#_انا_آزمائش_اور_محبت#_بقلم_سیمی✍#_قسط_۳نظر ان کی زبان ان کی۔۔تعجب ہے کہ اس پر بھی۔۔💕نظر کچھ اور کہتی ہے۔۔زباں کچھ اور کہتی ہے۔۔💕________ ________ ________ ________جہانزیب کدھر کھوئے ہو بھئی؟ شہزاد گاڑی میں بیٹھتے ہی بولا تو وہ جو کسی سوچ میں گم تھا فورا بولا ن۔نہیں نہیں یار کہیں بھی نہیں تم بتاؤ۔۔شہزاد: بس کچھ خاص نہیں پاپا لاہور شفٹ ہو رہے اگلے سال اب یہاں اکیلے رہنا پڑے گا۔۔😏جہانزیب نے حیرانی سے اسے دیکھا اور کہا تو؟😒شہزاد: تو کچھ نہیں جگر آزادی منائیں گے.😂جہانزیب: تو نہ سدھرنا بس۔۔شہزاد سیدھا ہوتا ہوا بولا یار ویسے وہ اپنے ڈیپارٹمینٹ میں جو لڑکی آئی ہے وینا کیا کمال آواز ہے اسکی اسے تو سنگر بننا چاہئیے۔۔جہانزیب: اسکا نام تو پریشے ہے نہ؟❤شہزاد نے اثبات میں گردن ہلاتے کہا ہاں وہ سمرین اسے وینا کہہ رہی تھی بعد میں بتایا تھا اسکا اصل نام۔۔۔اچھا ویسے واقعی میں پریشے بہت اچھا گاتیں ہیں امیزنگ یار جہانزیب ستائشی انداز میں بولا۔😍شہزاد ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا اور پورا جہانزیب کی طرف گھوم کر بولا بھائی تو ٹھیک ہے نہ مجھے یقین نہیں آرہا کہ جہانزیب احمد کسی لڑکی کی تعریف کر رہے ہیں یہ کہیںخواب تو نہیں..!😱جہانزیب چڑ کر بولا ابے بند کر اپنی ڈرامے بازی اب ایسا بھی کچھ نہیں ہو گیا۔۔😒نہیں تو سچ بتا چکر کیا ہے آخر۔۔کوئی چکر نہیں ہے بس وہ اچھی لڑکی ہے اور تو جانتا ہے میں تعریف میں کنجوسی نہیں کرتا۔😝شہزاد بولا نہیں نہیں بیٹا تو جھوٹ بول رہا ہے مجھے لگتا ہے مس پریشے نے آپکے دل کے تار چھیڑ دئیے ہیں💞جہانزیب نے ایک ہاتھ اسے جڑ دیا اور بولا بکواس نہ کر زیادہ تو جانتا ہے میں ایسا نہیں ہوں۔۔😎شہزاد کراہتے ہوئے بولا یہ تو وقت بتائےگا لیکن تو یہ تو بتا تیرے سرکل میں ایک سے ایک خوبصورت لڑکی ہے اور کالج میں بھی بہت لڑکیاں تجھ پہ مرتی ہیں لیکن تو انہیں گھاس نہیں ڈالتا پھررر۔😆جہانزیب: یار مجھے خوبصورتی اٹریکٹ نہیں کرتی ہے اور خاص کریہ آج کل کی فیشن ایبل لڑکیاں توبہ یار بس پریشے کچھ الگ لگی مجھے شاید اسکی سادہ طبیعت امپریس کر گئی ہو🔥😍شہزاد تو سکتے کی کیفیت میں اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔۔😵جہانزیب: اب گھورنا بند کر تیرا گھر آگیا ہے جا اب میری جان چھوڑ فرہین گھر سر پہ اٹھائے بیٹھی ہوگی مجھے اسکی دوست کے لیکر جانا تھا اور میں تیرے ساتھ سر کھپا رہا ہوں.😒😒شہزاد گھورتا ہوا گاڑی سے اترا اور بولا بات ختم نہیں ہوئی ہے ابھی۔۔۔جہانزیب گاڑی ریورس کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا اور پریشے کا چہرا آنکھوں کے سامنے آیا تو وہ ہلکے سے مسکرایا جس سے اسکا ڈمپل نودار ہوا اور اسے مزید خوبصورت بنا گیا۔😍ہممم تو مس پریشے لگتا ہے کہ دوبارہ آپ سے جلد ملنا پڑیگا۔۔