**راہ محبت****ایشاءگل****قسط 10*
*یشل کے لئے یہ دوسرا رشتہ آیا ہوا تھا جسے بھی اس نے پہلے رشتے کی طرح منع کر دیا۔گھر والوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر وہ بغیر وجہ کہ رشتوں سے انکار کیوں کر رہی ہے جبکہ اچھے خاصے رشتے تھے اسے تو اپنی خوش نصیبی سمجھ کر ہاں دینی چاہیے تھے مگر ہائے رے یہ دل۔۔۔۔۔۔۔جب سے اسکو معلوم ہوا کہ ناہید معیز کے رشتے سے صاف صافلفظوں میں انکار کر چکی ہے اسکا دل ہی نہیں مان رہا تھا کسیاور سے شادی کے لئے وہ پھر اسی راہ پے چلنے لگی تھی جس پر سے وہ یہ معلوم ہوتے کہ معیز ناہید کا ہے واپس مڑ گئی تھی۔شمسہ اور شعیب نے تو پہلے نرمی اور پھر سختی سے اس سے بات کی مگر ریان نے یہ کہتے ہوئے کہ جب یشل کو پسند نہیں تو آپ لوگ اسے فورس نا کریں بات ہی ختم کر دی۔یشل بھی یہ بات جانتی تھی کہ جب تک بھائی اس کے ساتھ ہیں اسے زبردستی کسی بندھن میں نہیں باندھا جا سکتا۔معیز کا نمبر تھا یشل کے پاس۔۔۔) کیسے آیا یہ بتانا ضروری ہے کیا(یشل نے کچھ دن پہلے ہمت کر کے اسے کال کی اور پھر مسلسل کالز۔۔پہلے تو معیز اسے رونگ نمبر سمجھ کر اگنور کر گیا مگر پھر یہ سوچ کر کہ شائد کسی جاننے والے کی کال ہو تنگ آکر اٹھا ہی لیا۔یشل نے ڈرتے ڈرتے اپنا تعارف کروایا)میں یشل ( تو معیز نے )اچھا تو پھر ( کہتے ہوئے پوچھا کوئی کام۔وہ میں۔۔۔وہ مجھے۔۔۔یشل سے کوئی بات نہیں بن رہیتھی۔دیکھئے اگر آپ نے مجھ سے ناہید کے بارے میں بات کرنے کے لئے فون کیا ہے تو سوری مجھے اس کے بارے میں کچھ نہیں سننا اور نا ہی میرے پاس اتنا وقت ہے۔) معیز کو لگا تھا کہ ناہید کی دوست اسے اور کس لئے فون کرے گی ناہید کے متعلق ہی کوئی بات کرنی ہوگی (۔۔۔ارے نہیں مجھے اس کے بارے میں۔۔۔۔یشل جلدی سے بولی مگر فون بند کیا جا چکا تھا یشل کی بات ادھوری ہی رہ گئی۔اس کے بعد سے یشل کی ہمت ہی نہیں ہوئی معیز کو فون کرنے کی۔۔**************************اور واقعی میں اس کے بعد نا ہی معیز کا کوئی میسج آیا اور نا ہی کوئی فون۔لاشعوری طور پر ناہید اسکے میسجز اور کال کا انتظار ہی کرتی رہی۔شائد اسے انکی عادت ہو چکی تھی۔مگر نا تو معیز آیا نا ہی کوئی میسج۔۔۔۔بس اتنی ہی تھی تمہاری محبت میری چند باتوں کی وجہ سے تممجھ سے اتنا روٹھ گئے کہ بھول ہی گئے مجھے۔بے اختیار ناہید کے منہ سے نکلا تو وہ حیران ہوگئی۔یہ وہ کیا سوچ رہی تھی اور کیوں۔اس نے خود ہی تو ایسا چاہا تھا کہ معیز اس سے دور ہو جاۓ اوراب جب ایسا ہو رہا تھا تو پھر کیوں اسے یہ سب چبھ رہا تھا۔کیوں اسکا بری طرح نظر انداز کرنا اسے بے چین کر رہا تھا۔ناہید معیز کی طرف جانا بھی چاہتی تھی مگر چاہ کر بھی نہیں جا سکتی تھی۔