Wednesday, November 14, 2018

چل وہاں چلتے ہیں قسط 3

http://novelskhazana.blogspot.com/
چل وہاں چلتے ہیں

قسط_03


اسنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر معاذ کو غصے سے
گھورا ۔۔۔۔۔ ایکسکیوز می کیا کہا آپ نے مہوش اب معاذ کے پاس آکر بلکل برابر میں کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔میں نے کہا کہ میری کزن بہت ہی ڈرپوک ہے معاذ نے آئیبرو اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جی نہیں میں ڈرپوک تو نہیں آپ ڈرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کسی سے نہیں ڈرتی سنا آپ نے مہوش نے معاذ کو انگلی دکھائی۔۔۔۔۔۔اچھا تو جو میں بولونگا وہ مانو گیہاں جی اسنے ہاں میں جواب دیا۔۔۔اچھا تو انجیکشن لگوا کے ثابت کرو کہ تم ڈرپوک نہیں اور اگر ہو تو ہو ۔۔۔معاذ نے اسے وہ کہا جو وہ کبھی نہ کرتی تھی اسے انجیکشن سے بہت زیادہ ڈر لگتا تھا ۔۔۔۔۔ہاں تو لگوارہی ہوں نہ ۔۔۔ڈاکٹر انکل آپ لگائے مجھے انجیکشن مہوش صوفے پر بیٹھ گئی اسے بہت ڈر لگرہا تھا لیکن اسے خود کو بہادر بھی ثابت کرنا تھا اس لئیے وہ ریڈی ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب اب مہوش کو انجیکشن لگارہے تھے ۔۔۔۔۔۔آآآآآآآ آئی مہوش زور سے چلائی ۔۔۔ریلیکس مس ڈرپوک معاذ مہوش کو چڑانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑتا تھاڈاکٹر انکل میری طرف سے اس معاذ کو بھی ایک انجیکشن لگائےمہوش نے معاذ کی طرف اشرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔اسلام علیکم وہ سب مہوش کی حرکتوں پر ہنس ہی رہے تھے کہ نوید صاحب سمینا بیگم اور سارہ آتی دکھائی دی۔۔۔۔وعلیکم اسلام ویلکم پھوپھو معاذ انکے پاس گیا ۔۔۔۔۔کیسے ہو بیٹے نوید صاحب نے معاذ سے سوال کیا جی ٹھیک ۔۔۔۔۔سمینا بیگم تو آتے ہی اپنے بھائی کے گلے لگ گئی آخر وہ تھے ہی ایسے نرم دل اور وہ اپنی بہن سے بہت پیار کرتے تھے۔۔۔مہوش کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو نا سارہ اب مہوش کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔اسکی اپنی بہن کے لئیے فکر دیکھ کر سمیر مسکرا دیا ۔۔سارہ اور سمیر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے دونوں کے دل ایک دوسرے کے پیار میں گرفتار ہو چکے تھے مہوش تو پہلے ان کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی ۔ادھر معاذ بھی انھیں دیکھ کر مسکرا نے لگا۔۔اہم اہم اہم مہوش نے زور زور سے نخرہ کیا۔۔ اسکی اہم اہم سے سارہ اور سمیر کا دھیان ہٹ گیا ۔۔۔۔کیا ہوا ماہوں منظور حسین نے مہوش سے پوچھا۔۔۔۔کچھ نہیں ماموں ۔۔سلام دونوں فیمیلیس ساتھ ہی تھی کہ ایک اور فیملی آگئی۔۔اوہ آفتاب بھائی صاحب آئے ہیں شازیہ نے انکی فیملی کو دیکھتے ہوئے کہا۔کیسے ہو سلیم معاذ نے سلیم سے پوچھا کیونکہ وہ بھی اپنےابو امی کے ساتھ آیا ہوا تھا۔۔۔ او سو سمال یہ گھر تو بہت چھوٹا ہے آپ کیسے رہتے ہیں یہاں ارفانا نے اپنے بالوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔مہوش سارہ دوسرے کمرے میں جا چکے تھے جبکہ معاذ اور اور سمیر سلیم کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔سمینا مجھے تم سے بات کرنی ہے اب تم یہی ہو تو یہی کرلیتے ہیں بات آفتاب نےسمینا کو بیٹھنے کا کہا۔۔۔