http://novelskhazana.blogspot.com/
#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۶#_plz_dont_copy_wdout_my_permissionسر مقتل اے قاتل جو کبھی تیرا گزر ہوچپکے سے پونچھ لینا، آنکھ جو ذرا نم ہومیں ملونگی تجھے، ادھوری داستان کی طرحپیاسا بادل، دھندلی راکھ، جیسے ٹوٹا ہوا تارا ہو۔۔۔_________ __________ __________6 مہینے گزر گئے تھے پریشے کو گئے ہوئے😔کہیں سے کچھ پتہ نہیں لگا جس سے احد یا شاہزیب صاحب اس تک پہنچتے دونوں گھروں میں چھ مہینے سے اداسی کا بسیرا تھا😓ریحانہ بیگم کو ایسی چپ لگی تھی کہ وہ کمرے کی ہو کر رہ گئیں تھیں اور رو رو کر خدا سے پریشے کی سلامتی کی دعا کرتی تھیں😖احد اور فری انکا بہت خیال رکھتے تھے اور انکا چھ ماہ کا بیٹا عمر ان سب کی جان تھا💞۔۔۔فاطمہ بیگم نے جہانزیب سے بول بات بند کر رکھی تھی وہ چاہ کر بھی اس سے نہیں بول پاتی تھیں😑اور شاہزیب صاحب وقت کے ساتھ ساتھ ڈھلتے جا رہے تھے😓بیمار وہ پہلے بھی تھے انکا آفس پریشے سنبھالتی تھی جو کہ اب انکی طبیعت کے پیش نظر زبردستی جہانزیب دیکھتا تھا اس نے خود مشین بنا لیا تھا لا شعوری طور پر وہ ہمیشہپریشے کا منتظر رہتا تھا مگر زبان سے ہمیشہ کہتا کہ وہ نفرت کرتا ہے اس سے۔۔۔ لیکن کیا واقعی ایسا تھا۔۔۔۔۔!!!😒😏😌😕تانیہ شاہ کی اپنی وہی روٹین تھی روز بن ٹھن کر گھر سے نکلنا آفس دیکھنا اور پھر لیٹ نائٹ پارٹیز کے بعد گھر لوٹنا جہانزیب بھی لیٹ نائٹ آتا تھا لیکن وہ بس ایک روبوٹک لائف جی رہا تھا۔۔😑😐😑اسکے اور تانیہ کی اکثر و بیشتر پریشے کو لے کر جھگڑے ہونا شروع ہو گئے تھے😕اور اب تانیہ شاہ پچھتا رہی تھی آخر اسکو پچھتانا تو تھا اس نے چال بازی سے نزدیکیاں بڑھا کر جہانزیب کو حاصل کیا تھا😒جو اسکے پاس تو تھا لیکن اسکی روح اور دل💞ہمیشہ پریشے کا تھا وہ ہر وقت پہلےبھی پریشے کی باتیں کرتا تھا اور اب بھی وہ تانیہ اور پریشے کا موازنا کرتا پایا جاتا تھا😦جس پر تانیہ سے برداشت نہیں ہوتا اور انکا جھگڑا ہوجاتا لیکنرات کو تانیہ اسے منا لیا کرتی تھی کیوں کہ دونوں ایک ساتھ رات کو ہی پائے جاتے تھے اور تانیہ فلحال کسی بھی قیمتپر اسے نہیں چھوڑ سکتی تھی😕😓اور اب 1 مہینے سے تانیہ نے جہانزیب سے باپ بننے کی خوشخبری چھپا رکھی تھی وہ اولاد نہیں چاہتی تھی😠😖لیکن آج جہانزیب کو پتہ لگ گیا اور یہ بھی کہ وہ اسکی اولاد ختم کرنے کے دہانے پر ہے انکا خوب جھگڑا ہوا اور بات دونوں کے گھرانوں تک جا پہنچی😡😤تانیہ سے پوچھا گیا تو وہ بولی میں علیحدگی چاہتی ہوں جہانزیب جیسے سائیکو پیتھ😵اسٹوپڈ انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی