کام کرتی تھی احمد صاحب کو وہ پسند تھی اور انہوں نے اپنی بیگم کو بلا کر بھی ملوایا تھا اس سے وہ اپنے بیٹے سے شادی کے خواہش مند تھے لیکن سجاد صاحب سے اسکی شادی طے ہونے کا سن کر افسردہ ہوئے مگر ڈھیروں دعائیں دی پریشے کو اور شادی میںشرکت کا واعدہ بھی کیا😱پریشے کے دل میں اس شادی کے حوالے سے فلحال کوئی خاص جذبات نہیں تھے اور لڑکے والوں کو اسکے جاب کرنے پر اعتراض نہیں تھا اس لئے وہ مطمئن تھی کیونکہ گھر کیذمہ داری اس کے کمزور شانوں پر تھی😨پریشے کے کہنے پر سجاد صاحب نے سمینہ خالہ کا بائیکاٹ ختم کر دیا تھا۔۔امان کو شادی کی خبر سن کر شدید جھٹکا لگا اور وہ اپنی ماں سے لڑا بھی.😵سمرین کی بات اسکے کزن جنید سے طے کی گئی تھی اور وہ پسند بھی کرتے تھے ایک دوسرے کو۔💟الینا امریکہ میں ہی رمتھی وہاں اسکے سینئیر ڈاکٹر صائم شاہ کے انڈر کام سیکھتی تھی اور ابھی اسکی پڑھائی بھی چل رہی تھی مھر صائم کو وہ پسند آگئی اور یوں اسکی بات بھی طے کردی گئی۔۔۔😍الینا بھی چھٹیوں میں پریشے کی شادی اٹینڈ کرنے آرہی تھی۔۔۔💞پریشے کی شادی کی ساری شاپنگ عینی ریحانہ بیگم اور وانی نے کی وہ تو بازار جاتی ہی نہیں تھی دوسرا تھک اتنی جاتی کہ بس۔۔۔۔😐گھر میں شادی کے فنکشنز شروع ہو گئے تھے اور پریشے نے آفس سے لیو لے لی تھی۔۔سمرین اور الینا بھی وہیں اسکے ساتھ تھے اور ماریہ نے بھی جلد آنے کا کہہ دیا تھا۔۔۔😱😱__________$$$$_________$$$$__________جانے کیا مجھ سے زمانہ چاہتا ہےمیرا دل توڑ کر مجھے ہنسانا چاہتا ہےجانے کیا بات جھلکتی ہےمیرے چہرے سےہر شخص مجھے آزمانا چاہتا ہے_________$$$$__________$$$$__________پریشے اپنے مخصوص انداز میں نقاب لگائے سر پر حجاب لئے آج کی کلاس میں درس دے کر آفس جا رہی تھی کہ ایک لڑکی اسکے پاس آئی۔۔ایکسکیوز می میم۔۔😐وہ ٹھہر گئی۔۔ اور بولی۔۔ جی کہئیے کیا کام ہے۔۔؟میم میری ایک دوست بہت پریشان ہے آپ اس سے مل لیں پلیز۔۔ وہ التجائی انداز میں بولی تو پریشے سر درد کو پھر اگنور کرتی اسکے ساتھ میٹنگآفس چلی گئی۔۔۔😓وہاں سے وہ لڑکی واپس چلی گئی اور پریشے اندر داخل ہوئی لیکن ڈامنے موجود ہستی کو دیکھ کر پتھر ہو گئی۔۔😨کون کسی کا ساتھی ہے،ہم تو غم کی منزل ہیں،پہلے بھی اکیلے تھے،آج بھی اکیلے ہیں۔۔۔۔۔تانیہ شاہ کو سکون نہیں تھا وہ اپنے اندر کی گھٹن کہہ دینا چاہتی تھی چیخنا چاہتی تھی اینجیو کے ذریعے ہی بہتلوگوں سے اسکا ملنا تھا اسکی دوست سے اس نے ڈسکس کیا تو وہ لڑکی نے فورن پریشے میم سے ملنے کا کہا جسےسب یہا وینا کے نام سے ہی جانتے تھے یوں تانیہ نے حامی بھر لی اور آج وہ اس کے در پر موجود تھی جسکا سب کچھ جسکی واحد جینے کی وجہ وہ اس سے چھین چکی تھی اور آج وہاپنے اعتراف کرنے آئی تھی اسی کے سامنے اپنا دل ہلکا کرنے آئی تھی...😱😢پریشے نے خود کو سنبھالا اور آگے بڑھی تانیہ شاہ نے بھی اٹھ کر اس سے مصافحہ کیا اور وہ دونوں صوفے پر بیٹھ گئیں😰پریشے نے نقاب ہی کیا ہوا تھا۔۔