کیوں کہ جب اسکی طرف سے پھر بھی انکار ہی تھا تو اسے ڈر تا کہ کہیں پھر وہ کوئی بات کر کے معیز کا دل نا توڑ دے۔کچھ دیر کے لئے سب بھول بھال کر اس نے معیز کو کال کی اور پھر مزید کالز کیں مگر معیز یا تو رسیو نا کرتا یا تو کال کاٹ دیتا۔بلا شبہ وہ بہت ہی ناراض تھا اور اسکا بات کا اندازہ ناہید کو ہو گیا تھا۔معیز آج سے پہلے کبھی اس سے اس طرح ناراض نہیں ہوا تھا بلکہ سرے سے ہی کبھی ناراض نہیں ہوا تھا۔لیکن اب ناراض ہونا بنتا تھا کیوں کہ بات کوئی چھوٹی نہیں تھی بات محبت کی تھی جو کہ بہت بڑی تھی۔۔***********************معیز بیٹا رات کا ایک بج رہا ہے اور تم ابھی تک جاگ رہے ہو۔حنا جو کچن سے پانی کا جگ بھرنے آئی تھیں اس کے کمرےکی لائٹ چلتی دیکھ جگ وہیں کچن میں رکھ کر اس کے کمرے میں آگیں۔معیز موبائل ہاتھ میں لئے کہیں گم تھا وہ مسلسل آتی ناہید کی کالز کو نظر انداز کر رہا تھا۔وہ ماما آج دوپہر میں سو گیا تھا شائد اس لئے نیند نہیں آرہی۔آج سنڈے تھا تو معیز سارا دن اپنے کمرے میں ہی بند رہا کسی کو کیا معلوم کہ وہ سو رہا تھا یا کسی کی یاد میں جاگ رہا تھا۔اچھا لیکن پھر بھی لائٹ بند کر کے لیٹو تو سہی کیا پتا نیند آہی جاۓ۔حنا اسے مشورہ دے کر چلی گئیں جانتی تھیں کہ ناہید کے انکار سے اس پر کیا بیتی ہے معیز کی ناہید کے لئے پسندیدگی سے سب ہی واقف تھے۔مگر ناہید کے انکار کے بعد حنا اور روحیل نے نا ہی ناہید سے کوئی سوال کیا اور نا ہی معیز سے کچھ کہا۔نا ہی سمینہ اور امان نے ناہید کے اس کے بعد ترلے کئے۔ہاں دکھ تو بہت ہی ہوا تھا دونوں فمیلز کو کیوں کہ بچپن کا رشتہ جو تھا جو کہ بہت مان اور چاہت سے جوڑا گیا تھا مگر ناہید نے ایک ہی جھٹکے سے اسے توڑ دیا۔فون پھر سے بج اٹھا اب کی بار معیز نے فون اٹھا لیا مگر بولا کچھ نہیں۔معیز میں کب سے تمہیں کالز پے کالز کئے جا رہی ہوں تم رسیوکیوں نہیں کر رہے کیا اتنا ہی ناراض ہو مجھ سے۔ناہید کو ناراضگی والی بات کرنی تو نہیں چاہیے تھی مگر پھر بھی کر دی۔کیوں جب تم میری کالز رسیو نہیں کرتی تھی تب میں نے تم سے کوئی شکوہ کیا نہیں ناں۔۔۔تو پھر تمہارا بھی کوئی حق نہیں بنتا مجھ سے یہ سوال کرنے کا۔معیز نے لفظوں کو چبا کر کہا۔۔۔۔"معیز"ناہید بس معیز کا نام ہی لے سکی دکھ سے مزید اس سے کچھ بولا ہی نا گیا۔رات بہت ہو گئی ہے مجھے نیند آرہی ہے بہتر ہے تم بھی مجھے دوبارہ کال کرنے کی بجاۓ سو جاؤ یا ایسا کرو میرا نمبر اپنے سیل فون سے ڈیلیٹ ہی کر دو تم بھی سکون میں رہو گیاور میں بھی۔۔۔۔۔۔دوبارہ مجھے کال ہی نہیں کر سکو گی میرا نمبر زبانی یاد ہی نہیں ہوگا یقیناً نہیں ہوگا ظاہر ہے یاد رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔معیز نے اتنی لمبی بات کی اور اس اتنی لمبی بات سے نکلتی ہر بات میں طنز ہی طنز تھے۔۔۔۔