#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۴#_plz_dont_copy_wdout_my_permisionرخصت ہوا تو بات میری مان کر گیاجو اُس کے پاس تھا، وہ مجھے دان کر گیا💞بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئیاک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا😢_________ ________ __________جہانزیب اپنی کار میں بیٹھا اور تانیہ کو کال ملائی ۲ بیل کے بعدکال ریسیو ہوئی۔۔تانیہ: ہلو بیبی کیسے ہو؟؟جہانزیب: کہاں ہو تم کیا تمہیں یہاں میرے ساتھ نہیں ہونا چاہیے تھا اس وقت۔۔۔! ماتھے پہ بل نمایاں تھے۔۔تانیہ منہ بناتے ہوئے بولی کیا مسئلہ ہے جہانزیب میں وہاں میلو ڈرامہ دیکھنے زیادہ نہیں رک سکتی تھی تمہیں پتہ ہے میرے فرینڈس انتظار کر رہے تھے اور ہاں ابھی میں ذرا بزی ہوں رات کو ملتے ہیں پھر بائے سی یو بیبی امممممما😘.. آگے بنا کچھ سنے اس نے کال کاٹ دی اور جہانزیب سنو سنو کرتا رہ گیا۔۔موبائل ڈیش بورڈ پہ پھینکتے ہوئے اس نے زور سے ہاتھ اسٹیرنگ پہ مارا اور بولا کیا مصیبت ہے یار اور گاڑی اسٹارٹ کر کے گھر کی طرف ڈال دی۔۔😠جہانزیب بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اسے یوں لگا جیسے پریشے وہاں موجود ہو اور ابھی کہیں سے آکر مسکراتے ہوئے اسے پانی دیگی پھر پریس کئے ہوئے کپڑے بیڈ پر رکھے گی💞وہ ہوش میں جب آیا جب شاہین نے بولا چھوٹے صاحب آپکو کچھ چاہیے تو وہ چونک کر اسے دیکھتے ہوئے بولانہیں آپ یہاں کیا کر رہی تھیں؟؟وہ چھوٹے صاحب کمرہ صاف کر رہی تھی قالین دوسرا بچھادیا ہے میں نے اس پہ تو خون جم گیا تھا اور شیشہ کے ٹکڑے بھی بہت تھے ہائے پتہ نہیں گڑیا بی بی کہاں ہونگی؟؟😔😔ہمم اچھا اب مجھے آرام کرنا ہے آپ کا کام ہو گیا تو آپ جائیں۔۔۔ جہانزیب بیزاری سے بولا تو شاہین سر ہلاتی ہوئی کمرےسے باہر چلی گئی دروازہ بند ہوا تو وہ آگے بڑھا اور تھکےہوئے انداز میں صوفے پہ بیٹھا ایک دم پریشے کی خوشبو نے اسکے حواس کو جکڑ لیا اسے پریشے کا ہنسنا رونا ہر ہر بات دماغ پہ ہتھوڑے کی مانند محسوس ہوئی تو وہ سر جھٹکتا ہوا بولاShut up just shup pareeshe...!😑😠آخر کیا مسلا ہے تمہارے ساتھ کیوں کیوں کرتی ہو ہمیشہ ایسا پھر مجھے سب کی نظروں میں برا کر گئی ہو تم تم چلی کیوں نہیں جاتی میری زندگی سے..ایک دم دل نے کہا وہ چلی تو گئی ہے ہمیشہ کے لئے پھرکیوںاتنا تلملا رہے ہو۔۔۔I.. I hate u pareeshe..😡اسکے سامنے اسکا عکس کھڑا اس پہ ہنسنے لگا اور کہا تمہیں وہ یاد آرہی ہے نہ🔥نہیں آرہی مجھے وہ یاد میں میں نفرت کرتا ہوں اس سے اس نے دھوکا دیا ہے مجھے😠عکس پھر ہنسنے لگا تم جھوٹ بولتے ہو جہانزیب احمد تم تو محبت کرتے ہو اس سے💞کیا بکواس ہے یہ میں نہیں کرتا محبتعکس بولا جھوٹ تم تو تڑپ رہے ہو اس کو دیکھنے کے لیے💞تہارا دماغ خراب ہے جہانزیب نے غصے میں کشن عکس کی طرف پھینکا وہ اسکا مذاق اڑاتے ہوئے غائب ہو گیا۔۔۔