وہ دل میں خوب ہمت جمع کر کے بولی اپ کچھ لینگی😨جی ۔۔ نہیں نہیں کچھ بھی نہیں بس مجھے سکون نہیں مل رہامیم میں کیا کروں۔۔ وہ انکھوں میں آنسو لئے بولی..😭پریشے غور سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔اور تانیہ شاہ اسکی روعب اور خوبصورت شخصیت کے زیر اثرتھی۔۔۔ہممم پوچھا گیا سکون کہاں ہے؟؟جواب ملاغفلت ہوجاۓ تو سجدے میں،گناہ ہوجاۓ تو توبہ میں..سکون تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے آپ نے اس سے رابطہ کیا۔۔؟💞وہ مجھے معاف نہیں کریگا میں میں بہت بری ہوں😧یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ آپ بری ہیں۔۔؟میں نے کسی سے اسکا سب کچھ چھین لیا اور کسی کو اسی دھوکے میں رکھا کہ وہ اس سے کتنی نفرت کرتا ہے لیکن لیکن ایسا نہیں تھا😱پریشے کو اپنا سانس اٹکتا محسوس ہوا وہ کس ضبط سے بیٹھی تھی یہ تو وہی جانتی تھی😥آپ کیوں اتنی پریشان ہیں جب اپکو احساس ہو گیا تو معافیمانگ لیں آپ کو سکون ملیگا ۔۔میں کیسے معافی مانگو مجھے تو آتی ہی نہیں اور وہ مجھے معاف نہیں کرینگے۔۔😢پریشے نے اسکے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا دیکھیں آپ نے کوئی غلطی کی اور اب آپکو پتہ ہے تو معافی مانگنے میں اناکیسی آپ کوشش کریں سکون ملے گا اور اپنا رابطہ ہم سب کے رب اللہ سے کیجئے جو سکون وہ آپکو دے سکتا ہے اور کہیں اپکو میسر نہیں ہوگا۔۔💔مجھے اپنی زندگی کم پڑنے لگی ہے میم۔۔ذندگی کا المیہ یہ نہیں کہ بہت جلدی ختم ہو جاتی ہے۔۔بلکہ ۔۔۔ذندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہم جینا بہت دیر سے سیکھتے ہیں۔۔مگر میم جس انسان نے مجھے عزت دی میں نے اسکی بھی ناشکری کی۔اور اللہ سے میں نظریں ملانے کہ بھی قابل نہیں شاید۔۔😧😧میں نے سیکھا ہے کہ..رب کے آ گے جھکنے سے..اپنی غلطیاں تسلیم کر لینے سے..الله کے آ گے ہار جانے سے..خود کو رب کے سپرد کرنے سے..وہ رب آپ کا بن جاتا ہے..پھر ساری الجھنیں سلجھ جاتی ہیں..محبتیں جھولیوں میں بھر جایا کرتی ہیں..وہ جو سارے روٹھتے تھے نا..وہ جن کے پیچھے ہم بھاگتے ہیں..رب اٹھا اٹھا کے ان کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا ہے.وہ اسے دیکھ کر بولی اور پھر اسے حوصلہ بھی دیا کہ وہ ایک بار رب سے مانگ کر تو دیکھے اور جس کے ساتھ غلط کیا اس سے معافی مانگ لے پر سکون ہو جائیگی۔۔۔پریشے نے کچھ بھی نہیں پوچھا اس سے اس نے صرف اسےاللہ کے ذکر سے پرسکون کیا اور اسے معافی مانگنے کا کہا یہ نہیں پوچھا کہ کس سے معافی چاہتی تھی وہ۔۔۔😨😓تانیہ شاہ اسکے گلے لگ کر خوب روئی اور اسکا شکریہ ادا کرکے چلی گئی پریشے کافی دیر وہیں بیٹھی خدا کی مصلحتسوچتی رہی۔۔😰😱آمنہ وہاں آکر بولی کیا ہوا آپی۔۔؟پریشے:دل چاہتاہےغارِاصحابِ کہف میں جاکرسوجاؤںنیند سےجاگوںتو میرا یہ زمانہ گزرچکا ہوغار کےدہانے پر بیٹھے کتوں سے پوچھوںبتاؤ انسانوں کا زمانہ آکر گزر تو نہیں گیایاتیرے ہم جنس ابھی راج کرتے ہیں زمانےپر!