جو کہتا ہے کہ وہ پریشے سے نفرت کرتا ہے اور سارا وقت مجھے اس سے کمپئیر کرتا رہتا ہے رات کو اکثر مجھے بھی پریشے😱کہہ کر پکارتا ہے یہ پاگل شخص میرا کیا کسی کا نہیں ہوسکتا کیونکہ اس نے اپنی محبت💘کو نفرت سمجھ کر دھتکارا ہے🙊میں سمجھی تھی شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن غلط تھی یہ صرف پریشے کا ہے اور میں نے دھوکا کیا تھا اسکی جھوٹی انا اور نفرت کو بڑھاوا دے کر مجھے پہلے دن سے اندازہ تھا کہ یہ پریشے سے بہت محبت💟🙊😰کرتا ہے جسے اس نے گنوا دیا دوسروں کی باتوں میں آکر کل کوئی میرے بارے میں کچھ کہہ دے گا تو یہ مجھے بھی چھوڑ دیگا بہتر یہی ہے کہ راستے ابھی الگ کر لئے جائیں😨۔جہانزیب خون رنگ آنکھو😠سے اور ان انکشافات پر دھنواں ہوتے چہرے😨سے تانیہ کو تک رہا تھا شاہزیب صاحب اور فاطمہ بیگم خود چپ تھے آخر کیا کہتے اب کہ انکا ہونہار بڑا بزنس ٹائکون بیٹا اپنی زندگی میں فیل انسان تھا۔۔۔۔😖😔😓جہانزیب نے کہہ دیا تھا یہ ڈائیوورس چاہتی تو اسے مل جائےگی لیکن میری اولاد کی پیدائش کے بعد اور اگر اس نے کچھ بھی الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو وہ اسے جان سے مار دیگا۔۔۔😱😰😨بہت لمبی بحث کے بعد آخر حل یہی نکلا کے بچے کی پیدائش کے فورن بعد جہانزیب اور تانیہ کی طلاق ہو جائگی اور بچہ جہانزیب کے پاس رہیگا۔۔۔۔😵😧۔فاطمہ بیگم نے فری کو بتایا تو وہ انکی گود میں سر رکھ کر رونے لگی😭اور بولی ماما یہ سب کیا ہو رہا ہے بھائی کو بھابی کی محبت اور سچائی کیوں نہیں دکھی۔۔۔؟؟میری جان یہ انا بہت بری چیز ہے یہ سب تباہ کر دیتی ہے اور جباسکی پٹی آنکھوں سے ہٹتی ہے انسان بہت کچھ کھو چکا ہوتا ہے۔۔۔😩ماما بھابی کہاں ہونگی کیسی ہونگی۔۔۔؟؟وہ روہانسے لہجے میں بولی۔۔۔😨😩😦فاطمہ بیگم آنکھیں صاف کرتے ہوئے دھیرے سے بولی جہاں بھی ہو بس اللہ کی حفاظت میں ہو اور سلامتی سے ہو ہم کر بھی کیا سکتے ہیں سوائے دعا کے اب ۔۔😢ماما وہ خوش ہونگی..؟؟؟😧فاطمہ بیگم سانس کھینچتے ہوئے بولیں کیا وہ خوش ہو سکتیہے سب سے اتنا دور رہ کر بس وہ ٹھیک ہو بیٹا جہاں بھی ہوکیوں کہ وہ اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی ہے پتہ نہیں کیسی ہوگی۔۔۔😱💞دروازے میں کھڑا جہانزیب انکی گفتگو سن چکا تھا اور وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھیں چھپاتا واپس باہر کی طرف پلٹ گیا تھا دل میں کچھ چبھا تھا💘اور دماغ کہہ رہا تھا کہاں ہوگی وہ کیسی ہوگی ٹھیک تو ہوگی نہ کہیں کچھ ہو تو نہیں گیا جہانزیب وہ زندہ ہوگی نہ😨😱زور سے سر جھٹکتا کار میں بیٹھ گیا اور سڑک پہ گاڑی ڈال دی شاید انا کی پٹی اتر رہی تھی آنکھوں سے۔۔۔۔۔