Click here
ناول
#_سانول_موڑ_مہار
#_ماریہ_اشرف#
_فون کی آواز سنتے ہی اسنے اپنی آنکھوں کے
مسلتےہوئےان میں اترتی نیند کو بھگانے کی کوشش کی. بلاشبہ اسے یہاں سونے اور نیند پوری کرنے کیلیے نہیں بھیجا گیا تھا. نمبر دیکھتےہی موبائل کو بائیں ہاتھ میں منتقل کرکے اس نے فٹا فٹ پانی کو ایک گھونٹ میں ختم کیا اور غصے سے فون کو گھورا. کوئی مستقل مزاج ہی تھا بلکہ کوئی کیوں یہ اسکے "ان" کے والد کا فون تھا."ہیلو" اسنے اپنے لہجے میں بشاشت لاتے فون اٹھا لیا"میں نے تمہیں ایک بیماری کا علاج ڈھونڈھنے بھیجا تھا اور تم نے سو اور بیماریاں گنوا دیں ہیں" فون کے پار چیختی آواز ابھری"دیکھیں آپریشن کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے. مجھے آپکے آرڈرز کا مزید ویٹ نہیں کرنا" اسنے بھی ٹھوک کر جواب دیا"آپریشن مائی فٹ. تمہیں ذرا سا بھی اندارہ ہے کہ اس آپریشن میں میری پوتی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے" فون کے پار سے غصیلی آواز ابھری"آپکی پوتی کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں کی جان کو خطرہہے. برا مت مانیے گا میری اپنی جان مشکلوں میں ہے" اسنے بھی سلگتے ہوئے جواب دیا"میں کچھ نہیں جانتا مجھے ہر حال میں مثبت نتائج چاہئیں" کھٹاک سے فون بند ہو گیا"میں میں میں" اسنے دو انگلیوں کو انگوٹھے پر اوپر نیچے مارتے ہوئے انکی نقل اتاری. "اور میں....." زینب گردیزی نے خود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا. پھر روہانسی ہوکر اپنا سر ٹیبل پر مار کر بولی "مر گئی زینب گردیزی. کیا فائدہ ہوا ایک کامیاب گائناکالوجسٹ بننے کا. اگر جلال گردیزی کی بہو یا پوتی کو کچھ ہوگیا تو ابی جان نے تو مجھے زندہ ہی گاڑھ دینا ہے" ڈر اور خوف کے مارے اسکی ساری نیند اڑ چکی تھی......................................"سیما بی.... سیما بی""جان محمد.... جان محمد " پورے گردیزی لاج میں صبح سے بس دوہی آوازیں آ رہی تھیں. سیما بی اور جان محمد پوری مہارت اور مستعدی سے بڑے بڑے خوبصورتی سے سجے تھال اٹھائے اندر باہر آ جا رہے تھے. پورے گھر کو برقی قمقموں سے سجایا جا رہا تھا. ہر طرف ملازموں کی فوج ادھر ادھر خوشی سے بھاگ بھاگ کر ہر کام دیکھ رہی تھی. لان کے دوسری طرف لذیذ کھانوں کی خوشبویں بکھر رہی تھیں. دوسری طرف گھر کے مکینوں کو بھی ایک منٹ کیلیے فرصت نہیں تھی. سب سے پہلے ان سب نے دعا کروانے کیلیے درگاہ جانا تھا پھر وہیں سے ہاسپٹل. چڑھاوے چڑھانے کیلیے بڑے بڑے ٹوکرے تیار کیے جا رہے تھے. ہر کسی کی اپنی اپنی مانگی ہوئی منت تھی. ابی جان تھوڑی دیر میں گھر پہنچنے والے تھے. ان کے آنے سے پہلے سب تیاری فائنل ہوجانی چاہیئے تھی. صبح سے سہ پہر ہونے والی تھی مگر لگتا تھا کہ ابھی بھی کچھ نہ کچھ باقی ہے. بڑی سیٹھانی سب کو ہدایات دے رہی تھیں. ساتھ ساتھ ٹی وی دیکھتے اپنےچاروں پوتوں پر بھی انکی کڑی نظر تھی. جب تک کارٹون لگے رہتے تھے گھر میں سکون رہتا تھا بس تبھی تک وہ لوگ سکون سے اپنے اپنے کام کر سکتے تھے. اس لیے سب کی دوڑیں لگی ہوئی تھیں."بڑی سیٹھانی سب کام ہو گیا ہے. سارا سامان گاڑیوں میں رکھ دیا ہے" جان محمد نے مدحت یزدانی سے آکر کہا"ہوں ٹھیک ہے. ابھی تم لوگوں کے ابی جان آنے والے ہونگے. وہی آکر بتائیں گے کس کام میں کتنی کمی رہتی ہے. تم جاو جاکر سیما سے کہو دونوں بہووں کو بلا لائے" جان محمد سر ہلاتا سیما کو دیکھنے چلا گیامدحت گل یزدانی جو اس گھر کی خاتون اول تھیں. جنہیں گھر کے سب ملازمین بڑی سیٹھانی کہہ کر پکارتے تھے اور گھر والے گل جان کہتے تھے اس وقت اپنی بہو اور اسکے ہونے والے بچے کی صحت و تندرستی اور خیر کے وقت کی دعائیں کر رہی تھیں. انکے خاندان میں کئی نسلوں کے بعد "خدا کی رحمت" آنے والی تھی. یہ ساری تیاری اس خاندان میں آنے والے نئے فرد یعنی انکی پوتی کے آنے کیلیے کی جا رہی تھیں........................................."