جہانزیب نے سر ہاتھوں میں تھاما پھر اٹھ کر وارڈ روب کی طرف گیا اور اپنا جوڑا نکالا لیکن نیچے کچھ گر گیا اس نے جھککر اٹھایا تو پیپر تھا اس نے کھولا اندر سے ہارٹ شیپ لاکٹ نکلا۔💖یہ یہ لاکٹ تو۔۔۔وہ کیسے اس لاکٹ کو بھول سکتا شادی کے بعد سے یہ ہمیشہ پریشے کے گلے می ذینت بنا رہا تھا جہانزیب نے پیپر دیکھا اس پہ کچھ لکھا تھا💌سلام جہانزیب۔۔" میں سوائے آپکے نام کے اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جا رہی ہوں یہ لاکٹ آپ اپنی من چاہی بیوی کےئے لائے تھے لیکن بدقسمتی سے میں آپکی بیوی تھی تو یہ اب تک میرے پاس رہا لیکن اب آپ کو اپنی پسندیدہ ہمسفر مل گئی ہے تو اس پر میرا حق نہیں یہ آپ تانیہ کو دی دینا اور ماما بابا کا بہت خیال رکھئیے گا وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں تھوڑے خفا کونگےلیکن پلیز آپ جانا مت انھیں چھوڑ کر امید ہے آپ اور تانیہ ہمیشہ خوش رہیں گے اور ہاں فرہین کا بھی خیال رکھنا آپ خیر آپکو نئی زندگی مبارک اب آپکو میرے جیسی لڑکی کبھی نظر نہیں آئیگی ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا آپ اور دعا کرنا اس زندگی سے رہائی مل جائے اب برداشت نہیں ہوتا جہانزیب میں تھک گئی ہوں لیکن آپ نہیں سمجھیں گے چلیں اب جانے کا وقت قریب ہے اللہ آپکا حامی و ناصر"واسلام: پریشے جہانزیب💌❣💘جہانزیب کے ہاتھ سے خط گر گیا کچھ دیر کے لئے اعصاب شل ہوئے لیکن پھر اپنے ازلی انا پرست روپ میں لوٹ آیا اور کہا مجھے نہیں پڑتا تمہارے جینے مرنے سے فرق۔۔😑پریشے کا لاکر کھولا تو اس میں کچھ اسکیچ بکس اور لیپ ٹاپ کے ساتھ ایک ایلبم رکھا تھا جہانزیب نے کچھ سوچ کر وہ سب کچھ اپنے لاکر میں رکھا اور خط اٹھا کر لاکٹ اس میں رکھا وہ بھی اپنے پاس محفوظ کیا وہ خود بھی نہی ں سمجھ پا رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔۔💘پھر فریش ہونے واشروم چلا گیا۔۔۔مٹی کا بنا ہے تو، گھل کیوں نہیں جاتاپتھر کا بنا ہے تو پھر، انسان سا کیوں ہے۔۔۔۔۔۔💘🔥جب باہر آیا تو گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہو گیا شاہین نے شیشہ لگوا دیا تھا دوسرا ابھی بال بنا کر پلٹنے لگا تھا کہ ڈسٹبن سے کچھ کاغذ نیچے گرے ہوئے تھے اس نے جھک کر اٹھائے اندر دیکھا تو کانچ کے ٹکڑوں پر خون جما ہوا تھا اس نے پھٹے ہوئےپیپر دیکھے تو اسے سمجھ آیا یہ کوئی اسکیچز تھے لیکن ایک ٹکڑے پر لکھے الفاظ پڑھ کر اسکے دماغ کی رگیں تن گئی اور بولا تم تم ہمدردی کے لائق ہی نہیں ہو پریشے اتنے میں دروازہ کھلا فاطمہ بیگم اندر داخل ہوئیں اور کہا تمہاری بیوی کہاں ہے وہ جو غصے میں کھڑا تھا پلٹا اور ٹھرے لہجے میں بولا فرینڈز پارٹی میں گئی ہے فاطمہ بیگم نے اسے یوں دیکھاجیسے اسکی دماغی حالت پہ شک ہو اور بولیں جہانزیب تمہیں تو یہ سب ٹھیک نہیں لگتا تھا رات کے ۱۲ ہونے والے ہیں اورر۔۔۔