_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۵#_plz_dont_copy_wdout_my_permissionآنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعدلوٹ جاتا ہے اگر کوئی خفا شام کے بعدوہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعدکوئی تو تھا جو دیتا تھا دعا شام کے بعدآہیں بھرتی ہے شب ہجر یتیموں کی طرحسرد ہو جاتی ہے ہوا شام کے بعدشام تک رہا کرتے ہیں دل کے اندردرد ہو جاتے ہیں سارے رہا شام کے بعدلوگ تھک ہار کے سو جاتے ہیں لیکن جاناںہم نے خوش ہو کے سہا تیرا درد شام کے بعدخواب ٹکرا کے پلٹ جاتے ہیں بند آنکھوں سےجانے کس جرم کی کس کو ہے سزا شام کے بعدچاند جب رو کے ستاروں سے گلے ملتا ہےاک عجب رنگ کی ہوتی ہے فضا شام کے بعدہم نے تنہائی سے پوچھا کہ ملوگی کب تکاس نے بے چینی سے فورن ہی کہا شام کے بعدمیں اگر خوش بھی رہوں پھر بھی میرے سینے میںسوگواری کوئی روتی ہے سدا شام کے بعدتم گئے ہو تو سیاہ رنگ کے کپڑے پہنےپھرتی رہتی ہے میرے گھرمیں قضا شام کے بعدلوٹ آتی ہے میری شب کی عبادت خالیجانے کس عرش پہ رہتا ہے خدا شام کے بعددن عجب مٹھی میں جکڑے ہوئے رکھتا ہے مجھےمجھکو اس بات کا احساس ہوا شام کے بعدکوئی بھولا ہوا غم ہے جو مسلسل مجھکودل کے پاتال سے دیتا ہے صدا شام کے بعدمار دیتا ہے اجڑ جانے کا دہرا احساسکاش ہو کوئی کسی سے نہ جدا شام کے بعد__________ _________ _________پریشے کے سونے کے آدھےگھنٹے بعد الینا اور صائم وہاں آگئے لیکن اسے اٹھایا نہیں اور اگلے ایک گھنٹے میں سمرین کولئیے جنید بھی وہاں موجود تھا دو گھنٹے کے بعد پریشے کی نیند ٹوٹی تو ویرانیاں لئیے آنکھوں نے برسنا شروع کر دیا😭جتنی مصافت اس نے کی تھی اور جتنے زخم اسے لگے تھے وہدھل نہیں سکتےتھے لیکن اپنوں سے دوری کا غم اور جہانزیب کی نفرت کی تپش اسے جلائے دے رہی تھی🔥اتنے سالوں کا غم اسکی بڑی خوبصورت آنکھوں کو سوجھا کر سرخ کر گیا تھا😲😵جب الینا اور سمرین کمرے میں آئے تو اس سے لپٹ کر خوب روئےآج وہ کسی کو کیا دلاسا دیتی جو خود سب کچھ گنوا کر خالی ہاتھ ننگے پاؤں بنا چھت رہ گئی تھی😭😭😩جنید اور صائم نے دونوں کو ڈانٹ کر الگ کیا اس سے پھر صائمنے اسکا چیک اپ کیا اور اس کی توجہ اپنی طرف کروائی۔۔پریشے یہاں دیکھو میری طرف وہ جو کسی غیر مرئی نکتے کو تکے جارہی تھی اس نے اپنی سرخی مائل آنکھو کا ذاویہ بدلاتو صائم نے پوچھا آپ کو سر درد کی شکایت کب سے ہے؟؟جواب ندارد۔۔۔پریشے جواب دو بیٹا اس نے خالی آنکھوں سے تاشفہ آنٹی کو دیکھا۔۔۔الینا اور سمرین اسکے پاس بیٹھ گئیں اور اسکے ہاتھ تھام لئےجو کسی مرے ہوئے انسان کی طرح سرد پڑے تھے ۔۔۔😰وینا یار یوں نہ کرو کچھ بولو پلیز سمرین پھر رو دینے کو تھی جنید نے اسکے شانوں پہ دباؤ ڈالا تو اس نے آنسوؤں پہ بند باندھا ۔۔😩الینا ڈاکٹر تھی اور اب اسے ہینڈل کرنا تھا اس نے اپنے پرانے اسٹائل میں کہا پریشے جو بھی میں پوچھوں سیدھے سے جواب دو ورنہ میں نے ت۔