گرابھی زمانہ سگ خوردہ ہےتومیں غارِاصحابِ کہف میں لوٹ جاتی ہوںپھر سے سو جاتی ہوں..😢😢😢_________$$$$___________$$$$________تُم نے نِکلتے دیکھے ہیں جنازے ارمانوں کےہم نے کُھلِ عام دفنایا ہے اپنی خواہشوں کو...!💔___________$$$$__________$$$$________آمنہ پریشے کے پاس لیٹی ہوئی تھی اور پریشے کوئی اسکیچ بنا رہی تھی۔۔۔آمنہ: آپی ایک بات پوچھوں۔۔؟پریشے: ہممم۔۔آمنہ: یہ محبت کیا ہے۔۔؟؟💟پریشے کا ہاتھ تھم گیا دل زخمی ہو گیا وہ بولی کیا فضول باتیں کرتی ہو تم۔۔۔😨آمنہ: بتائیں نا آپی۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔پریشے نے اسکیچ بک بند کی اور اسکی طرف گھومی کیوں پوچھ رہی ہو۔۔؟؟😑آمنہ: ایسے ہی جاننا ہے مجھے۔۔۔پریشے نے کہا ایک نظم سناتی ہوں۔۔محبت کیا ہے یہ جاناں۔۔؟چلو تم کو بتاتی ہوں۔۔جہاں تک میں سمجھ پائی ،وہاں تک ہی بتاتی ہوں۔۔محبت آسمانوں سے اترتی ایک آیت ہے۔۔میرے رب کی عنایت ہے۔۔کہیں لے جائے موسیٰ کو،تجلی رب کی دکھلانے،کہیں محبوب کو عرشوں پہ اپنے رب سے ملوانے۔۔💟کہیں سولی چڑھاتی ہے،کسی منصور سرکش کو۔۔کہیں یہ بیٹھ کر روتی ہے،پھر شبیر بے کس کو۔۔😢لگا کر آگ پانی میں،ہوا میں زہر گھولے گی۔۔کرے گی رقص شعلوں پر،مگر کب بھید کھولے گی۔۔کہیں یہ ایڑیاں رگڑے،تو زم زم پھوٹ پڑتے ہیں۔۔نظر کر دے جو پتھر پر،تو پتھر ٹوٹ سکتے ہیں۔۔کہیں یہ قیس ہوتی ہے،کہیں فرہاد ہوتی ہے،کہیں سر سبز رکھتی ہے،کہیں برباد ہوتی ہے۔۔کہیں رانجھے کی قسمت میں،لکھی اک ہیر ہوتی ہے۔۔یہ بس تحریر ہوتی ہے۔۔کہاں تقدیر ہوتی ہے ....؟کہیں ایثار ہوتی ہے۔۔کہیں سرشار ہوتی ہے۔۔وہیں یہ جیت جاتی ہے،جہاں یہ ہار ہوتی ہے۔۔💟محبت دل کی دیواروں سے لپٹی کائی جیسی ہے۔۔ محبت دل نشیں وادی میں اندھی کھائی جیسی ہے۔۔ سنو .....!!تم بھی محبت کو کہیں ہلکا نہیں لینا،اگر اپنی پہ آ جائے۔۔تمہیں صحرا نشیں کر دے۔۔اٹھا کر آسمانوں سے تمہیں پل میں زمیں کر دے۔۔ کسی کو دان دیتی ہے۔۔کسی کی جان لیتی ہے۔۔اگر کندن میں ڈھالے تو،سمجھ لینا یہ خالص ہے۔۔من و تو ناں بھلاے جو،تو پھر سمجھو کہ ناقص ہے۔۔دلِ برباد یہ روشن تمہارا کرکے چھوڑے گی۔۔لکھے گی درد ماتھے پر،ستارا کر کے چھوڑے گی۔۔💔💔پریشے کے کہنے کہ انداز میں آمنہ ڈوب سی گئی جب وہ خاموش ہوئی تو آمنہ بولی ہائے اللہ اپی کیسے یاد ہوجاتا اتنا سب اپ کو اور کتنا اچھا انداز ہے آپکا مجھے بھی آپ جیسا بننا ہے وہ لاڈ سے بولی۔۔لیکن پریشے تپ گئی اور بولی آئیندہ یہ بکواس نہیں سنو میں اور اللہ نہ کوئی میرے جیسا بد نصیب بنے وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بولی اللہ تمہیں ڈھیروں خوشیاں نصیب کرے تم ہنستی رہو ہمیشہ تمہاری صحت اچھی رہے میری جان کبھی میری جیسی نہ بننا😢آمنہ اس سے لپٹ گئی اور بولی اچھا سوری نہ آپی آپ روئیں تو مت پلیز پلیز۔۔ وہ روہانسی ہو گئی😨پریشے نے اسے پیار کیا اور کہا اچھا چلو اب باہر کام ہے بہت۔۔۔۔۔😑😑________$$$$________$$$$_________کر غور ہتھ دیاں انگلیاں تےہر اک وچ فرق ضرور اےانج فرق اے ساری دنیا وچکوئی ظالم تے کوئی مجبور اےکوئی مر گیا کسی دے پیار وچکوئی بالکل ای مغرور اےکوئی مخلص دل وچ وسدا اےتے کوئی انکھ دی پہنچ توں دور اےبابا بلھے شاہ۔۔۔۔________$$$$________$$$$_________تانیہ شاہ ہسپتال میں تھی اسکا سیزر ہونا تھا جہانزیب سمیت فاطمہ بیگم اور شاہزیب صاحب کے ساتھ احد اور فرہادبھائی بھی وہاں موجود تھے😐تانیہ کے پاپا نے بتایا تھا کیس سیریئس ہے بہت اور کومپلیکیشنز بھی ہیں دوسرا پری میجور ڈیلیوری تھی۔۔😱فری گھر میں بیٹھی خیریت کی دعائیں مانگ رہی تھی اسے پریشے کی یاد آرہی تھی وہ ماضی کے ایک قصہ میں کھو گئی۔۔پریشے بھابی آپ بتائیں میں کیا نام رکھں اپنے بیٹے کا۔۔؟؟ارے فری یہ تو تم اور احد سوچو تمہارا حق ہے ۔۔احد: نہیں آپی ہم نے نہیں آپ نے رکھنا ہے اپنے بھتیجے+بھانجے کا نام۔۔۔وہ مسکرا دی اور سوچ کر بولی اچھا عمر نام رکھنا پھر۔۔فاطمہ بیگم اسکے چہرے کی چمک دیکھ کر بولی گڑیا اگر تمہاری بیٹی ہوتی تو کیا نام رکھتی۔۔؟؟سحرش۔۔۔😰اوہ نہیں مطلب ماما کیا سوال کر رہی ہیں اپ بھی اچھا سب بیٹھیں میں چائے لاتی ہوں وہ آنسو چھپاتی چلی گئی۔۔😢😢شاہزیب صاحب نے فاطمہ بیگم کو غصہ سے کہا بیگم تم بھی سوچ کر بولا کرو بچی کو دکھی کر دیا بیٹا ہمارا کم درد دے رہا ہے کیا اسے جو ایسا سوال کیا تم نے۔۔۔؟؟😠فاطمہ بیگم روتے ہوئے بولی کاش ہمارے گھر میں بھی بچوں کی چہکاریاں گونجے جہانزیب اپنی ضد چھوڑ دے اور اس معصوم پر رحم ہی کھالے۔۔۔😭😭فری اور احد بھی اپ سیٹ ہوگئے۔۔۔فون کی رنگ پر فری خیال سے باہر آئی اور دیکھا تو احد کا نام جگمگا رہا تھا۔۔اس نے یس کیا اور خیریت پوچھی تو پتہ چلا جہانزیب بھائی کو خدا نے بیٹی عطا کی ہے لیکن تانیہ شاہ کی کنڈیشن اچھی نہیں ہے۔۔۔ فری نے زور سے آنکھیں میچیں دو آنسو ٹوٹ کر گرے.😢😢تانیہ شاہ نے جہانزیب اور سب سے معافی مانگی آج اس نے پریشے کی بات پر عمل کر ہی لیا تھا اور وہ پر سکون ہو گئی تھی۔۔😥💔پھر بولی پلیز پلیز جہانزیب کہیں سے بھی پریشے کو لے آنا اور میری بیٹی اسکی گود میں ڈال دینا اسکی پرورش اس سے اچھی کوئی نہیں کر سکتا اور اسے کہنا مجھے معاف کر دے میں نے غلط کیا اسکے ساتھ مجھے تمہیں بتانا چاہئیے تھا کہ جسے تم نفرت سمجھتے ہو وہ محبت ہے تمہاری😭😭😥۔پلیز میں میں جب تک زندہ ہوں اسے میرے پاس رہنے دو۔۔جہانزیب نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اور خود سے لگا کر تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا لیکن ہوتا وہی ہے جو رب کو منظور ہوتا ہے💟جہانزیب نے اسکا پورا ہفتے خیال رکھا اور وہ روز معافی مانگتی اس سے اور ناشکری کرنے پر روتی بھی پھر ایک ہفتے بعد وہ سروائیو نہ کر سکی کیونکہ بے تحاشہ اسموکنگ اور کبھی ڈرگس لینے کی وجہ سے اسکی صحت خراب تھی اس نے ان سات ماہ میں اپنی ڈائٹ کا خیال رکھا۔۔