_________ __________ ___________ہزاروں منزلیں ہونگی، ہزاروں کارواں ہونگےبہاریں ہم کو ڈھونڈینگی، نجانے ہم کہاں ہونگے۔۔_________ _________ ___________پریشے کا دوبارہ نروس بریکڈاؤن ہوا تھا لیکن مائنور اٹیک تھا بر وقت علاج سے وہ ٹھیک ہو گئی تھی لیکن وہ ٹھیک تھی نہیں۔۔۔۔😱6 مہینے میں وہ بہت ڈھل گئی تھی ڈیپریشن کی مریض بھیہوگئی تھی😨الینا اسے زبردستی میڈیسن دیتی جنکی ٹائمنگ کا سارا دیھان تاشفہآنٹی اور آمنہ رکھتی تھی جو اسلامک سینٹر سے تھی لیکن ماں باپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی کزن کے ساتھ رہتی تھیاور اسکے اندھے بھروسے کو توڑ کر وہ لڑکی سب اپنے نام کر گئی اور وہ بے آسرا ہو کر سینٹر آگئی😔پریشے سے وہ 8 سال چھوٹی تھی اور بہت مانوس ہو گئی تھی پریشے اسے اپنے ساتھ تاشفہ آنٹی کے گھر لے آئی تھی اور آمنہ اسے آپی بلانے لگی💟آمنہ کو دیکھ کر اسے وانیہ اور فری یاد آتی تھیں احد بھی یاد بہت آتا تھا سمرین نے اسے عمر کی تصویر دکھائی تھی جسکے اس نے ڈھیر سارے اسکیچ بنا ڈالے تھے💞اور جہانزیب کے متعلق کوئی بات کوئی خبر سننے سے اس نے انکار کر دیا تھا اسلئیے اب اسے جہانزیب کی کوئی بات معلوم نہیں تھی نہ وہ جاننا چاہتی تھی کیونکہ اس نے اس بے وفا کی محبت میں اللہ کو بھولی نہیں بھی تھی تو یاد بھی نہیں رکھ پائی تھی کہ اس سے اسے مانگا جائے تو وہ سب کچھ عطا کر دیتا ہے وہ اب نہیں یاد کرنا چاہتی تھی اسے۔۔۔😖😓😥اور پریشے نے ایسے پرٹینڈ کر رکھا تھا جیسے وہ سب بھول گئی ہے لیکن کیا بھولنا آسان ہے۔۔۔۔😲سمرین پری زیب ٹرسٹ سنبھالتی تھی جسکا خرچا احد اور شاہزیب صاحب دیتے تھے۔۔۔اور پریشے نے شکوا کرنا بند کر دیا تھا خدا سے وہ کچھ شکووں اور اپنی غلطیوں کی سزا بیماریوں کی شکل میں بھگترہی تھی مگر اب اسکی زبان شکر خدا💗کا ورد کرتے نہیں تھکتی تھی وہ اب بھی معصوم اور پیاری تھی😊لیکن اسکی ڈھلتی صحت اور کم ہوتے بال اسکی دوستوں اور تاشفہ آنٹی کو رلاتے تھے مگر اب اسکے سامنے کوئی نہیں روتاتھا کیونکہ وہ خود پتھر جیسی بنائے رکھتی تھی سب کے سامنے۔۔۔😧وہ درس کلاسز پہلے بھی لیتی تھی اور اب تاشفہ آنٹی کے کہنے پہ لڑکیوں کو درس دے بھی دیتی تھی لیکن وہ فل نقاب میں سب کے سامنے جاتی تھی تا کہ کوئی اسے پہچان نا لے۔۔۔🙈پرانی عادتیں اتنی آسانی سے جاتی نہیں ہیں تو جب بھی اندر گھٹن بڑھتی اور ماضی ستانے لگتا تو وہ اسلام آباد جیسے خوبصورت شہر کی کسی پہاڑی جگہ یا پارک میں اکثر چلی جاتی اور ایک پرسکون کونے میں بیٹھ کر دل کا درد کچھ گنگنا کر نکاللیتی تھی۔۔