نجانے ابی جان اور گل جان کو کیسی بے چینی لگی ہوئی ہے. سارے گھر سے زیادہ انہیں اس وقت اپنی پوتی پیاری ہے جو ابھی دنیا میں آئی بھی نہیں. انکا بس چلے تو ابھی کے ابھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بہو کو لیکر دعا کرانے بابا جی کے پاس پہنچ جائیں. یہ نہیں پتہ کہ بہو کی حالت کتنی خراب ہے. اسے درگاہوں سے زیادہ اسپتال جانے کی ضرورت ہے" اپنیدانست میں اونچی آواز میں بولتی زینب گردیزی کمرے کے اندر داخل ہوئیں."زینب بیگم کم از کم موقع دیکھ کر بات کیا کریں. میں نے سب سن لیا ہے" خاور گردیزی نے اپنا موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا"میں کونسا کسی سے ڈرتی ہوں. میری بلا سے کوئی بھی سن لے" زینب گردیزی نے جلدی جلدی اپنے کانوں میں ٹاپس پہنے ہوئےمنہ ہی منہ میں کہا "ابھی ابھی تومیں نے ابی جان کو فاطمہ کی صحت کے بارے میں بتایا تھا اور آتے ہی گل جان نے فاطمہ کو لیکر جانے کا کہلوا دیا ہے""میں نے یہ بھی سن لیا" خاور گردیزی نے پھر سے لقمہ دیا."ابھی میں نے نائل کو ہوم ورک بھی کروانا تھا. اسکی پسندکی چیزیں بھی بنانی ہیں جو آسانی سے لنچ میں لےکر جا سکے" اب کی بار وہ چوڑیاں پہنتے کہنے لگیں"میں نے یہ بھی سن لیا" خاور گردیزی اپنی بیوی کے سگھڑاپے کو دل ہی دل میں داد دیتے کہہ رہے تھے. گھر، شوہر، بچے، جاب، ہاسپٹل سب اسی ترتیب سے زینب گردیزی کی لائف کا حصہ تھے.انکے اس بار بولنے پر زینب گردیزی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر انکے پاس آگئیں اور انہیں غور سے دیکھنے لگیں"بیگم پلیز ایسے نہ دیکھو. کچھ کچھ ہونے لگتا ہے" خاور گردیزی نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے اونچی آواز سے کہا. جواباََ زینب بیگم نے فوراََ انکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا"کم از کم موقع دیکھ کر بات کیا کریں. کوئی سن لے گا" زینب بیگم شرم کے مارے انکی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہی تھیں"میں کونسا کسی سے ڈرتا ہوں. میری بلا سے کوئی بھی سن لے" مسکراتے ہوئے خاور گردیزی نے انہیں انہی کے الفاظ لوٹائے. اب کی بار زینب گردیزی انکی شرارت سمجھ گئیں. "اچھا جی تو یہ سب مجھے چڑانے کیلیے کہا جا رہا تھا""اور نہیں تو کیا کمرے میں آتے ہی آپ کو اپنے لاکھوں کے گہنے نظر آگئے مگر کروڑوں کا ہیرے جیسا شوہر نظر نہیں آیا" خاور گردیزی نے شکوہ کیا"میرے کروڑوں کے ہیرے جیسے میاں جی. ایک آپ کا بھائی کم ہے اس گھر میں جو آپ پر بھی اسکا رنگ چڑھ گیا ہے" زینب بیگم نے خاور گردیزی کو کھڑا کرکے انکی ٹائی کی ناٹ لگاتے ہوئے کہا"ہاہاہا. میں اپنے بھائی جیسا نہیں ہوں بلکہ وہ مجھ پر گیا ہے"خاور گردیزی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا"ہوں...پھر آپ ابی جان پر گئے ہوں گے" زینب گردیزی نے زور سے ناٹ لگائی تاکہ انکے کمرے سے بھاگنے تک خاور گردیزی جوابی حملہ نہ کر سکیں"کوئی نہیں بیگم آنا تو ادھر ہی ہے نہ تب پوچھوں گا" خاورگردیزی نے دروازے پر کھڑے ہوکر اونچی آواز سے کہا. زینب گردیزی انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا کر نیچے چلی گئیں........................................"چاچی بزی تو نہیں میں اندر.... آ چکا ہوں" اندر کمرے میں زبردستی گھستے دس سالہ نائل نے اپنی چاچی کی زبردست سی تیاری دیکھ کر بات کو بدل دیا. اس کے ٹکر ٹکر دیکھنے پر چاچی بیچاری شرمندہ ہو گئی مگر بھتیجے نے اپنی نظروں کا زاویہ نہبدلا"کین آئی آسک سم تھنگ" نائل نے بڑے مدبرانہ انداز سے پوچھا"یس. یو کین" فاطمہ گردیزی نے اسکی نیلی آنکھوں میں شرارت دیکھتے ہوئے اسے کھلے دل سے اجازت دی. جانتی تھی بچہ اسکی تیاری کو سراہے گا ہی."