Sunday, July 1, 2018

افسا نہ

رائیٹر آسیہ شاہین چکوال۔ 

مقا فات عمل

>
> تانی جوں ہی گھر میں داخل ہوئی تو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی۔۔۔۔گھر میں کیا دھینگا مشتی چل رہی تھی۔۔۔حمید اپنی جورو کو ڈانگ سے مارے جا رہا تھا اس کی چیخیں دور تک جا رہی تھیں وہ ہر بات پر اپنی ڈانگ نکال لیتا تھا۔اس کو روکنے کے لیے حمید کا بڑا بھائی جمال آدھ جلی لکڑی جو کہ آگ کے چولہے کے پاس رکھی تھی اتھا کر بھاگا اور مہیدے کے سر میں دے ماری ۔جیسے ہی مہیدے کو ڈانگ سر میں لگی تو وہ اپنے حواس کھو بیٹھا۔اس کی رہتی سہتی عقل بھی گھاس چرنے چلی گئی،جس توا تر سے اس کا بھائی اسے مار رہا تھا اسی تواتر سے وہ اپنی بیوی نسرین کو ڈانگ سے مارنے لگا۔اس کے بچے اپنی ماں کو اس طرح پٹتا دیکھ کر الگ چیخ رہے تھے۔اس کی کلائی کی تمام چوڑیا ں ٹوٹ گئیں تھیں۔مگر مہیدہ بے رحمی سے اس کی دائیں کلائی پر ایک ہی جگہ وار پر وار کرتا رہا۔اور اس کی کلائی ٹوٹی چوڑیوں سے مزید زخم زخم ہو گئی تھی۔نہ جمال بس کر رہا تھا نہ ہی آ گے سے مہیدا دانگ پھینک رہا تھا۔وہ اپنا غصہ نسرین کے نازک بدن پر نکا ل رہا تھا۔
> اتنے میں مہیدے کا چچیرا بھائی اکرام گھر میں داخل ہوا تو و ہ اور تانی پہلے تو معا جرہ سمجھ نہ پائے۔مگر پھر بھی وہ آگے بڑھا اور جمال کو روکنے لگا وہ جب نہ رکا تو اس نے اس کے سر میں مکے مارنے شروع کر دیے۔اب اکرام جمال کو مار رہا تھا اور جمال مہیدے کوزور زور سے لکڑی سے مار رہا تھا اور مہیدڈانگ لے کر ا اپنی جورو کے درپے تھا۔ادھر بچوں کی چیخو پکارالگ۔ 
> تانی ایک طرف کھڑی ہو گئی اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے اپنے شوہر جمال کی طرف دیکھا اس نے ڈانگ فل پیچھے لے جا کر مہیدے پر برسائی اور اس نے اسی انداز میں آگے بے بس پڑی نسرین پر برسائی اب کی بار جب جمال ڈانگ فل پیچھے لے کر گیا تونسرین کی
> جھٹا نی تانی بھاگ کر گئی اور اس کی ڈا نگ پیچھے سے پکڑلی ۔اور اکرام نے بھی جمال کو قابو کیا۔اس کی بیوی نے اسے اس پاگل پن سے منع کیا اور اندر آنے کو کہا۔اور مہیدے کو بھی روکا۔مہیدا بڑبڑاتا ہوا ڈانگ پھینک کر نسرین کو للکار کر کہتا ہے’ ’ تیاری کر لے تجھے آج ہی تیرے باپ کے گھر چھوڑ کر آتا ہوں‘‘۔
> اب گھمسان کی جنگ کچھ تھمی تو مگرماحول کی کشیدگی ویسی کی ایسی ہی رہی فرق یہ تھا کہ مہیدا اب جا چکا تھا اس کی بیوی باہر بے یارو مدد گار بلک رہی تھی اور جنگ کا رخ نسرین کی جٹھانی کی طرف ہو چکا تھا۔جمال اپنی بیوی کو برا بھلا کہنے لگا۔اس نے بھی تو اب اپنا غصہ نکالنا تھا۔اس لیے وہ اونچی آواز میں اس سے لڑنے لگا۔’’ سب کیا کرایا تمہارا ہے۔تمہاری وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔‘‘