😢😢😢اور جہانزیب احد عمر سمیت اپنے گھر والوں کے اسکیچز بنا لیتی تھی۔۔💟__________ ___________ __________جو ذرا کسی نے چھیڑا تو چھلک پڑینگے آنسوکوئی مجھ سے نہ پوچھے میں اداس کیوں ہوں۔۔__________ ____________ ___________جہانزیب نے ماریہ کو کال کی اور کہا سمرین سے بات کروائے۔سمرین کہاں ہو تمہارا موبائل کہاں ہے فلحال غور سے میری بات سنو ایک پانی کی بوتل اور پریشے کی چادر لے کر خاموشی سے بنا کسی کو پتہ چلے لائبریری آؤ سوال نہیں بس جلدی یہاں آؤ پھر بتاتا ہوں کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی۔۔۔😨سمرین حیران پریشان سی جہانزیب کی ہدایت کے مطابق لائبریری پہنچی تو وہاں پریشے کی حالت نے اسکے پاؤں تلے زمین کھینچ لی😱دوڑ کر آئی اسکے پاس آئی تو وہ جو ابھی تک سسک رہی تھی فورن اس سے لپٹ کر رو دی۔۔😭😭سمرین تو خود حیران سی دونوں کو دیکھ رہی تھی اور اوپر سے پریشے نے جہانزیب کا کوٹ پہن رکھا تھا حجاب بھی سرکا ہوا تھا۔۔۔😵😰ک۔کیا ہوا ہے کوئی کچھ ب۔بتائے گا مجھے ڈر لگ رہا ہے پریشےبولو یار😨Are u ok..?What happened Jahanzeb...?😧وہ ہکلاتے ہوئے پریشانی سے جہانزیب کو بولی تو اس نے پہلے پانی کی بوتل کھولی اور گٹھنو کے بل بیٹھ کر پریشے کو پانی پلایا💗اور پھر سمرین کو پورا واقعہ بیان کیا جسے سن کر سمرین کا چہرا فق ہو گیا😱وہ پریشے کو دیکھتی بولی تم ٹھیک ہو پھر ڈرتے ہوئے جہانزیب سے بولی کچھ کچھ ہوا تو نہیں نا یہ تو آج آ بھی نہیں رہی تھی میں زبردستی لائی ہوں۔۔😨😧جہانزیب نے تسلی دلائی اور کہا میں شکر ہے وقت پر پہنچ گیا تھا اللہ کا کرم ہے کچھ نیں ہوا ہے آپ دونوں اس وقت میرے ساتھ یہاں سے کچھ فاصلے پر میرا آفس ہے وہاں چلیں پریشے کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور یہاں رکنے سے کوئی آگیا تو تماشہ لگ جانا ہے۔۔😌سمرین کو بات ٹھیک لگی تو اس نے حامی بھر لی اور پریشے کو ٹھیک سے چادر لپیٹی جہانزیب اسکا دوپٹہ لینے گیا تو کچھ دور اسکا کلچ بھی پڑا دکھا وہ اٹھا کر وہ پلٹا تو بک ریک کے پیچھے سے موبائل بجنے کی آواز آئی😰وہ وہاں سے موبائل اٹھا کر سمرین کے پاس لایا اور بولا یہ انکا سامانتو سمرین نے فورن موبائل لیتے کہا یہ یہاں😱کیسے آگیا میں کب سے باہر ڈھونڈ رہی تھی اوہ اللہ جی😨عینی آپی کی کال ہے اس نے سانس ہموار کرتے کال اٹینڈ کی اور آپی کو تسلی دی کہسب ٹھیک ہے وہ کچھ دیر میں آجائیں گے😓پھر اسٹوڈینٹس سے نظریں بچاتے وہ پارکنگ ایریہ میں آئے اور جہانزیب انہیں اپنی گاڑی فولو کرنے کا کہتے ڈرائیو کرنے لگا سمرین نے گاڑی جہانزیب کی گاڑی کے پیچھے ڈال دی اور پریشے کو حوصلہ دیتی رہی جو بری طرح ڈری ہوئی تھی😨اور سختی سے جہانزیب کا کوٹ مٹھیوں میں بھینچی بیٹھی تھی جس سے اسے تحفظ کا احساس ہورہا تھا۔۔۔