http://novelskhazana.blogspot.com/
#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۷#_plz_dont_copy_wdout_my_permission"مجھے اپنی آغوش شفقت دے دومیرے ماتھے پر لب محبت رکھ دومجھے مہٹھی لوری سنا کرمیرے سارے غم مٹا کراپنی ٹھنڈی چھاؤں میں چھپالوماما،،،مدت ہو گئی میں روئی نہیں ہوں😭کئی راتیں کٹ گئی میں سوئی نہیں ہوںکیا آپکو میری آواز نہیں آتی اببابا،،،میں ٹوٹ گئی ہوںمر نہیں سکتی لیکنمیں ایک زندہ لاش سے کم نہیں ہوں😭۔۔۔۔۔۔۔۔______$$ _______$$$ _______$$$$پریشے آمنہ کے ساتھ سینٹر میں داخل ہوئی تو خبر ملی ایک لڑکی کی امی اس سے ملنا چاہتی ہیں اور وہ دروازہ نہیں کھول رہی۔۔۔پریشے وہاں پہنچی تو دیکھا ایک عمر رسیدہ خاتون دروازے کے ساتھ بیٹھی رو رو کر دروازہ بجا رہی ہیں۔۔۔۔😢پریشے نے سب لڑکیوں کو اپنے اپنے کام کرنے کا کہا تو وہ چلی گئیں پھر آمنہ سے بولا مجھے کیز لاکر دو اور تم جا کر میرےآج کے درس کی تیاری کرو۔۔پریشے خاتون کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے بولی روئیں نہیں آنٹی ابھی کھول دیتے ہیں دروازہ۔۔وہ نفی میں گردن ہلاتے بولی نہیں بیٹا میں بد نصیب ماں ہوں جو اپنی بیٹی کو پہچان نہیں سکی اور بہو کی باتوں میں آگئی اور میرے بیٹے نے اس الزام کے نتیجے اسے مارا بھی اور گھر سے نکال دیا میں میں کیسی ماں تھی جوخاموش تماشائی بن گئی اور آج وہ بیٹا مجھے چھوڑ گیا۔۔۔۔😭😭😱پریشے کے کچھ کہنے سے پہلے آمنہ چابی لے آئی تو وہ انکا ہاتھ تھپکتے ہوئے اٹھی اور دروازہ کھولا تو اندر اندھیرا پڑا تھا وہ خاتون کو سہارا دیتی اندر لائی صوفے پہ بٹھایا اور لائٹ آن کی تو سائرہ بیڈ کے دوسری طرف زمیں پہ بیٹھی سسک رہی تھی😧وہ دھیرےسے اسکے گئی دوزانوں بیٹھی اور اسے پکارہ تو وہ سیدھا اس سینے لگ کر روتے ہوئے بولی آپی پلیز انکو بولیں یہ جائیں یہاں سے اب میں نہیں جاؤنگی کہیں بھی۔۔۔😭پریشے نے اسے الگ کیا اسکا چہرہ صاف کیا سائیڈ ٹیبل سے پانیاٹھا کر اسے دیا پھر اسکے ہاتھ تھامتے ہوئے بولی کیا آپ کو نہیں پتہ یہ امی ہیں آپکی اس نے پریشے کو دیکھا جو اب بھی حجاب میں ہی تھی اور اسکی خوبصورت آنکھیں نظر آرہی تھیں۔۔💞پریشے نے پھر کہا دیکھو وہ کتنا رو رہی ہیں تم کیا چاہتی ہو کہ وہ ایسے روئیں تڑپیں جیسے تم یہاں روز تڑپتی ہو اور تم نے یہ نہیں سوچا اگر اللہ اس بات پر ناراض ہوگئے ۔۔۔😱سائرہ: لیکن میں کیا کروں آپی میں بہت چیخی تھی کسی نے میرا یقین نہیں کیا تھا۔۔😨تم معاف کردو بھول جاؤ سب۔۔💞کیسے؟؟😰جیسے اللہ بھول جاتا ہے تمہارے گناہ۔۔❤وہ خاتون اٹھ کر وہیں ان دونوں کے پاس آکر بیٹھ گئیں اور سائرہکے آگے ہاتھ جوڑ دئیے ۔۔🙏😢معاف کردے مجھے میری بچی۔۔😭سائرہ نے پریشے کو دیکھا تو اس نے آنکھوں سے تسلی دی اور اسکا کندھا تھپک کر حوصلہ دیا وہ فورن ماں کے ہاتھ تھام کر بیٹھ گئی اور بولی امی ایسے نہیں کریں پلیز پریشے کا ضبط جواب دے گیا وہ باہر آئی اور تاشفہ آنٹی کے آفس میں بیٹھ کر رودی😭ماما بابا کہاں ہیں دیکھیں میں ریزہ ریزہ ہو کر مررہی ہوں ٹوٹ رہی ہوں لیکن ماں کی گود اور باپ کا کندھا نہیں ہے میرے پاس آہ۔ہ۔ہ۔😱سوچنے اور رونے سے سر میں ٹیس اٹھی تو وہ اینٹی ڈیپریسڈ ٹیبلیٹ پانی سے نگل گئی اور فریش ہو کر باہر آئی تو تاشفہ آنٹی کو منتظر پایا۔۔وہ غور سے اسے تک رہی تھیں تو پریشے نظریں چرا کر بولی آنٹی وہ میں کلاس میں جا رہی ہوں۔۔😟تم سائرہ کی امی سے ملی؟؟وہ بغیر بات کا اثر لئے بولیں تو پریشے سانس کھینچ کر صوفے پہ ٹک گئی اور بولی ہممم ملی تھی وہ اب جا رہی ہے نہ اپنی امی کے ساتھ؟؟ہممم جا رہی ہے تمہیں کیا ہوا ہے؟؟نہیں کچھ نہیں ہوا مجھے کیا ہونا ہے؟؟😞دکھ رہا ہے پتھر ثابت کرنے والے لوگ کیسے حساس ہیں ۔۔۔💔وہ آکر انکے قدموں میں بیٹھی اور گود میں سر رکھ لیا پھر آنکھیں موند کر بولی ما۔۔۔۔۔ماما کی یاد اگئی بابا تو جیسے ہمیشہ ساتھ رہے لیکن آج ماما کے سینے سے لگنے کو دل کیا آنٹی اسکی آنکھ سے دو موتی ٹوٹ کر حجاب میں جذب ہوگئے۔۔۔