وہ بات کاٹ کر بولا ہاں جب سے پریشے کی اصلیت سامنے آئی مجھے اس میں کوئی برائی نہیں لگتی ک سے کم تانیہ جیسی ہے ویسی ہی دکھتی ہے وہ زہر خند لہجے میں بولا تو فاطمہ بیگم تاصف سے اسے تکنے لگیں وہ پھر بولا وہ پہلے سےکسی ذیب کو پسند کرتی تھی پتہ نہیں میری زندگی کو کیوں جہنم بنانے اسے بابا نے زبردستی شامل کیا😡😓فاطمہ بیگم پتھر ہو گئیں اور پھر روتے ہوئے بولیں آج مجھے تم پر ترس آرہا ہے میرا بیٹا جس پہ مجھے غرور تھا اس نے مجھے گڑیا سے نظر ملانے کے قابل نہیں چھوڑاجس دن اس ذیب کی اصلیت تمہیں پتہ چلی اور یہ انا کی پٹی تمہاری آنکھوں سے اتری تم بہت روؤ گے پچھتاؤگے جہانزیب کہ کس ہیرے کو تم نہیں پہچان سکے اور اپنے لئے پتھر تو چنے مگر اس بد نصیب کو عمر بھر کا روگ بھی دے دیا پتہ نہیں میری بچی کس حال میں ہوگی😭😢😭وہ واپس جانے لگیں تو غیر مناسب لباس میں تانیہ شاہ اندر داخل ہوئی فاطمہ بیگم چبھتی نگاہ اس پہ پھر جہانزیب پر ڈالی تو وہ نظریں چرا گیا😵😑تانیہ بولی او ہائے آنٹی آپ اس وقت ہمارے روم میں خیریت😱فاطمہ بیگم بولیں بیٹا سلام کرتے ہیں اور ہاں اب آپ اس گھر کی بہو ہیں تو ہمارے یہاں ایسا کھلا لباس پہنے کو اچھا نہیں سمجھتے اور رات گئے تک یہاں لڑکیاں باہر نہیں رہتیں آپ بھی خیال کریں۔۔وہ ٹہرے مگر دو ٹوک الفاظ میں اسے سمجھا گئیں تو وہ آگے آتی ہوئی بولی او کم آن آنٹی یہ تو فیشن ہے اور آج کل تو پارٹیز رات کو ہی شروع ہوتی ہیں جہانزیب تو جانتا ہے وہ منہ بنا کر بولی تو ایک خاموش مگر شکوہ کن نظر فاطمہ بیگم جہانزیب پہ ڈالتی انہیں شب بخیر کہتی باہر چلی گئیں😱😡جہانزیب: یہ ہے ٹائم گھر آنے کا؟؟تانیہ سمجھ گئی وہ غصے میں ہے اور اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے یہوہ جانتی تھی وہ آگے بڑھی اور جہانزیب کے چوڑے سینے پہ سر رکھ کر بولی اچھا سوری یار تم ناراض نہ ہو نہ ہماری یہاں آج پہلی رات ہے کیوں اسے لڑ کر خراب کریں ۔آخر اتنی مشکل سے تمہیں پایا ہے ابھی سب خراب نہیں ہونے دے سکتی آخری بات دل میں سوچی۔۔😒😒😒جہانزیب کا دل نرم پڑا اور بولا آئندہ خیال رکھو یار یہاں ایسا نہیں ہوتا اور ڈریسنگ بھی تھوڑی ٹھیک کرو۔😕😕تانیہ شاہ مکاری سے ہنسنے لگی😏😏________ _______ ________ _______میری تحریر کی زد میں۔۔!!ابھی تو کچھ نہیں آیا۔۔۔!!!!ابھی وہ درد لکھنا ہے...؟؟جسے میں محسوس کرتی ہوں...!!😢________ _________ ________ _______اگلے روز سے یونیورسٹی میں بہت لوگ تھے جب پریشے اور سمرین وہاں داخل ہوئے۔۔