Friday, November 16, 2018

انا ۔محبت۔اور۔آ زما ئش قسط 1

http://novelskhazana.blogspot.com/



کل رات جانے کیا ہوا
کچھ دیر پہلے نیند سے
کچھ اشک ملنے آگئے
کچھ خواب بھی ٹوٹے ہوئے
کچھ لوگ بھی بھولے ہوئے
کچھ راستہ بھٹکی ہوئیں
کچھ گرد میں لپٹی ہوئیں
کچھ بے طرح پھیلی ہوئیں
کچھ خول میں سمٹی ہوئیں
بے ربط سی سوچیں کئی
بھولی ہوئی باتیں کئی
اک شخص کی یادیں کئی
پھر دیر تک جاگی رہی!
سوچوں میں گم بیٹھی رہی
انگلی سے ٹھنڈے فرش پر
اک نام بس لکھتی رہی
کل رات بھی وہ رات تھی
کچھ دیر پہلے نیند سے
میں دیر تک روتی رہی...!!!
_____ _______ __________ _______
ناظرین اہم ترین خبر سے آپکو آگاہ کرتے چلیں کہ پاکستان کے مشہور بزنس ٹائکون مسٹر جہانزیب احمد کی تانیہ شاہ کے ساتھ نکاح کی خبریں کچھ عرصے سے گردش میں تھیں آج تانیہ شاہ نے انکی تصدیق کردی ہے _______ _______
اس سے آگے کچھ اسے سنائی ہی نہیں دیا کانچ کا واز ہاتھ سے چھوٹ کر پاؤں پہ گرا لیکن درد نہیں ہوا اسکرین پہ اس دشمن جاں کی تصاویر تانیہ شاہ کے ساتھ اسکرول کی جا رہی تھیں وہ خود بھی کانچ کے ٹکروں پر گر گئی لیکن جو درد دل و روح پہ تھا اسکے سامنے یہ زخم کچھ بھی نہیں تھے وہ بنا پلک جھپکائے اسکرین دیکھے گئی اسے پتہ بھی نہ چلا کب چہرا آنسوؤں سے تر ہو گیا۔۔۔۔
اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا فاطمہ بیگم کا تو دل ہی کسی نے مٹھی میں لے لیا اسے اس بکھری حالت میں دیکھ کر وہ تو ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئیں تھیں اور اسے کہیں نہ پا کر کمرے میں دیکھنے آئیں لیکن جو منظر انکی آنکھوں کے سامنے تھا وہ اس پر یقین ہی نہیں کر پا رہی تھیں لیکن جوں ہی انکی سماعتوں سے نیوز کاسٹر کے الفاظ ٹکرائے تو وہ بے یقینی کی کیفیت میں اسکرین تکنے لگیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے انکی گڑیا کو جہانزیب اس طرح نہیں توڑ سکتا لیکن جب ماضی ذہن میں آیا تو سختی سے آنکھیں صاف کیں اور اس معصوم کی طرف قدم بڑھائے جو ہر چیز سے بے نیاز اس بے وفا کو اسکرین پہ تکے جا رہی تھی فاطمہ بیگم کو اپنا ایک ایک قدم من من بھر کا لگ رہا تھا وہ سوچ رہی تھیں کہ اب کیسے تسلی دینگی وہ اس جھلی کو جو اس انا پرست بے وفا انسان کے نام پہ جیتی ہے جس نے آج تک کوئی شکوہ نہیں کیا اسکی بے رخی کا اور آج وہ کسی اور کا ہو گیا وہ دل جہانزیب سے مخطب ہوئیں تو نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔
فاطمہ بیگم بھی اسکے پاس نیچے ہی بیٹھ گئیں اور اسکا چہرا دیکھا تو آنکھوں میں پھر نمی جمع ہو گئی انہوں نے پیار سے اسے پکارا گڑیا میری جان ۔۔ جواب ندارد ۔۔۔ اب فاطمہ بیگم نے ایل ای ڈی آف کردی اس میں اب بھی حرکت نہیں ہوئی فاطمہ بیگم نے شاہین (انکی ملازمہ) کو آواز دی اور فرسٹ ایڈ باکس منگوایا وہ بھی بھاگی بھاگی گئی اور پانی اور باکس لے آئی پھر فاطمہ بیگم نے اسے جھنجوڑ ڈالا گڑیا مجھے دیکھو میری بچی وہ خالی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی فاطمہ بیگم سے نظر ملانا مشکل ہو گیا ۔۔۔
شاہین کی مدد سے اسے اٹھا کر بیڈ تک لائیں اور روتے روتے اسکے ہاتھوں کے زخم صاف کرنے لگیں شاہین بھی اسکے پاوؤں کے زخم صاف کرنے لگی پٹی کر کے شاہین جب چلی گئی تو فاطمہ بیگم نے اس سے کا چہرا ہاتھوں میں لے کر کہا گڑیا میری جان کچھ بولو نہ مجھ سے تمہاری خاموشی نہیں سہی جا رہی۔۔
ک۔۔۔کیا ب۔۔۔بولوں۔۔۔۔۔ ما۔۔ما الفاز ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے۔۔
فاطمہ بیگم نے ہاتھ جوڑ دئیے اسکے سامنے اور روتے روتے بولیں مجھے معاف کردو میری جان میں اجھی ماں نہیں بن سکی ۔۔
ان جملوں پر اسکی کھوئی کوئی سماعتیں لوٹ آئیں اور اس نے تڑپ کر فاطمہ بیگم کے ہاتھ تھام لئے ۔۔
ماما یہ کیا کر رہی ہیں کیوں مجھے گنہگار کر رہی ہیں پلیز چپ کر جائیں اس نے اپنے ہاتھ کی پوروں سے انکے آنسو صاف کئیے انھوں نے اسکے ہاتھ تھام لیے کیا کروں تو میں بد نصیب ماں ہوں جو اپنی اولاد کو صحیح غلط نہیں سمجھا سکی کاش میں کچھ کر سکتی اور جہانزیب کو تمہارا کر دیتی۔۔۔
اس نے انکی بات کاٹ دی اور ہنستے ہوئے کہنے لگی ماما وہ میرے تھے ہی کب جو آجاتے آج تو مجھے یقین ہوا ہے کہ واقعی میں ہی غلط ہوں اور اس دنیا میں میرے لئے کوئی خوشی نہیں ہے میں جس کی خواہش کروں گی وہ لاحاصل ہی رہیگی آپ کیوں اتنا رو رہی ہیں اچھا ہے انھوں نے شادی کر لی اب کم سے کم وہ خوش تو رہیں گے نہ۔۔۔ پری کیسی باتیں کر رہی ہو میری جان ۔۔۔ نہیں ما ما آ۔۔۔۔ آج کوئی نصیحت نہیں پلیز مجھے نہیں انکی چاہ مجھ جیسی بدکردار لڑکی یہی ڈیزرو کرتی ہے کہ مجھے ہر انسان چھوڑ دے ۔۔۔ گریا میری جان فاطمہ بیگم نے اس کا چہرا تھاما اور کہا کیوں خود کے لئے ایسے الفاظ استعمال کر رہی ہو۔۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ت۔۔۔تمہیں یہ سن کر دکھ نہیں ہوا۔۔؟
انکے سوال پر وہ طنزیہ مسکرائی اور انکے ہاتھوں پہ بوسہ دیتے ہوئے بولی ماما خدا نے میرے لئے صرف دکھ ہی لکھے ہیں آج مجھے یقین ہو گیا ہے اور پلیز کوئی لیکچر نہیں اس بات پہ میں بلکل ٹھیک ہوں وہ جس سے چاہے شادی کریں مجھے کوئی ف۔۔فرق ن۔۔۔نہیں پڑتا ماما بابا آنے والے ہونگے آپ انہیں دیکھیں مجھے سونا ہے کچھ دیر۔۔۔