😢تاشفہ آنٹی نے فورن بغور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری میڈیسن لے رہی ہو نہ😧؟وہ آنکھیں موندے ہی مسکرائی😊اور ماتھے پہ رکھا انکا ہاتھ اٹھا کر چوما😘اور بولی آپکو لگتا ہے آمنہ کے ہوتے میں نہیں کھاؤنگی۔۔۔وہ تعجب سے دیکھ رہی تھی تو تاشفہ آنٹی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی آمنہ اندر آئی اور بولی میں وہاں آپی کےدیر کرنے کی وضاحت دے دے کر تھک گئی اور یہاں ماں بیٹی کا رومینس چل رہا ہے ۔۔ وہ غصے سے بولی۔😤اسکی بات پر پریشے کا زور سے قہقہا😁بلند ہوا اور تاشفہ آنٹی آمنہ کو چپت رسید کرتے توبہ توبہ کرنے لگیں۔۔🙉لیکن آمنہ اور وہ پریشے کو دیکھ کر خاموش ہوگئیں جسکی ہنسی نہیں رک رہی تھی اور آنکھوں میں آنسو😂بھر گئے تھے وہ ان دونوں کے گلے سے لگ گئی اور بولی اف اللہ آپ دونوں نہیں ہوتی تو میرا کیا ہوتا ۔۔۔😍تاشفہ آنٹی نے اسے پیار کیا اور آمنہ بولی چلیں جلدی آپکی دیوانیا یادفرما رہی ہیں ۔۔😅آمنہ۔۔۔😠😠دونوں نے ایک ساتھ بولا تو وہ ہاتھ کھڑے کر کے بولی اچھا بھئی میں چپ لیکن اب چلیں ۔۔۔😗اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھنے سے دونوں مسکرا دیں اور پریشے آگے بڑھ گئی۔۔تاشفہ آنٹی دل سے پریشے کو دعائیں دینے لگیں تو آمنہ انکے پاس آئی اور کان میں بولی بس کریں یہاں میں بھی ہوں تو وہ گھورتے ہوئے اسے سینے سے لگا گئیں جس پہ وہ دہائی دینے والے انداز میں بولی یا اللہ یہ ماں بیٹی آپس میں ٹھیک رہتے ہیں میرے ساتھ تو دیکھ رہا ہے نہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔😮😮تاشفہ آنٹی مسکراتے ہوئے الگ ہوئی اور اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔😘آمنہ واحد خوش رہنے کی وجہ تھی پریشے اور انکی زندگی میں۔۔۔۔۔۔۔۔________$$$$__________$$$$$________یہ آنکھ جب بھی نم ہو، بارش کا موسم ہومجھے لاحق تیرا غم ہو اور بارش کا موسم ہواداسی جم سی جاتی ہے کسی برف کی مانندخیالوں میں اگر تم ہو اور بارش کا موسم ہو۔۔۔۔________$$$$$__________$$$$$________صبح سے کالی گھٹائیں☁آسمان پر تھیں جو کسی طوفان کینوید سنا رہی تھیں جو اصل میں پریشے کی زندگی میں آنے والا تھا ۔۔اسکی آنکھ دیر سے کھلی تھی اور سمرین کا میسج تھا کہ وہ ۱۵ منٹ میں آرہی ہے وہ ایک دم اٹھی اور تیاری کے لئے بھاگی ۔۔عینی آپی نے رات والی بات کے پیش نظر سمجھا تھا کہ آج وہ نہیں جائےگی اسلئے اٹھایا نہیں اور وہ گہری نیند سوتی رہی۔۔۔۔۔تیار ہو کر کیچن میں آئی اور خفا ہوتے ہوئے بولی عینی آپی آپ نے مجھے نہیں اٹھایا ؟؟؟😠وہ غور سے اسے دیکھتے ہوئے بولیں مجھے لگا تم نہیں جاؤگی۔۔😮وہ انکے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولی میں بلکل ٹھیک ہوں آپی اور جوس🍷دے دیں اب سمرین آتی ہوگی۔۔آج تو مانو بارش کا موسم ہو رہا ہے ۔۔ وہ تھوڑا تشویش سے بولی تو پریشے آسمان کو دیکھتے ہوئے بولی ارے آپی یہاں تو آئے روز ہی ایسا ہوتا ہے۔۔اتنے میں سمرین آگئی تو وہ جلدی سے گلاس خالی کرتے ہوئے عینی کو خدا حافظ بولتی ہوئی کیچن سے باہر آئی ماما بابا ٹیبلپر ناشتہ کر رہے تھے ان سے مل کر چادر اوڑھ لی اور باہر آگئی۔۔سمرین سے چابی لیکر ڈرائونگ سیٹ سمبھال لی تو وہ اسے پہلے جیسا خوش دیکھ کر مطمئن ہوئی اور بیٹھتے ہوئے بولیاوہو بدلے بدلے نظر آتے ہیں انداز کچھ لوگو کے۔۔۔😏تو پریشے بولی ہاں تم سے بھی مجھے دو دو ہاتھ کرنے ہیں تمہارے اندر کھانے کے علاوہ کوئی بات نہیں ٹکتی😒تو وہ منہ بناتے ہوئے بولی یار تم نے خود بھی ممی کو کہہ دینا تھا پھر میں بھی بہت ٹینس تھی اور یار ممی کو پہلے سے تمہارے بارے میں سب پتہ لگ جاتا ہے وہ فون کر کے میرا نہیں تمہارا ہی پوچھتی ہیں۔۔۔😒اچھا اچھا اب لمبی تمہید بند کرو اپنی میرا سر مت کھاؤ اب۔۔۔😏یونیورسٹی پہنچنے کے بعد اپنے ڈیپارٹمینٹ کی طرف جاتے پریشے کو لگا سب اسے عجیب طرح دیکھ رہے ہیں کچھ کچھ شک سمرین کو بھی ہوا دور سے کچھ لوگ کھڑے دکھائی دئیے اور کسی بات پر بحث کر رہے تھے شہزاد اور ماریہ انہیں دیکھکر بھاگے آئے اور بولے یہ یہ سب کیا ہو رہا ہے پریشے تم اور جہانزیب کل کہاں تھے اس سوال پر سمرین اور پریشے پتھر ہو گئے۔۔۔۔