تمہارا دماغ کھول لینا ہے اور اسے ٹھکانے کرنا ہے۔۔۔۔😩😓پریشے نے لمبا سانس کھینچا اور بولی میں ٹھیک ہوں مجھے کسی کا کوئی جواب نہیں دینا ہے اور چہرا موڑ گئی ہاتھ بھی کھینچ لئیے😔۔۔۔وہ سب ایک دوسرے کو تکنے لگے پھر صائم بولا ہمیں انکو اسپتال شفٹ کرنا ہوگا مزید چیک اپ کے لئے۔۔مجھے کہیں نہیں جانا ہے سنا آپ سب نے پلیز کوئی کچھ کر سکتا ہے تو زہر لادے نہیں تو مجھے یہیں رہنے دیں پلیز آنٹی مجھے آپکے پاس سے کہیں نہ بھیجیں وہ ہاتھ جوڑے رونے لگی تو سمرین اور جنید نے یہی ٹھیک سمجھا کہ باقی بات کل کرینگے ابھی یہی کافی تھا کہ وہ ہوش میں ٹھیک نظر آرہی تھی اور اسے آرام کا کہہ کر سب باہر چلے گئے تووہ تاشفہ آنٹی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی وہ دھیرے دھیرے اسکے بال سہلانے لگیں جو وقت کے ساتھ کم ہو رہے تھے۔😖پریشے: آنٹی آپ تو کہتی تھیں سب ٹھیک ہوجائے تو پھر کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا۔۔۔😓😓بچے بتاؤ کیا سننا چاہوگی۔۔؟😑😐آنٹی مجھے سچ جاننا ہے وہ انکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی توتاشفہ آنٹی نے کہا بیٹا تم نے شادی کے بعد اللہ کو یاد رکھا؟؟😑یہ کیسا سوال ہے میں تو روز اسے یاد کرتی تھی روتی تھی گڑگڑاتی تھی اسکے سامنے لیکن اسے ترس نہیں آیا۔۔۔😲نہیں میری بچی سچ یہ ہے تم نے جہانزیب سے محبت کرلی۔۔😔تو تو کیا یہ غلط تھا آپ نے مجھے سکھایا نامحرم سے محبت گناہ ہے میں نے کبھی کسی نامحرم حتی کہ جہانزیب کو بھی نہیں دل میں جگہ دی جب جب تک میرا ان سے نکاح نہیں ہوا تھا مجھے تو انہیں سے محبت ہونی تھی نہ ی۔یہ یہ تو گناہ نہیں ہے نہ وہ الجھی سی آنٹی کو دیکھنے لگی😓😲انھوں نے مسکرا کر اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا😗اور نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولیں میری جان جب جب مشکل آئی تم نے کسے پکارا؟جہانزیب۔💞جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کسے مانگا؟جہانزیب۔۔😍آنکھ بند کرتے پہلا خیال کس کا آیا؟جہانزیب۔۔😍لیکن جب مصیبت میں وہ نہ آیا پھر کسے پکارا؟ال۔۔۔اللہ۔۔😓جب دعاوؤں سے وہ نہ ملا تو کون تھا جو سکون دیتا تھا۔۔؟اللہ۔۔😢😩😨جب آنکھوں میں نمی آتی اور جہانزیب نہ آتا اور آنکھ کھلنے پہ کون یاد آیا؟؟وہ روتے ہوئے بولی اللہ۔۔۔😭😭انہوں نے نرمی سے اسکی آنکھیں صاف کی اور اسے پیار کیا😗پھر بولیں کس نے ساتھ دیا ہمیشہ۔۔اللہ۔😭تمہیں کسی برے فعل سے کس نے بچایا؟اللہ۔😭تمہاری عزت کی حفاظت کس نے کی؟؟ہممم اللہ اللہ نے کیا آنٹی سب کچھ مجھے پہلے کیوں نہیں سمجھایا جب آپکو پتہ تھا۔۔۔😭😭😨میری جان کیا کہتی تھی میں ہمیشہ یاد کرو۔۔۔!!!پریشے اللہ کی طرف آجاؤ اور اسے مانگو, وہ تمہیں وہ دیگا جو تمہاری چاہت ہے لیکن اسے سب سے برتر رکھو نہ کہ۔۔۔