سمرین: یار یہاں تو بہت لوگ ہیں ہائے کوئی میرا بھی منتظر ہو کیا پتا..!!😄😅پریشے: تو ویلی ہی رہنا صدا یہاں پڑھنے آئی ہے یا رشتہ طے کرنے۔۔😒😒سمرین قہقہا لگاتے ہوئے بولی پریشے کی سیٹنگ کرانے آئی ہوں میں تو وہ کیا نام تھا ہاں جہانزیب احمد کے ساتھ😅😅😅پریشے نے غصے میں اسے دو دھموکے جڑے اور بولی بکواس نہ کر وہ کہاں سے بیچ میں آگیا ہاں اور اگر کچھ ایسا ویسا تم نے سوچا بھی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا😠😡سمرین کراہتے ہوئے بولی کیا یار تم سے برا کوئی ہے بھی نہیں میں تو مذاق کر رہی تھی ایسے جنگلیوں کی طرح کون مارتا ہے ہائے بیچارا میرا بازو😕پریشے: تو کس نے بولا ایسا مذاق کرنے کو اب ڈرامہ کوئین نہ بنو چلو کلاس کے لئے لیٹ ہو رہیں ہیں۔۔پھر وہ دونوں کلاس میں پہنچیں وہاں بھی بہت شور تھا دونوں سامنے والی بینچ چھوڑ کر دوسری پر بیٹھ گئیں۔۔5 منٹ بعد پروفیسر آئے تو خاموشی چھا گئی آج پہلا دن تھااس لئے سب کا انٹرو لیا گیا پریشے نے اپنا تعارف کرایا تو 2 لوگ غور سے اسکا جائزہ لینے لگے جہانزیب پرشوق نظروں😍سے اور امان ہوس زدہ نظروں سے😬۔۔چند کلاس لینے کے بعد سمرین کی بھوک جاگ گئی تو وہ اور پریشے کیٹین آگئے برگر اور کولڈڈرنکس لے کر بیٹھے ہی تھے کہ جہانزیب کا گروپ بھی آگیا اور امان سیدھا پریشے کی ٹیبل پر پہنچا اور بولا سلام بھئی بڑے بڑے لوگ آئیں ہیں پری کا اسے دیکھ کر منہ بن گیا سمرین نے تیکھے انداز میں کہا کیوں بھئی یہاں آنا منا ہے کیا۔۔۔۔😒😒امان خود ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا اور بولا نہیں نہیں زہےنصیب جو آپ لوگ یہں آئے ہیں وہ پریشے پر بھر پور نظر ڈالتے ہوئے بولا جو اسکی آمد سے بےزار نظر آرہی تھی۔😑😏کچھ دیر بعد کسی لڑکی کے بلانے پر امان گیا تو ان دونوں نے سکون کا سانس لیا سمرین بولی اس ایڈیٹ کو بھی یہیں آنا تھا😕پریشے: ہاں یار مصیبت کہیں کا ہنہ کہیں بھی شروع ہو جاتا ہے بس۔۔۔😒😒شہزاد نے ماریہ اور جہانزیب سے بولا ارے وہ تو مس پریشے ہیں نہتو ان سب نے مڑ کر دیکھا اسی لمحے پریشے کی نظر ان پر پڑی تو انہیں خود کو یوں تکتا دیکھ کر گھبراتے ہوئے سمرینبولی یار کیا ہوا ہے مجھے جو وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے ہیں😮😦سمرین نے مڑ کر دیکھا تو وہ پانچوں انہیں کی طرف آرہے تھے۔۔