شام ہوتے ہی آپکے اندر کونسی خوبصورت سی آتما آجاتی ہے" بچےنے ڈائریکٹ اسکی ذاتیات پر حملہ کرنا شروع کر دیا. اسکی بات سن کر فاطمہ اسکے پاس آئی اور اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے شریر بچہ کہنے لگی. اپنے تین بیٹے ہونے کے باوجود اسے یہ نیلی آنکھوں والا بھتیجا بے حد عزیز تھا"چاچی مما کہہ رہی تھیں کہ آپ ایک ڈول لینے جا رہی ہیں" اسنے پھر سے سوال کیا"ہوں. ایک پیاری سے ڈول" فاطمہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا"چاچی ڈول لینے جانا ہے تو اتنا تیار ہو کر کیوں جا رہی ہیں. تھوڑا ہلکا کریں اسے" فاطمہ کی دی ہوئی چھوٹ ہی تھی کہ نائل اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بلش آن کم کر رہا تھا. فاطمہ اسے ایک طرف کرکے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آگئی. اور نائل کے کہنے کے مطابق اپنا میک اپ ہلکا کیا"اب ٹھیک ہے نائل" مڑ کر نائل سے پوچھا"پرفیکٹ ہے چاچی" اسنے ہاتھ سے اوکے کیا اور مسکرا کر باہر جانے لگا. پھر یکدم مڑ کر فاطمہ کا ہاتھ پکڑ لیا. فاطمہ نےاسکے چہرے کو دیکھا "کچھ کہنا چاہتے ہو نائل""چاچی وہ ڈول صرف نائل گردیزی کی ہونی چاہیئے" نائل نے اتنی سنجیدگی سے کہا کہ فاطمہ کنفیوز ہو گئی"وہ ڈول اس گھر میں آئے گی تو سب کی ہو گی نا" فاطمہ کو سمجھ نہ آئے کہ وہ اس سوال کا کیا جواب دے"چاچی میں کافی دنوں سے خواب میں ایک نیلی پری کو دیکھ رہا ہوں. اسنے نیلے رنگ کے خوبصورت سے کپڑے پہنے ہوئے تھےاور اسکی آنکھوں کا رنگ بھی میری آنکھوں کے رنگ جیسا نیلا تھا. لیکن اس پری کی آنکھیں مجھ سے زیادہ حسین اور چمکدار تھیں. مجھے آپ نے وہ لا کر دینی ہے. وہ صرف میری ڈول ہونی چاہیئے. صرف میری" فاطمہ اتنی محویت سے نائل کو سن رہی تھی کہ اس نے بے ساختہ اثبات میں سر ہلا دیا"یاہو. وہ نیلی پری میری ہے" نائل اچھلتے کودتے کمرے سے باہر نکل گیا"آجکل کے بچے بھی کتنے تیز ہو گئے ہیں" فاطمہ ایسی بے سروپا باتوں پر مسکراتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل سے پائلوں کی جوڑی اٹھا لائی. ابھی وہ اپنے پاوں میں پائل پہننے کیلیے جھکی ہی تھی کہ شاہ زین گردیزی نے کارپٹ پر پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پائل لے لی اور اپنے ہاتھوں سے پہنانے لگا"کتنی بار کہا ہے کہ زیادہ اٹھنے، بیٹھنے اور جھکنے والے کاماس حالت میں مت کیا کرو. مگر تمہیں سمجھ ہی نہیں آتا" شاہ زین گردیزی نے غصے سے کہا"میں تو یہ پائل صرف آپ کی پسندیدگی کی وجہ سے ہی پہنتیہوں. اب اتنے سے کام کیلیے کسی کو کیا تکلیف دینی" فاطمہ گردیزی نے معصومیت سے جواب دیا"تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا. ہر سوال کا جواب حاضر ہوتا ہے" شاہزین نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا"اب آپ مجھے تیار ہونے دیں گے" فاطمہ گردیزی نے شاہ زین گردیزی کے مسلسل دیکھنے پر چڑتے ہوئے کہا"لو بھلا میں نے کیا کیا ہے. اب اپنی بیوی کو دیکھنے پر بھی پابندی ہے کیا" شاہ زین گردیزی چلتے چلتے انکے پاس آکر کھڑے ہو گئے"بیوی کو اس طرح دیکھنے پر پابندی ہے. اتنا وسیع بزنس ہے. اسے کیوں نہیں دیکھتے آپ" فاطمہ گردیزی نے آئینے سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا. روز شاہ زین گردیزی ابی جان کی ڈانٹ کی پروا کیے بغیر جلدی گھر آ جاتے تھے"بٹ آئی مس یو. ابی جان تو مجھے قیدی ہی بنانا چاہتے ہیں" شاہ زین گردیزی نے اپنا چہرہ فاطمہ گردیزی کے کندھے پر ٹکاتے ہوئے بڑی معصومیت سے جواب دیا"ریئیلی" فاطمہ گردیزی نے انہیں مشکوک نظروں سے آئینے میں دیکھا"آف کورس. جو بندہ پہلے ہی کسی کی یادوں کی قید میں رہتا ہو.