بے اعتبار
تحریر آسیہ شا ہین چکوال
بہار کا مو سم شروع ہو چکا تھا۔ادھر سالا ر حیدر کے دل میں بھی محبت
اپنے پھول کھلا نے لگی۔نہ جا نے کب اس کی خا لہ زاد ارسلہ اس کی دل کی
وادی میں اتر گئ ۔ارسلہ کالج سے واپس آئی تو سیدھی کچن میں گئ اور پا نی
کی بو تل فر یج سے نکال کر امی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔"امی کچھ خاص بن رہا
ہے ۔۔ ۔ ۔ ؟"
"ہاں تمہاری خا لہ جان آ رہی ہیں"۔
تحریر آسیہ شا ہین چکوال
بہار کا مو سم شروع ہو چکا تھا۔ادھر سالا ر حیدر کے دل میں بھی محبت
اپنے پھول کھلا نے لگی۔نہ جا نے کب اس کی خا لہ زاد ارسلہ اس کی دل کی
وادی میں اتر گئ ۔ارسلہ کالج سے واپس آئی تو سیدھی کچن میں گئ اور پا نی
کی بو تل فر یج سے نکال کر امی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔"امی کچھ خاص بن رہا
ہے ۔۔ ۔ ۔ ؟"
"ہاں تمہاری خا لہ جان آ رہی ہیں"۔
"وہ تو پہلے بھی آتی رہتی ہیں۔پھر
اتنا اہتمام کس لیے؟"
ہاں اس بار وہ خاص مقصد کے تحت آ رہی ہیں۔"کیسا مقصد امی جان"ارسلہ حیرت
سے گو یا ہوئی۔وہ اپنے بیٹے سالار کے لیے تمہارا ہاتھ ما نگنے آ ر ہی
ہیں۔"ارسلہ کواچھو لگا اور وہ کھا نستے ہوئےگو یا ہوئی۔"
"مگر امی میں ابھی پڑھ رہی ہوں"
ہاں تو کب روکا پڑ ھائی سے پڑ ھتی رہنا۔ابھی شادی ایک سال تک ہی کر یں
گے۔ایسا اچھا رشتہ روز نہیں ملتا۔ما شاا للہ بہت ہو نہار اور خو بصورت
بھی ہے۔"
ارسلہ بادل نا خواستہ تیار ہو ہی گئ اور نیچے آ گئ۔خا لہ کے سا تھ وہ بھی
آیا تھا۔ار سلہ سب سے مل کہ کچن میں آ گئ۔اور اپنے خیا لوں میں غلطاں جا
نے کیا سوچ رہی تھی۔کہ اسے سالار کی آواز آئی "ار سلہ۔ ۔ ۔"
ج۔ ۔ ج۔ ۔جی وہ پزل ہو گئ اس کی اچا نک آ مد پر۔شائد گھر والوں نے اسے
خود ہی آخری معرکہ مارنے بھیجا تھا اور وہ تھا ار سلہ کو منانے کا۔
آپ کو کچھ چا ہیے۔ ۔ ۔ ؟بس وہ اتنا ہی پو چھ سکی۔شا کنگ پنک جالی اور
جاما وار ڈ ر یس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
ہاں چاہیے ۔ ۔ ۔تم دے سکتی ہو کیا ۔ ۔ ۔ مجھے تمہارا سا تھ چا ہیے۔ارسلہ
کچھ بول نہ پائی مگر مسکرا دی۔اور سو چنے لگی آدمی برا نہیں ہے۔سالار بہت
خوش ہوا اور سب کے بیچ جا کر خوش خبری سنائی۔منگنی ہوگئ۔اور ارسلہ نے
سالار کے نام کی انگو ٹھی اپنے ہا تھ میں پہن لی۔سالار نے اسے کال کی تو
ار سلہ نے جھجکتے ہوئے کال اٹھائی۔اس کے بعد اکثر وہ دو نوں ملنے بھی
لگے۔گو کہ سالار کسی کو خا طر میں نہ لاتا تھا ۔کبھی کسی لڑ کی کو غلط
نگاہ سے نہ دیکھا۔اسی لیے ار سلہ وہ اور مر دوں سے ہٹ کہ لگا۔
مجھے شک کر نے والے لوگ با لکل پسند نہیں۔شک رشتوں کو کمزور کر تا
ہے۔اس لیے ہم دو نوں شک کو اپنے بیچ جگہ نہیں دیں گے۔دو نوں نے عہد کیا۔
دو دن بعد سالار کا اپنے دو ست کے ہاں جا نا ہوا ۔وہ اسے ڈرائنگ روم میں