پاس پہنچ کر انہوں نے سلام کیا اور بیٹھنے کی اجازت مانگی پریشے کے کچھ کہنے سے پہلے ہی سمرین نے کہا جی جی کیوں نہیں اور پریشے اسے گھور کر رہ گئی جس پہ اس نے نظر بچا کر اسے فلائنگ کس دیا😗😉تو وہ ہنس دی😊اور جہانزیب کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی💘💖دن یونہی گزرنے لگے وہ روز یونی جاتی وہاں وہ امان سے بے زار رہتی اور جہانزیب سے بھاگتی تھی گھر آکر ریحانہ بیگم کی کڑوی کسیلی سنتی جسے دوسرے کان سے نکال دیتی اور رات کو سلطانہ بیگم کی تصویر کو اپنا حال دل کہہ سناتی جو لیپ ٹاپ میں محفوظ بھی کرتی پھر نماز پڑھجر خدا سے حال دل بیان کر لیتی اسکا شکر کرتی اور اسائینمینٹس بنا کر سو جاتی۔۔۔۔لیکن آزمائیشیں تو ابھی شروع ہونی تھیں۔۔۔😔😔_________ ________ ________ ______دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئےیاد غم کے ہمیں کچھ اور بھی پہلو آئےظلمت شب میں ہے روپوش نشان منزلاب مجھے راہ دکھانے کوئی جگنو آئےدل کا ہر زخم تیری یاد کا پھول بنےمیرے پیراہن جاں سے تیری خوشبو آئےتشنہ کاموں کی کہیں پیاس بجھا کرتی ہےدشت کو چھوڑ کے اب کون لب جو آئےایک پرچھائیں تصور کی میرے ساتھ رہےمیں تجھے بھولوں مگر یاد مجھے تو آئےمیں یہی آس لئے غم کی کڑی دھوپ میں ہوںدل کے صحرا میں تیرے پیار کا آہو آئےدل پریشان ہے گلنار تو ماحول اداساب ضرورت ہے کوئی مطرب خوش خو آئے______ _______ ________ ________ڈاکٹر صائم نےبتایا کہ پریشے اب اسٹیبل ہے لیکن اس نے جینے کی چاہ چھوڑ دی ہے اب جب تک وہ اپنی ول پاور استعمال نہیں کرےگی تب تک اسی حال میں رہے گی الینا اور سمرین جہاں پرسکون ہوئے وہیں ریشانی بھی ہوئی کہ ایسا کب تک رہےگا لیکن اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔۔۔😌😲😧اسلئیے پریشے کو تاشفہ آنٹی کے گھر میں شفٹ کر دیا گیا تھا جنید کراچی آگیا تھا اسے آپریشن دیکھنے ہوتے تھے وہ C.I.D آفیسر تھا سمرین کا شوہر اور کزن بھی۔۔۔الینا کو صائم کے ساتھ ہسپتال دیکھنا ہوتا تھا جو دونوں کے نکاح کے بعد کچھ عرصہ پہلے پاکستان آکر کھولا تھا ۔۔سمرین بھی زیادہ عرصہ وہاں نہیں رہ سکتی جنید گھر پہ اکیلاہوتا تھا اور ماموں نے بھی ورنہ غصہ کرنا تھا تاشفہ آنٹی نے اسے بھی بھیج دیا اور ایک ملازمہ کے ساتھ پریشے کا پورا پورا خیال رکھنے لگیں وہ روتی جاتی اور اسکے لئے دعا کرتے کرتے اسکے کام بھی کئیے جاتی روز صبح اور رات الینا اور صائم اسے چیک کر جاتے تھے آج 1 مہینہ گزر گیا تھا پریشے کو گئے ہوئے لیکن چند لوگوں کی زندگیاں بھی جیسے رک سی گییں تھیں احد اور شاہزیب صاحب ڈھونڈ ڈھونڈ تھک گئے لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا اور وہاں پریشے زندہ لاش بنی دنیا سے منہ موڑے پڑی تھی۔۔