Sunday, November 25, 2018

انا آزمائش اور محبت قسط8

http://novelskhazana.blogspot.com/


#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۸#_plz_dont_copy_wdout_my_permissionخاموشی رات کی دیکھتا ہوںاور تجھے سوچتا ہوںمدہوش اکثر ہو جاتا ہوںاور تجھے سوچتا ہوںہوش والوں میں جاتا ہوںتو الجھتی ہے طبیعتسو با ہوش پڑا رہتا ہوںاور تجھے سوچتا ہوںتو من میں میرے آجامیں تجھ میں سما جاؤںادھورے خواب سمجھتا ہوںاور تجھے سوچتا ہوںجمانے لگتی ہیں جب لہومیرا فراخت کی ہوائیںتو شال قربت کی اوڑھتا ہوںاور تجھے سوچتا ہوں💔💔________$$$$__________$$$$_________جہانزیب کا آج کل کسی چیز میں دل نہیں لگتا تھا اور تانیہ شاہ اسکے ساتھ نہیں رہتی تھی اب وہ اپنی اینجیو چلا رہی تھی اوراپنے بابا کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔ لیکن اپنے واعدے پر پوری اتر رہی تھی ویسے بھی کون ماں اپنی اولاد کو مار سکتی ہے۔۔۔وہ بھی اب اپنے گناہوں سے نجات چاہتی تھی لیکن جہانزیب سے علیحدگی بھی۔۔۔😐آج کسی مسے اسکی میٹنگ تھی ریسٹورانٹ میں جسکے ہونے کے کافی دیر بعد تک وہ وہیں بیٹھا کام کرتا رہا اور کافی پیتا رہا ۔۔۔کچھ دیر کے بعد دو لڑکیاں اچھے سے حجاب کی ہوئی اسکے پاس آئیں اور بولیں ایکس کیوز می آپ جہانزیب احمد ہیں نا۔۔۔؟؟😮جہانزیب نے انکی طرف دیکھا جو بڑے اشتیاق سے اسے دیکھتی پرجوش انداز میں استفسار کر رہی تھیں۔۔۔اس نے کہا جی میں ہی جہانزیب احمد ہوں لیکن سوری میں آپکو پہچانا نہیں ۔۔۔😒وہ مشہور تو تھا ہی لیکن وہ ہمیشہ اپنی ازلی بے نیازی میں ہی رہتا تھا اور آج کل کچھ حالات کی وجہ سے ہر چیز اسے بری ہی لگ رہی تھی۔۔😐وہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے گویا ہوئیں آپ ہمیں کیسے پہچانے گے لیکن ہم آپکو اچھے سے جانتے ہیں۔۔آپ تو پکچرز اور اسکیچز سے بھی زیدہ اسٹارٹ اور اچھے ہیں۔۔😵وہ بہت ہی پرجوش انداز میں بولی لیکن جہانزیب کی آئیبرو تنی اور بولا مس سوری ٹو سے لیکن اگر کوئی ہے تو بتائیں میں اس وقت بزی ہوں۔۔۔😒سوری سر لیکن پری میم سے اتنی مشکل سے تو آپکے بارے میں پتہ لگا تھا ورنہ تو وہ خاموشی کی گولی کھائے رہتی تھیں ہر ٹائم اداس رہتی کیسے تھیں وہ اف لیکن جب وہ آپکا بتاتی تو انکے چہرے کے تاثرات ہی بدل جاتے تھے ہے نا وہ کتنی خوش لگتی تھیں ایک دم سے۔۔ آخری بات وہ لڑکی اپنی دوست کو دیکھ کر بولی جس نے اسکی تائید کری۔۔😍جہانزیب کو تو جیسے سکتا تاری ہو گیا لیکن وہ لڑکی لگتا تھا جیسے بہت باتونی ہو وہ پھر سے بولی لیکن اب وہ پتہنہیں کہا ہیں آتی ہی نہیں ہیں آپ انییں لے کر آئیں نا سر آخر انہوں نے ہم جیسے بے سہارا اور بے گھر لڑکیوں کو رہنے کے ساتھ کام بھی سکھایا ہے اور آج ہم انکی وجہ سے ہیں زندہ۔۔اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔😢😢جہانزیب چونکا اور بولا آ۔۔آپ کیسے جانتی ہیں پریشے کو؟؟سر وہ ہم دونوں پری زیب ٹرسٹ میں ہی رہتے ہیں نا تو وہاں میم سے ملے تھے اب سمرین میم تو ہمیشہ انکے ذکر ٹال جاتی ہیں یا روتے ہوئے چلی جاتی ہیں کوئی کچھ نہیں بتاتا ان کے بارے میں آپکو دیکھا تو رہا نہیں گیا اور میں انکی خیریت معلوم کرنے آگئی۔۔😓😧مجھے نہیں پتہ آپکی میم کہاں ہے اور میں بہت بزی ہوں اسلئیے اللہ حافظ۔۔ وہ زیب کے نام پر ایک دم ہی غصہ ہوا اور انکو برا سا جواب دیتا اپنا سامان اٹھاتا وہاں سے چلا گیا😠😒وہ دونوں بیچاری ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔😓جہانزیب رات دیر سے ہی گھر آتا تھا کیونکہ خالی کمرہ کاٹھنے کو دوڑتا تھا اوپر سے پریشے کا حواس پر حاوی ہونا اسے سخت عزیت دیتا تھا لیکن سکون باہر بھی کہیں میسر نہیں ہوتا تھا۔۔۔جہانزیب اب تک یہی سوچتا تھا کہ وہ نفرت کرتا ہے اور پریشےبھی کسی زیب کو پسند کرتی تھی۔۔💔😞سب کہتے تھے کہ جس دن اسکی آنکھوں سے انا کی پٹی ہٹیوہ بہت روئےگا😰آج وہ کام کر رہا تھا کہ اچانک ہی ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا اور پریشے کی یاد ستانے لگی وہ سب کچھ رکھ کر سگریٹ سلگاتابالکنی میں آگیا اور آسمان تکنے لگا ۔۔🔥گرمیوں کے دن تھے اسے یاد آیا پریشے اکثر یہاں بیٹھتی تھی اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے چائے پیا کرتی تھی ۔۔۔☕وہ سر جھٹکتا اندر آیا اور وارڈروب کھولتا نائٹ سوٹ نکالنے لگا تو اپنے لاکر پر نظر پڑی چابی نکال کر لاکر کھولا تو اسکیچ بک پر نظر پڑی ۔۔۔اس نے وہ نکالی اور بیڈ پر آکر ٹک گیا۔۔۔اسکے کور پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔💞کیوں یاد آتی ہو اتنا میں نہیں کرتا نہ تم سے محبت سمجھتی کیوں نہیں۔۔۔💔بک کھولی تو سامنے ماما بابا کا اسکیچ تھا وہ مسکرایا۔۔😊اگلے پر سجاد صاحب اور سلطانہ بیگم کا وہ سوچنے لگا یہ خاتون کون ہیں۔۔ کیونکہ اس نے نہیں دیکھا تھا انہیں کبھی۔۔۔پھر بہت سے اسکیچز تھے احد فری وانی عینی سمرین وغیرہ کے لیکن جہانزیب نہ تھا اس نے سوچا یہ کہتے ہیں تمہیں مجھ سے محبت ہے لیکن تمہارے تو اسکیچ میں بھی میں کہیں نہیں ۔۔😑وہ اسے بند کرتے ہوئے اٹھا اور لاکر میں رکھا لیکن نیچے دوسری بک گر گئی اور اس میں سے چھلکتا زیب نام نظر آیا۔۔جہانزیب کا خون کھول گیا تم قابل ہو محبت کے ہنہ یہ ہے تمہاری اصلیت پریشے😰اس نے وہ اٹھائی اور دو ٹکرے کر دئیے جس سے سارے صفحات الگ ہو گئے۔۔اس نے وہ دور پھینکے تو وہ بکھر گئے۔۔