اس سے تم کیا امید رکھتی ہو وہ کسی اور کی قید کے حصار میںآئے گا. مجھے تو ایک یاد سے فرصت نہیں. باقی سب کیلیے کیسے ٹائم نکالوں" شاہ زین نے اسکے رخسار کو چھوتے ہوئے اسے چھیڑا. اسکی باتیں سن کر فاطمہ کو تیار ہونا بھول گیا اور اس نے اپنی پلکیں جھکا لیں. شاہ زین نے اسکا رخ اپنی طرفموڑا"میں نے آج تک ان خمدار پلکوں کو اپنے لیے جھکتے ہوئے ہی پایا ہے. کبھی عزت و احترام سے تو کبھی محبت کے بوجھ سے" شاہ زین کی باتیں سن کر فاطمہ نہ تو پلکیں اٹھا سکی نہ ہی اپنی مسکراہٹ روک سکی تھی."فاطمہ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نہ" شاہ زین نے یکدم فاطمہکی سرخ پڑتی رنگت دیکھتے ہوئے پوچھا"جی ٹھیک ہے" فاطمہ نے مزید سرخ پڑتے ہوئے جواب دیا"آج بھی جھوٹ بولتے ہوئے تم بلش کرنے لگتی ہو. جب معلوم ہے کہ میں تمہارے جھوٹ پکڑ لیتا ہوں تو فضول سی کوشش مت ہی کیا کرو" شاہ زین نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا "اپنی جان کا خیال رکھا کرو. یہ میری امانت ہے تمہارے پاس. اوکے""دیور جی اگر آج کا کوٹہ پورا ہوگیا ہے تو نیچے آجائیں. آپ کے اورمیرے بچے مل کر گل جان کو تنگ کر رہے ہیں" زینب بھابھی نے زور سے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا. وہ دونوں یکدم کسی طلسم کے حصار سے باہر نکلے تھے."میں نیچے جا رہا ہوں تم جلدی سے تیار ہو جاو اور ابی جان کے آنے سے پہلے نیچے آجانا. میں سیما کو مدد کیلیے بھیجتا ہوں" شاہ زین نے فاطمہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے نرمی سے اسکا ہاتھ تھپکتے ہوئے کہا. فاطمہ کے سر ہلانے پر وہ اسے بٹھا کر باہر نکل گیا...................................."پاپا مما کہاں ہیں. وہ آپ کے ساتھ نیچے کیوں نہیں آئیں" حدید نے باپ کو دیکھتے ہی نعرہ لگاتے ہوئے کہا"بیٹا شکر کرو آپ کے پاپا نیچے آگئے ہیں. اب مما بھی جلد ہیآجائیں گی" زینب گردیزی نے گل جان کو دیکھتے ہوئے ذومعنی انداز سے کہا."بھابھی آپ بھی نہ" شاہ زین انکی بات سن کر جھینپ گیا"مما چاچی میرے لیے نیلی پری لینے جا رہی ہیں" نائل نے ماں کےکان میں گھس کر گویا اطلاع دی تھی."اچھا جی انہوں نے مجھے تو نہیں بتایا تھا کہ وہ صرف آپکیلیے نیلی پری لینے جا رہی ہیں" زینب نے مسکراتے ہوئے اونچی آواز میں سب کو دیکھتے ہوئے کہا"ٹھیک ہے تو پھر یہ طے رہا کہ فاطمہ کی نیلی پری صرفمیرے نائل کی ہی ہوگی" ابی جان نے اندر داخل ہوتے انکی بات سن کر اعلان کر دیا. ابی جان کو اندر آتا دیکھ کر سب ادب سے کھڑے ہو گئے."ٹھیک ہے نہ شاہ زین تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں" خاور گردیزی نے اسکے سب سے چھوٹے بیٹے رائد کو اٹھاتے ہوئےپوچھا"کیسی باتیں کر رہے ہیں خاور بھائی. ہمیں کیوں اعتراض ہونے لگا. بلکہ آپ ہمیں حکم دیں" فاطمہ گردیزی نے اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے کہا"بالکل بھائی. وہ نیلی پری بس میرے نائل کی ہی ہونی چاہیئے" شاہ زین نے نائل کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا"ہورے... یہ چیز چاچو" نائل نعرہ لگا کر شاہ زین کے گلے لگ گیا"پاپا تھوڑا پیار ہمارے لیے بھی بچا کے رکھنا" سائر نے منہ سے فیڈر نکال کر باپ سے کہا"ہاں میرے تھانیدار بیٹے میرا پیار اتنا کم نہیں ہے" شاہ زین نے بیٹے کو گدگدی کرتے ہوئے کہا. ان باپ بیٹوں کو ہنستے دیکھ کر سب ہنسنے لگے"ابی جان میرا خیال ہے کہ اب ہمیں نکلنا چاہیئے" زینب گردیزی نے جلال گردیزی کو دیکھتے ہوئے کہا"بالکل نکلنا چاہیئے" انہوں نے گل جان کو چیزیں دیکھنے کیلیے باہر بھیجا. شاہ زین اور فاطمہ کو زینب نے بھیج دیا. اب کمرے میں صرف جلال گردیزی اور زینب گردیزی ہی بچے تھے."