بٹھا کر باہر ریفرش منٹ کا انتظام کر نے گیا۔تو سالار شیلف میں رکھی
کتابیں دیکھنے لگا۔اس نے ایک کتاب اٹھا ئی تو اس میں سے چند تصو یریں گر
یں۔سالار کو دھچکا لگا۔یہ تصو یریں۔ ۔ ۔ وہ گھر چلا گیا اور پوری رات سو
نہ پا یا۔وسو سے اسے سا نپ بن کر ڈس رہے تھے۔اس سے رہا نہ گیا تو وہ باہر
سڑ کوں پہ نکل گیا۔سگرٹ پی پی کہ رات کاٹی صبح ہو تے ہی وہ دوبارا دو ست
کے گھر پہنچا اور اسے گر یبان سے پکڑ
کر پو چھنے لگا " بتاؤ ارسلہ کی تصو یرں تمہار ے پاس کیسے آئیں۔کیا چکر
ہے اس کے ساتھ تمہارا۔"
دوست حیران و پر یشان اس کا منہ تکنے لگا۔شور کی آواز سن کر گھر والے
باہر آئے جب جھگڑے کی وجہ معلوم ہوئی تو سالار کے دوست کی بہن اندر
ڈرائنگ روم میں آئی اور قدرے او نچی آواز میں گو یا ہوئی کہ "آپ کی اطلاع
کے لیے عرض ہے کہ ارسلہ میری دو ست ہے اور یہ تصو یریں میر ی کتاب میں
تھیں وہ کتاب کسی نے یہاں رکھ دیں تھیں۔میں ابھی ارسلہ کوکال ملا کر آپ
کی بات کرواتی ہوں۔"
لڑ کی کی بات سن کر سالار وہاں رک نہ پا یا۔وہ کسی تھکے ہوئے مسا فر کی
طرح گھر لوٹا تو ارسلہ اسی کے گھر میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔سا لار کے
آتے ہی ارسلہ اس کی طرف لپکی ۔مگر سالار اس سے نظر نہ ملا پا رہا
تھا۔ارسلہ کی آنکھوں میں تیرتے آ نسو اور سوالات سالار کو یہ بات ا زبر
کروا چکے تھےکہ ارسلہ تک ساری بات من و عن پہنچ چکی تھی۔سالار کو لگنے
لگا کہ وہ ارسلہ کو ہارچکا ہے۔کیو نکہ وہ رشتوں میں اعتبار کی قائل
تھی۔ارسلہ اس پر پھٹ پڑی اور اس کو جھنجھوڑ ڈالا "یہ محبت تھی تمہاری
۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر بہتان لگا نے کی۔پکڑو اپنی تنگو ٹھی اور اب
کبھی میرے راستے میں مت آنا۔"وہ انگو ٹھی پھینک کر غصے سے نکل گئ۔اور
خالہ جان اسے آوازیں دیتی رہ گئیں۔مگر اسے رکنا تھا نہ ہی وہ رکی۔
ہاں اس بار وہ خاص مقصد کے تحت آ رہی ہیں۔"کیسا مقصد امی جان"ارسلہ حیرت
سے گو یا ہوئی۔وہ اپنے بیٹے سالار کے لیے تمہارا ہاتھ ما نگنے آ ر ہی
ہیں۔"ارسلہ کواچھو لگا اور وہ کھا نستے ہوئےگو یا ہوئی۔"
"مگر امی میں ابھی پڑھ رہی ہوں"
ہاں تو کب روکا پڑ ھائی سے پڑ ھتی رہنا۔ابھی شادی ایک سال تک ہی کر یں
گے۔ایسا اچھا رشتہ روز نہیں ملتا۔ما شاا للہ بہت ہو نہار اور خو بصورت
بھی ہے۔"
ارسلہ بادل نا خواستہ تیار ہو ہی گئ اور نیچے آ گئ۔خا لہ کے سا تھ وہ بھی
آیا تھا۔ار سلہ سب سے مل کہ کچن میں آ گئ۔اور اپنے خیا لوں میں غلطاں جا
نے کیا سوچ رہی تھی۔کہ اسے سالار کی آواز آئی "ار سلہ۔ ۔ ۔"
ج۔ ۔ ج۔ ۔جی وہ پزل ہو گئ اس کی اچا نک آ مد پر۔شائد گھر والوں نے اسے
خود ہی آخری معرکہ مارنے بھیجا تھا اور وہ تھا ار سلہ کو منانے کا۔
آپ کو کچھ چا ہیے۔ ۔ ۔ ؟بس وہ اتنا ہی پو چھ سکی۔شا کنگ پنک جالی اور