___________$$$__________$$$________مت رکھ تلخیوں کو دل میں بسا کریہ مٹتی نہیں انسان کو مٹا دیتی ہیں💔جہانزیب کی نظر ایک اسکیچ پر ٹہر گئی وہ دھیرے دھیرے اس تک گیا اور اٹھایا جب دیکھا تو فریز ہوگیا۔۔۔😵اسکیچ پر لاسٹ میں پری زیب لکھا تھا💗یہ یہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا یہ شخص زیب ہے نہیں جھوٹ وہ خود کو تسلی دے رہا تھا زمین پر بیٹھ گیا اور دوسرے اسکیچ اٹھائے ہر اسکیچ میں وہی شخص تھا کہیں اداس کہیں مسکراتے ہوئے کہیں سوتے ہوئے کہیں کام کرتے ہوئے اس نے خوف سے اسکیچ پھینکے اور پیچھے کو ہوا ۔۔😱😱ن۔نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا مجھے کیوں نہیں پتہ چلا کہ یہ یہ زیب ہے اللہ نہیں ہو سکتا یہ۔۔بہت دیر خود سے جنگ لڑی ۔۔لیکن ہار گیا وہ اور اسکیچ جمع کئیے سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا😭انا کی دیوار گر گئی تھی آج لیکن بہت دیر ہو گئی۔۔۔پریشے پریشے کہاں ہو آجاؤ یار میں ہار گیا میں تھک گیا خود سے لڑتے لڑتے ہاں آج جہانزیب احمد اعتراف کرتاہے وہ صرف پریشے سے محبت کرتا ہے پلیز آجاؤ میں بہت تنہا ہوں معافی کا موقع تو دو میں سب ٹھیک کر دونگا بس ایک موقع دو۔۔۔😭😭یہ یہ کیا کر دیا میں نے اف خدایا میں کیا کروں میں اس سے جیلس رہا اس سے آہ۔ہ۔ہ پریشے میں ڈھونڈوں گا تمہیں ایک دفع آجاؤ بس۔۔۔۔۔دل سے آواز آئی کہا تھا نہ مت کرو ستم ورنہ تڑپو گے ایک دن اب نہ ملی تو کیا کروگے😱وہ زندہ ہے بھی کہ۔۔۔نہیں نہیں اسے کچھ نہیں ہوا ہو گا مجھے پتہ ہے وہ ٹھیک ہے میرا دل کہتا ہے وہ ٹھیک ہے😧کیا اب وہ مانے گی تمہاری بات۔۔؟ہاں وہ محبت کرتی ہے مجھ سے💔دل جیسے خالی ہوگیا جواب نہیں آیا کچھ بھی😞وہ آج اسی کوٹ کو تھامے بیٹھا تھا جو پانچ سال سے پریشے کے پاس تھا آج اسے چھو کر ایسا محسوس ہوا جیسے پریشے اسکے پاس ہو اس میں پریشے کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔۔۔💞آج اسے پریشے کی کہی باتیں یاد آرہی تھیں کہ کیسے اس نے کہا تھا کہ اسکی بات سن لے ایک بار لیکن جہانزیب نے ایک نہیں سنی اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ گیا تھا۔۔۔😞میری بات تو سن لیں۔۔😦جہانزیب ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔😨آپکو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔دیکھ تو لیں کون ہے زیب۔۔۔😱پلیز سنیں تو۔۔میں نے نہیں کیا ایسا کچھ بھی۔۔۔😧آپ آپ پچھتائیں گے جب اصلیت پتہ چلے گی۔۔😭بسسس چپ ہو جاؤ پریشے خدا کا واسطہ چپ ہو جاؤ کیوں کیوں نہیں بتایا کیوں کچھ نہیں کہا مجھے برا کہتی چاہے مار لیتی لیکن ایسے ایسے کون سزا دیتا ہے۔۔ واپس آجاؤ مجھے معافی تو مانگنے کا موقع دو ۔۔😞دیکھو آکر تم نے صحیح کہتی تھیں میں میں آج پچھتا رہا ہوں۔۔۔😭I .. I love u pareeshe..💗I really needs u ..💔Plz plz come back...😢😧وہ وہیں زمین پر لیٹ کر کوٹ بھینچے پریشے سے باتیں کر رہا تھا۔۔😓💞آج وہ سب کہہ رہا تھا لیکن سننے کے لئے وہ بےقصور اور یتیم لڑکی نہ تھی جو جہانزیب اور اسکی ایک نظر کرم کو ترستی رہی ۔۔😦😓😢وہ ساری رات جاگ کر گزاری جہانزیب نے۔۔اور صبح ریڈی ہوا اور گلاسز سے سرخ آنکھیں چھپاتا فاطمہ بیگم کو کہہ گیا کہ کچھ دن کام کے سلسلے میں باہر جا رہا ہے لیکن اصل میں وہ پریشے کو ڈھونڈنے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔_________$$$$_________$$$$________اب تسلی نہیں دی جاتی مریضِ غم کودیکھنے والے بھی مرنے کی دعا دیتے ہیں...!!_________$$$$__________$$$$________"اللہ پر بھروسہ رکھیںآپکی آنسوؤں سے بھیگی ہوئیکوئی بھی رات اور تکلیف میںگزرا ہوا کوئی بھی دن کبھیرائیگاں نہیں جاتا ۔۔۔کیونکہ زندگی کا ہر آساناور تکلیف دہ لمحہ اللہسبحان و تعالی کے کسی عظیم منصوبےکا حصہ ہوتا ہے جو کبھی تو جلدیسمجھ میں آ جاتا ہے اور کبھیانتظار کرنا پڑتا ہے"_________💞پریشے نے درس کا آخری حصہ پورا کیا اور کلاس ختم کرتی آفس میںآگئی۔۔۔آج دل گھبرا رہا تھا پتہ نہیں بار بار جہانزیب کی یاد ستا رہی تھی دل اسے دیکھنے اسکی آواز سننے کو بے تاب ہو رہاتھا۔۔۔💔نمبر ڈائل کر کے مٹا دینا عادت سی ہو گئی تھی💔پریشے کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا وہ کار کی چابی اٹھاتی آمنہ کو کال کر کے کہا کہ کچھ دیر باہر جا رہی ہے اور کار کو بلا وجہ سڑکوں پر گھمانے لگی تنگ آکر ایک پارک میں آگئی اور اسکیچ بک لئے سنسان کونے میں آکر بیٹھ گئی۔۔۔آنکھ سے کچھ بہہ گیا اس نے آنکھیں رگڑیں اور اوپر دیکھتے ہوئے بولی یا اللہ نہ دے اتنی سزا اس شخص سے محبت کی میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مولا مجھ پر رحم فرما۔۔۔😧جہانزیب کیوں اتنے یاد آرہے ہو یا اللہ انہیں اپنی حفاظت میں رکھنا۔۔۔۔😭😭💔💔وہ اسکیچ بک کھولے آج بنا نہیں رہی تھی صرف دیکھ رہی تھی تھک کر بند کرتی گنگنانے لگی۔۔۔__________$$$$________$$$$_________اف یار لیٹ ہو گیا گاڑی سائیڈ پہ لگاتے وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا گھڑی دیکھ کر بولا تو اسکا فون بجا۔۔۔😏اوہ نو کہتا فون اٹھایا سامنے سے اسکا دوست نون اسٹوپ شروع ہو گیا۔۔۔کہاں ہو یار میں کب سے انتظار کر رہا ہوں یہاں اور تمہاری کچھخبر ہی نہیں ہے حد ہوگئی۔۔۔۔😒ارے ارے تھڑا سانس تو لو اور فون بند کرو آرہا ہوں بس۔۔۔