ابی جان کیا سوچا ہے آپ نے فاطمہ یا پھر اسکا بچہ" زینب گردیزی نے سنجیدگی سے جلال گردیزی سے پوچھا"پہلے بھی بتا چکا ہوں دونوں" جلال گردیزی نے غصے سے کہا"یہ نا ممکن ہے. میں آپکو چوائس نہیں دے رہی صرف آپشنز دے رہی ہوں. ایک چُوز کر لیں" زینب گردیزی بھی غصے میں آگئیں."زینب میرا ہنستا بستا گھر برباد ہو جائے گا. مجھے وہ دونوں بالکل ٹھیک حالت میں چاہئیں" جلال گردیزی اپنے نام کی طرح جاہ و جلال سے کہتے باہر نکل گئے. پیچھے زینب گردیزی کڑھنے لگیں "یہ تو رب کے کام ہیں. میں کیا کر سکتی ہوں. ابیجان آپ سمجھنا ہی نہیں چاہتے" گاڑی کے ہارن پر وہ بھی باہر نکل گئیں.................................شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے. نیلے شفاف آسمان پر پرندوں کے غول اپنے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے تھے. تیز رفتاری سے تین مرسیڈیز سنسان اور اجاڑ سڑک پر تیزی سے بھاگتی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھیں. اگلی دو گاڑیوں میں بیٹھے افراد کے چہرے اس وقت ڈر و خوف کی ملی جلی کیفیات سے گھرے ہوئے تھے. سب سے پچھلی صرف ایک گاڑی میں موجود افراد کے چہرے اپنی تقدیر اور خوش قسمتی پر رشک کر رہےتھے. برسوں کی مراد بر آنے والی تھی. انکی زبان اور ہر آتا سانس خدا کا شکر ادا کرتا نہیں تھک رہا تھا. اتنے میں گاڑیاںساحل کے قریب ایک پہاڑی کی چوٹی پر بنی درگاہ کی سیڑھیوں کے قریب رکیں. سب سے اگلی گاڑی سے جلال گردیزیپورے طمطراق و تمکنت سے اپنے مخصوص جاہ و جلال سے پر چہرہ لیے باہر نکلے. باہر آتے ہی انہوں نے سر پر پگڑی پہنی. پچھلی گاڑی سے انکی بڑی بہو زینب گردیزی چہرے پر خوف و ہراس لیے باہر آئیں. انہیں تو ایک ہی سوچ اندر ہی اندر مار رہی تھی کہ وہ گھر کی بڑی بہو تھیں اور کام ان سے دائیوں والے لیے جا رہے تھے. انکی موجودگی میں اگر فاطمہ کو یا اسکی اولاد کو کچھ ہوگیا تو ابی جان کے قہر سے انہیں کون بچائے گا. یہ تو رب کے کام تھے یہاں انکی ڈاکٹری کام نہیں کرتی تھی. اپنے اسٹیتھوسکوپ اور اوورکوٹ کو گاڑی کی سیٹ پر پٹخنے اور گاڑی کے دروازہ زور سے بند کرنے پر جلال گردیزی نے مڑ کر پیچھے دیکھا. بے وقت کے شور اور ہنگامے انہیں سخت نا پسند تھے. جلال گردیزی کے انہیں دیکھنے پر انہوں نے بمشکل اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائی پھر بھی اس میں ناکام رہیں. بہو کے خوف اور ڈر کو جلال گردیزی اچھے سے سمجھ آرہے تھے. مگر اس وقت انکے خود کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا. ایک تسلی کا لفظ تک نہیں. دوران حمل کچھ پیچیدگیاں تھیں جنہیں زینب گردیزی تو جانتی تھیں مگر جلال گردیزی کو وہ کیسے سمجھاتیں. بڑی بہو سے نظر ہٹا کر انہوں نے سب سے آخر میں رکتی گاڑی کو دیکھا. جس میں سے شاہ زین گردیزی اپنی بیوی کے ہمراہ خوش وخرم باہر نکلے تھے. زینب گردیزی نے ابی جان کی نظروں کے تعاقب میں پیچھے مڑ کر دیکھا. شاہ زین گردیزی فاطمہ گردیزی کا ہاتھ تھامے ہولے ہولے چلتے باقی سب کی طرف آرہے تھے. جلال گردیزی اور زینب گردیزی نے ایک دوسرے کو دیکھکر نظریں چرائیں اور ان کی خوشیوں کیلیے دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگے. اتنے میں وہ دونوں ابی جان کے پاس آکر کھڑے ہو گئے. میرون اور سیاہ پرنٹ کے سوٹ کے ساتھ ہم رنگ شال اوڑھے فاطمہ گردیزی نے جلال گردیزی کو سلام کیا. انہوں نے فاطمہ بہو کو جواب دیتے ہوئے انہیں بغور دیکھا. گرمی کی شدت کے باعث انکا چہرہ سرخ پڑا ہوا تھا. جلال گردیزی کے اس طرح دیکھنے پر وہ اپنا بھرا بھرا وجود لیے شوہر کے پیچھے چھپنے لگیں. جلال گردیزی اور شاہ زین گردیزی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے. آج شادی کے سات سال بعد تین بیٹوں کی ماں کہلانے کے باوجود وہ یوں شرماتی تھیں جیسے نئی نویلی دلہن ہوں. زینب گردیزی مٹھیاں بھینچے ساکن کھڑی تھیں. ایک تو جلد از جلد فاطمہ گردیزی کو اسپتاللیکر جانا تھا. اوپر سے دیور اور سسر نے انہیں منظر سے گویا آوٹ ہی کیا ہوا تھا.