جاما وار ڈ ر یس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
ہاں چاہیے ۔ ۔ ۔تم دے سکتی ہو کیا ۔ ۔ ۔ مجھے تمہارا سا تھ چا ہیے۔ارسلہ
کچھ بول نہ پائی مگر مسکرا دی۔اور سو چنے لگی آدمی برا نہیں ہے۔سالار بہت
خوش ہوا اور سب کے بیچ جا کر خوش خبری سنائی۔منگنی ہوگئ۔اور ارسلہ نے
سالار کے نام کی انگو ٹھی اپنے ہا تھ میں پہن لی۔سالار نے اسے کال کی تو
ار سلہ نے جھجکتے ہوئے کال اٹھائی۔اس کے بعد اکثر وہ دو نوں ملنے بھی
لگے۔گو کہ سالار کسی کو خا طر میں نہ لاتا تھا ۔کبھی کسی لڑ کی کو غلط
نگاہ سے نہ دیکھا۔اسی لیے ار سلہ وہ اور مر دوں سے ہٹ کہ لگا۔
مجھے شک کر نے والے لوگ با لکل پسند نہیں۔شک رشتوں کو کمزور کر تا
ہے۔اس لیے ہم دو نوں شک کو اپنے بیچ جگہ نہیں دیں گے۔دو نوں نے عہد کیا۔
دو دن بعد سالار کا اپنے دو ست کے ہاں جا نا ہوا ۔وہ اسے ڈرائنگ روم میں
بٹھا کر باہر ریفرش منٹ کا انتظام کر نے گیا۔تو سالار شیلف میں رکھی
کتابیں دیکھنے لگا۔اس نے ایک کتاب اٹھا ئی تو اس میں سے چند تصو یریں گر
یں۔سالار کو دھچکا لگا۔یہ تصو یریں۔ ۔ ۔ وہ گھر چلا گیا اور پوری رات سو
نہ پا یا۔وسو سے اسے سا نپ بن کر ڈس رہے تھے۔اس سے رہا نہ گیا تو وہ باہر
سڑ کوں پہ نکل گیا۔سگرٹ پی پی کہ رات کاٹی صبح ہو تے ہی وہ دوبارا دو ست
کے گھر پہنچا اور اسے گر یبان سے پکڑ
کر پو چھنے لگا " بتاؤ ارسلہ کی تصو یرں تمہار ے پاس کیسے آئیں۔کیا چکر
ہے اس کے ساتھ تمہارا۔"
دوست حیران و پر یشان اس کا منہ تکنے لگا۔شور کی آواز سن کر گھر والے
باہر آئے جب جھگڑے کی وجہ معلوم ہوئی تو سالار کے دوست کی بہن اندر
ڈرائنگ روم میں آئی اور قدرے او نچی آواز میں گو یا ہوئی کہ "آپ کی اطلاع
کے لیے عرض ہے کہ ارسلہ میری دو ست ہے اور یہ تصو یریں میر ی کتاب میں
تھیں وہ کتاب کسی نے یہاں رکھ دیں تھیں۔میں ابھی ارسلہ کوکال ملا کر آپ
کی بات کرواتی ہوں۔"
لڑ کی کی بات سن کر سالار وہاں رک نہ پا یا۔وہ کسی تھکے ہوئے مسا فر کی
طرح گھر لوٹا تو ارسلہ اسی کے گھر میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔سا لار کے
آتے ہی ارسلہ اس کی طرف لپکی ۔مگر سالار اس سے نظر نہ ملا پا رہا
تھا۔ارسلہ کی آنکھوں میں تیرتے آ نسو اور سوالات سالار کو یہ بات ا زبر
کروا چکے تھےکہ ارسلہ تک ساری بات من و عن پہنچ چکی تھی۔سالار کو لگنے
لگا کہ وہ ارسلہ کو ہارچکا ہے۔کیو نکہ وہ رشتوں میں اعتبار کی قائل
تھی۔ارسلہ اس پر پھٹ پڑی اور اس کو جھنجھوڑ ڈالا "یہ محبت تھی تمہاری
۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر بہتان لگا نے کی۔پکڑو اپنی تنگو ٹھی اور اب
کبھی میرے راستے میں مت آنا۔"وہ انگو ٹھی پھینک کر غصے سے نکل گئ۔اور
خالہ جان اسے آوازیں دیتی رہ گئیں۔مگر اسے رکنا تھا نہ ہی وہ رکی۔
3 comments:
بہت ہی اعلی
شکر یہ
Nice one God bless you
Post a Comment