😭😭😭😭________ ________ ________جب بھی ماضی کو یاد کرتے ہیں💔اتنا ہنستے ہیں کہ رو پڑتے ہیں💔________ __________ ________وہ کسی جنگل میں بھاگ رہی تھی😰بہت تیز اسکے کانوں میں اسکے بابا کی آواز آرہی تھی وہ اس آواز کا پیچھا کر رہی تھی اندھیرا بھی تھا😱اور پاوؤں میں کانٹے چبھ رہے تھے😨لیکن وہ زور زور سے بلکتی ہوئی بابا بابا پکار رہی تھی اندھجرے مںی ایک دم بہت تیز روشنی آئی جس سے اس کے قدم تھم گئے اور آنکھیں چندھیا گئیں وہ وہیں بیٹھ کر تیز تیز سانس لینے لگی اتنے میں کسی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا جوں ہی اس نے اوپر دیکھا کوئی بہت پرنور شخص اسےشفقت اور پیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اس نے روتے ہوئے پکارا بابا وہ بولے میرا بیٹا تو بہت بہادر ہے نہ میری جان بس اب اٹھ جاؤ اللہ نے سب ٹھیک کر دینا ہے وہ زور زور سے نفی گردن ہلاتے ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی نہیں نہیں بابا پلیز میرے پاس رکیں اب سب ختم ہو گیا لیکن یہ کیا وہنور وہ شفقت بھرا ہاتھ سب ہوا میں تحلیل ہو گیا اور پھر اندھیرا چھا گیا وہ چیختے ہوئے اٹھ بیٹھی بابا بابا پلیز رک جائیں پلیز مجھے اکیلا نہ چھوڑیں بابااااااا۔۔۔۔۔۔😭😭😭😭😭😭تاشفہ آنٹی جھٹکے سے حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں اس کے پاس آئیں اور اسے سنبھالا جو اپنے حواسوں میں نہیں تھی اور سینے سے لگا لیا جب سب یاد اور سمجھ آیا تو پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور بولی آنٹی آ۔۔آپ نے کہا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا دیکھیں دیکھیں نہ م۔۔میرے ساتھ کیا ہوا ہے م۔میں میں خالی ہاتھ رہ گئی ک۔ک۔کیوں ہوا ایسا مطلب میں بہت بری ہوں نہ ہاں مجھے مجھے مر جانا چاہئیے آپ نے کیوں کیوں بچایا ہے میں مرنا چاہتی کوں پلیز دعا کریں نا وہ آپکی تو سنے گا میری نہیں سنتا نا😭😭😭😭😭آج 2 مہینے بعد اسے ہوش آگیا تھا وہ واپس اس دنیا میں اذیت سہنے لوٹ آئی تھی۔۔۔۔😥😥😓😢تاشفہ آنٹی روتے ہوئے اسے دلاسے دینے لگیں اور بولیں بسس کر میری بچی صبر کر اللہ سب ٹھیک کریگا وہ سب جانتا ہے نہ۔۔😢ہاں ہاں وہ دیکھ بھی رہا سن بھی رہا ہے لیکن صرف میرے نصیب تکلیفیں دیتا ہے ج۔جہانزیب کو دیکھیں وہ نہیں ہوا میرا اور کہا تمہیں اب چلے جانا چاہئیے میں میں کہاں جاؤں کوئی بتا دے میر کوئی گھر نہیں ہے آنٹی اس نے مجھے بے آسرا کر دیا ہے۔۔۔😨پریشے میرے بچے کیا بولے جا رہی ہو تم تم تو بہت ہمت والی ہو اللہ سے شکوے کیوں میری جان۔۔😱وہ نفی میں گردن ہلاتے ہچکیوں کے درمیان بولی میں انسان ہوں نا میں تھک گئی ہوں بہت آنٹی وہ نڈھال سی صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی تاشفہ آنٹی نے فورن الینا کو بتایا اور اسے کچھ میڈیسن دی جس سے وہ پرسکون سو گئی وہ روتے ہوئے اللہ سےدعائیں کر رہیں تھیں کہ اب رحم کر دے مولا اس معصوم پہ اور کتنی آزمائیشیں ہیں اسکے نصیب میں۔۔۔