ناہید موبائل ہاتھ میں لئے ٹپ ٹپ آنسو بہا رہی تھی کیوں کہمعیز کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا۔))میں جانتی ہوں نیند کا تو بس بہانہ ہی ہے اگر تمہیں اتنی ہی نیند آئی ہے تو روز رات دو دو بجے تک جاگتے کیوں رہتے ہو کیوں دو دو بجے تک تمہارے کمرے کی لائٹ آن رہتی ہے۔معیز میں تو بس دوبارہ تم سے اپنی دوستی قائم کرنا چاہتی ہوں جو کہ دوستی کم دشمنی زیادہ تھی وہ بھی میری طرف سے مگر جو بھی تھا ہم خوش تو تھے((۔ناہید سامنے دیکھتی ہوئی ایسے بول رہی تھی جیسے معیز اسکے سامنے ہی بیٹھا ہو۔۔************************فریحہ تین دن کے لئے گھر رہنے آئی تھی۔سمینہ نے ہی اسے بلایا تھا کہ وہ آکر یہ بات ناہید کو ذرا سمجھائے کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی وہ اپنا فیصلہ واپس لے لے اور ہاں کر دے اس کی ایک ہاں سے کتنے لوگوں کی خوشیاں جڑی ہیں اسکا اسے کوئی احساس ہی نہیں۔فریحہ نے بھی اسے پہلی اور آخری بار سمجھانے کا فیصلہ کیا۔فریحہ نے اس سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو وہ پہلے چپ رہی پھر دوبارہ پوچھنے پر بولی کوئی وجہ نہیں۔فریحہ نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کسی اور کو چاہتی ہے تو بتا دے وہ امی اور بابا سے بات کرے گی جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہوگا میں اس کے لئے انھیں مناؤں گی تو ناہید ٹک ٹک اسےدیکھے گئی۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ کیا کہہ رہی تھی یعنی جس کی اس سے شادی ہو چکی ہے اسی کے لئے وہ ایسا بول رہی ہے ظاہر ہے فری کو کیا پتا کہ وہ کون ہے اگر پتا ہوتا تو بھول کر بھی ایسی بات منہ سے نا نکالتی۔نہیں فری میں کسی کو پسند نہیں کرتی۔تو پھر معیز کے لئے ہاں کیوں نہیں کہہ دیتی۔فریحہ اس کے انکار کی وجہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیوں کہ وہ کوئی وجہ بتا ہی نہیں رہی تھی بس ایک ہی بات کہے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔فری مجھے شادی نہیں کرنی میرا معیز کے لئے تو کیا کسی کےلئے بھی دل نہیں مانتا اس لئے پلیز تم مجھ سے یہ پوچھ تاچھ بند کرو۔فریحہ ایک ٹھنڈی سانس خارج کر کے رہ گئی بچپن سے لے کر اب تک اس نے کونسا فریحہ کی کوئی بات آرام سے مانی تھی جو اب مان جاتی۔مگر پھر بھی وہ جاتے جاتے اتنا ضرور بولی۔