😏وہ فون رکھتا ہوا آگے بڑھا لیکن ایک خوبصورت آواز نے پاؤں زنجیر ہو گئے۔۔۔💗راہ میں روشنی نے ہے ہاتھ چھوڑااس طرف شام نے کیوں ہے اپنا منہ موڑایوں کہ ہر صبح اک بے رحم سی رات بن گئیہے کیا یہ جو تیرے میرے درمیاں ہےاندیکھی انسنی کوئی داستاںلگنے لگی اب زندگی خالی خالیلگنے لگی ہر سانس بھی خالی خالیبن تیرے بن تیرے بن تیرےکوئی خلش ہے ہواؤں میں بن تیرے۔۔۔۔۔۔کون ہے یہ آواز تو ۔۔۔سنیں یہاں کون ہے..؟؟😵پریشے کی زبان کو بریک لگی اور لب ہلے زیب۔۔۔۔۔😱آواز پھر آئی۔۔Is anyone here..???😰وہ سامان اٹھاتی ہوئی باہر کی طرف بھاگی وہ تو سنسان جگہ بیٹھی تھی یہ یہاں کیسے کوئی آگیا یہی سوچتی گاڑیمیں بیٹھ کر دم لیا۔۔۔😰اور شیشے اوپر چڑھا کر نقاب اتارا اور تیز تیز سانس لی پھر سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھ بند کری اور بولی یہ زیب ہی تھا میں اسکی آواز نہیں بھول سکتی لیکن وہ یہاں کیسے...؟؟؟😨)یہ زیب ہے کون آخر(وہ نہیں ہوگا کوئی اور ہوگا۔۔۔۔پریشے تمہارا بھی دماغ واقعی خراب ہے کہیں بھی شروع ہو جاتی ہو یہ ٹھیک نہیں ہے ہنہ ابھی کوئی آجائے وہاں تو ۔۔😏😒الینا ٹھیک کہتی ہے مجھے علاج کی سخت ضرورت ہے۔۔ وہ مسکرا دی یہ سوچ کر۔۔😏پھر گاڑی اسٹارٹ کر کے واپسی کی راہ لی۔۔۔۔_________$$$$_________$$$$_______وہ لڑکا اب بھی وہیں کھڑا تھا ۔۔۔اسکی پرسنالٹی کافی مسحور کن تھی جو اگلے کو دوسری نظر ڈالنے پر مجبور کرتی تھی اور اسکی وجاہت کے کیا کہنے جو اب بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔😍💗یہ آواز تو پری جیسی تھی بلکل لیکن وہ یہاں کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔😵اس نے سوچا۔۔شاید مجھے غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔۔😧نفی کی اپنی ہی بات کی۔۔اسکے دوست کا فون آنے لگا تو وہ فون جیب میں ڈالتا اور کف فولڈ کرتا ہوا وہ خوبرو خوش شکل جوان آگے بڑھ گیا۔۔۔ ؟؟؟؟؟ !!!!😓😓😮________$$$$___________$$$$_________جو گیت تم نے سنا نہیںمیری عمر بھر کا ریاض تھا💔میرے درد کی تھی وہ داستاںجسے تم ہنسی میں اڑا گئے😧امجد اسلام امجد_________$$$$___________$$$$_______ایک مہینے سے گھر میں سب نے سجاد صاحب کا بہت خیال رکھا تھا اور گھر میں یہ بات پریشے اور احد کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اب کام نہیں کر سکیں گے اور سہارے کے بنا چل بھی نہیں سکیں گے۔۔۔😭ریحانہ بیگم اٹھتے بیٹھتے پریشے کو سلوتوں سے نوازتی تھیں کہ یہ سب اسکی وجہ سے ہے لیکن وہ اس بات کا اثر نہیں لیتی تھی۔۔😢وہ ایک مہینے یونی سے لیو پر تھی اور اسے سمرین نے بتایا تھا کہ جہانزیب اور شہزاد نے اس تصویروں والے سارے معاملےکو ڈین سے مل کر کس مشکل سے رفع دفع کر وایا تھا ۔۔۔