🔥💞________ _________ ________کوئی لمحہ ہو تیرے ساتھ کامیری عمر بھر کو سمیٹ لے😓میں فنا بقا کے سبھی سفراسی ایک پل میں گزار لوں😢________ ___________ _________)حال(یادوں کے سفر سے باہر آکر پریشے نے لمبا سانس کھینچا اور ایک خط لکھا💌پھر احد کو ای میل لکھنے بیٹھی تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔😢😢"میرے بھائی آج ہار گئی تمہاری آپی کچھ نہیں بچا میرے پاساحد بس اب نہیں ہوتا برداشت یہ آزمائیشیں جان لیتی بھی نہیں اور جینے دیتی بھی نہیں میرے پیارے بھائی میں بھی عام لڑکیوں جیسی نکلی اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکونگی احد کل فرقان انکل آئیں گے میں نے دکان تمہارے نام کردی ہے ماما کو کہنا اب۔۔ اب انہیں نہیں دیکھنا پڑیگا مجھے میں جا رہی ہوں سب سے دور😔جتنی سانسیں اور بچی ہیں سکون سے گزارنا چاہتی ہوں تم کسی سے کچھ نہیں کہوگے تمہیں میری قسم ہے جہانزیب سے بھی نہ لڑنا اور ماماکا فری، عینی، وانی سب کا خیال تم نے رکھنا ہے بےفکر رہنا خودکشی نہیں کر رہی😭😭ب۔۔بہت بزدل ہوں میں کوشش کے باوجود نہیں کر سکی مجھ پہ تو وہ رب بھی نہیں کھاتا ترس۔ ہمیشہ خوش رہو اب وقت نہیں ہے اور میرے پاس۔تمہاری بدنصیب بہن پریشے جہانزیب😢😢__________ __________ __________میری آرزو تھی کہ سکھ ملےمجھے آنسوؤں بھرے دکھ ملے😓میں اکیلی اپنی ہی ذات میںمیں اداس اپنے ہی شہر میں😢__________ ___________ _________پریشے سامنے شیشے میں خود کو دیکھ رہی تھی اندر تو جیسے کوئی آگ جل رہی تھی🔥اور باہر سردیوں کی بارش برس رہی تھی⛈وہ اشتعال میں فون شیشے پہ مار دیتی ہے شیشہ منٹ میں چکنا چور ہوگیا وہ نیچے بیٹھتی گئی لیکن پھر اٹھی چہرا بےدردی سے صاف کر کے آگے بڑھی تو کانچ پاؤں میں چبھ گیا لیکن درد کس کو ہونا تھا اس نے وہ کانچ نکالا اور سارے ٹکڑے جمع کر کے ڈسٹبن میں ڈالے پاؤں کے نشان صاف کرنے کا وقت نہیں تھا فجر سے پہلے اسے نکلنا تھا پاؤں پہ پٹی باندھی اور موبائل سے سم نکال کر توڑدی پھر حجاب پہنا چادر لی بارش کی وجہ سے اپنا پرس شاپنگ بیگ میں ڈالا آور کچھ اسکیچس پہ نظر پڑی تو انہیں بھی پھاڑ دیا کمرے پہ ایک نظر ڈالتی وہ باہر آگئی اور ٹیبل پہ خط رکھا شاہزیب صاحب اور فاطمہ بیگم کے کمرے کی طرف ایک نظر دیکھا اور سوری کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔😢😢________ _________ ________ہم جو تیرے بغیر زندہ ہیںسب دکھاوا ہے دنیاداری ہےرات کا روز یہ دلاسہ ہےآج کی رات صرف بھاری ہے😑کیا بھروسہ ہو ان طبیبوں کایہ تو کہتے تھے،زخم کاری ہےہم تو ہارے ہیں زندگی سے مگرزندگی موت سے نہ ہاری ہے😐خود سے ٹالا ہر اک سکوں اپناجب سے تیری نظر اتاری ہےکسی آہٹ پہ چونکنا کیساجب ہے معلوم،بےقراری ہے😖فیصلہ جو کیا،کیا ہے اٹلاچھی عادت یہی تمہاری ہےجتنا جینا تھا جی لیا اب تکاب تو جینے کی رسم جاری ہے😔_________ _________ _________وہ بارش میں بھیگتی ہوئی آنسو بہاتی چلے جا رہی تھی آج وہ بے سرو ساماں تھی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے پاوؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو اور آسمان والاچھت بھی میسر نہیں رہنے دے رہا ہو 6 بجنے میں 1 گھنٹہ تھا اور گھر سے پیدل چلتے کیفے تک کا رستہ بھی اتنا ہی تھا آسمان بھی آج اسکے ساتھ رو رہا تھا اسکی قسمت کیستم ظریفی یہ ہی تو تھی کہ جسے بھی اس نے چاہا وہ ریت کی مانند اسکے ہاتھ سے پھسل گیا آج اسکا بھروسہ ہر شہ سے ختم تھا ۔۔ سر میں اٹھتی درد کی ٹیسوں کو وہ اگنور کئیے جارہی تھی ابھی ہلکہ اندھیرا ہی تھا وہ آج خدا سے شکوہ کر رہی تھی اپنے ماما بابا سے بھی شکوہ کناں تھی کہ کیوں وہ ہر اس وقت اسے اکیلا کر گئے جہاں اسے سہارے کی ضرورت تھی کیا اس ظالم دنیا کے بے وفا اور ہوس پرست لوگوں کا انہیں نہیں پتا تھا کیوں خدا اسے اس درد بھری زندگی سے نجات نہیں دے دیتا😭😭۔۔۔انہیں سوچوں میں گم وہ کیفے کی طرف مڑی تو دور سے کب سےپریشان جنید اور سمرین نے اسے اس طرح ٹوٹی بکھری حالت میں دیکھا دونوں کے دل ہی دہل گئے دوڑ کے اسکے پاس پہنچے تو وہ ویران نظروں سے سمرین کو دیکھے گئی سمرین نے روتے ہوئے پری کو گلے لگایا وہ کافی حد تک بھیگی ہوئی تھی لیکن پرواہ کس کو تھی جنید نے کہا ہمیں بلا لیتی نا پری کتنا بھیگ گئی ہو چلو جلدی ورنہ بیمار ہوجاؤگی۔۔😔😔وہ خاموش انکے ساتھ چل دی جنید کے گھر پہنچ کر سمرین نےاسے چینج کرنے کو کہا پھر زبردستی جوس پلایا اور اسکے ہاتھ تھام کر پوچھا اب بتاؤ کیا کرنا ہے میری جان۔۔😖💞پری نے پہلے نماز پڑھی اور کوئی بھی دعا مانگے بنا اٹھ گئی۔پھر سمرین سے کہا بس تاشفہ آنٹی کے سینٹر رہنا ہے اب وہاں تو مل جائگی نا مجھے جگہ۔۔؟😧سمرین رونے لگی اور پھر سنبھل کر کہا کب جانا ہے۔؟ابھی ورنہ سب سے پہلے احد تمہارے پاس آئے گا۔جنید نے کہا ٹھیک ہے چلو دونوں میرے ساتھ۔۔سمرین اور جنید کو کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی وہ سب کچھ پہلے ہی جانتے تھے اسکے ہم راز وہی دونوں تو تھے جنید بہت غصے میں تھا😠اسے تو سمرین نے مشکل سے کول ڈاؤن کیا تھا ورنہ وہ جہانزیب کے پاس پہنچ جاتا۔وہ لوگ بائے ائیر جنید کے تعلقات کی وجہ سے اسلامآباد پہنچے تھے۔پریشے کو جب تک سخت بخار اپنی گرفت میں جکڑ چکا تھا سمرین نے اپنی امی کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا گھر پہنچے تو پری بلکل نڈھال ہو چکی تھی سمرین سے آخری بات اس نے یہی کہی دعا ک۔۔کرو سمرین کاش م۔مم۔مجھے اس زندگی سے رہائی مل جائے۔😭اور بے ہوش ہو گئی وہاں موجود سب کی آنکھیں نم تھیں اوراس طرح پری کے بے ہوش ہونے پہ سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔۔😓😓سمرین کو یاد آیا الینا کی ڈیوٹی اسلام آباد میں ہے اس نے جلدی سے اسے ہسپتال پہنچنے کا کہا اور پری کو جنید کے ہمراہ لے گئی۔۔😔الینا کے آنسو ہی نہیں تھم رہے تھے پریشے کی حالت دیکھ کر وہاں ایک نئی خبر منتظر تھی ان سب کی کہ پریشے کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے اگر 48 گھنٹوں میں ہوش نہ آیا تو وہ کومے میں چلی جائگی سمرین اور الینا کی سانس رک گئی اس خبر پر دوسرا پریشے کے کہنے کی وجہ سے وہ اسکے گھر بھی نہیں بتا سکتے تھے۔۔۔۔۔