😭😭________ ___________ __________مجھے سکوں میسر،نہیں تو کیا غم ہے،گلوں کی عمر تو،کانٹوں کے درمیان گزری💔💔_________ __________ ___________امان نے یونی میں پریشے کے پیچھے مشہور کرنا شروع کر دیا کہ وہ اسکی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔😬سمرین اور پریشے ہر ممکن کوشش کرتے اس سے دور رہنے کی مگر وہ اکثر انکے پاس پای جاتا😠جہانزیب کو یہ سب برا لگتا لیکن وہ کر کیا سکتا تھا ہاں اکثرامان کو کہیں نہ کہیں انگیج کر دیتا کسی طرح تکہ وہ ان سے دور رہے💖ابھی کینٹین میں بیٹھی وہ اسائینمینٹ کمپلیٹ کر رہی تھی کہسمرین سمیت جہانزیب گروپ وہاں آگئے پری کو غصہ آیا وہ جانےلگی تو سمرین مریم اوع شہزاد نے زبردستی روک لیا کہ وہ وہاں مقابلہ کرنے آئے ہیں جو بنا پریشے کہ ہو نہیں سکتا بہت منت سماجت کے بعد وہ مان گئی اور اپنا سامان بیگ میں ڈالا پھر منہ بنا کر بیٹھ گئی تو شہزاد بولا اب اپنا منہ تو صحیح کرو یار۔۔وہ تنک کر بولی:Don't call me yarr....😡😡سب نے اس بات پر قہقہا لگایا بیچارے شہزد کا چھوٹا سا منہنکل گیا جسے دیکھ کر پریشے کو ہنسی آگئی اور شہزاد نے اپنےدانتوں کی نمائش کرتے ہوئے واہ بھئی واہ کڑی تے ہنس گئی😂😂😂پھر وہاں پری اور جہانزیب کا ایک چھوٹا سا مقابلہ رکھا وہ اتنی دیر سے خاموش بیٹھا اب بولا کہ ہاں بھئی شکر ہے سمرین تمہاری دوست مانی ورنہ آج یہ تمہارا پلین فیل ہوجانا تھا😉😉سمرین نے گڑبڑا کر پریشے کو دیکھا اور بولی وینا نہیں نہیں میں نے نہیں کہا انکو یہ جھوٹ بول رہے ہیں .😓😓ہاں جیسے میں تمہیں جانتی نہیں😒😒مقابلہ کیا تھا بس تفریح کرنی تھی سب نے اور سب کی سوچ کے مطابق پریشے نے ہی ون کرنا تھا😊سمرین نے نظر بچا کر پریشے کے بیگ سے اسکی اسکیچ بک نکالی اور سب کو دکھانا شروع ہوگئی پریشے کا بس نہیں چلا وہ اسکا سر پھاڑ دیتی سب ستائش بھری نظروں سے اسکیچز دیکھ رہے تھے ایک دو نے اپنا اسکیچ بنانے کی فرمائش بھی کردی جسے اس نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا جی ضرور😂سب جانے لگے تو باہر نکلتے ہوئے جہانزیب نے اسے کہا آپ واقعی بہت زبردست اسکیچ بناتی ہیں کہاں سے سیکھا تو اس نے کہا بس فارغ ٹائم میں کر لیتی ہوں سیکھا نہیں ہے۔او اچھا واوؤ امیزنگ یو آر گریٹ😍😍💞پریشے تو بھاگنے کے پر تول رہی تھی شکریہ کہتی وہاں سے فو آگے بڑھ گئی اور وہ کھڑا مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا اور دور کھڑا امان جل کر خاک ہو گیا😬😠😡..اب میں تمہیں بتاؤنگا پریشے عباسی میں کیا ہوں تم صرف میری ہو صرف امان کی اور اگر نہیں تو میں تمہیں کسی کے قابل نہیں رہنے دونگا😠😡😱_________ ________ ________آج کی قسط کیسی لگی آپکی رائے کا انتظار رہیگا۔۔اگلی قسط 2 دن بعد۔۔___________ __________ _________#SimiWrites💞

No comments:
Post a Comment