💖آفس پہنچ کر جہانزیب گاڑی سے اترا اور پریشے کی طرف آیا سمرین بھی اتر کر اسکی طرف آگئی تھی لیکن وہ اندر بیٹھی سسک رہی تھی۔۔😿سمرین نے ادھر ادھر نظر گھمائی تو اندازہ ہوا آفس ابھی انڈر کنسٹرکشن ہے پھر وہ پریشے کو تھامے جہانزیب کے پیچھے چل دی۔۔💗وہ اندر آئے تو آفس روم اچھا ویل فرنشڈ تھا۔۔جہانزیب نے سمرین سے کہا انہیں بٹھاؤ تو اس نے پریشے کوصوفے پہ بٹھایا جس کی اب سسکیوں کے درمیان ہچکیاں بندھگئیں تھیں۔۔۔😭جہانزیب روم فریج کے پاس گیا اور جوس نکال کر گلاسوں میں ڈالاپھر انکے پاس آیا سمرین نے لے لیا لیکن پریشے نفی میں گردن ہلا گئی تو وہ کرسی گھسیٹ کر اسکے سامنے بیٹھا اورغور😍سے اسے دیکھتے بولا میری طرف دیکھو پریشے اس نے دھیرے سے اپنی سرخ بڑی بڑی آنکھیں جنکا کاجل پھیل چکاتھا اوپر اٹھا کر اسے دیکھا😓تو جہانزیب کو اپنا دل ان میں ڈوبتا محسوس ہوا💑لیکن اس نے دل کو قابو کیا اور سر جھٹک کر بولا دیکھو یہ پی لو تم اب بلکل سیف ہو اور دیکھو اس طرح گھر کیسے جاؤ گی ہاں...؟؟؟اس نے سمرین کو دیکھا اور روتی ہوئی بولی گھر پہ پتہ لگ گیا تو اور ماما بابا آہ۔ہ۔ہ۔ہ یہ یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ وہ چہرا ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔😭😭سمرین نے اسے تھاما اور کہا پلیز چپ ہو جاؤ کچھ نہیں ہوگا یار۔۔😧😢جہانزیب نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تو وہ اسے دیکھنے لگی ۔۔😧میں واعدہ کرتا ہوں پریشے کچھ نہیں ہوگا کسی کو پتہ نہیں چلے گا تم خود کو سنبھالو اور شکر کرو کچھ نہیں ہوا ہے تم بلکل محفوظ ہو😮وہ یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے پریشے کی موبائل رنگ نے انکا تسلسل توڑا تو پریشے چہرا جھکا گئی اور جہانزیب نظریں چرا گیا ۔۔💟سمرین نے اسے گلاس تھمایا اس نے دو گھونٹ بھرے سانس ہموار کیا اور فون اٹینڈ کیا۔۔۔مانو کہاں ہو یار بابا کب سے تمہارا پوچھ رہے ہیں کھانا بھی نہیں کھا رہے کہہ رہے ہیں تمہاری خبر لوں بس بولومانو کب تک آؤ گی ۔۔؟؟؟😐😐بابا سے بولیں آپی وہ پریشان نہ ہوں میں ٹ۔ٹھیک ہوں بلکل اور تھوڑی دیر تک آتی ہوں ۔۔۔😫تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے مانو.؟ عینی تشویش سے بولی۔۔😧ک۔کچھ کچھ نہیں آپی بس سر میں درد ہو رہا ہے میں رکھتی ہوں فون پھر گھر آکر بات کرونگی کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی😢اور جہانزیب کو دیکھ کر بولی آپ آپ سچ کہہ رہے ہیں نہ کسی کو کچھ نہیں پتہ چلیگا؟؟