😭😰😢پھر کیا کیا تم نے؟؟؟؟میں نے میں نے اسے نہیں جہانزیب کو مانگا۔۔۔😭اچھا ہوا میرے ساتھ میں اسی قابل تھی میں نے اللہ کو نہیں مانگا ہاں نہ اسی لئے اسی لئے ہو رہا ہے سب میرے ساتھ میں میں تو آنٹی گنہگار ہوں اب اب وہ مجھے معافی نہیں دیگا سزا دیگا ہے نا..؟؟!!!😭😧😦😩😨تاشفہ آنٹی نے مسکراتے ہوئے☺نفی میں گردن ہلائی اور بولیں تم سارے سبق بھول گئیں پریشے انھوں نے اسکا چہرا چھوتےہوئے کہا وہ رب ہے جو ہمیں ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے❤وہ روز انتظار میں رہتا ہے کہ کون ہے جو میری طرف آجائے اور میں اسے معاف کردوں اسے اپنی رحمت سے نواز دوں،💞وہ اتنا رحیم ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے تو فرشتے کو اسکے اعمال میں گناہ لکھنے سے روک دیتا ہے کہ ابھی رکو کیا پتہ یہ پلٹ جائے یہ واپس آجائے میری طرف اور وہ انسان جب گناہ کرلے تب اسکے نامہ اعمال میں گناہ لکھا جاتا ہے وہ بھی ایک جو اس نے کیا💕لیکن جب کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرے تو اللہ اسی وقت سے اسکے اعمال میں نیکیاں لکھنا شروع کر دیتا ہے💟وہ روز ہمیں پکارتا ہے میری جان ہم نہیں سمجھتے اسکی مصلحت وہ ہم سے بہتر جانتا ہے سب کچھ اور بیٹا قیمتی چیزیں پانے کے لیے کچھ تو کھونا پڑتا ہے ناجنت بھی بہت قیمتی ہے۔۔💞اسے پانے کے لیے بھی تمہیں دنیا میں بہت کچھ کھونا پڑے گا۔۔۔کبھی کوئی رشتہ،💔کوئی محبوب چیز،💔کبھی اپنی انا،💙تو کبھی اپنی جان بھی💜۔۔۔قیمتی چیزیں اتنی آسانی سے تھوڑی نہ ملا کرتی ہیں۔۔کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بہت ضروری ہوتا ہے♥💞💟یہ دنیا تو عارضی ہے نہ پھر کیوں ہم اس رب سے شکوہ کریں ضروری نہیں انسان کو دنیا میں سب مل جائے💔ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں تو بے شک وہ مہربان رب ہمیںجنت میں نوزے گا💞اور وہ انعام بہت بہترین ہوگا💞دنیاوی چیزوں سے💞بس اب میں تمہیں شکوہ زبان پہ لاتے نہ سنوں😌۔۔۔انہوں اسکے گال تھپکے تو وہ اٹھتے ہوئے بولی واعدہ واعدہ آنٹی اب نہیں کرونگی ایسا آپ ناراض تو نہیں ہیں نہ اور میں یہاں رہوں اس بات کا کسی کو پتہ نہ چلے میں اب خود کو تلاشنا چاہونگی ضرور اللہ جی مجھے معاف کر دینگے😍۔۔۔تاشفہ آنٹی اٹھتے ہوئے اسکے ماتھے پہ پیار کرتے ہوئے😘بولیں ماں بھی اپنی بیٹی سے ناراض ہوتی ہے بھلا😍۔۔۔پریشے کی آنکھیں بھر آئیں😢زور سے انہیں گلے لگایا اور پھر سب کے ساتھ باہر آکر بیٹھی کھانا کھایا ہسپتال کےلئے وہ منا کر چکی تھی اور پری زیب ٹرسٹ کی ذمہ داری جنید اور سمرین نے لے لی تھی۔کمرے میں آکر اس نے وضو کیا اور خدا سے رو رو😭😭کر معافی مانگی اتنا روئی کہ سر بھاری ہو گیا اٹھ کر مشکل سے کچن میں آئی ابھی گلاس بھرا ہی تھا کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا😱اور اپنے سب پیارے اسکے سامنے آنے لگے آخر میں جیسے جہانزیب اسکے پاس آرہا تھا ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا💔کہ زور سے درد ہوا سر میں اور وہ چکر کھا کر زمیں بوس ہو گئی کانچ کا گلاس ریزہ ریزہ ہو گیا وقت تھم گیا آخری الفاظ یا اللہ معاف کردے مجھے پروردگار آہ۔