ناہید وہ شخص جو بچپن سے صرف تمہیں ہی چاہتا آیا ہے جس نے بس تمہیں ہی اپنے دل و دماغ میں بسائے رکھا تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف دیکھنا تو دور کی بات کسی کا تصور بھی اپنے ذہن میں آنے نہیں دیا تو کیا ایسے بے پناہ محبت کرنے والے انسان کو ٹھکرا کر تمہیں ذرا بھی دکھ نہیں ہوا۔۔۔)تمہیں کیا بتاؤں فری کہ کتنا کو دکھ ملا ہے اتنا کہ اب سہا نہیں جاتا میرا دل چاہتا ہے کہ اسکا ہر دکھ اور ہر غم دور کر دوں مگر میں کیا کروں میرا دل ہی نہیں مانتا معیز کے لئے حالانکہ میں سوچتی تھی کہ وہ لڑکی کتنی خوش قسمت ہوگی جو معیز کی بیوی بنے گی وہ اسے کبھی بھی بور نہیں ہونے دے گا کبھی بھی رلائے گا نہیں بہت احساس کرنے والا انسان ہے کبھی بھی اسکا دل نہیں توڑے گا مگر نجانے کیوں وہ خوش قسمت لڑکی میں کیوں نہیں بننا چاہتی(۔۔۔۔۔فریحہ نے دکھ سے ناہید کی طرف دیکھا جو اپنے ناخنوں کی نوک سے بیڈشیٹ کو کتر رہی تھی اور پھر باہر چلی گئی۔۔**************************کہتے ہیں ناں کہ کسی کے اچھے ساتھ کی عادت ہو جاۓ تو پھر اکیلے رہنا مشکل لگنے لگ جاتا ہے۔اور ایسی ہی مشکل ریان کے لئے پیدا ہو گئی تھی ابھی تو اس نے فریحہ کو ٹھیک سے جاننا شروع کیا تھا اس کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا تھا اور ساتھ ہی وہ اپنے میکے چلی گئی۔دن کے سارے وقت تو وہ آفس میں ہوتا رات کو کھانا کھا کے کچھ وقت سب کے ساتھ بیٹھتا اور پھر اپنے کمرے میں سونےکے لئے آجاتا اور یہی وقت گزارنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔اس نے فری کو کال کرنی چاہی مگر پھر رک گیا ظاہر ہے آج پہلی بات خود سے فون کرنے جا رہا تھا تو سوچنا تو بنتا تھا ناں۔اور پھر یہ سوچتے ہوئے کہ کیا ہوا میری بیوی ہی ہے اور اب جب ساری زندگی خوش اسلوبی سے ساتھ نبھانے کا وعدہ )خود سے ہی ( کیا ہے تو پھر کال کرنے میں سوچنا کیسا۔پہلی ہی بیل پے کال رسیو ہو گئی۔۔ہیلو کون۔۔۔ریان کے ہاتھوں کی گرفت موبائل پر ڈیھلی پر گئی۔وہ ناہید تھی۔۔ہاں یقیناً وہ ناہید ہی تھی۔فری سے بات کرنی تھی کہاں ہے وہ۔۔۔۔ریان نے اپنے لہجے کو ذرا سخت کرتے ہوئے کہا۔ناہید جو بغیر نام دیکھے فون اٹھاۓ کھڑی تھی ایک دم سے فون کان سے پیچھے کیا اور نام دیکھ کر خود پر ہی غصہکرنے لگی کہ بغیر دیکھے ہی فون اٹھا لیا۔فریحہ نے ریان کا نمبر رونی کے نام سے سیو کیا تھا۔اوہ تو یعنی فری اسکو پیار سے رونی کہتی ہے۔ناہید کو یاد آیا کہ جب اسکی ریان سے پہلی بار بات ہوئی تھی تو اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ میں ریان ہوں پیار سے مجھے رونی کہتے ہیں۔۔۔ناہید کس کی کال ہے۔ناہید جو موبائل ہاتھ میں لئے کھڑی تھی فریحہ کی آواز پر چونکی اور بغیر کوئی جواب دیے موبائل اسے تھما کر خود بیڈ پر لیٹ گئی اور سوتی بنی۔