😦پریشے وہاں آپکے اور میرے سوا کون تھا کوئی نہیں نہ آپ بے فکر رہیں کسی کو نہیں پتہ لگے گا اور آپ باتھ روم جائیں فیس واش کر لیں لیکن پہلے یہ جوس ختم کریں جلدی۔۔۔ وہ اپنایت سے بولا تو پریشے نے گلاس تھام لیا اور چند گھونٹ اور پی کر رکھ دیا۔۔😍فریش ہو کر اس نے اندر ہی جہانزیب کا کوٹ اتارا لیکن اسکے کلونکی مہک پریشے کے جوڑے میں رہ گئی تھی ۔۔💗اپنا حجاب ٹھیک کیا اور دوپٹہ ایسے پن اپ کیا کہ آستین بھی چھپ گئی اور اوپر چادر اوڑھ کر باہر آئی۔۔جہانزیب کا کوٹ اسکے ہاتھ میں تھا اسکے آتے ہی سمرین بھی کھڑی ہو گئی وہ آہستہ سے جہانزیب کے پاس آئی اور کوٹ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولی میرے پاس الفاظ نہیں ہے آپکے شکریہ کے لئے۔۔۔😢ابھی وہ کچھ بولتی کہ جہانزیب نے کوٹ لیتے ہوئے اسے ٹوک دیا کہ بس کریں شکریہ کی ضرورت نہیں ہے💗اب وہ کیا بتاتا کہ اسے بچایا اس نے لیکن وہ خود کو بھی بچا گیا تھا اگر آج کچھ ہو جاتا تو شاید وہ بھی برداشت نہیں کر پاتا۔۔💞وہ دونوں کے روانہ ہونے کے بعد تک وہیں کھڑا انکی کار دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی، پھرلمبا سانس لیتا وہ اندر گیا اور پریشے کا آدھا بچا ہوا جوس پی گیا💕کچھ سوچتے ہوئے کنپٹیاں مسلیں کوٹ اٹھایا تو پریشے کی خوشبو محسوس ہوئی وہ پہنتا ہوا آفس لاک کر کے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا اور گھر کی طرف روانہ ہونے سے پہلے شہزاد کو کالکر کے کہا کہ وہ گھر جا رہا ہے۔۔۔پریشے کافی سنبھل گئی تھی سمرین اسے گھرکے اندر چھوڑ کر گئی تو وہ بابا کے پاس گئی انہیں تسلی دی اور کھانا کھلا کر کمرے میں بند ہو گئی😫۔عینی کاموں سے فارغ ہو کر مانو کو بولاتے ہوئے کمرے تک پہنچی کہ آخر وہ باہر کیوں نہیں آرہی۔کمرے میں گھپ اندھیرا تھا😰اس نے لائٹ آن کی تو دیکھا پریشے گٹھنوں میں منہ دئیے اسی حلیے میں بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔۔عینی دوڑ کر اسکے پاس نیچے بیٹھی اور بولی مانو میری جان کیا ہوا ایسے کیوں۔۔😨ابھی وہ آگے بولتی کہ پریشے بری طرح روتے ہوئے اسکے سینے میں منہ چھپا گئی۔۔۔😭😭عینی کی تو سانس ہلق میں آگئی اور وہ بولی مجھے ڈراؤ مت پلیز بتاؤ کیا کیا بات ہے ایسے کیوں رو رہی ہو کسی نے کچھ کہا ہے ...؟؟؟😰وہ روتے ہوئے آہستہ آہستہ پورا قصہ عینی کو بتا گئی۔عینی دم بخود بیٹھی اسکا سر سہلا رہی تھی پھر کچھ دیر میں بولی میری جان کچھ کچھ ہوا۔۔۔