Monday, July 2, 2018

بھیا نک آوازیں


آسیہ شاہین
 چکوال
(بھیانک آوازیں)
شام کے سائے سمٹ چکے اور ہر طرف اندھیرا چھانے لگا تو ایسے میں دونوں دوست ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے مو ٹر بائیک پر بیٹھ کر کہیں جانے کے لیے رخت سفر باندھنے لگے ۔محسن بائیک ڈرائیو کرنے لگا اور طلال پیچھے بیٹھ۔گیا ‛دونوں اکثر ساتھ ہی آیاجایاکرتےتھے۔دونوں­­ پر پیسہ کمانے کا جنون سوار تھا۔اور ہر وقت اسی جہت میں رہتے کہ شائد کوئ راستہ ایسا کھل جائے کہ ان کو بے بہا دولت مل جائے۔دولت کے لیے کچھ بھی کر سکتے تھے۔ دولت ہی ایسی چیزتھی جس کی مدد سے وہ اپنا غریبی کا گڑھ بھر سکتے تھے۔۔ وہ ایک قدرے ویران جگہ آئے۔جہاں ہر طرف سناٹا تھا۔زندگی کا کوئ امکاں نظر نہ آ رہا تھا شام 
اپنے پر سمیٹ چکی تھی اب رات نے ہر طرف اپنا بسیرہ جما لیا تھا۔ساتھ پہاڑ پر موجود جنگل سے جنگلی درندوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
وہ دونوں آگے بڑھتےگئے اور ایک ویران سے کھنڈر نما گھر کےسامنے رک گئے۔ جہاں سے تصور کیا جاتا تھا کہ اکثر اوقات چیخنے چلانے کی آوازیں آتی تھیں۔اور رات کے وقت اس علاقے کے قریب بھی کوئ نہ آتا تھا۔سب خوف زدا رہتے تھےاور یہ کھنڈر نما گھر بھوت گھر کے نام سے مشہور تھا۔
وہ دونوں اندھیرے میں گھر کے اندر غائب ہو گئے اور کچھ ہی دیر میں لڑکیوں کےچیخنے چنگھاڑنےکی آوازیں آنے لگیں۔ عین اسی وقت اسی جگہ سے مزید خوفناک اور دل دہلا دینے والی آوازیں گونجنے لگیں جن کی گونج میں لڑکیوں کی چیخیں بھی شامل ہو کر ماحول کو مزید حولناک بنا رہی تھی۔کچھ دیر کے بعد وہ لوگ وہاں سے روانہ ہو گئے۔مگر اس دفعہ ان کے ساتھ ایک گاڑی بھی تھی کہ جو چاروں طرف سے مکمل بند تھی۔
اس کے اندر بے ہوش لاشے لڑھک رہے تھے۔آسمان پر بادل چھانے لگے۔
کچھ دیر میں آسمان کا رنگایک دم سرخ ہونے لگا۔سب لوگ آسمان کی طرف دیکھ کر استغفار کا ورد کرنے لگے ۔چاچا فضل جو کہ محسن کا والد تھابولا اللہ کے غضب سے ڈرو سب استغفار پڑھوجب کہیں بہت بڑا ظلم ہو رہا ہےہو تو ایسے ہی آسمان سرخ ہوتا ہےانہوں نے قیاص آرائ کی۔
جیسے ہی وہ لوگ گاڑی میں موجود مال سپلائ کر کے واپس مڑے تو اسی وقت ایک زوردارطوفان آیا اور موٹر سائیکل سوار طوفان میں ایسے پھنس گئے۔کہ ایک بہت بڑے بگو لے نے انہیں آلیا۔بگولا موٹر سائیکل کو بلندی تک لے اڑا۔موٹر سائیکل کے پرزے اور دونوں سوار نوجوانوں کے جسم کے اعضاء کے چیتھڑے ہر طرف بکھرے پڑے تھے ۔اسی وقت پولیس وہاں پہنچی۔
ساتھ موجود گاڑی کی تلاشی لی گئ تو اس میں انسانی خون کی موجودگی نے پولیس کو تشویش میں ڈال دیا۔ڈرائیور کو دھپ مار کر پوچھا گیا تو اس نے سب کچھ اگل دیا۔اور آہ وفغاں کرتی معصوم لڑکیوں کی سنوائ ہو گئ۔اللہ کی مدد آ پہنچی۔ اب بھوت گھر خاموش رہتا تھا۔تلاشی کے دوران وہاں سے کچھ سی ڈیزملیں جن میں دل دہلا دینے والی آوازیں ریکارڈ تھیں

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/