اس لئے کہ فریحہ اسے سوتا سمجھ کر ڈسٹرب کرنے کی بجاۓ اپنے کمرے میں جا کر بات کر لے مگر وہ وہیں بیٹھ گئی اور ہنس ہنس کر ریان سے باتیں کرنے لگی۔ریان کا ویسے تو ناہید کی آواز سن کے دل پھر سے ڈگمگا گیا تھا مگر پھر اسے فریحہ کی اپنے لئے محبت اور خود سے کیا گیا اسکا اپنا ہی وعدہ یاد آیا تو وہ ناہید کی اپنے کانوں میں گھونجتی آواز کو جھتکتا ہوا خوش گوار موڈ میں فریحہ سے باتیں کرنے لگا۔جب آدھا گھنٹہ گزر گیا اور تب بھی ریان نے فون بند نا کیا تو ناہید کو ایک دم سے غصہ آگیا آخر کیوں وہ فریحہ سے اتنی لمبی بات کر رہا ہے اور وہ بھی ہنستے ہوئے۔وہ ایک دم چلائی فری پلیز اپنا موبائل اور اپنی آواز لئے یہاں سے چلی جاؤ میری نیند خراب ہو رہی ہے )وہ نیند جسکا اسکی آنکھوں میں کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا (کیا ہوگیا ہے ناہید اچھا سوری میں جا رہی ہوں تم سو جاؤ آرام سے۔فریحہ جلدی سے اٹھی اور کمرے سے نکل گئی اور اپنے کمرے میں جانے کی بجاۓ ساتھ والے لائبریری روم میں چلی آئی۔فون کے پار جاتی ناہید کی آواز ریان نے بھی سنی اور وہ سمجھگیا کہ اس نے ایسا کیوں کہا۔وہ ابھی تک اس کا خیال ذہن سے نہیں نکال پائی تھی ابھی تک اسے بھلا نہیں پائی تھی اور وہ ناہید کو اس کوشش میں کامیاب کرنے کے لئے ایک دفعہ اس سے مل کر اسے سمجھانا چاہتا تھا۔تو تم مجھے بھول گئے ریان اتنی جلدی۔۔۔ناہید غصے میں آپ سے تم پر آگئی۔کیسے سب کچھ بھلا کہ فری سے باتیں کر رہے ہو ایک گھنٹہ ہونے کو تھا اور ابھی بھی اسے ساتھ والے روم سے فری کی آوازیں آ رہی تھیں اور نجانے کب تک آتی رہنی تھی۔ٹھیک ہے مسٹر ریان شعیب اگر تمہیں میرا اب خیال نہیں رہا مجھ سے محبت نہیں رہی تو مجھے بھی اب تمہاری کوئی پرواہ نہیں تمہارا کوئی خیال نہیں۔میں آج سے اپنے دل و دماغ سے تمہاری سوچوں خیالوں اور تمہاری یادوں کو آزاد کرتی ہوں۔جب تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہو تو پھر میں کیوں۔ہاں اتنا آگے نہیں بڑھ سکتی کہ شادی کا سوچ لوں مگر اب اتنا اختیار حاصل کرو گی کہ تمہیں جلد ہی بھلا سکوں۔فری نے اور نجانے کتنی دیر باتیں کرنی تھیں ناہید نے اسکی آوازکو خود تک پہنچنے سے روکنے کے لئے اٹھ کر اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور ٹیرس پر چلی آئی۔نظریں گھما کر معیز کے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھا جو آج روشنی سے بے نیاز تھا)لائٹ بند کی جا چکی تھی یا آج چلی ہی نہیں تھی (۔معیز کے کمرے میں چھائی تاریکی کو دیکھ کر ناہید کو یہی سوچ آئی کہ جس طرح آج اس نے ریان کو بھلانے کا فیصلہ کر لیا تھا اسی طرح شائد آج معیز نے بھی ناہید کو بھلانے کافیصلہ کر لیا تھا۔