😌ابھی اس نے بابا کے لئے دلیا بنایا اور باہر آئی تو فرہاد بھائی پریشانی میں اندر آتے نظر آئے۔۔۔😓کیا بات ہے فرہاد بھائی ..؟وہ تشویش سے بولی۔۔۔😓الوینا وہ تمہاری دکان میں نا شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی ہو گئی اور بڑی مشکل سے آگ قابو میں آئی ہے لیکن سب جل کر خاک ہوگیا۔۔😱پریشے سکتے میں کھڑی تھی کہ پیچھے سے ریحانہ بیگم آئی اور بولی یہ کیا بول رہے ہو تم اب اب کیا ہوگا۔۔۔پریشے بولی مام آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا بھائی بابا کو نہ بتائیں ورنہ وہ ٹینشن لینگے اور آفس کا کہیں گے۔۔۔ارے کیسے نہ بتائیں آخر کب تک وہ ایسے ہی رہیں گے ہمارا گھرکیسے چلیگا تم دونوں کا دماغ خراب ہے کیا۔۔۔ ریحانہ بیگم بولی۔۔پریشے نے کہا ماما بابا اب نہیں کرینگے جاب پلیز آپ ۔۔۔😦تم تو پاگل ہوئی ہو وینا دماغ خراب ہے وہ نہیں کرینگے تو ہم کیا کرینگے یہ سب پہلے ہی تیری وجہ سے ہو رہا ہے اب تو پتہ نہیں کیا اول فول بک رہی ہو۔۔😰پریشے نے انہیں ڈاکٹر کی بات بتا دی جس پر وہ سر پکڑ کر بیٹھیں اور پریشے پر ہی شروع ہو گئیں۔۔۔😞فرہاد بھائی کو اس نے کہا آپ جائیں بھائی اور میں آپ سے کل بات کرونگی کچھ مدد بھی چاہیے۔۔۔وہ چلے گئے تو اس نے بابا سے بات کرنے کا سوچا اب انہیں بتانا تو تھا ہی۔۔😧سب بتا کر اس نے خود جاب کی اجازت مانگی جس بات پر سب نے اسکی مخالفت کی ۔۔😞فرہاد بھائی بھی خفا ہوئے کہ انہیں پرایا کیوں سمجھ لیا وہہے نہ انکے ساتھ لیکن وہ بھی اپنی بات پر ڈٹی رہی اور آخر بابا کو منا ہی لیا۔۔وہ صرف اس بات پر مانے کہ وہ انکے دوست کے آفس میں ہی جابکریگی تاکہ وہ بے فکر رہیں۔۔😌احمد صاحب سے بات کی تو وہ اتنے اچھے مینیجر کے کھونے پر افسردہ ہوئے اور پریشے کو خوشی سے جاب دی یوں وہ احمد انٹرپرائیزر میں جاب کرنے لگی۔۔😑___________$$$$__________$$$$________میں انسان ہوں، کوئی پتھر تو نہیں😧کیسے کہہ دوں، غم سے گھبراتی نہیں....!💔___________$$$$____________$$$$______پریشے نے یونیورسٹی جانا بھی شروع کیا کیونکہ ایگزامز قریب تھے۔۔😐اور فرہاد بھائی نے وانی اور احد کو اسکول پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری زبردستی پریشے سے لی ۔۔پریشے اپنے بابا کی کار خود استعمال کرنے لگی 2 بجے کے بعد وہ یونی سے سیدھی آفس جاتی اورشام کو 6 بجے گھر کے لئے نکلتی پہنچتے ہوئے 7 بج جاتے۔۔۔😓ریحانہ بیگم سجاد صاحب کے اس طرح بیمار ہونے کا سارا ذمہ دارپریشے کو سمجھتی تھیں اور گھر آکر بھی یہ سب برا بھلا سننے کو ملتا اسے آرام تو زندگی سے کہیں دور ہی چلا گیا تھا۔۔