😱😱__________$$$__________$$$___________کہتے ہیں خدا نے اس جہاں میں سبھی کے لئےکسی نہ کسی کو ہے بنایا ہر کسی کے لئےتیرا ملنا ہے اس رب کا اشارہ مانومجھ کو بنایا تیرے جیسے ہی کسی کے لئےکچھ تو ہے تجھ سے رابطہکچھ تو ہے تجھ سے رابطہتو ہم سفر ہےپھر کیا فکر ہےجینے کی وجہ یہی ہےمرنا اسی کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞جہانزیب تیاری کرتے ہوئے سونگ سن رہا تھا جو اسے ایسا لگ رہا تھا اسکے دل💗کی کیفیت بیان کر رہا ہو وہ گنگناتے ہوئے ریڈی ہوا اور فون آن کیا تو شہزاد کا ٹیکسٹ تھا کہ آج وہ اپنی گاڑی میں جائےگا ماریہ کے ساتھ ۔۔جہانزیب مسکراتے ہوئے فون جیب میں ڈالتا پورچ میں آیا، آسمان جیسے برسنے کو تیار تھا وہ ایک نظر اوپر دیکھتا گلاسز لگاتا گاڑی میں بیٹھا اور یونی کے لئے روانہ ہوا۔۔۔_________$$$$__________$$$$_____پریشے بولی ک۔کیا بول رہے ہیں آپ م۔میں اور جہانزیب۔۔۔۔۔ آگے جملہ پورا نہیں ہوا اور ماریہ بولی ہاں وہ وہ تم دونوں کی تصویریں وہاں جو۔۔😨سمرین بھاگ کر گئی اور جو منظر اس نے دیکھا تو منہ پہ ہاتھ رکھ کر پیچھے ہوئی اور پریشے کو دیکھا جو خود بھیآہستہ قدم اٹھاتی اس طرف آئی😰اور تصویریں دیکھتے ہی گر گئی سمرین نے اسے تھاما😱شہزاد اور ماریہ بھی آئے اور بولے یہ سب کیا ہو رہا ہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔پریشے کیپشن دیکھ رہی تھی" مائیاس لو مائی لائف""لو پریشے"😰"وی گیٹ میرڈ سون"😵پریشے کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں دفن ہو جائے۔۔۔ وہ روتےہوئے اپنا تماشہ دیکھ رہی تھی۔😭امان وہاں آگیا اور پریشے کو بہت لعنت ملامت کرنے لگا اور بولاتمہیں اپنی نہیں تو خالو کی عزت کا پاس رکھ لیتیں ۔۔😵سمرین چیخ کر بولی تم تو خدا کا واسطہ اپنی زبان بند کرو۔۔😧کیوں میرے بند کرنے سے کیا ہوگا یہ یہ شرم ناک خبر پتہ نہیں کہاں کہاں پہنچ گئی ہوگی۔۔😨توبہ توبہ یہ ہی شخص ملا عشق لڑانے کو دیکھو کیا کیا اس نے۔۔۔😰شہزاد بولا نہیں کچھ غلط ہے وہ ایسا نہیں ہے۔۔😱پریشے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھ کر بولی تو تو کیا میں ہوں ایسی۔۔۔۔😭😦😰وہ خاموش ہو گیا اور امان بولا ارے تم تو بہت گری ہو لڑکی ہو پریشے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ تم بھی۔۔ کانوں کو ہاتھ لگاتا استغفار کرنے لگا۔۔😈جہانزیب کے آنے کی کسی نے خبر دی تو شہزاد اور ماریہ بھاگے اس سے ملنے اور امان پلان کے مطابق پریشے کو جہانزیب کے خلاف بھرنے لگا ۔۔۔😱پریشے کے سوچنے سمجھنے کی ساری حسیں سلیب ہو گئی تھیں وہ بھی سیدھی بھاگی تو امان اور سمرین بھی ساتھ ہو لئے۔۔جہانزیب گنگناتے ہوئے ازلی بے نیازی سے چلتا آرہا تھا جب شہزاد اور ماریہ کو اپنی طرف آتے دیکھا تو رک گیا وہ پہنچے تو بولا کیا بات ہے کتے پیچھے لگے ہیں کیا۔۔۔😮وہ فورن بولا پھولی سانسوں کے درمیان بھائی یونی۔۔ پیج دیکھ اور تو بتا کیا ہو رہا ہے یہ سب؟؟؟😰جہانزیب نے دیکھا کہ اب بری طرح روتے😭ہوئے پریشے بھی آرہی ہے تو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا اور بولا سب ٹھیکہے؟؟😵ماریہ بولی نہیں تم تم دیکھو توو۔۔😨اس نے جیسے فون نکال کر پیج دیکھا تو آنکھیں باہر آنے کو ہو گئیں۔۔۔۔😱وہ بولا یہ کیا بکواس ہے کس نے کیا وہ ان دونوں کو حیرانی سےدیکھتے ہوئے بولا۔۔😵شہزاد نے کہا بھائی نام تیرا آرہا ہے اور پوچھ ہم سے رہا ہے۔۔😰ابھی وہ کچھ بولتا کہ پریشے وہاں پہنچی اور گٹھنو پر ہاتھ رکھے تیز تیز سانس لینے لگی ۔۔جہانزیب اسکے پاس گیا اور شانے پر ہاتھ رکھ کر بولا دیکھو پ۔پریشے مجھے نہیں پتہ یہ سب۔۔۔۔😦چٹاخ۔۔۔۔۔۔😰😨اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی پریشے اسکا ہاتھ جھٹکتیسیدھی ہوئی اور زوددار تھپڑ دے مارا۔۔۔😱کچھ دیر کے لئے سب دنگ رہ گئے ۔۔جہانزیب منہ پہ ہاتھ رکھے بے یقینی سے پریشے کو تک رہا تھا۔۔😵امان اور سمرین بھی وہاں پہنچ گئے تھے اور امان دل ہی میں خوش ہو رہا تھا۔۔