جس وجہ سے آٹھ ماہ کی پری میچور بچی ٹھیک تھی اور شروعکے ایک ماہ کی بد احتیاطی تانیہ کو بد حال کر گئی۔۔😨تانیہ شاہ اپنی بیٹی کو دیکھ کر محسوس کر کے اب اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔۔۔😢😢بحرحال بچی کو گھر لے آئے تو سب شاہزیب صاحب کے گھر جمع ہوگئے ۔۔۔فری نے گود میں لیا اور سینے سے بچی کو لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی😭😭سب پریشان ہوگئے احد نے اسے سنبھالا اور بچی کو فاطمہبیگم کو تھما دیا۔۔شاہزیب صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور خود سے لگا کر پوچھا کیا بات ہے میری جان ایسے کون روتا ہے صبر کرو۔۔؟؟بابا ڈر لگ رہا ہے۔۔سب ہی پریشان سے اسے دیکھ رہے تھے😵😵جہانزیب بھی غور سے اپنی پرنسس کو دیکھ رہا تھا جو اسکی طرف دیکھتی بھی نہیں تھی اب۔۔۔😨کیا بات ہے بابا کی جان۔۔💔مکا۔مکافات عمل سے ڈر لگتا ہے بابا😱😭دیکھیں اس معصوم کو کیا اسے دیکھ کر بھابھی یاد نہیں آرہیں اسکی ماں بھی چھوڑ گئی اور ابھی ابھی تو اسے ضرورت تھی نا۔۔۔کوئی کوئی بھابی کو لے آؤ پلیز وہ دوبارہ اسے گود میں لئیے روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا اور آنکھیں بھی نم ہو گئیں تھیں😢😢فری پھر بولی بھائی۔۔ اسکے اس طرح پکارنے کی وجہ سے جہانزیب نے اسے دیکھا کتنے سالوں بعد یہ لفظ سنا تھا😍فری اسکے پاس آئی اور نیچے قالین پر بیٹھ گئی۔۔بھائی میں نام بتاؤں اسکا۔۔💔جہانزیب بھی نیچے بیٹھا اور فری کو پیار کرتے ہوئے بولاہاں ہاں پرنسس کیوں نہیں تم ہی رکھو اس کا نام.😍وہ نفی میں گردن ہلا کر بولی نام میں نہیں رکھ رہی بس بتارہی ہوں اس کا نام س۔ س۔ سحرش رکھ دیں وہ ایک بار پھر رودی😭فاطمہ بیگم بھی رودیں وہ پریشانی سے کبھی ماں کو دیکھتا کبھی بہن کو۔۔۔😨پھر بولا رو تو مت نام بہت پیارا ہے یہی رکھیں گے۔۔احد بھی وہیں نیچے آکر بیٹھ گیا اور اسے کہا بس فری بس ۔۔۔کیسے کروں بس میرا دل کٹ رہا ہے احد اللہ اللہ نہ کرے کہ دوسری پریشے بنے😱سب کے دل دہل گئے اس بات ہر۔۔۔احد بھابی کو لے آؤ نا۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھام کر بولی😢احد کی آنکھیں بھی نم تھیں۔۔😢فاطمہ بیگم نے کہا یہ نام پریشے کی پسند ہے تمہیں یاد تھا۔۔😢میں تو بھول ہی نہیں سکتی ماما😧بھائی آپ اب بھی رکھنے دینگے یہی نام؟؟😓جہانزیب ہممم کہتا اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور بیٹی کو پیارکرتا ہوا وہاں سے چلا گیا😥وہ ضبط دوسروں کے سامنے کھونا نہیں چاہتا تھا😧________$$$$_________$$$$________۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔آج کی قسط کیسی لگی آپکی رائے کا انتظار رہے گا۔۔#SimiWrites💞

No comments:
Post a Comment