😞وہ رات کو فارغ ہوتی تو دیر تک اسائینمینٹ بناتی اور کبھی کبھی کتابوں پہ سر رکھے ہی سو جاتی😐۔۔عینی کا تو دل ہی ہولتا تھا اپنی مانو کو ایسے دیکھ کر لیکن وہ کیا کرتی سوائے اسکا خیال رکھنے کے جو وہ بہت اچھے سےرکھتی تھی۔💞ورنہ تو پریشے نے کھانا بھی نہیں کھانا تھا وہ ویسے بھی کھانے کی چور تھی اور اب تو اسے ہوش ہی نہیں ہوتا تھا ۔۔صبح کھا کر جاتی اور پھر گھر آکر ہی کھاتی۔۔۔😵یونیورسٹی میں اس نے لوگوں سے میل جول ختم ہونے کے برابر کرلیا تھا اب وہ زیادہ وقت کلاس کے علاوہ لائبریری میں گزارتی تھی😨جہانزیب نے بہت کوشش کی اس سے بات کرنے کی لیکن وہ اس سے ہر دفعہ بری سے بری ہی پیش آئی جس سے جہانزیب کی انا کو بہت ٹھیس پہنچی اور وہ اس سے نفرت کرنے لگا یا اسکا بات نہ کرنا اور اتنا سخت گریز اسے برا لگا جسے اس نےنفرت کا نام دے دیا😰پریشے کے ہمیشہ پہلے نمبر پر آنے کی روش برقرار رہی اور جہانزیب اتنی محنت کے بعد بھی دوسرا ہوا جو اسے برداشت نہیں ہوا اور اپنی انا کے ہاتھوں پریشے سے دور ہو گیا اس سے نفرت کرنے لگا😵😧رہی سہی کثر امان نے پوری کی پریشے کے جھوٹے قصے بتا کر😠😨جہانزیب تو اندھا ہی ہو گیا تھا اپنی انا کے پہاڑ کو مضبوط ہی کرتا گیا۔۔.😰یونی کا اختتام ہونے کو تھا جس کے سلسلے میں بزنس ڈیپارٹمینٹ کی الوداعی تقریب تھی جس میں نہ چاہتے ہوئے بھی ماریہ اور سمرین کے لٹکے منہ دیکھ کر پریشے نے آنے کیہامی بھر لی تھی۔۔😒😏وہ بابا سے اجازت لے کر صبح تیار ہوئی اس نے اج بھی پلین کرنکل کی لائٹ بلو فراک پر بلو حجاب لیا اور بنا میک اپ کے لئے ہی یونی آگئی۔۔وہ اس سادگی میں بھی کمال لگ رہی تھی💞2 بجے وہ آفس گئی اج وہاں بھی کافی کام تھا 6 بجے وہ فری ہوئی نہیں تو اس نے سوچا جانا بھی یونی 7 بجے ہے تو کام پورا ہی کرلوں اور کام میں ٹائم کا اندازہ نہیں ہوا وہ 7:20پر فارغ ہوئی۔۔گھڑی دیکھی تو اوہ نو کہتے سامان سمیٹا اور پرس اٹھا کرگاڑی میں آکر بیٹھی کہ سمرین کی کال آگئی ۔۔😐پریشے نے اسکا غصہ😠ٹھنڈا کیا اور کہا بس 15 منٹ میں آرہی ہوں کام بہت تھا یار اور فون بند کیا۔۔یونی پہنچی تو وہاں جیسے ہر طرف اسٹوڈینٹس ایسے تیار تھے جیسے انکا ولیمہ😂پریشے سمرین ماریہ کے پاس پہنچی تو دونوں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں جو بہت تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔پریشے ان سے مل کر کینٹین گئی اور پانی کی بوتل لے کر ایک طرف بیٹھ کر پینے لگی وہ واقعی آج تھک گئی تھی😐اتنے میں اسکا فون بجا۔۔عینی آپی کی کال تھی اس نے یس کی۔۔جہانزیب کسی کام سے وہاں آیا تھا پریشے کو صبح والے ڈریس میں دیکھ کر حیران ہوا اور غور سے دیکھا تو اسکے تھکن زدہ ستے ہوئے چہرے کو دیکھ کر تعجب کرتے ہوئے سوچنے لگا اسے کیا ہوا ہے جب اسکی بات سن کر حیرانیوں کے سمندر میں گرا۔۔