😈سمرین نے خود دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہوئے تھے۔۔پریشے نے جہانزیب کا کالر پکڑا اور بولی آپکو نہیں پتہ واہ جہانزیب صاحب آپکی مہربانی سے میں سارے جہان میں بدنام ہوگئی اور آپ کہتے ہں آپکو نہیں پتہ۔۔۔😰جہانزیب کا سکتہ ٹوٹا تو وہ مٹھیاں بھینچتا ہوا بولا میں واقعینہیں جانتا تم رکو تو میں کچھ کرتا ہوں نہ۔۔😵وہ اسکا کالر جھٹکتی روتے ہوئے بولی اب کیا کرنا باقی ہے کل کل عزت بچانے والا فرشتہ آج درندہ ثابت ہو گیا میرے لئے کیا باقی ہے اب کاش کاش موت آجائے۔۔۔😭سمرین نے اسے تھاما بولی پریشے پلیز ریلیکس یار ۔۔۔شہزاد اور ماریہ ہونق بنے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے جنہیں بات سمجھ نہں آرہی تھی پھر شہزاد ماریہ کے کان میں کچھ کہتا وہاں سے چلا گیا اور ماریہ نے اسٹوڈینٹس کو چلتا کیا اور سمرین کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو ایک طرف لے آئی۔۔۔پریشے کے حواس جواب دینے کو تھے وہ کچھ سن سمجھ نہیںرہی تھی بس جو منہ میں آرہا تھا بولے جا رہی تھی۔۔۔😦شادی اور آپ سے کیا بکواس کیپشن تھی میں میں ایسے انسان سے مر کر بھی نہ کروں مجھے مجھے آپ نے تباہ ہی کر دیاجہانزیب۔۔کیا دشمنی تھی آخر آپکو مجھ سے۔۔اب کیا ہوگا سمرین ۔۔۔وہ روہانسی ہو کر سمرین سے بولی اور اتنے میں اسکا فون بجا۔۔۔😦😦سمرین نے اسکے پرس سے نکالا تو عینی کالنگ لکھا آرہا تھا وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگی پھر سمرین نے فون اسپیکر پر ڈالا ۔۔عینی کی روتی آواز آئی۔۔😢مانو کہاں ہو اور یہ یہ سب کیا بول رہی ہیں سمینہ خالہ؟؟😰پریشے اور سمرین نے فورن امان کو دیکھا ۔۔پھر ہمت کر کے بولی آپی آپ رو کیوں رہی ہیں کیا کیا ہوا ہے؟؟😢😱مانو پلیز آؤ گھر با۔۔۔بابا کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے احد وانی اور ماما گئے ہیں انہیں لے کر میں انتظار کر رہی ہوں تمہارا آجاؤ پلیز سمینہ خالہ بہت غلط باتیں کر کے گئی اور تم تو کہہ رہی تھیں سب ٹھیک ہے پھر یہ کونسی تصویروں کی بات کر رہی تھی؟؟تم سن رہی ہو مانو؟؟😨😨😵عینی کی بات پر سب بت بنے کھڑے تھے ایسا تو امان نے بھی نہیں سوچا تھا ۔۔سمرین نے کال کٹ کی اور پریشے کو خوف زدہ نظروں سے دیکھا اسے ہلایا تو وہ بولی بابا ۔۔۔ ہارٹ اٹیک۔۔۔ نہیں۔۔۔۔😱اور زمین بوس ہوگئی سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔۔امان اسکی طرف بڑھا تو سمرین دھاڑی تم تم دفع ہو جاؤ😠اپنی ماں کو بھی بتا آئے کیسے لوگ ہو تم بچپن سے اسکے پیچھے پڑے ہو مار کر ہی دم لوگے کیا۔۔ چلے چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔😡وہ بولا اچھا اسکے کرتوت بہت اعلی ہیں نہ کتنی پارسا بنتی ہے اور کام دیکھو اسکے ساتھ رنگ۔۔۔😈جہانزیب جو کب سے خاموش تھا اسکی بات پوری ہونے سے پہلے بولا۔۔بسس اب ایک لفظ نہیں کچھ نہیں ہوا ہمارے درمیان۔۔اچھا تو سب تصویریں جھوٹی ہیں کیا۔۔ امان چبھتے انداز میں بولا ۔۔۔۔😈جہانزیب چپ ہوگیا تو وہ طنزیہ ہنستا ہوا کہنے لگا جا رہا ہوں مجھے بھی شوق نہیں اس جیسی بے حیا لوگوں میں رکنے کا۔۔۔😵ماریہ پانی لے آئی کچھ دیر کی جدوجہد سے وہ ہوش میں آئی اور رونے لگی ۔۔😭سمرین بابا ۔۔۔ کو کچھ نہیں ہوگا نا۔۔۔پریشے چلو ہم چلیں نہیں ہوگا انکل کو کچھ۔۔یا اللہ میرے بابا کو نہ چھیننا اب میں میں کیا کرونگی ورنہ مجھےانہیں بتانا ہے سمرین میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ تمہیں پتہ ہے نہ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔😵😱😭سمرین بھی رو رہی تھی اسکی جان سے پیاری دوست کی کیا حالت ہو گئی تھی۔۔۔جہانزیب نے کہا میں چھوڑ آؤں آپکو۔۔پریشے ہاتھ جوڑ کر بولی آپکی اور مہربانی کی ضرورت نہیں ہے اتنی ہی کافی ہے پلیز پلیز مجھ سے دور ہی رہیں۔۔🙏😢لیکن پریشے میں بھی بے قصور ہوں میں نے۔۔۔😦جہانزیب آپکا کیا گیا کچھ بھی نہیں اور اگر میرے بابا کو کچھ ہوا تو میرا رہےگا کچھ بھی نہیں ۔۔😭وہ روتے ہوئے کہتی آگے بڑھ گئی سمرین بولی کچھ کر سکتےہیں تو اس بدنامی کو مزید پھیلنے سے روک لیں ورنہ مر جائیگیوہ۔۔۔