فاطمہ بیگم نے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور کہا میں دودھ بھیج رہی ہوں وہ پیکر سو جانا انہیں لگا شاید کچھ دیر واقعی اسے اکیلا چھوڑنا چاہیے انکے جانے کے کچھ دیر بعد شاہین دودھ کا گلاس لے آئی اور اس نے زہر مار کر لیا وہ صرف ماما کی خوشی کے لیے شاہین کے جانے کے بعد اس نے روم لاک کیا اور دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی گٹھنوں پہ سر ٹکا دیاآنکھ بند کرتے ہی جہانزیب کا چہرا سامنے آگیا اس نے فورن سے آنکھیں کھل دیں اور زندگی میں پہلی بار شکوہ زباں پہ آیا کیوں آخر میرے ساتھ ہی کیوں کیا میں انسان نہیں کیا میرا دل نہیں تمکیں مجھ پہ ترس بھی نہ آیا میں نے زندگی کے پانچ سال دئے ت۔۔تمہیں کک۔۔کیوں تمہیں میری محبت نظر نہ آئی۔۔۔
ابھی وہ اور کچھ کہتی اس سے پہلے ہی اسکا موبائل رنگ ہوا اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑی اور اٹھ کر موبائل اٹھایا لیکن اسکرین جسکے نام سے جگمگا رہی تھی وہ اسے ساکت کر گئی دھڑکتے دل سے اس نے زمین پر بیٹھتے کال یس کی دوسری طرف کی آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں بند کیں جیسے آواز کو دل میں اتار رہی ہو جب وہ کچھ نہ بولی تو جہانزیب پھر سے بولا پریشے سن رہی ہو ۔۔۔
ہوں۔۔ جی بب۔۔بولیں ج۔۔جہانزیب۔۔۔
ایک منٹ کے لئے جہانزیب خاموش ہو گیا پری کی ٹوٹی آواز سن کر۔۔
کچھ دیر میں بولا پریشے کیسی ہو...؟؟
اس سوال پہ وہ طنزیہ ہنسی اور کہا کیسا ہونا چاہیے خیر آج کیڈے فون کیا بتادیں تمہید کی ضروعت نہیں ہے آپکو۔۔۔
جہازیب نے لمبا سانس کھینچا اور میری اور تانیہ شاہ کی ۔۔۔۔۔۔ پری نے بات کاٹ کر کہا۔
جی سن لیا میں نے آپکی شادی کا۔۔۔
تو اگر تم چاہو تو میں تمہیں آزاد۔۔۔
پھر بات کاٹ دی گئی ۔۔
جہازیب پچھلے پانچ سالوں میں میں نے آپ سے اپنے لئے سوائے آپکے نام کے کچھ نہیں مانگا آپکو دوسری شادی سے بھی کبھی نہیں روکا تو آ۔۔۔آج کک۔۔۔کیوں اپنا نام چھین نا چاہتے ہیں ۔۔۔
نن۔نہیں میرا مطلب پریشے ۔۔ (دل میں سوچا) عجیب لڑکج ہے یہ بھی اب بھی کوئی گلا نہیں کر رہی ایک لمبا سانس کھینچ کر کہا اچھا ٹھیک ہے تم نہیں چاہتی علیحدگی تو تمہاری مرضی اصل میں کل میں اور تانیہ آرہے ہیں میں بہت رہ لیا گھر سے دور۔۔۔ بات پھر کاٹی گئی۔۔
تو آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں آپکا گھر ہے جب چاہیں آجائیں۔۔
پریشے تمہیں نہیں لگتا اب تہیں وہاں سے جانا چاہئیے ۔۔
پریشے کے کب سے رکے آنسو بہہ نکلے اس نے آنکھیں سختی سے بند کیں اور سانس ہموار کر کے کہا کب تک آئیں گے آپ...؟
کل صبح ۱۱ بجے تک۔۔
ٹٹ۔۔ٹھییک ہے اور کچھ ...؟؟؟
ہممم نہیں تمہیں کچھ کہنا نہیں ہے ..؟
کیا کچھ کہنا چاہئیے مجھے..؟؟
سوال پہ سوال ہی کیا گیا ۔۔ خاموشی درمیان میں بہت کچھ بول رہی تھی۔۔۔۔
ٹھیک ہے جہانزیب اللہ آپکا نگہبان آنے کی تیاری کریں میں اب آپکو یہاں نظرنہیں آؤنگی۔۔۔ اور کال کاٹکر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔۔
_____ ______ ______ _______
توڑ کر پھینک نہ سینے سے لگا لے مجھکو