ہ۔ہ۔ہ سر جیسے پھٹنے کو تھا لیکن اسکے ماما بابا اسے نظر آئے ہنستے ہوئے اور وہ انہیں پکارتی ہوئی آہستہ آہستہ بے ہوش ہو گئی۔۔آواز سے سب اٹھ گئے تھے بھاگ کر کچن میں آئے تو مانو سب کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔۔۔😱😱__________ __________ _________ہم جو ٹوٹے تو اس طرح ٹوٹےجیسے ہاتھوں سے گر کے پتھر پہکوئی شفاف آئینہ ٹوٹےجیسے پلکوں سے ٹوٹتا آنسوجیسے سینے میں اک گُماں ٹوٹےجیسے امید کی نازک ڈالیجیسے آنکھوں میں خواب کی ڈوریوقتِ طویل میں الجھ جائےجیسے پیروں تلے سے زمیں نکلےجیسے سر پہ آسماں ٹوٹےجیسے ایک شاخ پہ بھروسہ کیااس پہ جتنے تھے آشیاں، ٹوٹےجیسے وحشت سے ہوش آ جائےجیسے تا دیر میں دھیاں ٹوٹےکس نے دیکھا تھا ٹوٹنا اپناہم جو ٹوٹے تو رائیگاں ٹوٹے_________ ___________ __________امان کو کوئی موقع نہیں مل رہا تھا اپنا مقصد پورا کرنے کا وہ بس پریشے کو یونی میں بدنام کر رہا تھا😬😬اسے جہانزیب کا پریشے کی طرف جھکاؤ بہت چبھ رہا تھا وہکسی بھی قیمت پہ پریشے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا😰اسے بزنس کرنا تھا اور پریشے کی مارکیٹ میں زبردستلوکیشن پر بڑی دکان اور سلطانہ بیگم کے خاندانی زیور نظر آرہے تھے😠اوپر سے اسکی حوس اسے پریشے کی طرف دھکیلتی تھی آخر 2 سال گزرنے کے بعد وہ سیاہ دن پریشے عباسی کی زندگی میں آگیا جب اسکی ذات اور زندگی نے پلٹا کھانا تھا😩😱😵یونی میں کوئی ایوینٹ آرگنائز ہوا تھا امان کو اپنا گھناؤنا کھیل کھیلنے کا اس سے اچھا موقع نہیں لگا اس نے 2 لڑکے ہائر کئیے اور سب سمجھایا کہ کیا کرنا ہے۔۔😡😈وینا یار چلو نا میں تمہارے بنا نہیں جاؤنگی پلیز جلدی تیار ہو جاؤ۔۔😣سمرین کب سے اسکی منتیں کر رہی تھی لیکن وہ بہری بنی ناول پڑھنے میں مگن تھی اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا جانے کا اور دل بھی پتہ نہیں عجیب ہو رہا تھا۔۔۔😕سمرین نے آخر اسے ایموشنلی بلیک میلنگ اور عینی آپی کی مدد سے چلنے کو منا ہی لیا۔۔😒وہ سارے راستے سمرین سے ناراض رہی اور سمرین نے بھی اسے نہیں چھیڑا۔۔😤پریشے نے ٹی پنک کلر کی نیٹ کی سادی سی فراغ پہن رکھی تھی اور سر پر سلیقے سے ہجاب لے رکھا تھا میکاپ کےنام پہ ہلکی گلوز اور اپنی بڑی آنکھوں میں کاجل ڈالا تھاجو اسے مزید خوبصورت بنا رہا تھا اور وہ معصوم گڑیا جیسی لگتی تھی جب اپنی آنکھیں گول گھماتی۔۔😍💞یونی میں جہانزیب والے انکا انتظار کر رہے تھے کیوں کہ سمرین نے کہا تھا وہ ضرور پری کو لائے گی۔۔۔💞دوسری طرف امان بھی پریشان تھا کہ اگر وہ نہ آئی تو کیا ہوگا پلین فیل ہوجائے گا😡۔۔۔