> ’’ارے ارے میرا کیا قصور ہے ۔تم لوگوں کی جہالت سے میں تنگ آ گئی ہوں ۔۔۔‘‘وہ غصے میں بولنے لگی۔ابھی کچھ دن پہلے ہی جمال اپنی بیوی کو منا کر لایا تھا۔وہ بھی اکرام کی وجہ سے ممکن ہوا تھا،اگر وہ بیچ میں نہ پڑتا تو جمال آج بھی اجڑا بیٹھا ہوتا۔مگر اسے تو ہر دم اپنی ہٹ دھرمی سے مطلب تھا۔اس کی نظر میں صرف اپنا غصہ اہم تھا۔باقی ہر شے چاہے کھو وچ جائے۔
> ’’اگر تم مجھ سے تنگ ہو تو چلی جاؤ اپنے ماں باپ کے گھر نکلو میرے گھر سے۔اسے تو بات بنانے کا موقع چاہیے تھا سو بنا لی 
> ’’ میں تمہیں طلا ق دے دوں گا وہ مزید اپنا گنوار پن ظاہر کرنے لگا تو باہر سے اکرام نے اس کی بات سن لی تو وہ بھاگا ہوا آیا اور رکھ کر چماٹ رسید کی اس کے منہ پر۔’’تم کو معلوم ہے کہ تم کتنی گھٹیا بات کر رہے ہو۔‘‘
> اب باری تانی کی تھی۔وہ بولنے لگی بھائی میں آپ کے سامنے گھر میں داخل ہوئی یہ شخص مجھے پاگل کر دے گا۔مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ لڑائی کی وجہ کیا ہے ۔۔۔۔؟
> وہ دونوں سوالیہ نظروں سے جمال کی طرف دیکھنے لگے۔
> ’’جمال غصے میں تھوکیں اڑاتا بولا ۔۔۔۔یہ سکھاتی ہے اسے کہ اچھے کپڑے پہنو ۔۔۔۔بچوں کو اچھے سکول داخل کرواؤ۔۔ان کی ضرورتیں پوری کرو ۔۔میرا بھائی کہاں سے انکی فرمائش پوری کرے۔وہ کوئی کام نہیں کرتا۔‘‘
> اکرام اور تانی اس شخص کی الٹی منطق پر ششدر تھے۔
> ’’پہلی بات تو یہ کہ میں نے کسی کو کچھ نہیں سکھایا اور دوسری بات یہ کہ اگر ایک بیوی اپنے حقوق مانگتی ہے تو شوہر کے ردعمل کا یہ کون سا طریقہ ہے۔کہ اسے روئی کی طرح دھونک دے ۔‘‘
> ’’بند کریہ اپنی کتابی باتیں میں پچھتا رہا ہوں ایک استانی سے شادی کر کے‘‘ ذہنی پستی میں ڈوبا شخص جمال جس کے بکھرے بال۔میلے کپڑے ،ٹوٹے سلیپر ،اور داڑھی بے جا بڑھی ہوئی وہ کسی طور تانی جیسی سلجھی اور اعلی تعلیم یافتہ لڑکی کا شوہر نہ لگتا تھا۔’’ظاہر ہے کہ ایک گنوار کے لیے ایک گنوار بیوی ہی صحیح رہتی۔میری قسمت میں یہی جانگلی لوگ لکھے تھے۔‘‘تانی اانسو نگلتے ہوئے بولی تھی۔
> اسی لمحے جمیل کا موبائل بجا اس نے کال اٹھائی اور اسی غصے میں ہیلو بولا۔
> دوسری طرف سے ملنے والی خبر سنتے ہی وہ چونک پڑھا۔کیسے ۔۔۔؟کہاں ہو اب ۔۔۔۔؟ کس ہسپتال میں ہو ۔۔۔۔؟وہ بہت بے چینی سے سوالات کر رہا تھا اور تانی اور اکرام بھی پریشان دکھائی دینے لگے۔جمیل کے چہرے پر شرمندگی کے سائے لہرانے لگے۔وہ نظریں زمین پر گاڑے بولا۔
> حمید اپنی جورو کو میکے چھوڑنے جا رہا تھا اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ۔نسرین تو بچ گئی اور بچے بھی مگر ۔۔۔۔۔
> ’مہیدے دا سجا بازو ٹوٹ گیا‘
>

No comments:

http://novelskhazana.blogspot.com/