😱😱😱😱😭😭________ ________ ________میں نے وہ کھویا ہے جو میرا تھا ہی نہیں😔اس نے وہ کھویا ہے جو صرف اس کا تھا😓_________ _________ ___________صبح احد میل چیک کر رہا تھا جب پریشے کی میل دیکھی تو اسے یقین نہیں آیا روتے ہوئے فری کو بتایا اور دونوں شاہزیب صاحب کے گھر کی طرف بھاگے ریش ڈرائیو کرتے ہوئے وہاںپہنچے تو اندر بھی کہرام برپا تھا جیسے فری بھاگ کے گئی ماما بابا کیا ہوا ہے ایسے کیوں رو رہے ہیں ب۔بھابھی ک۔۔کہاں ہیں۔۔😢شاہزیب صاحب نے احد کو دیکھا جو آنکھوں میں آس لئے انہیںہی دیکھ رہا تھا انہوں نے نفی میں گردن ہلاتے سر جھکا لیا لیکن احد کو لگا کسی نے اسکی سانس کھینچ لی ہو وہ وہیں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا😭😭😭اتنے میں جہانزیب اور تانیہ شاہ اندر داخل ہوئے لیکن سب کو یوں روتے دیکھ کر دروازے میں ہی رک گئے۔۔ ابھی وہ کچھ پوچھتے کہ وکیل اندر آئے احد کے پاس آکر اسے اٹھایا اور گلے لگایا وہ فورن بولا ف۔فرقان انکل آپی۔۔۔انہوں نے بات کاٹ کر کہا تم سے بہت پیار کرتی تھی اچھا ہوا آپ سب یہیں مل گئے انہوں نے ایک طرف پریشان کھڑے جہانزیب سمیت سب پر نظر ڈالتے کہا۔شاہزیب صاحب سر جھکائے بیٹھے تھے۔فرقان انکل نے بیگ کھولا تین فائل نکالیں۔احد یہ پریشے بیٹی کی دکان کے کاغذات ہیں جو وہ تمہارے نام کر گئی ہے اور کچھ جیولری اسکی ماں کی تھی جو وہ عینی اور وانی کے نام جیولری بینک لاکر میں محفوظ ہے ۔احد کو فائل تھماتے ہوئے وہ بولے یہ آج سے آپکے ہوئے میرے پاس پری کی امانت تھے یہ۔احد فائل سینے سے لگائے پھر فرش پہ بیٹھ گیا۔😭دوسری فائل کھول کر فرقان انکل شاہزیب صاحب کی طرف بڑھے یہ گھر کے کاغذات جو آپ نے پری کے نام کیا تھا وہ دوبارہ آپکے اور آپکی مسس کے نام کر گئی ہے اور یہ چابیاں آپکے ہینڈ اوور کرنے کو کہا تھا۔شاہزیب صاحب نے سر اٹھایا فائل اور چابیاں تھامیں اور ٹیبل پر رکھ کر دوبارا سر جھکا گئے۔۔😔😔اب تیسری فائل تھام کر انہوں نے جہانزیب کو دیکھا اور بولے شاہزیب صاحب پریشے بیٹی نے احمد انٹرپرائیزر جہانزیب احمد کے نام کر دیا ہے اسکا کہنا تھا کہ اس پراپرٹی پہ صرف جہانزیب احمد کا حق ہے اور جو خاندانی جیولری فاطمہ بیگم نے اسے دی تھی وہ آدھی فری کو اور آدھی جہانزیب کی دوسری بیوی تانیہ شاہ کو دینی ہے وہ بھی بینک لاکر میں محفوظ ہے۔۔😱😱جہانزیب اور تانیہ شاہ ہکا بکا سب کو دیکھ رہے تھے انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے۔وکیل صاحب جاتے ہوئے پلٹے اور آنکھوں میں آنسو لئے جہانزیبسے بولے لڑکے اچھا نہیں کیا تم نے اور چلے گئے۔😢😢جہانزیب: بابا ک۔کیا ہو رہا ہے یہ سب ؟شاہزیب صاحب نے اسے دیکھا اور بنا کچھ کہے اپنے ک۔رے میں چلے گئے۔۔😔فاطمہ بیگم روتے ہوئے اٹھی اور اسکے پاس آکر ایک تمانچہ اسے رسید کر دیا۔۔