اتنے میں وہ منہ پھلائے سمرین کے ساتھ اندر آتی نظر آئی جہانزیب تو دیکھتا رہ گیا وہ سادگی میں بھی کمال لگ رہی تھی۔۔😍💞اور اپنا پلین کامیاب ہوتے دیکھ کر امان کی آنکھیں چمک گئیں اوروہ بولا بس ایک دن اور کل تم میری ہو جاؤگی صرف امان کی پھر دیکھنا تمہاری ایک ایک بات کا بدلہ نہ لیا تو میرا نام بھی امان راؤ نہیں😵😱۔۔۔ایوینٹ میں زبردستی پریشے سے بھی گانا سنا سب نے اور جہانزیب نے تو اپنے گٹار اور اسٹائل سے سب کو اپنی طرف کھینچا اس نے بلو سوٹ پہن رکھا تھا😍💟اسی اثناء میں سمرین کا موبائل غایب ہوا اور جسکی اسے خبر بھینہیں ہوئی۔😰سمرین کھانے پینے کی غرض سے ماریہ والوں کے ساتھ الگ چلیگئی اور پری کو بتایا بھی نہیں پریشے نے اسے ڈھونڈا تو وہ ملی نہیں ابھی وہ اسے کال کرنے لگی تھی کہ اسکا میسج آگیا😱😰😨۔۔"وینا لائبریری میں آجاؤ کچھ دکھانا ہے جلدی آنا"پریشے کو بہت غصہ آیا لیکن وہ فون کلچ میں ڈالتی لائبریری چل دی اور سمرین کو دل میں برا بھلا کہتی گئی امان پلین کی کامیابی پہ خوش ہوا اور 20 منٹ کا سوچ کر دوستو میں بزی ہو گیا😈😵۔جہانزیب کی نظریں😍تو تھیں ہی پریشے پر سو اس نے اسے اکیلے لائبریری سائیڈ جاتے دیکھا تو یہ سو چتے ہو تیز قدم اٹھاتا اس کے پیچھے بڑھا کہ یہ پاگل اکیلی کہاں جا رہی ہے😌۔۔۔اللہ اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا وہ ہر حال میں ساتھ دیتا ہے لیکن اپنے پسندیدہ لوگوں سے آزمائش بھی لیتا ہے💞۔۔۔پریشے لائبریری میں دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی تو اندھیرے اور خاموشی نے اس کا استقبال کیا😰😨😱اسکو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی خیز لہر دوڑتی محسوس ہوئی😲۔۔۔وہ ڈرتے ہوئے آگے بڑھی اور سمرین کو پکارا۔سمرین کہاں ہو یار سامنے آؤ مجھے ڈر لگ رہا ہے یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے اندھیرا بھی ہے وہ آگے بڑھتے ہوئے بول رہی تھی کہ اچانک اسے کسی کے بک ریک کے پیچھے سے ہلنے کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔کون ہے....؟؟؟؟😱س۔سمرین تم تم ہو نا....؟؟؟؟😨اتنے میں ایک لڑکا باہر آیا اور اسکے سامنے کھڑا ہنستے ہوئے اسے اوپر سے نیچے دیکھنے لگا۔۔😰پریشے کا رنگ فق ہو گیا وہ پیچھے ہٹی تو دوسرے لڑکے سے ٹکرا گئی اور کرنٹ کھا کر ہٹی اسکی حالت یوں تھی کہ کاٹوتو بدن میں خون نہیں😫😲۔۔ایک لڑکے نے اسکا ہاتھ پکڑا اور کھینچا وہ زور سے چیخی اور سمرین احد بابا بس آوازیں دینے لگی روتے ہوئے چیختے ہوئے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا دوسرے نے زور سے اسکا دوپٹہ کھینچا جسکی وجہ سے پن کھل گئی اور اسکے حجاب سمیتدوپٹہ لڑکے کے ہاتھ میں تھا اور بازو سے آستین بھی پھٹ گئی پریشے کے بال سارے اسکے چہرے پہ بکھر گئے وہ خدا سے روتے گڑگڑاتے دعائیں کر رہی تھی اپنی عزت کی حفاظتکی😭😭😭اور ان لڑکوں کے خباثت بھرے چہرے دیکھتے گھبرا رہی تھی😰😰۔۔۔۔۔۔