میں ہوں آئینہ تو پہلو میں بٹھالے مجھکو
اے چراغ شب غم تجھ سے نہیں کوئی گلہ
اپنا پروانہ سمجھ اور جلا لے مجھکو
تیرنا سیکھنا چاہوں بھی تو کیسے سیکھوں
کر دیا موجوں نے طوفاں کے حوالے مجھکو
کیا عجب ہے کہ میری زیست کا پاسا پلٹے
جان جاناں تو اگر اپنا بنا لے مجھکو
زندہ رکھنا ہے تو سو طرح سے مجبور نہ کر
ورنہ یارب تیری دنیا سے اٹھا لے مجھکو
رہرو راہ محبت ہوں گنہگار نہیں
کوچہ یار سے کیوں کوئی نکالے مجھکو
کبھی منزل کی تمنا میں قدم بڑھتے ہیں
روک دیتے ہیں کبھی پاؤں کے چھالے مجھکو
شدت رنج و الم نے کیا بے جاں ناظر
لڑکھڑاتے ہیں قدم کوئی سمبھالے مجھکو
_______ _______ _______ ______
ابھی پریشے منہ دھو کر باہر ہی آئی تھی کہ فون پھر بجا اب کہ احد کی کال تھی ایک لمبا سانس کھینچ کر خود کو پر سکون کیا اور کال ریسیو کی ۔۔۔
آپی۔۔۔۔ ٹوٹی آواز فون سے ابھری ۔۔۔
پری نے فورن کہا کیا ہوا ہے احد فرہین ٹھیک ہے نہ اس وقت کال کی۔۔۔۔ احد بات کاٹ کر بولا آپ نے ن۔۔نن۔۔نیوز دیکھی..؟؟
پریشے نے کہا ہاں احد مجھے سب پتا ہے تم پریشان نہ ہو۔۔
کیسے کیسے پریشان نہ ہوؤں ہاں آپ آپ گھر آجائیں بس ابھی میں آرہا تھا لیکن فری کی وجہ سے نہیں آسکا۔۔
کیوں آرہے تھے میں نے بلایا تمہیں ۔۔
آپی کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں میں انہیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا آخر انھوں نے آپکو سمجھ کیا رکھا ہے۔۔۔۔
پریشے خفگی سے بولی میں نے تمہیں اجزت دی ہے کیا کہ تم انکے بارے میں ایسی بات کرو ہاں..؟؟
احد خاموش ہو گیا ۔۔ تھڑی دیر میں بولا آپ گھر ماما کی وجہ سے نہیں آتی نہ..؟
احد میری بات غور سے سنو مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے ٹھیک اور تم ر یحانہ ماما سے اپنی ناراضگی ختم کرلو اس سے پہلے کہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں کیا میں نے یہ ہی تمہیں سکھایا ہے اور جب خدا کو نہیں آتا مجھ پر رحم تو کوئی اور بھی نہ کھائے میں اس وقت بزی ہوں ہم اللہ نے چاہا تو بعد میں بات کرینگے ۔۔ لو یو میری جان اپنا اور فری کا اور ہاں ماما کا بھی بہت خیال رکھنا۔۔
آپی میں کل آؤنگا آپ آرام کریں ابھی۔۔ اللہ حافظ۔
ہممم۔ اللہ نگہبان۔۔۔
اب کیا بتاؤں احد تمہیں۔۔۔
کچھ سوچ کر کسی کو فون ملایا تھڑی دیر میں ریسیو ہو گیا فورن کہا گیا وینا یہ جو میں سن رہی ہوں سب سچ ہے...؟؟
سمرین۔۔۔
تم ٹھیک ہو نا۔۔ دوسری طرف سے فکر مندی سے پوچھا گیا۔۔۔
پری: نہیں یار نہیں۔۔
سمرین: میں آرہی ہوں ابھی۔۔
پری: بلکل نہیں۔۔۔
سمرین: پھر۔۔
پری: مجھے تاشفہ آنٹی کے پاس رہنے کی جگہ چاہیے۔۔۔
دوسری طرف خاموشی ہو گئی۔ پھر سمرین بولی پوری بات کرو۔۔
پری: یار جہانزیب کل آرہے ہیں تانیہ شاہ کے ساتھ۔
سمرین: تو..؟