سمینا ہمیں سلیم کی شادی ابھی کروانی ہے تمھیں تو پتا ہے ہی مہوش شروع سے ہی سلیم کے نام پر ہے تو اب انکی شادی کرانے کا وقت آگیا ہے ۔۔۔۔معاذ تو یہ سن کر سن سا ہوگیا تھا اسے پتا نہیں کیوں بہت ہی جلن ہورہی تھی ۔معاذ ہی نہیں سب ہکے بکے رہ گئے تھے منظور حسین شازیہ سمیر سب کو بہت دکھ ہورہا تھا کیونکہ وہ سب مہوش کو چاہتے تھے انھیں خود کی بھی لالچ نہیں تھی بس وہ اسے ایسے گھر نہیں بھیجنا چاہتے تھے جہاں دن رات اسے سن نا پڑے کیونکہ ارفانا تھی ہی ایسی ایٹیٹیود پرسن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھا جائے تو سمینا اور نوید بھی اس شادی سے خوش نہیں تھے لیکن سمینا کیا کرتی اگر کوئی اور ہوتا تو منع کردیتی لیکن اسکا بھائی تھا ۔۔۔ٹھیک ہے بھائی جو آپ ٹھیک سمجھے سمینا نے ہاں میں جواب دیا ۔۔۔۔سمیر بھائی کیا ہورہا ہے نیچے کیا باتیں ہو رہی ہیں مہوش نے سمیر سے پوچھا جو مٹھائی لے کے کمرے میں داخل ہوا اور اسکے ساتھ معاذ بھی ۔۔۔۔۔۔یہ مٹھائی کس لئیے مہوش نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔تمھاری شادی سمیر کے الفاظ رک رک کر ادا ہوئے تھے جبکہ مہوش بھی حیران رہ گئی ۔۔۔۔۔کیا سارہ بھی اب جلدی سے اٹھ کر آگئیہاں آفتاب چاچوں مہوش کا رشتہ پکا کرنے آئے تھے اگلے ہی مہینے مہوش کی شادی ہے سمیر نے کہا ۔۔۔۔۔مہوش تم خوش ہونا معاذ کے منہ سے پتا نہیں یہ الفاظ کیسے نکل گئے ۔۔۔امی ابو راضی تو میں بھی راضی مہوش نے جواب دیا ۔۔۔مہوش تم مجھے بڑا بھائی مانتی ہونا تو تم سے کچھ پوچھوں سمیر نے مہوش کو بٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔تمھیں سلیم کیسا لگتا ہےہاں ٹھیک ہے وہ بھی میرے کزن ہیں تو آپ کی طرح اچھے ہی ہونگے نہ مہوش نے سمیر کی تعریف کی ۔۔۔۔اچھا ٹھیک ہے تم خوش تو ہم خوش ۔۔۔ہے نہ معاز سمیر نے معاز سے پوچھا ۔۔۔جو گم سم سا پتا نہیں کن سوچو ں میں گم تھا ۔۔۔۔۔۔او معاز سمیر نے اسکو ہاتھ سے ہلایاہاں جی ہاں ہاں ٹھیک معاز جواب دے کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔موم مبارک ہو آپکا مقصد پورا ہونے جارہا ہے ۔۔ارفانا بیگم کچن میں پانی پی رہی تھی کہ سلیم نے آکر اسکے کان میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں بیٹا کب سے اس دن کا انتظار تھا مجھے اب ہمارا مقصد پورا ہونے کو ہے۔۔کونسہ مقصد آنٹی معاذ نے آکر پوچھا تو سلیم اور ارفانا ہڑ بڑا گئی۔۔کچھ نہیں بیٹا شادی کے بارے میں بات کرہے تھے بس ہم ارفانا نے بڑی ہی معصومیت سے جواب دیا۔۔۔۔۔معاذ کیا ہوگیا ہے تجھے اتنا کنفیوسڈ کیوں ہورہا ہے سب خوش تو ہے اور مہوش بھی تو خوش ہے تو تم بھی خوش رہو ۔۔۔۔معاذ خود سے باتیں کرہا تھا ۔۔۔۔۔۔اچھا اب ہم چلتے ہیں پھر ملاقات ہوگی آفتاب صاحب اٹھ کھڑےہوئے اور جانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹون ٹون مہوش کا موبائل بجا۔۔۔ہیلو کون مہوش نے پوچھا

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/