وہ منہ پہ ہاتھ رکھتا ہوا بولا ماما۔۔۔م۔مت کہہ مجھے ماما ۔۔گڑیا میں اسے معاف نہیں کر سکتی میری بچی جہاں بھی ہو آجاؤ میری جان اور وہ بھی اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔😭😭تانیہ شاہ اس سب سے بیزار ہو کر اپنے پاپا کے گھر چلی گئی مگر ابھی پرواہ کسے تھی۔۔فری کا آخری منتھ چل رہا تھا اس نے احد کو آواز دی اور کہا ہسپتال چلو۔۔احد فورن اسے اٹھا کر باہر بھاگا جہانزیب بھی اسکے پیچھے گیا گاڑی کا دروازہ کھولا اور احد کو بولا بیٹھو احد نے ایک نظر اسے اور ایک نظر اپنی روتی ہوئی بیوی کو دیکھا اور چپ چاپ بیٹھ گیا۔۔فری اور احد کے خوبصورت بیٹے کی پیدائش ہوئی سب ہسپتال میںموجود تھے ریحانہ بیگم بولیں کیا نام رکھوگی فری۔احد بولا آپی نے نام پہلے ہی رکھ دیا ہے۔فری نے کہا ہاں بھابھی نے عمر نام بتایا تھا یہی نام ہے میرے بیٹے کا پری کے ذکر پہ سب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔😢😢ہاں اسے اتنی تو توفیق نہیں ہوئی کہ اس وقت یہاں موجود ہوتی ریحانہ بیگم ابھی اور کچھ بولتیں احد غصے سے بسسس ماما بسس چ۔۔چلی گئیں ہمیشہ کے لئے میری آپی اب تو بخش دیں پلیز میں ہاتھ جوڑتا ہوں آپکے😭😭وہاں موجود جہانزیب، عینی، وانیہ، اور ریحانہ بیگم کو سکتہ تاری ہوگیا۔۔😵😵عینی احد کے پاس آئی اور سہمے ہوئے لہجے میں بولی ا۔احد کک۔کہاں ہے میری مانو۔۔ وانی بھی بولی بولو نہ احد کہاں ہیں آپی۔۔؟؟😢😢نہیں پتہ کسی کو بھی کہ کہاں ہیں وہ کس حال میں ہیں؟اور ہیں بھی کہ۔۔۔ آگے احد سے بولا نہیں گیا😭😭تم پاگل ہو یہ یہ کیا کہہ رہے ہو احد کہاں ہے میری بچی ریحانہ بیگم کو یقین ہی نہیں ہوا۔۔کیون امی اب تو آپکو خوش ہونا چاہیے نا وہ وہ نہیں آئیں آپکے گھر آپ نے تو نکال دیا تھا نا انہیں وانی روتے ہوئے خفگی سے ماں سے بولی۔😭😐احد: وانی آپی نے کہا ہے ہم کسی سی کچھ نہ کہیں خاص کر مامااور جہانزیب بھائی سے اسلئے پلیز چپ ہو جاؤ۔😑بہت بڑی ہو گئی ہے نہ مانو جو اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے بنا کہے کر لیا عینی نے آنسو صاف کئے😢فری: آپی وہ بہت پہلے سے ہمیں بتائے بنا بہت کچھ کرتی رہیں ہیں😓فاطمہ بیگم نے شاہزیب صاحب کو کہا آپ کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں جائیں نہ میری گڑیا کو لے آئیں۔۔😖😖شاہزیب صاحب نے چہرا اٹھایا اور بولے کیا کہوں بیگم آج خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا میں کیا آخر کیا جواب دونگا میں سجاد کو جو مرتے وقت اپنی وینا مجھے سونپ گیا اور میں اس بد نصیب کا ایک دکھ کم نہیں کر سکا وہ بہت تھکے ہوئے ہارے ہوئے انسان معلوم ہوئے اس وقت۔۔بیگم اس بچی نے جاتے ہوئے بھی باندھ دیا مجھے کہ میں اسانا پرست انسان جو بد قسمتی سے میرا خون ہے اسے کچھ نہ کہوں اور میں اب واقعی اسے کچھ نہیں کہونگا میرا اس سے واسطہ نہیں ہے۔۔😔فری: احد پلیز پتہ کرو نہ انکا۔۔کہاں جاؤں میں انہیں ڈھونڈنے۔۔۔