وہ اکیلی کھڑیں فاطمہ کی حرکتوں کو انجوائے کر رہی تھیں. چاہے کچھ دیر کیلیے ہی سہی وہ اپنی ساری پریشانی کو بھول گئی تھیں. جب سے انکی دیورانی نے حویلی میں قدم رکھا تھا. فاطمہ کی حرکتیں ان سب کو ہنسنے پر مجبور کر دیتی تھیں. زینب گردیزی تو انہیں چھوئی موئی کا پودا کہہ کر بلایا کرتی تھیں. فاطمہ نے اپنے اخلاق سے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا. زینب گردیزی تو انہیں بالکل اپنی بہن اور بیٹی کی طرح ٹریٹ کرتی تھیں. اب بھی فاطمہ اپنی جان کو داو پر لگا کر ابی جان کی سب سے بڑی خواہش، پوتی کی خواہش کو پورا کرنے جا رہی تھی. ان سب کو ٹائم ویسٹ کرتا دیکھ کر زینب گردیزی خون کے گھونٹ پی رہی تھیں. ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ کوئی جادو کی چھڑی ہو اور وہ فاطمہ گردیزی کی ساری تکلیفوں کو دور کردیں یا غائب کرا دیں. اسی درگاہ پر ابی جان نے پیر سائیں سے دعا کروائی تھی. دونوں بہووں میں سے کوئی ایک تو انکے گھر رحمت لانے کا شرف حاصل کرے. اور آج انکے دس سال کے طویل انتظار کے ختم ہونے کا وقت تھا.ڈرائیور کے زور سے دروازہ بند کرنے پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آئیں. "ابی جان آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی. گرمی بھی بہت ہے. چلیں چلتے ہیں" جلال گردیزی نے تعجب سے انہیں دیکھا. پھر انکی بات کا مفہوم جانتے ہوئے وہ فوراََ شاہزین اور فاطمہ کی طرف مڑے. وہ شاہ زین گردیزی کو فاطمہ بہو کو سنبھل کر لانے کا کہہ رہے تھے. اتنی فکر اور دیکھ بھال پر فاطمہ گردیزی شرم سے گھٹ گھٹ جا رہی تھیں. زینب گردیزی انہیں گلے لگا کر ٹھیک سے اوپر آنے کا کہہ کر ابی جان کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگیں. دور سے تو درگاہ تک پہنچنے کیلیے اتنا فاصلہ نہیں لگتا تھا مگر سیڑھیاں انسان کو ہلکان ضرور کر دیتی تھیں. جلال گردیزی اور زینب گردیزی ان دونوں سے کافی آگے نکل گئے. شاہ زین گردیزی اور فاطمہ گردیزی آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتے آرہے تھے. جبکہ تھال اٹھائے ملازمین کے ہمراہ جلال گردیزی اور زینب گردیزی اوپر درگاہ کے صحن میں پہنچ چکے تھے.........................................اوپر صحن میں ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق منتیں پوری کرنے میں مشغول تھا. کوئی بھوکوں کو کھانا کھلا رہا تھا تو کوئی چادریں چڑھا رہا تھا. کسی نے پانی یا شربت کی سبیلیں لگائی ہوئی تھیں تو کوئی کپڑے وغیرہ غریبوں میں بانٹ رہا تھا. ملازمین نے جلال گردیزی کے اشارے پر تھال اورٹوکروں میں موجود اشیاء بانٹنی شروع کیں."ابی جان یہ دونوں کہاں رہ گئے. ان دونوں کیلیے ہم یہاں آئے ہیں اور یہی غائب ہو گئے ہیں" زینب نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے پوچھا"آرام آرام سے آئیں گے. میں نے کہا تھا" ابی جان نے انکی پریشان شکل دیکھ کر جواب دیا"مجھے سمجھ نہیں آتا آپ سب کو ان حالات میں آرام کیسے سوجھ جاتا ہے" زینب گردیزی نے دبے دبے غصے سے کہا "آپ لوگ شاید سمجھ نہیں رہے یا پھر سمجھنا نہیں چاہتے فاطمہ اور اسکے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے. ہم ہی چل کر بابا جی سے مل آتے ہیں" زینب گردیزی نے انہیں مشورہ دیا جو انہیں پسند بھی آگیا."ٹھیک ہے زینب چلتے ہیں. یہ دونوں تو نظر ہی نہیں آرہے" ابی جان نے سیڑھیوں سے نیچے دیکھتے ہوئے جواب دیا. پھر جان محمد کو سمجھاتے ہوئے وہ دونوں اندر چلے گئے......................................"