دانش اثری، مئو
~~~ غزل سراپا ~~~
خواب زار میں ہلکی نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی، درختوں سے نور پھوٹ رہا تھا، کناروں پر ایستادہ چٹانیں روشنی میں نہائی تھیں، ان کے پیچھے تاریکیاں رقص کررہی تھیں، اچانک انہی چٹانوں کے پیچھے سے نور کا ایک ہالہ ظاہر ہوا۔ میں محو حیرت اس سارے تماشے کو ایک نظر دیکھے جارہا تھا۔ آخر یہ کون سی جگہ ہے ، یہ کیا سماں ہے، یہ نور کا ہالہ… یہ آخر ہے کیا چیز؟؟؟ قدم گویا زمین میں دھنس گئے تھے کہ میں اپنی جگہ سے ہلنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ وہ ہالہ سبک خرامی سے میری جانب بڑھ رہا تھا، فاصلہ طویل تھا، میں نے آگے بڑھنے کا ارادہ کیا لیکن منجمد اقدام نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا، شاید میں خائف تھا، … لیکن میں بھلا خائف کیوں تھا؟ میں تو آگے بڑھ کر استفسار حال کرنا چاہتا تھا، یہ صرف حیرت اور استعجاب تھا۔ ایک ثانیے کے لیے مجھے لگا یہ جگہ میری دیکھی ہوئی ہے، لیکن ذہن پر زور دینے کے باوجود مجھے کچھ یاد نہ آسکا۔ اب وہ ہالہ قابل دید تھا، آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری، یا شاعر کے تخیلات کا مظہر، سراپا غزل۔ میں نے سوچا کہیں میں جنت میں تو نہیں، لیکن مجھے اپنی موت بھی یاد نہ آسکی۔ میں نے سر کو جھٹک دیا ، اب اس کے پاس آجانے کا انتظار کرنے لگا۔ اس کا چہرہ جانا پہنچانا تھا لیکن وہ…… وہ تو گویا مجھ سے پوری طرح واقفیت رکھتی تھی، ادائے محبوبانہ سے اس نے میرے شانے پر اپنی ٹھوڑی رکھ دی اور پھر فضا میں ایک ترنم برپا ہوگیا ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ میری حیرت دو چند ہوگئی ’’میں پہچان نہیں سکا‘‘ میری آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ اس کی کھنکتی ہوئی ہنسی … جیسے کسی نے تاروں کو چھیڑ دیا ہو۔ میں نے خدشات کو پرے رکھ کر اسے خود کو سمو لیا، ادائے خودسپردگی سے وہ بھی مجھ میں ضم ہوتی چلی گئی۔ آسمان پر ستاروں کی جگمگاہٹ کے بیچ چاند مسکرا رہا تھا، گفتگو طویل ہوتی گئی، یہاں تک کہ چاند کی مسکراہٹ ماند پڑنے لگی، اس نے میرے سینے سے سر اٹھایا ’’تم اب بھی سوچتے ہوگے کہ میں کون ہوں، میں تمھاری تخلیق کا وہ لازمی حصہ ہوں جس کے بغیر تم کبھی بھی تخلیق کار نہیں کہے جاسکتے تھے، تم مجھے برتتے رہو، ہماری ملاقاتیں ہوتی رہیں گی‘‘ وہ یکلخت مجھ سے جدا ہوئی اور انتہائی برق رفتاری سے کنارے کی طرف بھاگی، بیچ میں اس نے مڑ کر مسکراتے ہوئے دیکھا اور آخر کار کناروں میں غائب ہوگئی۔ میں سست قدموں سے وادی سے باہر نکل آیا۔ ایک افسانے کا مواد میرے ذہن میں موجود تھا۔
No comments:
Post a Comment