پری: تو یہ کہ میں اب یہاں نہیں رہ سکتی۔
سمرین: مطلب اس پتھر دل شخص نے جانے کو کہا ہے اور تم آج بھی اسکا پردہ رکھ رہی ہو اب بھی محبت کرتی ہو کیوں۔ں۔ں۔۔
پری: یہ میرے بس میں نہیں ہے میں انکی محبت اپنے دل سے چاہ کر بھی نہیں نکال سکتی۔۔۔
تم اتنا بتادو رہنے کو ج۔۔۔جگہ ملےگی یا۔۔
سمرین: ابھی آؤں لینے ..؟
پری: نہیں صبح یونی کے پاس والے کیفے میں آؤنگی کچھ بھی ہو وہاں آجانا ورنہ میں سمجھونگی کہ شاید اب کوئی ٹھکانا بھی خدا نے نہیں رکھا۔۔۔
سمرین: ٹھیک ہے میں اور جنید آجائیں گے۔۔
پری: ٹھیک اللہ نگہبان۔۔۔
_______ ________ ________ _______
شاہزیب صاحب کو فاطمہ بیگم نے بتایا تو وہ بہت غصہ ہوئے لیکن پری نے انہیں سمجھا لیا اور دونوں کو منا لیا کہ کوئی بھی جہانزیب کو کچھ برا نہیں کہےگا۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر لیپ ٹاپ آن کیا کور پہ جسکی تصویر تھی اس پہ ہاتھ پھیرا اور روز کی طرح اپنی روداد لکھی۔۔
آج آخری دن ہے یہاں شکریہ جہانزیب مجھے بتانے کے لئے کہ واقعی میں منہوس ہوں میری مجھے پیدا کر کے مر گئی بابا بھی میرا غم لئے مجھے اس ظالم دنیا کے رحمو کرم پہ پتا نہیں کس کے سہادے چھوڑ گئے میری کوئی سننے والا نہیں اللہ بھی نہیں سنتا آج بھروسہ ہی نہیں ہو رہا آج میں نے کوئی دعا نہیں مانگی۔۔
"میں نے بہت محبت کی ہے آپ سے جہانزیب آپ کبھی میرے پاس نہیں تھے میں نے آپکے نام سے آپکے احساس سے محبت کی ہے لیکن میں خود میں اتنی ہمت نہیں رکھتی کہ آپکو کسی اور کے ساتھ دیکھوں میں خود کشی بھی نہیں مر پائی میں کیا کروں آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ میں کہاں جاؤں
چاہ کر بھی نہیں نکال پا رہی آپکو دل سے اے اللہ کہاں لا کر کھڑا کر دیا موت ہی دے اب برداشت نہیں ہوتا"
اس سے زیادہ لکھ نہیں پائی لیپ ٹاپ بند کر کے وہ وارڈ دوب کے پاس آئی پرس میں کچھ اپنوں کی ہنستی مسکراتی تصوںریں ڈالی اور جہانزیب احمد کی تصویر پہ پہلے رکھے اور اسے بھی پرس میں ڈالا کچھ میڈیسن اور پیسے ڈالے 2 جوڑے رکھے اسر پرس صوفے پہ رکھ کر کھڑکی تک آئی اور جیسے ہی باہر دیکھا سردی کی بے رحم ہوا نے اسے چھوا وہ آسمان کو دیکھ کر بولی اور کتنی آزمائیشیں باقی ہیں اے رب کیا تجھے مجھ پہ رحم نہیں آتا ۔۔۔
پھر بولی لگتا ہے آسمان بھی برسے گا آج۔۔
اور کھڑکی بند کر کے جہانزیب کا 1 کوٹ اٹھا کر صوفے پہ بیٹھی اس سے باتیں کر نے لگی جب دل بھر آیا تو اسی میں منہ چھپا کر پھر بکھر گئی کوئی دیکھ لیتا تو وہ بھی اس نصیب کی ماری پہ رو پڑتا۔۔
مطلب آج کی رات بھی سونا نہیں ہے اپنی ماضی کی کہانی میں ہی رات گزرنی ہے۔۔۔
ماضی(past)___________ ___________
جاری ہے___________

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/