😵جی آپی پہنچ گئی ہوں یونیورسٹی۔۔ہممم آج تو بہت کام تھا آپی ٹائیپنگ کرتے کرتے ہاتھ درد کر گئے۔۔😨وہ اسکی بات سے اندازہ کر رہا تھا کہ کیا بات ہو رہی ہے۔۔۔اوپر سے کل آفس میں پریزینٹیشن کی تیاری بھی کرنی تھی۔۔۔سچی آپی اگر سمرین کی ضد نہ ہوتی تو میں نے یہاں نہیں آنا تھا۔۔وہ سر کو دبا کر بوتل سے پانی گلاس میں ڈال کر پرس کھولےکچھ ڈھونڈ رہی تھی۔۔اسپرین کے ملتے ہی دو گولی پانی میں ڈالی۔۔ہمم سر میں بھی درد ہورہا تھا بس ابھی پانی میں وہی لے رہی ہوں۔۔یہ جاب کر رہی ہے لیکن کیوں۔۔۔ وہ حیرانی سے سوچ رہا تھا جباسکی جھنجلائی آواز آئی۔۔یار آپی بس کریں نہ اسکے بنا سکون نہیں ملتا اب تو دو سال سے عادت ہو گئی ہے یہاں شور بھی بہت ہے نہیں کھاتی تو درد ہی بڑھنا تھا۔۔😨یہ دو سال سے یانی جب وہ حادثہ ہوا تب سے جاب کر رہی ہے😵جی جی اپ فکر نہ کریں میں کھالونگی کچھ ابھی من نہیں بس اب رکھیں فون بابا کو میڈیسن دے دینا آپ اور کھانا بھیکھلا دینا اللہ حافظ۔۔۔💗سمرین اسکے سر پر پہنچی تم پاگل ہو وینا گھر نہیں گئیں تم تیار ہو کر آنا تھا نا۔۔وہ غصہ ہوئی😠ماریہ بھی آگئی تو وہ اتمنان سے بولی ٹھیک تو ہوں یار اور شکر کرو میں اگئی ہوں گھر جاتی تو نہیں آتی پھر اور پلیز یار لڑو مت ورنہ میں جا رہی ہوں۔۔😒ماریہ بولی اچھا ناراض نہ ہو چلو اور سمرین بس بھی کردہ کب سے اس پہ غصہ کر رہی ہو۔۔😬وہ لوگ چلی گئی تھیں لیکن جہانزیب اب بھی وہیں کھڑا تھا پریشے نے اس سے بات کرنا ہی بند کر دی تھی جب آخری بار جہانزیب نے بات کرنا بھی چاہی تو بہت اکھڑے انداز میں وہ جھڑک کر بولی تھی پلیز جہانزیب مہربانی ہوگی آپکی کہ مجھے بخشیں آپ نے نہیں کیا کچھ لیکن میری لائف تو بدل ہی گئی ہے اور مزید کچھ بھی اپنے اور آپکے حوالے سے نہیں سننا چاہتی ۔۔دیکھیں میری نشکلات نہ بڑھائیں اور آپ نے میری مدد کی تھی میں ڈاری زندگی آپکی مشکور رہونگی لیکن پلیز مجھ سے بات نہ ہی کیا کریں آپ۔۔۔😱😱اور بہت سی ایسی باتیں تھیں امان نے کہا تھا کہ وہ اپنے کسی کالج فیکو سے محبت کرتی ہے نام پوچھنے پر زیب نام بتایا تھا اس نے یہی سوچتے ہوئے بس جہانزیب نے سر جھٹکا انا عروج پر پہنچی اور نفرت دل میں لاتا وہ اپنے کاموں میں لگ گیا۔۔😞😞__________$$$$__________$$$$_________۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔اوہ اب یہ زیب کون ہے بھئی۔۔۔؟؟؟😱😱قسط کیسی لگی آپ سب کی رائے کا انتظار رہے گا۔۔#SimiWrites____________$$$$________$$$$________

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/