😱اور پریشے کے پیچھے بھاگی۔۔۔شہزاد واپس آیا تو دیکھا جہانزیب سر تھامے بیٹھا ہے اور ابھی کچھ کہتا کہ ماریہ پانی لے آئی اور بولی آگئے تم۔۔؟جہانزیب کو پانی تھمایا جو وہ ایک سانس میں پی گیا۔۔۔شہزاد اسکے سامنے کرسی پہ بیٹھا اور بولا اب بکواس کرو گے کہ کل کیس ہوا تھا؟؟😠جہانزیب نے اسے دیکھا اور کہا کہ تم بھی ایسا سمجھتے ہو۔۔؟😦وہ نفی میں گردن ہلاتے بولا میں نے یہ نہیں کہا لیکن وہ تصویریں بھی جھوٹی نہیں ہیں۔۔جہانزیب نے چہرا جھکا کر پوری کہانی اسے بتادی۔۔ماریہ اور شہزاد تو بت ہی بن گئے۔۔😵پھر ماریہ بولی پریشے کے ساتھ اچھا نہیں ہوا ہے اوہ گاڈ اگر اب اسکے بابا۔۔۔۔😱آگے بولا نہیں گیا اور وہ سر تھام بیٹھ گئی۔۔شہزاد نے کہا تو یہ تصویریں کس نے لی کوئی تمہارے خلاف تھا یا پریشے کے؟؟😧کیونکہ اسے دھوکے سے بلایا تھا لائبریری اور سمرین تو ہمارے ساتھ تھی اپنا موبائل فائنڈ کر رہی تھی اوہ خدایا جہانزیب اب کیا ہوگا۔۔۔😨جہانزیب نے کہا یار حد کردی پریشے کو مجھ پر شک ہے مجھ پر؟؟😟ماریہ: جہانزیب وہ ایک لڑکی ہے ڈیپارٹمینٹ میں تصویریں دیکھ کر کیا کچھ اسے سننے کو نہیں ملا تم سوچ بھی نہیں سکتے اور وہ تو ویسے ہی اتنی زیادہ الگ ڈری سہمی رہتی ہے اوپر سے یہ امان جیسے لوگ توبہ کل تک اس سے شادی کی خبریں پھیلا رہا تھا اور آج کیا کیا نہیں بولا وہ ۔۔😰پریشے بیچاری نازک سی لڑکی کہاں سے برداشت کرتی اسکی باتیں ۔۔😧جہانزیب: اس نے لیکن مجھے تھپڑ مارا ۔۔ آج تک کسی نے ہاتھنہیں اٹھایا مجھ پر۔۔😞ماریہ: مجھے حیرت ہو رہی ہے تم پر نا کہ اسکی پوزیشن سمجھو جو صرف فلحال تمہاری وجہ سے خاک میں مل رہی ہے تمہیں اپنی پڑی ہے حد ہے بھئی۔۔😦وہ پوری طرح پریشے کی طرفداری کر رہی تھی لیکن جہانزیب کی انا بار بار اسے پریشے کو سمجھنے سے روک رہی تھی۔۔۔🔥شہزاد: میں نے پوسٹرز ہٹوا دئیے ہیں اور پیج سے بھی تصویریں ہٹوائیں ہیں ۔۔۔۔ماریہ: اللہ کرے کسی نے سیو نہ کی ہوں بس۔۔امان کی مدر تو ویسے بھی پریشے سے خار کھاتی ہیں سمرینسے پتہ چلا تھا پتہ نہیں کیا کیا بکواس کی ہوگی اور اسکی ماما تو او نہیں۔۔۔😱شہزاد: اب کیا ہوا تمہیں؟؟😵ماریہ: شہزاد وہ اسکی اسٹیپ موم ہیں ۔ وہ روہانسی ہو کر بولی۔۔😨جہانزیب اور شہزاد دونوں ساتھ بولے کیا۔۔۔۔۔😰ہاں سمرین نے ہی کہا تھا ایک دن جس پہ پریشے خفا ہوئی تھی لیکن بعد میں سمرین سے میں نے کنفرم کر لیا تھا۔۔۔ اب کیا ہوگا۔۔😵شہزاد: فلحال دعا کر سکتے ہیں کہ اسکے فادر کو کچھ نہ ہو۔۔۔ وہ آہ بھرتے ہوئے بولا۔۔😦اسکی بات پر دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔😢😢________$$$$__________$$$$_________کوئی تو ہو جو میری خاموشی سے گھبرائے💔کسی کو تو میرے لہجے کا دکھ نظر آئے💔________$$$$___________$$$$_________سمرین اور پریشے گھر سے عینی کو لیکر ہسپتال پہنچے سارے راستے وہ اپنے بابا کی زندگی کی دعائیں کرتی آئی تھی۔۔کوریڈور میں آتے ہی ماما احد اور وانیہ کے ساتھ پھپو اور تائی والے بھی نظر آگئے۔۔وہاں پہنچتے ہی ریحانہ بیگم اٹھی اور پریشے کو آکر زور دار تھپڑ رسید کر دیا وہ ویسے ہی نڈھال تھی گرجاتی اگر احد نہ سنبھالتا۔۔😱😭وہ چہرے پر ہاتھ رکھے زخمی انداز میں بولی ماما۔۔مت بول مجھے ماں بے غیرت تیری وجہ سے آج تیرا باپ ہسپتال میں پڑا ہے۔۔😵احد بولا ماما چپ کر جائیں وقت تو دیکھیں۔۔ہاں ریحانہ بچی کی حالت دیکھو تم نے اسے پہلے ہی مار دیا پوچھ تو لیتیں تائی پریشے کو پیار کرتے اپنے حصار میں لیتی ہوئی بولیں۔۔😧😦کیا کہہ رہی ہیں بھابی مجھ سے اسکا وجود ہی برداشت نہیں ہو رہا میں اسکی جان لے لونگی اگر سجاد کو کچھ ہوا تو۔۔ وہ زہر خند لہجے میں پریشے کو گھورتے ہوئے بولی جو انہیں التجائی منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ کیسے وہ اب وانی کو سینے سے لگائے چپ کروا رہی تھیں ۔۔😧😦کاش میری ماما بھی ہوتی آج دل سے ایک آہ نکلی تھی۔۔😭اللہ جی میرے بابا کو کچھ مت کرنا پلیز مجھ پر رحم فرما مالک میں کیا کرونگی ورنہ۔۔ وہ روتے ہوئے خدا دعائیں مانگ رہی تھی۔۔😭😭سمرین نے اسے پیار کیا تو وہ بےبسی سے اسے دیکھنے لگی۔۔😦اس نے اسے حوصلہ دیا۔۔پریشےآئی سی یو کے کمرے میں بابا کو دیکھنا چاہتی تھی لیکن اس میں ہمت نہیں تھی وہ عینی آپی اور احد کے پاس آئی تو وہ دونوں اسے دیکھنے لگے۔۔😦آپ ۔۔ آپ دونوں کو بھی لگتا ہے کہ میں میں ایسا کچھ کرونگی؟؟ وہ سہمے لہجے میں بولی۔۔😧احد تو چھوٹا تھا لیکن پریشے سے بہت محبت کرتا تھا ۔💞عینی تو سب جانتی ہی تھی اس نے کہا مجھے تم پر یقین ہے مانو میری جان۔۔💞احد تو اسکے گلے لگ کر رو دیا اور بولا آپی بابا کو کچھ نہیں ہوگا نہ؟؟😭نہیں نہیں ہوگا ہمارے بابا کو کچھ عینی نے بھی دونوں کے گرد بازو پھیلا دئیے وہ تینو ہی رو رہے تھے ۔۔😭پھپو نے آکر انھیں چپ کروایا اور حوصلہ دیا۔۔لیکن پریشے بلکل ٹوٹ چکی تھی اور ڈر یہی تھا کہ اگر بابا نے اسکا یقین نہ کیا تو۔۔۔۔۔😨😰ڈاکٹر نے 12 گھنٹے بہت کریٹیکل بتائے تھے۔۔سمرین رات کو چلی گئی تھی۔۔۔پریشے وضو کئیے بس ایک کونے میں بیٹھی تھی رب سے لو لگا کر جو ہر شہہ کا بادشاہ ہے جس کے ایک کن سے دنیا بدل جاتی ہے وہ اپنے بندوں کو انکی بساط سے زیدہ دکھ نہیں دیتا ۔۔۔💞سب ہی دعا گو تھے آخر رات کو خدا نے انکی سن لی اور سجاد صاحب کو ہوش آگیا ہے لیکن ابھی وہ اسٹیبل نہیں ہیں اور مزید ٹیسٹ بھی باقی ہیں رپورٹس کل تک آئیں گی۔۔ڈاکٹر نے بتایا تو پریشے سے رہا نہیں گیا اور بولی میں میں مل سکتی ہوں ڈاکٹر؟؟😦ریحانہ بیگم نے فورن اسے کھینچا اور بولی تم تو مت ہی جاؤ انکے سامنے تمہاری وجہ سے ہی تو۔۔😠وانی بات کاٹ کر بولی امی پلیز چپ ہو جائیں ۔۔۔ڈاکٹر نے کہا مریض کی حالت ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہے لیکن وہ کسی وینا کو پکار رہے ہیں ۔۔💞پریشے چہرا چھپائے رودی۔۔😭ڈاکٹر نے بات جاری رکھی اور بولے کہ اگر آپ وینا کو بلا لیں تو بہتر ہے۔۔تائی اور پھپو نے ریحانہ بیگم کو گھورا جو اب بھی کھا جانے والی نظروں سے پریشے کو دیکھ رہی تھیں۔۔تائی شفقت سے پریشے سے بولیں جاؤ بیٹا بابا بلا رہے ہیں وہ ان سے لگ کر بری طرح رو دی۔۔😭انہوں نے اسے دلاسہ دیا اور ڈاکٹر سے بولیں یہ ہے وینا۔۔۔۔۔۔کچھ دیر میں وہ دروازہ کھولے اندر داخل ہوئی اور بابا کو دیکھ کردل پھر بھر آیا سجاد صاحب بہت کمزور لگے اسے۔۔😢کسی آہٹ سے سجاد صاحب نے آنکھیں کھولیں اور دروازے کو دیکھا جہاں انکی زندگی انکی آنکھو کا نور دروازے پر کھڑی انہیں تک رہی تھی۔۔۔💞وہ ڈرپ لگا ہاتھ مشکل سے اٹھا کر اسے بولے میرا بیٹا میرے پاس نہیں آئے گا۔۔😧اور پریشے دوڑ کر آئی اور انکے بازو میں سما گئی۔۔بابا۔۔۔ بابا۔۔۔ آپ نے تو ڈرا ہی دیا۔۔😨میرا کیا ہوتا بابا آپ نے یہ نہیں سوچا۔۔😱وہ خاموشی سے اسے سہلاتے رہے تو وہ چہرا اٹھا کر خوف سےانہیں دیکھتے ہوئے بولی بابا۔۔۔ آپکو مجھ پر یقین ہے نا۔۔۔؟؟؟😨😰سجاد صاحب نے غور سے اسے دیکھا جسکی حالت خود ٹوٹی بکھری تھی وہ اس کے ماتھے پر بوسہ😘دیتے ہوئے دھیرے سے بولے چاہے کوئی بھی کچھ بھی کہہ دے نا میری جان مجھے آپ پر بھروسہ ہے کہ میری وینا کبھی میرا سر نہیں جھکا سکتی وہ تو میرا فخر ہے۔۔۔۔😍انسان ساری دنیا سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہے اگر اسکے ماں باپ کا ساتھ اور بھروسہ پاس ہو ہمیں اپنی اولاد کو اچھا برا بتانا چاہئیے اور انہیں یہ یقین دلانا چاہئیے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ ہیں کبھی بھی ڈرا دھمکا کر ہم بات نہیں منوا سکتےکیونکہ جو بات محبت اور شفقت سے کی جائے وہ زیادہ اثر کرتی ہے۔۔۔💞سجاد صاحب کی بات سے پریشے نے خود میں نئی جان محسوسکی اور وہ ان سے لپٹ کر بری طرح سسک اٹھی۔۔😭اور آہستہ آہستہ کل ہوئی پوری آپ بیتی انکو سنا گئی۔۔😞وہ بھی رو رہے تھے کہ انکے ہوتے ہوئے انکی بیٹی کتنی مشکل میں تھی اور وہ کل جان ہی نہ پائے۔۔💔بہت دیر تک اسے حوصلہ دیتے رہے اور بار بار پیار کرتے رہے پھر بولے جاؤ اب سب کو بلا لاؤ میں نے خود ڈاکٹر سے کہا تھا کہ وہ صرف تمہیں بھیجیں میرے پاس مجھ سے برداشت نہیں ہوا کہ کوئی میری بیٹی کے لئے ایسے لفظ استعمال کرے۔۔۔