اور یہ سوچ آتے ہی ناہید کو اپنا آپ خالی سا محسوس ہوا اگر معیز نے بھی اسے بھلا دیا تو۔۔۔۔۔نہیں معیز مجھے نہیں بھول سکتا وہ ریان کے جیسا نہیں ہے وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔مگر کیا فائدہ ایسی محبت کا جو حاصل ہی نا ہو سکے۔ناہید نے سوچا مگر معیز کی لا حاصل محبت کے بارے میں سوچتےہوئے اس کے دونوں ہاتھ خودبخود اٹھ گئے اور اس کے دل سے دعانکلی۔یا اللّه مجھے وہ راستہ دکھا جو میرے لئے بہتر ہے مجھے صحیح انتخاب کی سمجھ بوجھ دے دے۔اگر معیز ہی میرا نصیب ہے اگر وہی میرا صحیح انتخاب ہوگا تو میرے دل سے ریان کی محبت نکال دے۔۔۔میرا دل معیز کے لئے ویسی ہی محبت سے بھر دے جیسی وہ مجھسے کرتا ہے۔مجھے بھی اتنا ہی دکھ دے جتنا میں نے اسے دیا ہے۔مجھے بھی اتنا ہی لاپرواہ کر دے جتنا ریان ہے۔مجھے بھی اسی راہ پر چلا دے جس راہ پر معیز میرا منتظر ہے بلکل اسی طرح جس طرح تو نے ریان کو اس راہ پر چلایا جس راہ پر فریحہ اس کی منتظر تھی۔تو نے فریحہ کا انتظار ختم کروا دیا بلکل اسی طرح معیز کا انتظار بھی ختم کروا دے میرے دل میں معیز کے لئے خالص چاہت پیدا کر دے۔آسمان کی طرف دیکھتے دعا کے لئے اٹھائے ہاتھ اور آنسو بہاتی اس لڑکی کو دیکھ کر معیز مجسمہ سا بن گیا۔وہ کھڑکی کے پردے آگے کرنے آیا تھا اور اب واپس جانے کے لئے ہل نہیں پا رہا تھا آخر کیوں۔شائد اس لئے کہ آج بھی اسکی ویسی ہی حالت تھی جیسی فریحہ کی شادی میں آخری ٹیبل پر بیٹھی اس پری کو دیکھ کر ہوئی تھی۔وہ پری دعا مانگ کر آنسو پونچھتے ہوئے واپس کمرے میں جا چکی تھی مگر وہ مجنوں سا دیوانہ سا لڑکا ابھیبھی اس پری کے سحر میں مبتلا تھا۔مگر جلد ہی اس پری کا سحر ٹوٹ گیا اور اس لڑکے کو اس پری کی وہ باتیں یاد آگیں جن کی وجہ سے وہ آج اس سے دور تھا۔۔*************************ناہید نیند میں ہی تھی جب اسے معیز کی آواز سنائی دی اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور اٹھ بیٹھی۔لاؤنج سے آوازیں آرہی تھیں یہ آوازیں معیز حنا فری اور سمینہ کی تھیں۔۔۔معیز معیز معیز۔۔۔ناہید کے دماغ میں بس معیز کے نام کی ہی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔تو وہ آہی گیا وہ میرے لئے آہی گیا۔ناہید نجانے کیوں خوش ہوتی ہوئی اٹھی اپنے گندے کپڑوں پر ایک نظر ڈال کر وارڈ روب سے نئے کپڑے نکال کر واش روم چلی گئی۔اس دن کے بعد معیز نے اپنا یہاں آنا جانا بند کر لیا تھا اور اس دن کو آج ڈیڑھ مہینہ ہو چکا تھا۔ناہید گیلے بالوں میں کنگی کر کے اور ہلکا سا پرفیوم کا چھڑکاؤ خود پر کرتی تیزی سے سیڑھیاں اترتی لاؤنج میں آگئی۔مگر یہ کیا معیز تو لاؤنج میں تھا ہی نہیں۔۔۔