تھک گئی ہو کیا" شاہ زین گردیزی نے انکا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے پوچھا"نہیں تو" فاطمہ نے آہستہ آواز سے کہا. اس بات پر شاہ زین گردیزی کا ہلکا سا قہقہہ نکلا. اردگرد گزرتے زائرین نے ان دونوں کو بغور دیکھا"آج بھی جب تم جھوٹ بولتی ہو تو بلش کرنے لگتی ہو" شاہ زین گردیزی نے اردگرد کی پرواہ کیے بغیر مسکراتے ہوئے کہا"کوئی نہیں جی. وہ تو آپ اتنے لوگوں کے سامنے قہقہے لگا رہے تو..." فاطمہ بیگم انہیں صفائی دینے لگیں کہ انہوں نے بات ٹوک دی"تو کیا...دیکھیے بیگم جان" شاہ زین گردیزی یکدم انکے سامنےآگئے. "آپ سے کتنی بار کہا ہے کہ جب آپ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا تو فضول سی کوشش مت کیا کریں. چٹکیوں میں ہم جانجاتے ہیں" انہوں نے چٹکی بجاتے کہا"دیکھیے خاموش ہو جائیں. ہم گھر جا کر آپ کی بات سن لیں گے" فاطمہ بیگم نے بمشکل ہونٹ ہلائے. انکی بات سن کر شاہ زین گردیزی کے قہقہے بلند ہونے لگے"پلیز آہستہ. لوگ کیا سوچیں گے" فاطمہ بیگم نے نظریں اٹھا کر اپنے مجازی خدا کو دیکھا "اب آپ ہنسے تو میں نے کہہ دینا ہےکہ یہ بندہ میرے ساتھ نہیں ہے. میں نہیں جانتی یہ کون ہے" انکی دھمکیاں بھی زیادہ مفید ثابت نہ ہوئیں. بلکہ شاہ زین گردیزی کی آنکھیں بھی مسکرانے لگیں............................................"آج کیسے آنا ہوا جلال گردیزی" اندر ایک بزرگ ہاتھوں میں تسبیح لیے آنکھیں موندے ذکر کر رہے تھے. ان دونوں کے کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے ایک عجیب سی مٹھاس لیے لہجے میں کہاانکی بات سن کر جلال گردیزی اور زینب گردیزی حیرت اور بے یقینیسے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے. یہ کیسے ممکن تھا کہ انہوں نے اپنی آنکھیں بھی نہیں کھولیں اور انہیں ان دونوں کی آمد کا پتہ بھی چل گیا."اتنا حیران مت ہو. یہ بڑی معرفت کی باتیں ہیں" انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں. انکی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی."بابا جی وہ...ہمیں اپنی بہو کیلیے دعا کروانی تھی" جلال گردیزی نے بغیر کسی حیل وحجت کے اصل بات بتا دی"دعائیں بھی کبھی کہہ کر کروائی جاتی ہیں. دعائیں تو بس کی جاتی ہیں" بابا جی نے ان دونوں کو کہہ کر دوبارہ اپنی آنکھیں بند کر لیں. مطلب صاف تھا کہ وہ دونوں اب جا سکتے ہیں. ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ چاپ باہر آگئے..............................فاطمہ اور شاہ زین گردیزی کسی بھی چیز کی پروا کیے بغیر ایک دوسرے میں مگن تھے کہ یکدم کالی گھٹائیں چھا گئیں. جس کے نتیجے میں شام کا وقت بھی رات کی طرح دکھنے لگا. یکدم ہواوں کے جھکڑ چلنے لگے. گرد آلود ہواوں کی بدولت سامنے کھڑی چیز نظر آنی بھی بند ہو گئی. ابی جان اور زینب گردیزی تو موسم کے بگڑے تیور دیکھتے ہی شاہ زین اور فاطمہ کی طرف فوراََ نیچے بھاگے جنہوں نے ابھی تک آدھا راستہ بھی طے نہیں کیا تھا. شاہ زین گردیزی نے فاطمہ کو وہیں سیڑھیوں پر بٹھا دیا. اور انہیں اپنا رومال دیا تاکہ وہ اپنی آنکھوں کو اس سے ڈھانپ سکیں. فاطمہ گردیزینے رومال کے ساتھ ساتھ انکے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا.انہیں عجیب سا ڈر لگنے لگا جیسے یہ ہوا اپنے ساتھ انکا سب کچھ اڑا لے جائے گی."کیا ہوگیا ہے آپکو بیگم. کس بات پر اتنا ڈر رہی ہیں" شاہ زین گردیزی نے انہیں اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا. ہواوں کا اتنا شور تھا کہ ان دونوں کو مشکلوں سے ایک دوسرے کی آواز آ رہی تھی."مجھے...مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے. بچے بھی گھر میں اکیلے ہونگے" فاطمہ بیگم نے اپنے ڈر کو ایک الگ نام دیدیا"ہا.... بچے.... وہ کونسا اکیلے ہیں. بھابھی کا بیٹا نائل اور ہمارے تین شریر حدید، سائر اور رائد مل کر خاور بھائی اور گل جان کو خوب تنگ کر رہے ہوں گے. پورا گھر انکے ادھم سے الٹ پلٹ ہو رہا ہوگا" شاہ زین گردیزی نے بیوی کی حالت دیکھتے ہوئے انکا دھیان بٹانے کی کوشش کی اور اس کوشش میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئے. بچوں کی شرارتوں کو یاد کرکے انکے چہرے پرمسکراہٹ آ گئی.اتنے میں ہوا کے زور سے فاطمہ کے ہاتھ میں پکڑا رومال اڑ گیا."میرا رومال. زین پلیز اسے پکڑیں وہ ادھر اڑتا جا رہا ہے" فاطمہ نے فکرمندی سے شاہ زین سے کہا"ایک رومال ہی تو تھا کس بات کیلیے فکر کر رہی ہو" شاہ زین نے مسکراتے ہوئے کہا"میں فکر مند نہیں ہوں مجھے ڈر لگ رہا ہے" فاطمہ نے شاہ زین کو دیکھتے ہوئے کہا"تیرا ڈرنا بنتا ہے لڑکی. مادی چیزوں کی فکر کرنا چھوڑ دے. حقیقی چیزوں کی فکر کر. اگر ہو سکے تو وقت کو تھام لے" شاہ زین اور فاطمہ کو اپنے پیچھے ایک آواز آئی "جسے تو جنم دینے جا رہی ہے اسکی حفاظت کرنا یا اسے خدا کے حفظ و امان میں دے دینا. اس کی شرارتوں اور مسکراہٹ سے تو کئی گھر آباد ہونے ہیں ابھی. اپنے ہر معاملے کو اپنے رب پر چھوڑ دے. وقت بہت بڑا منصف ہے" جب تک وہ دونوں پیچھے مڑے کوئی اپنی بات ختم کرکے گویا غائب ہی ہو گیا تھا. اردگرد کسی بندے کی ذات موجود نہیں تھی صرف وہ دونوں ہی زینوں پر بیٹھے تھے."زین میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی. آوچ زین" فاطمہ نے یکدم درد کی شدت سے دہرے ہوتے شاہ زین کی پوری ہستی ہلا دی. اتنے میں یکدم ہی سارا گردوغبار کا طوفان تھم گیا. شاہ زین کبھی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا کبھی ادھر ادھر کسی ذی نفس کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا. فاطمہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ کسی کو بلانے بھاگتا. اتنے میں ابی جان اور بھابھی ان دونوں کو دیکھنے کیلیے تیزی سے نیچے آرہے تھے. ان دونوں کو نیچے آتا دیکھ کر شاہ زین کی جان میں جان آئی. اس سے پہلے کے وہ ان دونوں کو کچھ بھی بتاتا وہ دونوں ہی چیخ پڑے "فاطمہ" شاہ زین گردیزی نے پیچھے مڑ کر فاطمہ کی طرف دیکھا. تکلیف اور درد کی شدت کے باعث وہ بے ہوش ہو چکی تھیں. ابی جان، زینب بھابھی اور شاہ زین گردیزی کی جان پر بن گئی. وہ تینوں انہیں ہوش میں لانے کیلیے آوازیں دینے لگے. سیما بھاگ کر پانی کی بوتل لائی. پانی کےچھینٹے مارنے پر بھی فاطمہ کو ہوش نہیں آیا تھا. اب شہر کے ایک کونے میں وہ اتنی جلدی ہاسپٹل کا انتظام کیسے کرتے. آس پاس سے گزرتی کئی عورتیں ان کے گرد جمع ہو گئیں تھیں. ہر کسی کے پاس ایک الگ ہی مشورہ تھا. زینب ڈاکٹر ہوکر ہاتھ پیر پھلائے ہوئے تھی."بی بی کچھ دن پہلے یہاں بستی میں ایک کیمپ لگا تھا جہاں بستی کی ساری عورتیں علاج کرانے گئیں تھیں. تو بھی اپنی بچی کو وہیں لے جا" ایک عورت نے ڈھنگ کا مشورہ دیا. آخری اور متفقہ رائے یہی قائم ہوئی کہ انکے پاس جتنے وسیلے اور جتنے آپشنز یہاں موجود تھے اسی پر ہی وہ گزارہ کرتے."ٹھیک ہے شاہ زین فاطمہ کو اٹھاو. ہم وہیں چلتے ہیں" جلال گردیزی نے زینب کی مشکل آسان کردی.کیمپ میں کم از کم ڈاکٹر تو موجود ہونگے جن کی مدد زینب لے سکتی تھی. منٹ کی تاخیر کیے بغیر شاہ زین فاطمہ کو اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگا. . "ابھی بابا جی نے کہا تھا کہ دعائیں کی جاتی ہیں تو ابی جان آپ ان دونوں کیلیے دعا کریں" زینب گردیزی جلال گردیزی سے کہتی شاہ زین کے پیچھے بھاگی تھیں. جلال گردیزی کے سارے مہنگے ہاسپٹل، وی آئی پی ٹریٹمنٹ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا...................................جاری ہے

No comments:
Post a Comment