جہانزیب پریشے کے اندر جانے کے بعد بھاگتا ہوا وہاں جا رہا تھا کیوں کہ لائبریری کھلی ہونے سے اسکی چھٹی حس خطرے کا الارم بجا رہی تھی لیکن امان نے اسے وہاں جاتے دیکھ لیا اور غصہ سے اسے گالی دی۔۔۔😈😠اوہ گاڈ وہ جہانزیب کا مقابلہ کہاں کر سکیں گے اور اگر انھوں نے کچھ بتا دیا تو۔۔۔😵یہی سوچ کر وہ بھی لمبے ڈگ بھرتا اسکے پیچھے چل دیا ۔۔۔😱جہانزیب نے دروازے کے قریب پہنچا تو گملہ گرا جس سے وہ دونوں لڑکے الرٹ ہوئے ابھی پریشے چیختی اس سے پہلے ایک لڑکے نے زور سے اسکا منہ دبوچہ اور دونوں اسے لئے بک ریک کے پیچھے چھپ گئے۔۔۔😱😰😩جہانزیب اندر آیا تو سنناٹا دیکھ کر ٹھٹک گیا فورن آگے آیا کوٹ ٹیبل پر رکھتا پریشے کو آواز دی جواب ندارد۔۔۔😵😦اس نے احتیاط سے نظر دوڑاتے پھر آواز دی پریشے نے کچھ سوچتے ہوئے اس لڑکے کے ہاتھ پہ چک مارا وہ سیییی کرتا پیچھے ہوا پریشے فورن چیخی بچاؤ بچاؤ مجھے اللہ کا واسطہ کوئی بچاؤ😭😭اتنے میں وہ لڑکا چاقو نکالتے ہوئے پریشے کی گردن پہ رکھتا باہر نکلا جہانزیب تو آواز سنتے ہی آگے بڑھا لیکن اس لڑکے کے ساتھ پریشے کو اس حالت میں دیکھ کر اسکا خون کھول اٹھا کچھ دور پریشے کا حجاب اور دوپٹہ پڑا تھا اور اسکی پھٹی آستین سے بازو جھلک رہا تھا جسے وہ سختی سے تھامے روتی ہوئی ڈری ہوئی آس بھری نظروں سے جہانزیب کو تک رہی تھی🙏😭وہ لڑکا بولا آگے مت آنا ورنہ اسکو مار دونگا ۔۔۔۔😈جہانزیب نے بک ریک کو دیکھا پھر آگے بڑھتے ہوئے نظر بچا کر جلدی سے کتاب اٹھائی اور اس لڑکے کا نشانہ لیتے زور سے ہٹ کیا تو وہ نشے میں ہونے کی وجہ سے سنبھل نہیں سکا اور گر گیا دوسرے لڑکے نے پریشے کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھاگ کر جہانزیب کے پیچھے چھپ گئی اور زور سے اسکی شرٹ تھام لی روتے ہوئے بولی پلیز پلیز جہانزیب م۔مجھے بچالیں😭😭😱جہانزیب نے کہا فکر نہیں کرو کچھ نہیں ہوگا😍اور وہاں جا کربیٹھو وہ ایک طرف اشارہ کرتا ہوا بولا تو وہ اور زور سے اسکی شرٹ کھییچتے ہوئے بولی ن۔۔نہیں نہیں میں نہیں جاؤنگی آپ انکو بولیں یہ جائیں۔۔۔😭😭جہانزیب نے کہا پریشے ایسے کیسے جانے دوں آپ چھوڑو مجھے انکو میں دیکھتا ہوں۔۔😡😬ایک لڑکا بھاگ کر بک ریک کے پیچھے سے باہر نکل گیا اتنے میں اور امان اندر آکر خاموشی سے ایک بک ریک کے پیچھے چھپ گیا اور کچھ سوچتے ہوئے پریشے کی جہانزیب کے پیچھے چھپی ہوئی تصویر اس زاوئیے سے لی😈کہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اس سے چپکی کھڑی ہو جہانزیب نے غصے سے کہا پریشے میں نے کہا ہٹو اور اسے دھکیلتا اس لڑکے کو مارنا شروع ہو گیا لیکن وہ اسے وہاں یونی میں لے جا نہیں سکتا تھا کیونکہ اس نے کہا وہ یونی کا نہیں ہے😦دوسرا پریشے کی عزت کا سوال تھا💞تو اس نے اس لڑکے کو جانے دیا وہ لڑکا ایسے بھاگا جیسے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیںپھر جہانزیب پلٹا ہاتھ جھٹکتا نظر دوڑاتے آگے بڑھا اسے پریشے نظر نہیں آئی تو اس نے آواز دی لیکن آگے بڑھتے ہوئے اسکے قدم رک گئے پریشے ٹیبل کے نیچے بکھری ہوئیڈری سہمی حالت میں سکڑی ہوئی بیٹھی تھی اور سسک رہی تھی😭😭😰😱جہانزیب گٹھنوں کے بل بیٹھا اور اسکا معصوم چہرا دیکھا جو رونے سے اور شرم کے مارے سرخ ہوا پڑا تھا😑وہ بازو سے آستین تھامے آنکھیں میچے بیٹھی تھی جہانزیب نے کہا پریشے وہ چلے گئے باہر آؤ پریشے نفی میں گردن ہلانے لگی تو وہ تھوڑا سختی سے بولا باہر آؤ پریشے ورنہ میں جا رہا ہوں😐وہ جلدی سے آنکھیں کھولتی بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی اور ایک دم پھر رونے لگی😭😭تو جہانزیب بولا اچھا پلیز دیکھو میں نہیں جا رہا تم باہر تو وہ روتے ہوئے بولی پکا وعدہ نہیں جائیں گے نا تو وہ بولا ہاں پکا وعدہ ابھی باہر آؤ😍تو وہ ہولے سے آگے آتے ہوئے باہر آئی اور چہرا جھکائے روتے ہوئے کھڑی ہو گئی جہانزیب نے اپنا کوٹ اٹھایا اور اسے کہا یہپہن لو وہ اپنا ہاتھ ہٹاتی تو اسکا پورا بازو نظر آنے لگتا اس لئے وہ نفی میں گردن ہلانے لگی جہانزیب کو سمجھ میں آیا تو اس نے خود سے اسکے ہاتھ تھامتے ہوئے اسے کوٹ پہنایا پری نے کوئی مزاحمت نہیں کی وہ بس روئے جا رہی تھی😭پھر جہانزیب پلٹا اسکا حجاب اٹھایا اور اسکے پاس آیا وہ ابھی جہانزیب کے کوٹ کو زور سے پکڑے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ بازوؤں پہ جمائے کھڑی تھی جہانزیب نے دھیرے سے اسکاچہرا اٹھایا اور اسکے بال پیچھے کئیے پھر حجاب سر پر پہنایا اور اسے آہستہ سے تھام کر کرسی پہ بٹھایا😍💞امان کمینگی سے مسکراتے ہوئے تصویریں لے رہا تھا اور اپنے دماغ میں اگلا پلین تیار کر رہا تھا۔😈جہانزیب نے کہا سمرین کہاں ہے تم یہاں کیوں آئیں تھیں...؟؟؟پریشے نے روتے ہوئے اسے سب بتایا تو وہ بولا میں لے کر آیا سمرین کو پریشے نے اسکا ہاتھ زور سے تھام لیا اور بولی نہیں نہیں جائیں آپ پلیز میں مر جاؤنگی ورنہ پ۔پلیز نہیں جائیں۔۔۔۔😭😭😱😰وہ بہت ڈر گئی تھی اور اگر آج جہانزیب نہ آتا تو۔۔۔اس تو آگے نہ جہانزیب سوچ سکتا تھا نہ پریشے۔۔۔جہانزیب کو اس پہ بہت ترس آیا اور اس نے دوسرا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا اور بولا ریلیکس پریشے میں یہیں ہوں کچھ نہیں ہوگا آپ سیف ہو اب😍😑۔۔۔جہانزیب نے کچھ سوچتے ہوئے کسی کو کال ملائی تو امان وہاںسے خاموشی سے نکل گیا کیونکہ وہ اپنا گھناؤنا کام کر چکا تھا😈😈۔۔۔۔اور اگلا دن پریشے پر کسی پہاڑ ٹوٹنے سے کم ثابت نہیں ہونا تھا اسکی زندگی ہی بدل جانی تھی۔۔😱😭😱...__________ __________ __________۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔آجکی قسط کیسی لگی اپنی رائے سے آگاہ ضرور کیجئیے گا میں انتظار کرونگی۔۔۔۔اگلی قسط جلد پوسٹ کرنے کی کوشش کرونگی۔۔

No comments:
Post a Comment