Sunday, November 4, 2018

افسانہ

http://novelskhazana.blogspot.com/



ایک مختصر افسانہ ۔۔۔۔
میری پہلی کاوش ۔۔۔
پلیززز بتائیے گا کیسا ہے!!!!
(کاش کوئی تو اپنا ہو)
کتنی سردی ہے نا آج ہو بھی کیوں نا مہینہ بھی تو دسمبر کا ہے
آہ دسمبر ایک ایسا مہینہ جو نا صرف اپنے ساتھ سردی لاتا ہے بلکہ وہ تمام زخم تازہ کردیتا ہے جس کو بھلانے کی کوشش کرتے کرتے میں خود کو بھول جاتی ہوں پتا نہیں اللہ پاک نے اتنی آزمائشیں میری قسمت میں کیوں لکھی ہیں یا شاید ہر انسان کو اپنی ہی تکلیف زیادہ لگتی ۔۔
ایک ہاتھ میں چھتری اور آیک ہاتھ سے آنسو صاف کرتے کرتے زینب نے سوچا ۔
میں بھی کتنی بیوقوف ہوں اتنی سردی کی شاموں میں کون پاگل نکلتا ہے لیکن میں تو پاگل ہی ہوں ایک ایسی پاگل جس کے ساتھ ایک بھی اپنا نہیں ہو بھی کیوں میرے ساتھ کوئی آخر کوئی مجھ جیسی لڑکی سے کیوں بات کرے کیوں تعلق رکھے
زینب روتے ہوئے ہنسنے لگی اور خود سے باتوں میں اتنی مگن تھی کہ معلوم ہی نا ہوا کب پارک میں دور تک چلی آئی ایک ایسا پارک جہاں کوئی بھی انسان نہیں تھا بلکہ جنات کا پارک معلوم ہوتا
اے درختو،اے پرندو، اے آسمانوں ،اے پتو تم تو سب سنتے ہو نا تم تو سب دیکھ رہے ہو نا کیا میرا قصور اتنا بڑا تھا کہ کوئی بھی میرا اپنا نا رہا کیا میرا کبھی کوئی نہیں ہوسکتا زینب اس وقت کو سوچنے لگی جب دنیا اس کے لئے ایک حسین خواب تھی اور کیسے خواب اجڑ گئے ۔
جولی جولی!
کہاں ہو بیٹا کب سے ڈھونڈ رہی تمہارے دوست باہر آئے ہیں
میری نے جولی کو آواز دیتے ہوئے بلایا۔
نہیں ہیں میرے وہ دوست ممی
چلاتے ہوئے جولی میری کو بولی ۔
کیا ہوا بیٹا ! ایسا کیوں بول رہی
ممی یہ جو سب ہو رہا ہے نا آپ کی وجہ سے ہو رہا کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا سب کولگتا ہے جیسے مجھے اچھوت کی بیماری ہے کسی سے بولوں گی تو وہ مر جائے گا مجھے لگتا شاید میں مر جاوں گی کیوں ممی آپ نے ایسا کیوں کیا ؟کیا ضرورت تھی ممی آپ کو معلوم ہے ریان نے مجھے اس لئے چھوڑ دیا کہ میں آپ کی بیٹی ہوں کتنا پیار کرتی تھی میں ریان سے لیکن اس نے چھوڑتے وقت ایک لمحہ نا لگایا جب اس کو علم ہوا کہ میں آپ کی بیٹی ہوں
جولیا میری بیٹی میری بات سنو میری نے جولی کو تھامتے ہوئے کہا
کتنی بار کہوں کہ نہیں ہے میرا نام جولیا ارے مر گئی جولیا
میں زینب ہوں زینب عمر نا کہ جولیا مارک جولیا مارک اس دن ہی مر گئی تھی کہ جب اس کے اللہ نے اس کو سیدھا راستہ دکھایالیکن یہ دنیا والے نہیں سمجھتے کیوں ؟کیوں نہیں سمجھتے کہ میں جولیا نہیں زینب ہوں جہاں جاتی ہوں سوال بھری آنکھ مجھے دیکھ رہی ہوتی جیسے مجھ پر ہنس رہی ہو جیسے مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ کب تک زینب رہنا کیوں اللہ جی یہ انسان معاف نہیں کرتے کیوں اللہ جی میرا کیا قصور کہ میری ماں نے کسی سے پسند کی شادی کرکے اپنا مذہب بدل لیا اس میں میرا کیا قصور ؟کیوں کوئی لڑکی مجھ سے بات نہیں کرتی کیوں مجھ کو آپکا طعنہ دیا جاتا بھاگی ہوئی لڑکی کا طعنہ مجھے کیوں ملتا ؟میں بھی اب مسلمان ہوں لیکن شاید لوگوں کو یہ نہیں دیکھنا کہ کون نیک راہ پر چلتا ہے سب کو دیکھنا کvہ کون کون گناہ کرتا ہے نا کوئی راشتے دار دیکھتا ہے کہ ان کا کوئی اپنا ہے دیکھ بھی لے تو منہ پھیر لیتا ہے
زینب نے آنسو پونھچتے ہوئے کہا
ممی ایک بات بتاو؟ جس مارک کے لئے آپ نے اپنا مذہب چھوڑ دیا کیا وہ آپکا بنا ؟کیا اس نے آج تک مجھ کو دیکھا کہ اس کی ایک بیٹی بھی ہے جو در در ٹھوکروں پر پل رہی ہے اس کو کوئی اور ملی تو آپکو چھوڑ گیا اور آپ نے کیا کیا ؟اپنا مذہب چھوڑ دیا کیوں ممی
میری روتے ہوئے بیٹھی زینب کو سن رہی تھی کیا جواب دیتی اس کے ساتھ تو خود وقت نے تماشہ کیا تھا اچانک اس کو محسوس ہوا کہ اس کی سانس اکھڑ رہی ہے جولی جولی !
زینب بولنے میں اتنی مگن تھی کہ ماں کی آواز کب آئی اور کب بند ہوئی اس کو معلوم ہی نا ہوا معلوم تو تب ہوا جب ماں کی طرف سے کوئی ہاتھ آنسو صاف کرنے والا نا آیا ماں تھی نا اس کو پتا تھا کہ کچھ بھی کہہ لوں لیکن ماں جتنی اس سے محبت کرتی ہے اتنا کوئی نہیں
ممی کیا ہوا ؟ممی کیوں نہیں بول رہی ،؟؟ممی ممی اٹھو زینب نے دیکھا تو ماں صوفے پر جھول رہی تھیں
یہ سب سوچتے ہوئے اسے وقت کا علم ہی نا ہوا پتا تو تب لگا جب یہ شجر کے پتے اس کے منہ پر پڑ رہے تھے ایک ہاتھ میں چھتری لئے اور ہاتھ سے منہ صاف کرتے ہوئے ان شجر کے پتوں کو دیکھنے لگی یہ شجر کے پتے اسے پتے نہیں دوسروں کے طعنے معلوم ہو رہے تھے جو اٹھ اٹھ کر اس کے منہ پر پڑ رہے تھے ان پتوں میں ایک اور پتے کا اضافہ ہوگیا تھا کہ اس نے اپنی ماں کو بھی نہیں چھوڑا ہاتھ میں چھتری لئے وہ ان پتوں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ کاش اس کا بھی کوئی ایسا ہی سائبان بن جائے جو اس کو ان پتوں سے بچائے جیسے یہ چھتری ان پتوں کو روک رہی لیکن ہر دعا کہاں پوری ہوتی
#فارا_علیBf

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/