💞پریشے انکے ہاتھ چومتے😘ہوئے بولی بابا زیادہ ٹینس نہ ہوں بس جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔۔باہر سے اس نے سب کو اندر بلایا اور خود ایک طرف شکرانے کے نفل ادا کرنے چلی گئی۔۔آخر اسکا مان قائم تھا اسکے بابا ٹھیک تھے اور اسکا یقین بھی کرتے تھے اس نے رو رو کر خدا کا شکر کیا۔۔😢💞سب کمرے میں ہی تھے جب وہ آئی اندر اور خاموشی سے صوفے پر تائی کے پاس بیٹھ گئی انکے بیٹے فرہاد بھی وہیں تھے۔۔۔تائی نے اسے پیار کیا تو وہ مسکرا دی ۔۔پریشے اب خود کو محفوظ اور توانہ محسوس کر رہی تھی یہ سب اسکے بابا کے یقین کی بدولت تھا۔۔احد اور وانی بابا کے اطراف بیٹھے تھے انکے ہاتھ تھامے عینی اور ریحانہ بیگم پاؤں کی طرف تھے باقی پھپو، پھپا اور سونیا انکی بیٹی دوسری بینچ پر تھے کچھ دیر بعد سب چلے گئے تھے اور وہاں صرف فرہاد احد اور پریشے ٹہرے تھے پریشے بھی ضد کر کے رکی تھی آخر کیسے جاتی وہ اپنے بابا کو چھوڑ کر۔۔۔😟صبح سب ہی آگئے تھے تو وہ تینو فریش ہونے چلے گئے۔۔۔سونیا، وانی اور ریحانہ بیگم دن میں کھانا بنانے کی غرض سے پھپا کے ساتھ گھر چلے گئے تھے ۔۔۔پریشے گھر سے سمرین کے پاس گئی تھی پتہ بھی تو کرنا تھا کہ سب ہٹا دیا گیا یا نہیں۔۔اس وقت کمرے میں بابا کے پاس تائی جان ، پھپو اور عینی تھے۔۔احد اور فرہاد ڈاکٹر کے پاس تھے۔_______$$$$_______$$$$_______فرہاد سونیا کو پسند کرتے تھے یہ بات عینی اور پریشے جانتی تھیں اور کسی حد تک پھپو کو بھی خبر تھی کیونکہ سونیا بھی پسند کرتی تھی لیکن بولتی نہیں تھی کچھ۔۔۔💞تائی جان کو فرہاد کے لئے پریشے پسند تھی جب کہ وہ دونوں کی انڈرسٹینڈنگ بھائی بہن والی تھی😱۔۔فرہاد نے ہی پریشے کو بچپن سے پڑھایا تھا اور اسی کی دیکھا دیکھی میں پریشے کو بھی بزنس ہی میں دلچسپی تھی۔۔سجاد صاحب کے بھائی کے انتقال کے وقت فرہاد انٹر میں تھا۔۔سجاد صاحب نے ہمیشہ اسے بیٹے جیسا ہی سمجھا اور ہمیشہ اسکا ساتھ دیا تھا۔۔۔اب پریشے کا یہ قصہ سن کر تائی جان سے رہا نہیں گیا اور وہ بولی بھائی صاحب آپ سے کچھ مانگو تو وہ دینگے مجھے۔۔؟؟😨انکی بات پر پھپو اور عینی سمیت سجاد صاحب کو بھی تعجب ہوا اور بولے بھابی آپ بولیں میرے بس میں ہوا تو ضرور ۔۔۔ہممم تو بھائی صاحب پریشے دے دیں مجھے۔۔۔سجاد صاحب حیرانی سے بولے کیا مطلب ہے آپکا میں سمجھا نہیں؟؟!!میرا مطلب ہے کہ فرہاد کے لئے پریشے کا ہاتھ مانگ رہی ہوں آپ سے۔۔۔اس بات پر پھپو کا چہرا بجھا لیکن وہ بھی پریشے سے بہت پیار کرتی تھیں انکا بیٹا ہوتا تو وہ بھی اسے اپنی بہو بناتی ۔۔۔😦سجاد صاحب بولے بھابی فرہاد میرا بیٹا ہے اور مجھے کوئی اعتراض بھی نہیں لیکن پریشے کی مرضی سے کرونگا میں جو بھی وہ چاہے۔۔۔💞بھائی صاحب ٹھیک ہے آپ پوچھ لیں اس سے۔۔عینی کچھ سوچتے ہوئے بولی وہ تائی جان اصل میں پریشے انکارکر دیگی۔۔سجاد صاحب اور تائی نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ بولی میرا مطلب ہے وہ فرہاد کو بھائی سمجھتی ہے اور۔۔۔وہ چپ ہوئی تو سجاد صاحب اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے اور۔۔۔اور یہ کہ بابا فرہاد اور سونیا ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں یہ بات پریشے بھی جانتی ہے وہ کبھی نہیں کریگی فرہاد سے شادی۔۔۔تائی جان نے کہا یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟؟میں سچ کہہ رہی ہوں تائی جان اور جہاں تک مجھے لگتا ہے پھپو بھی جانتی ہیں۔۔۔😧وہ سب انکو دیکھنے لگے تو وہ اثبات میں سر ہلا کر کہنے لگیں ہممم مجھے پتہ ہے لیکن پریشے بھی میری بیٹی ہے اور اگر وہ اور فرہاد بھی ساتھ ہوں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بھابی😮۔۔۔سجاد صاحب بولے لیکن مجھے تو ہے بھئی میرے لئے سببچے برابر ہیں اور فرہاد میرا بیٹا ہے تو بہن تم کہو میرے بیٹے کے لئے تمہاری بیٹی کا ہاتھ دوگی؟؟وہ مسکراتے ہوئے بولیں بھائی سونیا بھی آپکی بیٹی ہے مجھے کیا اعتراض ہوگا۔۔۔😊بھابی آپ کیا کہتی ہیں۔؟