کیا معیز آیا تھا یا یہ اسکا وہم تھا جو اسے معیز کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔اس نے دل سے پوچھا مگر دل نے کہا یہ اسکا وہم نہیں تھامعیز واقعی میں آیا تھا مگر تم نے آنے میں دیر کر دی۔اور اس بات کی تصدیق حنا نے بھی کر دی۔اس لڑکے کو کہا تھا کہ ناشتہ کر کے جاؤ مگر ایسے ہی چلا گیااور یہ دیکھو اپنی گھڑی یہیں بھول گیا۔ارے ناہید تم آج اتنی جلدی اٹھ گئی ناشتہ لگاؤں تمہارے لئے۔فری نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔معیز فری سے ملنے آیا تھا اور وہ بھی صبح صبح کیوں کہ اس وقت ناہید سوئی ہوتی تھی۔ناہید سوچنے لگی شائد اسے معلوم پر گیا تھا کہ میں آرہی ہوں اس لئے میرے نیچے آنے سے پہلے ہی چلا گیا۔جو بھی تھا بہرحال ناہید کو برا لگا تھا۔نہیں فری میں ابھی ناشتہ نہیں کروں گی۔ناہید کچن کے باہر فریحہ کے پاس کھڑی تھی جبکہ حنا لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی تھیں اور ناہید کی طرف انکی پشت تھی وہ اسکی موجودگی سے لا علم تھیں اس لئے ناہید آف موڈ لئے ان سے ملے بغیر ہی واپس کمرے میں آگئی۔ویسے بھی انکار کے بعد سے وہ انکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اور حنا بھی اگر اس سے ملتیں تو ان کے ملنے میں وہ گرم جوشی نہیں ہوتی تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ناہید جو ڈیڑھ مہینے پہلے یہ اندازہ لگاۓ بیٹھی تھی کہ وہ چاہے کچھ بھی کر لے چاہے کچھ بھی کہہ لے معیز اس سے دور نہیں جا سکتا تھا مگر آج اس کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوچکا تھا کیوں کہ معیز اس سے دور جا چکا تھا۔۔************************جیسا کہ بتایا تھا کہ بدلتے موسم ریان کی طبعیت پر برے اثرات چھوڑتے تھے بدلہ موسم اپنا کام کر چکا تھا۔ریان کی شدید طبعیت خراب ہو چکی تھی اور زکام کی وجہ سے چھینک چھینک کر اسکا برا حال ہو رہا تھا اور چھینکنے کی وجہ سے سر درد۔۔۔اور بخار الگ سے۔۔۔۔بیڈ پر کمبل لئے لیٹا وہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ فریحہ کو فونکر کے بلا لے اور اسکی موجودگی سے اسے ذرا راحت ہو۔مگر اسکو گئے ابھی دو دن ہوئے تھے اسے کل واپس آنا تھااور وہ چاہتا تھا کہ وہ آرام سے رہے۔ریان نے تو یہ کام نا کیا مگر یشل نے اس کے اور شمسہ کے منع کرنے کی باوجود بھی فریحہ کو فون کر کے ریان کی طبعیت خرابی کی اطلاع دے دی۔شمسہ نے تو اسے سر پر ایک تھپڑ رسید کیا جبکہ ریان دل ہی دلمیں مسکرایا۔فریحہ ریان کی ناساز طبعیت کا سن کر معیز کو کال کر کے اسکے ساتھ گھر واپس آگئی۔معیز اسے چھوڑ کر واپس آفس چلا گیا۔

No comments:
Post a Comment