کیا مطلب ہے تم تم کچھ نہیں کروگے ہاں ریحانہ بیگم غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں بولیں۔۔احد انکے پاس اور فائل انکی طرف بڑھائی۔۔یہ کیا ہے۔؟آپی نے اپنی دکان میرے اور انکی ماما کی جیولری عینی آپی اور وانی کے نام کر دی ہے۔۔یہ یہ کیا کہہ رہے ہو۔۔وانی: کیوں امی آپکو خوشی نہیں ہوئی آپ ہی تو کہتی تھیں وہ کیا کرینگی اسکا ۔۔۔میں نے ایسا نہیں چاہا کبھی بھی وہ ٹوٹے لہجے میں بولتی بیٹھ گئیں اور احد کو دیکھا جا احد کہیں سے بھی لے آ اسے ۔۔۔😧😧فری: بھائی چلے جائیں یہاں سے پلیز۔۔احد: ایسے بات نہیں کرو آپی کی بات یاد نہیں ہے تمہیں۔۔ہاں یاد ہے انکا ہر وہ آنسو جو چھپا کر وہ ہنستی تھیں جب جب بھائی کی ضرورت تھی وہ ہمارا آسرا تھیں ساری رات صوفے پہ گزارنے والی ان بے وفا انسان کی یاد میں رونے والی انکا کوٹ سینے سے لگانے والی بابا کا سہارا بننے والی اس پاگل بےوقوف لڑکی کی ہر بات یاد ہے جو آج نہیں ہے یہاں میں میں کیا کروں احد یوں لگ رہا ہے آج میں تنہا ہو گئی جیسے کون سمجھائے گا اب مجھے صحیح غلط انکا ایمان دیکھ کر میں خداکے قریب ہو گئی اور آج بھائی کی وجہ سے انکا بھروسہ خداسے اٹھ گیا مجھے نہیں آتا صبر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی😭عینی نے اسے سنبھالا اور کہا اس حالت میں یہ سب ٹھیک نہیں ہے پلیز آرام کرو تم۔۔شاہین سوپ لے کر روم میں آئی اور فاطمہ بیگم سے بولی فاطمہ بی بی گڑیا بی بی کے کمرے میں ڈریسنگ کا شیشہ ٹوٹاہوا تھا اور جیسے انکا پاؤں شاید زخمی تھا قالین پہ نشان چھپے ہوئے تھے خون کے۔۔فاطمہ بیگم نے دیوار تھامی احد نے آنکھیں سختی سے بند کیں جہانزیب کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے باقی بھی رونے لگے اور شاہزیب صاحب کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔۔۔😱😭😭_______ ________ _________محبت کرنے والے کم نہ ہونگے💞💞تیری محفل میں ہم نہ ہونگے😓😓________ __________ _________کوئی جان بستر مرگ پہ پڑی موت کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔صائم نے الینا کے ہاتھ تھام کر کہا یہ تمہارا پہلا کیس ہے تم طیار ہو نا۔۔؟اس بات پہ وہ اس کے ہاتھوں پہ سر ٹکائے رودی😭سمرین بھی رو رہی تھی اس نے اسے گلے لگایا اور بولی تمیں یاد ہے تم ہمیشہ کہتی تھیں نا کہ وینا میں سرجن بن کے سب سے پہلے تمہارے دماغ کا علاج کرونگی دیکھو وہ دنآگیا۔۔😱😭الینا اسے دیکھ کر بولی میں نے یہ یہ تو کبھی نہیں چاہا تھا ۔۔😭😭جنید نے صائم سے کہا وہ پریشے کو ہوش آجائیگا نا۔۔؟وہ کوئی ریسپونڈ نہیں کر رہی ہے اپنی ساری ول پاور چھوڑ چکیہے اگر ایسا ہی رہا تو کچھ کہہ نہیں سکتے باقی اللہ بڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔😭😭😭😭😱😱_________ _____________ _________جاری ہے۔۔۔آپکی رائے کا انتظار رہیگا ۔۔آپکے خیال میں کیا ہونے والا ہے اب۔۔۔؟؟اپنے کمینٹس سے بتائیں کہ ناول کیسا جا رہا ہے۔۔#_SimiWrites💞

No comments:
Post a Comment