بھئی میں کیا کہوں سونیا بھی بڑی پیاری بچی ہے میرے بیٹے کی پسند ہے تو مجھے بھی نہیں کوئی اعتراض😄۔۔۔اتنے میں دروازہ کھلا احد اور وانیہ خوشی سے چہکتے ہوئے اندر آئے پھر مٹھائی تو بنتی ہے بھئی واہ واہ۔۔۔😏عینی نے کہا تمہیں شرم آتی ہے چھپ کے باتیں سن رہے تھے بدتمیز۔۔۔😒وانی بولی لیں بھئی صرف ہم ہی نہیں کوئی اور بھی ہے۔۔۔😏تائی جان نے کہا کون؟؟تو احد بولا بھائی آبھی جائیں اندر شرمائیں مت اب کیا شادی فکس ہوگی جب آئیں گے۔۔۔😁تو جھجکتے ہوئے فرہاد اندر آیا اور سب کو سلام کرتے ہوئے تائی جان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔انہوں نے اسکا کان کھینچا اور بولی ماں کو نہیں کہہ سکتے تھے اور کب سے چل رہا تھا ایسا..؟؟؟ وہ شرارت سے بولی۔۔😂فرہاد بولا امی کان تو چھوڑیں پلیز اور ۔ اور ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔😓تائی جان بولی چلو بھئی پھر بات ختم سمجھیں یہ تو کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہے۔۔۔وہ ایک دم بولا نہیں امی ایسا نہیں کہیں میں نے کب منا کیا۔۔۔😦اسکے اس طرح کہنے سے سب ہنس دئیے اور احد مٹھائی لے آیا۔۔۔پھپا ریحانہ بیگم اور سونیا کو لے کر آئے تو تائی جان نے سونیا کو اپنے پاس بٹھایا اور بولی ہاں بھئی آپکو تو اعتراضنہیں اگر آپکی بیٹی میری بیٹی بن جائے وہ پھپو کے پاس بیٹھتے ہوئے بولے یہ آپکی بھی بیٹی ہے بننے والی کیا بات۔۔۔پھپو نے بتایا فرہاد اور سونیا کا رشتہ طے ہو رہا ہے اسکی بات کر رہی ہیں بھابی۔۔۔اس انکشاف پر سونیا نے فرہاد کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اسلئے فورن گردن جھکا گئی اور فرہاد مسکرانے لگا ۔۔😍بھئی بھابی سانس مانگ رہی ہیں آپ ہماری سونیا فورن انکے پاس جا کر گلے لگ گئی تو وہ ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے رضامندی دے گئے اور سب نے منہ میٹھا کیا۔۔۔پریشے اور سمرین وہاں آئی تو بہت خوش ہوئیئں اس خبر سے اور پریشے نے منہ بھر کر مٹھائی فرہاد بھائی کو کھلائی۔۔امان اور سمینہ خالہ کا بائیکاٹ تھا تو ریحانہ بیگم نے انہیں منا کر دیا تھا آنے سے۔۔امان کی آپا کی شادی ہوئیوی تھی وہ اچھی تھی اور اس وقت اپنے شوہر اور ایک سالہ بیٹی کے ہمراہ وہاں آئیں تھیں انہو ہے پریشے سے معافی مانگنا چاہی لیکن وہ منا کر گئی کہ اسے ان سے کوئی گلہ نہیں بس اسکے بابا ٹھیک ہوجائیں جو ابھی بھی تکلیف میں ہیں۔۔۔ڈاکٹر رپورٹس اور چیک اپ کے بعد بولے آپ میں سے کوئی میرے ساتھ آئے فرہاد اور احد ہی گئے لیکن پھر کچھ سوچ کر پریشے بھی انکے پیچھے گئی ۔۔۔ڈاکٹر نے کہا دیکھیں اللہ نے کرم کیا ہے کہ اتنے میجر اٹیک کے بعد بھی دوسری زندگی دی ہے اور ہاں کسی گہرے صدمے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اور وہ فالج کے اٹیک سے محفوظ رہے۔۔ڈاکٹر آپ بتائیں ہم بابا کو گھر لے جا سکتے ہیں۔۔۔؟جی لیکن ایک مہینہ انہیں فل بیڈ ریسٹ کرنا ہوگا دوسرا وہ اب زیادہ دیر بیٹھ بھی نہیں سکتے اور چلنے میں بھی انہیں پروبلم ہو سکتا ہے۔۔😱وہ تینو تو ڈانس روکے سن رہے تھے۔۔۔پریشے: تو کیا بابا ٹھیک نہیں ہونگے۔۔۔؟😨ایسا کچھ ابھ کہنا پوسیبل نہیں ہے یہ کچھ میڈیسن ہیں یہ آپ دیںاور اس میں پرسکرپشنز بھی ہیں وہ زیدہ تیز مصالحے بلکل نہیں کھائیں اس بات کا دھیان رہے ویسے کیا جاب تھی انکی..؟؟احد نے کہا بابا مینیجر ہیں احمد انٹرپرائیزر میں۔۔اوہ ایسی پوسٹ بہت کام اور توجہ مانگتی ہے آپ لوگ فلحال ایک منتھ تو انہیں بلکل نہیں جانے دینا فل بیڈ ریسٹ سے اگر اللہ نے چاہا تو وہ پھر صحت مند ہو جائیں گے۔۔۔تینو نے آمین کہا اور گھر کی اجازت بھی مل گئی تھی تو یہ بات کسی کو نہیں بتائی اور گھر اگئے بس ایک مہینے کا ریسٹ بتا دیا۔۔۔ریحانہ بیگم کے طنز اور باتیں عروج پر تھیں جنکا اثر نہیں لے رہی تھی پریشے کیونکہ اسکے بابا اس پر یقین کرتے تھے اور اس وقت اسے انکی صحت کی ٹینشن تھی ۔۔۔😱😱_____$$$$__________$$$$$$________جاری ہے۔۔۔۔قسط کیسی لگی بتائیے گا ضرور۔۔#SimiWrites

No comments:
Post a Comment