😨پریشے بات کاٹ کر بولی نہیں نہیں آپی وہاں جہانزیب آگئے تھے کچھ کچھ نہیں ہوا لیکن مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپی۔۔۔😭😧عینی نے اسے خود میں بھینچا اور بولی بس مانو بس کرو اور سب بھول جاؤ اللہ کا شکر ہے💞تم بلکل ٹھیک ہو خدا نے تمہاری حفاظت کی ہے خاموش ہو جاؤ اللہ بہتر کریگا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔پھر کچھ دیر پریشے کو دلاسہ دے کر دودھ پلا کر میڈیسن دی اوراسکے بازو پہ دوا لگا کر سونے کا کہتی ہوئی وہ چلی گئی۔۔😌پریشے نے تاشفہ آنٹی کو کال کی اور سب بتا دیا پھر بولی آنٹی کیا کروں میں کہ سکون مل جائے مجھے😓اسے جب بھی کچھ سمجھ نہیں آتا تھا یا مشورہ چاہئے ہوتا تو وہ ان سے بات کرتی تھی۔۔۔وہ خود پریشان تھیں کیوں کہ سمرین سے انہیں پتہ لگ چکا تھا اور وہ پریشے کی کال کے انتظار میں تھیں۔۔۔😢وہ بولیں بس رونا نہیں میری بچی حوصلہ کرو اور شکر کرو تم محفوظ ہو اللہ نے تمہاری حفاظت کی ہے وہ بڑا رحیم ہے بچے۔۔💞اور آپکو پتہ ہے پریشے کہ اﯾﮏ ﻋـﺎﺩﺕ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮩـﺖ ﺳﺎ ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺣـﻮﺻﻠﮧ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﮯﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﯿﮏ ﮔﻤﺎﻥ ﺭﮨﻨﺎ💗ﮐـﮍﮮ ﺍﻣﺘﺤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮔـﺰﺭﻧﺎ۔۔۔۔۔۔۔😫💞ٹوٹنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﺑﮑﮭـﺮﻧﺎ۔۔۔۔۔۔💔ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮨـﺮ ﻣـﺮﺗﺒـﮧ ﻧﯿﻠﮕﻮﮞ ﺁﺳﻤـﺎﻥ ﮐﯽ ﻭﺳﻌـﺘﻮﮞ ﻣﯿـﮟ ﭘﮭـﺮ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﺭﺟـﻮﻉ ﮐـﺮﻧﺎ۔۔۔۔۔۔💖ﺍﺱ ﺍﯾﻤـﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿـﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﺭ ﮔـﺰﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻋـﻄﺎ ﻓـﺮﻣﺎﺗﺎ هے۔۔۔۔۔۔💗اللہ جنہیں پسند فرماتا ہے انہیں ہی آزمائش میں ڈالتا ہے۔۔۔۔۔❤الله عزوجل کی عبادت کرتے رہنے سے ہی ہر راستہ آسان ہوتا رہتا ہےاور سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے میری جان۔۔۔۔۔!!!!💞💞پریشے نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے شکریہ کیا اور کال کاٹ کر وضو کرنے گئی پھر آکر جاء نماز بچھائی اور شکرانے کے نفل ادا کئے پھر ہاتھ اٹھا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی😭اوراس رب کا شکر ادا کیا💖اس سے حوصلہ مانگا اور کچھ دیر بعد سمرین کو ٹیکسٹ📱کیا کل آجانا صبح جلدی یونیورسٹی جانا ہے جواب میں اسمائلیز😊اور تھمبس اپ👍دیکھ کر وہ مسکرائی اور پر سکون نیند سو گئی۔۔۔😴اس بات سے انجان کے کل کا دن بہت بھیانک ہونے والا تھا۔۔۔۔😱جہانزیب گھر پہنچ کر کمرے میں آگیا اور بیڈ پر چت لیٹ گیا ہاتھ سر کے نیچے رکھ لئیے اور آج ہونے والے واقعے کو سوچنے لگا💭جو ہر لحاظ سے پری پلانڈ لگ رہا تھا لیکن سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ کیوں کوئی پریشے کے ساتھ ایسا کرنا چاہتا تھا۔۔😱پریشے کے بارے میں سوچنے لگا تو اسکا چہرا آنکھوں میں چمک بھر گیا😍اس نے اپنا ہاتھ دیکھا جو پریشے نے تھاما تھا پھر اسے چوم لیا😘اور بولا تو یہ طے ہوا کہ جہانزیب احمد کو پریشے سے محبت💞💞ہےاور کب اسکی یہ سب سوچتے آنکھ لگ گئی اسے پتہ بھی نہ چلا۔۔۔۔۔۔😊😻لیکن ضروری نہیں جیسا ہم سوچیں ویسا ہی ہو کیونکہ دوسری طرفکوئی حوس😈لالچ اور نفرت کی آگ🔥میں جل رہا تھاپریشے اور جہانزیب کی کچھ تصویریں ایڈیٹنگ کر کے پوسٹرز بنوائے تھے امان نے اور یونی کے فیس بک پیج📲پر ساری تصویریں اپلوڈ کردی تھیں😱اور وہ خون رنگ آنکھوں سے پریشے اور جہانزیب کے پوسٹر کو دیکھ رہا تھا جس میں پریشے نیچے دیکھ رہی تھی اور جہانزیب کا کوٹ پہنے کھڑی تھی اور جہانزیب اسکے بال پیچھے کر رہا تھا پھر دوسری تصویر اٹھائی امان نے اور اسے دیکھا جس میں پریشے جہانزیب کو پیچھے سے تھامے کھڑی تھی ایسے ہی ایک اور تصویر جس میں پریشے نے جہانزیب کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور تیش میں آکر اس نے سب زمین پر پھینک دیں😱بے حیا عورت میں تجھے چھوڑوں گا نہیں الوینا دیکھ میں تجھے کیسے اب حاصل کرتا ہوں پھر پھر میں تیرا وہ حشر کرونگا😨کہ تو کسی کو دیکھنے لائق نہیں رہیگی صرف صبح تک جی لے بس وہ غصہ اور نفرت میں پاگلوں جیسا برتاؤ کر رہا تھا اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کیا بکواس😠کر رہا ہے اور وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ پریشے کی حالت کا ذمہ دار بھی وہ خود ہے۔۔۔۔😡😤چند چند گھنٹوں بعد میں نے بھی بدلہ نہ لیا نا جہانزیب احمد تو میں امان راؤ نہیں سب میرا پلان تھا میں ہیرو بنتا کمینے اگرتو بیچ میں نہ آیا ہوتا تو اس وقت یہ یہ ) پریشے کی تصویر کو چھوتے ہوئے بولا( اب تک میرے نکاح میں ہوتی لیکن😬😡۔۔۔۔۔ خیر کو۔۔کوئی بات نہیں اب تو بھی بھگتے گا کل یہ ہی تجھے ماریگی دیکھ میں کیا کرتا ہوں اب۔۔۔۔😈😈وہ شیطانیت سےسب کچھ سمیٹتا ہوا اٹھ گیا😰😨😱...._______ _________ ________ _______آجکی قسط کیسی لگی آپکی رائے کا انتظار رہیگا۔۔اگلی قسط انشااللہ ایک دن بعد۔۔۔۔#SimiWrites💞

No comments:
Post a Comment